ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
    • بینک کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF
       
      بینک کے احکام
       
      س ١٩1٢: اگر بینک قرض دینے کیلئے شرط لگائے کہ قرض لینے والا اضافی رقم ادا کرے تو کیا انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایسا قرض لینے کیلئے حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اجازت حاصل کرے؟ کیا ضرورت نہ ہونے کی صورت میں ایسا قرض لینا جائز ہے ؟
      ج: اصل قرض لینا حاکم شرع کی اجازت سے مشروط نہیں ہے حتی اگر وہ سرکاری بینک سے بھی ہواور حکم وضعی کے لحاظ سے صحیح ہے اگر چہ وہ سودی ہی کیوں نہ ہو لیکن سودی ہونے کی صورت میں حکم تکلیفی کے لحاظ سے اس کا لینا حرام ہے چاہے مسلمان سے لیا گیا ہو یاغیر مسلم سے ، چاہے اسلامی حکومت سے لے یا غیر اسلامی حکومت سے ، مگر یہ کہ قرض لینا ایسے اضطرار کی حد تک پہنچ جائے کہ جس میں حرام کا ارتکاب جائز ہوتا ہے اور حرام قرض کا لینا حاکم شرع کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا بلکہ اس سلسلے میں اسکی اجازت کا کوئی محل نہیں ہے لیکن انسان حرام میں پڑنے سے بچنے کیلئے یہ کر سکتا ہے کہ وہ اضافی رقم دینے کا قصد نہ کرے اگر چہ وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اضافی رقم حتماًاس سے لے لیں گے اور قرض لینا اگر سودی نہ ہو تو اسکے لینے میں ضرورت اور احتیاج کا ہونا لازمی نہیں ہے ۔
       
      س ١٩1٣: اسلامی جمہوریہ ایران کا بینک مسکن لوگوں کو مکان بنانے ، خرید نے اور اسے ٹھیک کرنے کیلئے قرضے دیتا ہے اور مکان بنانے ،ٹھیک کرنے یا خریدنے کے بعد اس قرضے کوقسطوں میں وصول کرتا ہے لیکن ادا کی گئی قسطوں کی رقم، قرض کی رقم سے زیادہ ہوتی ہے کیا یہ اضافی رقم شرعی طور پر صحیح ہے؟
      ج: وہ رقم جو بینک مسکن مکان خرید نے یا بنانے کیلئے دیتا ہے وہ قرض کے عنوان سے نہیں بلکہ شرعی عقود میں سے کسی ایک عقد کے مطابق دیتاہے جیسے شراکت ، جعالہ یا اجارہ و غیرہ پس اگر ان عقود کی شرعی شرائط کی رعایت کی جائے تو اسکی صحت میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س ١٩1٤: بینک لوگوں کی جمع شدہ رقم کا تین سے لے کر بیس فیصد تک منافع دیتے ہیں کیا مہنگائی کی شرح کے پیش نظر صحیح ہے کہ اس اضافی رقم کو اصل رقم کے جمع کرانے والے دن اسکی قیمت کی نسبت اسکی وصولی والے دن جو اسکی قیمت کم ہو گئی ہے کے مقابلے میں حساب کیا جائے تا کہ اسطرح وہ سود کے عنوان سے خارج ہوجائے ؟
      ج: اگر وہ اضافی رقم اور منافع جو بینک ادا کرتا ہے اس آمدنی سے ہو کہ جسے بینک نے پیسہ جمع کرانے والوں کے وکیل کے طور پر انکے پیسے سے صحیح شرعی عقود کے ساتھ حاصل کیا ہے تو یہ سود نہیں ہے بلکہ شرعی معاملہ کا منافع ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س ١٩1٥:جس شخص کے پاس اپنی زندگی گزارنے کیلئے سودی بینک میں ملازمت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو اس کیلئے وہاں ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟
      ج : اگر بینک میں کام کرنا سودی معاملات سے منسلک ہو اور کسی طور پر اسکے وقوع پذیر ہونے میں مؤثر ہوتو وہاں کام کرنا جائز نہیں ہے اورصرف اپنے معاش کیلئے کوئی دوسرا حلال کام پیدا نہ کرسکنا اس بات کا جوازفراہم نہیں کرسکتا کہ انسان حرام کام کرنے لگ جائے ۔
       
      س ١٩1٦: بینک مسکن نے اس شرط پر ہمارے لیئے ایک گھر خریدا کہ ہم اسکی رقم ماہانہ ادا کریں کیا یہ معاملہ شرعاً صحیح ہے او ر ہم اس گھر کے مالک ہوجائیں گے ؟
      ج : اگر بینک نے وہ گھر اپنے لیئے خریدا ہو اور پھر قسط وار آپ کوفروخت کیا ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س ١٩1٧: بینک شراکت یا معاملاتی عقود میں سے کسی دوسرے عقد کے ذریعے عمارت تعمیر کرنے کیلئے قرض دیتاہے اور تقریباً پانچ سے لے کر آٹھ فیصد تک اضافی رقم لیتاہے اس قرض اور اسکے منافع کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
      ج :بینک سے شراکت یا کسی اور صحیح شرعی معاملہ کے ذریعے رقم لینا ، قرض لینا یا قرض دینا نہیں ہے اور وہ منافع جو اس قسم کے شرعی معاملات سے بینک کو حاصل ہوتا ہے وہ سود شمار نہیں ہوتا پس گھر خرید نے یا بنانے کے عنوان سے رقم لینے اور اس میں تصرف کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر بالفرض قرض کے عنوان سے اور اضافی رقم لینے کی شرط کے ساتھ ہو تو اگر چہ سودی قرض حکم تکلیفی کے لحاظ سے حرام ہے لیکن اصل قرض حکم وضعی کے اعتبار سے قرض لینے والے کیلئے صحیح ہے اور اس کا اس میں تصرف کرنا بلا اشکال ہے ۔
       
      س ١٩1٨: کیا غیر اسلامی ممالک کے بینکوں میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے اس کا منافع لینا جائز ہے ؟ اور کیا اسکے لینے کے بعد اس میں تصرف کرنا جائز ہے چاہے بینک کامالک اہل کتاب ہو یا مشرک اور رقم جمع کرتے وقت منافع کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو؟
      ج: مذکورہ صورت میں منافع لینا جائز ہے حتی اگر منافع لینے کی شرط کی ہو۔
       
      س ١٩1٩: مذکورہ فرض میں اگر بینک کے سرمایہ کے بعض مالک مسلمان ہوں تو کیا اس صورت میں بھی بینک سے منافع لینا جائز ہے؟
      ج : غیر مسلم کے حصے کی نسبت منافع لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن مسلمان کے حصے کی نسبت اگر بینک میں رقم جمع کرانا منافع اور سودکی شرط کے ساتھ ہو تو منافع لینا جائز نہیں ہے۔
       
      س ١٩2٠: جو رقم اسلامی ممالک کے بینکوں میں جمع کرائی گئی ہے اسکا منافع لینے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
      ج: اگر جمع کرائی گئی رقم قرض کی صورت میں اور منافع لینے کے ارادے سے ہو یا منافع لینے پر مبتنی ہو تو اس کا لینا جائز نہیں ہے۔
       
      س ١٩2١:جو بینک قرض دیکر اس پر سود لیتا ہے اگر انسان اس بینک سے قرض لینا چاہے تو کیا اسکے لیئے صحیح ہے کہ وہ سود سے بچنے کیلئے اسطرح عمل کرے کہ ایک ہزار روپے کے نقد نوٹ کو ایک ہزار دوسو روپے ادھار پر خریدلے اور اس میں شرط ہوکہ ہر مہینہ سو روپے ادا کرے گا اور اسکے سو روپے والے بارہ عددپرونوٹ بینک کو دے دے یا یہ کہ بینک سے بارہ عدد مدت والے پرونوٹ کہ جنکی مجموعی قیمت ایک ہزار دوسو روپے ہے ایک ہزار روپے نقد کے ساتھ اس شرط پر خرید لے کہ ان پرونوٹ کی رقم بارہ مہینے میں ادا کردی جائیگی ؟
      ج: اس قسم کے معاملات جو صرف ظاہری اور بناوٹی ہوتے ہیں اور قرض کے سود سے بچنے کی نیت سے انجام پاتے ہیں شرعاً حرام اور باطل ہیں ۔
       
      س ١٩2٢: کیا جمہوری اسلامی ایران کے بینکوں کے معاملات صحیح ہیں ؟بینک سے لی گئی رقم کے ساتھ گھر وغیرہ کی خرید کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ایسے گھر میں غسل کرنے اور نماز پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے جو اس قسم کی رقم سے خریدا گیا ہو؟ اور کیا اس منافع کا لینا حلال ہے جو لوگوں کی بینک میں جمع کی ہوئی رقم کے عوض ہوتا ہے؟
      ج: کلی طور پر بینک کے وہ معاملات ،جو مجلس شورائے اسلامی کے منظور شدہ قوانین کہ جنکی گارڈین کونسل سے بھی تائید ہوچکی ہو کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں کوئی اشکال نہیں رکھتے اور وہ صحیح ہیں۔ اور وہ منافع جو سرمایہ کو کام میں لاکر صحیح شرعی عقود میں سے کسی ایک کی بنیاد پر حاصل ہوتاہے حلال ہے لہذا اگر بینک سے گھر خریدنے یا کسی دوسرے کام کیلئے رقم لینا ان عقود میں سے کسی ایک عقد کے عنوان سے ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر سودی قرض کی شکل میں ہو تو اگرچہ اس کا لینا حکم تکلیفی کے اعتبار سے حرام ہے لیکن حکم وضعی کے اعتبار سے اصلِ قرض صحیح ہے اور وہ مال قرض لینے والے کی ملکیت قرار پاتاہے اور جائز ہے کہ وہ اس میں اور اس سے خریدی گئی ہر چیز میں تصرف کرے۔
       
      س ١٩2٣: کیا وہ منافع جو جمہوری اسلامی کے بینک لوگوں سے ـان قرضوں کے بدلے میں جو وہ انہیں زراعت ،گھر خریدنے اور فارم و غیرہ کیلئے دیتے ہیں ـ طلب کرتے ہیں حلال ہے؟
      ج: اگر یہ بات صحیح ہو کہ بینک لوگوں کو گھر بنانے یا خریدنے یا دوسرے امور کیلئے جو رقم دیتے ہیں وہ قرض کے طور پر ہوتی ہے تو اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ اسکے عوض منافع لینا شرعا حرام ہے اور بینک کو منافع طلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے لیکن بظاہر بینک اس کام کوقرض کے بجائے عقود شرعی میں سے کسی ایک عقد کے تحت انجام دیتے ہیں جیسے مضاربہ، شراکت جعالہ یا اجارہ و غیرہ۔ مثال کے طور پر بینک گھر بنانے کا نصف خرچ ادا کرکے گھر کی ملکیت میں شریک ہوجاتا ہے اور پھر اپنا حصہ مثلا بیس قسطوں میں اپنے شریک کو فروخت کردیتا ہے یا اپنا حصہ مدت معین تک اور مخصوص کرائے کے ساتھ اسے اجارے پر دے دیتا ہے پس اس قسم کے معاملات سے بینک جو منافع حاصل کرتا ہے اس میں شرعا کوئی اشکال نہیں ہے اور اس قسم کے معاملات کا قرض اور اسکے منافع سے کوئی ربط نہیں ہے۔
       
      س ١٩2٤: ایک پروجیکٹ میں شراکت کی غرض سے بینک نے کچھ رقم مجھے دی میں نے اس میں سے نصف رقم اپنے دوست کو اس شرط پر دے دی کہ وہ اس کا پورا منافع بینک کو ادا کرے گا کیا اس سلسلے میں مجھ پر کچھ واجب ہے؟
      ج: اگر بینک نے وہ رقم ،لینے والے کو کسی خاص پروجیکٹ میں اپنے حصہ دارہونے کیلئے دی ہو تو لینے والے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یہ رقم کسی دوسرے کام میں خرچ کرے چہ جائیکہ یہ رقم کسی دوسرے کو قرض پر دے بلکہ وہ رقم اسکے پاس بطور امانت ہے اور اسے معین کی گئی جگہ پرہی خرچ کرے یا پھر عیناً وہی رقم بینک کو واپس لوٹادے۔
       
      س ١٩2٥: ایک شخص نے جعلی دستاویز کے ذریعے بینک سے کچھ رقم بطور مضاربہ اس شرط پر حاصل کی کہ کچھ مدت کے بعد اصل رقم اور اسکا منافع بینک کو لوٹا دیگا اگر بینک کو دستاویز کے جعلی ہونے کا علم نہ ہو تو کیا اس صورت میں وہ رقم قرض شمار کی جائیگی اور وہ منافع جو قرض لینے والا بینک کو ادا کرے گا سود کے حکم میں ہے؟ اور اگر بینک کو اس دستاویز کے جعلی ہونے کا علم ہو اور اسکے باوجود وہ رقم ،لینے والے کو دے دے تو اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اگر بینک کاعقد مضاربہ کرنا اس دستاویز کے صحیح ہونے کے ساتھ مشروط ہو تو دستاویز کے جعلی ہونے کی صورت میں مذکورہ عقد باطل ہے اور اسکے نتیجے میں بینک سے حاصل کی جانے والی رقم جس طرح بطور مضاربہ نہیں ہے بطور قرض بھی نہیں ہے البتہ ضمانت کے لحاظ سے حاصل کی جانے والی اس رقم کا حکم اسی شے والا ہے جو عقد فاسد کے ذریعے قبضے میں آتی ہے اور اسکے ذریعہ تجارت کا تمام منافع بینک کا ہے ۔یہ حکم اس صورت میں ہے جب بینک دستاویز کی صورت حال سے آگاہ نہ ہو لیکن اگر بینک دستاویز کے جعلی ہونے سے آگاہ ہو تو جو رقم لی گئی ہے وہ غصب کے حکم میں ہے۔
       
      س١٩2٦: اگر اس نیت کے ساتھ بینک میں رقم جمع کرائے کہ اس سے حلال معاملات میں استفادہ کیا جائے اور رقم جمع کرانے والے کا منافع میں سے حصہ معین نہ ہو اور اس میں یہ شرط ہو کہ بینک ہر چھ مہینے کے بعد اسکے حصے کا منافع ادا کرے تو کیا یہ جائز ہے؟
      ج: اگر بینک میں رقم جمع کرانا اس صورت میں ہو کہ رقم کا مالک تمام اختیارات بینک کے حوالے کردے حتی کہ اس بات کی تعیین کہ رقم کو کس کام میں لگایا جائے اور رقم کے منافع سے مالک کے حصہ کی تعیین بھی وکالت کے طور پر بینک کے اختیار میں دے دے تواس طرح رقم کا جمع کرانا اور اس کے حلال معاملہ میں استعمال کرنے سے جو منافع حاصل ہو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور رقم کے مالک کا رقم جمع کرانے کے وقت اپنے حصے سے بے خبر ہونا اسکے صحیح ہونے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔
       
      س ١٩2٧: کیا ایسے غیر اسلامی حکومتوں کے بینکوں میں طولانی مدت (فکس ڈیپازٹ) کیلئے رقم جمع کرانا جائز ہے جو مسلمانوں کے دشمن ہیں یا مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ ہم پیمان ہیں؟
      ج: غیر اسلامی حکومتوں کے بینکوں میں طولانی مدت کیلئے رقم جمع کرانے میں بذات خود کوئی اشکال نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی و جہ سے انکی سیاسی اور اقتصادی توانائی میں ایسا اضافہ نہ ہو کہ جس سے وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استفادہ کریں ورنہ جائز نہیں ہے۔
       
      س ١٩2٨: اس بات کے پیش نظر کہ اسلامی ملکوں میں موجود بعض بینک ظالم حکومتوں سے وابستہ ہیں اور بعض کافر حکومتوں سے اوربعض مسلم یا غیر مسلم شخصی اداروں سے متعلق ہیں ان بینکوں کے ساتھ کسی قسم کا معاملہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: وہ معاملات جو شرعی لحاظ سے حلال ہیں ان کے ان بینکوں کے ساتھ انجام دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن اسلامی بینکوں اور اداروں کے ساتھ سودی معاملات انجام دینا اور قرض کا سود لینا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ بینک کا سرمایہ غیر مسلموں سے متعلق ہو۔
       
      س ١٩2٩: اسلامی بینک اپنے قوانین و ضوابط کے مطابق اس سرمایہ پر منافع دیتے ہیں جو مختلف لوگ بینک میں رکھتے ہیں اور بینک اسے ایسے مختلف اقتصادی کاموں میں لاتے ہیں کہ جن کا منافع شرعی طور پر حلال ہوتا ہے ۔ کیا اسی طرح عمل کرتے ہوئے ہم اپنی رقم بازار میں قابل اعتماد افراد کو دے سکتے ہیں تا کہ وہ بینک کی طرح اسے مختلف اقتصادی میدانوں میں کام میں لائیں؟
      ج: اگر رقم کسی دوسرے شخص کو قرض کے عنوان سے اس شرط پر دی جائے کہ ہر مہینے یا ہر سال کچھ فیصد منافع اس سے لے گا تو ایسا معاملہ شرعی طور پر حرام ہے اگر چہ اصل قرض حکم وضعی کے لحاظ سے صحیح ہے اور جو منافع قرض کے عوض میں لے گا یہ وہی سود ہے جو شرعا حرام ہے لیکن اگر رقم اس شرط پر دی ہو کہ وہ اسے حلال کام میں استعمال کرے اور اسے شرعی طور پر کسی صحیح عقد کے ذریعے کام میں لائے اور اس سے جو منافع حاصل ہو اسکی ایک مقدار اسے دے تو ایسا معاملہ صحیح ہے اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی حلال ہے اور اس سلسلے میں بینک، کسی شخص اور ادارے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
       
      س١٩3٠: اگر بینک کانظام سودی ہو تو سرمایہ کاری کے ذریعہ بینک کو قرض دینے یا اس سے قرض لینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: قرض الحسنہ کے عنوان سے بینک میں رقم رکھنے یا قرض الحسنہ کے طور پر اس سے رقم لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن سودی قرض حکم تکلیفی کے اعتبار سے مطلق طورپر حرام ہے اگر چہ اصل قرض حکم وضعی کے اعتبار سے صحیح ہے۔
       
      س ١٩3١: میں نے بینک سے مضاربہ کے طورپر کچھ رقم حاصل کی، کیا مضاربہ کی رقم سے میرے لیئے مکان خریدناجائز ہے؟
      ج: مضاربہ کا سرمایہ اسکے مالک کی طرف سے عامل کے پاس امانت ہے اور اسے اس میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ اسے اسی نہج پرتجارت میں لگائے کہ جس پر انہوں نے باہمی اتفاق کیا ہے پس اگر عامل مضاربہ کے مال کویک طرفہ طور پر کسی دوسرے کام میں استعمال کرے تو یہ غصب کے حکم میں ہے۔
       
      س ١٩3٢: ایک شخص نے بینک سے تجارت کیلئے اس شرط پر سرمایہ حاصل کیا کہ بینک منافع میں اسکے ساتھ شریک ہوگا اگر یہ شخص اپنے کاروبار میں نقصان اٹھائے تو کیا بینک بھی اسکے ساتھ نقصان میں شریک ہے؟
      ج: مضاربہ میں خسارہ ،سرمایہ اور اسکے مالک کا ہوتاہے اور منافع سے اس کا تدارک کیا جاتاہے لیکن اس شرط لگانے میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ عامل پورے خسارے یا اسکے کچھ حصے کا ضامن ہوگا۔
       
      س ١٩3٣: ایک شخص نے بینک میں اکاونٹ کھولااور کچھ عرصہ کے بعد اسے اس پر کچھ منافع حاصل ہوا اس منافع کو لینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اگر اپنامال قرض کے عنوان سے منافع کی شرط کے ساتھ یا اس پر مبتنی کرتے ہوئے اکاؤنٹ میں رکھا ہو تو اس کا لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ منافع وہی سود ہے جو شرعی طور پر حرام ہے اور اس صورت کے علاوہ اسکے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س١٩3٤: بینک میں ایک اکاؤنٹ ایسا ہے کہ اگر کوئی شخص پانچ سال کی مدت تک ہر مہینے مخصوص رقم اس بینک میں جمع کرائے اور اس مدت کے دوران اس رقم سے کچھ نہ اٹھائے تو بینک اس مدت کے ختم ہونے کے بعد ہر ماہ اسکے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم ڈالتا ہے اور جب تک صاحب اکاؤنٹ زندہ ہے اسے وہ رقم ملتی رہتی ہے اس معاملہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اس معاملہ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ سودی معاملہ ہے۔
       
      س ١٩3٥ : لمبی مدت (فِکس ڈیپازٹ) کیلئے بینک میں پیسے رکھنا کہ جس پر چند فیصد منافع ملتا ہے کیا حکم رکھتا ہے؟
      ج: حلال معاملات میں استعمال کی نیت سے بینک میں پیسے جمع کرانا کوئی اشکال نہیں رکھتا اور اسی طرح اس سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س١٩3٦: اگر انسان بینک سے کسی مخصوص کام کیلئے کچھ رقم حاصل کرے جبکہ اس رقم کا اس کام کیلئے لینا صرف ظاہری ہو اور اصل مقصد اس رقم کو حاصل کرکے کسی دوسرے اہم اور ضروری کام میں خرچ کرنا ہو یا رقم لینے کے بعد اسے کسی دوسرے اہم کام میں خرچ کرنے کا ارادہ کر لے تو اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اگر رقم کا لینا اور دینا قرض کے عنوان سے ہو تو وہ ہر صورت میں صحیح ہے اور وہ رقم قرض لینے والے کی ملکیت ہے اور وہ اس رقم کو جہاں چاہے خرچ کرسکتاہے البتہ اگر یہ شرط لگائی گئی ہو کہ اسے کسی مخصوص مورد میں خرچ کریگا تو حکم تکلیفی کے لحاظ سے اس شرط پر عمل کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر بینک سے رقم لینا یا دینا مثلا مضاربہ یا شراکت کے طور پر ہو اور یہ عقد صرف ظاہری طور پر ہوتو صحیح نہیں ہے اور نتیجہ کے طور پر وہ رقم بینک کی ملکیت میں باقی رہے گی اور جس شخص نے وہ رقم وصول کی ہے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے اور اسی طرح وہ عقد کہ جسکے تحت رقم بینک سے حاصل کی ہے اگر اس میں نیت درست ہو تو وہ رقم اسکے پاس امانت ہے اور جائز نہیں ہے کہ اسے اس مورد کے علاوہ کہ جس کیلئے اس نے یہ رقم لی ہے کسی دوسرے مورد میں استعمال کرے۔
       
      س١٩3٧: ایک شخص نے بینک سے مضاربہ کے عنوان سے کچھ رقم حاصل کی اور کچھ عرصہ کے بعد اصل رقم اور اسکا منافع قسط وار بینک کو واپس کردیالیکن قسطیں وصول کرنے والا ملازم انہیں اپنی جیب میں ڈالتا رہا اور صرف ظاہری طور پر جھوٹی رسیدیں دیتا رہا اور عدالت میں بھی اس نے اپنے کام کا اعتراف کیا ہے کیا ابھی بھی مضاربہ کا مال ادا کرنا عامل کے ذمہ ہے؟
      ج: اگر قسطیں بینک کو رقم کی ادائیگی کے قوانین و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے ادا کی گئی ہوں اور اس ملازم نے بینک کے اموال کاجو غبن کیا ہے وہ اقساط جمع کرانے والے کی طرف سے قوانین و ضوابط پر عمل کرنے میں کوتاہی کی وجہ سے نہ ہو تو قسطیں ادا کرنے کے بعد عامل کسی چیز کا ضامن نہیں ہے بلکہ وہ ملازم جس نے غبن کیا ہے ضامن ہے۔
       
      س١٩3٨: کیا بینک کا صاحبان اکاؤنٹ کو ان انعاموں سے مطلع کرنا جو قرعہ کے ذریعہ ان کے نام نکلتے ہیں واجب ہے ؟
      ج: یہ چیز بینک کے قوانین کے تابع ہے اگر صاحبان اکاؤنٹ کو انعام دینا انہیں اطلاع دینے پر موقوف ہو تاکہ انعام وصول کرنے کیلئے وہ رجوع کریں تو بتانا واجب ہے۔
       
      س ١٩3٩: کیا شرعی طور پر جائز ہے کہ بینک کے افسران بینک میں جمع کی گئی رقوم کا کچھ منافع کسی شخص یا ادارے کو بخش دیں؟
      ج: اگر وہ منافع بینک کی ملکیت ہو تو یہ چیز بینک کے قوانین کے تابع ہے لیکن اگر وہ صاحبان اکاؤنٹ سے متعلق ہو تو اس میں تصرف کا حق صاحبان اکاؤنٹ کو ہے۔
       
      س ١٩4٠: بینک ہر مہینے رقم جمع کرانے والوں کوانکی رقم کے عوض کچھ منافع دیتا ہے اورمنافع کی مقدار سرمایہ کے اقتصادی کاموں میں لگانے سے پہلے ہی معین ہوتی ہے اور سرمایہ کا مالک کام کی وجہ سے ہونے والے خسارے میں شریک نہیں ہوتا کیا ان بینکوں میں یہ منافع حاصل کرنے کی خاطر رقم جمع کرانا جائز ہے یا یہ کہ ایسے معاملات کے سودی ہونے کی بناپر یہ حرام ہے؟
      ج: اگر یہ رقم بینک کو قرض کے عنوان سے اور منافع حاصل کرنے کی خاطر یا اس پر مبتنی کرتے ہوئے دی ہو تو واضح ہے کہ یہ وہی سودی قرض ہے جوحکم تکلیفی کے اعتبار سے حرام ہے اور اس کا منافع بھی سود ہے جو شرعی طور پر حرام ہے لیکن اگر بینک میں قرض کے عنوان سے رقم جمع نہ کرائے بلکہ بینک کے ذریعہ اسے حلال معاملات میں خرچ کرنے کی نیت سے جمع کرائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اس رقم کے استعمال سے پہلے منافع کی مقدار معین کرنا اور اسی طرح صاحبان رقم کا احتمالی نقصان میں شریک نہ ہونا مذکورہ معاملہ کے صحیح ہونے کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔
       
      س ١٩4١: اگر معلوم ہو کہ بعض موارد۔ جیسے مضاربہ اور قسطوں پر بیچنا- میں بینک کے بعض ملازمین اس کے قوانین کو صحیح طور پر اجراء نہیں کرتے تو کیا منافع حاصل کرنے کی نیت سے بینک میں رقم جمع کراناجائز ہے؟
      ج: اگر فرض کریں کہ شخص کو علم ہوگیا ہے کہ بینک کے ملازمین نے اسکی رقم ایک باطل معاملہ میں خرچ کی ہے تو یہ منافع حاصل کرنا اور اس سے استفادہ کرنا اسکے لیئے جائز نہیں ہے لیکن اس بڑے سرمائے کو مد نظر رکھتے ہوئے جو مالکان کی طرف سے بینک میں جمع کرایا جاتاہے اوران مختلف قسم کے معاملات کے پیش نظر جو بینک کے ذریعہ انجام پاتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے معاملات شرعی طور پر صحیح ہیں کسی شخص کو اس قسم کا علم حاصل ہونا بہت بعید ہے۔
       
      س ١٩4٢: کمپنی یا سرکاری ادارہ جو اپنے ملازمین سے کئے ہوئے معاہدے کے مطابق ہر مہینے انکی تنخواہ سے کچھ رقم کم کرتا ہے اوراسے کسی بینک میں جمع کرادیتا ہے اورپھر اس سے ملنے والا منافع رقم کے تناسب سے ملازمین کے درمیان تقسیم کرتا ہے کیا یہ معاملہ صحیح اور جائز ہے اور اس منافع کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اگر بینک میں رقم جمع کرانا قرض کے عنوان سے ہو اور اس میں منافع کی شرط ہو یا اس پر مبتنی ہویا اسے حاصل کرنے کی نیت کے ہمراہ ہو تو اس صورت میں رقم جمع کرانا حرام ہے اور اس کا منافع بھی سود ہے جو شرعی طور پر حرام ہے لہذا اسے لینا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر مال حفاظت کی نیت یا کسی دوسرے حلال کام کیلئے ہو اور منافع حاصل کرنا اس میں شرط نہ ہو اور اسے حاصل کرنے کی توقع اور امید بھی نہ رکھتاہو تا ہم اگر بینک اپنی طرف سے رقم کے مالک کو کوئی چیز دے دے یا اس رقم کا وہ منافع جو بینک نے اس رقم کو حلال معاملات میں خرچ کرکے حاصل کیا ہے مالک کو دیا جائے تواس طرح رقم جمع کرانے اور اس پر اضافی منافع لینے میں کو ئی اشکال نہیں ہے اور وہ اسکی ملک شمار ہوگا۔
       
      س١٩4٣: کیا یہ صحیح ہے کہ بینک رقم جمع کرانے کیلئے لوگوں کو تشویق کرے اور رقم کے مالکوں کو وعدہ دے کہ جو شخص چھ مہینے تک اپنے اکاؤنٹ سے رقم نہیں نکالے گا بینک کی طرف سے اسے بینک کی خاص سہو لیات دی جائیں گی؟
      ج: بینک کی طرف سے رقم جمع کرانے والوں کی تشویق کیلئے اس قسم کے وعدے دینے اور سہولیات فراہم کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س١٩4٤: بعض اوقات بجلی ، پانی و غیرہ کے بل جمع کرانے کیلئے آنے والے لوگ بل جمع کرنے والے بینک کے ملازم کوبل کی رقم سے کچھ زیادہ ادا کردیتے ہیں مثلا کسی کو ٨٠ تومان ادا کرنے ہیں لیکن وہ ١٠٠ تومان دے دیتا ہے اور باقی ٢٠ تومان واپس نہیں لیتا اور اس کامطالبہ بھی نہیں کرتا۔کیاوہ ملازم اس اضافی رقم کو اپنے لیئے رکھ سکتا ہے؟
      ج: وہ اضافی رقم اس مالک کی ہے جس نے اصل رقم ادا کی ہے اور رقم وصول کرنے والے ملازم پر واجب ہے کہ اگر وہ اس رقم کے مالک کوجانتا ہو تو اسے واپس کردے اور اگر اسے نہ پہنچانتا ہو تو وہ مال مجہول المالک کے حکم میں ہے اور اس ملازم کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے لیئے اٹھالے مگر یہ کہ اسکے لیئے ثابت ہوجائے کہ مالک نے مذکورہ رقم اسے بخش دی ہے یا اس نے اس سے اعراض کرلیا ہے۔
    • بینک کے انعامات
    • بینک کی ملازمت
    • چیک کے احکام
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /