ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
    • حج کے واجب ہونے کے شرائط
      • عقل اور بلوغ
      • استطاعت
        • الف: مالی استطاعت
        • ب ـ استطاعت بدنی
        • ج ـ راستے کی استطاعت
        • د ـ استطاعت زمانی
        • استطاعت کے بارے میں  استفتاءات
          پرنٹ  ;  PDF
           
          استطاعت کے بارے میں  استفتاءات

           

          سوال 72: اگر کوئی شخص خمس یا زکات جیسے شرعی اموال سے گزر بسر کرتا ہے، اور اس کے پاس خمس اور زکات سے اتنی بچت ہو جائے جو حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو تو  باقی شرائط کی موجودگی میں وہ مستطیع ہے یا نہیں ؟
          جواب: اگر شرعی طور پر دریافت کرنے کا حقدار ہے تو مستطیع ہوگا۔

           

           سوال 73: چونکہ حج پر جانے سے پہلے میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے اور جو لوگ جسمانی تونائی نہیں رکھتے ہیں ان کو اجازت نہیں ملتی، تو  میڈیکل میں فیل ہونے والےافراد کی استطاعت ثابت نہیں ہوگی جن کے لئے ابھی تک راستہ نہیں کھلا ہے ؟
          جواب:  ایسے افراد مستطیع نہیں ہیں۔ البتہ اگر انہیں صحت یاب ہونے کی امید ہو، تو احتیاط واجب کی بناپر خود کو استطاعت مالی سے خارج نہ کریں ۔

           

           سوال 74: اگر بیوی کا مہر مدت دار ہو جو ممکن ہونے کی صورت میں شوہر پر ادا کرنا لازم ہے پس اگر بیوی مطالبہ نہ کرے تو شوہر مستطیع ہوگا یا مہر ادا کرنا مقدم ہے؟
          جواب: جب تک بیوی مطالبہ نہ کرے، شوہر پر مہر ادا کرنا واجب نہیں۔ اور اگر وہ مہر آسانی سے ادا کر سکتا ہو، تو حج انجام دینا مقدم ہے۔

           

           سوال 75: کیا کوئی شخص کئی مہینوں کی بچت سے مستطیع بن سکتا ہے؟ خاص طور پر جب وہ جانتا ہو کہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔
          جواب: اس طرح سے استطاعت حاصل کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر وہ حج کے اخراجات کے برابر رقم بچت کر لے اور باقی شرائط بھی پوری ہوں، تو وہ مستطیع شمار ہوگا۔

           

          سوال 76: کیا والدین سے ملنا ایک شرعی، سماجی یا ذاتی ضرورت شمار ہوتی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا ایک مستطیع شخص حج کو مؤخر کر سکتا ہے تاکہ والدین سے ملنے پر خرچ کرے، خاص طور پر جب اس کے لیے سفر وغیرہ کرنا پڑے؟
          جواب: اگر انسان مستطیع ہو چکا ہے تو اس پر حج کرنا واجب ہے اور جائز نہیں ہے کہ حتی کہ صلہ رحم کی خاطر خود کو استطاعت سے خارج کرے۔صلہ رحم بالمشافہ ملاقات میں منحصر نہیں ہے بلکہ خط یا ٹیلی فوج کے ذریعے بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگر والدین دوسرےشہر میں ہوں اور ان کی یا انسان کی اپنی  حالت کی وجہ سے والدین  سےملاقات ضروری  ہو اور عرفاً بھی یہ اس کی ضرورت سمجھی جائے، اور اس کے پاس دونوں (ملاقات اور حج) کے لیے کافی پیسہ نہ ہو، تو وہ مستطیع شمار نہیں ہوگا۔

           

          سوال 77: اگربچے کو دودھ پلانے والی عورت مستطیع ہو جائےچنانچہ  حج پر جانا اس کے شیرخوار بچے کے لیے نقصان دہ ہو، تو کیا وہ حج پر نہ جانے کی مجاز ہے؟
          جواب: اگر ایسا نقصان ہو کہ  ماں کا بچےکے ساتھ رہنا ضروری ہو، یا  حج پر جانا دودھ پلانے والی عورت خود کے لئے مشقت اور سختی کا باعث بنے، تواس پر حج واجب نہیں ہے۔

           

          سوال 78: اگر عورت کے زیور ات کی قیمت حج کی استطاعت  کے لیے کافی ہو تو کیازیورات   بیچ کر حج پر جانا ہوگا؟
          جواب: اگر زیور ات کی ضرورت ہو اور اس کی حیثیت سے بڑھ کر نہ ہوں تووہ مستطیع نہیں ہے اور حج کے لیے زیورات کو بیچنا واجب نہیں ہے۔

           

          سوال 79: اگر عورت حج پر جانے کی قابل ہو جائے لیکن اس کا شوہر اجازت نہ دے، تو عورت کا کیا حکم ہے؟
          جواب: عورت کے لیے واجب حج ادا کرنے کے لیے شوہر کی اجازت شرط نہیں ہے۔ البتہ اگر شوہر کی اجازت کے بغیر حج پر جانا اس کے لیےسختی اور مشقت کا باعث بنے، تو وہ مستطیع نہیں ہوگی اور اس پر حج واجب نہیں ہے۔.

           

          سوال 80: میرے شوہر نے نکاح کے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے حج پر لے جائے گا۔ کیا میرےاوپرحج واجب ہو گیا ہے؟
          جواب: وعدے سے حج واجب نہیں ہوتا۔

           

          سوال 81: کیا انسان کے لئے جائز ہے کہ اپنے ضروری اخراجات میں سختی برداشت کر ے تاکہ  حج کے لیے استطاعت حاصل کرے؟
          جواب: ایسا کرنا جائز ہے، لیکن شرعاً واجب نہیں۔ البتہ یہ سختی صرف اپنی ذات تک محدود ہےاور بال بچوں جن کا نان و نفقہ اس پر واجب ہے، ان پر معمول سے زیادہ سختی کرنا جائز نہیں ہے۔

           

          سوال 82: میں ماضی میں دینی مسائل کا پابند نہیں تھا اور میرے پاس اتنا مال تھا جو حج کے سفر کے لئے کافی تھا (یعنی مستطیع تھا)، مگر اس وقت کے حالات کی وجہ سے حج پر نہیں گیا۔ اب میرا وظیفہ کیا ہے؟ یاد رہے  کہ اس وقت  پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ حج پر جا سکوں، دوسری طرف اس کام کے لئے دو راستے ہیں: حج کے سرکاری ادارے میں رجسٹریشن اور دوسرا زیادہ اخراجات ادا  کر کے ذاتی طور پر جانا، پس کیا سرکاری رجسٹریشن کافی ہے؟
           جواب: اگر ماضی میں آپ تمام شرائط کے ساتھ  مستطیع تھے تو آپ کے ذمے حج واجب ہوچکا ہے اور آپ کو ہر ممکن اور شرعی طریقے سے حج ادا کرنا ہوگا بشرطیکہ سختی اور مشقت سے دوچار نہ ہو۔ لیکن اگر ماضی میں آپ مکمل مستطیع نہیں ہوئے تھے، تو مذکورہ فرض میں آپ پر حج واجب نہیں ہے۔

           

          سوال 83: کیا جان کا خطرہ استطاعت حاصل ہونے میں مانع ہے؟
          جواب: اگر جان کا خطرہ معقول نہ ہوتو  استطاعت  میں مانع نہیں ہے۔

           

          سوال 84: اگرورثاء کی اجازت سے میّت کے کوٹےسے حج پر جانا ممکن ہو توکیاواجب کے مقدمات مثلا رجسٹریشن کے عنوان سے اجازہ لینا واجب ہے؟ اگر اجازت کے بغیر اسی کوٹے سے حج پر چلا جائےتو اس فرض کے ساتھ کہ استطاعت کی دیگر شرائط موجود ہیں، کیا یہ حج صحیح ہے اور حجۃ الاسلام کے لئے کافی ہوگا؟
           جواب: اجازت لینا واجب نہیں ہے، مگرمیت کے کوٹے  سے استفادہ کرنے کے لیے ورثاء سےاجازت لینا ضروری ہے۔چنانچہ کسی نے بغیر اجازت اس سے استفادہ کیا تو میقات کے بعد بھی اس کی استطاعت اس کوٹے کی وجہ سے ہو تو اس کا حج حجہ الاسلام شمار نہیں ہوگا لیکن اگر میقات کے بعد کوٹے سے قطع نظر استطاعت کی شرائط موجود ہوں تو ا س کا حج حجہ الاسلام کے بدلے کافی ہوگا۔

           

  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /