دریافت:
مناسک حج
- مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
حج کی فضیلت اور اہمیت
شریعتِ اسلام میں حج مخصوص عبادتوں کا ایک مجموعہ ہے، جو اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: «بُنِیَ اَلْإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی اَلصَّلاَةِ وَ اَلزَّکَاةِ وَ اَلصَّوْمِ وَ اَلْحَجِّ وَ اَلْوَلاَیَة»[1]
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت۔
حج خواہ واجب ہو یا مستحب، بڑی فضیلت اور بےشمار اجر و ثواب کا حامل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک اہل بیت )علیہم السلام( سے حج کی فضیلت میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ امام جعفر صادق )علیہ السلام( فرماتے ہیں: «الْحَاجُّ وَ الْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ سَأَلُوهُ أَعْطَاهُمْ وَ إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ وَ إِنْ شَفَعُوا شَفَّعَهُمْ وَ إِنْ سَکَتُوا ابْتَدَأَهُمْ وَ یُعَوَّضُونَ بِالدِّرْهَمِ أَلْفَ أَلْفِ دِرْهَمٍ.»[2]
حج اور عمرہ ادا کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر کچھ مانگیں تو اللہ عطا کرتا ہے؛ دعا کریں تو مستجاب ہوتی ہے؛ کسی کے حق میں شفاعت کریں تو اللہ قبول کرتاہے اور اگر کچھ نہ کہیں تو بھی اللہ خود ان پر کرم فرماتا ہے اور (حج پر خرچ ہونے والے ) ایک درہم کے بدلے اللہ اسے دس لاکھ درہم عطا کرتا ہے۔
حج دین اسلام کے اہم ترین واجبات اور شریعت کے ارکان میں سے ہے اور ایک ایسا فریضہ ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ گویا دین کے تمام فردی، اجتماعی، زمینی، آسمانی، تاریخی اور عالمی پہلوؤں کو حج میں سمیٹنا مقصود ہے۔ حج میں ایسی معنویت ہے جو تنہائی یا گوشہ نشینی سے دور ہے؛ ایسا اجتماع ہے جس میں لڑائی جھگڑا، بدگوئی اور بدخواہی کا شائبہ نہیں۔ ایک طرف انسان کا دل اللہ سے راز و نیاز، دعا اور ذکر سے لبریز ہوتا ہے، تو دوسری طرف لوگوں سے محبت اور تعلق بھی برقرار رہتا ہے۔
حاجی ایک آنکھ سے ماضی میں جھانکتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور رسول خدا کا فاتحانہ انداز میں ا بتدائے اسلام کے مومنین کے جھرمٹ میں مسجد الحرام میں داخل ہونےکے مناظر کو خیال میں لاتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنے آس پاس مؤمنوں کا جم غفیر دیکھتا ہے، جو سب ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے متمسک ہیں۔
حج پر غور و فکر کرنے سے انسان اس یقین پر پہنچتا ہے کہ دین کے بہت سے اہداف اوربشریت کے لئے اس کی آرزوئیں اس وقت پورے ہو سکتی ہیں جب اہل ایمان آپس میں تعاون، یکجہتی اور ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کریں۔اگر باہمی تعاون اور ہمدلی کا یہ جذبہ قائم ہو جائے، تو دشمنوں کی سازشیں کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
- پہلی فصل:کلیات
- دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
- حج کے واجب ہونے کے شرائط
- عقل اور بلوغ
عقل اور بلوغ
مسئلہ 28: پہلی شرط عقل ہے۔ لہذا دیوانے پر حج واجب نہیں۔
مسئلہ 29: دوسری شرط بلوغ ہے۔ پس نابالغ پر حج واجب نہیں، اگرچہ وہ بالغ ہونے کے قریب ہو۔ اگر نابالغ حج کرے تواگرچہ حج صحیح ہے لیکن وہ حجّة الاسلام کے لئے کافی نہیں ہوگا۔اگر نابالغ احرام باندھے اورمشعر میں وقوف سے پہلے بالغ ہو جائے تو اس کا حج، حجّة الاسلام شمار ہوگا۔
مسئلہ 30: اگر نابالغ احرام کی حالت میں کوئی حرام کام کرے چنانچہ وہ حرام کام شکار ہو تو اس کا کفارہ ولی پر واجب ہے۔ لیکن دیگر محرمات کا کفارہ ادا کرنا واجب نہیں ، نہ نابالغ پر اور نہ ہی اس کے ولی پر۔
مسئلہ 31: نابالغ شخص کے حج کے دوران قربانی کا خرچ اس کے ولی کے ذمہ ہے۔
مسئلہ 32: واجب حج کے لیے عورت کو شوہر کی اجازت یا بچے کو والدین کی اجازت ضروری نہیں۔بنابراین شوہر یا والدین راضی نہ ہونے کی صورت میں بھی حج کو جانا واجب ہے۔
- استطاعت
- الف: مالی استطاعت
الف: مالی استطاعت
مسئلہ 34: مالی استطاعت حاصل ہونے کے لیے درج ذیل اخراجات پورا ہونا ضروری ہے:
1. رفت و آمد اور توشہ سفر کے اخراجات
2. دورانِ سفر اپنے اہل و عیال کے اخراجات
3. روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات
4. حج سے واپسی کے بعد معمول کے مطابق عزت کی زندگی گزارنے کا امکان (یعنی انسان محتاج نہ ہو)
1- رفت و آمد اور توشہ سفر کے اخراجات
مسئلہ 35: توشۂ سفر سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کی دورانِ سفر ضرورت ہوتی ہے، جیسے کھانا، پینا اور سفر کے دیگر لوازمات۔
مسئلہ 36:جس شخص کے پاس حج پر جانے اور واپس آنے کا خرچ اورتوشہ موجود نہ ہو، اور نہ ہی ایسا مال ہو جس سے وہ یہ خرچ پورا کر سکے، تو اس پر حج واجب نہیں۔ اگرچہ وہ محنت مزدوری کرکے یہ رقم کما سکتا ہو۔
مسئلہ 37: سفر کے لوازمات کا عیناًموجود ہونا شرط نہیں ہے؛ اگر مکلف کے پاس اتنا مال یا رقم ہو جس سے وہ یہ سامان خرید سکتا ہو، تو کافی ہے اور وہ مستطیع شمار ہوگا۔
مسئلہ 38: اگر کسی کا دوسرے پر اتنی رقم قرضہ ہو جو حج کی استطاعت حاصل ہونے کے لئے کافی ہوچنانچہ رقم طلب کرنا ممکن ہو اس طرح کہ قرض ادا کرنے کا وقت پہنچ گیا ہو یا مقروض وقت سے پہلے ادا کرسکتا ہو تو اس کو وصول کرکے حج پر جانا چاہئے۔
مسئلہ 39: اگر عورت کا مہر اتنا ہو کہ وہ حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو اور وہ شوہر کے ذمے ہو لیکن شوہر اس وقت اسے ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی اور مستطیع نہیں ہےالبتہ اگر شوہر ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور مہر مانگنا منفی اثرات کا باعث نہ بنے توواجب ہے کہ مہر طلب کرے اور حج پر جائے اوراگر مہر مانگنا منفی اثرات رکھتا ہو تو مہر طلب کرنا واجب نہیں اور وہ مستطیع نہیں ہے۔
مسئلہ 40: جس شخص کے پاس حج کے اخراجات نہیں ہیں لیکن کسی اور سے آسانی سے قرض لے کر بعد میں ادا کرسکتا ہے تو اس پر واجب نہیں ہے کہ قرض لیکر اپنے آپ کو مستطیع بنائے لیکن اگر اس نے قرض لے لیا تو حج واجب ہو جائے گا۔
مسئلہ 41: اگر کوئی شخص مقروض ہے اور اس کے پاس حج کے ضروری اخراجات کے علاوہ قرض کی ادائیگی کے لئے کوئی مال موجود نہیں تو چنانچہ قرض ادا کرنے کی مہلت بھی ہو اور اطمینان رکھتا ہو کہ قرض ادا کرنے کے وقت اسے ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اسی طرح قرض ادا کرنے کا وقت پہنچا ہو لیکن قرض خواہ تاخیر سے ادا کرنے پر راضی ہواور مقروض مطمئن ہو کہ مطالبہ کے وقت قرض ادا کرسکے گا، تو اس کے لئے حج پر جانا واحب ہے، مذکورہ دو صورتوں کے علاوہ اس پر حج واجب نہیں ہے۔
مسئلہ 42: اگر کسی شخص کو نکاح کی ضرورت ہو اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں وہ مشکلات اور پریشانی میں مبتلا ہو جائے، اور اس کے لیے نکاح کرنا ممکن ہو، تو اُس پراس صورت میں حج واجب ہو گا جب اس کے پاس حج کے اخراجات کے ساتھ نکاح کا خرچ بھی موجود ہو۔
مسئلہ 43: اگر استطاعت والے سال حمل و نقل کے وسائل کا کرایہ معمول کی حد سے زیادہ بڑھ گیا ہوتو چنانچہ کسی حرج اور مشقت کے بغیر اضافی کرایہ ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہوتو اس کو ادا کر کے حج پر جانا واجب ہے اور فقط مہنگائی استطاعت میں مانع نہیں بنے گی۔لیکن اگر اضافی رقم کو ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا اس کا ادا کرنا اس کے لئے حرج کاسبب بنے، تو اس پر واجب نہیں ہے کہ اسے ادا کرے اور وہ مستطیع نہیں ہے، اور سفر حج کی دیگر ضروریات خریدنے یا ان کو کرائے پر لینے کا بھی یہی حکم ہے۔ اور اسی طرح اگر اپنے مال کو معمول سے اتنی کم قیمت پر بیچنا پڑے جو زیادہ مشقت کا باعث بنے تو ا س کو فروخت کرنا واجب نہیں۔
مسئلہ 44: حج میں مالی استطاعت کا معیار یہ ہے کہ عام لوگوں کے درمیان متعارف طریقے سے حج کرنے کی طاقت ہو۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اس متعارف طریقے سے مستطیع نہیں ہے لیکن احتمال دیتا ہے کہ اگر تحقیق و جستجو کرے تو کوئی ایسی راہ مل جائے گی جس کے سبب موجودہ مالی حالت میں حج انجام دینے کے لئے مستطیع ہوجائے گا تو اس کے لئے جستجو اور تحقیق کرنا واجب نہیں ہے۔ اگر اسے مالی استطاعت میں شک ہو تو اسے اپنے مالی حالات کا جائزہ لینا واجب ہے۔
۲- سفر کے زمانے میں زیر کفالت افراد کے اخراجات
مسئلہ 45: مالی استطاعت ثابت ہونے میں شرط ہے کہ حج سے واپسی تک اپنے زیر کفالت افراد کے اخراجات موجود ہوں۔
مسئلہ 46: زیر کفالت افراد سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں عرفاً اس کا عیال کہا جاتا ہو، اگرچہ ان کا نفقہ دیناً واجب نہ بھی ہو۔
۳- ضروریاتِ زندگی
مسئلہ 47: مکلف پر حج کے واجب ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات اور عرفاً اس کے مقام و حیثیت کے مطابق ضرورت کی چیزیں موجود ہوں البتہ ضروری نہیں کہ یہ اجناس خود موجود ہوں، بلکہ اگر ان کو خریدنے کے لیے پیسہ یا متبادل مال موجود ہو، تو بھی وہ مستطیع شمار ہوگا۔
مسئلہ 48: افراد کی عرفی حیثیتیں مختلف ہوتی ہیں مثلاً: اگر کسی کے لیے ذاتی مکان رکھنا ضروریا ت زندگی شمار ہوتا ہو، یا اس کا عرفی مقام تقاضا کرتا ہو کہ اس کے پاس گھر ہو، یا کرائے یا وقف کےمکان میں رہائش اس کے لیے مشقت اور مشکل ہویا خفت کا سبب ہو، تو اس کے مستطیع ہونے کے لیے ذاتی مکان یا اس کے برابر قیمت کا ہونا شرط ہے۔
مسئلہ 49: اگر کسی کے پاس اتنا مال ہو جو حج کے لیے کافی ہے، لیکن وہ کسی اہم ضرورت جیسے مکان، بیماری کا علاج یا گھریلو سامان کے لئے اس کی طرف محتاج ہوتو وہ مستطیع نہیں ہے، اور اس پر حج واجب نہیں۔
مسئلہ 50: جس شخص کے پاس زندگی کی ضروری اشیاء جیسے مکان، گھریلو سامان، گاڑی یا کام کے آلات اس کی ضرورت سے زیادہ ہوں، اور اضافی سامان کو فروخت کرنا اس کے لیے مشقت یا خفت کا باعث نہ ہواور اس کو فروخت کرکے ملنے والی قیمت حج کے اخراجات کے لئے کافی ہو یا اخراجات کو پورا کرتی ہو تو ضروری ہے کہ زائد مقدار کو فروخت کرے اور حج پرجائے۔
مسئلہ 51: اگر مکلف رہائش کا مکان خریدنے کے لئے زمین بیچ دے تو چنانچہ حقیقتا یا عرفا اس کو گھر کی ضرورت ہے تو زمین کی قیمت ملنے سے مستطیع نہیں ہوگا اگرچہ حج کے اخراجات کے برابر ہو یا اس کو پورا کرتی ہو۔
مسئلہ 52: اگر کسی شخص کے کچھ اموال اب اس کی ضرورت کے نہیں مثلا نئی گاڑی خریدنے کی وجہ سے پرانی گاڑی کی ضرورت نہ ہواور ان اموال کی فروخت سے ملنے والی قیمت حج کی استطاعت یا رقم کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو تو دیگر شرائط موجود ہونے کی صورت میں اس پر حج واجب ہے۔
۴- حج کے بعد کی متعارف زندگی سے بہرہ مند ہونا
مسئلہ 53: مالی استطاعت ثابت ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ حج سے واپسی کے بعد اس کے پاس ایسا مال یا ذریعہ آمدن مثلا کاروبار، زراعت، صنعت اور دکان کا کرایہ وغیرہ ہو جو اس کی اور اس کے خاندان کی عرفی حیثیت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے کافی ہو۔
مسئلہ 54: جس شخص کے پاس حج کے بعدکوئی ذریعہ آمدن نہ ہو، لیکن وہ شرعی اموال جیسے خمس، زکات وغیرہ سے اپنی زندگی چلا سکتا ہو، تو اس پر حج واجب ہے۔
مسئلہ 55: عورت کے لیے بھی رجوع بہ کفایت (متعارف زندگی سے بہرہ مند ہونا) شرط ہے پس اگر شادی شدہ عورت شوہر کی حیات میں مستطیع ہوجائے تو شوہر کی طرف سے ملنے والا نفقہ استطاعت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن اگر کسی عورت کا شوہر نہ ہو تو حج سے واپسی کے بعد اپنی عرفی حیثیت کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے مال یا ذریعہ آمدن ہونا چاہئےاس صورت کے علاوہ مستطیع نہیں ہے۔
مسئلہ 56:اگر کسی شخص کے پاس سفر کے لوازمات نہ ہوں لیکن اگر کوئی اس کو حج کے تمام اخراجات دینے کی پیشکش کرے مثلا کہے: “تم حج پر جاؤ، خرچ میری طرف سے”تو اس صورت میں اس پر حج واجب ہو جاتا ہے اور اسے قبول کرنا لازم ہے۔ اسے “حج بذلی” کہتے ہیں۔ حج بذلی میں رجوع بہ کفایت شرط نہیں ہے اور اسی طرح خود سامان اور ضروری لوازمات ہونا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ نقد رقم دینا کافی ہے۔البتہ اگر حج انجام دینے کے عنوان سے مال نہ بخشے بلکہ فقط اتنا مال دے جو حج کے لئے کافی ہو تو اس کو قبول کرنا واجب نہیں ہے لیکن اگر ہدیہ قبول کرے تو رجوع بہ کفایت کی شرط بھی ہونے کی صورت میں حج واجب ہو جائے گا۔
مسئلہ 57: حج بذلی، حجة الاسلام (عمر بھر میں واجب حج) کے بدلے کافی ہے اور اگر بعد میں مستطیع ہو جائے، تو دوبارہ حج واجب نہیں۔
مسئلہ 58: اگر کوئی شخص کسی ادارے یا فرد کی طرف سے کسی کام کو انجام دینے کے لئے مدعو ہو اور حج سے مشرف ہوجائے تو چنانچہ حج کی دعوت کے عوض کوئی کام انجام دینے کی ذمہ داری لے تو اس کا حج، حج بذلی نہیں ہے۔
استطاعتِ مالی سے متعلق متفرق مسائل
مسئلہ 59: جو شخص مستطیع ہوچکا ہے، مال کو حج کے لئے خرچ کرنے کا وقت پہنچنے کے بعد اپنے آپ کو استطاعت سے خارج نہیں کرسکتا ہے، بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ اس وقت سے پہلے بھی اپنے آپ کو استطاعت سے خارج نہ کرے۔
مسئلہ 60: مالی استطاعت میں شرط نہیں ہے کہ وہ مکلف کے شہر میں حاصل ہو ، بلکہ اگر میقات پر استطاعت حاصل ہو جائے تو بھی کافی ہے۔بنابراین میقات میں استطاعت حاصل ہو تواس شخص پر حج واجب ہے اور یہی حج ، حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہوگا۔
مسئلہ 61: جو شخص میقات پر پہنچ کر حج ادا کرنے کے قابل ہوجائے، اُس صورت میں مستطیع اور اس پر حج اس وقت واجب ہوگا جب وہ مالی استطاعت کی دیگر تمام شرائط بھی رکھتا ہو۔ لہٰذا اگر کاروان کے خادمین وغیرہ، اپنے اہل و عیال کے اخراجات، اپنی ضروریاتِ زندگی اور آئندہ کے لیے مناسب زندگی کا خرچ رکھتے ہوں، تو ان پر حج واجب ہے اور یہی حج، حجۃ الاسلام کے بدلے کافی ہے۔ اس صورت کے علاوہ ان کا حج مستحب شمار ہوگا اور جب وہ بعد میں مستطیع ہوجائیں تو اُن پر حجۃ الاسلام ادا کرنا واجب ہوگا۔
مسئلہ 62: اگرکوئی شخص حج کے راستے میں خدمت کیلئے اتنی اجرت کے ساتھ اجیر بن جائے جس سے وہ مستطیع ہو جائے تو اگرچہ استطاعت حاصل کرنے کے لئے اجیر بننا واجب نہیں تاہم قبول کرنے کے بعد اس پر حج واجب ہے بشرطیکہ اعمال حج کی ادائیگی ان خدمات کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بنے جن کے لئے وہ اجیر بنا ہے ورنہ اس اجرت سے اس سال مستطیع نہیں ہوگا ۔
مسئلہ 63: جو شخص مالی استطاعت نہ رکھتا ہو چنانچہ کسی اور کی طرف سے حج کے لیے اجیر ہو، اور عقد اجارہ ہونے کے بعداس کی اجرت کے علاوہ کسی اور مال سے مستطیع ہو جائے، تو اس سال اپنا حج ادا کرناچاہئے اور نیابتی حج اگلے سال کرے۔ لیکن اگر اجارہ اسی سال کے لیے ہو، تو وہ اجارہ باطل ہو جائے گا۔
مسئلہ 64: اگر کوئی مستطیع شخص غفلت کی وجہ سے یا عمدا مستحب حج کی نیت کرے اگرچہ اس کا مقصداگلے سال بہتر انداز میں حج کے اعمال انجام دینے کی مشق ہویا مستطیع نہ ہونے کا عقیدہ رکھتا ہوچنانچہ بعد میں معلوم ہو کہ وہ اس وقت مستطیع تھا، تو اس حج کاحجۃ الاسلام کےبدلے کافی ہونا محل اشکال ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر اگلے سال حج انجام دے۔ ہاں، اگر اس نے یہ نیت کی ہو کہ موجودہ وقت میں جوواجب ہے وہی حج کر رہا ہوں اور یہ سمجھا ہو کہ اس وقت کا وظیفہ مستحب حج ہے، تو ایسی صورت میں وہ حج، حجۃ الاسلام کے بدلے کافی ہے۔
- ب ـ استطاعت بدنی
ب ـ استطاعت بدنی
مسئلہ 65: استطاعت بدنی سے مراد یہ ہے کہ انسان کے پاس حج کے لئے جانے کی توانائی ہو۔ بنابراین بیمار یا ضعیف العمر جو حج کے لئے جانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے یا حج کے لئے جانا اس کے لئے مشقت کا باعث ہے تواس پر حج واجب نہیں ہے ۔
مسئلہ 66: احرام باندھنے کے وقت تک استطاعت بدنی باقی ہونا چاہئے بنابر این اگر کوئی شخص حج کی نیت سے سفر کرے لیکن احرام سے پہلے ہی بیمار ہو جائے اور آگے نہ جا سکے، تو ثابت ہوگا کہ استطاعت بدنی حاصل نہیں ہوئی تھی اور اس پر حج واجب نہیں اور حج کے لئے نائب بنانا واجب نہیں ہے لیکن اگر حج اس پر پہلے سے فرض ہو چکا ہو چنانچہ آئندہ سالوں میں بھی بیماری سے صحت یابی اور توانائی حاصل کرکے بغیر سخت مشقت کے حج انجام دینے کی امید نہ ہو تو نائب بنانا واجب ہے۔ لیکن اگر صحت یابی اور حج انجام دینے کی امید ہو اگرچہ آئندہ سالوں میں کیوں نہ ہو، تو اولین ممکنہ سال میں خود حج کے لئے جانا واجب ہے۔ اگر احرام باندھنے کے بعد بیمار ہوجائے تو اس کے مخصوص احکام ہیں۔
- ج ـ راستے کی استطاعت
ج ـ راستے کی استطاعت
مسئلہ 67: راستے کی استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ حج کا راستہ کھلا اور محفوظ ہو۔ لہٰذا اگر راستہ بند ہواس طرح کہ انسان میقات یا حج کے اعمال مکمل نہ کرسکے اور اسی طرح جس شخص کے لئے راستہ کھلا ہے لیکن محفوظ نہیں مثلا راستے میں جان، جسم، مال یا عزت کو خطرہ ہو تو اس پر حج واجب نہیں ہے۔
مسئلہ 68: اگر کوئی مالی استطاعت رکھتا ہو اور حج کے لئے قرعہ اندازی میں رجسٹریشن ضروری ہو چنانچہ احتمال ہو کہ اسی سال قرعہ اندازی میں ا س کا نام نکلے گا تو احتیاط واجب کی بناپر رجسٹریشن کروانی چاہئے۔ اگر قرعہ نہ نکلے، تو وہ مستطیع نہیں ہے اور اس پر حج واجب نہیں۔ اگر مستقبل میں حج کے لئے جانا انتظار کی صف میں رہنے سے مشروط ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر استطاعت برقرار رکھنی چاہئے انتظارکی صف میں رہنا چاہئے تاکہ حج سے مشرف ہوجائے۔
مسئلہ 69: اگر کسی نے حج کے لیے رجسٹریشن کروائی ہو اور اس کی باری آئندہ سالوں میں ہوچنانچہ کسی کی حق تلفی اور حکومت اسلامی کے قوانین کی خلاف ورزی کے بغیر اپنی باری آگے لاسکتا ہو، تو ایسا کرنا واجب ہے۔
مسئلہ 70: واجب حج کی ادائیگی کے لئے عورت کا سفر شوہر کی اجازت پر موقوف نہیں ہے اور شوہر اسے حج پر جانے سے نہیں روک سکتا۔
- د ـ استطاعت زمانی
د ـ استطاعت زمانی
مسئلہ 71: استطاعتِ زمانی اس وقت حاصل ہوگی جب انسان کے پاس اتنا وقت ہو کہ وہ حج کے مخصوص دنوں میں وہاں پہنچ سکے۔ لہٰذا اگر کسی کو اتنی دیرسے استطاعت حاصل ہوجائے کہ وقت کی کمی کی وجہ سے حج کے لئے نہ پہنچ سکے یا اس کے لیے جانا بہت مشقت ہو، تو اس سال اس پر حج واجب نہیں ہے۔
- استطاعت کے بارے میں استفتاءات
استطاعت کے بارے میں استفتاءات
سوال 72: اگر کوئی شخص خمس یا زکات جیسے شرعی اموال سے گزر بسر کرتا ہے، اور اس کے پاس خمس اور زکات سے اتنی بچت ہو جائے جو حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو تو باقی شرائط کی موجودگی میں وہ مستطیع ہے یا نہیں ؟
جواب: اگر شرعی طور پر دریافت کرنے کا حقدار ہے تو مستطیع ہوگا۔
سوال 73: چونکہ حج پر جانے سے پہلے میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے اور جو لوگ جسمانی تونائی نہیں رکھتے ہیں ان کو اجازت نہیں ملتی، تو میڈیکل میں فیل ہونے والےافراد کی استطاعت ثابت نہیں ہوگی جن کے لئے ابھی تک راستہ نہیں کھلا ہے ؟
جواب: ایسے افراد مستطیع نہیں ہیں۔ البتہ اگر انہیں صحت یاب ہونے کی امید ہو، تو احتیاط واجب کی بناپر خود کو استطاعت مالی سے خارج نہ کریں ۔
سوال 74: اگر بیوی کا مہر مدت دار ہو جو ممکن ہونے کی صورت میں شوہر پر ادا کرنا لازم ہے پس اگر بیوی مطالبہ نہ کرے تو شوہر مستطیع ہوگا یا مہر ادا کرنا مقدم ہے؟
جواب: جب تک بیوی مطالبہ نہ کرے، شوہر پر مہر ادا کرنا واجب نہیں۔ اور اگر وہ مہر آسانی سے ادا کر سکتا ہو، تو حج انجام دینا مقدم ہے۔
سوال 75: کیا کوئی شخص کئی مہینوں کی بچت سے مستطیع بن سکتا ہے؟ خاص طور پر جب وہ جانتا ہو کہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔
جواب: اس طرح سے استطاعت حاصل کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر وہ حج کے اخراجات کے برابر رقم بچت کر لے اور باقی شرائط بھی پوری ہوں، تو وہ مستطیع شمار ہوگا۔
سوال 76: کیا والدین سے ملنا ایک شرعی، سماجی یا ذاتی ضرورت شمار ہوتی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا ایک مستطیع شخص حج کو مؤخر کر سکتا ہے تاکہ والدین سے ملنے پر خرچ کرے، خاص طور پر جب اس کے لیے سفر وغیرہ کرنا پڑے؟
جواب: اگر انسان مستطیع ہو چکا ہے تو اس پر حج کرنا واجب ہے اور جائز نہیں ہے کہ حتی کہ صلہ رحم کی خاطر خود کو استطاعت سے خارج کرے۔صلہ رحم بالمشافہ ملاقات میں منحصر نہیں ہے بلکہ خط یا ٹیلی فوج کے ذریعے بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگر والدین دوسرےشہر میں ہوں اور ان کی یا انسان کی اپنی حالت کی وجہ سے والدین سےملاقات ضروری ہو اور عرفاً بھی یہ اس کی ضرورت سمجھی جائے، اور اس کے پاس دونوں (ملاقات اور حج) کے لیے کافی پیسہ نہ ہو، تو وہ مستطیع شمار نہیں ہوگا۔
سوال 77: اگربچے کو دودھ پلانے والی عورت مستطیع ہو جائےچنانچہ حج پر جانا اس کے شیرخوار بچے کے لیے نقصان دہ ہو، تو کیا وہ حج پر نہ جانے کی مجاز ہے؟
جواب: اگر ایسا نقصان ہو کہ ماں کا بچےکے ساتھ رہنا ضروری ہو، یا حج پر جانا دودھ پلانے والی عورت خود کے لئے مشقت اور سختی کا باعث بنے، تواس پر حج واجب نہیں ہے۔
سوال 78: اگر عورت کے زیور ات کی قیمت حج کی استطاعت کے لیے کافی ہو تو کیازیورات بیچ کر حج پر جانا ہوگا؟
جواب: اگر زیور ات کی ضرورت ہو اور اس کی حیثیت سے بڑھ کر نہ ہوں تووہ مستطیع نہیں ہے اور حج کے لیے زیورات کو بیچنا واجب نہیں ہے۔
سوال 79: اگر عورت حج پر جانے کی قابل ہو جائے لیکن اس کا شوہر اجازت نہ دے، تو عورت کا کیا حکم ہے؟
جواب: عورت کے لیے واجب حج ادا کرنے کے لیے شوہر کی اجازت شرط نہیں ہے۔ البتہ اگر شوہر کی اجازت کے بغیر حج پر جانا اس کے لیےسختی اور مشقت کا باعث بنے، تو وہ مستطیع نہیں ہوگی اور اس پر حج واجب نہیں ہے۔.
سوال 80: میرے شوہر نے نکاح کے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے حج پر لے جائے گا۔ کیا میرےاوپرحج واجب ہو گیا ہے؟
جواب: وعدے سے حج واجب نہیں ہوتا۔
سوال 81: کیا انسان کے لئے جائز ہے کہ اپنے ضروری اخراجات میں سختی برداشت کر ے تاکہ حج کے لیے استطاعت حاصل کرے؟
جواب: ایسا کرنا جائز ہے، لیکن شرعاً واجب نہیں۔ البتہ یہ سختی صرف اپنی ذات تک محدود ہےاور بال بچوں جن کا نان و نفقہ اس پر واجب ہے، ان پر معمول سے زیادہ سختی کرنا جائز نہیں ہے۔
سوال 82: میں ماضی میں دینی مسائل کا پابند نہیں تھا اور میرے پاس اتنا مال تھا جو حج کے سفر کے لئے کافی تھا (یعنی مستطیع تھا)، مگر اس وقت کے حالات کی وجہ سے حج پر نہیں گیا۔ اب میرا وظیفہ کیا ہے؟ یاد رہے کہ اس وقت پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ حج پر جا سکوں، دوسری طرف اس کام کے لئے دو راستے ہیں: حج کے سرکاری ادارے میں رجسٹریشن اور دوسرا زیادہ اخراجات ادا کر کے ذاتی طور پر جانا، پس کیا سرکاری رجسٹریشن کافی ہے؟
جواب: اگر ماضی میں آپ تمام شرائط کے ساتھ مستطیع تھے تو آپ کے ذمے حج واجب ہوچکا ہے اور آپ کو ہر ممکن اور شرعی طریقے سے حج ادا کرنا ہوگا بشرطیکہ سختی اور مشقت سے دوچار نہ ہو۔ لیکن اگر ماضی میں آپ مکمل مستطیع نہیں ہوئے تھے، تو مذکورہ فرض میں آپ پر حج واجب نہیں ہے۔
سوال 83: کیا جان کا خطرہ استطاعت حاصل ہونے میں مانع ہے؟
جواب: اگر جان کا خطرہ معقول نہ ہوتو استطاعت میں مانع نہیں ہے۔
سوال 84: اگرورثاء کی اجازت سے میّت کے کوٹےسے حج پر جانا ممکن ہو توکیاواجب کے مقدمات مثلا رجسٹریشن کے عنوان سے اجازہ لینا واجب ہے؟ اگر اجازت کے بغیر اسی کوٹے سے حج پر چلا جائےتو اس فرض کے ساتھ کہ استطاعت کی دیگر شرائط موجود ہیں، کیا یہ حج صحیح ہے اور حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہوگا؟
جواب: اجازت لینا واجب نہیں ہے، مگرمیت کے کوٹے سے استفادہ کرنے کے لیے ورثاء سےاجازت لینا ضروری ہے۔چنانچہ کسی نے بغیر اجازت اس سے استفادہ کیا تو میقات کے بعد بھی اس کی استطاعت اس کوٹے کی وجہ سے ہو تو اس کا حج حجہ الاسلام شمار نہیں ہوگا لیکن اگر میقات کے بعد کوٹے سے قطع نظر استطاعت کی شرائط موجود ہوں تو ا س کا حج حجہ الاسلام کے بدلے کافی ہوگا۔
-
-
-
- تیسرا باب: حج نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
- چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
- پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
- چھٹا باب: عمرہ مفردہ
- متفرق استفتائات
متفرق استفتائات
سوال 602- حال ہی میں حج و زیارت کے ادارے اور بینک ملی ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق حج تمتع کے خواہشمند حضرات بینک میں اپنے نام سے مخصوص اکاؤنٹ میں ایک ملین تومان بطور مضاربہ جمع کراتے ہیں اور رسید حاصل کرتے ہیں۔ یہ رقم حج سے مشرف ہونے تک اس شخص کے اکاؤنٹ میں باقی رہتی ہے اور مکتوب قرارداد کے مطابق اکاؤنٹ والے کو ہر سال کے اختتام پر مضاربہ کے سود کے عنوان سے کچھ منافع بھی دیا جاتا ہے۔ادارہ حج جلدی رجسٹریشن کروانے والوں کو ترجیح دیتا ہے اور تقریبا تین سال بعد لوگوں کی نوبت کا اعلان کیا جاتا ہے اور مائل ہونے کی صورت میں ان کو حج پر بھیجا جاتا ہے۔ جب حج پر جانے کا وقت آتا ہے تو مضاربہ کے اکاؤنٹ میں جمع اصلی رقم کو بینک سے دریافت کرتا ہے اور باقی اخراجات کے ساتھ ادارہ حج و زیارات کے اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے اور حج سے مشرف ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ چونکہ معاہدہ مکتوب ہے اور پیسے کے مالک اور بینک کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوتی پس صاحب مال کو مضاربہ کے منافع کے عنوان سے ملنے والی کچھ فیصد رقم کا کیا حکم ہے؟
جواب: بینک کے ساتھ مذکورہ طریقے (شرائط) کے مطابق تحریری معاہدہ کرنا بلا اشکال (جائز) ہے، اور مضاربہ سے حاصل ہونے والا منافع اکاونٹ والے کے لیے حلال ہے۔اصل رقم اگر غیر مخمس آمدنی سے ہو تو اس پر خمس ہے ۔اگر حج کا سفر کرنے سے پہلے سود قابل وصول نہ ہو تو جس سال وصول ہوجائے اس سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا چنانچہ اسی سال حج کے اخراجات کے طور پر اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے تو خمس نہیں۔
سوال 603۔ مسجد الحرام کے فرش کو آب قلیل سے پاک کیا جاتا ہے، کیا مسجد کے فرش پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟
جواب:معمولا مسجد کے تمام مقامات کا نجس ہونا ثابت نہیں ہے اور اسکی تحقیق و جستجو بھی واجب نہیں بنا بر ایں مسجد کے فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔
سوال 604- جب مسجد الحرام خون، پیشاب یا کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہو جاتی ہے اور ملازمین اس کو پاک کرنے کے لئے جو طریقہ اپناتے ہیں ہماری نظر میں اس طریقے سے پاک نہیں ہوتی ہے تو ایسی حالت میں جو نماز مسجد الحرام کی فرش (گیلی ہو یا خشک)پر پڑھی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: جب تک سجدے کی جگہ نجس ہونے پر یقین نہ ہو تو نماز صحیح ہے۔
سوال 605-کیا کعبہ کے ارد گرد دائرے کی شکل میں (باقی شرائط کی رعایت کرتے ہوئے) نماز جماعت پڑھنا صحیح اور کافی ہے؟
جواب: جو شخص امام کے پیچھے یا اس کے دائیں یا بائیں کھڑا ہے، اس کی نماز صحیح ہے، اور احتیاط مستحب کی بنا پر جو شخص امام کے دائیں یا بائیں طرف کھڑا ہے اسے چاہئے کہ امام جماعت اور کعبہ کے درمیانی فاصلے کی رعایت کرے اور امام سے زیادہ کعبہ سے نزدیک نہ ہو، لیکن جو کعبہ کی دوسری طرف یعنی امام کے مد مقابل کھڑا ہے اس کی نماز صحیح نہیں۔
سوال 606- کیا قضا نماز میں اہل سنت کی اقتداصحیح ہے؟
جواب: صحیح نہیں۔
سوال 607- اذان اور اقامت کے دوران مسجد الحرام اور مسجد النبی سے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس وقت اہل سنت مسجد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں باہر نکلتے دیکھ کر باتیں کرتے ہیں اور عیب سمجھتے ہیں؟
جواب: اگر یہ کام دوسروں کی نظر میں اول وقت کی نماز کو کم اہمیت دینے کے مترادف ہو اور بالخصوص یہ بات مذہب کی توہین کا باعث بن رہی ہو توجائز نہیں ہے۔
سوال 608- جس شخص نے مکہ مکرمہ میں دس دن اقامت کی نیت کی ہے، وہ عرفات ، مشعر، منی اور اسی طرح ان کے درمیانی فاصلوں میں نماز کو قصر پڑھے گا یاپوری؟
جواب: اگر عرفات جانے سے پہلے اس نے مکہ میں دس روز قیام کا قصد کیا ہے تواقامت ثابت ہونے کے بعد جب تک وہ کوئی نیا سفر انجام نہ دے،اقامت کا حکم باقی ہےاور نماز پوری ہوگی۔ عرفات، مشعر الحرام اورمنی جانا سفر شمار نہیں ہوگا۔
سوال 609- نماز قصر پڑھنے یا پوری پڑھنے میں اختیار کا حکم پورے شہر مکہ اور مدینہ کے لئے ہے یا مسجد الحرام اور مسجد النبی سے مختص ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں شہروں کے نئے اور پرانے محلوں کے درمیان کوئی فرق ہے یا نہیں؟
جواب : قصر اور کامل نماز کے درمیان اختیار ان دونوں مقدس شہروں کے تمام مقامات کے لئے ہے، اور نئے اور پرانے محلوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے دو نوںمقدس مساجد کے علاوہ دیگر مقامات پر دس دن کی اقامت کے بغیر نماز قصر پڑھے۔
سوال 610- کیا مسافر تخییری مقامات (مکہ و مدینہ) میں ظہر و عصر کی نفل نمازیں پڑھ سکتا ہے؟
جواب: اگر کوئی شخص تخییری مقامات پر پوری نماز ادا کرنا چاہے، تو وہ یومیہ نوافل بھی پڑھ سکتا ہے۔
سوال 611- جوشخص مشرکین سے برائت کے مراسم میں شرکت سے اجتناب کرے، اس کے حج کاکیا حکم ہے؟
جواب: اس عمل سے حج کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اگرچہ اپنے آپ کو خدا کے دشمنوں سے برائت کے اعلان کے مراسم میں شرکت کی فضیلت سے محروم کیا۔
سوال 612- کیا حیض یا نفاس کی حالت میں عورت مسجدالحرام اور سعی کے راستے کی مشترکہ دیوار پر بیٹھ سکتی ہے؟
جواب: کوئی اشکال نہیں مگر اس صورت میں جب دیوار کا مسجد الحرام کا حصہ ہونا ثابت ہوجائے۔
سوال 613- سیدہ اور غیر سیدہ عورتوں کے یائسہ ہونے کی عمر کیا ہے؟
جواب: یائسہ ہونے کی عمر معین کرنا محل تامل اور محل احتیاط ہے۔ اس مسئلے میں خواتین دوسرے مجتہد جامع الشرائط کی جانب رجوع کر سکتی ہیں۔
سوال 614- اگرکسی کو رؤیت ہلال میں اختلاف کی وجہ سے وقوف اور عید کے دنوں میں شک ہو تو کیا اس کے حج کا کیا حکم ہے؟ کیا دوبارہ حج کرنا ہوگا؟
جواب: اگر وہ اہل سنت کے مفتی کے حکم کے مطابق ذی الحج کی رؤیت پر عمل کرے توکافی ہے پس اگر باقی لوگوں کے ساتھ وقوفات انجام دے تو حج صحیح ہے۔
سوال 615۔ کیا مقام ابراہیم کے پیچھے قرآن کی تلاوت یا دعا اورمستحب نماز میں مشغول ہوکر طواف واجب کی نماز پڑھنے والوں کے لئے جگہ تنگ کرنا جائز ہے؟
جواب: اولیٰ بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب طواف واجب کی نماز کے لئے بھیڑ ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے مذکورہ عبادتیں انجام نہ دے۔
سوال 616۔ کیا مسجد النبی میں قالین پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سجدہ کے لئے ایسی چیز جس پر سجدہ صحیح ہے- کاغذیا چٹائی وغیرہ- کو سامنے رکھنے سے انسان مورد توجہ قرار پاتا ہے اور نمازی مغرضانہ نظروں کی زد میں آجاتا ہے اور مخالفوں کو مذاق اڑانے کا بہانہ مل جاتا ہے؟
جواب: جس جگہ تقیہ ضروری ہے وہاں پر انسان قالین اور اس جیسی چیزوں پر سجدہ کرے اور ضروری نہیں ہے کہ نماز کے لئے کسی اور جگہ چلا جائے، لیکن اگر اسی مقام پر بغیر زحمت اور تکلیف کے وہ پتھر یا چٹائی وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہو تو بنا بر احتیاط واجب انہی چیزوں پر سجدہ کرے۔
سوال 617۔ کیا مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اور کلی طور پر کن پتھروں پر سجدہ کیا جاسکتا ہے؟ اور اینٹ اور مٹی کے برتن پر سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: سنگ مرمر اور اس طرح کے دوسرے پتھر جنہیں تعمیرات یا عمارتوں کی تزئین و آرایش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ۔ اینٹ ، چونا، مٹی کے برتن اور سیمنٹ پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔ عقیق، فیروزه، دُرّ وغیرہ پراگرچہ سجدہ بھی صحیح ہے، لیکن مستحب احتیاط یہ ہے کہ ان پر سجدہ نہ کیا جائے۔
سوال 618۔ ایسے پانی سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے جو پینے سے مخصوص ہے؟
جواب: جس پانی کا مباح ہونامشکوک ہے، اس سے وضو کرنا صحیح نہیں۔
سوال 619۔ اگر اعلم مجتہد کسی مسئلے میں فتوی نہ دے بلکہ فقط احتیاط واجب قرار دے لیکن فالاعلم (اعلم کے بعد دوسرے مرتبے کا مجتہد)نے احتیاط کا فتوی نہیں دیا ہو تو کیا اعلم کے مقلد کے لئےیہ جاننا ضروری ہے کہ اعلم مجتہد نے اس مسئلہ کو احتیاط واجب قرار دیا ہے اور فالاعلم کی طرف رجوع کرنے کی نیت کرے یا یہی کافی ہے کہ اس نے اپنے شرعی وظیفے کو انجام دیا ہے اور اس کا عمل فالاعلم کے فتوی کے مطابق ہے؟
جواب: اگر اس کا عمل، انجام دیتے وقت ایسے مرجع کے فتوے کے مطابق ہو جس کی شرعی طور تقلید صحیح ہو اور اس مسئلے میں اس کی تقلید پر بنا رکھے تو کافی ہے۔
سوال 620۔ بعض مواقع پر بیت اللہ کے زائرین یا دوسرے مسافر نماز کے وقت ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر ہوائی جہاز میں نماز پڑھناطمانینہ اور استقرار کے لئے مانع بھی نہیں ہے۔ چنانچہ نماز کی دوسری شرائط مثلاً قیام، قبلہ، رکوع اور سجود وغیرہ کی رعایت کی جائے اور یہ جانتے ہوئے یا احتمال دیتے ہوئے کہ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے مقصد تک پہنچیں گے اور جہاز سے اترنے کے بعد نماز ادا کر سکتے ہیں، کیا جہاز میں نماز ادا کرنا کافی ہے یا نماز میں تاخیر کرنا ضروری ہے اور اگر اس حالت میں نماز پڑھے اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز اتر جائے تو نماز کا دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب: اگر بدن کا ساکن ہونا اور استقرار اور رو بہ قبلہ ہونا ممکن ہو تو نماز صحیح اور کافی ہے بلکہ اول وقت کی فضیلت کو درک کرنے کے لئے افضل ہے۔
سوال 621۔ اگر کسی نے مستحب عمرۂ تمتع انجام دیا ہو، لیکن اب وہ حج تمتع انجام نہیں دے سکتا مثلاً ایام تشریق میں حاجیوں کی خدمت کے لئے مکہ میں رہنے کی ذمہ داری ہو تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: وہ مستحب عمرۂ تمتع چھوڑ سکتا ہےاور احتیاط مستحب ہے کہ طوافِ نساء انجام دے۔
سوال 622۔ اگر کوئی حج واجب ہونے کے بعد پاگل ہوجائے تو اس کے حج کے حوالے سےولی کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: اس کے حج کے حوالے سے ولی پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگربعد میں عاقل ہو جائے تو خود حج انجام دےورنہ مرنے کے بعد اس کے مال متروکہ سے نائب مقرر کیا جائے۔
سوال 623۔ ہمیں ایران میں کچھ رقوم دی گئی ہیں تاکہ انہیں مسجد نبوی یا قبور مطہرہ بقیع میں ڈالیں لیکن یہ ممکن نہیں لہذا کیا ہم ان پیسوں کو شیعہ فقراء میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
جواب:اگر پیسے دینے والے راضی ہوں تو انہیں شیعہ فقراء پر خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
سوال 624۔ بہت سارے زائرین خانۂ خدا، مسجد الحرام میں اعتکاف کے مشتاق ہوتے ہیں۔ چونکہ روزہ اعتکاف کے لیے شرط ہےتو کیامکہ مکرمہ میں روزہ کی نذر کر کے اعتکاف کر سکتے ہیں؟
جواب:احتیاطِ واجب کی بناپر نذر وطن یا محل اقامت میں ہونی چاہئے۔
سوال 625۔ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں اعتکاف کرنا چاہے تو کیا جائز ہے کہ اذانِ صبح سے پہلے تنعیم جا کر احرام باندھے اور پھر باقی اعمال اعتکاف کی حالت میں انجام دے؟ یاد رہے کہ سعی کا مقام مسجد کا حصہ نہیں ہے۔
جواب: وہ احرام باندھ سکتا ہے اور سعی انجام دینے کے لیے مسجد سے باہر جانے میں کوئی اشکال نہیں۔
سوال 626۔ حاجت پوری ہونے کے لئے مدینہ منورہ میں تین دن مستحب روزے رکھنا مسافر سے مخصوص ہے یا مدینہ میں رہنے والوں اور دس دن قصد اقامت کرنے والوں کے لئے بھی مستحب ہے؟
جواب: مسافر کے ساتھ مخصوص نہیں۔سفر کی حالت میں روزہ کو مستثنی کرنے کے لئے مسافر کا ذکر ہوا ہے(چونکہ عام طور پر مسافر سفر میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔)
- رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
جتنا ہوسکے مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں وہ اعمال زیادہ اور تکرار کے ساتھ انجام دیں جنہیں خداوند عالم پسندکرتا ہے،یہ ایسے اعمال ہیں جو خالصانہ اور اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ وہ دعائیں جو وارد ہوئی ہیں یا وہ جو ان مقامات سےمخصوص نہیں ہیں—جیسے دعائے کمیل—ان کا اجتماعی طور پر پڑھنا بہت ہی نیک عمل ہے۔[1]
حج ایک انسان کے لیے معنویت کے بیکراں ماحول میں داخل ہونے کا موقع ہے۔ ہم خامیوں اور مشکلات سے بھرپور اپنی معمول کی زندگی سے خود کو نکال کر صفا، معنویت اور اللہ کی قربت اور ریاضت سے معمور فضا میں لے آتے ہیں۔مناسک حج کے آغاز سے ہی ان چیزوں کوآپ اپنے لئے حرام قرار دیتے ہیں جو معمولا مباح ہوتی ہیں۔ احرام کا مطلب ان چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دینا ہے جو عام اوقات میں جائز اور مباح ہوتی ہیں۔ ان میں بہت ساری چیزیں غفلت کا باعث بنتی ہیں اور بعض زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔
ظاہری اور مادی تفاخر کے تمام ذرائع ہم سے چھین لیے جاتے ہیں؛ سب سے پہلے لباس۔ عہدہ، مقام، رتبہ، اور قیمتی لباس، یہ سب ختم ہو جاتے ہیں اور سب ایک جیسے لباس میں آ جاتے ہیں۔ آئینے میں نہ دیکھیں، کیونکہ یہ خود پسندی اور خود نمائی کا ایک مظہر ہے۔ خوشبو کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ دکھاوے کا ایک ذریعہ ہے۔ چلتے وقت دھوپ یا بارش سے نہ بھاگیں اور چھت کے نیچے نہ جائیں، کیونکہ یہ آرام طلبی اور آسائش کی علامت ہے۔ اگر کسی ایسی جگہ سے گزریں جہاں بدبو ہو، تو اپنی ناک نہ بند کریں۔ اسی طرح احرام کے باقی تمام کاموں کا بھی یہی مقصد ہے؛ یعنی اس مدت کے دوران ان تمام چیزوں کو خود پر حرام کر لینا جو آرام و سکون کا باعث بنتی ہیں، یا نفسانی شہوات اور حرام جنسی خواہشات کو ابھارتی ہیں؛ چاہے وہ چیز فخر و غرور کا ذریعہ ہو یا امتیاز اور فرق پیدا کرنے والی ہو، یہ سب چیزیں ختم کر دی جاتی ہیں۔
پھر بیت اللہ اور مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہیں جو پوری سادگی اور سجاوت سے خالی ہونے کے باوجود پرشکوہ اور عظمت سے بھرپور ہےاس جلال و عظمت کو اپنی آنکھوں، اپنے ہاتھوں بلکہ پورے وجود سے محسوس کرتا ہے۔ یہ عظمت اور جلال مادی زینت و آرائش نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی اور باطنی شان و شوکت ہے جو عام انسانوں کے لیے بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ پھر جب انسان حاجیوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا حصہ بنتا ہے، اور ایک مرکز کے گرد گریہ اور خشوع کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے ساتھ طواف کرتا ہے؛ پھر صفا و مروہ کی سعی بھی اسی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ عرفات اور مشعر میں وقوف اور ایام منیٰ کی عبادات بھی اسی طرح ہیں اور یہی حج ہے۔[2]
جو لوگ مکّہ جاتے ہیں، وہ ان لمحات کو مکّہ کو بازاروں میں گھومنے اور دکانوں کی سیر کی نذر نہ کریں۔ مکّہ ان بے اہمیت سرگرمیوں سے بہت برتر و بالا ہے۔ اگر تجارت کا شوق ہے تو بعد میں الگ سے کسی سفر میں جائیں، جہاں چاہیں جائیں۔ لیکن حج کے دوران ان "ایام معلومات" کو اپنے لیے، زیارت کے لیےاور یادِ خدا کے لیے محفوظ رکھیں، اور ان قیمتی دنوں کو بے وقعت کاموں میں ضائع نہ کریں۔ نمازِ جماعت میں شرکت کریں، اجتماعات میں شریک ہوں، اور حرمین شریفین میں نمازِ اوّل وقت کی جماعت کے ساتھ ادا ئیگی کو یقینی بنائیں۔ پورےایمان اور پرہیزگاری کے ساتھ حاضر ہوجائیں جو ایرانی قوم کے شایان شان ہو۔[3]
حج کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک بقائے باہمی ہے۔ ایسے افراد جو ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے، مختلف ثقافتوں، علاقوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں یہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا ہوتا ہے۔[4]
سیاسی اعتبار سے، حج کا مرکزی محور امت مسلمہ کے اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ ہے۔ مسلمان بھائیوں کی ایک دوسرے سےدوری سے دشمنوں کو موقع ملتا ہے اور امت کے درمیان تفرقے کا بیج پروان چڑھتا ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مسالک کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع، جو زمین کے ایک حساس اور اہم حصے میں جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، خود اس عظیم امت کے لیے ایک قوت بن سکتا ہے۔ یہ تنوع ان کے مشترک ورثے، ثقافت اور تاریخ کو ایک وسیع دائرے میں زیادہ مؤثر اور کارآمد بنا سکتا ہے، اور انسانی و قدرتی صلاحیتوں کو اس امت کی خدمت میں استعمال کر سکتا ہے۔[5]
حج، ان مستکبروں کے مقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے، جو فساد، کمزوروں پر ظلم، قتل عام اور لُوٹ مار کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ آج امت مسلمہ کا عظیم پیکر ان کے ظلم و خباثت سے زخمی اور خون آلود ہے۔ حج، امتِ اسلامی کی عسکری اور ایمانی و ثقافتی طاقت کی ایک شاندار نمائش ہے۔ یہی حج کی حقیقت، اس کی روح، اور اس کے اہم ترین اہداف کا ایک حصہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امام خمینی کبیرؒ نے "حجِ ابراہیمی" کا نام دیا تھا۔[6]
وہ "حجِ ابراہیمی" جو اسلام نے مسلمانوں کو بطور ہدیہ عطا کیا ہے، عزت، معنویت، وحدت اور شکوہ و عظمت کا مظہر ہے۔ یہ حج امتِ اسلامی کی بزرگی اور خدا کی لازوال طاقت پرامت مسلمہ کے اعتقاد کو دشمنوں اور بدخواہوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے، اور اُنہیں اُس گندگی، ذلت اور محرومی سے ممتاز و الگ دکھاتا ہے جو عالمی غاصبوں اور مستکبروں نے انسانی معاشروں پر مسلط کر رکھی ہے۔
اسلامی اور توحیدی حج اس نورانی کلام الہی کا مظہر ہے: "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ"[7] یعنی کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان۔ یہ مشرکوں سے براءت اور اہلِ ایمان کے آپس میں باہمی اُلفت و وحدت ظاہر کرنے کا مقام ہے۔[8]
[1] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
[2] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2007
[3] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 1993
[4] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
[5] حج کانفرنس کے موقع پر پیغام، 1995
[6] ایام حج کے موقع پر پیغام، 2019
[7] فتح، آیت 29
[8] ایام حج کے موقع پر مسلمانان عالم کے نام پیغام، 2015
