ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
    • حج کا وجوب اوراس کو ترک کرنے کا حکم
    • حج اور عمرہ کی اقسام
    • حج تمتع اور حج افراد و قران کے درمیان فرق
      پرنٹ  ;  PDF
       
      حج تمتع اور حج افراد و قران کے درمیان فرق

       

      مسئلہ6۔ حج تمتع،  حج قِران اور اِفراد سے بعض اعمال  میں مختلف  ہے۔  حج تمتع،  عمرہ اور حج پر مشتمل ایک عبادت ہے ۔ اس کا پہلا حصہ عمرہ  تمتع ہے جو حج پر مقدم ہوتا ہے اور عمرہ و حج کے درمیان فاصلہ زمانی بھی پایا جاتا ہےاگرچہ مختصر کیوں نہ ہو اور اس فاصلے میں انسان احرام سے باہر آجاتا ہے اور وہ سب چیزیں جو احرام کی حالت میں حرام تھیں، حلال ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسے حج تمتّع کہا جاتا ہے۔
      دوسرا حصہ حجِ تمتّع ہے جو عمرہ کے بعد انجام دیا جاتا ہے اور دونوں عبادتیں ایک ہی سال میں ہونی چاہئیں۔ اس کے برعکس حج افراد اور قِران صرف حج پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ عمرہ الگ اور مستقل عبادت ہے جسے عمرہ مفردہ کہا جاتا ہےاسی وجہ سے عمرہ مفردہ کو ایک سال میں اور حجِ افراد یا قِران کو دوسرے سال میں انجام دینا ممکن ہے۔
      مسئلہ7۔ عمرہ تمتّع اور عمرہ مفردہ کے بعض احکام مشترک ہیں، جنہیں باب چہارم میں بیان کیا جائے گا، اور کچھ فرق بھی ہیں، جن کا ذکر باب ششم میں ہوگا۔
      مسئلہ 8۔ عمرہ بھی حج کی طرح بعض اوقات واجب اور بعض اوقات مستحب ہوتا ہے۔
      مسئلہ 9۔ جو لوگ مکہ سے دور ہیں اور ان کا وظیفہ عمرہ تمتع اور حج تمتع ہوچنانچہ عمرہ تمتع اور حج تمتع کے لئے استطاعت رکھتے ہوں تو عمرہ واجب ہوتا ہے کیونکہ حج دو اعمال سے مرکب ہے جو دونوں ایک سال کے اندر انجام دینا چاہئے اور حج اور عمرہ کی استطاعت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔  لیکن جو لوگ مککہ کے اندر یا مکہ سے 48 میل کے فاصلے اندر رہتے ہیں چنانچہ عمرہ کی استطاعت رکھتے ہوں (جو حج کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے[1])، تو اس پر عمر میں ایک بار عمرہ کرنا واجب ہے، اور حج کی طرح اس کابھی  واجب ہونا فوری ہے [2] اور اس کے وجوب میں حج بجالانے کی استطاعت شرط نہیں ہے۔ بلکہ اگر کوئی شخص عمرہ کی استطاعت پیدا  کرلے تو اس پر عمرہ واجب ہوجاتا ہےاگرچہ  وہ حج کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔  اسی طرح اس کے برعکس یعنی اگر کوئی حج کی استطاعت رکھتا ہو لیکن عمرہ کی استطاعت نہیں رکھتا ہو تو حج انجام دینا چاہئے۔
      مسئلہ 10۔ کسی بھی مکلف شخص کے لیے جائز نہیں کہ بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہو چنانچہ  حج کے علاوہ کسی اور موسم میں  مکہ جانا چاہے تو عمرہ مفردہ کے احرام کے ساتھ مکہ میں داخل ہونا واجب ہے۔ البتہ دو قسم کے لوگ اس حکم سے مستثنی ہیں:
      الف) وہ لوگ جن کاپیشہ مکہ میں بار بار آنا جانا ہے۔
      ب) وہ افراد جو حج یا عمرہ کے اعمال کے بعد مکہ سے باہر گئے ہیں اور جس مہینے میں حج یا عمرہ انجام دیا ہے اسی قمری مہینے کے اندر دوبارہ مکہ آنا چاہتے ہیں۔
       

      [1]  مسئلہ 27 کے بعد
      [2]  یعنی استطاعت حاصل ہونے کے بعد ابتدائی ممکنہ سال میں انجام دینا چاہئے اور کسی عذر کے بغیر تاخیر جائز نہیں ہے۔
    • حجِ افراد اور قِران
    • حجِ تمتّع کا خاکہ
    • حجِ تمتع کے عمومی احکام
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /