ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
    • عزاداری کی رسومات
      پرنٹ  ;  PDF
       
      عزاداری کی رسومات
       
      س١٤40: ملک (ایران) کے مختلف علاقوں کی مساجد اور امام بارگاہوں میںخصوصاً دیہاتوں میں شبیہ خوانی(1)کی رسم انجام دی جاتی ہیں اس لئے کہ یہ قدیم رسومات میں سے ہے اور کبھی کبھی اس کا لوگوں کے دل پر مثبت اثر بھی ہوتا ہے مذکورہ رسومات کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر شبیہ خوانی، جھوٹ ، اباطیل اور مفسدہ پر مشتمل نہ ہو اور عصری تقاضوں کے لحاظ سے مذہب حق کے لئے بدنامی کا سبب نہ بنے تو جائز ہے اس کے باوجود بہتر یہ ہے کہ اسکی بجائے وعظ و نصیحت ، مرثیہ خوانی اور مصائب حسینی کی مجالس برپا کی جائیں۔
       
      س١٤41: مجالس اورعزاداری کے جلوسوں میں ڈھول ، دف اور باجا بجانے کا کیا حکم ہے؟ اور ایسی زنجیر مارنے کا کیا حکم ہے جس میں چھریاں لگی ہوئی ہوں؟
      ج: اگر مذکورہ زنجیریں مارنا لوگوں کے سامنے مذہب کی بدنامی کا سبب بنے یا قابل توجہ بدنی ضرر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔ ہاں متعارف طریقے سے ڈھول ، دف، اور باجا بجانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س١٤42: ایام عزا میں بعض مساجد میں متعدد عَلَم (2) نکالے جاتے ہیں جو گراں بہا چیزوں سے اور بہت زیادہ مزیّن ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بعض اوقات دین دار لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس کا فلسفہ کیا ہے اور تبلیغی پروگراموں میں خلل پیدا کرتے ہیں بلکہ مسجد کے مقدس اہداف کے ساتھ تضاد رکھتے ہیں اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟
      ج: اگر ان کا مسجد میں رکھنا مسجد کی عرفی شأن کے خلاف ہو یا نمازیوں کے لئے باعث مزاحمت ہو تو اس میں اشکال ہے۔
       
      س١٤43: اگر کوئی شخص سید الشہداء علیہ السلام کے لئے " عَلَم " کی نذر کرے تو کیا امام بارگاہ کی انتطامیہ اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہے؟
      ج: یہ نذر امام بارگاہ کے متولی اور اس کی انتظامیہ کو اس " عَلَم " کے قبول کرنے کا پابند نہیں بناتی۔
       
      س١٤44:سید الشہداء ـ کی مجالس عزا میں " عَلَم" رکھنے یا جلوس میں لیکر چلنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: بذات خود جائز ہے لیکن مذکورہ امور کو جز دین شمار نہ کیا جائے۔
       
      س١٤45:اگر مجالس عزاء میں شرکت کرنے سے بعض واجبات ترک ہوجاتے ہوں مثلاً صبح کی نماز قضا ہوجاتی ہو تو کیا بہتر یہ ہے کہ دوبارہ ان مجالس میں شرکت نہ کی جائے یا یہ کہ ان مجالس میں شرکت نہ کرنا اسکی اہل بیت علیھم السلام سے دوری کا سبب ہے؟
      ج: واضح ہے کہ واجب نمازاہل بیت علیھم اسلام کی مجالس عزا میں شرکت کی فضیلت پر مقدم ہے اور امام حسین کی عزاداری میں شرکت کی وجہ سے نماز کا ترک کرنا اور اس کا فوت کرناجائز نہیں ہے لیکن اس طرح سے شرکت کرنا کہ جو نماز سے مزاحمت نہ رکھتا ہو ممکن اور مستحبات مؤکدہ میں سے ہے۔
       
      س١٤46:بعض مجالس میں ایسے مصائب پڑھے جاتے ہیں جو کسی معتبر " مقتل" میں نہیں پائے جاتے۔اور نہ ہی کسی عالم اور مرجع سے سنے گئے ہیں اور جب ان مصائب کے پڑھنے والوں سے ان کے ماخذ کے بارے میں سوال کیا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ " اہل بیت علیہم السلام نے اس طرح ہمیں سمجھایا ہے یا اس طرح ہمیں راہنمائی کی ہے اور کربلا کا واقعہ فقط کتب مقاتل میں منحصر نہیں ہے اور اس کا منبع صرف علما کے اقوال ہی نہیں ہیں بلکہ بعض امور ذاکر اور خطیب کے لئے بعض اوقات الہام اور مکاشفہ کے ذریعے بھی واضح ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح مذکورہ واقعات کا نقل کرنا صحیح ہے؟ اور اگرصحیح نہیں ہے توسننے والوں کی کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: مذکورہ صورت میں نقل کرنا بغیر اس کے کہ کسی روایت میں ہو یا تاریخ میں ثابت ہو کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا ہاں اگر متکلم اسے اپنے درک کے مطابق بیان حال کے عنوان سے نقل کرے اور اس کے خلاف واقع ہونے کا علم نہ ہو تو نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سامعین کی ذمہ داری نہی از منکر کرنا ہے بشرطیکہ انکی نظر میں نہی از منکر کا موضوع اور شرائط موجودہوں ۔
       
      س١٤٤7:امام بارگاہ کی عمارت سے قرآئت قرآن اورمجالس عزاء کی اتنی اونچی آواز آتی ہے کہ شہر کے باہر تک سنی جاسکتی ہے اور اس سے ہمسائیوں کا سکون ختم ہوگیا ہے اور امام بارگاہ کی انتطامیہ اور مقررین اس عمل کو جاری رکھنے پر مصر ہیں، مذکورہ عمل کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر چہ امام بارگاہ میں مناسب اوقات میں دینی شعائر اور مذہبی پروگراموں کا انعقاد مستحبات مؤکدہ اور بہترین کاموں میں سے ہے لیکن مجالس عزا برپا کرنے والوں اور عزاداروں پر واجب ہے کہ ہمسائیوں کی مزاحمت اور اذیت سے حتیٰ المقدور اجتناب کریں اگرچہ وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم کرنے یا اسکا رخ امام بارگاہ کے اندر کی طرف تبدیل کرنے کے ذریعے ہو۔
       
      س١٤٤8:ڈھول اور بانسری کے ہمراہ جلوس عزا کا محرم کی راتوں میں آدھی رات تک مستمر رہنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: سید الشہداء علیہ السلام اور آپ کے اصحاب علیھم السلام کی عزاداری کے جلوس نکالنا اور اس جیسے دینی پروگراموں میں شرکت کرنا بہت مطلوب اور اچھا کام ہے بلکہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے عظیم ترین ذرائع میں سے ہے لیکن ہر ایسے عمل سے پرہیز کرنا ضروری ہے جو دوسروں کے لئے موجب اذیت ہو یا بذات خود حرام ہو۔
       
      س١٤٤9:عزاداری میں آلات موسیقی کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ مثلاً ارگن (موسیقی کا ایک آلہ جوپیانو سے شباہت رکھتا ہے) اور دف وغیرہ؟
      ج: آلات موسیقی کا استعمال عزاداری سید الشہداء کے مناسب نہیں ہے اور مناسب یہ ہے کہ عزاداری کو اسی طرح انجام دیا جائے جیسے قدیم زمانہ سے رائج ہے ۔
       
      س١٤50:یہ جو رائج ہوگیا ہے کہ امام حسین کی عزاداری کے عنوان سے بدن کے گوشت میں سوراخ کرکے اسکے ساتھ تالا اور کلو کا پتھر لٹکاتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟
      ج: ایسے کام کہ جو مذہب کی تضعیف کا باعث بنتے ہیں جائز نہیں ہیں۔
       
      س١٤51:اگر انسان ائمہ علیھم السلام کے مقدس روضوں میںاپنے آپ کو زمین پر گراکر اسی طرح عمل کرے جیسے بعض لوگ اپنے چہرے او رسینے کو زمین پر رگڑتے ہیں یہاں تک کہ ان سے خون بہنے لگتا ہے اور پھر اسی حالت میں ائمہ علیھم السلام کے حرم میں داخل ہوجاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
      ج: مذکورہ کام کہ جو ائمہ علیھم السلام کے لئے اظہار غم ،روایتی عزاداری اور اظہارمحبت شمار نہیں ہوتے انکی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، بلکہ اگر قابل توجہ بدنی ضرر یا مذہب کی تضعیف کا سبب ہوں تو جائزنہیں ہیں۔
       
      س١٤52:بعض علاقوں میں خواتین حضرت فاطمہ زہرا (ع)کے شادی کے جشن کے عنوان سے پروگرام منعقد کرنے کیلئے حضرت عباس علیہ السلام کا دستر خوان بچھاتی ہیں اور اس پروگرام میں شادی کے گانے گاتی ہیں اور تالی بجاتی ہیں اور پھر ناچنے لگتی ہیں مذکورہ امور انجام دینے کا کیا حکم ہے؟
      ج: مذکورہ محافل اور رسومات اگر جھوٹ اور باطل مفاہیم کے ہمراہ نہ ہوں اور مذہب کی تضعیف کا سبب بھی نہ ہوں تو بذات خود جائز ہیں اور رقص کا حکم مسئلہ نمبر ۱۱۶۷ میں گزر چکا ہے ۔
       
      س١٤53: محرم کے پروگراموں کیلئے جو مال جمع کیا جاتا ہے اس میں سے باقی ماندہ مال کہاں پر خرچ کرنا ضروری ہے؟
      ج: باقی ماندہ مال دینے والوں کی اجازت سے بھلائی کے کاموںمیں خرچ کیا جاسکتا ہے یا انہیں آئندہ کی مجالس عزا میں خرچ کرنے کے لئے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
       
      س١٤54:کیاایام محرم میں عطیات جمع کرنا اور اس کے چند حصے کرکے کچھ مقدار قاری کو کچھ مقدار مرثیہ خوان اور کچھ خطیب کو دینا اور باقی ماندہ مال کو مجالس عزا کے انعقاد کیلئے خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
      ج: اگر عطیات دینے والوں کی رضامندی اور موافقت سے ہو تو جائز ہے ۔
       
      س١٤55:آیا خواتین کے لئے پردے اور ایسے خاص لباس کے ساتھ جو ان کے بدن کو مستور رکھے ماتمی اور زنجیر زنی کے جلوس میں شرکت کرنا جائز ہے؟
      ج: عورتوں کے لئے ماتم اور زنجیر زنی کے دستوں میں شرکت کرنا مناسب نہیں ہے۔
       
      س١٤56:اگر ائمہ علیھم السلام کی عزاداری میں چاقو والی زنجیر سے کوئی شخص مرجائے تو کیا یہ عمل خود کشی کہلائے گا؟
      ج: اگر عام طور پر اس سے موت واقع نہ ہوتی ہو تو خودکشی کا حکم نہیں رکھتا۔ لیکن اگر ابتداسے ہی جان کا خوف ہو اوراسکے باوجود یہ کام کرے اور اس سے موت واقع ہوجائے تو خودکشی کا حکم رکھتا ہے۔
       
      س١٤٥7: آیا خود کشی سے مرنے والے مسلمان کی مجلس فاتحہ میں شرکت کرنا جائز ہے؟ اور ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: یہ عمل بذات خود بلا اشکال ہے۔
       
      س١٤٥8:ائمہ علیھم السلام کی ولادت اور عید بعثت پر ایسے مرثیے اور قصیدے پڑھنے کا کیا حکم ہے جو سامعین کے لئے گریہ کا سبب ہوں؟ اور حاضرین کے سروں پر پیسے نچھاور کرنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: دینی عیدوں کی محافل میں مرثیے اور قصیدے پڑھنا جائز ہے اور اسی طرح حاضرین کے سروں پر پیسے نچھاور کرنا بھی جائز ہے بلکہ اگر مومنین کے دلوں کو خوش کرنے اور فرح و سرور کے اظہار کی خاطر ہوتو ثواب کا باعث ہے۔
       
      س١٤٥9: آیا خاتون کا مجالس عزا سے خطاب کرنا جائز ہے جبکہ اسے علم ہو کہ نامحرم اس کی آواز سن رہے ہیں؟
      ج: اگر مفسدے کا خوف ہو تو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
       
      س١٤60:عا شورا کے دن چھریاں مار نے اور ننگے پاؤں جلتی آگ یا کوئلوں میں داخل ہونے جیسے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے کہ جواسلامی مذاہب کے علماء اور پیروکاروں اور باقی دنیا کی نظر وں میں مذہب شیعہ اثنا عشری کو بدنام کرنے کے علاوہ جانی اور بدنی نقصان کا باعث بنتے ہیں اور مذہب کی توہین کا باعث بھی ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں جناب کی نظر مبارک کیا ہے؟
      ج: ہر وہ کام جو انسان کے لئے موجب ضرر ہو یا دین اور مذہب کی تضعیف کا سبب بنے وہ حرام ہے اور مومنین کا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور واضح ہے کہ مذکورہ امور میں سے اکثر چیزیں مذہب اہل بیت علیہم السلام کی بدنامی اور توہین کا باعث ہیں اور یہ سب سے بڑے نقصان اور مضرات میں سے ہے۔
       
      س١٤61:کیا چُھپ کر چھریاں مارنا جائز ہے یا آپ کا فتوی عمومیت کا حامل ہے؟
      ج: چھریاں مارنا علاوہ اسکے کہ عرف عام میں اظہار غم اور حزن کا مظہر شمار نہیں ہوتا اورائمہ اور ان کے بعد والے دور میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا اور نہ ہی معصوم علیہ السلام کی طرف سے اس کام کی بطور خاص یا عام کوئی تائید ملتی ہے اور آج کل مذہب کے لئے تضعیف اور بدنامی کا سبب بھی ہے لہذا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے۔
       
      س١٤62:جانی اور بدنی ضرر کے لئے شرعی معیار کیا ہے؟
      ج: معیار وہ ضرر ہے جو عقلا کی نظر میں قابل توجہ اور قابل اعتنا ہو۔
       
      س١٤63:جسم پر زنجیر ( بغیر چھریوں کے) مارنے کا کیا حکم ہے جیسا کہ بعض مسلمان کرتے ہیں؟
      ج: اگر متعارف طریقے سے اور اس طرح ہو کہ اسے عرفی طور پر عزاداری میں حزن و غم کے مظاہر میں سے شمار کیا جائے تو اشکال نہیں رکھتا۔
       

      1۔ جلوس عزاداری کے دوران روایتی طریقے سے کسی خاص جگہ پر یامتحرک صورت میں کربلا کے واقعات کی نمائش کرنا ۔
      2 ۔یہ لکڑی یالو ہے کا بڑا ڈنڈا ہوتا ہے کہ جسے ایک علامت کے طور پر جلوس عزاداری کے آگے افقی صورت میں کندھوں پر اٹھایا جاتا ہے اسکے اوپرلوہے کے لمبے لمبے لچکدار ٹکڑے لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ جنہیں پروں ، جواہرات اور مجسموں و غیرہ سے مزین کیا جاتا ہے۔
    • ایام عید اور ولادت
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /