ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
    • حج کا وجوب اوراس کو ترک کرنے کا حکم
      پرنٹ  ;  PDF
       
       حج کا  وجوب  اوراس کو  ترک کرنے کا حکم

       

      مسئلہ1۔ حج دین کے یقینی احکام میں سے ہے، اور اس کا واجب ہونا قرآن و سنت میں موجود بہت سے دلائل کی روشنی میں ثابت ہوچکا ہے۔
      مسئلہ2۔ اگر کوئی شخص حج کی شرائط پوری ہونے اور اس کے واجب ہونے پر علم رکھنے کے باوجود حج ادا نہ کرے تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے۔
      اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: میفرماید: «وَلِلَّهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْهِ سَبِیلًا وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ»؛[1]
      اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کافر ہوجائے تو خدا تمام عالمین سے بے نیاز ہے ۔
      امام جعفر صادق  ]علیہ السلام[ فرماتے ہیں: «مَنْ مَاتَ وَ لَمْ یَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَ لَمْ یَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِکَ حَاجَةٌ تُجْحِفُ بِهِ أَوْ مَرَضٌ لَا یُطِیقُ فِیهِ الْحَجَّ أَوْ سُلْطَانٌ یَمْنَعُهُ فَلْیَمُتْ یَهُودِیّاً أَوْ نَصْرَانِیّاً.»[2]
      "جو شخص حجِ اسلام (یعنی واجب حج) ادا کیے بغیر مر جائے، جبکہ نہ اسے کوئی سخت ضرورت ہو، نہ ایسا مرض جو اسے حج سے عاجز کر دے، اور نہ کوئی ظالم حکومت ہو جو اسے روکے، تو وہ یہودی یا نصرانی کی موت مرے گا۔
       

      [1]. سوره‌ی آل‌عمران، آیه‌ی 97 کا ایک حصہ
      [2]  تهذیب الاحکام، ج5، بَابُ کَیْفِیَّةِ لُزُومِ فَرْضِ الْحَجِّ مِنَ الزَّمَانِ، ص17
    • حج اور عمرہ کی اقسام
    • حج تمتع اور حج افراد و قران کے درمیان فرق
    • حجِ افراد اور قِران
    • حجِ تمتّع کا خاکہ
    • حجِ تمتع کے عمومی احکام
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /