دریافت:
استفتاآت کے جوابات
- تقلید
- احکام طهارت
- پانی کے احکام
پانی کے احکام
س 70: بغیر کسی پریشر کے نیچے کی طرف بہنے والے قلیل پانی کا نچلا حصہ ، اگر نجاست سے مل جائے تو کیا اس پانی کا اوپر والا حصہ ، پاک رہے گا ؟
ج: ایسے پانی کا اوپر والا حصہ پاک ہے بشرطیکہ اس پر اوپر سے نیچے کی جانب بہنا صادق آئے ۔
س 71: کیا نجس کپڑے کو جاری یا کر پانی سے دھونے کی صورت میں نچوڑنا واجب ہے یا نہیں بلکہ نجاست کے دور ہوجانے کے بعد جب اسکے تمام حصوں تک پانی پہنچ جائے تو وہ پاک ہوجائے گا؟
ج: احتیاط یہ ہے کہ اسے نچوڑا یا جھٹکا جائے ۔
س 72: نجس کپڑے کو کر یا جاری پانی سے پاک کرنے کیلئے کیا پانی سے باہر نکال کر نچوڑنا ضروری ہے یا پانی کے اندر ہی نچوڑ لینا کافی ہے ۔
ج: پانی کے اندر ہی نچوڑ لینا یا جھٹک لینا کافی ہے ۔
س 73: اگر نجس قالین یا بڑی دری کو اس ٹونٹی کے پانی سے دھویا جائے جو شہر کو پانی سپلائی کرنے والے بڑے منبع سے متصل ہے تو کیا صرف نجس جگہ تک پانی کے پہنچ جانے سے وہ پاک ہوجائیں گے یا ان سے دھوون (غسالہ)کا جدا کرنا بھی ضروری ہے ؟
ج: اس پانی کے ساتھ پاک کرنے کی صورت میں دھوون کا جدا کرنا شرط نہیں ہے بلکہ جب پانی نجس مقام تک پہنچ جائے تو نجاست کے دور ہو جانے اور پانی کے قالین کے ساتھ اتصال کے وقت قالین پر ہاتھ پھیر کر پانی (غسالہ) کو اپنی جگہ سے حرکت دینے کے بعد قالین پاک ہو جائے گا۔
س 74: جو پانی بذات خود گاڑھاہے اس سے وضو اور غسل کرنے کا حکم کیا ہے ؟ جیسے سمندر کا پانی جو نمکیات کی فراوانی کی وجہ سے گاڑھا ہوچکاہے یا ارومیہ کی جھیل کا پانی یا اس سے بھی زیادہ گاڑھاپانی؟
ج: پانی کا صرف نمکیات کی وجہ سے گاڑھاہونا، اسے خالص پانی کے دائرے سے خارج نہیں کرتا اور خالص پانی کے شرعی احکام کے مرتب ہونے کا معیار یہ ہے کہ اسے عرف عام میں خالص پانی کہا جائے۔
س 75: کیا پانی پر کر کا حکم اس وقت لگے گا جب اس کے کر ہونے کا علم ہو یا صرف کر پر بنارکھ لینا ہی کافی ہے؟ (جیسے ٹرین و غیرہ کی ٹینکیوں میں موجود پانی)۔
ج: اگر یہ ثابت ہوجائے کہ پہلے وہ کر تھا، تو اس کے کر ہونے پر بنا رکھنا جائز ہے ۔
س 76: امام خمینی کی توضیح المسائل (مسئلہ نمبر ١٤٧) میں آیاہے " نجاست و طہارت کے بارے میں ممیز بچے کی بات پر اس وقت تک اعتبار نہیں کیا جائیگا جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے" اس فتویٰ کی پابندی بڑی مشقت کا باعث ہے مثلاً اس کا لازمہ یہ ہے کہ جب تک بچہ ١٥ سال کا نہیں ہوجاتا والدین کے لئے ضروری ہے کہ اس کے رفع حاجت کے بعد خود اس کی طہارت کرائیں ایسے میں ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: جو بچہ سن بلوغت کے نزدیک ہو اگر اپنے بدن یا ایسی چیز کے نجس ہونے کی خبر دے جو اس کے اختیار میں ہو تو اس کی بات پر اعتبار کیا جائے گا، بصورت دیگر چنانچہ یقین یا اطمینان کا باعث نہ ہو تو کوئی اعتبار نہیں ہے۔
س 77: بعض اوقات پانی میں ایسا مواد ملاتے ہیں جس سے پانی کارنگ دودھ جیسا ہوجاتاہے کیا یہ پانی مضاف ہوجائے گا ؟ اور اس سے وضو اور طہارت کرنے کا حکم کیا ہے ؟
ج: اس پانی پر مضاف پانی کا حکم جاری نہیں ہوگا۔
س 78: پاک کرنے کے لحاظ سے کر اور جاری پانی میں کیا فرق ہے ؟
ج: دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
س 79: اگر نمکین پانی کو ابالا جائے تو کیا اس کی بھاپ سے حاصل ہونے والے پانی سے وضو کرنا صحیح ہے ؟
ج: اگر اس پر مطلق پانی کا نام صدق کرے تو اس پرآب مطلق کے احکام جاری ہوں گے ۔
س 80: پاؤں یاجوتے کا تلوا پاک کرنے کے لئے پندرہ قدم چلنا شرط ہے ، تو کیا عین نجاست کے زائل ہونے کے بعد اتنا چلنا ضروری ہے یا عین نجاست کے ہوتے ہوئے بھی پندرہ قدم چلنا کافی ہے ؟ اور اگر پندرہ قدم چلنے سے عین نجاست زائل ہوجائے تو کیا پاؤں یاجوتے کا تلوا پاک ہوجائے گا؟۔
ج: جس شخص کے پاؤں یاجوتے کا تلوا زمین پر چلنے کی وجہ سے نجس ہوا ہو اگر وہ پاک اور خشک زمین پر تقریبا دس قدم چلے اور زمین پر چلنے یا رگڑنے سے عین نجس یا متنجس چیز دور ہوجائے تو پاوں یا جوتے کا تلوا پاک ہوجائے گا۔
س 81: کیا تارکول یا اسفالٹ سے بنی ہوئی سڑک پرچلنے سے پاؤں یا جوتے کا تلوا پاک ہوجاتاہے۔
ج: وہ زمین جو تارکول سے آمیختہ ہو یا اس پرکنکریٹ بچھا یا گیا ہو پاؤں یا جوتے کے تلوے کو پاک نہیں کرتی۔
س 82: کیا سورج مطہرات میں سے ہے ؟ اور اگر یہ مطہرات میں سے ہے تو اس کے پاک کرنے کے شرائط کیا ہیں ؟
ج: سورج زمین کو اور ہر غیر منقول چیز کو پاک کرتاہے جیسے درخت، سبزہ، مکان اور اس میں استعمال شدہ چیزیں جیسے لکڑی ، دروازے اور کھڑکیاں وغیرہ یہ چیزیں سورج کی شعاعیں پڑنے سے پاک ہوجاتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے ان کی عین نجاست زائل ہوچکی ہو اور سورج کی شعاعوں کے پڑنے کے وقت یہ گیلی ہوں اور بادل یا پردہ جیسی کوئی چیز براہ راست دھوپ پڑنے میں مانع نہ بنی ہو بلکہ فقط سورج کے ذریعے خشک ہوں ۔
س 83: ان نجس کپڑوں کو کس طرح پاک کیا جائے گا جن کا رنگ پاک کرنے کے دوران پانی کو رنگین کردے؟
ج: اگر کپڑوں کا رنگ اترنے سے پانی مضاف نہ ہوجائے تو ان پر پانی ڈالنے سے وہ پاک ہوجائیںگے۔
س 84: ایک شخص غسل جنابت کرنے کے لئے ٹب یا اس جیسے کسی اور برتن میں پانی جمع کرتا ہے اور غسل کے دوران پانی کے قطرے اس برتن میں بھی گرتے ہیں تو کیا اس برتن میں موجود پانی نجس ہو جائے گا ؟ اور کیا اس پانی سے غسل مکمل نہیں کیا جاسکتا؟
ج: اگر پانی بدن کے پاک حصے سے ٹب و غیرہ میں گرا ہو تو پاک ہے اور اس پانی سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 85: کیا نجس پانی کے ذریعہ گندھی ہوئی مٹی سے بنے ہوئے تنور کا پاک کرنا ممکن ہے ؟
ج: تنور کا ظاہری حصہ دھوکر پاک کیا جاسکتاہے اور روٹیاں پکانے کے لئے تنور کے اسی ظاہری حصے کا پاک ہونا کافی ہے کہ جس پر روٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
س 86: اگر نجس گھی میں ایسا کیمیاوی عمل انجام دیا جائے کہ اب یہ مادہ نئے خواص کا حامل بن جائے تو کیا پھر بھی یہ نجس رہے گا یا یہ کہ اس پر استحالہ کا حکم جاری ہوگا؟
ج: (ایسی) نجس چیزوں کو پاک کرنے کیلئے ان میں صرف ایسا کیمیاوی عمل انجام دینا کافی نہیں ہے جو ان میں نئی خاصیات پیدا کردے۔
س 87: ہمارے دیہات میں ایسا حمام ہے جس کی چھت مسطح اور ہموار ہے حمام کا پانی بخارات بن کر چھت کے نچلے حصے پر جمع ہوتاہے اور پھر وہاں سے پانی کے قطرے نہانے والوں کے سروں پر گرتے ہیں کیا یہ قطرے پاک ہیں ؟ اور کیا ان قطروں کے گرنے کے بعد بھی غسل صحیح ہے ؟
ج: حمام کے پانی سے بننے والی بھاپ پاک ہے ، اسی طرح پاک چھت سے گرنے والے قطرے بھی پاک ہیں اور ان قطروں کے بدن پر گرنے سے غسل کے صحیح ہونے پر اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی غسل کرنے والے کا بدن نجس ہوتاہے۔
س 88: علمی تحقیقات کے نتائج بتاتے ہیں کہ گٹنروں اور نالیوں کے گندے پانی کا وزن معدنی مواد اور جراثیم کی ملاوٹ کی وجہ سے پانی کے طبعی وزن سے دس فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ پانی صاف کرنے والی مشینیں اور فلٹر، اس سے ان مواد اور جراثیم کو فزیکل ، کیمیکل اور بیالوجیکل عمل کے ذریعہ جدا کردیتے ہے چنانچہ مکمل طور پر صاف ہو جانے کے بعد یہ پانی فیزیکلی(رنگ، بو اور مزہ) کیمیکلی (مخلوط معدنی مواد) اور طبی اعتبار سے (مضر جراثیم سے) بہت سی نہروں اور جھیلوں کے پانی سے کئی گنا زیادہ حفظان صحت کیلئے مناسب اور بہتر ہوجاتاہے، خاص طور پر اس پانی سے، جو آبیاری کے لئے استعمال ہوتاہے اور چونکہ یہ پانی صاف ہونے سے پہلے نجس تھا تو کیا مذکورہ بالا عمل کے ذریعے پاک ہوجائے گا اور اس پر استحالہ کا حکم لاگو ہوگا یا صاف ہونے کے بعد بھی نجس ہی رہے گا ؟
ج: صرف معدنی مواد اور جراثیم و غیرہ کو جدا کردینے سے استحالہ حاصل نہیں ہوتا ، مگر یہ کہ تصفیہ والے عمل کے ذریعے پانی کو بخارات میں بدلا جائے اور پھر بخارات کو پانی کی صورت میں بدلا جائے ۔
- بیت الخلاء کے احکام
بیت الخلاء کے احکام
س 89: خانہ بدوشوں کے پاس خاص کر نقل مکانی کے دوران اتنا پانی نہیں ہوتا جس سے وہ پیشاب کے مقام کو پاک کرسکیں تو کیا لکڑی اور پتھر طہارت کے لئے کافی ہیں؟ کیا وہ اسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
ج: پیشاب کا مقام پانی کے بغیرپاک نہیں ہوتا، لیکن جو شخص اپنے بدن کو پانی سے پاک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسکی نماز صحیح ہے ۔
س 90: پیشاب اور پاخانہ کے مقام کو آب قلیل سے پاک کرنے کا حکم کیا ہے؟
ج: پیشاب کے مقام کو قلیل پانی سے پاک کرنے کےلئے پیشاب کو دھونے کے بعد احتیاط لازم کی بناپردو مرتبہ دھونا ہے اور پاخانہ کے مقام کو اتنا دھوئے جس سے عین نجاست اور اس کے آثار زائل ہوجائیں ۔
س 91: پیشاب کرنے کے بعد حسب عادت نمازی کو استبراء کرنا چاہیئے ، جبکہ میری شرم گاہ میں ایک زخم ہے جس سے استبراء کے دوران دباؤ کے نتیجے میں خون نکل آتاہے جو طہارت کے لئے استعمال کئے جانے والے پانی میں مل کر میرے بدن اور لباس کو نجس کردیتاہے اور اگر میں استبراء نہ کروں تو زخم جلدی ٹھیک ہوجانے کا امکان ہے جبکہ استبراء کرنے کی صورت میں دباؤ پڑنے کی وجہ سے زخم باقی رہے گا اوراسکے ٹھیک ہونے میں تین ماہ لگ جائیں گے ۔ آپ فرمائیے کہ میں استبراء کروں یا نہیں؟
ج: استبراء واجب نہیں ہے اور اگر وہ قابل توجہ ضرر کا موجب بنے تو جائز بھی نہیں ہے۔ البتہ اگر پیشاب کے بعد استبراء نہ کرے اور مشتبہ رطوبت نکلے تو وہ پیشاب کے حکم میں ہے۔
س 92: پیشاب اور استبراء کے بعد کبھی پیشاب کے مقام سے بلا اختیار ایسی رطوبت نکلتی ہے جو پیشاب سے مشابہ ہوتی ہے، کیا یہ رطوبت نجس ہے یا پاک ؟ اور اگر انسان کچھ مدت کے بعد اسکی طرف اتفاقاًمتوجہ ہو تو اس سے پہلے پڑھی گئی نمازوں کا حکم کیا ہے ؟ کیا اس پر واجب ہے کہ آئندہ اس بے اختیار نکلنے والی رطوبت کے بارے میں تحقیق کرے ؟
ج: استبراء کے بعد نکلنے والی رطوبت کے بارے میں اگر شک ہو کہ وہ پیشاب ہے یا نہیں تو وہ پیشاب کے حکم میں نہیں ہے اور پاک ہے ، اور اس سلسلے میں تحقیق و جستجو واجب نہیں ہے ۔
س 93: براہ مہربانی اگر ہوسکے تو انسان سے نکلنے والی رطوبت کی اقسام کی وضاحت فرمائیے ؟
ج: منی نکلنے کے بعد بعض اوقات جو رطوبت خارج ہوتی ہے اس کا نام "وذی" ہے اور جو پیشاب کے بعد بعض اوقات خارج ہوتی ہے وہ "ودی" کہلاتی ہے ۔ اور میاں بیوی کی باہمی خوش فعلی کے بعد نکلنے والی رطوبت کا نام "مذی" ہے ۔ اور یہ سب پاک ہیں اور ان سے طہارت ختم نہیں ہوتی۔
س 94: لیٹرین کی سیٹ اس سے مخالف سمت میں لگائی گئی ہے جس طرف قبلہ ہونے کا یقین ہے اور کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ سیٹ کا انحراف قبلہ سے صرف ٢٠ سے ٢٢ درجے ہے براہ مہربانی بتائیں کہ سیٹ کی سمت بدلنا واجب ہے یا نہیں ؟
ج: اگر انحراف اس حد تک ہو کہ اس پر سمت قبلہ سے انحراف صادق آئے تو یہ کافی ہے اور کوئی حرج نہیں ہے ۔
س95: میری پیشاب کی نالیوں میں مرض کی وجہ سے پیشاب اور استبراء کے بعد بھی پیشاب نہیں رکتا اور رطوبت دکھائی دیتی ہے۔ علاج کی غرض سے میں نے ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا اور جو کچھ اس نے کہا اس پر عمل بھی کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ، اب میرا شرعی فریضہ کیا ہے ؟
ج: استبراء کے بعد پیشاب نکلنے کے بارے میں شک کی پروا نہیں کرنی چاہیے اور اگر آپ کو یقین ہو کہ قطرات کی شکل میں پیشاب ٹپکتاہے تو امام خمینی کے رسالۂ عملیہ میں مذکور مسلوس( جس کا برابر پیشاب ٹپکتاہو) کے فریضہ پر عمل کریں، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور چیز واجب نہیں ہے ۔
س 96: پائخانہ کے مقام کو پاک کرنے سے پہلے استبراء کا طریقہ کیا ہے ؟
ج: پاخانہ کے مقام کو پاک کرنے سے پہلے اور پاک کرنے کے بعد استبراء کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
س 97: بعض کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے کیلئے طبی معائنہ ضروری ہوتاہے اور اس سلسلہ میں کبھی شرمگاہ کو بھی دکھانا پڑتاہے تو کیا ضرورت کے پیش نظر ، ایسا کرنا جائز ہے ؟
ج: شرمگاہ کو ظاہر کرنا اور شرمگاه کو دیکهنا جائز نہیں ہے،اگر چہ ملازمت کے حصول کے لئے ہی ہو ۔ البته ان موارد میں که جهاں پر اگر ڈاکٹر یه احتمال دے که مراجعه کرنے والا ایک خاص بیماری میں مبتلا هے که اس بیماری کے هوتے هوے ملازمت دینا ممنوع هے اور جب تک مستقیم طور پر شرمگاه کو نه دیکهے اس بیماری میں مبتلا نه هونے کا علم حاصل نهیں هوتا هو تو اس صورت میں دیکهنا جایز ہے.
س 98: پیشاب کے بعد مقام پیشاب کتنی مرتبہ دھونے سے پاک ہوتاہے؟
ج: بنابر احتیاط واجب ، مقام پیشاب آب قلیل کے ساتھ دو مرتبہ دھونے سے پاک ہو تاہے۔
س 99: مقام پاخانہ کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
ج: مقام پاخانہ کو دوطریقوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔
١) یہ کہ پانی سے اتنا دھوئے کہ نجاست زائل ہوجائے اسکے بعد پانی ڈالنا ضروری نہیں ہے۔
٢)یہ کہ تین پاک پتھروں یا کپڑے و غیرہ کے ٹکڑوں سے نجاست کو پاک کرے اور اگر تین سے نجاست برطرف نہ ہو تو دیگر پتھروں یا کپڑے و غیرہ کے ٹکڑوں سے اسے مکمل طور پر صاف کرے ۔ تین پتھروں یا کپڑے کے تین ٹکڑوں کی بجائے ، ایک پتھر یا ایک کپڑے و غیرہ کی تین جگہوں سے بھی استفادہ کرسکتاہے۔ - وضو کے احکام
وضو کے احکام
س 100: میں نے نماز مغرب کی نیت سے وضو کیا تو کیا میں اسی وضو سے قرآن کریم (کے حروف) کو چھوسکتاہوں اورنماز عشاء پڑھ سکتاہوں؟
ج: صحیح وضو کرلینے کے بعد جب تک وہ باطل نہیں ہوجاتا اس سے ہر وہ عمل انجام دے سکتاہے جس میں طہارت شرط ہے ۔
س 101: جس شخص نے اپنے سر کے اگلے حصے پر مصنوعی بال لگا رکھے ہیں اور انکا نہ لگانا اس کیلئے مشکل کا باعث ہے تو کیا اس کے لئے مصنوعی بالوں پر مسح جائز ہے ؟
ج: اگر مصنوعی بالوں کو اس نے ٹوپی (ویگ) کی طرح سر پر پہن رکھاہے تو مسح کیلئے ان کا اتارنا ضروری ہے لیکن اگر اس کے سر پر یوں اُگائے گئے ہوں کہ ان کو اتارنا ممکن نہ ہو یا ناقابل تحمل ضرر یا مشقت کا باعث ہو اور بالوں کی موجودگی میں پانی کی تری سر کی جلد تک نہیں پہنچ سکتی ہو تو انہی بالوں پر مسح کرنا کافی ہے اور احتیاط یہ ہے کہ تیمم بھی کیا جائے۔
س 102: کسی نے مجھے کہا ہے کہ وضو کے دوران چہرے پر صرف دو چلو پانی ڈالا جائے اور تیسرا چلو پانی ڈالنے سے وضو باطل ہوجاتاہے ، کیا یہ صحیح ہے؟
ج: وضو میں اعضاء کا پہلی مرتبہ دھونا واجب، دوسری مرتبہ جائز اور تیسری مرتبہ جائز نہیں ہے لیکن ہر مرتبہ کی تعیین کا معیار خود انسان کا ارادہ اور قصد ہے پس اگر پہلی مرتبہ کے قصد سے چند دفعہ پانی ڈالے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 103: کیا ارتماسی وضو میں چہرے اور ہاتھوں کو صرف دو مرتبہ پانی میں ڈبونا جائز ہے یا اس سے زیادہ بھی ڈبویا جاسکتاہے؟
ج: صرف دو مرتبہ ڈبویا جاسکتاہے پہلی مرتبہ ڈبونا واجب ہے اور دوسری مرتبہ جائز ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ ارتماسی وضو میں وضو کیلئے ہاتھوں کے دھونے کی نیت اس وقت کرے جب انہیں پانی سے نکال رہا ہو تا کہ مسح آبِ وضو کے ساتھ انجام دے سکے۔
س 104: جو چکنائی طبیعی طور پربالوں یا جلد کے اوپر نکل آتی ہے کیا وہ وضو سے مانع ہے ؟
ج: مانع نہیں ہے مگر جب اس قدر زیادہ ہوکہ بالوں یا جلد تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہو۔
س 105: کچھ عرصہ تک میں نے پاؤں کا مسح، انگلیوں کے سرے سے نہیں کیا ، بلکہ انگلیوں کے کچھ حصے اور پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتارہاہوں، کیا ایسا مسح صحیح ہے ؟ اور اگر صحیح نہیں ہے تو جو نمازیں پڑھ چکاہوں ، کیا ان کی قضا واجب ہے یا نہیں ؟
ج: اگر مسح پاؤں کی انگلیوں کے سرے سے نہ ہو اہو تو وضو باطل ہے اور نمازوں کی قضا واجب ہے لیکن اگر شک ہو کہ پاؤں کا مسح ، انگلیوں کے سرے سے کیا کرتا تھا یا نہیں تو اگر مسئلہ جانتا تھا اور اسے احتمال ہو کہ شاید انگلیوں کے سرے سے مسح کرتا رہا ہو تو وضو اور پڑھی گئی نمازیں صحیح ہیں ۔
س 106: پاؤں کے اوپر اس ابھری ہوئی جگہ سے کیا مراد ہے کہ جہاں تک پاؤں کا مسح کرنا ضروری ہے؟
ج: پاؤں کا مسح جوڑ تک کرنا ضروری ہے ۔
س 107: اسلامی ممالک میں حکومت کی طرف سے بنائی گئی مساجد، مراکز اور سرکاری دفاتر میں وضو کرنے کا کیا حکم ہے ؟
ج: جائز ہے اور اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے ۔
س 108: کہیں پر کویی چشمہ ہے اگر پائپ کے ذریعے اس کا پانی کئی کلومیٹر دور لے جانا چاہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پائپ کو ملکیتی زمینوں سے گزارنا پڑے گا،پس اگروہ افراد راضی نہ ہوں تو کیا اس چشمے کے پانی کو وضو ، غسل اور دیگر چیزوں کی طہارت کیلئے استعمال کرنا جائز ہے ؟
ج: اگر چشمہ غیر کی ملکیت سے باہراور قریب ہی خود بخود پھوٹے اور قبل اس کے کہ زمین پر جاری ہو اس کا پانی پائپ کے ذریعے مطلوبہ جگہ کی طرف موڑدیا جائے تو اگر اس پانی کا استعمال عرف عام میں غیر کی ملکیت میں تصرف شمار نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
س 109: واٹر سپلائی کے محکمے نے واٹر پمپ ( ایسا پمپ جو سرکاری پانی کو پریشر کے ساتھ کھینچ لیتاہے) لگانا ممنوع قرار دے رکھاہے لیکن بعض علاقوں میں پانی کا پریشر کم ہے اور انکے رہائشی مجبور ہیں کہ بالائی منزلوں میں پانی لانے کیلئے واٹر پمپ لگائیں اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل دو سوالوں کے جواب دیجئے گا۔
١) کیا زیادہ پانی سے استفادہ کرنے کیلئے ایسا واٹر پمپ لگانا شرعاً جائز ہے ؟
٢) جائز نہ ہونے کی صورت میں جو پانی واٹر پمپ کے ذریعے کھینچا جاتاہے اسکے ساتھ وضو اور غسل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ج: مفروضہ صورت میں واٹر پمپ لگانا اور اس سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور اس پانی کے ساتھ وضو اور غسل کرنے میں بھی اشکال ہے جو اس پمپ کے ذریعے کھینچا جاتاہے۔
س 110: آپ نے کسی استفتاء کے جواب میں فرمایاہے اگر نماز کے اول وقت کے قریب وضو کیا جائے تو اس سے نماز پڑھنا صحیح ہے تو "نماز کے اول وقت کے قریب" سے کتنی مقدار مراد ہے ؟
ج: اس کا معیار یہ ہے کہ عرف میں وقت نماز کا نزدیک ہونا صدق کرے، اگر اس وقت میں نماز کے لئے وضو کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
س 111: کیا وضو کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ پیروںکا مسح انگلیوں کے نچلے حصے یعنی اس جگہ سے کرے جو چلتے وقت زمین سے مس ہوتی ہے ؟
ج: مسح کرنے کی جگہ، انگلیوں کے سرے سے لیکر ٹخنوں تک پاؤں کا اوپر والا حصہ ہے اور انگلیوں کے نچلے حصے کے مسح کا مستحب ہونا ثابت نہیں ہے ۔
س ١١۲: وضو کرنے والا اگر وضو کے قصد سے ہاتھوں اور چہرے کو دھوتے وقت،نل کو کھولے اور بند کرے تو نل کے چھونے کا حکم کیا ہے ؟
ج: کوئی حرج نہیں ہے اور اس سے وضو کے صحیح ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن بایاں ہاتھ کے دھونے سے فارغ ہونے کے بعد اور اسی ہاتھ کے ساتھ مسح کرنے سے پہلے اگر پانی سے گیلے نل کو چھوئے اور ہاتھ کا وضو والا پانی اس دوسرے پانی کے ساتھ مخلوط ہوجائے تو ایسی مخلوط تری کے ساتھ مسح کرنا صحیح نہیں ہے۔
س 113: کیا مسح کیلئے وضو والے پانی کے علاوہ کسی اور پانی سے استفادہ کیا جاسکتاہے؟ نیز کیا سرکا مسح دائیں ہاتھ کے ساتھ اور اوپر سے نیچے کی طرف کرنا ضروری ہے ؟
ج: سر اور پاؤں کا مسح صرف وضو والے پانی کی اس رطوبت کے ساتھ کیا جاسکتاہے جو ہاتھوں پر لگی ہوئی ہے اور اگر ہاتھوں پر رطوبت باقی نہ ہو تو داڑھی یا ابرو سے رطوبت لیکر اس سے مسح کرے ۔ اور احتیاط یہ ہے کہ سرکا مسح داہنے ہاتھ کے ساتھ کیا جائے لیکن مسح میں ضروری نہیں ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف کیا جائے۔
س 114: بعض عورتیں کہتی ہیں ناخن پالش ، وضو سے رکاوٹ نہیں بنتی ۔ نیز باریک جوراب پر مسح کرنا بھی جائز ہے کیا یہ صحیح ہے ؟
ج: اگر اس پالش کی اپنی تہ ہو تو وہ پانی کے ناخن تک پہنچنے سے رکاوٹ ہے اور وضو باطل ہے اور جوراب پر مسح صحیح نہیں ہے چاہے وہ کتنا ہی باریک ہو۔
س 115: کیا وہ جنگی زخمی جو ریڑھ کی ہڈی کا حرام مغز ٹوٹ جانے کی وجہ سے پیشاب روکنے کی قدرت نہیں رکھتے ایسا کرسکتے ہیں کہ نماز جمعہ میں شرکت کریں اور خطبہ سننے کے بعد مسلوس( جسے مسلسل پیشاب ٹپکنے کی بیماری ہو) کے فریضے پر عمل کرتے ہوئے نماز جمعہ و عصر پڑھیں؟
ج: نماز جمعہ میں شرکت کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن چونکہ ان زخمیوں پر واجب ہے کہ وضو کرلینے کے بعد فوراً نماز پڑھیں اسلئے خطبہ جمعہ سے پہلے والا وضو نماز جمعہ کیلئے اس وقت کا فی ہے جب وضو کے بعد کوئی حدث سرزد نہ ہو۔
س116: جو شخص وضو پر قادر نہیں ہے وہ کسی دوسرے کو وضو کیلئے نائب بناتا ہے اور خود وضو کی نیت کرکے اپنے ہاتھ کے ساتھ مسح کرتا ہے اور اگر مسح پر قادر نہ ہو تو نائب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مسح کراتا ہے اور اگر اس کام سے بھی عاجز ہو تو نائب اسکے ہاتھ کی تری لے کر اس سے اس کا مسح کرتا ہے اب اگر اس شخص کے ہاتھ بھی نہ ہوں تو اس کا حکم کیا ہے ؟
ج: اگر اسکی ہتھیلیاں نہ ہوں تو تری اسکی کہنیوں تک کے باقی حصے سے لی جائے گی اور اگر یہ بھی نہ ہو تو اس کی داڑھی یا ابرو سے تری لے کر اسکے سر اور پاؤں کا مسح کیا جائیگا۔
س 117: جمعہ گاہ سے قریب وضو کرنے کی جگہ ہے جو جامع مسجد سے متعلق ہے لیکن اس کے پانی کا بل مسجد کے بجٹ سے ادا نہیں کیا جاتا کیا نماز جمعہ میں شرکت کرنے والوں کیلئے اس پانی سے استفادہ کرنا جائز ہے ؟
ج: چونکہ اس کا پانی سب نماز گزاروں کے وضو کیلئے قرار دیا گیا لہذا اس سے استفادہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
س 118: جو وضو نمازظہر و عصر سے پہلے کیا گیا ہے کیا نماز مغرب و عشاء کیلئے کافی ہے جبکہ اس مدت میں کوئی مبطل وضو بھی سرزد نہ ہوا ہو یا نہیں؟ بلکہ ہر نماز کیلئے خاص نیت اور وضو کی ضرورت ہے ۔
ج: ہر نماز کیلئے الگ وضو ضروری نہیں ہے بلکہ ایک وضو کے ساتھ جب تک وہ باطل نہ ہو جتنی چاہیں نمازیں پڑھ سکتے ہیں ۔
س 119: کیا واجب نماز کی نیت سے اس کا وقت داخل ہونے سے پہلے وضو کرنا جائز ہے ؟
ج: اگر واجب نماز کا وقت قریب ہو تو اسکی نیت سے وضو کرنے میں اشکال نہیں ہے ۔
س 120: میرے دونوں پاؤں مفلوج ہوچکے ہیں اور میں طبی جوتوں اور بیسا کھیوں کے ساتھ چلتاہوں ۔ وضو کرتے وقت کسی بھی صورت میں میرے لئے جوتوں کا اتارنا ممکن نہیں ہے لذا بتائیے پاؤں کے مسح کے سلسلے میں میری شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: اگر پیروں پر مسح کرنے کیلئے جوتوں کا اتارنا آپ کیلئے سخت دشوار ہے تو جوتے پر ہی مسح کرلینا کافی ہے۔
س 121: اگر کسی جگہ پر چند فرسخ تک پانی تلاش کرنے سے گندا اور آلودہ پانی مل جائے تو کیا اس حالت میں ہمارے اوپر تیمم واجب ہے یا اسی پانی کے ساتھ وضو کریں؟
ج: اگر وہ پانی پاک اور مطلق ہو اور اس کا استعمال مضر نہ ہو اور وہاں پر نقصان کا خطرہ بھی نہ ہو تو وضو واجب ہے اور تیمم کی نوبت نہیں آئے گی ۔
س122: کیا وضو بذات خود مستحب ہے ؟ اور اگر نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے قصد قربت کے ساتھ وضو کرلیا جائے تو کیا اس کے ساتھ نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟
ج: شرعی نقطہ نظر سے طہارت و پاکیزگی کیلئے وضو کرنا مستحب ہے اور مستحبی وضو کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے ۔
س 123: جو شخص ہمیشہ اپنے وضو میں شک کرتاہے وہ کیسے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھ سکتاہے ، قرآن کریم کی تلاوت کرسکتاہے اور ائمہ معصومین کے مرقد کی زیارت کرسکتاہے ؟
ج: وضو کرلینے کے بعد طہارت کی بقا میں شک قابل اعتنا نہیں ہے اور جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہوجائے اسکے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے اور تلاوت و زیارت کرسکتاہے ۔
س 124: کیا وضو کی صحت کیلئے شرط ہے کہ پانی ہاتھ کے تمام حصوں پر جاری ہوجائے یا اس پر تر ہاتھ پھر لینا ہی کافی ہے؟
ج: کسی عضو کا دھو نا تب صدق کرتا ہے جب اسکے تمام حصوں تک پانی پہنچ جائے اگر چہ پانی ہاتھ کے پھیرنے سے ہی پہنچے لیکن صرف تر ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے ۔
س 125: کیا سر کے مسح میں بالوں کا تر ہوجانا کافی ہے یا تری کا سر کی جلد تک پہچانا ضروری ہے ؟
ج: سر کا مسح جلد پر یاسر کے اگلے حصے کے بالوں پر کیا جا سکتا ہے لیکن اگرسرکے دوسرے حصوں کے بال اگلے حصے پرآگئے ہوں یا سرکے اگلے حصے کے بال اتنے لمبے ہوں کہ چہرے یا کندھوں پر آجائیں تو ان پر مسح کرنا کافی نہیں ہے اور ضروری ہے کہ مانگ نکال کر جلد یا بالوں کی جڑوں پر مسح کرے ۔
س 126: جس شخص نے سر پر مصنوعی بال لگا رکھے ہیں وہ سر کا مسح کیسے کرے ؟ نیز غسل کے بارے میں اسکی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: اگر بال اس طریقے سے اگائے گئے ہیں کہ ان کا اتارنا ممکن نہیں ہے یا ان کے اتارنے میں ناقابل تحمل ضرر اور تکلیف ہے اور بالوں کے ہوتے ہوئے سر کی جلد پر تری کا پہنچانا ممکن نہیں ہے تو انہی بالوں پر مسح کرلینا کافی ہے اور غسل کا بھی یہی حکم ہے۔
س 127: وضو یا غسل میں اعضا ء کے دھونے کے درمیان فاصلہ کرنا کیا حکم رکھتاہے ؟
ج: غسل میں اعضا کے درمیان فاصلہ کرنا ( عدم موالات) اشکال نہیں رکھتا لیکن وضو میں اگر اتنا فاصلہ کرے کہ پہلے والے اعضاء خشک ہوجائیں تو وضو باطل ہے ۔
س 128: جس شخص کی مسلسل تھوڑی تھوڑی ہوا خارج ہوتی رہتی ہے اسکے وضو اور نماز کا کیا حکم ہے ؟
ج: اگر نماز کے آخر تک اپنے وضو کو برقرار نہ رکھ سکتاہو اور نماز کے دوران میں نیا وضو کرنے میں بھی بہت دشواری ہو تو ہر وضو کے ساتھ ایک نماز پڑھ سکتاہے یعنی ہر نماز کیلئے ایک وضو پر اکتفا کرے اگرچہ وہ نماز کے دوران باطل بھی ہوجائے۔
س 129: فلیٹوں میں رہنے والے بعض لوگ ٹھنڈے اور گرم پانی ، ایئر کنڈیشننگ اور نگہبانی جیسی سہولیات سے استفادہ کرتے ہیں لیکن انکا معاوضہ ادا نہیں کرتے اور انکا بوجھ پڑوسیوں کی رضامندی کے بغیر انکی گردن پر ڈال دیتے ہیں کیا ان کی نماز، روزہ اور دیگر عبادات باطل ہیں ؟
ج: ان میں سے ہر شخص ان مشترکہ سہولیات سے جتنا استفادہ کرتاہے اسکی نسبت انکے معاوضے کا مقروض ہے۔ اور اگر پانی کا پیسه ادا نه کرنے کا قصد هو تو وضو اور غسل باطل هے.
س 130: ایک شخص غسل جنابت کے تین چار گھنٹے بعد نماز پڑھنا چاہتاہے لیکن نہیں جانتا کہ اس کا غسل باطل ہوا ہے یا نہیں تو کیا اسکے احتیاطاً وضو کرنے میں اشکال ہے یانہیں ؟
ج: مفروضہ صورت میں وضوواجب نہیں ہے لیکن احتیاط کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 131: کیا نابالغ بچہ حدث اصغر کے سرزد ہونے سے محدث ہوجاتاہے ؟ کیا قرآن کریم کو اسکی دسترس میں قرار دیا جاسکتاہے تا کہ وہ اسے چھوسکے؟
ج: جی ہاں وضو کو باطل کرنے والی کسی چیز کے عارض ہونے سے نابالغ بچہ بھی محدث ہوجاتاہے لیکن اس کیلئے قرآن کے حروف کو چھونا حرام نہیں ہے اور دوسروں پر بھی اسے قرآن کے حروف کو چھونے سے روکنا واجب نہیں ہے ۔
س 132: اگر اعضاء وضو میں سے کوئی عضو دھوئے جانے کے بعد اور وضو کے مکمل ہونے سے پہلے نجس ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
ج: اس سے وضو کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن نماز کیلئے اسے پاک کرنا واجب ہے ۔
س 133: اگر مسح کے وقت پاؤں کے اوپر پانی کے چند قطرے ہوں تو کیا وضو میں کوئی حرج ہے ؟
ج: مسح کی جگہ کا ان قطروں سے خشک کرنا واجب ہے تا کہ مسح کے وقت ہاتھ کی تری پاؤں پر اثر کرے نہ برعکس ۔
س 134: جس کا دایاں ہاتھ کہنی کے اوپر سے کٹا ہوا ہے کیا اس سے دائیں پاؤں کا مسح ساقط ہوجائیگا؟
ج: دائیں پاؤں کا مسح ساقط نہیں ہوگا بلکہ بائیں ہاتھ سے اس کا مسح کرنا ضروری ہے۔
س 135: جس شخص کے اعضاء وضو میں سے کوئی عضو ٹوٹا ہوا ہو یا اس پر زخم ہو تو اسکی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: جو عضو ٹوٹا ہوا ہے یا اس پر زخم ہے اگر وہ اوپر سے کھلا ہوا ہو اور اس کیلئے پانی نقصان دہ نہ ہو تو اسے دھونا ضروری ہے اور اگر اسے دھونا نقصان دہ ہو تو اسکی اطراف کو دھوئے اور احتیاط یہ ہے کہ اگر اس پر تر ہاتھ پھیرنے میں نقصان نہ ہو تو اس پر تر ہاتھ پھیرے۔
س 136: جس شخص کی مسح والی جگہ زخمی ہے اسکی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: اگر اس پر تر ہاتھ نہیں پھیرسکتا تو ضروری ہے کہ تیمم کرے لیکن اگر اس زخم پر کپڑا ڈال کر کپڑے کے اوپر تر ہاتھ پھیر سکتا ہے تو احتیاط یہ ہے کہ تیمم کے ساتھ ساتھ ایسے مسح کے ساتھ وضو بھی کرے۔
س 137: جس شخص کو اپنے وضو کے باطل ہونے کا علم نہیں ہے اور وضو مکمل ہونے کے بعد اسے اس کا علم ہو تو اسکی ذمہ داری کیا ہے؟
ج: جن کا موں میں طہارت شرط ہے ان کیلئے وضو کا اعادہ کرنا ضروری ہے اور اگر باطل وضو کے ساتھ نماز پڑھ چکا ہو تو نماز کا اعادہ کرنا بھی واجب ہے ۔
س 138: جس کے اعضا ئے وضو میں سے کسی عضو میں ایسا زخم ہے کہ پٹی ( جبیرہ) باندھنے کے باوجود اس سے ہمیشہ خون بہتارہتاہے وہ وضو کس طرح کرے ؟
ج: اس پر واجب ہے کہ زخم پر نائلون و غیرہ کی ایسی پٹی( جبیرہ) باندھے جس سے خون باہر نہ نکلنے پائے۔
س 139: کیا وضو کے بعد رطوبت کا خشک کرنا مکروہ ہے ؟ اور اسکے مقابلے میں کیا خشک نہ کرنا مستحب ہے ؟
ج: اگر اس کام کیلئے مخصوص رومال یا تو لیہ قرار دے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
س 140: مصنوعی رنگ جسے عورتیں سر اور ابرو کے بالوں کو رنگنے کیلئے استعمال کرتی ہیں کیا وضو اور غسل سے مانع ہے ؟
ج: اگر صرف رنگ ہو اور اس کی اپنی کوئی تہ نہ ہو کہ جو پانی کے بالوں تک پہنچنے سے رکاوٹ ہو تو وضو اور غسل صحیح ہے ۔
س 141: کیا روشنائی ایسا مانع ہے جو اگر ہاتھ پر لگی ہو تو وضو باطل ہے؟
ج: اگر روشنائی کی اپنی تہ ہو کہ جسکی وجہ سے یہ پانی کے جلد تک پہنچنے سے مانع ہو تو وضو باطل ہے اورا س چیز کی تشخیص خود وضو کرنے والے کے ذمے ہے۔
س 142: اگر سرکے مسح کی رطوبت اور چہرے کی رطوبت مل جائے تو کیا وضو باطل ہے ؟
ج: چونکہ ضروری ہے کہ پاؤں کا مسح وضو کی اس رطوبت سے کیا جائے جو ہتھیلیوں پر لگی ہوئی ہے لہذا ضروری ہے کہ سر کا مسح کرتے وقت ہاتھ پیشانی کے اوپر والے حصے تک نہ پہنچے اور چہرے کی رطوبت کو نہ لگے تا کہ ہاتھ کی وہ رطوبت کہ جسکی پاؤں کا مسح کرتے وقت ضرورت ہے چہرے کی رطوبت کے ساتھ مخلوط نہ ہوجائے۔
س 143: جو شخص عام لوگوں کی نسبت وضو پر زیادہ وقت صرف کرتاہے وہ کیا کرے کہ اسے اعضاء وضو کے دھوئے جانے کا یقین ہوجائے؟
ج: اسکے لئے ضروری ہے کہ وسوسہ سے اجتناب کرے اور شیطان کو ناامید کرنے کیلئے وسواس کی پروانہ کرے اور کوشش کرے کہ عام لوگوں کی طرح صرف واجبِ شرعی کے بجالانے پر اکتفا کرے۔
س 144: میرے بدن کے بعض حصوں پر گودنے کے ذریعے نقش (خالکوبی)کیا گیا ہے کہتے ہیں میرا غسل اور وضو باطل ہے اور میری نمازیں قبول نہیں ہیں امید ہے میری راہنمائی فرمائیںگے۔
ج: اگر یہ صرف رنگ ہو یا جلد کے نیچے ہو اور جلد کے اوپر کوئی ایسی چیز نہ ہو جو جلد تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہو تو وضو، غسل اور نماز صحیح ہے ۔
س 145: اگر پیشاب اور استبرا کے بعد وضو کرے پھر ایسی رطوبت خارج ہو جسکے بارے میں شک ہے کہ یہ پیشاب ہے یا منی تو اس کاحکم کیا ہے ؟
ج: مفروضہ صورت میں طہارت کا یقین حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وضو بھی کرے اور غسل بھی ۔
س 146: عورت اور مرد کے وضو کے درمیان کیا فرق ہے ؟
ج: کیفیت اور افعال کے لحاظ سے مرد اور عورت کے وضو میں کوئی فرق نہیں ہے سوائے اسکے کہ ہاتھوں کو کہنیوں سے دھوتے وقت مستحب ہے کہ مرد ان کی باہر کی طرف سے دھونا شروع کرے اور عورت اندر کی طرف سے شروع کرے۔
- اسمائے باری تعالیٰ اور آیات الہی کو مس کرنا
اسمائے باری تعالیٰ اور آیات قرآنی کو مس کرنا
س 147: ان ضمیروں کو چھونے کا کیا حکم ہے جو ذات باری تعالیٰ کے نام کی جگہ استعمال ہوتی ہیں جیسے جملہ "باسمہ تعالیٰ" کی ضمیر۔
ج: ضمیر کا وہ حکم نہیں ہے جو لفظ "اللہ" کا ہے ۔
س 148: لفظ "اللہ" کی جگہ یہ علامت "ا…" لکھنا رائج ہوگیا ہے اس علامت کو بغیر وضو کے مس کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: الف اور ان نقطوں کاوہ حکم نہیں ہے جو لفظ " اللہ" کا ہے اور انہیں بغیر وضو کے چھونا جائز ہے ۔
س 149: جہاں میں ملازمت کرتاہوں وہاں خط و کتابت میں لفظ " اللہ' کو اس صورت " ا…" میں لکھاجاتاہے کیا لفظ " اللہ " کی جگہ الف اور تین نقطوں کا لکھنا شرعاً صحیح ہے ؟
ج: شریعت کی رو سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 150: کیا صرف اس احتمال کی بناپر کہ لوگ اسے بغیر وضو کے چھوئیں گے لفظ " اللہ " لکھنے سے پرہیز کرنا یا اسے اس صورت " ا…" میں لکھنا جائز ہے؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 151: نابینا افراد کے پڑھنے لکھنے کیلئے ایک ابھرے ہوئے رسم الخط سے استفادہ کیا جاتاہے جو "بریل رسم الخط" کے نام سے مشہور ہے یہ رسم الخط انگلیوں سے مس کرکے پڑھا جاتاہے کیا نابینا افراد کیلئے قرآن کریم کے ان حروف اور اسمائے طاہرہ کو مس کرنے کیلئے باوضو ہونا واجب ہے کہ جو بریل رسم الخط میں لکھے ہوئے ہیں یا نہیں؟
ج: اگرابھرے ہوئے نقطے حروف کی علامات ہیں تو ان پر حروف والا حکم جاری نہیں ہوگا لیکن اگر آگاہ عرف کی نظر میں اسے خط شمار کیا جائے تو اسے چھونے کے سلسلے میں احتیاط کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔
س 152: " عبداللہ " اور " حبیب اﷲ" جیسے اسماء کو بغیر وضو کے چھونے کا کیا حکم ہے ؟
ج: لفظ " اللہ" کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں ہے اگر چہ یہ کسی مرکب نام کا جز ہی ہو ۔
س 153: کیا حیض والی عورت کیلئے ایسا گلوبند پہننا جائز ہے جس پر پیغمبر اکرم ؐ کا اسم مبارک نقش ہو۔
ج: ایسا گلوبند پہننے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی الله علیه و آله و سلم) کے اسم مبارک کو اپنے بدن سے مس نہ ہونے دے۔
س 154: قرآن کریم کی تحریر کو بغیر وضو کے جو چھونا حرام ہے تو کیا یہ صرف اس تحریر کے ساتھ مختص ہے جو قرآن کریم میں ہو یا اس قرآنی تحریر کو بھی چھونا حرام ہے جو کسی دوسری کتاب، اخبار، رسالے ، سائن بورڈ اور دیوارو غیرہ پر ہو۔
ج: قرآن کریم کے حروف اور آیات کو بغیر وضو کے چھونا حرام ہے خواہ یہ قرآن کریم میں ہوں یا کسی دوسری کتاب، اخبار، رسالے اور سائن بورڈ و غیرہ پر ۔
س 155: ایک گھرانہ خیر و برکت کے قصد سے چاول کھانے کیلئے ایسے برتن کو استعمال کرتاہے جس پر آیة الکرسی اور دیگر آیات قرآنی لکھی ہوئی ہیں کیا اس کام میں کوئی اشکال ہے ؟
ج: اگر باوضو ہوں یا اس برتن سے چمچے کے ذریعے کھانا نکالیں تو اشکال نہیں ہے۔
س 156: جو لوگ ذات باری تعالیٰ اور معصومین (علیہم السلام)کے اسمائے مبارکہ یا آیات قرآنی کو کسی مشین کے ذریعے لکھتے ہیں کیا ان کیلئے لکھتے وقت با وضو ہونا ضروری ہے ؟
ج: اس کام کیلئے طہارت شرط نہیں ہے لیکن وضو کے بغیر اس نوشتے کو مس کرنا جائز نہیں ہے ۔
س 157: کیا اسلامی جمہوریہ ایران کے مونوگرام کو بغیر وضو کے چھونا حرام ہے ؟
ج: اگر عرف عام میں اسے لفظ " اللہ" سمجھا اور پڑھا جاتاہے تو بغیر طہارت کے اسے چھونا حرام ہے ورنہ کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ احوط یہ ہے کے اسے بغیر طہارت کے مس کرنے سے اجتناب کیا جائے ۔
س 158: اسلامی جمہوریہ ایران کے مونوگرام کو دفتری استعمال کے کاغذات پر چھپوانے اور خط و کتابت و غیرہ میں اس سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
ج: لفظ " اللہ " یا اسلامی جمہوریہ ایران کے مونوگرام کے لکھنے اور چھپوانے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن احوط یہ ہے کہ لفظ " اللہ " کے احکام کی اسلامی جمہوریہ ایران کے مونوگرام میں بھی رعایت کی جائے۔
س 159: ڈاک کے ان ٹکٹوں سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے جن پر آیات قرآنی چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور ہر روز چھپنے والے اخبار و جرائد میں لفظ " اللہ" ، دیگرا سمائے الہی، آیات قرآنی یا کسی ادارے کے ایسے مونوگرام کے چھاپنے کا کیا حکم ہے جو قرآن کریم کی آیات پر مشتمل ہے ۔
ج: قرآن کریم کی آیات اور اسمائے الہی و غیرہ کے چھاپنے اور شائع کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن یہ جسکے ہاتھوں میں پہنچیں اس پر واجب ہے کہ انکے شرعی احکام کی رعایت کرے، انکی بے احترامی نہ کرے، انہیں نجس نہ کرے اور بغیر وضو کے انہیں مس نہ کرے۔
س 160: بعض اخباروں میں لفظ "اﷲ" یا قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی ہوتی ہیں کیا ان میں کھانے کی چیزیں لپیٹنا ، ان پر بیٹھنا ، ان سے بطور دسترخوان استفادہ کرنا اور انہیں کوڑے میں پھینکنا جائز ہے ؟ جبکہ دیگر راہوں سے استفادہ کرنا مشکل ہے۔
ج: جن موارد میں ان اخباروں سے استفادہ کرنے کو عرف عام میں بے احترامی شمار کیا جائے ان میں جائز نہیں ہے اور جہاں بے احترامی شمار نہ کیا جائے وہاں جائز ہے۔
س 161: کیا انگوٹھی پر نقش کئے گئے الفاظ کو چھونا جائز ہے ؟
ج: اگر یہ ایسے کلمات ہوں کہ جنہیں مس کرنے کیلئے طہارت شرط ہے تو بغیر طہارت کے انہیں مس کرنا جائز نہیں ہے۔
س 162: جن چیزوں پر ذات باری تعالیٰ کے نام لکھے ہوتے ہیں انہیں ندیوں اور نالوں میں پھینکنے کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے بے احترامی شمار نہیں کیا جائیگا؟
ج: اگر عرف عام میں اسے بے حرمتی شمار نہ کیا جائے تو اشکال نہیں ہے ۔
س 163: تصحیح شدہ امتحانی پر چوں کو کوڑے میں پھینکنے یا انہیں جلانے کیلئے کیا یہ اطمینان کرلینا ضروری ہے کہ ان میں اسمائے باری تعالیٰ یا معصومین (علیہم السلام) کے نام لکھے ہوئے نہیں ہیں ؟ نیز کیا ان کاغذوں کو پھینک دینا جنکی ایک طرف خالی ہے اور ان میں کچھ لکھا ہوا نہیں ہے اسراف ہے یا نہیں ؟
ج: تحقیق اور جستجو کرنا ضروری نہیں ہے ۔ اور جب تک پرچے پر اللہ تعالیٰ کے ناموں کے لکھے ہونے کا علم نہ ہو اسے کوڑے میں پھینکنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ جن کاغذوں سے کارٹون سازی وغیرہ میں استفادہ کیا جاسکتاہے یا انکی ایک طرف میں لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف سے لکھنے میں استفادہ کیا جاسکتاہے انہیں جلانا یا کوڑے میں پھینکنا اشکال سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس میں اسراف کا شبہ ہے ۔
س 164: وہ کونسے اسمائے مبارکہ ہیں جنک ا احترام واجب ہے اور انہیں بغیر وضو کے مس کرنا حرام ہے ؟
جواب: بہتر ہے کہ اسماء جلالہ اور انبیاء اور ائمہ معصومین (علیهم السلام) کے نام، القاب اور کنیت کو وضو کے بغیر چھونے سے اجتناب کیا جائے۔
س 165: ضرورت کے وقت اسماء مبارکہ اور آیات قرآنی کے محو کرنے کے شرعی طریقے کونسے ہیں ؟ نیز اسرار کو محفوظ رکھنے کیلئے ان اوراق کے جلانے کا کیا حکم ہے جن پر لفظ " اللہ" اور قرآنی آیات لکھی ہوں؟
ج: انہیں خاک میں دفن کرنے یا پانی کے ذریعے خمیر میں تبدیل کردینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن انہیں جلانے کا جائز ہونا مشکل ہے اور اگر اسے بے حرمتی شمار کیا جائے تو جائز نہیں ہے مگر یہ کہ جلانے پر مجبور ہو اور قرآنی آیات اور اسمائے مبارکہ کا جدا کرنا بھی ممکن نہ ہو ۔
س 166: اگر اسمائے مبارکہ اور قرآنی آیات کو اس طرح ریزہ ریزہ کردیا جائے کہ انکے دو حرف بھی اکٹھے نہ رہیں اور پڑھنے کے قابل نہ رہیں تو انکا کیا حکم ہے ؟ نیز کیا اسمائے مبارکہ اور قرآنی آیات کے محو کرنے اور انکے حکم کے ساقط ہو جانے کیلئے انکے حروف میں کمی بیشی کرکے انکی تحریری صورت کو تبدیل کردینا کافی ہے؟
ج: مذکورہ طریقے سے ریزہ ریزہ کرنا اگر بے حرمتی شمار کیا جائے تو جائز نہیں ہے اور اگر بے حرمتی شمار نہ کیا جائے تو بھی جب تک لفظ "اللہ"اور قرآنی آیات محو نہ ہوجائیں کافی نہیں ہے نیز جن حروف کو لفظ " اللہ " لکھنے کے ارادے سے لکھا گیا ہے ان میں بعض حروف کی کمی بیشی کرکے انکی تحریری صورت کو تبدیل کردینا انکے شرعی حکم کے زائل ہوجانے کیلئے کافی نہیں ہے ہاں اگر حروف کو یوں تبدیل کیا جائے کہ وہ محو جیسے ہوجائیں تو حکم کا زائل ہوجانا بعید نہیں ہے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ انہیں بھی بغیر وضو کے مس کرنے سے اجتناب کیاجائے۔
- غسل جنابت کے احکام
غسل جنابت کے احکام
س 167: کیا وقت کے تنگ ہونے کی صورت میں مجنب شخص تیمم کرکے نجس بدن اور لباس کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے یا نہیں بلکہ ضروری ہے کہ بدن اور لباس کو پاک کرے اور غسل کرے اور پھر نماز کی قضا بجالائے؟
ج: اگر وقت اس قدر تنگ ہو کہ اپنے بدن اور لباس کو پاک نہیں کرسکتا یا لباس کو تبدیل نہیں کرسکتا اور سردی و غیرہ کی وجہ سے برہنہ بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو ضروری ہے کہ غسل جنابت کے بدلے میں تیمم کرکے اسی نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ نماز کافی ہے اور بعد میں اسکی قضا واجب نہیں ہوگی۔
س 168: اگر دخول کے بغیر منی رحم میں پہنچ جائے تو کیا اس سے عورت مجنب ہوجاتی ہے ؟
ج: اس صورت میں جنابت صادق نہیں آتی۔
س 169: کیا طبی آلات کے ذریعے اندرونی معائنہ کے بعد عورت پر غسل جنابت واجب ہے ؟
ج: جب تک منی خارج نہ ہو غسل واجب نہیں ہے۔
س 170: اگر حشفہ(ختنہ گاہ) کی مقدار تک دخول ہو لیکن منی خارج نہ ہو اور عورت بھی لذت کے آخری مرحلے تک نہ پہنچے تو کیا غسل جنابت صرف عورت پر واجب ہے یا صرف مرد پر یا دونوں پر ؟
ج: دخول کی صورت میں اگر چہ حشفہ کی مقدا ر ہی ہو دونوں پر غسل واجب ہوجاتاہے ۔
س 171: کس صورت میں عورت پر احتلام کی وجہ سے غسل جنابت واجب ہوتاہے ؟ اپنے شوہر کے ساتھ خوش فعلی کے وقت جو رطوبت عورت سے خارج ہوتی ہے کیا وہ منی کے حکم میں ہے ؟ کیا بغیراسکے کہ عورت کا بدن سست ہو اور وہ لذت کے انتہائی مرحلے تک پہنچے اس پر غسل واجب ہوجاتاہے ؟ بطور کلی مباشرت کے بغیر عورت کیسے مجنب ہوتی ہے ؟
ج: اگرعورت لذت کے آخری مرحلے تک پہنچ جائے اور اسی حالت میں اس سے کوئی رطوبت خارج ہوجائے تو وہ مجنب ہوجائے گی اور اس پر غسل واجب ہوگا لیکن اگر اسے شک ہو کہ لذت کے آخری مرحلے تک پہنچی ہے یا نہیں یا شک ہو کہ کوئی رطوبت خارج ہوئی ہے یا نہیں تو غسل واجب نہیں ہے ۔
س 172: کیا شہوت انگیز ڈائجسٹ و غیرہ کا پڑھنا اور فلموں کا دیکھنا جائز ہے؟
ج: جائز نہیں ہے ۔
س 173: اگر شوہر کے ساتھ مباشرت کے فوراً بعد عورت غسل کرلے جبکہ ابھی تک منی اسکے رحم میں باقی ہو اور غسل کے بعد منی اسکے رحم سے خارج ہوجائے تو کیا اس کا غسل صحیح ہے ؟ کیا یہ منی پاک ہے یا نجس؟ نیز کیا اس سے عورت دوبارہ مجنب ہوجائے گی یا نہیں ؟
ج: اس کا غسل صحیح ہے اور غسل کے بعد جو رطوبت خارج ہوتی ہے اگر وہ منی ہو تو نجس ہے لیکن اگر مرد کی منی ہو تو عورت اس سے دوبارہ مجنب نہیں ہوگی۔
س 174: کچھ عرصے سے میں غسل جنابت کے سلسلے میں شک میں مبتلا ہوں یہاں تک کہ اپنی بیوی سے مباشرت بھی نہیں کرتا اسکے باوجود غیر ارادی طور پر میرے اوپر ایسی حالت طاری ہوتی ہے کہ گمان کرتاہوں مجھ پر غسل جنابت واجب ہوگیا ہے اور ہر دن میں دو تین دفعہ غسل کرتاہوں اس شک نے مجھے پریشان کردیا ہے، میری ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: اگر جنابت میں شک ہو تو جنابت کے احکام مرتب نہیں ہوتے مگر یہ کہ اس طرح رطوبت خارج ہو کہ اس میں منی خارج ہونے کی شرعی علامات پائی جائیں یا آپ کو منی خارج ہونے کا یقین ہوجائے۔
س 175: کیا حیض کی حالت میں غسل جنابت صحیح ہے اس طرح کہ اس سے مجنب عورت کی شرعی ذمہ داری ساقط ہوجائے؟
ج: مذکورہ صورت میں غسل کا صحیح ہونا محل اشکال ہے ۔
س 176: اگر عورت حیض کی حالت میں مجنب یا جنابت کی حالت میں حائض ہوجائے تو کیا حیض سے پاک ہونے کے بعد اس پر دو غسل واجب ہوں گے یا نہیں بلکہ حیض کی حالت میں جنابت طاری ہونے سے غسل جنابت واجب نہیں ہوتا کیونکہ وہ جنابت کے وقت پاک ہی نہیں تھی؟
ج: دونوں صورتوں میں غسل حیض کے علاوہ غسل جنابت بھی واجب ہے لیکن مقام عمل میں صرف غسل جنابت پر اکتفا کرنا جائز ہے لیکن احوط یہ ہے کہ دونوں غسلوں کی نیت کرے ۔
س 177: کس صورت میں مرد سے خارج ہونے والی رطوبت پر منی ہونے کا حکم لگایا جاسکتاہے ؟
ج: وہ مرد جو تندرست ہو جب اس سے شہوت کے ساتھ نکلے، بدن میں سستی آجائے اور اچھل کر نکلے تو اس پر منی کا حکم لگے گا۔
س 178: بعض موقعوں پر غسل کے بعد ہاتھ یا پیر کے ناخن کے اطراف میں چونے یا صابن کا اثر دکھائی دیتاہے جو غسل کے دوران حمام میں نظر نہیں آتا لیکن حمام سے نکلنے اور دقت کرنے کے بعد انکی سفیدی نظر آتی ہے ، اس کا حکم کیا ہے ؟ جبکہ بعض افراد غسل اور وضو کے وقت اس مسئلہ سے بے خبر ہوتے ہیں یا اس کی طرف توجہ نہیں رکھتے اور چونے یا صابن کا اثر موجود ہونے کی صورت میں اس کے نیچے پانی کے پہنچنے کا یقین نہیں ہوتا؟
ج: صرف صابن یا چونے کے اثر کا موجود ہونا کہ جو اعضاء کے خشک ہونے کے بعد دکھائی دے، وضو یا غسل کو باطل نہیں کرتا مگر یہ کہ اسکی ایسی تہ ہو جو جلد تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے۔
س 179: ایک برادر کا کہنا ہے کہ غسل سے پہلے بدن کا نجاست سے پاک ہونا واجب ہے اور اگر منی وغیرہ سے اسکی تطہیر غسل کے دوران میں ہو تو غسل کے باطل ہونے کا موجب ہے ، پس اگر ان کی بات صحیح ہے تو کیا میری گزشتہ نمازیں باطل ہیں اور ان کی قضا واجب ہے ؟ واضح رہے کہ میں اس مسئلہ سے بے خبر تھا؟
ج: غسل جنابت سے پہلے پورے بدن کا پاک ہونا واجب نہیں ہے بلکہ ہر عضو کا اسکے غسل سے پہلے پاک ہونا کافی ہے اور اس صورت میں غسل اور اس سے پڑھی گئی نماز، دونوں صحیح ہیں اور اگر نجس عضو کو اسکے غسل سے پہلے پاک نہ کیا جائے اور ایک ہی دھونے کے ذریعے چاہے یہ عضو پاک بھی ہوجائے اور اس کا غسل بھی انجام پاجائے تو غسل باطل ہے اور اس غسل سے پڑھی گئی نماز بھی باطل ہے اور اسکی قضا واجب ہے ۔
س 180: نیند کی حالت میں انسان سے جو رطوبت خارج ہوتی ہے ، کیا وہ منی کے حکم میں ہے ؟ جبکہ اس میں تینوں علامتیں (اچھل کر نکلنا، شہوت کے ساتھ نکلنا اور بدن کا سست ہونا) موجود نہ ہوں اور انسان کو پتا بھی بیدار ہونے کے بعد چلے کہ اس کے لباس پر رطوبت موجود ہے ؟
ج: اگر ان تین علامتوں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو یا اسکے وجود میں شک ہو تو اس کا منی والا حکم نہیں ہے مگر یہ کہ کسی اور طریقے سے اسکے منی ہونے کا یقین ہوجائے۔
س181: میں جوان ہوں اورایک مفلس گھرانے میں زندگی بسر کرتا ہوں، مجھ سے کثرت سے منی خارج ہوتی ہے اورحمام جانے کے لئے والد سے پیسہ مانگتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، گھر میں بھی حمام نہیں ہے۔ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں؟
ج: شرعی امور کی انجام دہی میں شرم کرنے کا کوئی معنی نہیں ہے اور واجب کو ترک کرنے کے لئے شرم و حیا، شرعی عذر نہیں بن سکتے۔ بہر حال اگر آپ کے لئے غسل جنابت ممکن نہیں ہے تو نماز اور روزہ کے لئے آپ کا فریضہ یہ ہے کہ غسل کے بدلے تیمم کریں۔
س182: میرے لئے ایک مشکل ہے اور وہ یہ کہ اگر میرے بدن پر پانی کا ایک قطرہ بھی پڑجائے تو وہ نقصان دہ ہے، بلکہ مسح کرنے کا بھی یہی حال ہے اور بدن کا تھوڑا سا حصہ دھونے سے میرے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، اس کے علاوہ دوسری تکلیفیں بھی شروع ہو جاتی ہیں تو کیا اس صورت میں میرے لئے اپنی بیوی سے مباشرت کرنا جائز ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ چند ماہ تک میں غسل کے عوض تیمم کر کے نماز ادا کروں اور مسجد میں داخل ہواکروں؟
ج: آپ پر بیوی سے مباشرت ترک کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مجنب ہونے کی صورت میں اگر آپ غسل سے معذور ہوں تو ان اعمال کے لئے، جن میں طہارت شرط ہے غسل کے بدلے تیمم کرنا، آپ کا شرعی فریضہ ہے اور تیمم کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے، نماز پڑھنے، قرآن کے حروف کو چھونے اور ان اعمال کے بجا لانے میں کوئی حرج نہیں ہے، جن میں جنابت سے پاک ہونا شرط ہے۔
س 183: واجب یا مستحب غسل کے وقت قبلہ رخ ہونا واجب ہے یا نہیں؟
ج: غسل کے وقت قبلہ رخ ہونا واجب نہیں ہے۔
س 184: کیا حدث اکبر کے غسالہ (دھوون) سے غسل صحیح ہے جبکہ یہ معلوم ہو کہ غسل، قلیل پانی سے کیا گیاتھا اور بدن غسل سے پہلے پاک تھا؟
ج: مذکورہ صورت میں اس سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 185: اگر غسل جنابت کے درمیان حدث اصغر صادر ہوجائے تو کیا اس پر از سر نو غسل واجب ہے یا غسل مکمل کرنے کے بعد وہ وضو کرے گا؟
ج: از سر نو غسل کرنا واجب نہیں ہے اور حدث اصغر کا غسل کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا لیکن یہ غسل اس کی نماز اور ان اعمال کے لئے وضو سے کافی نہیں ہے جن میں حدث اصغر سے طہارت شرط ہے۔
س186: وہ گاڑھی رطوبت جو منی سے مشابہ ہوتی ہے اور پیشاب کے بعد شہوت و ارادہ کے بغیر خارج ہوتی ہے، کیا وہ منی کے حکم میں ہے؟
ج: منی کے حکم میں نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے منی ہونے کا یقین ہو جائے، یا نکلتے وقت اس میں منی ہونے کی شرعی علامات موجود ہوں۔
س 187: جس کے ذمے کئی مستحب یا واجب غسل ہوں تو کیا ایک ہی غسل بقیہ کے لئے کافی ہوگا؟
ج: اگرسب کی نیت سے ایک غسل بجالائے تو وہ سب کیلئے کافی ہے۔ اور اگر ان میں غسل جنابت بھی ہو اور اسی کا قصد کیا جائے تو وہ بقیہ غسلوں کیلئے کافی ہوگا، اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ ان سب کی نیت کرے۔
س 188: غسل جنابت کے علاوہ کیا دیگرغسل بھی وضو سے کفایت کرتے ہیں؟
ج: کفایت نہیں کرتے۔
س 189: آپ کی نظر میں غسل جنابت میں کیا پانی کا بدن پر جاری ہونا شرط ہے؟
ج: معیار یہ ہے کہ اس پر غسل کے قصد سے بدن کا دھونا صادق آ جائے، پانی کا جاری ہونا شرط نہیں ہے۔
س 190: اگر انسان جانتا ہو کہ اگر وہ اپنی زوجہ سے مباشرت کر کے خود کو مجنب کر دے تو اسے غسل کے لئے پانی نہیں ملے گا یا غسل اور نماز کے لئے وقت نہیں رہے گا، تو کیا اس کے لئے اپنی زوجہ سے مباشرت کرنا جائز ہے؟
ج: اگر غسل سے عاجز ہونے کی صورت میں تیمم کرنے پر قادر ہو تو اپنی بیوی سے مباشرت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 191: کیا غسل جنابت میں یہ ترتیب کافی ہے کہ پہلے سر دھوئیں اور اس کے بعد جسم کے باقی اعضاء کو، یا یہ کہ جسم کی دونوں اطراف میں بھی ترتیب ضروری ہے؟
ج: بنابر احتیاط واجب دونوں اطراف کے درمیان ترتیب ضروری ہے اور یہ کہ پہلے جسم کا دایاں حصہ دھوئے پھر بایاں حصہ۔
س 192: غسل ترتیبی کرتے وقت اگر میں پہلے پیٹھ دھو لوں اور اس کے بعد غسل ترتیبی کی نیت کر کے غسل بجا لاؤں توکیا اس میں کوئی حرج ہے؟
ج: غسل کی نیت اور غسل شروع کرنے سے پہلے پیٹھ یا اعضائے بدن میں سے کسی عضو کے دھونے میں کوئی حرج نہیں ہے اور غسل ترتیبی کی کیفیت یہ ہے کہ بدن کو پاک کرنے کے بعد غسل کی نیت کرے، پھر پہلے سرو گردن کو دھوئے، اس کے بعد بنا بر احتیاط واجب بدن کا دایاں پھرا سی طرح بایاں حصہ دھوئے ۔
س 193: کیا عورت پر غسل میں تمام بالوں کا دھونا واجب ہے؟ اور اگر غسل میں تمام بالوں تک پانی نہ پہنچے تو کیا غسل باطل ہے؟ جبکہ یہ معلوم ہو کہ سر کی تمام جلد تک پانی پہنچ چکا ہے؟
ج: احتیاط واجب یہ ہے کہ تمام بالوں کو دھوئے۔
- باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
س 194: اس شخص کا کیا حکم ہے جو بالغ تو ہو چکا ہو لیکن غسل کے واجب ہونے نیز اس کے طریقے سے بے خبر ہو اور اسی طرح دس سال گزر گئے، تب کہیں اسے تقلید اور غسل کے واجب ہونے کا پتا چلا۔ اب نماز اور روزہ کی قضا کے بارے میں اس پر کیا حکم لاگو ہو گا؟
ج: اس شخص پر ان نمازوں کی قضا واجب ہے جو اس نے جنابت کی حالت میں پڑھی ہیں اور روزوں کے بارے میں اگر شک تھا کہ جنابت کی حالت میں باقی رہنے سے روزہ باطل ہوتا ہے یا نہیں اور جنابت کی حالت میں ہی روزہ رکھا تھا تو احتیاط واجب کی بناپر اس کا روزہ باطل ہے[1] اور ضروری ہے کہ قضا بھی بجالائے۔ تاہم اگر یقین تھا کہ جنابت کی حالت میں باقی رہنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا ہے چنانچہ اسی بنیاد پر روزہ رکھا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے اگرچہ احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے روزے کی قضا کرنا اچھا ہے۔
س 195: ایک جوان کم عقلی کی وجہ سے چودہ سال کی عمر سے پہلے اور اس کے بعد استمناء کرتا تھا اور اس سے منی نکلتی تھی لیکن اسے یہ علم نہیں تھا کہ منی خارج ہونے سے انسان مجنب ہوجاتاہے اور نماز اور روزے کیلئے غسل کرنا ضروری ہوتاہے اس کا کیا فریضہ ہے؟ کیا جس زمانے میں وہ استمناء کرتا تھا اور اس سے منی خارج ہوتی تھی، اس زمانے کا اس پر غسل واجب ہے؟ اور اس وقت سے اب تک اس نے جنابت کی حالت میں جو نمازیں پڑھیں ہیںاور روزے رکھے ہیں، کیا وہ باطل ہیں اور ان کی قضا واجب ہے؟
ج: جتنی مرتبہ وہ مجنب ہوا ہے اگر اس نے اب تک غسل نہیں کیا تو ان سب کے لئے ایک غسل جنابت کافی ہے اور ان تمام نمازوں کی قضا واجب ہے جن کے بارے میں یہ یقین ہے کہ وہ حالت جنابت میں ادا کی گئی ہیں۔ اور اگر ماہ رمضان کی راتوں میں ایسا اتفاق ہوجائے اور جنابت کے بارے میں جاہل ہو تو اس کے روزوں کی قضا نہیں ہے اور صحیح ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ لیکن اگر منی خارج ہونے اور جنابت کا علم رکھتا ہو اور اس بات کے متعلق شک تھا کہ جنابت پر باقی رہنے سے روزہ باطل ہوتا ہے یا نہیں چنانچہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھا ہو تو احتیاط واجب کی بناپر اس کا روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے لیکن اگر یقین ہو کہ جنابت پر باقی رہنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور اسی بنیاد پر روزہ رکھا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے، اگرچہ احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے روزے کی قضا بجالانا اچھا ہے۔
س 196: جو شخص جنابت کے بعد غسل کرے لیکن اس کا غسل غلط اور باطل ہو اسکی ان نمازوں کا کیا حکم ہے جو اس نے اس غسل کے ساتھ پڑھی ہیں جبکہ وہ مسئلہ سے جاہل تھا۔
ج: باطل غسل کے ساتھ پڑھی گئی نماز باطل ہے اور اس کا اعادہ یا قضا واجب ہے۔
س 197: میں نے ایک واجب غسل کی بجا آوری کے ارادے سے غسل کیا، حمام سے نکلنے کے بعد مجھے شک ہوگیا کہ میں نے ترتیب کی رعایت کی ہے یا نہیں اور چونکہ مجھے احتمال تھا کہ صرف ترتیب کی نیت ہی کافی ہے لہذا میں نے غسل کا اعادہ نہیں کیا اب میں اس مسئلہ میں پریشان ہوں، کیا مجھ پر تمام نمازوں کی قضا واجب ہے؟
ج: مذکورہ صورت میں آپ کے ذمے کچھ نہیں ہے لیکن اگر آپ کو غسل کے باطل ہونے کا یقین ہے تو آپ پر تمام نمازوں کی قضا واجب ہے۔
س 198: میں غسل جنابت اس طریقے سے کیا کرتا تھا کہ پہلے جسم کا داہنا حصہ، پھر سر اور اس کے بعد بایاں حصہ دھویا کرتا تھا اور میں نے صحیح طریقہ دریافت کرنے میں بھی کوتاہی کی ہے، اب میری نماز اور روزے کا حکم کیا ہے؟
ج: مذکورہ طریقے سے کیا گیا غسل باطل ہے اور وہ رفع حدث کا موجب نہیں ہے اس لئے ایسے غسل کے ساتھ پڑھی گئی نمازیں باطل ہیں اور انکی قضا کرنا واجب ہے، ہاں اس فرض کے ساتھ کہ آپ مذکورہ طریقہ کو صحیح غسل سمجھتے تھے اور جان بوجھ کر جنابت پر باقی نہیں رہے اسلئے آپ کے روزے صحیح ہیں۔
س 199: کیا مجنب پر ان سورتوں کا پڑھنا حرام ہے جن میں واجب سجدہ ہے ؟
ج: مجنب کیلئے جو کام حرام ہیں ان میں سے ایک ان سورتوں کی سجدہ والی آیات کا پڑھنا ہے لیکن ان سورتوں کی دیگر آیات پڑھنے میں اشکال نہیں ہے ۔
[1] جن صورتوں میں احتیاط واجب کی بناپر روزہ باطل ہوتا ہے، ضروری ہے کہ مکلف روزہ رکھے اور قضا بھی بجالائے۔
- تیمّم کے احکام
تیمّم کے احکام
س 200: وہ چیزیں جن پر تیمم صحیح ہے، جیسے مٹی، چونا اور پتھر و غیرہ، اگر یہ دیوار پر چپکی ہوں تو کیا ان پر تیمم صحیح ہے؟ یا ان کا سطح زمین پر ہونا ضروری ہے؟
ج: تیمم کے صحیح ہونے میں ان کا سطح زمین پر ہونا شرط نہیں ہے۔
س 201: اگر میں مجنب ہوجاؤں اور میرے لئے حمام جانا ممکن نہ ہو اور جنابت کی یہ حالت چند روز تک باقی رہے، اور میں غسل کے بدلے میں تیمم کرکے نماز پڑھ لوں اسکے بعد مجھ سے حدث اصغر سرزد ہوجائے تو کیا بعد والی نماز کیلئے دوبارہ غسل کے بدلے تیمم کروں یا نہیں بلکہ جنابت کی جہت سے وہی پہلا تیمم کافی ہے اور بعد والی نمازوں کیلئے حدث اصغر کی خاطر وضو یا تیمم واجب ہے ؟
ج: جب مجنب شخص غسل جنابت کے بدلے صحیح تیمم کر لے اور اس تیمم کے بعد اگر اس سے حدث اصغر سرزد ہو جائے تو جب تک تیمم کو جائز قرا ردینے والا شرعی عذر باقی ہے بنابر احتیاط واجب جن اعمال میں طہارت شرط ہے ان کیلئے غسل کے بدلے تیمم کرے اور پھر وضو بھی کرے اور اگر وضو بھی نہ کرسکتاہو تو ایک دوسرا تیمم وضو کے بدلے کرے۔
س 202: غسل کے بدلے کئے جانے والے تیمم کے بعد کیا وہ سب امور انجام پا سکتے ہیں جو غسل کے بعد انجام دیے جا سکتے ہیں یعنی کیا تیمم کر کے مسجد میں داخل ہونا جائز ہے؟
ج: جب تک تییم کے مجوز باقی ہو اور اسکا تییم باطل نہیں ہوا ہو،غسل کے بعد جتنے شرعی امور انجام دئے جا سکتے ہیں وہ اس کے عوض کئے جانے والے تیمم کے بعد بھی جائز ہیں،مگر یہ کہ غسل کے بدلے میں تیمم تنگی وقت کی وجہ سے کیا جائے۔
س 203: وہ جنگی مجروح جس کا کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہوچکاہے اوراسکی وجہ سے پیشاب کو روکنے کی قدرت نہیں رکھتا کیا وہ مستحب اعمال مثلاً غسل جمعہ و غسل زیارت و غیرہ کے بجا لانے کے عوض تیمم کر سکتا ہے؟ کیونکہ اس کے لئے حمام جانے میں کچھ مشقت ہے۔
ج: زیارت جیسے اعمال میں طہارت شرط نہیں ہے ان کیلئے غسل کے بدلے تیمم کرنا محل اشکال ہے، لیکن عسر و حرج کے موقع پر مستحب غسلوں کے بدلے رجاء مطلوبیت کی نیت سے تیمم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س204: جس شخص کے پاس پانی نہ ہو یا اس کے لئے پانی کا استعمال مضر ہو اور وہ غسل جنابت کے بدلے تیمم کر لے تو کیا وہ مسجد میں داخل ہوکر نماز جماعت میں شریک ہو سکتاہے؟ اور اس کے قرآن کریم پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
ج: جب تک تیمم کو جائز کرنے والا عذر باقی ہے اور اس کا تیمم باطل نہیں ہوا اس وقت تک وہ ان تمام اعمال کو انجام دے سکتا ہے جن میں طہارت شرط ہے۔
س205: نیند کی حالت میں انسان سے رطوبت خارج ہوتی ہے اور بیدار ہونے کے بعد اسے کچھ یاد نہیں آتا، لیکن اسکیلباس پر رطوبت ہے اور اس کے پاس سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے، کیونکہ اس کی صبح کی نماز قضا ہو رہی ہے، اس حالت میں وہ کیا کرے؟ اور وہ کیسے غسل کے بدلے تیمم کی نیت کرے؟ اس کیلئے اصلی حکم کیا ہے؟
ج: اگر اسے احتلام کا علم ہے تو وہ مجنب ہے او اس پر غسل واجب ہے اور وقت تنگ ہونے کی صورت میں اپنے بدن کو پاک کرنے کے بعد تیمم کرکے نماز پڑھے اور پھر وسیع وقت میں غسل کرے، لیکن اگر احتلام اور جنابت میں شک ہو تو اس پر جنابت کا حکم جاری نہیں ہو گا۔
س206: ایک شخص پے در پے کئی راتوں تک مجنب ہوتا رہا، اس کا فریضہ کیا ہے؟ جبکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ہر روز پے در پے حمام جانے سے انسان ضعیف و کمزور ہو جاتا ہے؟
ج: اس پر غسل واجب ہے مگر یہ کہ پانی کا استعمال اس کے لئے مضر ہو تو ایسی صورت میں اس کا فریضہ تیمم ہے۔
س207: میں غیر معمولی صورتحال سے دوچارہوں اور بلا ارادہ کئی کئی مرتبہ مجھ سے منی خارج ہو جاتی ہے اور اس کے نکلنے سے کوئی لذت بھی محسوس نہیں ہوتی، پس نماز کے سلسلے میں میرا فریضہ کیا ہے؟
ج: اگر ہر نماز کے لئے غسل کرنے میں آپ کیلئے ضرر یا شدید تکلیف ہو تو اپنا بدن نجاست سے پاک کرنے کے بعد تیمم کے ساتھ نماز پڑھیں۔
س208: اس شخص کا کیا حکم ہے جو نماز صبح کے لئے یہ سوچ کر غسل جنابت ترک کر کے تیمم کرتا ہے کہ اگر غسل کرے گا تو بیمارہو جائے گا؟
ج: اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے لئے غسل مضر ہے تو تیمم میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس تیمم کے ساتھ نماز صحیح ہے۔
س209: تیمم کا طریقہ کیا ہے؟ آیا غسل اور وضو کے بدلے تیمم میں کوئی فرق ہے؟
ج: تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کرنے کے بعد دونوں ہاتھوں کی پوری ہتھیلی کو ایک ساتھ اس چیز پر مارے جس پر تیمم صحیح ہو پھر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلوں کو ایک ساتھ پوری پیشانی پر بالوں کے اگنے کی جگہ سے ابرو اور ناک کے اوپر والے حصے تک اور پیشانی کے دونوں اطراف پر پھیرے، پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پوری پشت پر اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ ہاتھوں کو ایسی چیز پر مارے جس پر تیمم صحیح ہو اور پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر پھیرے خواہ تیمم وضو کے بدلے ہو یا غسل کے بدلے۔ لذا غسل اور وضو کے تیمم میں کوئی فرق نهیں هے.
س210: پکے ہوئے چونے ،پکی ہوئی آہک، انکے پتھروں اور اینٹ پر تیمم کرنے کا کیا حکم ہے ؟
ج: ہر وہ چیز جسے زمین سے شمار کیا جائے جیسے چونے اور آہک کے پتھر ان پر تیمم کرنا صحیح ہے اور بعید نہیں ہے کہ پکے ہوئے چونے، پکی ہوئی آہک اور اینٹ وغیرہ پر بھی تیمم صحیح ہو۔
س211: آپ نے فرمایا ہے جس چیز پر تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضروری ہے کیا اعضاء تیمم (پیشانی اور ہاتھوں کی پشت) کا پاک ہونا بھی ضروری ہے ؟
ج: احتیاط یہ ہے کہ ممکنہ صورت میں پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پاک ہو اور اگر انہیں پاک کرنا ممکن نہ ہو تو اسکے بغیر ہی تیمم کرلے اگر چہ بعید نہیں ہے کہ ہر صورت میں طہارت شرط نہ ہو۔
س212: اگر انسان کیلئے نہ وضو ممکن ہو اور نہ تیمم تو اسکی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
ج: بنابر احتیاط وقت کے اندر بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے اور پھر بعد میں وضو یا تیمم کے ساتھ اسکی قضا کرے۔
س213: میں جلد کی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں کہ جب بھی نہاتا ہوں تو میری کھال خشک ہونے لگتی ہے بلکہ اگر صرف چہرے اور ہاتھوں کو دھوتا ہوں تو بھی ایسا ہوتا ہے، اس لئے اپنی جلد پر تیل ملنے پر مجبورہوں، لہذا مجھے وضو کرنے میں بہت زحمت ہوتی ہے اور صبح کی نماز کے لئے وضو کرنا میرے لئے بہت دشوار ہے تو کیا میں صبح کی نماز کے لئے وضو کے بدلے تیمم کر سکتا ہوں؟
ج: اگر آپ کے لئے پانی کا استعمال مضر ہے تو وضو صحیح نہیں ہے اور اس کے بدلے تیمم کریں اور اگر مضر نہیں ہے اور یہ تیل پانی کے اعضاء وضو تک پہنچنے سے مانع نہ ہو تو وضو ضروری ہے اور اگر مانع ہو لیکن یہ ممکن ہو کہ تیل صاف کرکے وضو کرلیا جائے اور پھر تیل مل لیا جائے تو بھی تیمم کی نوبت نہیں آئیگی۔
س214: ایک شخص وقت کم ہونے کی بنا پر تیمم سے نماز پڑھ لیتا ہے اور فارغ ہونے کے بعد اس پر یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ وضو کرنے کا وقت تھا، اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
ج: اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔
س215: ہم ایسے سرد علاقے میں رہتے ہیں جہاں حمام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں غسل کر سکیں اور رمضان کے مہینے میں اذان سے پہلے حالت جنابت میں بیدار ہوں تو چونکہ جوانوں کا نصف شب میں لوگوں کے سامنے مشک یا ٹینکی کے پانی سے غسل کرنا معیوب ہے، اس کے علاوہ اس وقت پانی بھی ٹھنڈا ہوتا ہے، اس حالت میں اگلے دن کے روزہ کا کیا حکم ہے؟ کیا تیمم جائز ہے اور غسل نہ کرنے کی صورت میں روزہ نہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
ج: صرف مشقت یا لوگوں کی نظروں میں کسی کام کا معیوب ہونا شرعی طور پر عذر نہیں بن سکتا، بلکہ جب تک انسان کے لئے ضرر یا حرج نہ ہو اس وقت تک جس طرح بھی ممکن ہو اس پر غسل کرنا واجب ہے اور حرج یا ضرر کی صورت میں تیمم کرنا واجب ہے، پس اگر وہ فجر سے پہلے تیمم کر لیتا ہے تواس کا روزہ صحیح ہے اور اگر تیمم ترک کر دے تو اس کا روزہ باطل ہے، لیکن اس پر واجب ہے کہ تمام دن روزے کو باطل کرنے والے کاموں سے اجتنا ب کرے۔
- عورتوں کے احکام
عورتوں کے احکام
س 216: اگر میری والدہ پیغمبراکرم ؐ کی اولاد سے ہو تو کیا میں بھی سیدانی ہوں؟ پس کیا میں بھی اپنی ماہانہ عادت کو ساٹھ سال تک حیض قرار دوں اور ان ایام کے دوران روزہ اور نماز سے پرہیز کروں؟
ج: عورت کس عمر میں یائسہ ہوتی ہے اس کی تعیین محل تأمل و احتیاط ہے لہذا اس مسئلہ میں خواتین کسی دوسرے جامع الشرائط مجتہد کی طرف رجوع کرسکتی ہیں۔
س 217: جس عورت نے کسی معین دن کے روزے کی نذر کی ہو پھر اس دن اسے روزہ کی حالت میں حیض آ جائے تو اس کا فریضہ کیاہے؟
ج: حیض آنے سے اس کا روزہ باطل ہو جائے گا چاہے وہ دن کے کسی ایک حصے میں آئے اور پاک ہونے کے بعد اس پر روزہ کی قضا واجب ہے؟
س218: اس رنگ یا دھبے کا کیا حکم ہے جو عورت اپنی پاکی کے یقین کے بعد دیکھتی ہے جبکہ یہ معلوم ہے کہ نہ اس میں خون کی علامات ہیں اور نہ ہی پانی ملے خون کی؟
ج: اگر وہ خون نہیں ہے تو اس پر حیض کا حکم نہیں لگے گا لیکن اگر خون ہے اور اس نے دس دن[1] سے تجاوز نہیں کیا تو وہ حیض کا حکم رکھتا ہے اگر چہ وہ زرد رنگ کے داغ کی صورت میں ہی ہو اور موضوع کو تشخیص دینا عورت کا کام ہے۔
س 219: روزے رکھنے کے لئے دوا کے ذریعہ ماہانہ عادت کو بند کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 220: اگر حمل کے دوران عورت کو تھوڑا سا خون آ جائے لیکن اس کا حمل ساقط نہ ہو تو کیا اس پر غسل واجب ہے یا نہیں؟ اور اس کی ذمہ داری کیا ہے؟
ج: اثناء حمل میں عورت جو خون دیکھتی ہے اگر اس میں حیض کی صفات اور شرائط ہیں یا وہ حیض کی عادت کے زمانے میں آئے او رتین دن تک چلتارہے اگر چہ اندرہی رہے تو وہ حیض ہے ورنہ استحاضہ ہے۔
س 221: ایک عورت کی ماہانہ عادت معین تھی جیسے ایک ہفتہ لیکن پھر اسے مانع حمل چھلہ (loop) رکھوانے کے سبب ہر ماہ ١٢ روز خون آنے لگا تو کیا یہ سات روز سے زیادہ آنے والا خون حیض ہو گا یا استحاضہ؟
ج: اگر دس دن تک خون بند نہ ہو تو اس کی عادت کے ایام حیض شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ۔
س 222: کیا حیض یا نفاس والی عورت، ائمہ (علیہم السلام)کی اولاد کے مقبروں میں داخل ہو سکتی ہے؟
ج: ہوسکتی ہے۔
س 223: جو عورت حمل ضائع کراتی ہے کیا وہ نفاس کی حالت میں ہے یا نہیں؟
ج: بچہ ساقط ہونے کے بعد، خواہ وہ لوتھڑا ہی ہو، اگر عورت خون دیکھتی ہے تو اس پر نفاس کا حکم جاری ہوگا۔
س 224: اس خون کا کیا حکم ہے جسے عورت یائسہ ہونے کے بعد دیکھتی ہے؟ اور اس کا شرعی فریضہ کیا ہے؟
ج: استحاضہ کے حکم میں ہے۔
س 225: ناخواستہ بچوں کی ولادت سے اجتناب کے لئے مانع حمل طریقوں میں سے ایک طریقہ، دواؤں کا استعمال ہے، اور جو عورتیں ان دواؤں کو استعمال کرتی ہیں وہ ماہانہ عادت کے ایام اور ان کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی خون کے داغ دھبے دیکھتی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر ان داغ دھبوں میں شریعت میں بیان کردہ حیض کی شرطیں نہیں پائی جاتیں تو وہ حیض کے حکم میں نہیں ہیں، بلکہ ان پر استحاضہ کا حکم لگایا جائے گا۔
[1] . دن کے تعیین میں ملاک عرف ہےکہ جو سورج کے طلوع ہونے سے غروب تک ہوگا.
- میت کے احکام
میت کے احکام
س 226: کیا میت کے غسل ، کفن اور دفن میں مماثلت اور ہم جنس ہونا شرط ہے یا نہیں بلکہ زن و مرد میں سے ہر ایک دوسرے کی میت کے یہ کام انجام دے سکتاہے؟
ج: میت کے غسل دینے میں مماثلت شرط ہے اور اگر میت کو اس کا ہم جنس( عورت کو عورت اور مرد کو مرد) غسل دے سکتا ہو تو غیر مماثل کا غسل دینا صحیح نہیں ہے اور میت کا یہ غسل باطل ہے، لیکن تکفین و تدفین میں مماثلت شرط نہیں ہے۔
س 227: آج کل دیہاتوں میں رواج ہے کہ میت کو رہائشی مکانوں میں غسل دیا جاتا ہے اور بعض موقعوں پر میت کا کوئی وصی نہیں ہوتا اور اس کے بچے چھوٹے ہوتے ہیں، ایسی صورت میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: میت کی تجہیز کے سلسلے میں متعارف حد تک جن تصرفات کی ضرورت ہے جیسے غسل، کفن اور دفن وہ کمسن ولی کی اجازت پر موقوف نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ورثاء کے درمیان چھوٹے بچوں کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
س 228: ایک شخص حادثہ میں یا کسی بلندی سے گر کر مر گیا اگر مرنے والے کے بدن سے خون بہہ رہا ہو تو کیا خون کا اپنے آپ یا طبی وسائل کے ذریعہ بند ہونے تک انتظار کرنا واجب ہے یا خون بہنے کے با وجود اسے اسی حالت میں دفن کر دیں؟
ج: اگر ممکن ہو تو غسل سے پہلے میت کے بدن کو پاک کرنا واجب ہے اور اگر خون بند ہونے تک یا اسے روکنے کیلئے انتظار کرنا ممکن ہو تو ایسا کرنا واجب ہے۔
س 229: وہ میت جو ٤٠ یا ٥٠ سال قبل دفن کی گئی تھی اور اس وقت اس کی قبر کا نشان مٹ چکا ہے اور وہ عام زمین بن چکی ہے اب اس جگہ نہر کھودی گئی تو اس میں سے اس مردے کی ہڈیاں نکل آئیں، کیا انہیں دیکھنے کے لئے ان ہڈیوں کو چھونے میں کوئی اشکال ہے؟ اور کیا وہ ہڈیاں نجس ہیں یا نہیں؟
ج: مسلمان میت کی وه ہڈی جسے غسل دیا جا چکا ہو نجس نہیں ہے، لیکن اسے دوبارہ مٹی میں دفن کرنا واجب ہے۔
س 230: کیا انسان اپنے والد، والدہ یا اپنے کسی عزیز کو ایسا کفن دے سکتا ہے جو اس نے اپنے لئے خریدا تھا؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 231: ڈاکٹروں کی ٹیم کو طبی تحقیقات اور معائنے کے لئے میت کے دل اور اس کے جسم کے بعض حصوں کو اسکے جسم سے جدا کرنے کی ضرورت ہے اور تجربہ و معائنہ کرنے کے ایک دن بعد انہیں دفن کر دیتے ہیں، اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں۔
١۔ کیا ہمارے لئے ایسا کام انجام دینا جائز ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ لاشیں، جن پر یہ کام انجام دیئے جارہے ہیں مسلمانوں کی ہیں۔
٢۔ کیا دل اور میت کے بعض حصوں کو اس کے بدن سے جدا دفن کرنا جائز ہے؟
٣۔ کیا ان اعضاء کو کسی دوسری میت کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے؟ جبکہ قلب اور ان حصوں کو علیحدہ دفن کرنے میں ہمارے لئے بہت مشکلات ہیں؟ج: اگر کسی (نفس محترمہ) کی جان بچانا یا پھر ان طبی علوم کا انکشاف کرنا جن کی معاشرے کو احیتاج ہے یا اس مرض کا سراغ لگانا جس سے لوگوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اس پر موقوف ہو تو میت کے بدن کو چیرکر کھولناجائزہے، لیکن لازم ہے کہ جب تک اس کام کیلئے غیر مسلم کی میت مل سکتی ہو تو مسلمان کی میت سے استفادہ نہ کیا جائے اور جو اعضاء مسلمان کے بدن سے جدا کئے گئے ہوں، ان کا شرعی حکم یہ ہے کہ انہیں بدن کے ساتھ دفن کیا جائے اور اگر ممکن نہ ہو تو الگ سے یاکسی اور میت کےبدن کے ساتھ دفن کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
س 232: اگر انسان اپنے لئے کفن خریدے اور واجب یا مستحب نمازوں یا تلاوت قرآن مجید کے وقت ہمیشہ اس سے فرش و مصلیٰ کا کام لے اور موت کے بعد اسی کو اپنا کفن قرار دے تو کیا یہ جائز ہے؟ اوراسلامی نقطۂ نظر سے کیا یہ جائز ہے کہ انسان اپنے لئے کفن خرید کر اس پر قرآن کی آیتیں لکھے اور اسے صرف کفن کے کام میں لائے؟
ج: مذکورہ کاموں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 233: ایک پرانی قبر ے ایک عورت کا جنازہ ملا ہے جس کی تاریخ تقریباً سات سو سال پرانی ہے۔ یہ ایک عظیم الجثہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے جو صحیح و الم ہے اور اس کی کھوپڑی پر کچھ بال بھی موجود ہیں، آثار قدیمہ کے ماہرین۔جنہوں نے اس کا انکشاف کیا ہے ۔ کہتے ہیں یہ ایک ملمان عورت کا جسد ہے، کیا جائز ہے کہ میوزیم آف نیچرل سائنسز( ایسی چیزوں کا عجائب گھر)کی طرف سے اس واضح و مشخص عظیم الجثہ ڈھانچے کو (قبر کی تعمیر نو اور پھر اس میں رکھ کر) میوزیم کا مشاہدہ کرنے والوں کی عبرت کے لئے رکھ دیا جائے یا دیکھنے والوں کی نصیحت اور موعظہ کے لئے مناب آیات و احادیث لکھ کر وہاں لگا دی جائیں۔
ج: اگر اس عظیم الجثہ ڈھانچے کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ یہ مسلمان کی میت ہے تو اس کا فوراً دفن کرنا واجب ہے۔
س 234: کسی دیہات میں ایک قبرستان ہے جو نہ کسی خاص شخص کی ملکیت ہے اور نہ وقف ہے تو کیا اس گاؤں کے رہنے والوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ دوسرے شہروں یا گاؤں کی میتوں کو یا اس شخص کی میت کو جس نے اس قبرستان میں دفن ہونے کی وصیت کی ہے، اس میں دفن نہ ہونے دیں؟
ج: اگر مذکورہ عمومی قبرستان کسی خاص شخص کی ملکیت نہ ہو اور نہ ہی خاص طور پر اس دیہات والوں کیلئے وقف ہو تو اہل قریہ دوسروں کی میتوں کو اس میں دفن ہونے سے منع نہیں کر سکتے اور اگر کوئی شخص خود کو اس قبرستان میں دفن کرنے کی وصیت کرے تو اس کی وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔
س 235: کچھ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبروں پر پانی چھڑکنا مستحب ہے، جیسا کہ کتاب " لئالی الاخبار "میں ہے۔ کیا یہ استحباب صرف دفن کے دن کے ساتھ مختص ہے یا نہیں بلکہ مطلق ہے جیسا کہ صاحب لئالی کا یہی نظریہ ہے؟ آپ کی رائے کیاہے؟
ج: دفن کے دن پانی چھڑکنا مستحب ہے اور اسکے بعد بھی رجاء مطلوبیت کی نیت سے چھڑکنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س 236: میت، رات کو کیوں دفن نہیں کی جاتی؟ کیا شب میں میت دفن کرنا حرام ہے؟
ج: میت کو رات میں دفن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س 237: ایک شخص کار کے حادثہ میں فوت ہو گیا، لوگوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور قبرستان میں لے آئے، جب اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ تابوت اور کفن دونوں اس سے نکلنے والے خون سے آلودہ ہیں تو کیا ایسی حالت میں کفن بدلنا واجب ہے؟
ج: اگر کفن کے اس حصے کو جس پر خون لگا ہوا ہے، دھونا یا کاٹنا یا کفن کو تبدیل کرنا ممکن ہو تو ایسا کرنا واجب ہے، ورنہ اسی حالت میں دفن کر دینا جائز ہے۔
س 238: اگر اس میت کے دفن کو ۔جسے خون آلود کفن میں دفن کر دیا گیا ہے ـ تین ماہ گزر چکے ہوں تو کیا اس صورت میں قبر کو کھودا جا سکتا ہے؟
ج: مفروضہ صورت میں قبر کھودنا جائز نہیں ہے۔
س 239: براہ کرم درج ذیل تین سوالات کے جواب مرحمت فرمائیں۔
١ ۔ اگر حاملہ عورت وضع حمل کے دوران (بچہ پیدا ہوتے وقت) مر جائے تو اس کے شکم میں موجود بچے کا مندرجہ ذیل تین صورتوں میں کیا حکم ہے؟
الف) اگر اس میں تازہ روح داخل ہوئی ہو ( تین ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو) جبکہ یہ احتمال قوی ہوتاہے کہ اگر اسے ماں کے پیٹ سے نکالا جائے گا تو مرجائے گا۔
ب) جب بچہ سات ماہ یا اس سے زائدکا ہو۔
ج) بچہ ماں کے پیٹ میں مر چکا ہو۔٢ ۔ اگر وضع حمل کے دوران حاملہ کا انتقال ہو جائے تو کیا دوسروں پر بچے کی موت یا اسکی حیات کی مکمل تحقیق کرنا واجب ہے؟
٣۔ اگر ولادت کے وقت ماں کا انتقال ہو جائے اور شکم میں بچہ زندہ ہو اور ایک شخص ـ متعارف طریقے کے خلاف۔ ماں کو زندہ بچے کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دے تو اس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ج: اگر حاملہ کے مرنے سے بچہ بھی مر جائے یا جب حاملہ فوت ہوئی ہے اس وقت بچے میں روح داخل نہ ہوئی ہو تو اس کا نکالنا واجب نہیں ہے، بلکہ جائز ہی نہیں ہے، لیکن اگر اس میں روح داخل ہو چکی ہو اور وہ شکم مادر میں زندہ ہو اور نکالنے تک اس کے زندہ رہنے کا احتمال بھی ہو تو اسے فوری طور پر نکال لینا واجب ہے، اور جب تک مردہ ماں کے شکم میں موجود بچے کی موت ثابت نہ ہو جائے ماں کو بچے سمیت دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اگر زندہ بچہ ماں کے ساتھ دفن کر دیا گیا ہو اور دفن کے بعد بھی بچے کے زندہ ہونے کا احتمال ہو تب بھی قبر کھودنے اور ماں کے شکم سے بچے کو نکالنا واجب ہے، اسی طرح اگر مردہ ماں کے پیٹ میں بچے کی زندگی کی حفاظت ماں کو دفن نہ کرنے پر موقوف ہو تو بظاہر بچے کی زندگی کی حفاظت کے لئے ماں کے دفن میں تاخیر واجب ہے۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حاملہ عورت کو اس کے زندہ بچے کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے اور دوسرے لوگ یہ گمان کرتے ہوئے کہ کہنے والے کی بات صحیح ہے، حاملہ عورت کو دفن کر دیں، جس سے قبر میں بچے کی موت واقع ہو جائے، تو دفن کرنے والے شخص پر بچے کی دیت واجب ہے، مگر یہ کہ موت کا باعث اس کہنے والے کی بات ہو تو اس صورت میں اس قائل پر دیت واجب ہو گی۔
س 240: بلدیہ نے زمین سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی غرض سے قبروں کو دو منزلہ بنانا مقرر کیا ہے، براہ مہربانی آپ اس سلسلے میں شرعی حکم بیان فرمائیں؟
ج: مسلمانوں کی کئی منزلوں والی قبریں بنانا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ عمل قبر کھودنے اور مسلمان میت کی بے حرمتی کا باعث نہ ہو۔
س 241: ایک بچہ کنویں میں گر کر مر گیا ہے اور کنویں میں اتنا پانی ہے کہ اس میں سے اس کی میت کو نکالا نہیں جا سکتا، اس کا کیا حکم ہے؟
ج: میت کو اسی میں رہنے دیں اور وہ کنواں ہی اس کی قبر ہو گا اور اگر کنواں کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو یا اس کا مالک بند کرنے پر راضی ہو جائے تو کنویں کو بند کر دینا واجب ہے۔
س242: ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ صرف ائمہ اطہار(علیہم السلام)، شہداء اور اہم دینی شخصیتوں کے غم میں روایتی انداز میں سینہ زنی ہوتی ہے۔ کیا یہی سینہ زنی بعض فوجی مجاہدین کیلئے اوران لوگوں کی وفات پر کرنا جائز ہے جنہوں نے اس اسلامی حکومت اور اس اسلامی معاشرے کی کسی نہ کسی طریقہ سے خدمت کی ہے۔
ج: اس کام میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س 243: رات میں قبرستان جانا مکروہ ہے لیکن اس شخص کا کیا حکم ہے جو شب میں قبرستان جانے کو اپنی اسلامی تربیت کے لئے مؤثر عامل سمجھتا ہے ۔
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س244: کیا عورتوں کیلئے جنازے کے ساتھ چلنا اور اسے اٹھانا جائز ہے؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 245: بعض قبائلیوں کے یہاں مرسوم ہے کہ جب ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو مرنے والے کے سوگ میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کو کھاناکھلانے کے لئے قرض لے کر بہت سی بھیڑ بکریاں خریدتے ہیں جو ان کے لئے بڑے نقصان کا باعث ہوتا ہے، کیا اس قسم کے رسم و رواج کو باقی رکھنے کے لئے اتنے بڑے خسارے اور نقصان کا برداشت کرنا جائز ہے؟
ج: اگر بالغ وارثوں کے اموال سے اور ان کی مرضی سے کھانا کھلایا جائے تو جائز ہے، لیکن اگر یہ کام مشکلات اور مالی نقصان کا باعث بنے تو اس سے اجتناب کیا جائے اور اگر میت کے اموال سے خرچ کیا جائے تو اس کا تعلق مرنے والے کی وصیت کی نوعیت سے ہے اور کلی طور پر ایسے امور میں اس اسراف اور افراط سے پرہیز کرنا ضروری ہے کہ جو نعمات الہی کے ضائع ہونے کا موجب بنے۔
س 246: آج کل اگر کوئی شخص بارودی سرنگ کے پھٹنے سے مر جائے تو کیا اس پر شہید کے احکام مترتب ہوں گے؟
ج: غسل و کفن نہ دینے کا حکم صرف اس شہید سے مخصوص ہے جو معرکۂ جنگ میں مارا جائے۔
س247: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بعض سرحدی شہروں کے مراکز میں گشت کرتے ہیں اور دشمنان انقلاب اسلامی کبھی کبھار ان پر کمین گاہوں سے حملہ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں کبھی کبھی یہ شہید ہو جاتے ہیں، کیا ایسے شہیدوں کو غسل دینا یا تیمم کرانا واجب ہے یا پھر اس علاقہ کو میدان جنگ سمجھا جائے گا؟
ج: یہ علاقہ اور مراکز اگر فرقۂ حقہ اور باطل پرست باغی گروہ کے درمیان میدان جنگ ہو تو فرقہ حقہ میں سے قتل ہونے والا شہید کے حکم میں ہے۔
س 248: جوشخص امامتِ جماعت کی شرائط نہیں رکھتا کیا مؤمن کی نماز جنازہ کی امامت کراسکتاہے؟
ج: بعید نہیں ہے کہ جو شرائط بقیہ نمازوںکی جماعت اور امام جماعت میں ضروری ہیں وہ نماز میت میں معتبر نہ ہوں، اگر چہ احوط یہ ہے کہ نماز میت میں بھی ان کی رعایت کی جائے۔
س 249: اگر دنیا کے کسی گوشے میں کوئی مؤمن احکام اسلام کے نفاذ ،فقہ جعفری کے اجرا یا مظاہروں میں قتل کر دیا جائے تو کیا وہ شہید سمجھا جائے گا؟
ج: اسے شہید کا اجر و ثواب ملے گا، لیکن شہید کی میت کی تجہیز کے احکام اس شخص سے مخصوص ہیں جو میدان جنگ میں جنگ کرتے ہوئے شہادت پائے۔
س 250: اگر عدالت کی طرف سے کسی مسلمان شخص کے خلاف منشیات کا کاروبار کرنے کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا جائے اور اسے موت کی سزا دی جائے تو:۔
١۔ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟
٢۔ اس کے مراسم عزائ، قرآن خوانی اور اس کے لئے منعقد ہونے والی مجالس اہل بیت میں شرکت کا کیا حکم ہے؟ج: جس مسلمان کو سزائے موت دی گئی ہو، اس کا حکم وہی ہے جو دیگر مسلمانوں کا ہے اور اس کے لئے وہ تمام اسلامی آداب اور احکام بجا لائے جائیں گے جو عام مرنے والوں کے لئے بجا لائے جاتے ہیں۔
س 251: کیا اس گوشت والی ہڈی کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہو جائے گا جو زندہ شخص کے بدن سے جدا ہوئی ہو؟
ج: زندہ شخص کے بدن سے جدا ہونے والے حصے کو چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہوتا۔
س 252: کیا مردہ انسان کے بدن سے جدا ہونے والے عضو کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے؟
ج: مردہ انسان کے بدن سے جدا ہونے والے حصے کو اسکے ٹھنڈا ہونے کے بعد اور غسل دیئے جانے سے پہلے چھونا خود میت کے بدن کو چھونے والا حکم رکھتاہے۔
س 253: کیا مسلمان شخص کو اسکی جان کنی کی حالت میں قبلہ رخ لٹانا ضروری ہے؟
ج: بہتر ہے کہ مسلمان شخص کو جان کنی کے وقت اس طرح قبلہ رخ اور چت لٹا یا جائے کہ اسکے پیروں کے تلوے قبلہ کی جانب ہوں بہت سارے فقہا نے اس کام کو خود اس مسلمان پر اگر اسکی قدرت رکھتاہو اور دوسروں پر واجب قرار دیا ہے اور اس کی انجام دہی میں احتیاط کو ترک نہ کیا جائے۔
س 254: دانت نکلواتے وقت اس کے ساتھ مسوڑھے کے کچھ ریشے نکل آتے ہیں، کیا انہیں مس کرنے سے غسل مس میت واجب ہو جاتا ہے؟
ج: اس سے مس میت کا غسل واجب نہیں ہوتا۔
س 255: جس مسلمان شہید کو اس کے لباس میں دفن کیا گیا ہو، کیا اس کو چھونے سے مس میت کے احکام جاری ہوں گے؟
ج: جس شہید کو غسل و کفن نہیں دیا جاتا اسے چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہوگا۔
س 256: میں میڈیکل کا طالب علم ہوں بعض اوقات میت کے بدن کو چیر کر کھولنے کے دوران مجبوراً مردوں کو چھونا پڑتا ہے اور معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لاشیں مسلمانوں کی ہیں یا نہیں نیز ان کو غسل دیا جاچکاہے یا نہیں لیکن ان امور کے ذمہ دار حضرات کہتے ہیں ان لاشوں کو غسل دیا جا چکا ہے، مذکورہ باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے براہ مہربانی ان مردہ جسموں کے مس کرنے کے بعد ہماری نماز و غیرہ کا حکم بیان فرمائیے۔ اور کیا مذکورہ صورت میں ہم پر غسل واجب ہے؟
ج: اگر میت کو غسل دیا جانا ثابت نہ ہو اور آپ کو اس سلسلہ میں شک ہو تو جسد یا اس کے اجزاء کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہو جائے گا۔ اور غسل مس میت کے بغیر نماز صحیح نہ ہو گی، لیکن اگر اس کا غسل ثابت ہو جائے تو اس کے بدن یا بعض اجزاء کو چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہو گا اگرچہ اس کے غسل کے صحیح ہونے میں شک ہی ہو۔
س 257: ایک گمنام شہید چند بچوں کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن ہے اور ایک ماہ کے بعد قرائن سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ شہید اس شہر کا نہیں تھا جس میں دفن کیا گیا ہے کیا اسے اپنے شہر منتقل کرنے کیلئے قبر کھودنا جائز ہے۔
ج: اگر اسے شرعی احکام اورقوانین کے مطابق دفن کیا گیا ہو تو اسکی قبر کھودنا جائز نہیں ہے۔
س 258: اگر قبر کھودے یا مٹی ہٹائے بغیر قبر کے اندر کے حالات معلوم کرنا اور اندر کی ویڈیو بنانا ممکن ہو تو اس عمل پر قبر کھودنے (نبش قبر)کا اطلاق ہو گا یا نہیں؟
ج: قبر کھودنے اور جنازہ کو آشکار کئے بغیر مدفون میت کے بدن کی تصویر لینے پرقبر کھودنے (نبش قبر) کا عنوان صادق نہیں آتا۔
س 259: بلدیہ، سڑکوں کی توسیع کے لئے قبرستان کے اطراف میں بنے ہوئے مقبروں کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔ کیا یہ عمل جائز ہے ؟ نیز کیا ان مردوں کی ہڈیوں کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے؟
ج: مؤمنین کی قبروں کو کھودنا اور انہیں منہدم کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ یہ سڑکوں کی توسیع کیلئے ہی ہو اور اگر قبروں کو کھودنے کے نتیجے میں مسلمان میت کا بدن ظاہر ہو جائے یا مسلمان میت کی غیر بوسیدہ ہڈیاں مل جائیں تو انہیں نئے سرے سے دفن کرنا واجب ہے۔
س 260: اگر ایک شخص شرعی قوانین کی رعایت کئے بغیر مسلمانوں کے قبرستان کو منہدم کرے تو اس شخص کے مقابلے میں باقی مسلمانوں کا فریضہ کیا ہے؟
ج: باقی مسلمانوں پر واجب ہے کہ شرائط و مراتب کی رعایت کے ساتھ اسے نہی عن المنکر کریں اور اگر انہدام کے نتیجے میں مسلمان میت کی ہڈی ظاہر ہوجائے تو اسے دوبارہ دفن کرنا واجب ہے۔
س 261: میرے والد 36 سال قبل ایک قبرستان میں دفن کئے گئے تھے اور اب میں سوچ رہا ہو ں کہ وقف بورڈ سے اجازت لے کر اس قبر سے اپنے لئے استفادہ کروں، لیکن چونکہ یہ قبرستان وقف ہے اس لئے کیا میرے لئے اپنے بھائیوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے؟
ج: جس قبر کی زمین کو مردوں کی تدفین کے لئے وقف عام کیا گیاہے اسکی نسبت میت کے دیگر ورثاء سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے لیکن جب تک میت کی ہڈیاں مٹی نہ بن جائیں اس قبر کو دوسری میت کے دفن کرنے کے لئے کھودنا جائز نہیں ہے۔
س262: مسلمانوں کے قبرستان کو منہدم کرنے اوراسے کسی اور مرکز میں تبدیل کرنے کی کوئی راہ ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں۔
ج: جو قبرستان مسلمان میتوں کو دفن کرنے کے لئے وقف ہے اسے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔
س 263: کیا دینی مرجع سے اجازت لینے کے بعد قبروں کا کھودنا اور اس قبرستان کو جو اموات کے دفن کے لئے وقف ہے، تبدیل کر کے کسی دوسرے کام میں لانا جائز ہے؟
ج: جن حالات میں قبر کھودنا اور میتوں کے دفن کیلئے وقف شدہ قبرستاں کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے، ان میں مرجع کی اجازت کا کوئی اثر نہیں ہے اور اگر کوئی استثنائی مورد ہو تو اشکال نہیں ہے۔
س 264: تقریباً بیس سال قبل ایک شخص کا انتقال ہوا تھا اور ابھی چند روز پہلے ہی اسی گاؤں میں ایک عورت کا انتقال ہوا ہے، لوگوں نے غلطی سے اس شخص کی قبر کھود کر عورت کو بھی اسی میں دفن کر دیا ہے، اس چیز کے پیش نظر کہ قبر میں اس مرد کے بدن کے کوئی آثار نہیں ہیں اس وقت ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
ج: مفروضہ سؤال کی روشنی میں اب دوسروں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اورصرف ایک میت کا دوسری میت کی قبر میں دفن کرنا اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتاکہ قبر کھود کر جسد کو دوسری قبر میں منتقل کیا جائے۔
س265: کسی راستے کے درمیان میں چار قبریں بنی ہوئی ہیں جو سڑک بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور دوسری طرف، قبروں کو کھودنے میں بھی شرعی اشکال ہے، گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں تا کہ بلدیہ شرع کے مخالف کام نہ کرے؟
ج: اگر سڑک بنانا قبور کے کھودنے پر موقوف نہ ہو، اور قبروں کے اوپر سے سڑک بنانا ممکن ہو یا قبروں کے کھودنے پر موقوف ہو لیکن سڑک بنانا ضروری ہوتو سڑک بنانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
- نجاسات کے احکام
نجاسات کے احکام
س 266: کیا خون پاک ہے؟
ج: جن جانداروں کا خون اچھل کر نکلتا ہو انکا خون نجس ہے۔
س 267: وہ خون جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں انسان کے اپنا سر دیوار سے ٹکرانے سے جاری ہوتا ہے اور اس بہنے والے خون کی چھینٹیں عزاداری میں شرکت کرنے والوں کے سروں اور چہروں پر پڑتی ہیں تو کیا وہ خون پاک ہے یا نہیں؟
ج: انسان کا خون ہر حال میں نجس ہے۔
س 268: کیا دھلنے کے بعد کپڑے پر موجود خون کا ہلکے رنگ کا دھبہ نجس ہے؟
ج: اگر خود خون نہ ہو اور فقط رنگ باقی رہ جائے تو وہ پاک ہے۔
س269: اگر انڈے میں خون کا ایک نقطہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: پاک ہے، لیکن اس کا کھانا حرام ہے۔
س 270: فعل حرام کے ذریعہ مجنب ہونے والے شخص اور نجاست خور حیوان کے پسینے کا کیا حکم ہے؟
ج: اقوی یہ ہے کہ وہ پاک ہے، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔
س271: میت کو آب سدر اور آب کافور سے غسل دینے کے بعد اور خالص پانی سے غسل دینے سے پہلے جو قطرے میت کے بدن سے ٹپکتے ہیں کیا وہ پاک ہیں یا نجس؟
ج: میت کا بدن اسوقت تک نجس ہے جب تک تیسرا غسل کامل نہ ہو جائے۔
س 272: ہاتھوں ، ہونٹوں یا پیروں سے بعض اوقات جو کھال جد اہوتی ہے، کیا وہ پاک ہے یا نجس؟
ج: ہاتھوں ، ہونٹوں یا بدن کے دیگر اعضاء سے کھال کے جو باریک چھلکے خود بخود جدا ہو جاتے ہیں، وہ پاک ہیں۔
س 273: جنگی محاذ پر ایک شخص کو ایسی حالت پیش آئی کہ وہ سور کو مارنے اور اسے کھانے پر مجبور ہوا، کیا اس کے بدن کی رطوبت اور لعاب دہن نجس ہیں؟
ج: حرام و نجس گوشت کھانے والے انسان کے بدن کی رطوبت اور لعاب دہن نجس نہیں ہیں لیکن رطوبت والی جو چیز بھی سور کے گوشت سے مس ہو گی وہ نجس ہو جائے گی۔
س 274: پینٹنگ اور تصویریں بنانے میں بالوں والے برش سے استفادہ کیا جاتاہے۔ انکی بہترین قسم عام طور پر سور کے بالوں سے بنی ہوئی ہوتی ہے اور غیر اسلامی ملکوں سے منگوائی جاتی ہے ایسے برش ہر جگہ خاص طور سے ایڈورٹائزنگ کے اور ثقافتی مراکز میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس قسم کے برش کے استعمال کے سلسلے میں شرعی حکم کیا ہے؟
ج: سور کے بال نجس ہیں اور ان سے ایسے امور میں استفادہ کرنا جائز نہیں ہے جن میں شرعاً طہارت شرط ہے، لیکن ایسے امور میں ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جن میں طہارت شرط نہیں ہے۔ اور اگر ان کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ سور کے بالوں سے بنے ہوئے ہیں یا نہیں تو ان کا استعمال ان امور میں بھی بلا اشکال ہے جن میں طہارت شرط ہے۔
س 275: کیا غیر اسلامی ممالک سے لایا جانے والا گوشت حلال ہے ؟ نیز طہارت و نجاست کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے ؟
ج: جب تک اس کا ذبح شرعی ثابت نہ ہوجائے وہ حرام ہے لیکن جب تک اس کے ذبح شرعی نہ ہونے کا یقین نہ ہو وہ پاک ہے۔
س 276: چمڑے اور دیگر حیوانی اجزاء جو غیر اسلامی ممالک سے آتے ہیں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
ج: اگر جانور کے ذبح شرعی ہونے کا احتمال ہو تو پاک ہیں لیکن اگر یقین ہو کہ شرعی طریقے سے ذبح نہیں ہوا تو نجس ہیں۔
س 277: اگر مجنب کا لباس منی سے نجس ہو جائے تو اول: یہ کہ اگر ہاتھ یا اس کپڑے میں سے کوئی ایک گیلا ہو تو ہاتھ سے اس لباس کو چھونے کا کیا حکم ہے؟ اور دوسرے: کیا مجنب کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی اور شخص کو وہ لباس پاک کرنے کے لئے دے؟ نیز کیا مجنب کے لئے ضروری ہے کہ وہ دھونے والے شخص کو بتائے کہ یہ نجس ہے؟
ج: منی نجس ہے اور جب سرایت کرنے والی رطوبت کے ساتھ اسے کوئی چیز لگے تو وہ بھی نجس ہو جائے گی، اور لباس دھونے والے کو یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ نجس ہے لیکن صاحب لباس کو جب تک اسکی طہارت کا یقین نہ ہو اس پر طہارت کے اثرات جاری نہیں کرسکتا۔
س 278: پیشاب کرنے کے بعد استبراء کرتا ہوں، لیکن اس کے ہمراہ ایک بہنے والی رطوبت نکلتی ہے جس سے منی کی بو آتی ہے کیا وہ نجس ہے ؟ نیز اس سلسلے میں نماز کے لئے میرا حکم بیان فرمائیں؟
ج: اگر اس کے منی ہونے کا یقین نہ ہو اور اس میں منی نکلنے کے سلسلے میں جو شرعی علامتیں بیان ہوئی ہیں وہ بھی نہ پائی جائیں تو وہ پاک ہے اور اس پر منی کا حکم نہیں لگے گا۔
س 279: کیا حرام گوشت پرندوں جیسے عقاب، طوطا، کوا اور جنگلی کوا ۔ کا پاخانہ نجس ہے ؟
ج: حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ نجس نہیں ہے ۔
س 280: توضیح المسائل میں لکھا ہے کہ ان حیوانات اور پرندوں کا پاخانہ نجس ہے جن کا گوشت حرام ہے تو جن حیوانات کا گوشت حلال ہے جیسے گائے، بکری یا مرغی کیا ان کا پاخانہ نجس ہے یا نہیں؟
ج: حلال گوشت جانوروں خواہ وہ پرندے ہوں یا دوسرے جانور انکا پاخانہ پاک ہے اور حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ بھی پاک ہے۔
س 281: اگر بیت الخلاء کی سیٹ کے اطراف یا اس کے اندر نجاست لگی ہو اور اس کو کر بھر پانی یا قلیل پانی سے دھویا جائے لیکن عین نجاست باقی رہ جائے تو کیا وہ جگہ جہاں عین نجاست نہ لگی ہو بلکہ صرف دھونے والا پانی اس تک پہنچا ہو، نجس ہے یا پاک ؟
ج: جس جگہ تک نجس پانی نہیں پہنچا، وہ پاک ہے۔
س 282: اگر مہمان، میزبان کے گھر کی کسی چیز کو نجس کر دے تو کیا اس پر اس کے بارے میں میزبان کو مطلع کرنا واجب ہے؟
ج: کھانے پینے والی چیزوں اور کھانے کے برتنوں کے علاوہ دوسری چیزوں کے سلسلے میں مطلع کرنا ضروری نہیں ہے۔
س 283: کیا کسی نجاست سے لگ کر نجس ہونے والی (متنجس) چیز سے لگنے والی چیز بھی نجس ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر نجس ہو جاتی ہے تو یہ حکم کتنے واسطوں تک جاری ہو گا؟
ج: عین نجاست سے لگنے والی چیز نجس ہو جاتی ہے اور اسی طرح اس سے لگنے والی دوسری چیز بھی اگر ان میں سے ایک تر ہو تونجس ہو جاتی ہے اور بنا بر احتیاط واجب اس سے لگنے والی تیسری چیزبھی نجس ہو جاتی ہے، لیکن یہ تیسری لگنے والی چیز کسی چیز کو نجس نہیں کرے گی۔
س 284: کیا جس جانور کو شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا اس کی کھال کے جوتے استعمال کرنے کی صورت میں وضو سے قبل ہمیشہ پیروں کا دھونا واجب ہے؟ بعض کہتے ہیں اگر جوتے کے اندر پیروں کو پسینہ آجائے تو واجب ہے، اور میں نے دیکھا ہے کہ ہر قسم کے جوتوں میں پیروں سے تھوڑا بہت پسینہ ضرور نکلتا ہے، اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: اگر یقین ہو کہ جوتا ایسے جانور کی کھال کا بنا ہوا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیاگیا تھا اور یقین ہو کہ مذکورہ جوتے میں پیر سے پسینہ نکلا ہے تو نماز کے لئے پیروں کا دھونا واجب ہے لیکن اگر شک ہوکہ پسینہ نکلاہے یا نہیں یا شک ہو کہ جس جانور کی کھال سے اسے بنایا گیا ہے اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیاتھا یا نہیں تو اس پر پاک ہونے کا حکم لگایا جائیگا.
س285: اس بچے کے گیلے ہاتھ، اس کے منہ کے پانی اور اس کی جوٹھی غذا کا کیا حکم ہے، جو ہمیشہ خود کو نجس کرتا رہتا ہے اور ان بچوں کا کیا حکم ہے جو اپنے گیلے ہاتھوں سے اپنے پیر چھوتے ہیں؟
ج: جب تک ان کے نجس ہونے کا یقین حاصل نہ ہو اس وقت تک یہ پاک ہیں۔
س 286: میں مسوڑھوں کے مرض میں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق انکی مالش کرناضروری ہے، اس عمل سے مسوڑھوں کے بعض حصے سیاہ ہو جاتے ہیں گویا ان کے اندر خون جمع ہو اور جب ان پر ٹشو پیپر رکھتا ہوں تو اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے، اس لئے میں اپنا منہ آب کر سے پاک کرتا ہوں، اس کے با وجود وہ جما ہوا خون کافی دیر تک باقی رہتا ہے اور دھونے سے ختم نہیں ہوتا پس آب کر سے ہٹنے کے بعد جو پانی میرے منہ کے اندر داخل ہواہے اور ان حصوں پر لگا ہے اور پھر منہ سے خارج ہوتاہے کیا وہ نجس ہے یا اسے لعاب دہن کا جزء شمار کیا جائے گا اور وہ پاک ہو گا؟
ج: پاک ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔
س 287: یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں جو کھانا کھاتا ہوں اور وہ مسوڑھوں میں جمع شدہ خون کے اجزاء سے مس ہوتا ہے کیا وہ نجس ہے یا پاک؟ اور اگر نجس ہے تو کیا اس کھانے کو نگلنے کے بعد منہ کا اندرونی حصہ نجس رہتا ہے؟
ج: مذکورہ فرض میں کھانا نجس نہیں ہے اور اس کے نگلنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور منہ کے اندر کی فضا بھی پاک ہے۔
س 288: مدت سے مشہور ہے کہ میک اپ کا سامان بچے کی اس ناف سے تیار کیا جاتا ہے جسے اسکی پیدائش کے بعد اس سے جدا کرتے ہیں یا خود جنین کی میت سے تیار کیا جاتا ہے ہم کبھی کبھی میک اپ کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، بلکہ بعض اوقات تو لپ اسٹک حلق سے نیچے بھی اتر جاتی ہے تو کیا یہ نجس ہے؟
ج: میک اپ کی چیزوں کے نجس ہونے کی افواہیں کوئی شرعی دلیل نہیں ہیں اور جب تک شریعت کے معتبر طریقوں سے ان کی نجاست ثابت نہیں ہوتی اس وقت تک ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 289: ہر لباس یا کپڑے کو دھوتے وقت اس سے بہت ہی باریک روئیں گرتی رہتی ہیں اور جب ہم کپڑے دھونے والے ٹب کے پانی کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ باریک روئیں نظر آتی ہیں، پس اگرٹب پانی سے بھرا ہوا ہو اور اس کا اتصال نل کے پانی سے ہو تو جب میں ٹب میں لباس کو غوطہ دیتا ہوں اورٹب سے پانی باہر گرنے لگتا ہے تو ٹب سے گرنے والے پانی میں ان روؤں کی موجودگی کی وجہ سے میں احتیاطاً ہر جگہ کو پاک کرتا ہوں یا جب میں بچوں کے نجس کپڑے باہر نکالتا ہوں تو اس جگہ کو بھی پاک کرتا ہوں جہاں لباس باہر نکالا گیا تھا، خواہ وہ جگہ خشک ہی ہو اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں وہ روئیں اس جگہ گری ہیں کیا یہ احتیاط ضروری ہے؟
ج: جو لباس دھونے کیلئے ٹب میں رکھا جاتا ہے اور پھر اس پر نل سے پانی ڈالا جاتا ہے جو اسے پوری طرح گھیرلیتا ہے اور اس سے جدا ہوتا ہے یا پانی کے اندر لباس کو اِدھر اُدھر کیا جاتا ہے تو یہ لباس ، ٹب ،پانی اور وہ روئیں جو لباس سے جدا ہوتی ہیں اور پانی پرنظر آتی ہیں اور پانی کے ہمراہ ٹب سے باہر گرتی ہیں سب پاک ہیں اور وہ روئیں یا غبار جو نجس لباس سے جدا ہوتی ہیں وہ بھی پاک ہیں مگر جب یقین ہو کہ یہ نجس حصے سے جدا ہوئے ہیں اور جب شک ہو کہ یہ نجس لباس سے جدا ہوئے ہیں یا نہیں یا شک ہو کہ لباس کی نجس جگہ سے جدا ہوئے ہیں یا نہیں تو احتیاط کرنا ضروری نہیں ہے ۔
س 290: اس رطوبت کی مقدار کیا ہے جو ایک چیز سے دوسری چیز میں سرایت کرتی ہے؟
ج: سرایت کرنے والی رطوبت کا معیار یہ ہے کہ کوئی گیلی چیز جب دوسری چیز کو لگے تو اس کی رطوبت اس دوسری چیز کی طرف سرایت کرجائے ۔
س 291: ان کپڑوں کے پاک ہونے کا کیا حکم ہے جو ڈرائی کلیننگ پر دیے جاتے ہیں؟ اس بات کی وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ دینی اقلیتیں (مثلاً یہودی اور عیسائی و غیرہ) بھی اپنے کپڑے دھونے اور استری کرنے کے لئے انہیں جگہوں پر دیتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ ڈرائی کلین کرنے والے، کپڑے دھونے میں کیمیکل مواد استعمال کرتے ہیں۔
ج: جو کپڑے ڈرائی کلیننگ میں دیے جاتے ہیں، اگر وہ پہلے سے نجس نہ ہوں تو پاک ہیں اور (اہل کتاب) دینی اقلیتوں کے کپڑوں کے ساتھ لگنا ان کے نجس ہونے کا باعث نہیں بنتا۔
س 292: جو کپڑے گھر کی آٹومیٹک کپڑے دھونے والی مشین سے دھوئے جاتے ہیں، کیا وہ پاک ہوجاتے ہیں یا نہیں؟ مذکورہ مشین اس طرح کام کرتی ہے کہ پہلے مرحلے میں مشین کپڑوں کو کپڑے دھونے والے پاؤڈر سے دھوتی ہے جس کی وجہ سے کچھ پانی اور کپڑوں کا جھاگ مشین کے دروازے کے شیشے اور اسکے اطراف میں لگے ہوئے ربڑ کے خول پر پھیل جاتا ہے دوسرے مرحلے میں دھوون (غسالہ ) کو نکال دیا جاتا ہے لیکن جھاگ اس کے دروازے اور ربڑ کے خول کو پوری طرح گھیر لیتا ہے اور اگلے مراحل میں مشین کپڑوں کو تین مرتبہ آب قلیل سے دھوتی ہے پھر اس کے بعد دھوون کو باہر نکالتی ہے، تو کیا اس طرح دھوئے جانے والے کپڑے پاک ہوتے ہیں یا نہیں؟
ج: ڈرائی کلیننگ مشین کے ذریعے کپڑے پاک کرنے کے حوالے سے اگر عین نجاست زائل ہونے کے بعد کپڑے ایک دفعہ کُر سے متصل پانی سے دھوئے جائیں اور نیز اگر کپڑے ڈالنے سے پہلے مشین کا اندرونی حصہ پاک ہو اور دو دفعہ قلیل پانی سے دھویا جائے اور معمول کے مطابق ان کا پانی نکال دیا جائے تو لباس پاک ہوجاتا ہے۔
س293: اگر ایسی زمین پر یا حوض یا حمام میںکہ جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں، پانی بہایا جائے اور اس پانی کے چھینٹے لباس پر پڑ جائیں تو کیا وہ نجس ہوجائے گا یا نہیں؟
ج: اگر پانی پاک جگہ یا پاک زمین پر بہایا جائے تو اس سے پڑنے والے چھینٹے بھی پاک ہیں اورگر شک ہوکہ وہ جگہ پاک ہے یا نجس تو بھی اس سے پڑنے والے چھینٹے پاک ہیں۔
س 294: بلدیہ کی کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں سے جو پانی سڑکوں پر ٹپکتاجاتا ہے اور بعض اوقات تند ہوا کی وجہ سے لوگوں کے کپڑوں پر بھی پڑ جاتا ہے، کیا وہ پانی پاک ہے یا نجس؟
ج: یه پانی پاک ہے مگر یہ کہ نجاست سے لگنے کی وجہ سے اس پانی کے نجس ہونے کا کسی شخص کو یقین ہو جائے۔
س 295: سڑکوں پر موجود گڑھوں میں جمع ہوجانے والا پانی، پاک ہے یا نجس؟
ج: پاک ہے۔
س296: ان لوگوں کے ساتھ گھریلو رفت و آمد رکھنے کا کیا حکم ہے جو کھانے پینے وغیرہ میں طہارت و نجاست کے مسائل کا خیال نہیں کرتے؟
ج: طہارت و نجاست کے بارے میں کلی طور پر شریعت اسلامی کا حکم یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو پاک ہے۔
س 297: براہ مہربانی درج ذیل صورتوں میں قے کی طہارت اور نجاست کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں۔
الف۔ شیر خوار بچے کی قے۔
ب۔ اس بچے کی قے جو دودھ پیتا ہے اور کھانا بھی کھاتا ہے۔
ج۔ بالغ انسان کی قے۔ج: تمام صورتوں میں پاک ہے۔
س 298: (اطراف )شبہہ محصورہ ( چند ایسی چیزیں جن میں سے ایک نجس ہے) سے لگنے والی چیز کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر ان میں سے بعض چیزوں سے لگے تو نجس نہیں ہے۔
س299: ایک شخص کھا نا بیچتا ہے اور سرایت کرنے والی تری کے ساتھ کھا نے کو اپنے جسم سے چھوتا ہے، لیکن اس کے دین کا پتہ نہیں ہے اور وہ کسی دوسرے ملک سے اسلامی ملک میں کام کرنے کیلئے آیا ہے کیا اس سے اس کے دین کے بارے میں سوال کرنا واجب ہے؟ یا اس پر اصالت طہارت کا حکم جاری ہوگا؟
ج: اس سے اس کا دین پوچھنا واجب نہیں ہے اور اس شخص کے بارے میں اور رطوبت کے ساتھ اس کے جسم سے لگنے والی چیز کے بارے میں اصالت طہارت جاری کریں گے۔
س 300: اگر گھر کا کوئی فرد یا جس کی گھر میں رفت و آمد ہے طہارت و نجاست کا خیال نہ رکھتا ہو جس سے گھر اور اس میں موجود چیزیں وسیع پیمانہ پر نجس ہو جائیں کہ جن کا دھونا اور پاک کرنا ممکن نہ ہوتواس صورت میں گھر والوں کا فریضہ کیا ہے؟ ایسی صورت میں انسان کیسے پاک رہ سکتا ہے خصوصاً نماز میں کہ جس کے صحیح ہونے میں طہارت شرط ہے؟ اور اس سلسلہ میں حکم کیا ہے؟
ج: تمام گھر کو پاک کرنا ضروری نہیں ہے اور نماز صحیح ہونے کے لئے نماز گزار کا لباس اور سجدہ گاہ کا پاک ہونا کافی ہے۔ گھر اور اس کے سامان کی نجاست کی وجہ سے، نماز اور کھانے پینے میں طہارت کا لحاظ رکھنے کے علاوہ انسان پر کوئی مزید ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
- نشہ آور چیزیں
نشہ آور چیزوں کے احکام
س 301: کیا ایسے مشروبات جن میں الکحل کا استعمال ہوتا ہے نجس ہیں ؟
ج: مست کردینے والے مشروبات بنابر احتیاط نجس ہیں۔
س 302: انگور کے اس پانی کا کیا حکم ہے جس کو آگ پر ابالا گیا ہو اور اس کا دوتہائی حصہ ختم نہ ہوا ہو، لیکن وہ نشہ آور بھی نہ ہو؟
ج: اس کا پینا حرام ہے، لیکن وہ نجس نہیں ہے۔
س 303: کہا جاتا ہے کہ اگر کچے انگور کی کچھ مقدار کو اس کا پانی نکالنے کے لئے ابالا جائے اور اس کے ہمراہ انگور کے کچھ دانے بھی ہوں تو ابال آجانے کے بعدجو باقی رہ جاتا ہے وہ حرام ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟
ج: اگر انگور کے دانوں کا پانی بہت ہی کم ہو اور وہ کچے انگور کے پانی میں اس طرح مل کر ختم ہو گیا ہو کہ اسے انگور کا پانی نہ کہا جاتا ہو تو وہ حلال ہے، لیکن اگر خود انگور کے دانوں کو آگ پر ابالا جائے تو وہ حرام ہیں۔
س 304: دور حاضر میں بہت سی دواؤں میں بالخصوص پینے والی دواؤں- کہ جو مست کرنے والی نہیں ہوتیں-، عطریات اور پرفیومز میں الکحل استعمال ہوتا ہے تو کیا ان دواؤں اور عطریات کی خرید و فروخت اور استعمال کرنا جائز ہے؟
ج: الکحل پاک ہے اور مذکورہ موارد میں اس کی خرید و فروخت اور استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 305: کیا ہاتھ اور طبی آلات جیسے تھرمامیٹر و غیرہ کو طبی امور میں استعمال کرنے کی غرض سے جراثیم سے پاک کرنے کیلئے نیز ڈاکٹر یا میڈیکل بورڈ کے ذریعہ علاج کی غرض سے سفید الکحل کا استعمال جائز ہے؟ سفید الکحل وہی طبی الکحل ہے جو پینے کے قابل بھی ہے، کیا جس کپڑے پر اس الکحل کا ایک قطرہ یا اس سے زیادہ گرجائے، اس کپڑے میں نماز جائز ہے؟
ج: بطور کلی الکحل پاک ہے اور جس لباس پر یہ لگا ہو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اس لباس کو پا ک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
س 306: " کفیر" ایک ایسا مادہ ہے جو غذاؤں اور دواؤں کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے، اس کا خمیر بنانے کے دوران اس سے حاصل شدہ مادہ میں %5 یا %8 الکحل وجود میں آجاتا ہے۔ الکحل کی یہ قلیل مقدار اسے استعمال کرنے والے کیلئے کسی قسم کے نشہ کا سبب نہیں بنتی۔ کیا شریعت کی رو سے اس کے استعمال میں کوئی مانع ہے یا نہیں؟
ج: سوال کے فرض میں مذکورہ مادہ پاک ہے اور اسے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 307:
١۔ ایتھل الکحل نجس ہے یا نہیں؟
٢۔ الکحل کی نجاست کا معیار کیا ہے؟ج۱و۲: بطور کلی الکحل کی تمام قسمیں پاک ہیں، سوائے اس کے کہ جسے پینے کے قابل بنانے کے لئے رقیق کیا جائے اور نشہ آور ہو تو اس صورت میں اسے پینا حرام اور احتیاط واجب کی بنا پر وہ نجس ہے اور نشہ آور ہونے کی تشخیص مکلف اور عرف کے ذمے ہے۔
س 308: بازار میں موجود وہ بعض مشروبات جو ملک کے اندر بنتے ہیں اور کہا جاتا ہے ان کا اصلی مواد باہر سے منگوایا جاتا ہے اور احتمال ہے کہ اس میں مادۂ الکحل پایا جاتا ہو، کیا حکم رکھتے ہیں؟
ج: سوال کے فرض میں پاک ہیں اور انہیں پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 309: کیا غذائی مواد خریدتے وقت اس بات کی تحقیق ضروری ہے کہ اس کے بیچنے یا بنانے والے غیر مسلم نے اسے ہاتھ سے چھوا ہے یا نہیں یا اس کے بنانے میں الکحل استعمال کیاگیاہے یا نہیں؟
ج: پوچھنا اور تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے۔
س 310: میں " اٹروپین سلفیٹ اسپرے" بناتا ہوں کہ جس کے فارمولے میں الکحل بنیادی حیثیت رکھتا ہے یعنی اگر ہم اس میں الکحل کا اضافہ نہ کریں تو اسپرے نہیں بن سکتا ہے۔ سائنسی لحاظ سے مذکورہ اسپرے ایک ایسا دفاعی اسلحہ ہے جس سے لشکر اسلام جنگ میں اعصاب پر اثر انداز ہونے والی کیمیاوی گیسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ کیا آپ کی رائے میں شرعی طور پر الکحل کا یوں دوا بنانے کے لئے استعمال جائز ہے؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- وسوسہ اور اس کا علاج
وسوسہ اور اس کا علاج
س 311: چند سالوں سے میں وسواس کی بیماری میں مبتلا ہوں، یہ چیز میرے لئے بڑی تکلیف دہ ہے۔ اور یہ وسواس کی حالت دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے، یہاں تک کہ میں ہر چیز میں شک کرنے لگا ہوں۔ میری پوری زندگی شک پر قائم ہے۔ مجھے زیادہ تر شک کھانے پینے کی اور تر چیزوں میں ہوتا ہے۔ لہذا میں عام لوگوں کی طرح معمول کی زندگی نہیں گزار سکتا چنانچہ جب میں کسی جگہ میں داخل ہوتا ہوں تو فوراًاپنی جورابیں اتار لیتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جورابیں پسینہ سے تر ہیں اورنجس چیز کے ساتھ لگنے سے نجس ہو جائیں گے یہاں تک کہ میںجائے نماز پر بھی نہیں بیٹھ سکتا اور جب بیٹھ جاتا ہوں تو نفس کے وسوسے کی وجہ سے اس سے اٹھ جاتا ہوں کہ کہیں جائے نماز کی روئیں میرے لباس پر نہ لگ جائیں اور پھر میں انہیں پانی سے دھونے پر مجبور ہو جاؤں گا پہلے میری یہ حالت نہیں تھی، لیکن اب تو مجھے اپنے ان اعمال سے شرم آتی ہے، ہمیشہ یہی دل چاہتا ہے کہ کسی کو خواب میں دیکھوں اور اس سے سوال کروں، یا کوئی معجزہ واقع ہو جس سے میری زندگی بدل جائے اور میں پہلے جیسا ہو جاؤں، امید ہے کہ میری ہدایت فرمائیں گے؟
ج: طہارت و نجاست کے احکام وہی ہیں جن کو تفصیل کے ساتھ احکام کی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے اور شریعت کی رو سے ہر چیز پاک ہے سوائے اس کے جس کو شارع نے نجس قرار دیا ہو اور انسان کو اس کے نجس ہونے کا یقین حاصل ہو گیا ہو۔ اور اس حالت میں وسواس سے نجات کیلئے خواب یا معجزہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مکلف کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ذاتی ذوق کو ایک طرف رکھ دے اور شریعت مقدسہ کی تعلیمات کے سامنے سراپا تسلیم ہو جائے، ان پر ایمان لے آئے اور اس چیز کو نجس نہ سمجھے جس کے نجس ہونے کا اسے یقین نہ ہو آپ کو یہ یقین کہاں سے حاصل ہوا کہ دروازہ، دیوار، جائے نماز اورآپ کے استعمال کی تمام چیزیں نجس ہیں؟ آپ نے کیسے یہ یقین کر لیا کہ جائے نماز کی روئیں جن پر آپ چلتے یا بیٹھتے ہیں نجس ہیں اور ان کی نجاست آپ کی جورابوں، لباس اور بدن تک سرایت کر جائے گی؟ ! بہر صورت اس حالت میں آپ کے لئے اس وسواس کی اعتناء کرنا جائز نہیں ہے۔ پس کسی حد تک نجاست کے وسواس کی پروا نہ کرنا اور عدم اعتناء کی تمرین کرنا اس بات کا سبب بنیں گے کہ اللہ کی توفیق کے ساتھ آپ اپنے نفس کو وسواس کے چنگل سے نجات دے سکیں۔
س 312: میں ایک عورت ہوں میرے چند بچے ہیں میں اعلی تعلیم یافتہ ہوں، میرے لئے مسئلہ طہارت مشکل بنا ہوا ہے چونکہ میں نے ایک دیندار گھرانے میں پرورش پائی ہے اور میں تمام اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہتی ہوں، لیکن چونکہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، لہذا ہمیشہ ان کے پیشاب وپاخانہ کے مسائل میں مشغول رہتی ہوں اور ان کا پیشاب پاک کرتے وقت سَیْفَنْ کے پانی کے چھینٹے اڑ کر میرے ہاتھوں، پیروں یہاں تک کہ سر پر بھی پڑ جاتے ہیں اورمیں ہر مرتبہ ان اعضاء کو پاک کرنے کی مشکل سے دوچار ہو جاتی ہوں، اس سے میری زندگی میں بہت سی مشکلیں پیدا ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف ان امور کی رعایت کو میں ترک نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کا تعلق میرے دین اور عقیدہ سے ہے، میں نے ماہر نفسیات سے رجوع کیا ہے، لیکن کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی۔ اس کے علاوہ دیگر امور بھی میری پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں جیسے نجس چیز کا غبار، بچے کے ہاتھوں کی دیکھ بھال کرنا کہ جنہیں یا تو حتما پاک کروں یا پھر اسے دوسری چیزوں کے چھونے سے باز رکھوں۔ میرے لئے نجس چیز کا پاک کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن ان برتنوں اور کپڑوں کا دھونا میرے لئے آسان ہے جو صرف میلے یا گندے ہوں، امید ہے کہ آپ کی راہنمائی سے میری زندگی آسان ہو جائے گی۔
ج:
1) شریعت کی نظر میں طہارت و نجاست کے باب میں اصل طہارت ہے اور جب تک کسی چیز کے نجس ہونے پر ہمیں یقین نہ ہو، وہ چیز پاک ہے اگرچہ ہم اس کے نجس ہونے کا زیادہ احتمال دیں۔
2) جو لوگ طہارت اور نجاست کے امور میں شدید نفسیاتی حساسیت کا شکار ہیں مثلاً دوسروں سے زیادہ جلدی نجاست پر یقین کرتے ہیں یا دوسروں سے زیادہ دیر سے کسی چیز کے پاک ہونے پر یقین کرتے ہیں، ایسے افراد کو فقہ میں وسواسی کہا جاتا ہے۔ اگر وسواسی کو کسی چیز کے نجس ہونے پر یقین ہوجائے تو معمول کے مطابق ہونے والے یقین کے علاوہ باقی صورتوں میں لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے یقین پر عمل کرے۔ وسواسی اگر کسی چیز کو دھوئے تو نجاست برطرف ہونے اور طہارت پراس کو ذاتی طور پر یقین حاصل ہونا لازم نہیں بلکہ معمول کے مطابق دھونا (لوگوں کی عام حالت) معیار ہے۔ وسواسی کا حکم جب تک نفسیاتی حساسیت برطرف نہ ہوجایے باقی رہے گا۔
3) ہر وہ چیز یا عضو جو نجس ہوجائے اس کی طہارت کے لئے، عین نجاست زائل ہونے کے بعد اسے ایک مرتبہ شہر کو پانی سپلائی کرنے والے پائپوں سے متصل پانی سے دھونا کافی ہے اور دوبارہ دھونا یا پانی کے نیچے رکھنا واجب نہیں ہے اور اگر وہ نجس ہونے والی چیز کپڑے و غیرہ جیسی ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اسے بقدر معمول نچوڑیں یا جھاڑیں تا کہ اس سے پانی نکل جائے۔
4) چونکہ آپ نجاست کے سلسلہ میں بے حد حساس ہو چکی ہیں، پس جان لیجئے کہ نجس غبار آپ کے لئے کسی صورت میں بھی نجس نہیں ہے اور بچے کے پاک یا نجس ہاتھ کی دیکھ بھال کرنا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں دقت کرنا ضروری ہے کہ بدن سے خون زائل ہوا ہے یا نہیں اور آپ کے لئے یہ حکم اس وقت تک باقی ہے جب تک مکمل طور پر آپ کی حساسیت ختم نہیں ہو جاتی۔
5) دین اسلام کے احکام سہل و آسان اور فطرت انسانی کے موافق ہیں انہیں اپنے لئے مشکل نہ بنائیے اور اپنے بدن اور روح کو تکلیف و ضرر میں مبتلا نہ کیجئے، کیونکہ ان موارد میں پریشانی اور اضطراب آپ کی زندگی کو تلخ بنادیں گے بے شک خدائے متعال اس بات سے خوش نہیں ہے کہ آپ اور آپ کے متعلقین عذاب میں مبتلا ہوں۔ آسان دین کی نعمت پر شکر ادا کیجئے اور اس نعمت پر شکر ادا کرنا یہ ہے کہ تعلیمات الٰہی کے مطابق عمل کیا جائے۔
اور اس نعمت پر شکر ادا کرنا یہ ہے کہ تعلیمات الٰہی کے مطابق عمل کیا جائے۔
٦) آپ کی موجودہ کیفیت وقتی اور قابل علاج ہے، اس میں مبتلا ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے مذکورہ تمرین کے مطابق عمل کر کے اس سے نجات حاصل کی ہے، خداوندمتعال پر بھروسہ کیجئے اور اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کیجئے انشاء اﷲ خداتعالیٰ آپ کو اسکی توفیق عطا فرمائے گا ۔
یہ حکم وسواسی افراد کے لئے اس وقت تک باقی ہے جب تک مکمل طور پر ان کی حساسیت ختم نہیں ہو جاتی۔ - کافر کے احکام
کافر کے احکام
س 313: بعض فقہا اہل کتاب کو نجس اور بعض انہیں پاک قرار دیتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: اہل کتاب کی ذاتی نجاست ثابت نہیں ہے، بلکہ ہماری نظر میں ان پر ذاتی طہارت کا حکم لگایا جائیگا۔
س 314: وہ اہل کتاب جو اعتقادی لحاظ سے حضرت خاتم النبینؐ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اپنے آباء و اجداد کی سیرت اور روش کے مطابق عمل کرتے ہیں، کیا وہ طہارت کے مسئلے میں کافر کے حکم میں ہیں یا نہیں؟
ج: صرف پیغمبر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت پر اعتقاد رکھنا، اسلام کے تحت آنے کے لئے کافی نہیں ہے، لیکن اگر ان کا شمار اہل کتاب میں سے ہوتا ہو تو وہ پاک ہیں۔
س315: میں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک گھر کرایہ پر لیا، ہمیں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک نماز نہیں پڑھتا، اس سے وضاحت طلب کرنے پر اس نے جواب دیا کہ وہ دل سے تو خداوند متعال پر ایمان رکھتا ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ اس بات کے پیش نظر کہ ہم اس کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور اس سے بہت زیادہ گھلے ملے ہوئے ہیں، کیا وہ نجس ہے یا پاک؟
ج: صرف نماز و روزہ اور دوسرے شرعی واجبات کا ترک کرنا، مسلمان کے مرتد، کافر اور نجس ہونے کا موجب نہیں بنتا، بلکہ جب تک اس کا مرتد ہونا ثابت نہ ہوجائے، اس کا حکم باقی مسلمانوں جیسا ہے۔
س 316: اہل کتاب سے کون لوگ مراد ہیں؟ اور وہ معیار کیا ہے جو ان کے ساتھ رہن سہن کے حدود کو معین کرتا ہے؟
ج: اہل کتاب سے مراد ایسے تمام افراد ہیں کہ جو کسی الٰہی دین پر اعتقاد رکھتے ہوں اور اپنے آپ کو اللہ تعالی کے انبیاء میں سے کسی نبیؐ کے پیروکار سمجھتے ہوں اور ان کے پاس انبیاء پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو، جیسے یہودی، عیسائی، زرتشتی اور اسی طرح صابئی ۔ جوہماری تحقیق کی رو سے۔ اہل کتاب ہیں۔ پس ان سب کا حکم اہل کتاب کا حکم ہے اور اسلامی قوانین و اخلاق کی رعایت کرتے ہوئے ان سب کے ساتھ معاشرت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 317: ایک فرقہ ہے جو اپنے کو "علی اللہٰی" کہتا ہے۔ وہ لوگ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خدا سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ دعا اور طلب حاجت، نماز اور روزے کا بدل ہیں، کیا یہ لوگ نجس ہیں؟
ج: اگر وہ امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام کو اللہ مانتے ہیں "تعالی اللہ عن ذلک علواً کبیراً" تو ان کا حکم اہل کتاب کے سوا دوسرے غیر مسلموں جیسا ہے یعنی کافر اور نجس ہیں۔
س 318: ایک فرقہ ہے جس کا نام " علی اللہٰی" ہے اس کے ماننے والے کہتے ہیں علی خدا تو نہیں ہیں، لیکن خدا سے کم بھی نہیں ہیں، ان لوگوں کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر وہ (حضرت علی) کو خدائے واحد منان و متعال کا شریک قرار نہیں دیتے تو مشرک کے حکم میں نہیں ہیں۔
س 319: شیعہ اثنا عشری نے امام حسین یا اصحاب کساء (پنجتن پاک) کے لئے جس چیز کی نذر کی ہے کیا اس نذر کو ایسے مراکز میں دینا صحیح ہے، جہاں فرقۂ "علی اللہٰی" کے ماننے والوں کا اجتماع ہوتا ہے اس طرح کہ یہ نذر انکے مراکز کی تقویت کا باعث بنے؟
ج: مولائے موحدین (حضرت علی ) کو خدا ماننے کا عقیدہ باطل ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے۔ ایسے فاسد عقیدے کی ترویج میں مدد کرنا حرام ہے، مزید یہ کہ اگر مال کو کسی خاص مورد کے لئے نذر کیا گیا ہو تو اسے دوسری جگہ پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
س 320: ہمارے علاقے اور بعض دوسرے علاقوں میں ایک فرقہ پایا جاتا ہے جو اپنے آپ کو "اسماعیلیہ" کہتا ہے وہ لوگ چھ اماموں (پہلے امام سے چھٹے امام تک) پر اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن دینی واجبات میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے، اسی طرح وہ ولایت فقیہ کو بھی نہیں مانتے، لہذا بیان فرمائیں کہ اس فرقے کی پیروی کرنے والے نجس ہیں یا پاک؟
ج: صرف باقی چھ ائمہ معصومین یا احکام شرعیہ میں سے کسی حکم پر اعتقاد نہ رکھنا، اگر اصل شریعت سے انکار کی طرف بازگشت نہ کرے اورنہ ہی خاتم الانبیاء (علیہ وعلی آلہ الصلاة و السلام )کی نبوت سے انکار کا باعث ہو تو وہ کفر و نجاست کا موجب نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ لوگ ائمہ علیہم السلام میں سے کسی امام کو برا بھلا کہیں اور اسکی اہانت کریں۔
س 321: ہماری تعلیم اور رہائش کے علاقے کی اکثر آبادی بدھ مذہب کے ماننے والے کافروں کی ہے، لذا اگر یونیورسٹی کا کوئی طالب علم کرایہ پر مکان لے تو اس مکان کی طہارت و نجاست کا کیا حکم ہے؟ کیا اس مکان کو دھونا اور اسے پاک کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا مناسب ہے کہ یہاں اکثر مکان لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور ان کا دھونا ممکن نہیں ہے، نیز ہوٹلوں، سامان اور ان میں موجود دیگر چیزوں کا کیا حکم ہے؟
ج: جس چیز کو آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں جب تک آپ کو اس کے غیر کتابی کافر کے تر ہاتھ اور بدن کے ساتھ مس ہونے کا یقین نہ ہو، اس پر نجاست کا حکم نہیں لگے گا اور نجاست کا یقین ہونے کی صورت میں ہوٹلوں اور مکانوں کے دروازوں اور دیواروں کا پاک کرنا واجب نہیں ہے اور نہ ہی سامان اور ان چیزوں کا پاک کرنا واجب ہے جو ان میں موجود ہیں، بلکہ کھانے پینے اور نماز کے لئے استعمال کی جانے والی چیزیں اگر نجس ہوں تو ان کا پاک کرنا واجب ہے۔
س 322: خوزستان (ایران کا ایک شہر) میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو "صابئہ" کہتے ہیں وہ کہتے ہیں : ہم جناب یحیی کے ماننے والے ہیں اور ان کی کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔ اور ادیان شناس علما کے نزدیک بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وہی صابئین ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔کیا یہ لوگ اہل کتاب میں سے ہیں یا نہیں؟
ج: مذکورہ گروہ اہل کتاب کے حکم میں ہے۔
س 323: یہ جو کہا جاتا ہے کہ کافر کے ہاتھ کا بنا ہوا گھر نجس ہے اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، کیا صحیح ہے؟
ج: ایسے گھر میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔
س 324: یہود و نصاریٰ اور کفار کے دیگر فرقوں کے یہاں کام کرنے اور ان سے اجرت لینے کا کیا حکم ہے؟
ج: اس میں بذات خود کوئی مانع نہیں ہے بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو اور نہ ہی اسلام و مسلمین کے مفادات عامہ کے خلاف ہو۔
س 325: جس جگہ ہم رضا کار کے طور پر ڈیوٹی کر رہے ہیں وہاں بعض ایسے قبیلے ہیں جن کا تعلق " اہل حق" نامی فرقہ سے ہے کیا ان کے ہاں موجود دودھ، دہی اور مکھن سے استفادہ کرنا جائز ہے؟
ج: اگر وہ اصول اسلام کے معتقد ہوں تو وہ طہارت و نجاست کے مسئلے میں باقی مسلمانوں کے حکم میں ہیں۔
س 326: جس گاؤں میں ہم پڑھاتے ہیں وہاں کے لوگ نماز نہیں پڑھتے، کیونکہ وہ فرقہ "اہل حق" سے ہیں اور ہم ان سے روٹی لینے اور ان کے یہاں کھانا کھانے پر مجبور ہیں، کیونکہ ہم رات دن اسی گاؤں میں رہتے ہیں، تو کیا ہماری نمازوں میں کوئی اشکال ہے؟
ج: اگر وہ توحید ، نبوت اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہ ہوں اور نہ رسول اسلام ؐ کی رسالت میں کسی نقص کے معتقد ہوں تو ان پر نہ کفر کا حکم لگے گا اور نہ ہی نجاست کا، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ان کا کھانا کھانے اور انہیں چھونے کی صورت میں طہارت و نجاست کا لحاظ رکھنا واجب ہے۔
س 327: ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک صاحب کمیونسٹ تھے، انہوں نے بچپن میں ہمیں بہت ساری چیزیں اور مال دیا تھا، پس اگر وہ مال اور چیزیں بنفسہ موجود ہوں تو ان کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر اس کا کفر اور ارتداد ثابت ہو جائے اور اس نے سن بلوغ میں اظہار اسلام سے پہلے کفر اخیتار کیا ہو تو اس کے اموال کا حکم وہی ہے جو دوسرے کافروں کے اموال کا ہے۔
س 328: مندرجہ ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں۔
١۔ پرائمری، مڈل اور اس سے بالاتر کلاسوں کے مسلمان طلباء کا "بہائی" فرقے کے طلباء کے ساتھ ملنے جلنے، اٹھنے بیٹھنے اور ان سے ہاتھ ملانے کا حکم کیا ہے، خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، مکلف ہوں یا غیر مکلف، اسکول کے اندر یا اس سے باہر؟
٢۔ جو طلباء اپنے آپ کو "بہائی" کہتے ہیں یا فرضاً جن کے "بہائی" ہونے کا یقین ہو جائے ان کے ساتھ اساتذہ اور مربی حضرات کس طرح کا رویہ رکھیں؟
٣ ۔ جن چیزوں کو سارے طلباء استعمال کرتے ہوں ان سے استفادہ کرنے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، جیسے پانی پینے کا نل یا بیت الخلاء کا نل، لوٹا اور صابن و غیرہ جبکہ ہمیں ہاتھ اور بدن کے مرطوب ہونے کا علم ہوتا ہے؟ج: گمراہ فرقۂ "بہائیہ "کے تمام افراد نجس ہیں، اور ان کے کسی چیز کو چھونے کی صورت میں جن امور میں طہارت شرط ہے، ان میں طہارت کا لحاظ رکھنا واجب ہے، لیکن پرنسپل، اساتذہ اور مربیوں پر لازم ہے کہ ان کا رویہ "بہائی" طلباء کے ساتھ قانون اور اسلامی اخلاق کے مطابق ہو۔
س 329: اسلامی معاشرے میں "بہائی" فرقہ کے پیروکاروں کی موجودگی کے جو اثرات ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مؤمنین اور مؤمنات کی کیا ذمہ داری ہے؟
ج: تمام مؤمنین گمراہ "بہائی" فرقہ کی فتنہ پردازی اور ان کے مکر و حیلے کا مقابلہ کریں اور دوسروں کو اس گمراہ فرقہ کے ساتھ مل جانے اور ان کے ذریعہ منحرف ہونے سے بچائیں۔
س 330: بعض اوقات گمراہ "بہائی" فرقہ کے پیروکار کھانے کی چیزیں یا دوسری اشیاء ہمارے پاس لاتے ہیں، تو کیا ان کا استعمال کرنا ہمارے لئے جائز ہے؟
ج: اس ضال و مضل فرقے کے ساتھ ہر قسم کے لین دین سے اجتناب کریں۔
س 331: ہمارے پڑوس میں بہت سے "بہائی" رہتے ہیں اور ہمارے گھر ان کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ "بہائی" نجس ہیں اوربعض کہتے ہیں پاک ہیں، اور یہ "بہائی" بہت اچھے اخلاق کا اظہار کرتے ہیں، پس کیا وہ نجس ہیں یا پاک ہیں؟
ج: وہ نجس ہیں اور تمہارے دین اور ایمان کے دشمن ہیں، پس اے میرے عزیز بیٹوان سے سنجیدگی کے ساتھ پرہیز کرو۔
س 332: بسوں اور ریل گاڑیوں کی ان سیٹوں کا کیا حکم ہے جن کو مسلمان اور کافر دونوں استعمال کرتے ہیں حالانکہ بعض علاقوں میں کافروں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہے، کیا یہ سیٹیں پاک ہیں؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ گرمی کی وجہ سے پسینہ نکلتا ہے بلکہ وہ پسینہ ان میں سرایت کر جاتا ہے۔
ج: اہل کتاب کفار پاک ہیں بہرحال جن چیزوں کو مسلمان اور کافر دونوں استعمال کرتے ہیں جب تک انکی نجاست کا علم نہ ہو وہ پاک ہیں ۔
س 333: دوسرے ممالک میں پڑھنے کا لازمہ یہ ہے کہ کافروں کے ساتھ رہن سہن اور تعلقات رکھے جائیں ایسے موقع پر ان کی تیار کردہ غذائی اشیاء کے کھانے کا کیا حکم ہے بشرطیکہ ان میں حرام چیزیں مثلاً غیر شرعی طریقے سے ذبح کئے گئے جانور کا گوشت نہ ہو لیکن اس میں ان کے گیلے ہاتھ کے لگنے کا احتمال ہو؟
ج: غذائی اشیا کے ساتھ کافر کے تر ہاتھ لگنے کا صرف احتمال، وجوب اجتناب کے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ جب تک لگنے کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک وہ چیز پاک رہے گی اور کافر اگر اہل کتاب میں سے ہو تو اس کی نجاست ذاتی نہیں ہے، لہذا اس کے تر ہاتھ کا مس ہونا نجاست کا باعث نہیں بنتا۔
س 334: اسلامی حکومت میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان شخص کے تمام مصارف اگر اس غیر مسلم کیلئے کام کرنے سے پورے ہوتے ہوں کہ جس کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں تو کیا ایسے مسلمان سے مضبوط اور گھریلو تعلقات قائم کرنا اور کبھی کبھار اس کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے؟
ج: مسلمانوں کے لئے مذکورہ مسلمان سے تعلقات رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اگر غیر مسلم کہ جس کے پاس مذکورہ مسلمان کام کرتا ہے کی دوستی سے اس مسلمان کے عقیدہ میں انحراف کا خوف ہو تو اس پر اس کام سے کنارہ کش ہونا واجب ہے اور ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو نہی از منکر کریں۔
س 335: افسوس کہ میرا برادر نسبتی مختلف اسباب کی بنا پر فاسد اور مرتد ہو گیا تھا یہاں تک کہ وہ بعض دینی مقدسات کی اہانت کا بھی مرتکب ہوتا تھا۔ اسلام سے مرتد ہونے کے کئی سال گزر جانے کے بعد اب اس نے ایک خط میں اظہار کیا ہے کہ وہ دوبارہ اسلام پر ایمان لے آیا ہے، لیکن اس وقت بھی وہ بالکل نہ نماز پڑھتا ہے اور نہ ہی روزہ رکھتا ہے، ایسی صورت میں اس سے اس کے والدین اور باقی رشتہ داروں کے کیسے تعلقات ہونے چاہئیں اور کیا اس کو کافر قرار دیتے ہوئے نجس سمجھنا چاہیے؟
ج: اگر ماضی میں اس کا مرتد ہونا ثابت ہوجائے تو اگر وہ اس سے توبہ کر لے تو اسکے پاک ہونے کا حکم لگایا جائیگا اور اس کے والدین اور رشتہ داروں کیلئے اس سے تعلقات رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
س 336: جو شخص ضروریات دین ۔جیسے روزہ و غیرہ ۔میں سے کسی کامنکر ہو جائے تو کیا اس پر کافر کا حکم لگے گا یا نہیں؟
ج: اگر ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار، نبوت کے انکار یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکذیب یا شریعت کی تنقیص کی طرف بازگشت کرے تو یہ کفر و ارتداد ہے۔
س 337: مرتد اور کفار حربی کے لئے جو سزائیں معین کی گئی ہیں، کیا وہ سیاسی نوعیت کی ہیں اور قیادت کے فرائض میں شامل ہیں یا ایسی سزائیں ہیں جو قیامت تک کے لئے ثابت ہیں؟
ج: یہ الٰہی اور شرعی احکام ہیں۔
-
- احکام نماز
- احکام روزہ
- خمس کے احکام
- جہاد
جہاد
س1048: امام معصوم کی غیبت کے زمانہ میں ابتدائی جہاد کا حکم کیا ہے؟ اور کیا با اختیار جامع الشرائط فقیہ (ولی فقیہ)کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کا حکم دے؟
ج: بعید نہیں ہے کہ جب مصلحت کا تقاضا ہو تو ولی فقیہ کیلئے جہاد ابتدائی کا حکم دینا جائز ہو بلکہ یہی اقویٰ ہے۔
س1049: جب اسلام خطرے میں ہو تو والدین کی اجازت کے بغیر اسلام کے دفاع کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے؟
ج: اسلام اور مسلمانوں کا دفاع واجب ہے اور یہ والدین کی اجازت پر موقوف نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود سزاوار ہے کہ جہاں تک ممکن ہو والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
س1050: کیاان اہل کتاب پر جو اسلامی ملکوں میں زندگی بسر کررہے ہیں، کافر ذمی کا حکم جاری ہوگا؟
ج: جب تک وہ اس اسلامی حکومت کے قوانین و احکام کے پابند ہیں کہ جس کی نگرانی میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں، اور امان کے خلاف کوئی کام بھی نہیں کرتے تو ان کا وہی حکم ہے جو معاہَد کا ہے۔
س1051: کیا کوئی مسلمان کسی کافر کو خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہو یا غیر اہل کتاب سے، مردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے اور چاہے اسلامی ممالک میں ہو یا غیر اسلامی ممالک میں، اپنی ملکیت بنا سکتا ہے؟
ج: یہ کام جائز نہیں ہے، اور جب کفار اسلامی سرزمین پر حملہ کریں اور ان میں سے کچھ لوگ مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوجائیں تو اسراء کی تقدیر کا فیصلہ حاکم اسلامی کے ہاتھ میں ہے اور عام مسلمانوں کو ان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔
س1052: اگر فرض کریں کہ حقیقی اسلام محمدی کی حفاظت ایک محترم النفس شخص کے قتل پر موقوف ہے تو کیا یہ عمل ہمارے لئے جائز ہے؟
ج: نفس محترم کا خون ناحق بہانا شرعی لحاظ سے حرام اور حقیقی اسلام محمدی کے احکام کے خلاف ہے، لہذا یہ بے معنی بات ہے کہ اسلام محمدی کا تحفظ ایک بے گناہ شخص کے قتل پر موقوف ہو، لیکن اگر اس سے مراد یہ ہو کہ انسان جہادفی سبیل اللہ اور اسلام محمدی سے دفاع کیلئے ان حالات میں قیام کرے کہ جن میں اسے اپنے قتل کا بھی احتمال ہو تو اسکی مختلف صورتیں ہیں، لہذا اگر انسان کی اپنی تشخیص یہ ہو کہ مرکز اسلام خطرے میں ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اسلام کا دفاع کرنے کیلئے قیام کرے، اگرچہ اس میں اسے قتل ہوجانے کا خوف ہی کیوں نہ ہو۔
- امر بالمعروف و نہی عن المنکر
- حرام معاملات
- شطرنج اور آلات قمار
- موسیقی اور غنا
موسیقی اور غنا
س 1128: حلال اورحرام موسیقی میں فرق کرنے کا معیار کیا ہے ؟ آیا کلاسیکی موسیقی حلال ہے؟ اگر ضابطہ بیان فرمادیں تو بہت اچھا ہوگا۔
ج: وہ موسیقی جو عرف عام میں راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہو، وہ حرام ہے اور حرام ہونے کے لحاظ سے کلاسیکی اور غیر کلاسیکی میں کوئی فرق نہیں ہے اور موضوع کی تشخیص کا معیار خود مکلف کی عرفی نظر ہے اور جو موسیقی اس طرح نہ ہو بذات خود اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 1129: ایسی کیسٹوں کے سننے کا حکم کیا ہے جنہیں سازمان تبلیغات اسلامی یا کسی دوسرے اسلامی ادارے نے مجاز قراردیاہو؟ اور موسیقی کے آلات کے استعمال کا کیا حکم ہے جیسے، سارنگی ، ستار، بانسری وغیرہ؟
ج: کیسٹ کے سننے کا جواز خودمکلف کی تشخیص پر ہے لہذا اگر مکلّف کے نزدیک متعلقہ کیسٹ کے اندر لہوی اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی موسیقی اور غنا نہ ہو اور نہ ہی اسکے اندر باطل مطالب پائے جاتے ہوں تو اسکے سننے میں کوئی حرج نہیں ہے لذا فقط سازمان تبلیغات اسلامی یا کسی اور اسلامی ادارے کی جانب سے مجاز قرار دینا اسکے مباح ہونے کی شرعی دلیل نہیں ہے ۔ اور لہوی حرام موسیقی کے لئے موسیقی کے آلات کا استعمال جائز نہیں ہے البتہ معقول مقاصد کے لئے مذکورہ آلات کا جائز استعمال اشکال نہیں رکھتا۔ اور مصادیق کی تعیین خود مکلف کی ذمہ داری ہے۔
س 1130: راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی سے کیا مراد ہے؟ اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی اور غیر لہوی موسیقی کی تشخیص کا راستہ کیا ہے؟
ج: راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی وہ ہے جواپنی خصوصیات کی وجہ سے انسان کو خداوند متعال اور اخلاقی فضائل سے دور کرتی ہے اور اسے گناہ اور بے قید و بند حرکات کی طرف دھکیلتی ہے۔ اورموضوع کی تشخیص کا معیار عرفِ عام ہے۔
س 1131: کیا آلات موسیقی بجانے والے کی شخصیت،بجانے کی جگہ یا اس کا ھدف و مقصد موسیقی کے حکم میں دخالت رکھتا ہے؟
ج: وہ موسیقی حرام ہے جو لہوی،راہ خدا سے منحرف کرنے والی ہو ۔
البتہ بعض اوقات آلاتِ موسیقی بجانے والے کی شخصیت ، اسکے ساتھ ترنّم سے پیش کیا جانے والا کلام،محل یا اس قسم کے دیگر امور ایک موسیقی کے حرام اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی یا کسی اور حرام عنوان کے تحت داخل ہونے میں مؤثر ہیں مثال کے طور پر ان چیزوں کی وجہ سے اس میں کوئی مفسدہ پیدا ہوجائے۔س 1132: کیا موسیقی کے حرام ہونے کامعیار فقط لہو ومطرب ہونا ہے یا یہ کہ ہیجان میں لانا بھی اس میں مؤثر ہے؟ اور اگر کوئی ساز،موسیقی سننے والے کے حزن اور گریہ کا باعث بنے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور ان غزلیات کے پڑھنے کا کیا حکم ہے جو راگوں سے پڑھی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ موسیقی بھی ہوتی ہے۔
ج: معیار یہ ہے کہ موسیقی بجانے کی کیفیت اسکی تمام خصوصیات کے ساتھ ملاحظہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کیا یہ راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہے؟ چنانچہ جو موسیقی طبیعی طور پر لہوی راہ خدا سے منحرف کرنے والی ہو وہ حرام ہے چاہے جوش و ہیجان کا باعث بنے یا نہ ۔ نیز سا معین کے لئے موجب حزن و اندوہ و غیرہ ہو یا نہ ۔
غنا اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی کے ساتھ گائی جانے والی غزلوں کا گانا اور سننا بھی حرام ہے۔س1133: غنا کسے کہتے ہیں اور کیا فقط انسان کی آواز غنا ہے یا آلات موسیقی کے ذریعے حاصل ہونے والی آواز بھی غنا میں شامل ہے؟
ج: غنا انسان کی اس آواز کو کہتے ہیں کہ جسے گلے میں پھیرا جائے اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو اس صورت میں گانا اور اس کا سننا حرام ہے۔
س 1134: کیا عورتوں کے لئے شادی بیاہ کے دوران آلات موسیقی کے علاوہ برتن اور دیگر وسائل بجانا جائز ہے ؟ اگر اسکی آواز محفل سے باہر پہنچ کر مردوں کو سنائی دے رہی ہو تو اسکا کیا حکم ہے ؟
ج: جواز کا دارو مدار کیفیت عمل پر ہے کہ اگر وہ شادیوں میں رائج عام روایتی طریقے کے مطابق ہو اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی شمار نہ ہوتا ہو اور اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 1135: شادی بیاہ کے اندر عورتوں کے ڈفلی بجانے کا کیا حکم ہے؟
ج: آلاتِ موسیقی کا لہوی اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی موسیقی بجانے کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
س 1136: کیا گھر میں غنا کاسننا جائز ہے؟ اور اگر گانے کا انسان پر اثر نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی غنا کاسننا مطلقاً حرام ہے چاہے گھر میں تنہا سنے یا لوگوں کے سامنے ،متاثر ہو یا نہ ہو۔
س 1137: بعض نوجوان جو حال ہی میں بالغ ہوئے ہیں انہوں نے ایسے مجتہد کی تقلید کی ہے جو مطلقاً موسیقی کو حرام سمجھتا ہے چاہے یہ موسیقی اسلامی جمہوری (ایران)کے ریڈیو اور ٹیلیویژن سے ہی نشر ہوتی ہو۔ مذکورہ مسئلہ کا حکم کیا ہے؟کیا ولی فقیہ کا حلال موسیقی کے سننے کی اجازت دینا حکومتی احکام کے اعتبار سے مذکورہ موسیقی کے جائز ہونے کے لئے کافی نہیں ہے؟ یا ان پر اپنے مجتہد کے فتوی کے مطابق ہی عمل کرنا ضروری ہے؟
ج: موسیقی سننے کے بارے میں جواز اور عدم جواز کا فتوی حکومتی احکام میں سے نہیں ہے بلکہ یہ فقہی اور شرعی حکم ہے۔ اور ہر مکلف کو مذکورہ مسئلہ میں اپنے مرجع کی نظر کے مطابق عمل کرنا ہوگا ۔ہاں اگر موسیقی راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی نہ ہو اور نہ ہی اس پرمفسدہ مترتب ہو تا ہو تو ایسی موسیقی کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
س1138: موسیقی اور غنا سے کیا مراد ہے؟
ج: آ واز کو اس طرح گلے میں گھمانا کہ راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو، غنا کہلاتا ہے ۔اسکا شمار گناہوں میں ہوتاہے یہ سننے اور گانے والے پر حرام ہے ۔ لیکن موسیقی، آلات موسیقی کا بجانا ہے۔ اگر یہ راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو تو بجانے اور سننے والے پر حرام ہے لیکن اگر مذکورہ صفات کے ساتھ نہ ہو تو بذات خود موسیقی جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 1139: میں ایسی جگہ کام کرتا ہوں جس کا مالک ہمیشہ گانے کے کیسٹ سنتا ہے اور مجھے بھی مجبوراً سننا پڑتا ہے کیا یہ میرے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
ج: اگر کیسٹوں میں موجودلہوی موسیقی اور غنا،راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہو تو انکا سننا جائز نہیں ہے ہاں اگر آپ مذکورہ جگہ میں حاضر ہونے پر مجبور ہیں تو آپ کے وہاں جانے اور کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن آپ پر واجب ہے کہ گانے کان لگا کر نہ سنیں اگرچہ آواز آپ کے کانوں میں پڑے اور سنائی دے۔
س1140: وہ موسیقی جو اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ریڈیو اور ٹیلیوژن سے نشر ہوتی ہے کیا حکم رکھتی ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت امام خمینی (قدس سرہ )نے موسیقی کو مطلقاً حلال قرار دیا ہے کیا صحیح ہے؟
ج: حضرت امام خمینی (قدس سرہ) کی طرف موسیقی کومطلقاً حلال کرنے کی نسبت دینا جھوٹ اور افترا ہے چونکہ امام (قدس سرہ) ایسی موسیقی کو حرام سمجھتے تھے جو لہوی محافل سے مناسبت رکھتی ہو۔ موضوع کی تشخیص موسیقی کے نقطۂ نظر میں اختلاف کا سبب ہے ۔ کیونکہ موضوع کو تشخیص دینا خود مکلف کے اوپر چھوڑ دیا گیا ہے بعض اوقات بجانے والے کی رائے سننے والے سے مختلف ہوتی ہے لہذا جسے خود مکلف راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی کو تشخیص دے تو اسکا سننا اس پر حرام ہے البتہ جن آوازوں کے بارے میں مکلف کو شک ہو وہ حلال ہیں اورمحض ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر ہو جانا حلال اور مباح ہونے کی شرعی دلیل شمار نہیں ہوتا ۔
س 1141: ریڈیو اور ٹیلیویژن سے کبھی کبھی ایسی موسیقی نشر ہوتی ہے کہ جو میری نظر میں لہو اور فسق و فجور کی محافل سے مناسبت رکھتی ہے۔ کیا میرے لئے ایسی موسیقی سے اجتناب کرنا اور دوسروں کو بھی منع کرنا واجب ہے؟
ج: اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہے تو آپ کے لئے سننا جائز نہیں ہے لیکن دوسروں کو نہی عن المنکر کے عنوان سے روکنا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ بھی مذکورہ موسیقی کو آپ کی طرح حرام موسیقی سمجھتے ہوں۔
س 1142: وہ لہوی موسیقی اور غنا کہ جسے مغربی ممالک میں ترتیب دیا جاتا ہے انکے سننے اور پھیلانے کا کیا حکم ہے؟
ج: راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی کے سننے کے جائزنہ ہونے میں زبانوں اور ان ملکوں میں کوئی فرق نہیں ہے جہاں یہ ترتیب دی جاتی ہے لہذا ایسی کیسٹوں کی خرید و فروخت ،انکا سننا اور پھیلانا جائز نہیں ہے جو غنا اور حرام لہوی موسیقی پر مشتمل ہوں۔
س1143: مرد اورعورت میں سے ہر ایک کے غنا کی صورت میں گانے کا کیا حکم ہے؟ کیسٹ کے ذریعہ ہو یا ریڈیو کے ذریعہ؟موسیقی کے ساتھ ہو یا نہ؟
ج: راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی غنا حرام ہے اور غنا کی صورت میں گانا اوراس کا سننا جائز نہیں ہے چاہے مرد گائے یاعورت ، براہ راست ہو یا کیسٹ کے ذریعے چاہے گانے کے ہمراہ آلات لہو استعمال کئے جائیں یا نہ۔
س 1144: جائز اور معقول مقاصد کے لیے مسجد جیسے کسی مقدس مقام میں موسیقی بجانے کا کیا حکم ہے؟
ج: لہوی اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی موسیقی مطلقاجائز نہیں ہے اگر چہ مسجد سے باہر اور حلال و معقول مقاصد کے لئے ہو۔ البتہ جن مواقع پر انقلابی ترانے پڑھنا مناسب ہے، مقدس مقامات میں موسیقی کے ساتھ انقلابی ترانے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسکی شرط یہ ہے کہ یہ امر مذکورہ جگہ کے تقدس و احترام کے خلاف نہ ہو اور نہ ہی مسجد میں نمازیوں کے لئے باعث زحمت ہو۔
س 1145: آیا موسیقی سیکھنا جائز ہے خصوصاً ستار؟ اوردوسروں کواسکی ترغیب دلانے کا کیا حکم ہے؟
ج: غیر لہوی موسیقی بجانے کیلئے آ لات موسیقی کا استعمال جائز ہے اگر دینی یا انقلابی نغموں کیلئے ہو یا کسی مفیدثقافتی پروگرام کیلئے ہو اور اسی طرح جہاں بھی مباح عقلائی غرض موجود ہو مذکورہ موسیقی جائز ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ کوئی اورمفسدہ لازم نہ آئے اور اس طرح کی موسیقی کو سیکھنا اور تعلیم دینا بذات ِ خود جائز ہے لیکن موسیقی کو ترویج دینا جمہوری اسلامی ایران کے بلند اہداف کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔
س 1146: عورت جب خاص لحن کے ساتھ شعر و غیرہ پڑھے تو اس کی آواز سننے کا کیا حکم ہے ؟سننے والا جوان ہو یا نہ ہو ، مرد ہو یا عورت ،اور اگر عورت محارم میں سے ہو تو کیا حکم ہے؟
ج: اگر خاتون کی آواز راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی غنا ہو یا اس کا سننا لذت کے لیے اور ریبہ کے ساتھ ہو یا اس پر کوئی دوسرا مفسدہ مترتب ہوتا ہو تو جایز نہیں ہے اور اس سلسلے میں سوال میں مذکورہ صورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
س 1147: کیا ایران کی روایتی موسیقی کہ جو اس کا قومی ورثہ ہے حرام ہے یا نہیں ؟
ج: وہ موسیقی جو عرف عام میں راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہو تو وہ مطلقاً حرام ہے چاہے ایرانی ہو یا غیر ایرانی چاہے روایتی ہو یا غیر روایتی۔
س 1148: عربی ریڈیو سے بعض خاص لحن کی موسیقی نشر ہوتی ہے،آیا عربی زبان سننے کے شوق کی خاطر اسے سنا جاسکتا ہے؟
ج: اگر عرف میں راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی شمار ہوتا ہو تو مطلقاً حرام ہے اور عربی زبان کے سننے کا شوق شرعی جواز نہیں ہے ۔
س ١١٤۹: کیا بغیر موسیقی کے گانے کی طرز پر گائے جانے والے اشعار کا دہرانا جائز ہے؟
ج: غنا حرام ہے چاہے موسیقی کے آلات کے بغیر ہو اور غنا سے مراد یہ ہے کہ اس طرح آواز کو گلے میں گھمایا جائے کہ راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو ، البتہ فقط اشعار کے دہرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1150: موسیقی کے آلات کی خریدو فروخت کا کیاحکم ہے اور ان کے استعمال کی حدود کیا ہیں؟
ج: مشترک آلات کی خرید و فروخت غیر لہوی موسیقی بجانے کے لئے اشکال نہیں رکھتی ۔
س 1151: کیا دعا ، قرآن اور اذان وغیرہ میں غنا جائز ہے؟
ج: غناء سے مراد ایسی آواز ہے جو ترجیع (آواز کو گلے میں گھمانا) پر مشتمل ہو اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو تو یہ مطلقاً حرام ہے حتی، دعا، قرآن ، اذان اور مرثیہ و غیرہ میں بھی۔
س1152: آج کل موسیقی بعض نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے جیسے افسردگی، اضطراب ، جنسی مشکلات اور خواتین کی سرد مزاجی وغیرہ۔ یہ موسیقی کیا حکم رکھتی ہے؟
ج: اگر امین اور ماہرڈاکٹر کی رائے یہ ہو کہ مرض کا علاج موسیقی پر متوقف ہے تو مرض کے علاج کی حدّ تک موسیقی کا استعمال جائز ہے۔
س 1153: اگر حرام غنا سننے کی وجہ سے زوجہ کی طرف رغبت زیادہ ہوجاتی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: زوجہ کی جانب رغبت کا زیادہ ہونا،حرام غنا سننے کا شرعی جواز نہیں ہے۔
س1145: عورتوں کے جمع میں خاتون کا کنسرٹ اجرا کرناکیا حکم رکھتا ہے جبکہ موسیقی بجانے والی بھی خواتین ہوں ؟
ج: اگر کنسرٹ کا اجرا راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی، ترجیع کی صورت میں ہو یا اسکی موسیقی راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی ہو تو حرام ہے۔
س1155: اگر موسیقی کے حرام ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ لہوی ہو اور لہو و گناہ کی محافل سے مناسبت رکھتی ہو تو ایسے گانوں اور ترانوں کا کیا حکم ہے جو بعض لوگوں حتی کہ خوب و بد کو نہ سمجھنے والے بچوں میں بھی ہیجان پیدا کر دیتے ہیں؟ اور آیا ایسے فحش کیسٹ سننا حرام ہے جو عورتوں کے گانوں پر مشتمل ہوں لیکن ہیجان کا سبب نہ ہوں؟اور ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایسی عوامی بسوں میں سفر کرتے ہیں جنکے ڈرائیور مذکورہ کیسٹ استعمال کرتے ہیں؟
ج: موسیقی یا ہر وہ گانا جو ترجیع کے ہمراہ ہے اگر کیفیت و محتوا کے لحاظ سے یا گانے، بجانے کے دوران گانے یا بجانے والے کی خاص حالت کے اعتبار سے راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی ہو تو اس کا سننا حرام ہے حتی ایسے افراد کے لئے بھی کہ جنھیں یہ ہیجان میں نہ لائیں اور تحریک نہ کریں اور اگر عوامی بسوں یا دوسری گاڑیوں میں غنا یا حرام لہوی موسیقی نشر ہو تو ضروری ہے کہ سفر کرنے والے لوگ اسے کان لگا کر نہ سنیں اور نہی عن المنکرکریں۔
س1156: آیا شادی شدہ مرد اپنی بیوی سے لذت حاصل کرنے کے قصد سے نا محرم عورت کا گانا سن سکتا ہے؟ آیا زوجہ کا غنا اپنے شوہر یا شوہر کا اپنی زوجہ کے لے جایز ہے ؟ اور آیا یہ کہنا صحیح ہے کہ شارع مقدس نے غنا کو اس لئے حرام کیا ہے کہ غنا کے ہمراہ ہمیشہ محافل لہو و لعب ہوتی ہیں اور غنا کی حرمت ان محافل کی حرمت کا نتیجہ ہے۔
ج: حرام غنا(اس طرح ترجیع صوت پر مشتمل ہو کہ جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہو)کو سننا مطلقا حرام ہے حتی میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لئے بھی اور بیوی سے لذت کا قصد، غنا کو مباح نہیں کرتا اور غنا وغیرہ کی حرمت شریعت مقدسہ میں تعبداً ثابت ہے اور شیعہ فقہ کے مسلمات میں سے ہے اور انکی حرمت کا دارو مدار فرضی معیارات اور نفسیاتی و اجتماعی اثرات کے اوپر نہیں ہے بلکہ یہ مطلقاً حرام ہیں اور ان سے مطلقاً اجتناب واجب ہے جب تک ان پر یہ عنوانِ حرام صادق ہے۔
س1157: بعض آرٹ کا لجزکے طلبا کے لئے اسپیشل دروس کے دوران انقلابی ترانوں اور نغموں کی کلاس میں شرکت لازمی ہے۔ جہاں وہ موسیقی کے آلات کی تعلیم لیتے ہیں اور مختصر طور پر موسیقی سے آشنا ہوتے ہیں اس درس کے پڑھنے کا اصلی آلہ اَرگن ہے۔ اس مضمون کی تعلیم کا کیا حکم ہے ؟جبکہ اس کی تعلیم لازمی ہے۔ مذکورہ آلہ کی خریدو فروخت اور اسکا استعمال ہمارے لئے کیا حکم رکھتا ہے؟ ان لڑکیوں کیلئے کیا حکم ہے جو مردوں کے سامنے پریکٹس کرتی ہیں؟
ج: انقلابی ترانوں، دینی پروگراموں اور مفید ثقافتی و تربیتی سرگرمیوں میں موسیقی کے آلات سے استفادہ کرنے میں بذات خود کوئی حرج نہیں ہے ۔ مذکورہ اغراض کے لئے موسیقی کے آلات کی خرید و فروخت نیز انکا سیکھنا اور سکھانا جائز ہے اسی طرح خواتین حجاب اور اسلامی آداب و رسوم کی مراعات کرتے ہوئے کلاس میں شرکت کرسکتی ہیں ۔
س1158: بعض نغمے ظاہری طور پر انقلابی ہیں اور عرف ِعام میں بھی انہیں انقلابی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ گانے والے نے انقلابی قصد سے نغمہ گایا ہے یا طرب اور لہو کے ارادے سے ، ایسے نغموں کے سننے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ ان کے گانے والا مسلمان نہیں ہے ، لیکن اس کے نغمے ملی ہوتے ہیں اور انکے بول جبری تسلّط کے خلاف ہوتے ہیں اور استقامت پر ابھارتے ہیں۔
ج: اگر سامع کی نظر میں عرفاًگانے کی کیفیت اور راہ خدا سے منحرف کرنے والے گانے جیسی نہ ہو تو اس کے سننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور گانے والے کے قصد، ارادے اورمحتوا کااس میں کوئی دخل نہیں ہے۔
س 1159: ایک جوان بعض کھیلوں میں بین الاقوامی کوچ اورریفری کے طور پر مشغول ہے اسکے کام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بعض ایسے کلبوں میں بھی جائے جہاں حرام موسیقی اور غنا نشر ہو رہے ہوتے ہیں اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ اس کام سے اسکی معیشت کا ایک حصہ حاصل ہوتاہے اورا سکے رہائشی علاقے میں کام کے مواقع بھی کم ہیں کیا اسکے لئے یہ کام جائز ہے ؟
ج: اس کے کام میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ لہوی موسیقی اور غنا کا سننا اس کے لئے حرام ہے اضطرار کی صورت میں حرام غنا اورموسیقی کی محفل میںجانا اس کے لئے جائز ہے البتہ توجہ سے موسیقی نہیں سن سکتا ،بلا اختیار جو چیز کان میں پڑے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
س 1160: آیا توجہ کے ساتھ موسیقی کا سننا حرام ہے یا کان میں آواز کا پڑنا بھی حرام ہے؟
ج: غنا اور لہوی حرام موسیقی کے کان میں پڑنے کا حکم اسے کان لگاکرسننے کی طرح نہیں ہے سوائے بعض ان مواقع کے جن میں عرف کے نزدیک کان میں پڑنا بھی کان لگا کر سننا شمار ہوتاہے۔
س 1161: کیا قرأت قرآن کے ہمراہ ایسے آلات کے ذریعے موسیقی بجانا کہ جن سے عام طور پر لہو و لعب کی محافل میں استفادہ نہیں کیا جاتا جائز ہے؟
ج: اچھی آواز اور قرآن کریم کے شایان شان صدا کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہتر امر ہے بشرطیکہ حرام غنا کی حدّ تک نہ پہنچے البتہ تلاوت قرآن کے ساتھ موسیقی بجانے کا کوئی شرعی جواز اور دلیل موجود نہیں ہے۔
س1162: محفل میلاد و غیرہ میں طبلہ بجانے کا کیا حکم ہے؟
ج: آلات موسیقی کو اس طرح استعمال کرنا کہ جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہو ،مطلقاً حرام ہے ۔
س 1163: موسیقی کے ان آلات کا کیا حکم ہے کہ جن سے تعلیم و تربیت والے نغموں کے پڑھنے والی ٹیم کے رکن طلباء استفادہ کرتے ہیں ؟
ج: موسیقی کے ایسے آلات جو عرف عام کی نگاہ میں مشترک اور حلال کاموں میں استعمال کے قابل ہوں انہیں غیر لہوی جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا نہ ہو تو حلال مقاصد کے لئے استعمال کرنا جائز ہے لیکن ایسے آلات جو عرف کی نگاہ میں صرف لہو جو راہ خدا سے منحرف کرنے والے مخصوص آلات سمجھے جاتے ہوں، انکا استعمال جائز نہیں ہے۔
س 1164: کیا موسیقی کا وہ آلہ جسے ستار کہتے ہیں بنانا جائز ہے اور کیا پیشے کے طور پر اس سے کسبِ معاش کیا جاسکتا ہے ، اس کی صنعت کو ترقی دینے اور اسے بجانے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے سرمایہ کاری ومالی امداد کی جاسکتی ہے؟ اور اصل خالص موسیقی پھیلانے اور زندہ رکھنے کے لئے ایرانی روایتی موسیقی کی تعلیم دینا جائز ہے یا نہیں؟
ج: قومی یا انقلابی ترانوں یا ہر حلال اور مفید چیزمیں موسیقی کے آلات کا استعمال جب تک لہوی راہ خدا سے منحرف کرنے والا نہ ہو بلا اشکال ہے اسی طرح اس کے لئے آلات کا بنانا اور مذکورہ ہدف کے لئے تعلیم و تعلم بھی بذاتِ خود اشکال نہیں رکھتے۔
س 1165: کونسے آلات آلاتِ لہو شمار کئے جاتے ہیں کہ جن کا استعمال کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے؟
ج: وہ آلات جو عام طور پر راہ خدا سے منحرف کرنے والی آواز میں استعمال ہوتا ہو جو فکر اور عقیدے میں انحراف کا سبب بنے یا گناہ کا سبب بنے اور جن کی کوئی حلال منفعت نہیں ہے ۔
س 1166: جو آڈیوکیسٹ حرام چیزوں پر مشتمل ہے کیا اس کی کاپی کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے؟
ج: جن کیسٹوں کا سننا حرام ہے ان کی کاپی کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔
- رقص
رقص
س 1167: آیا شادیوں میں علاقائی رقص جائز ہے؟ اور ایسی محافل میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: بنابر احتیاط واجب مرد کا رقص حرام ہے اور عورت کا عورتوں کے درمیان رقص تو اگر اس پر لہو کا عنوان صدق کرے جیسا کہ وہ زنانہ نشست محفل رقص بن جاءے تو یہ محل اشکال ہے اور احتیاط واجب اسے ترک کرنا ہے اس صورت کے علاوہ اگررقص میں ایسی کیفیت پائی جاتی ہو جو شہوت کو ابھارے یا کسی حرام فعل کے ہمراہ ہو (جیسے حرام موسیقی اور گانا) یا اس پر کوئی مفسدہ مترتب ہوتا ہو یا وہاں کوئی نا محرم مرد موجود ہو تو حرام ہے اور اس حکم میں شادی اور غیر شادی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ رقص کی محافل میں شرکت کرنا اگر دوسروں کے فعل حرام کی تائید شمار ہو یا فعل ِحرام کا سبب بنے تو جائز نہیں ہے وگرنہ کوئی حرج نہیں ہے۔
س 1168: کیا خواتین کی محفل میں بغیر موسیقی کی دھن کے رقص کرنا حرام ہے یا حلال ؟ اور اگر حرام ہے توکیا شرکت کرنے والوں پر محفل کو ترک کرنا واجب ہے؟
ج: عورت کا عورتوں کیلئے رقص اگر اس پر لہو کا عنوان صدق کرے جیسا کہ وہ زنانہ محفل محفل رقص میں بدل جائے تو محل اشکال ہے اور احتیاط واجب اسے ترک کرنا ہے اس صورت کے علاوہ اگر رقص اس طرح ہو کہ شہوت کو ابھارے یا فعل حرام کا سبب بنے یا اس پر کوئی مفسدہ مترتب ہوتا ہو تو حرام ہے ۔ فعل حرام پر اعتراض کے طور پر محفل کو ترک کرنا اگر نہی عن المنکر کا مصداق ہو تو واجب ہے۔
س 1169: مرد کا مرد کے لئے اور عورت کا عورت کے لئے یا مرد کا خواتین کے درمیان یا عورت کا مردوں کے درمیان علاقائی رقص کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: بنابر احتیاط واجب مرد کا رقص کرنا حرام ہے اور عورت کا عورتوں کیلئے رقص تو اگر اس پر لہو کا عنوان صدق کرے جیسا کہ وہ زنانہ پروگرام محفل رقص میں تبدیل ہوجاءے تو یہ محل اشکال ہے اور احتیاط واجب اس کا ترک کرنا ہے اور اس صورت کے علاوہ اگر رقص میں ایسی کیفیت پاءی جاتی ہو کہ وہ شہوت کو ابھارے یا فعل ِحرام (جیسے حرام موسیقی اور گانا) کے ہمراہ ہو یا اس پر کوئی مفسدہ مترتب ہویا کوئی نا محرم مرد وہاں موجود ہو تو حرام ہے۔
س 1170: مردوں کے ایک ساتھ مل کر رقص کرنے کا حکم کیا ہے؟ ٹیلیویژن و غیرہ پر چھوٹی بچیوں کا رقص دیکھنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر رقص شہوت کو ابھارے یا اس سے گناہ گار انسان کی تائید ہوتی ہو یا اسکے لئے مزید جرأت کا باعث ہو اور یا کوئی مفسدہ مترتب ہوتا ہو تو جائز نہیں ہے۔
س 1171: اگر شادی میں شرکت کرنا معاشرتی آداب کے احترام کی وجہ سے ہو تو کیا رقص کے احتمال کے ہوتے ہوئے اس میں شرکت کرنا شرعا اشکال رکھتا ہے ؟
ج: ایسی شادیوں میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جن میں رقص کا احتمال ہو جب تک کہ فعل حرام کو انجام دینے والے کی تائید شمار نہ ہو اور حرام میں مبتلا ہونے کا سبب نہ بنے۔
س 1172: آیا بیوی کا شوہر کے لئے اور شوہر کا بیوی کے لئے رقص کرنا حرام ہے؟
ج: بیوی کا شوہر کے لئے اور شوہر کا بیوی کے لئے رقص کرنا اگرکسی اور حرام کام کے ہمراہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1173: آیا اولاد کی شادی میں رقص کرنا جائز ہے؟اگرچہ رقص کرنے والے ماں باپ ہوں۔
ج: اگر رقص حرام کا مصداق ہو تو جائز نہیں ہے اگرچہ ماں باپ اپنی اولاد کی شادی میں رقص کریں۔
س 1174: ایک شادی شدہ عورت شادیوں میں شوہر کی اطلاع کے بغیر نامحرم مردوں کے سامنے ناچتی ہے اور یہ عمل چند بار انجام دے چکی ہے اور شوہر کا امر بالمعروف و نہی عن المنکر اس پر اثر نہیں کرتا اس صورت میں کیا حکم ہے؟
ج: عورت کا نامحرم کے سامنے رقص کرنا مطلقاً حرام ہے اور عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانا بھی بذات ِ خود حرام ہے اورنشوز کا سبب ہے جس کے نتیجے میں عورت نان و نفقہ کے حق سے محروم ہوجاتی ہے۔
س1175: دیہاتوں کے اندرہونے والی شادیوں میں عورتوں کا مردوں کے سامنے رقص کرنے کاکیاحکم ہے؟ جبکہ اس میں آلات ِموسیقی بھی استعمال ہوں؟ مذکورہ عمل کے مقابلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
ج: عورتوں کا نامحرم کے سامنے رقص کرنا اور ہر وہ رقص جو شہوت کو ابھارے اور مفسدے کا سبب بنے حرام ہے اور موسیقی کے آلات کا استعمال اور موسیقی کا سننا اگر راہ خدا سے منحرف کرنے والا لہوی ہو تو وہ بھی حرام ہے ، ان حالات میں مکلّفین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نہی از منکر کریں۔
س 1176: ممیزبچے یا بچی کا زنانہ یا مردانہ محفل میں رقص کرنے کا کیا حکم ہے ؟
ج: نا بالغ بچہ چاہے لڑکی ہو یا لڑکا مکلف نہیں ہے لیکن بالغ افراد کیلئے سزاوار نہیں ہے کہ اسے رقص کی ترغیب دلائیں۔
س 1177: رقص کی تربیت کے مراکز قائم کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: رقص کی تعلیم و ترویج کے مراکز قائم کرنا حکومت اسلامی کے اہداف کے منافی ہے۔
س 1178: مردوں کا محرم خواتین کے سامنے اور خواتین کا محرم مردوں کے سامنے رقص کرنے کا کیا حکم ہے ؟ چاہے محرمیت سببی ہو یا نسبی ؟
ج: وہ رقص جو حرام ہے اس کا مرد اور عورت یا محرم اور نامحرم کے سامنے انجام دینے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
س 1179: آیا شادیوں میں ڈنڈوں سے لڑائی کی نمائش کرنا جائز ہے اور اگر اسکے ساتھ آلات موسیقی استعمال کئے جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر تفریحی اور ورزشی کھیل کی صورت میں ہو اور جان کا خطرہ بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لہوی اور راہ خدا سے منحرف کرنے کے طریقے سے آلات ِموسیقی کا استعمال بالکل جائز نہیں ہے۔
س 1180: دبکہ کا کیا حکم ہے؟ (دبکہ ایک طرح کا علاقائی رقص ہے جس میں افرادہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اچھل کر جسمانی حرکات کے ساتھ ملکر زمین پر پاؤں مارتے ہیں تا کہ ایک شدید اورمنظم آواز پیدا ہو)
ج: اگر یہ عرف میں رقص شمار ہو تو اس کا حکم وہی ہے جو رقص کا حکم ہے۔
- تالی بجانا
تالی بجانا
س1181: میلاد اور شادی و غیرہ جیسے زنانہ جشن میں خواتین کے تالیاں بجانے کا کیا حکم ہے؟ برفرض اگر جائز ہو تو محفل سے باہر نامحرم مردوں کو اگر تالیوں کی آواز پہنچے تو اسکا کیا حکم ہے ؟
ج: اگر اس پر کوئی مفسدہ مترتب نہ ہو تومروجہ انداز سے تالی بجانے میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ نامحرم کے کانوں تک اس کی آواز پہنچے۔
س 1182: معصومین علیہم السلام کے میلاد یا یوم وحدت و یوم بعثت کے جشنوں میں خوشحالی کے طور پر قصیدہ یا رسول اکرمؐ اور آپ کی آل پر درود پڑھتے ہوئے تالی بجانے کا کیا حکم ہے ؟ اس قسم کے جشن کامساجد اورسرکاری اداروں میں قائم نماز خانوں اور امام بارگاہ جیسی عبادت گاہوں میں برپا کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: بطور کلی عید و غیرہ جیسے جشنوں میں داد و تحسین کے لئے تالی بجانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ دینی محفل کی فضا درود وتکبیر سے معطر ہو بالخصوص ان محافل میں جو مساجد، امام بارگاہوں ،نمازخانوں وغیرہ میں منعقد کی جائیں تاکہ تکبیر اور درود کا ثواب بھی حاصل کیا جاسکے۔
- نامحرم کی تصویر اور فلم
نامحرم کی تصویر اور فلم
س1183: بے پرد ہ نامحرم عورت کی تصویر دیکھنے کا کیا حکم ہے؟ ٹیلی ویژن میں عورت کا چہرہ دیکھنے کا کیا حکم ہے؟کیا مسلمان اور غیر مسلم عورت میں فرق ہے؟کیا براہ راست نشر ہونے والی تصویر اور ریکارڈنگ دیکھنے میں فرق ہے؟
ج: نامحرم عورت کی تصویرکا حکم خود اسے دیکھنے کے حکم جیسا نہیں ہے لہذا مذکورہ تصویر دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ لذت حاصل کرنے کے لئے نہ ہو اور گناہ میں پڑنے کا خوف نہ ہو اور تصویر بھی ایسی مسلمان عورت کی نہ ہو جسے دیکھنے والا پہچانتاہے۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ نا محرم عورت کی وہ تصویر جو براہ راست نشر کی جا رہی ہو نہ دیکھی جائے لیکن ٹیلی ویژن کے وہ پروگرام جو ریکارڈ شدہ ہوتے ہیں ان میں خاتون کی تصویر دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ ریبہ اور گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو۔
س1184: ٹیلیویژن کے ایسے پروگرام دیکھنے کا کیا حکم ہے جو سیٹلائٹ کے ذریعہ حاصل کئے جاتے ہیں؟ خلیج فارس کے گردو نواح میں رہنے والوں کا خلیجی ممالک کے ٹیلیویژن دیکھنے کا کیا حکم ہے؟
ج: وہ پروگرام جو مغربی ممالک سے سیٹلائٹ کے ذریعہ نشر ہوتے ہیں اور اسی طرح اکثر ہمسایہ ممالک کے پروگرام چونکہ گمراہ کن، مسخ شدہ حقائق اور لہو و مفسدہ پر مشتمل ہوتے ہیں جن کا دیکھنا غالباً ، گمراہی ، مفاسد اور حرام میں مبتلا ہونے کا سبب بنتاہے لہذا ان کا دریافت کرنا اورمشاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔
س1185: کیا ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ طنز و مزاح کے پروگرام سننے اور دیکھنے میں کوئی حرج ہے؟
ج: طنزیہ اور مزاحیہ پروگرام سننے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں کسی مؤمن کی توہین ہو۔
س1186: شادی کے جشن میں میری کچھ تصویریں اتاری گئیں جبکہ میں پورے پردے میں نہیں تھی وہ تصویریں حال حاضر میں میری سہیلیوں اور میرے رشتہ داروں کے پاس موجود ہیں کیا مجھ پر ان تصویروں کا واپس لینا واجب ہے؟
ج: اگر دوسروں کے پاس تصاویر موجود ہونے میں کوئی مفسدہ نہ ہو یا تصاویر واپس لینے میں آپ کے لئے زحمت و مشقّت ہو تو آپ پر کوئی شرعی ذمہ داری نہیں ہے۔
س 1187: ہم عورتوں کیلئے حضرت امام خمینی (قدس سرہ) اور شہداء کی تصویروں کو چومنے کا کیا حکم ہے جب کہ وہ ہمارے نامحرم ہیں۔
ج: بطور کلی نامحرم کی تصویر خود نامحرم والا حکم نہیں رکھتی لہذا احترام، تبرک اور اظہار محبت کے لئے نامحرم کی تصویر کو بوسہ دینا جائز ہے البتہ اگر قصد ریبہ اور حرام میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔
س1188: کیا سینماکی فلموں وغیرہ میں برہنہ یا نیم برہنہ عورتوں کی تصاویر جنہیں ہم نہیں پہچانتے دیکھنا جائز ہے؟
ج: تصویر اور فلم دیکھنے کا حکم خود نامحرم کو دیکھنے کی طرح نہیں ہے لہذا شہوت، ربیہ (بری نیت) اور خوف مفسدہ کے بغیر ہو تو شرعاً اسے دیکھنے میں کوئی مانع نہیں ہے لیکن چونکہ شہوت کو ابھارنے والی برہنہ تصاویر کو دیکھنا عام طور پر شہوت کے بغیر نہیں ہوتا لہذا ارتکاب گناہ کا مقدمہ ہے پس حرام ہے ۔
س 1189: کیا شادی کی تقریبات میں شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیئے تصویر اتروانا جائز ہے؟ جواز کی صورت میں آیا مکمل حجاب کی مراعات کرنا اس پر واجب ہے ؟
ج: بذات خود تصویر اتروانے کے لئے شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے البتہ اگر یہ احتمال پایا جاتاہو کہ عورت کی تصویر کو کوئی نامحرم دیکھے گا اور عورت کی طرف سے مکمل حجاب کا خیال نہ رکھنا مفسدہ کا باعث بنے گا تو اس صورت میں حجاب کا خیال رکھنا واجب ہے ۔
س 1190: آیا عورت کے لئے مردوں کے کشتی کے مقابلے دیکھنا جائز ہے؟
ج: ان مقابلوں کو اگر کشتی کے میدان میں حاضر ہو کر دیکھا جائے یا پھرلذت وریبہ کے قصد سے دیکھا جائے اور یا مفسدے اور گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہو تو جائزنہیں ہے اور اگر ٹی وی سے براہ راست نشر ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا جائے تو بنابر احتیاط جائز نہیں ہےاس کے علاوہ دیگر صورتوں میں کوئی حرج نہیں۔
س 1191: اگر دلہن شادی کی محفل میں اپنے سر پر شفاف و باریک کپڑا اوڑھے تو کیا نامحرم مرد اس کی تصویر کھینچ سکتا ہے یانہیں؟
ج: اگر یہ نامحرم عورت پر حرام نگاہ کا سبب بنے تو جائز نہیں ہے وگرنہ جائز ہے۔
س 1192: بے پردہ عورت کی اسکے محارم کے درمیان تصویر لینے کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر احتمال ہو کہ نامحرم اسے دھوتے اور پرنٹ کرتے وقت دیکھے گا تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر تصویر کھینچنے والا مصور جو اسے دیکھ رہا ہے اس کے محارم میں سے ہو توتصویر لینا جائز ہے اوراسی طرح اگر مصور اسے نہ پہچانتا ہو تو اس سے تصویر دھلانے اور پرنٹ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1193: بعض جوان فحش تصاویر دیکھتے ہیں اور اس کے لئے خود ساختہ توجیہات پیش کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس طرح کی تصاویر کا دیکھنا انسان کی شہوت کوایک حدّ تک تسکین دیتا ہو کہ جو اسے حرام سے بچانے میں مؤثر ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر تصاویر کا دیکھنا بری نیت سے ہو یا یہ جانتا ہو کہ تصاویر کا دیکھنا شہوت کو بھڑکانے کا سبب بنے گا یا مفسدے اور گناہ کے ارتکاب کا خوف ہو تو حرام ہے اور ایک حرام عمل سے بچنا دوسرے حرام کے انجام دینے کا جواز فراہم نہیں کرتا ۔
س1194: ایسے جشن میں فلم بنانے کے لئے جانے کا کیا حکم ہے جہاں موسیقی بج رہی ہو اور رقص کیا جارہا ہو؟ مرد کا مردوں کی تصویر اور عورت کا خواتین کی تصویر کھینچنے کا کیا حکم ہے؟ مرد کا شادی کی فلم کو دھونے کا کیا حکم ہے چاہے اس خاندان کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ؟ اور اگر عورت فلم کو دھوئے تو کیا حکم ہے؟ کیا ایسی فلموں میں موسیقی کا استعمال جائز ہے؟
ج: خوشی کے جشن میں جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور مرد کا مردوں اور عورت کا خواتین کی فلم بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جب تک غنا اورحرام موسیقی سننے کا سبب نہ بنے اور نہ ہی کسی اور حرام فعل کے ارتکاب کا باعث بنے۔ مردوں کا عورتوں اور عورتوں کا مردوں کی فلم بنانا اگرریبہ کے ساتھ نگاہ یا کسی دوسرے مفسدے کا باعث بنے تو جائز نہیں ہے اور اسی طرح راہ خدا سے منحرف کرنے والی لہوی موسیقی کا شادی کی فلموں میں استعمال حرام ہے۔
س1195: اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی ملکی اور غیر ملکی فلموں اور موسیقی کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں دیکھنے اور سننے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر سامعین اور ناظرین کی تشخیص یہ ہے کہ وہ موسیقی جو ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے نشر ہو رہی ہے وہ ایسی لہوی موسیقی ہے جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہے اور وہ فلم جو ٹیلیویژن سے دکھائی جارہی ہے اس کے دیکھنے میں مفسدہ ہے تو انکے لئے ان کا سننا اور دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اور محض ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر ہونا جواز کی شرعی دلیل نہیں ہے۔
س1196: سرکاری مراکز میں آویزاں کرنے کی غرض سے رسول اکرمؐ ، امیر المؤمنین اور امام حسین سے منسوب تصاویر چھاپنے اور فروخت کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: مذکورہ تصاویر کے چھاپنے میں بذات ِخودکوئی مانع نہیں ہے، بشرطیکہ ایسی کسی چیز پر مشتمل نہ ہوں جو عرف عام کی نگاہ میں موجب ہتک اور اہانت ہے نیز ان عظیم ہستیوں کی شان سے منافات نہ رکھتی ہوں۔
س1197: ایسی فحش کتابیں اور اشعار پڑھنے کا کیا حکم ہے جو شہوت کو بھڑکانے کا سبب بنیں؟
ج: ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
س1198: بعض ٹی وی اسٹیشنز اور سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے براہ راست سلسلہ وار پروگرام نشر کئے جاتے ہیں جو مغرب کے معاشرتی مسائل پیش کرتے ہیں لیکن ان پروگراموں میں مرد و عورت کے اختلاط اور ناجائز تعلقات کی ترویج جیسے فاسد افکار بھی پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ پروگرام بعض مومنین پر بھی اثر انداز ہونے لگے ہیں ایسے شخص کا کیا حکم ہے جسے ان کو دیکھنے کے بعد اپنے متاثر ہونے کا احتمال ہو؟ اور اگر کوئی اس غرض سے دیکھے کہ دوسروں کے سامنے اس کے نقصان کو بیان کرسکے یا اس پر تنقید کرسکے اور لوگوں کو نہ دیکھنے کی نصیحت کرسکے تو کیا اس کا حکم دوسروں سے فرق کرتا ہے؟
ج: لذت کی نگاہ سے دیکھنا جائز نہیں ہے اور اگر دیکھنے سے متاثر ہونے اورمفسدے کا خطرہ ہو تو بھی جائز نہیں ہے ہاں تنقید کی غرض سے اور لوگوں کو اسکے خطرات سے آگاہ کرنے اور نقصانات بتانے کے لئے ایسے شخص کے لیئے دیکھنا جائز ہے جو تنقید کرنے کا اہل ہو اور اپنے بارے میں مطمئن ہو کہ ان سے متأثر ہوکر کسی مفسدہ میں نہیں پڑے گا اور اگراسکے لیئے کچھ قوانین ہوں تو انکی ضرور رعایت کی جائے ۔
س1199: ٹیلی ویژن پر آنے والی اناؤ نسر خاتون جو بے پردہ ہوتی ہے اور اسکا سر و سینہ بھی عریاں ہوتا ہے کے بالوں کی طرف نگاہ کرنا جائز ہے ؟
ج: اگرلذت کے ساتھ نہ ہو اور اس سے حرام میں پڑنے اورمفسدہ کا خوف نہ ہو اور نشریات بھی براہ راست نہ ہوں تو فقط دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1200: شادی شدہ شخص کے لیئے شہوت انگیز فلمیں دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟
ج: اگر دیکھنے کا مقصد شہوت کو ابھارنا ہو یا ان کا دیکھنا شہوت کے بھڑکانے کا سبب بنے تو جائز نہیں ہے۔
س 1201: شادی شدہ مردوں کیلئے ایسی فلمیں دیکھنے کا کیا حکم ہے جن میں حاملہ عورت سے مباشرت کرنے کا صحیح طریقہ سکھایا گیا ہے جبکہ اس بات کا علم ہے کہ مذکورہ عمل اسے حرام میں مبتلا نہیں کرے گا؟
ج: ایسی فلموں کا دیکھنا چونکہ ہمیشہ شہوت انگیز نگاہ کے ہمراہ ہوتا ہے لہذاجائز نہیں ہے ۔
س 1202: مذہبی امور کی وزارت میں کام کرنے والے فلموں ، مجلات اور کیسٹوں کی نظارت کرتے ہیں تاکہ جائز مواد کو ناجائز مواد سے جدا کریں اس چیز کے پیش نظر کہ نظارت کے لئے انہیں غور سے سننا اوردیکھنا پڑتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
ج: کنٹرول کرنے والے افراد کے لیئے قانونی فریضہ انجام دیتے ہوئے بقدر ضرورت دیکھنے اور سننے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان پر لازم ہے کہ لذت و ریبہ کے قصد سے پرہیز کریں نیز جن افراد کو مذکورہ مواد کے کنٹرول پر تعینات کیا جاتاہے ان کا فکری اور روحانی حوالے سے اعلی حکام کے زیر نظر اور زیر رہنمائی ہونا واجب ہے ۔
س1203: کنٹرول کرنے کے عنوان سے ایسی ویڈیو فلمیں دیکھنے کا کیا حکم ہے جو کبھی کبھی قابل اعتراض مناظر پر مشتمل ہوتی ہیں تاکہ ان مناظر کو حذف کرکے ان فلموں کو دوسرے افراد کے دیکھنے کے لئے پیش کیا جائے؟
ج: فلم کا اسکی اصلاح اور اسے فاسد و گمراہ کن مناظر کے حذف کرنے کے لئے مشاہدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ اصلاح کرنے والا شخص خود حرام میں مبتلا ہونے سے محفوظ ہو۔
س1204: آیا میاں بیوی کے لئے گھر میں جنسی فلمیں دیکھنا جائز ہے ؟ آیا وہ شخص جس کے حرام مغز کی رگ کٹ گئی ہو وہ مذکورہ فلمیں دیکھ سکتا ہے تاکہ اپنی شہوت کو ابھارے اور اس طرح اپنی زوجہ کے ساتھ مباشرت کے قابل ہوسکے؟
ج: جنسی ویڈیو فلموں کے ذریعہ شہوت ابھارنا جائز نہیں ہے۔
س1205: حکومت اسلامی کی طرف سے قانونی طور پر ممنوع فلمیں اور تصاویر دیکھنے کا کیا حکم ہے جبکہ ان میں کسی قسم کا مفسدہ نہ ہو؟ اور جو ان میاں بیوی کے لئے مذکورہ فلمیں دیکھنے کا کیا حکم ہے؟
ج: ممنوع ہونے کی صورت میں انھیں دیکھنے میں اشکال ہے۔
س1206: ایسی فلمیں دیکھنے کا کیا حکم ہے جن میں کبھی کبھی اسلامی جمہوریہ (ایران)کے مقدسات یا رہبر محترم کی توہین کی گئی ہو؟
ج: ایسی فلموں سے اجتناب واجب ہے۔
س1207: ایسی ایرانی فلمیں دیکھنے کا کیا حکم ہے جو اسلامی انقلاب کے بعد بنائی گئی ہیں اور ان میں خواتین ناقص حجاب کے ساتھ ہوتی ہیں اور کبھی کبھی انسان کو بُری چیزیں سکھاتی ہیں؟
ج: اگرلذت اور ریبہ کے قصد سے نہ ہو اور مفسدہ میں مبتلا ہونے کا موجب بھی نہ ہو تو بذاتِ خود ایسی فلمیں دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن فلمیں بنانے والوں پر واجب ہے کہ ایسی فلمیں نہ بنائیں جو اسلام کی گرانقدر تعلیمات کے منافی ہوں۔
س١٢٠۸: ایسی فلموں کی نشر و اشاعت کا کیا حکم ہے جن کی تائید مذہبی اور ثقافتی امور کی وزارت نے کی ہو؟ اور یونیورسٹی میں موسیقی کی ایسی کیسٹوں کے نشر کرنے کا کیا حکم ہے جن کی تائید مذکورہ وزارت نے کی ہو؟
ج: اگر مذکورہ فلمیں اور کیسٹیں مکلف کی نظر میں عرفا غنا اور راہ خدا سے منحرف کرنے والی موسیقی پر مشتمل ہوں تو ان کا نشر کرنا، پیش کرنا ، سننا اور دیکھنا جائز نہیں ہے، اور بعض متعلقہ اداروں کا تائید کرنا مکلف کے لئے جواز کی شرعی دلیل نہیں ہے جب کہ موضوع کی تشخیص میں خود اس کی رائے تائید کرنے والوں کی نظر کے خلاف ہو۔
س 1209: زنانہ لباس کے ایسے مجلات کی خرید و فروخت اورانہیں محفوظ رکھنے کا کیا حکم ہے کہ جن میں نامحرم خواتین کی تصاویر ہوتی ہیں اور جن سے کپڑوں کے انتخاب کیلئے استفادہ کیا جاتا ہے؟
ج: ان مجلات میں صرف نامحرم کی تصاویرکا ہونا خرید و فروخت کو ناجائز نہیں کرتا اور نہ ہی لباس کو انتخاب کرنے کیلئے ان سے استفادہ کرنے سے روکتا ہے مگر یہ کہ مذکورہ تصاویر پر کوئی مفسدہ مترتب ہو ۔
س 1210: کیا ویڈیو کیمرے کی خریدو فروخت جائز ہے؟
ج: اگر حرام امور میں استعمال کی غرض سے نہ ہوتو ویڈیو کیمرے کی خرید و فروخت جائز ہے ۔
س 1211: فحش ویڈیو فلمیں اور وی سی آر کی فروخت اور کرائے پر دینے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر یہ فلمیں ایسی ہیجان آور تصاویر پر مشتمل ہوں جو شہوت کو ابھاریں اور انحراف اور مفسدے کا موجب بنیں یا غنا اور ایسی لہوی موسیقی پر مشتمل ہو کہ جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہو تو ایسی فلموں کا بنانا ،انکی خرید و فروخت ، کرایہ پر دینا اور اسی طرح وی سی آر کا مذکورہ مقصد کے لئے کرا ئے پر دینا جائز نہیں ہے۔
س 1212: غیر ملکی ریڈیو سے خبریں اور ثقافتی اور علمی پروگرام سننے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر مفسدے اور انحراف کا سبب نہ ہوں تو جائز ہے۔
- ڈش ا نٹینا
ڈش ا نٹینا
س 1213: کیا ڈش کے ذریعے ٹی وی پروگرام دیکھنا ، ڈش خریدنا اور رکھنا جائز ہے؟ اور اگر ڈش مفت میں حاصل ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: چونکہ ڈش، ٹی وی پروگرام دیکھنے کے لئے محض ایک آلہ ہے اور ٹی وی پروگرام جائز بھی ہوتے ہیں اور ناجائز بھی لہذا ڈش کا حکم بھی دیگر مشترک آلات جیسا ہے کہ جنہیں حرام مقاصد کے لئے بیچنا ،خریدنا اور اپنے پاس رکھنا حرام ہے لیکن جائز مقاصد کے لئے جائز ہے البتہ چونکہ یہ آلہ جسکے پاس ہو اسے یہ حرام پروگراموں کے حاصل کرنے کے لئے کاملاًمیدان فراہم کرتاہے اور بعض اوقات اسے گھر میں رکھنے پر دیگر مفاسد بھی مترتب ہوتے ہیں لہذا اسکی خرید و فروخت اور رکھنا جائز نہیں ہے ہاں اس شخص کے لئے جائز ہے جسے اپنے اوپر اطمینان ہوکہ اس سے حرام استفادہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے گھر میں رکھنے پر کوئی مفسدہ مترتب ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں کوئی قانون ہو تو اسکی مراعات کرنا ضروری ہے۔
س1214: آیا جو شخص اسلامی جمہوریہ ایران سے باہر رہتا ہے اسکے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹیلی ویژن پروگرام دیکھنے کے لیئے سیٹلائٹ چینلز دریافت کرنے والا ڈش انٹیناخریدنا جائز ہے؟
ج: مذکورہ آلہ اگرچہ مشترک آلات میں سے ہے اور اس بات کی قابلیت رکھتا ہے کہ اس سے حلال استفادہ کیا جائے لیکن چونکہ غالباً اس سے حرام استفادہ کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اسے گھر میں رکھنے سے دوسرے مفاسد بھی پیدا ہوتے ہیں لہذا اسکا خریدنا اور گھر میں رکھنا جائز نہیں ہے ہاں اگر کسی کو اطمینان ہو کہ اسے حرام میں استعمال نہیں کرے گا اور اسکے نصب کرنے پر کوئی اور مفسدہ بھی مترتب نہیں ہوگا تو اسکے لئے جائز ہے ۔
س1215: ایسے ڈش انٹینا کا کیا حکم ہے جو اسلامی جمہوریہ کے چینلز کے علاوہ بعض خلیجی اور عرب ممالک کی خبریں اور انکے مفید پروگراموں کے ساتھ ساتھ تمام مغربی اور فاسد چینلز بھی دریافت کرتاہے؟
ج: مذکورہ آلہ کے ذریعے ٹیلیویژن پروگرام کے حصول اور استعمال کا معیار وہی ہے جو گذشتہ مسئلہ میں بیان کیا گیا ہے اورمغربی اور غیر مغربی چینلز میں کوئی فرق نہیں ہے۔
س1216: علمی اور قرآنی اور ان جیسے دیگر پروگراموں سے مطلع ہونے کے لئے کہ جنہیں مغربی ممالک اور خلیج فارس کے پڑوسی ممالک نشر کرتے ہیں ڈش کے استعمال کا حکم کیا ہے؟
ج: مذکورہ آلے کو علمی ، قرآنی وغیرہ پروگراموں کے مشاہدے کے لئے استعمال کرنا بذات ِ خود صحیح ہے۔ لیکن وہ پروگرام جو سیٹلائٹ کے ذریعہ مغربی یا اکثر ہمسایہ ممالک نشر کرتے ہیں غالباً گمراہ کن افکار، مسخ شدہ حقائق اور لہو ومفسدے پر مبنی ہوتے ہیں حتی کہ قرآنی ، علمی پروگرام دیکھنا بھی مفسدے اور حرام میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے لہذا ایسے پروگرام دیکھنے کیلئے ڈش کا استعمال شرعاً حرام ہے۔ ہاں اگر خالص علمی اور قرآنی پروگرام ہوں اور ان کے دیکھنے میں کوئی مفسدہ نہ ہو اور اس سے کسی حرام کام میں بھی مبتلا نہ ہو تو جائز ہے البتہ اس سلسلے میں اگر کوئی قانون ہو تو اسکی پابندی ضروری ہے۔
س1217: میرا کام ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام دریافت کرنے والے آلات کی مرمت کرنا ہے اور گذشتہ کچھ عرصے سے ڈش لگانے اور مرمت کرانے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے مذکورہ مسئلہ میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ اور ڈش کے اسپئیر پارٹس کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر مذکورہ آلہ سے حرام امور میں استفادہ کیا جائے جیسا کہ غالباً ایسا ہی ہے یا آپ جانتے ہیں کہ جو شخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اسے حرام میں استعمال کرے گا تو ایسی صورت میں اس کا فروخت کرنا، خریدنا ، نصب کرنا ، چالو کرنا، مرمت کرنا اور اس کے اسپئیر پارٹس فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
- تھیٹر اور سینما
تھیٹر اور سینما
س1218: کیا فلموں میں ضرورت کے تحت علماء دین اور قاضی کے لباس سے استفادہ کرنا جائز ہے؟کیا ماضی اور حال کے علما پر دینی اور عرفانی پیرائے میں فلم بنانا جائز ہے؟ اس شرط کے ساتھ کہ ان کا احترام اور اسلام کی حرمت بھی محفوظ رہے ؟ اور انکی شان میں کسی قسم کی بے ادبی اور بے احترامی بھی نہ ہو بالخصوص جب ایسی فلمیں بنانے کا مقصد دین حنیف اسلام کی اعلی اقدار کو پیش کرنا اور عرفان اور ثقافت کے اس مفہوم کو بیان کرنا ہو جو ہماری اسلامی امت کا طرہ امتیاز ہے اور اس طرح سے دشمن کی گندی ثقافت کا مقابلہ کیا جائے اور اسے سینما کی زبان میں بیان کیا جائے کہ جو جوانوں کے لئے بالخصوص جذاب اور زیادہ موثر ہے ؟
ج: اس مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سینما بیداری ، شعور پیدا کرنے اور تبلیغ کا ذریعہ ہے پس ہر اس چیز کی تصویر کشی کرنا یا پیش کرنا جو نوجوانوں کے فہم و شعور کو بڑھائے اور اسلامی ثقافت کی ترویج کرے، جائز ہے۔ انہیں چیزوں میں سے ایک علما ء دین کی شخصیت ، انکی ذاتی زندگی اور اسی طرح دیگر صاحبان علم و منصب کی شخصیت اور انکی شخصی زندگی کا تعارف کراناہے۔ لیکن ان کی ذاتی حیثیت اور ان کے احترام کی رعایت کرنا اور انکی ذاتی زندگی کے حریم کا پاس رکھنا واجب ہے اور یہ کہ ایسی فلموں سے اسلام کے منافی مفاہیم کو بیان کرنے کے لئے استفادہ نہ کیا جائے۔
س1219: ہم نے ایک ایسی داستانی اور حماسی فلم بنانے کا ارادہ کیا ہے کہ جو کربلا کے ہمیشہ زندہ رہنے والے واقعہ کی تصویر پیش کرے اور ان عظیم اہداف کو پیش کرے کہ جنکی خاطر امام حسین شہید ہوئے ہیں البتہ مذکورہ فلم میں امام حسین ـ کو ایک معمولی اور قابل رؤیت فرد کے طور پر نہیں دکھا یا جائے گا بلکہ انہیں فلم بندی ،اسکی ساخت اور نورپردازی کے تمام مراحل میں ایک نورانی شخصیت کی صورت میں پیش کیا جائے گا کیا ایسی فلم بنانا اور امام حسین علیہ السلام کو مذکورہ طریقے سے پیش کرنا جائز ہے ؟
ج: اگر فلم قابل اعتماد تاریخی شواہد کی روشنی میں بنائی جائے اور موضوع کا تقدس محفوظ رہے اور امام حسین اور ان کے اصحاب اور اہل بیت سلام اللہ علیہم اجمعین کا مقام و مرتبہ ملحوظ رہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ موضوع کے تقدس کو اس طرح محفوظ رکھنا جیسے کہ محفوظ رکھنے کا حق ہے اور اسی طرح امام اور ان کے اصحاب کی حرمت کو باقی رکھنا بہت مشکل ہے لہذا اس میدان میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
س1220: اسٹیج یا فلمی اداکاری کے دوران مردوں کے لئے عورتوں کا لباس اور عورتوں کے لئے مردوں والا لباس پہننے کا کیا حکم ہے؟ اور عورتوں کے لئے مردوں کی آواز کی نقل اتارنے اور مردوں کیلئے عورتوں کی آواز کی نقل اتارنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اداکاری کے دوران کسی حقیقی شخص کی خصوصیات بیان کرنے کی غرض سے جنس مخالف کے لئے ایک دوسرے کا لباس پہننا یا آواز کی نقل اتارنا اگر کسی مفسدے کا سبب نہ بنے تو اس کا جائز ہونا بعید نہیں ہے۔
س1221: اسٹیج شو یاتھیڑمیں خواتین کے لئے میک اپ کا سامان استعمال کرنے کا کیاحکم ہے؟ جبکہ انہیں مرد مشاہدہ کرتے ہوں؟
ج: اگر میک اپ کا عمل خود انجام دے یا خواتین کے ذریعے انجام پائے یا کوئی محرم انجام دے اور اس میں کوئی مفسدہ نہ ہو تو جائز ہے وگرنہ جائز نہیں ہے البتہ میک اپ شدہ چہرہ نامحرم سے چھپانا ضروری ہے ۔
- مصوری اور مجسمہ سازی
مصوری اور مجسمہ سازی
س1222: گڑیا ، مجسمے، ڈراءنگ اور ذی روح موجودات جیسے نباتات، حیوانات اور انسان کی تصویریں بنانے کا کیا حکم ہے؟ انکی خرید و فروخت ،گھر میں رکھنے یا انکے نمائش گاہ میں پیش کرنے کا کیا حکم ہے ؟
ج: موجودات کی مجسمہ سازی اور تصویریں اور ڈراءنگ بنانے میں کوئی اشکال نہیں ہے اگرچہ وہ ذی روح ہوں اسی طرح مجسموں اور ڈرائنگ کی خرید و فروخت ان کی حفاظت کرنے نیز انکے نمائش گاہ میں پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1223: جدید طریقۂ تعلیم میں خود اعتمادی کے عنوان سے ایک درس شامل ہے جس کا ایک حصہ مجسمہ سازی پر مشتمل ہے بعض اساتید طالب علموں کو دستی مصنوعات کے عنوان سے کپڑے یا کسی اور چیز سے گڑیا یا کتّے ، خرگوش و غیرہ کا مجسمہ بنانے کا حکم دیتے ہیں ۔ مذکورہ اشیاء کے بنانے کا کیا حکم ہے ؟ استاد کے اس حکم دینے کا کیا حکم ہے؟کیا مذکورہ اشیاء کے اجزا کا مکمل اور نامکمل ہونا انکے حکم میں اثر رکھتا ہے؟
ج: مجمسہ سازی اور اس کا حکم دینا بلا مانع ہے۔
س1224: بچوں اورنوجوانوں کا قرآنی قصّوں کے خاکے اور ڈراءنگ بنانے کا کیا حکم ہے؟ مثلاً بچوں سے یہ کہا جائے کہ اصحاب فیل یا حضرت موسیٰ کے لئے دریا کے پھٹنے کے واقعہ کی تصویریں بنائیں؟
ج: بذات خود اس کام میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہواورغیر واقعی اور ہتک آمیزنہ ہو۔
س1225: کیا مخصوص مشین کے ذریعے گڑیا یا انسان و غیرہ جیسے ذی روح موجودات کا مجسمہ بنانا جائز ہے یا نہیں ؟
ج: اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س1226:مجسمے کی طرز کا زیور بنانے کا کیا حکم ہے؟کیا مجسمہ سازی کے لئے استعمال شدہ مواد بھی حرام ہونے میں مؤثر ہے؟
ج: مجمسہ بنانے میں اشکال نہیں ہے اور اس سلسلے میں اس مواد میں کوئی فرق نہیں ہے جس سے مجسمہ بنایا جاتاہے۔
س1227: آیا گڑیا کے اعضا مثلاً ہاتھ پاؤں یا سر دوبارہ جوڑنا مجسمہ سازی کے زمرے میں آتاہے؟ کیا اس پر بھی مجسمہ سازی کا عنوان صدق کرتاہے؟
ج: صرف اعضا بنانا یا انھیں دوبارہ جو ڑنا ، مجسمہ سازی نہیں کہلاتا اور ہر صورت میں مجسمہ بنانا اشکال نہیں رکھتا۔
س1228: جلد کو گودناــ (خالکوبی )جو کہ بعض لوگوں کے ہاں رائج ہے کہ جس سے انسانی جسم کے بعض اعضا پر اس طرح مختلف تصاویر بنائی جاتی ہیں کہ وہ محو نہیں ہوتیںــکیا حکم رکھتاہے؟اور کیا یہ ایسی رکاوٹ ہے کہ جس کی وجہ سے وضو یا غسل نہیں ہوسکتا ؟
ج: گودنے اور سوئی کے ذریعے جلد کے نیچے تصویر بنانا حرام نہیں ہے اور وہ اثر جو جلد کے نیچے باقی ہے وہ پانی کے پہنچنے سے مانع نہیں ہے لہذا غسل اور وضو صحیح ہے۔
س1229: ایک میاں بیوی معروف مصور ہیں۔ ان کا کام تصویری فن پاروں کی مرمت کرنا ہے۔ ان میں سے بہت سے عیسائی معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ بعض میں صلیب یا حضرت مریم یا حضرت عیسی کی شکل ہوتی ہے مذکورہ اشیا کو گرجا والے یا مختلف کمپنیاں ان کے پاس لے کر آتی ہیں تاکہ ان کی مرمت کی جائے جبکہ پرانے ہونے یا کسی اور وجہ سے ان کے بعض حصے ضایع ہوچکے ہوتے ہیں ۔ آیا ان کے لئے ان چیزوں کی مرمت کرنا اور اس عمل کے عوض اجرت لینا صحیح ہے؟ اکثر تصاویر اسی طرح کی ہوتی ہیں اور ان کا یہی واحد پیشہ ہے جس سے وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں جبکہ وہ دونوں اسلامی تعلیمات کے پابند ہیں آیا مذکورہ تصاویر کی مرمت اور اس کا م کے بدلے اجرت لینا انکے لئے جائز ہے؟
ج: محض کسی فن پارے کی مرمت کرنا اگرچہ وہ عیسائی معاشرے کی عکاسی کرتے ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مریم علیہا السلام کی تصاویر پر مشتمل ہوں جائز ہے اور مذکورہ عمل کے عوض اجرت لینا بھی صحیح ہے اور اس قسم کے عمل کو پیشہ بنانے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے مگر یہ کہ یہ باطل اور گمراہی کی ترویج یا کسی اور مفسدے کا سبب بنے تو جائز نہیں ہے۔
- جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
- قسمت آزمائی
قسمت آزمائی
س1237: قسمت آزمائی کے ٹکٹ خریدنے اور فروخت کرنے کا کیا حکم ہے اور مکلّف کے لئے اس سے حاصل شدہ انعام کا کیا حکم ہے؟
ج: قسمت آزمائی کے ٹکٹ خریدنا اور فروخت کرنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے اور جیتنے والا شخص انعام کا مالک نہیں بنتا اور اسے مذکورہ مال کے لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
س1238: وہ ٹکٹ جو ایک ویلفیر پیکج (ارمغان بہزیستی)کے نام سے نشر کیئے جاتے ہیں انکی بابت پیسے دینا اور انکی قرعہ اندازی میں شرکت کا کیا حکم ہے ؟
ج: بھلائی کے کاموں کیلئے لوگوں سے ہدایا جمع کرنے اور اہل خیر حضرات کی ترغیب کی خاطر ٹکٹ چھاپنے اور تقسیم کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے اسی طرح مذکورہ ٹکٹ بھلائی کے کاموںمیں شرکت کی نیت سے خرید نے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔
س1239: ایک شخص کے پاس گاڑی ہے جسے وہ بخت آزمائی کیلئے پیش کرتا ہے اس طرح کہ مقابلے میں شرکت کرنے والے افراد ایک خاص ٹکٹ خریدتے ہیں اور ایک مقررہ تاریخ کو ایک معیّن قیمت کے تحت انکی قرعہ اندازی ہوگی معیّنہ مدت کے ختم ہونے پر اور لوگوں کی ایک تعداد کی شرکت کے بعد قرعہ اندازی کی جاتی ہے جس شخص کے نام قرعہ نکلتاہے وہ اس قیمتی گاڑی کو لے لیتا ہے تو کیا قرعہ اندازی کے ذریعے مذکورہ طریقے سے گاڑی کو عرضہ کرنا اور پیش کرنا شرعاً جائز ہے؟
ج: احتیاط کی بنا پر ان ٹکٹوں کی خرید و فروش حرام ہے اور جیتنے والا شخص انعام (گاڑی) کا مالک نہیں بنے گا بلکہ مالک بننے کیلئے ضروری ہے کہ انعام (گاڑی) کا مالک بیع، ہبہ یا صلح وغیرہ جیسے کسی شرعی عقد کے ذریعے اسے جیتنے والے کو تملیک کرے ۔
س1240: کیا رفاہ عامہ کیلئے ٹکٹ فروخت کرکے عام لوگوں سے چندہ جمع کرنا اور بعد میں حاصل شدہ مال میں سے ایک مقدار کو قرعہ اندازی کے ذریعے جیتنے والوں کو تحفہ کے طورپردینا جائزہے؟ جبکہ باقی مال رفاہ عامہ میں خرچ کردیا جائے؟
ج: مذکورہ عمل کو بیع کہنا صحیح نہیں ہے ہاں بھلائی کے کاموں کے لئے ٹکٹ جاری کرنا صحیح ہے۔ اور قرعہ اندازی کے ذریعہ لوگوں کو انعام دینے کے وعدے کے ذریعہ انہیں چندہ دینے پر آمادہ کرنا بھی جائز ہے۔البتہ اس شرط کے ساتھ کہ لوگ بھلائی کے کاموں میں شرکت کے قصدسے ٹکٹ حاصل کریں۔
س1241: کیا بخت آزمائی (lotto)کے ٹکٹ خریدنا جائز ہے؟جبکہ مذکورہ ٹکٹ ایک خاص کمپنی کی ملکیت ہیں اور ان ٹکٹوں کی صرف بیس فیصد منفعت عورتوں کے فلاحی ادارے کو دی جاتی ہے؟
ج: ان ٹکٹوں کی خرید و فروش احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے اور جیتنے والے جیتی ہوئی رقم کے مالک نہیں بنیں گے۔
- رشوت
- طبی مسائل
- تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
س 1319: کیا پیش آنے والے مسائل شرعیہ کو نہ سیکھنا گنا ہ ہے ؟
ج: اگر نہ سیکھنے کی وجہ سے ترک واجب یا فعل حرام کامرتکب ہو تو گناہ گار ہوگا۔
س1320: اگر دینی طالب علم سطحیات تک کے مراحل طے کرلے اور وہ اپنے آپ کو درجہ اجتہاد تک کی تعلیم مکمل کرنے پر قادر سمجھتا ہو تو کیا ایسے شخص کے لئے تعلیم مکمل کرنا واجب عینی ہے؟
ج: بلا شک علوم دینی کی تحصیل اور درجہ اجتہادتک پہنچنے کیلئے اسے جاری رکھنا عظیم فضیلت ہے ، لیکن صرف درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کی قدرت رکھنا اسکے واجب عینی ہونے کا باعث نہیں بنتا۔
س1321: اصول دین میں حصول یقین کا کیا طریقہ ہے؟
ج: عام طور پر یقین عقلی براہین و دلائل سے حاصل ہوتا ہے۔البتہ مکلفین کے ادراک و فہم میں اختلاف مراتب کی وجہ سے براہین و دلائل بھی مختلف ہیں۔ بہرحال اگر کسی شخص کو کسی دوسرے طریقے سے یقین حاصل ہوجائے تو کافی ہے۔
س1322: حصول علم میں سستی کرنے اور وقت ضائع کرنے کا کیا حکم ہے ؟ آیا یہ حرام ہے؟
ج: بے کار رہنے اور وقت ضائع کرنے میں اشکال ہے۔ اگر طالب علم، طلاب کے لئے مخصوص سہولیات سے استفادہ کرتا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ طلاب کیلئے مخصوص درسی پروگرام کی بھی رعایت کرے وگرنہ اس کے لئے مذکورہ سہولیات جیسے ماہانہ وظیفہ اور امدادی مخارج و غیرہ سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے۔
س1323: اکنامکس کی بعض کلاسوں میں استاد سودی قرض سے متعلق بعض مسائل پر گفتگو کرتا ہے اور تجارت و صنعت وغیرہ میں سود حاصل کرنے کے طریقوں کا مقایسہ کرتا ہے مذکورہ تدریس اور اس پر اجرت لینے کا کیا حکم ہے؟
ج: صرف سودی قرضے کے مسائل کا جائزہ لینا اور ان کی تدریس حرام نہیں ہے۔
س1324: اسلامی جمہوری (ایران) میں عہد کی پابندی کرنے والے اور ذمہ دار ماہرین تعلیم کیلئے دوسروں کو تعلیم دینے کیلئے کونسا صحیح طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے؟ اوراداروں میں کون لوگ حساس ٹیکنیکی علوم اور معلومات حاصل کرنے کے لائق ہیں؟
ج: کسی شخص کا کوئی بھی علم حاصل کرنا اگر جائز عقلائی مقصد کیلئے ہو اور اس میں فاسد ہونے یا فاسد کرنے کا خوف نہ ہو تو بلا مانع ہے سوائے ان علوم و معلومات کے کہ جنکے حاصل کرنے کیلئے حکومت اسلامی نے خاص قوانین اور ضوابط بنائے ہیں۔
س1325: آیا دینی مدارس میں فلسفہ پڑھنا اور پڑھانا جائز ہے؟
ج: جس شخص کو اطمینان ہے کہ فلسفہ کی تعلیم حاصل کرنے سے اسکے دینی اعتقادات میں تزلزل نہیں آئیگااس کیلئے فلسفہ پڑھنا اشکال نہیں رکھتابلکہ بعض موارد میں واجب ہے۔
س1326: گمراہ کن کتابوں کی خریدو فروخت کرنا کیسا ہے؟ مثلاً کتاب آیات شیطانی؟
ج: گمراہ کن کتابوں کا خریدنا، بیچنا اور رکھنا جائز نہیں ہے مگر اس کا جواب دینے کیلئے البتہ اگرعلمی لحاظ سے اس پر قادر ہو۔
س1327: حیوانات اور انسانوں کے بارے میں ایسے خیالی قصّوں کی تعلیم اور انہیں بیان کرنا کیا حکم رکھتا ہے جن کے بیان کرنے میں فائدہ ہو؟
ج: اگر قرائن سے معلوم ہورہاہو کہ داستان تخیلی ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
س1328: ایسی یونیورسٹی یا کالج میں پڑھنے کا کیا حکم ہے جہاں بے پردہ عورتوں کے ساتھ مخلوط ہونا پڑتاہے؟
ج: تعلیمی مراکز میں تعلیم و تعلم کے لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن خواتین اور لڑکیوں پر پردہ کرنا واجب ہے اور مردوں پر بھی واجب ہے کہ انکی طرف حرام نگاہ سے پرہیز کریں اور ایسے اختلاط سے اجتناب کریں کہ جس میں مفسدے اور فاسد ہونے کا خوف ہو۔
س1329: آیا خاتون کا غیر مرد سے ایسے مقام پر جو ڈرائیونگ سکھانے کے لئے مخصوص ہے ڈرائیونگ سیکھنا جائز ہے؟ جبکہ خاتون شرعی پردے اور عفت کی پابند ہو؟
ج: نامحرم سے ڈرائیونگ سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ جب پردے اور عفت کا خیال رکھا جائے اورمفسدہ میں نہ پڑنے کا اطمینان ہوہاں اگر کوئی محرم بھی ساتھ ہو تو بہتر ہے بلکہ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ نامحرم مرد کی بجائے کسی عورت یا اپنے کسی محرم سے ڈرائیونگ سیکھے۔
س1330: کالج ، یونیورسٹی میں جوان لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم کی وجہ سے آپس میں ملتے ہیں اور کلاس فیلو ہونے کی بنیاد پردرس وغیرہ کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں لیکن بعض اوقات لذت اوربرے قصد کے بغیر ہنسی مذاق بھی ہوجاتا ہے آیا مذکورہ عمل جائز ہے؟
ج: اگر پردے کی پابندی کی جائے بری نیت بھی نہ ہو اور مفسدے میں نہ پڑنے کا اطمینان ہو تو اشکال نہیں رکھتا ورنہ جائز نہیں ہے۔
س1331: حالیہ دور میں کس علم کا ماہر ہونا اسلام اور مسلمانوں کے لئے زیادہ مفید ہے؟
ج: بہتر یہ ہے کہ علماء ، اساتید اور یونیورسٹیوں کے طلباء ان تمام علوم میں ماہر ہونے کو اہمیت دیں جو مفید اور مسلمانوں کی ضرورت ہیں تا کہ غیروں سے اور بالخصوص اسلام و مسلمین کے دشمنوں سے بے نیاز ہو سکیں۔ ان میں سے مفید ترین کی تشخیص موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سے متعلقہ ذمہ دار لوگوں کا کام ہے ۔
س1332: گمراہ کن کتابوں اور دوسرے مذاہب کی کتابوں سے آگاہ ہونا کیسا ہے؟ تاکہ ان کے دین اور عقائد کے بارے میں زیادہ اطلاعات اور معرفت حاصل ہوسکے؟
ج: فقط معرفت اور زیادہ معلومات کے لئے انکے پڑھنے کے جواز کا حکم مشکل ہے ہاں اگر کوئی شخص گمراہ کنندہ مواد کی تشخیص دے سکے اور اسکے ابطال اور اس کا جواب دینے کیلئے مطالعہ کرے تو جائز ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ اپنے بارے میں مطمئن ہو کہ حق سے منحرف نہیں ہوگا۔
س1333: بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرانے کا کیا حکم ہے جہاں بعض فاسد عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے اس فرض کے ساتھ کہ بچے ان سے متاثر نہیں ہوں گے؟
ج: اگر ان کے دینی عقائد کے بارے میں خوف نہ ہو اور باطل کی ترویج بھی نہ ہو اوران کیلئے فاسد اور گمراہ کن مطالب کو سیکھنے سے دوررہنا ممکن ہو تو اشکال نہیں رکھتا۔
س1334: میڈیکل کا طالب علم چار سال سے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہے جبکہ اسے دینی علوم کا بہت شوق ہے ، آیا اس پر واجب ہے کہ تعلیم جاری رکھے یا اسے ترک کرکے علوم دینی حاصل کرسکتا ہے؟
ج: طالب علم اپنے لئے علمی شعبہ اختیار کرنے میں آزادہے لیکن یہاں پر ایک نکتہ قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اگر اسلامی معاشرے کی خدمت پر قادر ہونے کیلئے دینی علوم کی اہمیت ہے تو امت اسلامی کو طبی خدمات پہنچانے ،انکی بیماریوں کا علاج کرنے اور انکی جانوں کو نجات دینے کیلئے آمادہ ہونے کے قصد سے میڈیکل کی تعلیم بھی امت اسلامی کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
س1335: استاد نے کلاس میں ایک طالب علم کو سب کے سامنے بہت شدت سے ڈانٹا کیاطالب علم بھی ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں ؟
ج: طالب علم کو اس طرح جواب دینے کا حق نہیں ہے جو استاد کے مقام کے لائق نہ ہو اور اس پر واجب ہے کہ استاد کی حرمت کا خیال رکھے اور کلاس کے نظم کی رعایت کرے البتہ شاگرد قانونی چارہ جوئی کرسکتاہے اسی طرح استاد پر واجب ہے کہ وہ بھی طالب علم کی حرمت کادوسرے طلّاب کے سامنے پاس رکھے اور تعلیم کے اسلامی آداب کی رعایت کرے۔
- حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
س1336: وه کتب اور مقالات جو باہر سے آتے ہیں یا اسلامیه جمہوریہ(ایران) میں چھپتے ہیں ان کے ناشروں کی اجازت کے بغیر ان کی اشاعت کا کیا حکم ہے؟
ج: اسلامی جمہوریہ (ایران)سے باہر چھپنے والی کتب کی اشاعت مکرر یا افسیٹ مذکورہ کتب کے بارے میں اسلامی جمہوریہ(ایران) اور ان حکومتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تابع ہے لیکن ملک کے اندر چھپنے والی کتب میں احوط یہ ہے کہ ناشر سے انکی تجدید طباعت کے لئے اجازت لیکر اسکے حقوق کا خیال رکھا جائے ۔
س1337: آیا مؤلفین ، مترجمین اور کسی ہنرکے ماہرین کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی زحمت کے عوض یا اپنی کوشش ،وقت اور مال کے مقابلے میں کہ جو انہوں نے اس کام پرخرچ کیا ہے ( مثلاً ) حق تالیف کے عنوان سے رقم کا مطالبہ کریں؟
ج: انہیں حق پہنچتا ہے کہ اپنے علمی اورہنری کام کے پہلے یا اصلی نسخے کے بدلے میں ناشرین سے جتنا مال چاہیں دریافت کریں۔
س1338: اگر مؤلف ، مترجم یا صاحب ہنرپہلی اشاعت کے عوض مال کی کچھ مقدار وصول کرلے اور یہ شرط کرے کہ بعد کی اشاعت میں بھی میرا حق محفوظ رہے گا۔ تو آیا بعد والی اشاعتوں میں اسے مال کے مطالبہ کا حق ہے؟ اور اس مال کے وصول کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر پہلا نسخہ دیتے وقت ناشر کے ساتھ ہونے والے معاملے میں بعد والی اشاعتوں میں بھی رقم لینے کی شرط کی ہو یا قانون اس کا تقاضا کرے تو اس رقم کا لینا اشکال نہیں رکھتا اور ناشر پر شرط کی پابندی کرنا واجب ہے۔
س1339: اگر مصنف یا مؤلف نے پہلی اشاعت کی اجازت کے وقت اشاعت مکرر کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہو تو آیا ناشر کے لئے اسکی اجازت کے بغیر اور اسے مال دیئے بغیر اسکی اشاعت مکرر جائزہے؟
ج: چاپ کے سلسلے میں ہونے والا معاہدہ اگر صرف پہلی اشاعت کے لئے تھا تو احوط یہ ہے کہ مؤلف کے حق کی رعایت کی جائے اور بعد کی اشاعتوں کیلئے بھی اس سے اجازت لی جائے۔
س1340: اگر مصنف سفر یا موت و غیرہ کی وجہ سے غائب ہو تو اشاعت مکرر کے لئے کس سے اجازت لی جائے اور کسے رقم دی جائے؟
ج: احتیاط واجب کی بنا پر مصنف کے نمائندے یا شرعی سرپرست یا فوت ہونے کی صورت میں وارث کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
س1341: آیا اس عبارت کے باوجود ( تمام حقوق مؤلف کے لئے محفوظ ہیں) بغیر اجازت کے کتاب چھاپنا صحیح ہے؟
ج: احوط یہ ہے کہ مؤلف اور ناشر کے حقوق کی رعایت کی جائے اور طبع جدید میں ان سے اجازت لی جائے البتہ اگر اس سلسلے میں کوئی قانون ہو تو اس کی رعایت کرنا ضروری ہےاور بعد والے مسائل میں بھی اس امر کی رعایت کرنا ضروری ہے۔
س1342: تواشیح اور قرآن کریم کی بعض کیسٹوں پر یہ عبارت لکھی ہوتی ہے ( کاپی کے حقوق محفوظ ہیں) آیا ایسی صورت میں اس کی کاپی کرکے دوسرے لوگوں کو دینا جائز ہے؟
ج: احوط یہ ہے کہ اصلی ناشر سے کاپی کرنے کی اجازت لی جائے۔
س1343: آیا کمپیوٹر کی ڈسک کاپی کرنا جائز ہے؟بر فرض حرمت آیا یہ حکم اس ڈسک کے ساتھ مختص ہے جوایران میں تیارکی گئی ہے یاباہر کی ڈسک کو بھی شامل ہے؟یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ بعض کمپیوٹر ڈسکوں کی قیمت انکے محتوا کی اہمیت کی وجہ سے بہت زیادہ ہوتی ہے؟
ج: احوط یہ ہے کہ ملک کے اندر بننے والی ڈسک کی کاپی کرنے کیلئے مالکوں سے اجازت لی جائے اور انکے حقوق کی رعایت کی جائے اور بیرون ملک سے آنے والی ڈسکیں معاہدہ کے تحت ہیں۔
س1344: آیا دوکانوں اور کمپنیوں کے نام اور تجارتی مارک ان کے مالکوں سے مختص ہیں؟ اس طرح کہ دوسروں کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنی دوکانوں یا کمپنیوں کو ان ناموں کے ساتھ موسوم کریں؟ مثلاً ایک شخص ایک دوکان کا مالک ہے اور اس دوکان کا نام اس نے اپنے خاندان کے نام پر رکھا ہوا ہے آیا اسی خاندان کے کسی دوسرے فرد کو مذکورہ نام سے دوکان کھولنے کی اجازت ہے؟ یا کسی اور خاندان کے شخص کواپنی دوکان کیلئے مذکورہ نام استعمال کرنے کی اجازت ہے؟
ج: اگر حکومت کی طرف سے دوکانوں اور کمپنیوں کے نام ملکی قوانین کے مطابق ایسے افراد کو عطا کیئے جاتے ہوں جو دوسروں سے پہلے مذکورہ عنوان کو اپنے نام کروانے کیلئے باقاعدہ طور پر درخواست دیتے ہیں اور سرکاری ریکارڈ میں ان کے نام رجسٹرڈ ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں دوسروں کیلئے اس شخص کی اجازت کے بغیر اس نام سے استفادہ اور اقتباس کرنا جائز نہیں ہے کہ جس کی دوکان یا کمپنی کیلئے یہ رجسٹرڈ ہو چکا ہے اور اس حکم کے لحاظ سے فرق نہیں ہے کہ استعمال کرنے والا شخص اس نام والے کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو یا نہ ۔ اور اگر مذکورہ صورت میں نہ ہو تو دوسروں کے لئے اس نام سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1345: بعض افراد فوٹوکاپی کی دوکان پر آتے ہیں اور وہاں پر لائے گئے کاغذات اور کتابوں کی تصویر برداری کی درخواست کرتے ہیں اور دوکاندار جو کہ مومن ہے تشخیص دیتا ہے کہ یہ کتاب یا رسالہ یا کاغذات سب مومنین کے لئے مفید ہیں آیا اس کے لئے کتاب کے مالک سے اجازت لئے بغیر کتاب یا رسالے کی تصویر برداری جائز ہے؟ اور اگر دوکاندار کو علم ہو کہ صاحب کتاب راضی نہیں ہے تو آیا مسئلہ میں فرق پڑے گا؟
ج: احوط یہ ہے کہ کتاب یا اوراق کے مالک کی اجازت کے بغیر ان کی تصویر برداری نہ کی جائے۔
س1346: بعض مومنین ویڈیو کیسٹ کرائے پر لاتے ہیں اور جب ویڈیو کیسٹ مکمل طور پر انکی پسند کا ہو تو اس وجہ سے کہ بہت سارے علما کے نزدیک حقوق طبع محفوظ نہیں ہوتے دوکاندار کی اجازت کے بغیر اسکی کاپی کرلیتے ہیں کیاان کا یہ عمل جائز ہے؟ اور بر فرض عدم جواز ، اگر کوئی شخص ریکارڈ کرلے یا اس کی کاپی کرلے تو کیا اس پر لازم ہے کہ وہ دوکاندار کو اطلاع دے یاریکارڈشدہ مواد کو ختم کردینا کافی ہے؟
ج: احوط یہ ہے کہ بغیر اجازت ریکارڈ نہ کی جائے لیکن اگر بغیر اجازت کے ریکارڈ کرلے تو ختم کرنا کافی ہے۔
- غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
س1347: آیا اسرائیلی مال کا درآمد کرنا اور اس کی ترویج کرنا جائز ہے؟ اور اگر یہ کام وقوع پذیر ہوجائے اگرچہ اضطرارکی وجہ سے تو آیا مذکورہ مال کو فروخت کرنا جائز ہے؟
ج: ایسے معاملات سے پرہیز کرنا ضروری ہے کہ جو غاصب اور اسلام و مسلمین کی دشمن اسرائیلی حکومت کے نفع میں ہوں اور کسی کے لئے بھی ان کے اس مال کو درآمد کرنا اور اس کی ترویج کرنا جائز نہیں ہے جس کے بنانے اور فروخت کرنے سے اسے فائدہ پہنچے ، اور مسلمانوں کے لئے ان اشیاء کا خریدنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے مفسدہ اور ضرر ہے۔
س1348: کیااس ملک کے تاجروں کے لئے جس نے اسرائیل سے اقتصادی بائیکات کو ختم کردیاہے اسرائیلی مال کا درآمد کرنا اور اس کی ترویج کرنا جائز ہے؟
ج: واجب ہے کہ اشخاص ایسی اشیاء کہ جن کے بنانے اور فروخت کرنے سے اسرائیل کی پست حکومت کو فائدہ پہنچتا ہو اجتناب کریں۔
س1349: آیا مسلمانوں کے لئے ان اسرائیلی مصنوعات کو خریدنا جائز ہے کہ جو اسلامی ممالک میں بکتی ہیں؟
ج: تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایسی مصنوعات کی خریداری اور ان سے استفادہ کرنے سے پرہیز کریں کہ جن کے بنانے اور بیچنے کا فائدہ اسلام و مسلمین کے ساتھ بر سر پیکار صیہونی دشمنوں کو پہنچے۔
س1350: آیا اسلامی ممالک میں اسرائیل کے سفر کے لئے دفاتر کھولنا جائز ہے؟ اور آیا مسلمانوں کے لئے ان دفاتر سے ٹکٹ خریدنا جائز ہے؟
ج: چونکہ اس کام میں اسلام اور مسلمانوں کا نقصان ہے لہذا جائز نہیں ہے اور اسی طرح کسی شخص کے لئے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ایسا کام کرے جو اسرائیل کی دشمن اور محارب حکومت سے مسلمانوں کے بائیکاٹ کے خلاف ہو۔
س1351: آیا ایسی یہودی،امریکی یا کینیڈین کمپنیوں کی مصنوعات خریدنا جائز ہے جن کے بارے میں یہ احتمال ہو کہ وہ اسرائیل کی مدد کرتی ہیں؟
ج: اگران مصنوعات کی خریدو فروخت اسرائیل کی گھٹیا اور غاصب حکومت کی تقویت کا سبب بنے یا یہ اسلام و مسلمین کے ساتھ دشمنی کیلئے کام میں لائی جاتی ہوں تو کسی فرد کے لئے ان کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے وگرنہ اشکال نہیں ہے۔
س1352: اگراسرائیلی مال اسلامی ممالک میں درآمد کیا جائے تو کیا جائز ہے کہ تجار اس کا کچھ حصہ خرید کر لوگوں کوبیچیں اور اس کی ترویج کریں؟
ج: چونکہ اس کام میں بہت مفاسد ہیں لہذا جائز نہیں ہے ۔
س1353: اگر کسی اسلامی ملک کی عام مارکیٹوں میں اسرائیلی مصنوعات پیش کی جائیں تو اگر ضرورت کی غیر اسرائیلی مصنوعات کو مہیا کرنا ممکن ہو کیا مسلمانوں کے لیے اسرائیلی مصنوعات خریدنا جائز ہے؟
ج: تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ایسی اشیاء کے خریدنے اور استعمال کرنے سے اجتناب کریں کہ جن کے بنانے اور خریدنے کا فائدہ اسلام ومسلمین سے برسر پیکار صہیونیوں کو پہنچتا ہو۔
س1354: اگر اس بات کا علم ہوجائے کہ اسرائیلی مصنوعات کو ان کی اسرائیلی مہر تبدیل کرنے کے بعد ترکی یا قبرص کے ذریعے دوبارہ برآمد کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان خریداریہ سمجھیں کہ مذکورہ مصنوعات اسرائیلی نہیں ہیں اس لئے کہ اگر مسلمان اس امر کو جان لے کہ یہ مصنوعات اسرائیلی ہیں تو انہیں نہیں خریدے گا ایسی صورت حال میں مسلمان کی کیا ذمہ داری ہے؟
ج: مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ایسی مصنوعات کے خریدنے، ان سے استفادہ کرنے اورانکی ترویج کرنے سے اجتناب کریں۔
س1355: امریکی مصنوعات کی خریدوفروخت کا کیا حکم ہے؟ آیا یہ حکم تمام مغربی ممالک جیسے فرانس، برطانیہ کو شامل ہے؟ آیا یہ حکم ایران کے لیے مخصوص ہے یا تما م ممالک میں جاری ہے؟
ج: اگر غیر اسلامی ممالک سے درآمد شدہ مصنوعات کی خریداری اوران سے استفادہ ان کافر استعماری حکومتوں کی تقویت کا باعث ہو کہ جو اسلام ومسلمین کی دشمن ہیں یا اس سے پوری دنیا میں اسلامی ممالک یا مسلمانوں کے اوپر حملے کرنے کیلئے انکی قوت مضبوط ہوتی ہو تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کی مصنوعات کی خریداری، ان سے استفادہ کرنے اور انکے استعمال سے اجتناب کریں۔ اور مذکورہ حکم تمام مصنوعات اور تمام کافر اور اسلام ومسلمین کی دشمن حکومتوں کے لیے ہے اور مذکورہ حکم ایران کے مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے۔
س1356: ان لوگوں کی ذمہ داری کیا ہے جو ایسے کارخانوں اور اداروں میں کام کرتے ہیں کہ جن کا فائدہ کافر حکومتوں کو پہنچتا ہے او ریہ امر ان کے استحکام کا سبب بنتا ہے؟
ج: جائز کاموں کے ذریعے کسب معاش کرنا بذات خوداشکال نہیں رکھتااگر چہ اس کی منفعت غیر اسلامی حکومت کوپہنچے مگر جب وہ حکومت اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہواور مسلمانوں کے کام کے نتیجے سے اس جنگ میں استفادہ کیا جائے تو جائز نہیں ہے۔
- ظالم حکومت میں کام کرنا
ظالم حکومت میں کام کرنا
س1357: آیا غیر اسلامی حکومت میں کوئی ذمہ داری انجام دینا جائز ہے؟
ج: یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ذمہ داری بذات خود جائز ہو۔
س1358: ایک شخص کسی عرب ملک کی ٹریفک پولیس میں ملازم ہے اور اس کاکام ان لوگوں کی فائلوں پر دستخط کرنا ہے جو ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تاکہ انھیں قید خانے میں ڈالا جائے وہ جس کی فائل پردستخط کردے توقانون کی مخالفت کرنے والے اس شخص کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے آیا یہ نوکری جائز ہے؟ اور اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہے جووہ مذکورہ کام کے عوض حکومت سے لیتا ہے؟
ج: معاشرے کے نظم و نسق کے قوانین اگر چہ غیراسلامی حکومت کی طرف سے بنائے گئے ہوں ان کی رعایت کرناہر حال میں واجب ہے اور جائز کام کے بدلے میں تنخواہ لینا اشکال نہیں رکھتا۔
س1359: امریکہ یا کینیڈا کی شہریت لینے کے بعد آیا مسلمان شخص وہاں کی فوج یا پولیس میں شامل ہوسکتا ہے؟ اورکیا سرکاری اداروں جیسے بلدیہ اور دوسرے ادارے کہ جو حکومت کے تابع ہیں اُن میں نوکری کرسکتا ہے؟
ج: اگراس پر مفسدہ مترتب نہ ہو اور کسی حرام کو انجام دینے یا واجب کے ترک کا سبب نہ ہو تو اشکال نہیں رکھتا۔
س1360: آیا ظالم حاکم کی طرف سے منصوب قاضی کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟ تاکہ اس کی اطاعت کرنا واجب قرار پائے؟
ج: جامع الشرائط مجتہد کے علاوہ وہ شخص کہ جوایسے شخص کی طرف سے منصوب نہیں ہے جسے قاضی نصب کرنے کا حق ہے اس کیلئے منصب قضاوت کو سنبھالنا اور لوگوں کے درمیان قضاوت انجام دینا جائز نہیں ہے۔اور لوگوں کیلئے اسکی جانب رجوع کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس کا حکم نافذ ہے مگر ضرورت اور مجبوری کی حالت میں۔
- لباس کے احکام
لباس کے احکام
س1361: لباس شہرت کا معیار کیا ہے؟
ج: لباس شہرت ایسے لباس کو کہا جاتاہے جو رنگت، سلائی،بوسیدگی یا اس جیسے دیگر اسباب کی وجہ سے پہننے والے کے لئے مناسب نہ ہو اور لوگوں کے سامنے پہننے سے لوگوں کی توجہ کا سبب بنے اور انگشت نمائی کا باعث ہو۔
س1362: اس آواز کا کیا حکم ہے جو چلنے کے دوران خاتون کے جوتے کے زمین پر لگنے سے پیدا ہوتی ہے؟
ج: بذات خود جائز ہے جب تک لوگوں کی توجہ کو جذب نہ کرے اور موجب مفسدہ بھی نہ ہو۔
س1363: آیا لڑکی کے لئے گہرے نیلے رنگ کے کپڑے پہننا جائز ہے؟
ج: بذات خود جائز ہے بشرطیکہ لوگوں کی توجہ کو جذب نہ کرے اور موجب مفسدہ نہ ہو ۔
س1364: کیا خواتین کے لئے ایسا تنگ لباس پہننا جائز ہے جس سے بدن کا نشیب و فراز نمایاں ہو یا شادیوں میں عریاں اور ایسا باریک لباس پہننا جس سے بدن نمایاں ہو؟
ج: اگر نامحرم مردوں کی نظرسے اورمفسدے کے مترتب ہونے سے محفوظ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے وگرنہ جائز نہیں ہے۔
س1365: آیا مومنہ خاتون کے لئے چمکدار کالے جوتے پہننا جائز ہے؟
ج: اشکال نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رنگ یا شکل نامحرم کی توجہ کو جذب کرنے یا اسکی طرف انگشت نمائی کا سبب بنے۔
س1366: آیا خاتون کے لئے واجب ہے کہ وہ اپنے لباس جیسے اسکارف ، شلوار اور قمیص کے لئے فقط سیاہ رنگ کا انتخاب کرے؟
ج: شکل، رنگ اور طرز سلائی کے اعتبار سے عورت کے کپڑوں کا وہی حکم ہے جو گزشتہ جواب میں جوتوں کے بارے میں گزر چکا ہے۔
س1367: آیا جائز ہے کہ عورت کا لباس اور پردہ ایسا ہو جو لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرے یا جنسی خواہشات کو ابھارے مثلاً اس طرح چادر پہنے جو لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرے یا کپڑے اور جوراب کا ایسا رنگ انتخاب کرے جو جنسی خواہشات کو ابھارنے کا سبب ہو ؟
ج: جو چیز بھی رنگ، ڈیزائن یا پہننے کے انداز کے اعتبار سے نامحرم کی توجہ جذب کرنے کا باعث ہو اور مفسدے اور حرام کے ارتکاب کا سبب بنے اس کا پہننا جائز نہیں ہے۔
س1368: آیا عورت اور مرد کے لئے جنس مخالف سے مشابہت کی نیت کے بغیر گھر کے اندر ایک دوسرے کی مخصوص اشیاء پہننا جائز ہے۔؟
ج: اگراسے اپنے لئے لباس کے طور پر انتخاب نہ کریں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
س1369: مردوں کیلئے خواتین کے مخصوص پوشیدہ لباس کا فروخت کرناکیا حکم رکھتا ہے؟
ج: اگر معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کا موجب نہ بنے تو اشکال نہیں رکھتا۔
س1370: آیا باریک جورابیں بنانا، خریدنا اور فروخت کرنا شرعاً جائز ہے ؟
ج: اگرانہیں بنانا اور انکی خرید و فروخت اس قصد سے نہ ہو کہ خواتین انہیں نامحرم مردوں کے سامنے پہنیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
س1371: کیا غیر شادی شدہ افرادکیلئے شرعی قوانین اور اخلاقی آداب کا خیال رکھتے ہوئے زنانہ لباس اور میک اپ کا سامان فروخت کرنے کے مراکز میں کام کرنا جائز ہے؟
ج: کام کرنے کا جائز ہونا اور کسب حلا ل شرعاً کسی خاص صنف سے مخصوص نہیں ہے بلکہ جو بھی شرعی قوانین اور اسلامی آداب کی رعایت کرتا ہو اسے اس کا حق ہے لیکن اگر تجارتی یا کام کا لائسنس دینے کیلئے بعض اداروں کی جانب سے عمومی مصالح کی خاطر بعض کاموں کے لئے خاص شرائط ہوں تو ان کی رعایت کرنا ضروری ہے۔
س1372: مردوں کے لیے زنجیر پہننے کا کیا حکم ہے ؟
ج: اگر زنجیرسونے کا ہو یا ایسی چیز کا ہو کہ جس سے استفادہ کرناخواتین کے لیئے مخصوص ہو تو مردوں کے لئے اسے پہننا جائز نہیں ہے۔
- مغربی ثقافت کی پیروی
- جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
س1388: ہمیں مکتوب طور پر ایک شخص کی طرف سے حکومت کا مال غبن کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تحقیقات کے بعد بعض جرائم کا صحیح ہونا ثابت ہوگیا لیکن جب اس شخص سے تحقیقات کی گئیں تو اس نے جرائم سے انکار کردیا آیا ہمارے لئے ان معلومات کو کورٹ میں پیش کرنا جائز ہے؟ کیونکہ مذکورہ عمل اس کی عزت کو ختم کردے گا ؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو ایسے افراد کی کیا ذمہ داری ہے جو اس مسئلے سے مطلع ہیں؟
ج: بیت المال اور سرکاری اموال کی حفاظت پر مامور افسر کو جب اطلاع ہوجائے کہ انکے ملازم یا کسی دوسرے شخص نے سرکاری مال و دولت کا غبن کیا ہے تو اس شخص کی شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ اس کیس کو متعلقہ ادارے کے سامنے پیش کرے تاکہ حق ثابت ہوسکے اورملزم کی آبرو کی پائمالی کا خوف بیت المال کی حفاظت کیلئے حق کو ثابت کرنے میں کوتاہی کا جواز شمار نہیں ہوتا اور دیگر افراداپنی معلومات کو مستند طور پر متعلقہ حکام تک پہنچائیں تا کہ وہ تحقیق و تفحص اور ان کے اثبات کے بعد اقدام کرسکیں۔
س1389: بعض اخبارات آئے دن چوروں ، دھوکا بازوں ، اداروں کے اندر رشوت خور گروہوں، بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والوں نیز فسادو فحشاکے مراکز اور نائٹ کلبوں کی خبریں چھاپتے ہیں کیا اس قسم کی خبریں چھاپنا اور منتشر کرنا ایک طرح سے ترویج فحشا کے زمرے میں نہیں آتا؟
ج: اخبارات میں محض واقعات شائع کرنا فحشا کو پھیلانا شمار نہیں ہوتا۔
س1390: کیا کسی تعلیمی ادارے کے طالب علموں کیلئے جائز ہے کہ وہ جن منکرات اور برائیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں انکی اطلاع تعلیم و تربیت کے ذمہ دار افراد تک پہنچائیں تاکہ ان کی روک تھام کی جاسکے؟
ج: اگر رپورٹ علنی اور ایسے امور کے بارے میں ہو جو ظاہر ہیں اور اس پر جاسوسی اور غیبت کا عنوان صدق نہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اگر یہ نہی از منکر کا پیش خیمہ ہو تو واجب ہے۔
س1391: آیا اداروں کے بعض افسروں کی خیانت اور ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا جائز ہے؟
ج: ظلم کی تحقیق اور اطمینان کے بعد ایسے معاملات کی چھان بین اور پیچھا کرنے کیلئے متعلقہ مراکز کو اطلاع دینا اشکال نہیں رکھتا بلکہ اگرنہی از منکر کا پیش خیمہ ہو تو واجب ہے البتہ لوگوں کے سامنے انکو بیان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ اگر یہ حکومت اسلامی کوکمزور کرنے اور فتنہ و فساد کا باعث ہو تو حرام ہے۔
س1392: مومنین کے اموال کے بارے میں تحقیق کرنا اور اسکی رپورٹ ظالم حکومت اور ظالم حکمرانوں کودینا کیا حکم رکھتا ہے ؟ بالخصوص اگر ان کے لئے نقصان اور تکلیف کا باعث ہو؟
ج: ایسے کام شرعاً حرام ہیں اوراگر نقصان کا سبب ظالم کے سامنے مؤمنین کے خلاف رپورٹ پیش کرنا ہو تو یہ ضامن ہونے کا سبب ہے۔
س1393: کیاامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خاطر مومنین کے ذاتی وغیرذاتی امور کی جاسوسی کرناجائز ہے؟البتہ جب ان سے منکر کا انجام دینا اورمعروف کا ترک کرنا مشاہدہ کیا گیا ہو؟ اور ایسے اشخاص کا کیا حکم ہے جو لوگوں کی خلاف ورزیوں کی جاسوسی میں لگے رہتے ہیں جبکہ یہ کام ان کی ذمہ داری نہیں ہے؟
ج: تحقیق و تفحص کے باقاعدہ طور پر ذمہ دار افراد کیلئے اداروں کے ملازمین اور دوسرے لوگوں کے کام کے بارے میں قوانین و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے قانونی تحقیق و تفتیش کرنا اشکال نہیں رکھتا لیکن اسرار فاش کرنے کیلئے قوانین و ضوابط کی حدود سے باہر دوسروں کے کاموں کی جاسوسی کرنا یا ملازمین کے اعمال و کردار کی تحقیق کرنا ان ذمہ دار لوگوں کیلئے بھی جائز نہیں ہے۔
س1394: کیالوگوں کے سامنے اپنے ذاتی اسرار اور ذاتی پوشیدہ امور کو بیان کرنا جائز ہے؟
ج: دوسروں کے سامنے اپنے ان ذاتی اور خصوصی امور کو بیان کرنا جائز نہیں ہے جو کسی طرح سے دوسروں سے بھی مربوط ہوں یا کسی مفسدے کے مترتب ہونے کا موجب ہوں۔
س1395: نفسیاتی ڈاکٹرعام طور پر مریض کے ذاتی اور خاندانی امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں تاکہ اس کے مرض کے اسباب اورپھر علاج کے طریقے معلوم کیے جاسکیں آیا بیمار کے لئے ان سوالات کاجواب دینا جائز ہے؟
ج: اگر کسی تیسرے شخص کی غیبت یا اہانت نہ ہو اور کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہوتا ہو تو جائز ہے۔
س1396: سکیورٹی کے بعض افراد بے حیائی و فحشا کے مراکز اور دہشت گرد گروہوں کو کشف کرنے کیلئے بعض مراکز میں داخل ہونا اور بعض گروہوں میں نفوذ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ تحقیق اور تجسس کا تقاضا ہے۔ مذکورہ عمل کا شرعاً کیا حکم ہے؟
ج: اگر یہ کام متعلقہ افسر کی اجازت سے ہو اور قوانین و ضوابط کی رعایت کی جائے اور گناہ کے ساتھ آلودہ ہونے اور فعل حرام کے ارتکاب سے اجتناب کیا جائے تو اشکال نہیں رکھتا اور افسروں پر بھی واجب ہے کہ اس لحاظ سے ان کے کاموں پر پوری توجہ اور کڑی نگاہ رکھیں ۔
س1397: بعض لوگ دوسروں کے سامنے اسلامی جمہوریہ (ایران) میں موجود بعض کمزوریوں کو بیان کرتے ہیں ان باتوں کو سننے اور پھر انہیں نقل کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: واضح ہے کہ کسی بھی ایسے کام کو انجام دینا جو اسلامی جمہوریہ (ایران) جو کہ عالمی کفر و استکبار سے برسر پیکار ہے کوبدنام کرے وہ اسلام اور مسلمانوں کے فائدہ میں نہیں ہے پس اگر یہ باتیں اسلامی جمہوری (ایران) کے نظام کو کمزور کرنے کا سبب ہوں تو جائز نہیں ہے۔
- سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
س1398: عمومی مقامات اور سرکاری دفاتر میں دخانیات کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر عمومی مقامات اور دفاتر کے داخلی قوانین کے خلاف ہو یا دوسروں کے لئے اذیت و آزار یا ضرر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔
س1399: میرا بھائی منشیات کے استعمال کا عادی ہے اور منشیات کا سمگلر بھی ہے آیا مجھ پر واجب ہے کہ اس کی اطلاع متعلقہ ادارے کو دوں تاکہ اسے اس عمل سے روکا جاسکے؟
ج: آپ پر نہی از منکر واجب ہے اور ضروری ہے کہ نشہ کو ترک کرنے میں اسکی مدد کریں اور اسی طرح اسے منشیات کی سمگلنگ، انکے فروخت کرنے اور پھیلانے سے منع کریں اور اگر متعلقہ ادارے کو اطلاع دینا مذکورہ امر میں اس کا معاون ہویا نہی از منکر کا پیش خیمہ شمار ہو تو یہ واجب ہے۔
س1400: آیا انفیه کا استعمال جائز ہے؟ اس کے عادی بننے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر قابل اعتنا ضرر رکھتا ہو توا س کا استعمال اور اس کا عادی ہونا جائز نہیں ہے۔
س1401: تنباکو کی خرید و فروخت اور استعمال کا کیا حکم ہے؟
ج: تنباکو کی خرید و فروخت اور استعمال بذات خود جائز ہے۔ ہاں اگر اس کے استعمال میں شخص کیلئے قابل اعتنا ضرر ہو تو اس کی خرید و فروخت اور استعمال جائز نہیں ہے۔
س 1402: آیا بھنگ پاک ہے؟ اور کیا اس کا استعمال کرنا حرام ہے؟
ج: بھنگ پاک ہے ۔ لیکن اس کا استعمال کرنا حرام ہے۔
س1403: نشہ آور اشیاء جیسے بھنگ، چرس، افیون، ہیروئین، مارفین ، میری جوانا …کے کھانے، پینے، کھینچنے، انجکشن لگانے یا حقنہ کرنے کے ذریعے استعمال کا کیا حکم ہے؟ اور ان کی خرید و فروخت اور انکے ذریعے کمانے کے دوسرے طریقوں جیسے انکا حمل ونقل، انکی حفاظت اور اسمگلنگ کا کیا حکم ہے؟
ج: منشیات کا استعمال اور ان سے استفادہ کرنا ، انکے برے اثرات جیسے انکے استعمال کے قابل توجہ معاشرتی اور فردی مضرات کے پیش نظر حرام ہے اور اسی بنا پر ان کے حمل و نقل، انکو محفوظ کرنے اور انکی خریدوفروخت و غیرہ کے ذریعے کسب معاش کرنا بھی حرام ہے۔
س1404: کیا منشیات کے استعمال سے مرض کا علاج کرنا جائز ہے؟ اور برفرض جواز آیا مطلقاً جائز ہے یا علاج کے اسی پر موقوف ہونے کی صورت میں جائز ہے ؟
ج: اگر مرض کا علاج کسی طرح منشیات کے استعمال پر موقوف ہو اور یہ امر قابل اطمینان ڈاکٹر کی تجویز سے انجام پائے تو اشکال نہیں رکھتا۔
س1405: خشخاش اور کویی و غیرہ کہ جن سے افیون، ہیروئن، مارفین ، بھنگ اور کوکین وغیرہ حاصل کی جاتی ہیں کی کاشت اور دیکھ بھال کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اس قسم کی فصلوں کی کاشت اور نگہداری جو اسلامی جمہوریہ (ایران)کے قانون کے خلاف ہے جائز نہیں ہے۔
س1406: منشیات کے تیار کرنے کا کیا حکم ہے چاہے اسے قدرتی اور طبیعی مواد سے تیار کیا جائے جیسے مارفین، ہیروئن، بھنگ، میری جوانا وغیرہ یامصنوعی مواد سے جیسے I.S.D و غیرہ ؟
ج: جائز نہیں ہے۔
س1407: آیا ایسا تنباکو استعمال کرنا جائز ہے جس پربعض قسم کی شراب چھڑکی گئی ہو ؟ آیا اس کے دھوئیں کو سونگھنا جائز ہے؟
ج: اگر عرف کی نگاہ میں یہ تنباکو پینا شراب پینا نہ کہلائے اور نشہ آور نہ ہو اور قابل توجہ ضرر کا سبب نہ ہو تو جائز ہے۔ اگرچہ احوط اس کا ترک کرنا ہے ۔
س1408: آیا دخانیات کے استعمال کو شروع کرنا حرام ہے ؟اور اگر عادی شخص دخانیات کے استعمال کو چند ہفتوں یا اس سے زیادہ مدت تک ترک کردے تو ان کا دوبارہ استعمال کرنا حرام ہے؟
ج: دخانیات کے استعمال کے ضرر کے درجے کے مختلف ہونے سے اس کا حکم بھی مختلف ہوجاتا ہے کلی طور پر اس مقدار میں دخانیات کا استعمال کہ جس سے بدن کو قابل توجہ ضرر پہنچتاہے جائز نہیں ہے اور اگر انسان کو معلوم ہو کہ دخانیات کا استعمال شروع کرنے سے اس مرحلہ تک پہنچ جائے گا تو بھی جائز نہیں ہے۔
س1409: ایسے مال کا کیا حکم ہے جس کا بعینہ خود حرام ہونا معلوم ہو مثلاً نشہ آور اشیاء کی تجارت سے حاصل شدہ مال ؟ اور اگر اس کے مالک کا علم نہ ہو تو آیایہ مال مجہول المالک کے حکم میں ہے؟ اور اگر مجہول المالک کے حکم میں ہو تو کیا حاکم شرعی یا اس کے وکیل عام کی اجازت سے اس میں تصرف کرنا جائز ہے؟
ج: عین مال کی حرمت کے علم کی صورت میں اگرانسان مال کے شرعی مالک کو جانتا ہو اگرچہ محدود افراد کے درمیان تو مال کو اس کے مالک تک پہنچنانا واجب ہے ورنہ اسے اسکے شرعی مالک کی طرف سے فقرا کو صدقہ دے اور اگر حرام مال اسکے حلال مال سے مل گیا ہو اور اس کی مقداراور شرعی مالک کو نہ جانتا ہو تو واجب ہے کہ اس کا خمس متولی خمس کو دے۔
- داڑھی مونڈنا
داڑھی مونڈنا
س1410: نیچے والا جبڑا۔ کہ جس کے بالوں کو رکھنا واجب ہے۔ سے کیا مراد ہے اور کیا یہ دو رخساروں کو بھی شامل ہے؟
ج: معیار یہ ہے کہ عرفاً کہا جائے کہ اس شخص نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔
س1411: لمبی اور چھوٹی ہونے کے اعتبار سے ریش کے کیا حدود ہیں؟
ج: اس کے لئے کوئی حد معین نہیں ہے؟ بلکہ معیار یہ ہے کہ عرف کی نظر میں داڑھی کہلائے ، ہاں ایک مٹھی سے زیادہ لمبی ہونا مکروہ ہے۔
س1412: مونچھ کو بڑھانے اور داڑھی کو چھوٹا کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: بذات خود اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1413: بعض لوگ اپنی ٹھوڑی کے بال نہیں مونڈتے اور باقی بال مونڈ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
ج: داڑھی کے بعض حصے کے مونڈنے کا حکم پوری داڑھی مونڈنے جیسا ہے۔
س1414: کیا داڑھی مونڈنا فسق شمار ہوتا ہے؟
ج: احتیاط کی بنا پر داڑھی مونڈنا حرام ہے اور احوط یہ ہے کہ اس پر فسق کے احکام جاری ہوں گے۔
س1415: مونچھوں کے مونڈ نے کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا بہت لمبا کرنا جائز ہے؟
ج: مونچھیں مونڈ نا، رکھنا اور انہیں بڑھانا بذات خود اشکال نہیں رکھتا ہاں انہیں اتنا لمبا کرنا کہ کھانے اور پینے کے دوران طعام یا پانی کے ساتھ لگیں تو مکروہ ہے۔
س1416: ایسے فنکار کیلئے بلیڈیا داڑھی مونڈنے والی مشین سے داڑھی مونڈنے کا کیا حکم ہے کہ جس کا شغل مذکورہ عمل کا تقاضا کرتا ہو؟
ج: اگر اس پر داڑھی مونڈنا صادق آتا ہو تو احتیاط کی بناپر حرام ہے۔ ہاں اگر اس کا یہ کام اسلامی معاشرے کی لازمی ضرورت شمار ہوتا ہو تواس ضرورت کی مقدار مونڈ نے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1417: میں اسلامی جمہوریہ (ایران )کی ایک کمپنی میں تعلقات عامہ کا افسر ہوں اور مجھے مہمانوں کے لئے شیو کے آلات خرید کر انہیں دینا ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنی داڑھی مونڈسکیں میری ذمہ داری کیا ہے؟
ج: داڑھی مونڈنے کے آلات کی خریداری اور دوسروں کو پیش کرنا احتیاط کی بناپرجائز نہیں ہے مگر ضرورت کے مقام میں۔
س1418: اگر داڑھی رکھنا اہانت کا باعث ہو تو داڑھی مونڈنے کا کیا حکم ہے؟
ج: جو مسلمان اپنے دین کو اہمیت دیتا ہے اس کے لئے داڑھی رکھنے میں کوئی اہانت نہیں ہے اوراحتیاط کی بنا پرداڑھی کا مونڈنا جائز نہیں ہے ۔ مگر یہ کہ اس کے رکھنے میں ضرر یا حرج ہو ۔
س1419: اگر داڑھی رکھنا جائز مقاصد کے حصول میں رکاوٹ ہو تو کیا داڑھی مونڈنا جائز ہے ؟
ج: مکلفین پر حکم الہی کی اطاعت کرنا واجب ہے مگر یہ کہ قابل توجہ ضرریا حرج رکھتا ہو۔
س1420 :کیا شیونگ کریم کہ جس کا اصل استعمال داڑھی مونڈنے میں ہوتا ہے کا خریدنا ، فروخت کرنا اور بنانا جائز ہے؟ جبکہ یہ کبھی کبھی اس کے علاوہ بھی استعمال کی جاتی ہے؟
ج: اگر کریم داڑھی مونڈنے کے علاوہ دیگرحلال فوائد رکھتی ہو تو اس مقصد سے اس کا بنانا ،اور فروخت کرنا اشکال نہیں رکھتا۔
س1421:کیاداڑھی مونڈنے کے حرام ہونے سے مرادیہ ہے کہ چہرے کے بال کامل طور پر اگے ہوئے ہوں اورپھرانہیں مونڈا جائے یا یہ اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جہاں چہرے پر کچھ بال اگے ہوئے ہوں۔
ج: کلی طور پر چہرے کے اتنے بال مونڈنا کہ جس پر داڑھی مونڈنا صادق آئے احتیاط کی بنا پر حرام ہے۔ ہاں اتنی مقدار مونڈنا کہ جس پر مذکورہ عنوان صادق نہ آئے اشکال نہیں رکھتا۔
س1422: کیا وہ اجرت جو نائی داڑھی مونڈنے کے عوض لیتا ہے حرام ہے؟ برفرض حرمت اگر وہ مال مالِ حلال سے مخلوط ہوجائے تو کیا خمس نکالتے وقت اس کا دودفعہ خمس نکالنا واجب ہے یا نہیں؟
ج: داڑھی مونڈنے کے عوض اجرت لینا بنابر احتیاط حرام ہے لیکن وہ مال جو حرام سے مخلوط ہوگیا ہے اگر حرام مال کی مقدار معلوم ہو اور اسکا مالک بھی معلوم ہو تو اس پر واجب ہے کہ مال کو اس کے مالک تک پہنچائے یا اسکی رضامندی حاصل کرے اور اگرمالک کو نہ پہچانتا ہو حتی کہ محدود افراد میں بھی تو واجب ہے کہ اس کی طرف سے فقرا کو صدقہ دے اور اگر حرام مال کی مقدار کا علم نہ ہو لیکن مالک کو جانتا ہو تو واجب ہے کہ کسی طرح اس کی رضایت رضامندی حاصل کرے اور اگر نہ مال کی مقدار کا علم ہو اور نہ ہی مالک کا تو اس صورت میں مال کا خمس نکالنا واجب ہے تاکہ مال ،حرام سے پاک ہوجائے۔ اب اگر خمس نکالنے کے بعد باقیماندہ مقدار کا کچھ حصہ سالانہ اخراجات کے بعد بچ جائے تو سالانہ بچت کے عنوان سے بھی اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
س1423 :بعض اوقات لوگ میرے پاس شیونگ مشین کی مرمت کرانے آتے ہیں اور چونکہ داڑھی مونڈنا شرعاً حرام ہے کیا میرے لئے مرمت کرنا جائز ہے؟
ج: مذکورہ آلہ چونکہ داڑھی مونڈنے کے علاوہ بھی استعمال ہوتا ہے ، لہذا اس کی مرمت کرنا اور اجرت لینا اشکال نہیں رکھتا بشرطیکہ یہ داڑھی مونڈنے کیلئے استعمال کرنے کے مقصد سے نہ ہو۔
س1424: کیا رخسارکے ابھرے ہوئے حصے سے دھاگے یا چمٹی کے ذریعے بال کاٹنا حرام نہیں ہے؟
ج: اس حصّے کے بال کاٹنا مونڈنے کی صورت میں بھی جائز ہے۔
- محفل گناہ میں شرکت کرنا
محفل گناہ میں شرکت کرنا
س1425: بعض اوقات غیر ملکی یونیورسٹی یا اساتذہ کی طرف سے اجتماعی محفل کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پہلے سے معلوم ہوتاہے کہ ایسی محافل میں شراب ہوتی ہے۔ایسے جشن میں شرکت کا ارادہ رکھنے والے یونیورسٹی کے طلبا کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
ج: کسی کیلئے بھی ایسی محفل میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے کہ جس میں شراب پی جاتی ہے ایسی محفلوں میں شرکت نہ کیجئے تا کہ انہیں پتا چلے کہ آپ نے مسلمان ہونے کی وجہ سے شراب نوشی کی محفل میں شرکت نہیں کی اور آپ شراب نہیں پیتے۔
س1426:شادی کے جشن میں شرکت کا کیا حکم ہے؟کیا شادی کی ایسی محفل کہ جس میں رقص ہے میں شرکت پر یہ عنوان(الداخل فی عمل قوم فہو منہم) "کسی قوم کے کام میں شریک ہونے والا انہیں میں سے ہے "صادق آتاہے پس ایسی محفل کو ترک کرنا واجب ہے؟ یا رقص اور ایسی دوسری رسومات میں شرکت کئے بغیر شادی میں جانا اشکال نہیں رکھتا؟
ج: اگر محفل ایسی نہ ہو کہ اس پر، لہو ولعب اور گناہ کی محفل کا عنوان صدق کرے اور نہ ہی وہاں جانے میں کوئی مفسدہ ہو تو اس میں شرکت کرنے اور بیٹھنے میںکوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اسے عرفا اسکی عملی تائید شمار نہ کیا جائے جو کہ جائز نہیں ہے۔
س1427:
١۔ ایسی محافل میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے جہاں مرد اور خواتین جداگانہ طور پر رقص کرتے ہیں اور موسیقی بجاتے ہیں؟
٢۔ آیا ایسی شادی میں شرکت کرنا جہاں رقص و موسیقی ہو جائز ہے؟
٣ ۔ آیا ایسی محافل میں نہی عن المنکر کرنا واجب ہے جہاں پر رقص ہو رہاہو جبکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکاان پر کوئی اثر نہ ہو؟
٤ ۔ مرد اور خواتین کے ایک ساتھ مل کر رقص کرنے کا کیا حکم ہے؟ج: کلی طور پر رقص اگرشہوت کو ابھارنے کا سبب ہو یا حرام عمل کے ہمراہ انجام پائے یا اس کا سبب ہو یا نامحرم مرد اور خواتین ایک ساتھ انجام دیں تو جائز نہیں ہے اور کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ شادی کے جشن میں ہو یا کسی اور پروگرام میں اور گناہ کی محفل میں شرکت کرنا اگر عمل حرام کے ارتکاب کا سبب ہو جیسے ایسی لہوی موسیقی کا سننا کہ جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہو یا اس میں شرکت گناہ کی تائید شمار ہوتی ہو تو جائزنہیں ہے۔ اور اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اثر کرنے کا احتمال نہ ہو تو انکا وجوب ساقط ہے
س1428:اگر نامحرم مرد شادی کی محفل میں داخل ہو اور اس محفل میں بے پردہ عورت ہو اور مذکورہ شخص اس بات کا علم رکھتا ہے کہ اس خاتون پر نہی از منکر کا کوئی اثر نہیں ہوگا تو کیا اس مرد پر محفل کو ترک کرنا واجب ہے؟
ج: اعتراض کے طور پر محفل گناہ کو ترک کرنا اگر نہی عن المنکر کا مصداق ہو تو واجب ہے۔
س1429: آیا ایسی محافل میں شرکت کرنا جائز ہے جہاں فحش غنا کے کیسٹ سنے جا رہے ہوں؟ اور اگر اسکے غنا ہونے میں شک ہو جبکہ کیسٹ کو روک بھی نہ سکتا ہو تو حکم کیا ہے؟
ج: غنا اور لہوی موسیقی کی ایسی محفل میں جانا کہ جو راہ خدا سے منحرف کرنے والا ہو اگر اسکے سننے کا باعث ہو یا اسکی تائید شمار ہو تو جائز نہیں ہے لیکن موضوع میں شک کی صورت میں اس محفل میں شرکت کرنے اور اسکے سننے میں بذات خود کوئی حرج نہیں ہے۔
س1430: ایسی محفل میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے کہ جہاں انسان کو بعض اوقات غیر مناسب کلام سننا پڑتا ہے؟ مثلاً دینی شخصیات یا اسلامی جمہوریہ کے عہدے داروں یادوسرے مومنین پر بہتان باندھنا؟
ج: صرف جانا اگر فعل حرام میں مبتلا ہونے ــمثلاً غیبت کا سنناــ اور برے کام کی ترویج و تائید کا سبب نہ بنے تو بذات خود جائز ہے۔ ہاں شرائط کے ہوتے ہوئے نہی عن المنکر واجب ہے۔
س1431: بعض غیر اسلامی ممالک کی میٹنگوں اور نشستوں میں روایتی طور پر مہمانوں کی ضیافت کے لئے شراب استعمال کی جاتی ہے۔ آیا ایسی میٹنگوں اور نشستوں میں شرکت کرنا جائز ہے؟
ج: ایسی محفل میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے کہ جہاں شراب پی جاتی ہو اور مجبوری کی صورت میں قدر ضرورت پر اکتفا کرنا واجب ہے۔
- دعا لکھنا اور استخارہ
دعا لکھنا اور استخارہ
س1432: آیا دعا لکھنے کے عوض پیسے دینا اور لینا جائز ہے؟
ج: منقول دعاؤں کے لکھنے کی اجرت کے طور پر پیسے دینے ا ور لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1433: ایسی دعاؤں کا کیا حکم ہے جن کے لکھنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دعاؤں کی قدیم کتابوں سے لی گئی ہیں؟ آیا مذکورہ دعائیں شرعاً معتبر ہیں؟ اور ان کی طرف رجوع کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر مذکورہ دعائیں ائمہ (علیھم السلام )سے منقول اور مروی ہوں یا ان کا محتوا حق ہو تو ان سے برکت حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسی طرح مشکوک دعاؤں سے اس امید کے ساتھ کہ یہ معصومین علیھم السلام کی طرف سے ہوں گی طلب برکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س1434: آیا استخارے پر عمل کرنا واجب ہے؟
ج: استخارے پر عمل کرنا شرعاً واجب نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ استخارے کے خلاف عمل نہ کیا جائے۔
س1435: یہ جو کہا جاتا ہے کہ عمل خیر کے انجام دینے میں استخارے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکی بنا پر آیا انکے انجام دینے کی کیفیت یا دوران عمل ممکنہ طور پر پیش آنے والی غیر متوقع مشکلات کے بارے میں استخارہ کرنا جائز ہے؟ اور آیا استخارہ غیب کی معرفت کا ذریعہ ہے یا اس سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے؟
ج: استخارہ مباح کاموں میں تردد اورحیرت دور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ چاہے یہ تردد خود عمل میں ہو یا کیفیت عمل میں لہذا اعمال نیک کہ جن میں کوئی تردد نہیں ہے ان میں استخارہ ضروری نہیں ہے اسی طرح استخارہ کسی عمل اور شخص کے مستقبل کو جاننے کیلئے نہیں ہے۔
س1436: آیا طلاق کے مطالبے اور طلاق نہ دینے جیسے مواردکے لئے قرآن سے استخارہ کرنا صحیح ہے؟ اور اگر کوئی شخص استخارہ کرے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو کیا حکم ہے؟
ج: قرآن اور تسبیح سے استخارے کا جواز کسی خاص موردسے مختص نہیں ہے بلکہ ہر مباح کام کہ جس میں انسان کو اس طرح تردد اور حیرت ہو کہ اس میں تعمیم نہ کرسکتا ہو اس کیلئے استخارہ کیا جاسکتا ہے اور استخارے پر شرعاً عمل کرنا واجب نہیں ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ انسان اس کی مخالفت نہ کرے۔
س1437: آیا تسبیح اور قرآن کے ذریعہ شادی جیسے زندگی کے بنیادی مسائل کیلئے استخارہ کرنا جائز ہے ؟
ج: بہتر یہ ہے کہ جن مسائل میں انسان کوئی فیصلہ کرنا چاہے سب سے پہلے انکے بارے میں غور و فکر کرے یا پھر تجربہ کاراور بااعتماد افراد سے مشورہ کرے اگر مذکورہ امور سے اسکی حیرت ختم نہ ہو تو استخارہ کرسکتاہے۔
س1438: آیا ایک کام کیلئے ایک سے زیادہ مرتبہ استخارہ کرنا صحیح ہے؟
ج: استخارہ چونکہ تردد اور حیرت کو برطرف کرنے کے لئے ہے لہذا پہلے استخارے کے ساتھ تردد برطرف ہونے کے بعد دوبارہ استخارے کا کوئی مطلب نہیں ہے مگر یہ کہ موضوع تبدیل ہوجائے۔
س1439: بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ امام رضا کے معجزات پر مشتمل نوشتہ جات مساجد اور اہلبیت علیھم السلام کے حرموں میں موجود زیارت کی کتابوں کے صفحات کے درمیان رکھ کر لوگوں کے درمیان پھیلائے جاتے ہیں اور ان کے پھیلانے والے نے آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ جو بھی اسے پڑھے اس پر واجب ہے کہ اسے اتنی تعداد میں تحریر کر کے لوگوں کے درمیان تقسیم کرے تاکہ اس کی حاجت پوری ہوجائے ؟ آیا یہ امر صحیح ہے؟ اور آیا پڑھنے والے پر لکھنے والے کی درخواست پر عمل کرنا واجب ہے؟
ج: شرعی نقطہ نظر سے ایسی چیزوں کے معتبر ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شخص انہیں پڑھتا ہے وہ لکھنے والے کی طرف سے اسے مزید لکھنے کی درخواست پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔
- دینی رسومات کا احیاء
- ذخیرہ اندوزی اور اسراف
ذخیرہ اندوزی اور اسراف
س1468: کن چیزوں کی ذخیرہ اندوزی شرعاً حرام ہے ؟ اور آیا آپ کی نظر میں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر مالی تعزیر (مالی جرمانہ) لگانا جائز ہے؟
ج: ذخیرہ اندوزی کا حرام ہونا اسکے مطابق جو روایات میں وارد ہوا ہے اور مشہور فقہا کی بھی یہی رائے ہے صرف چارغلوں اور سمن و زیت (گھی اور تیل) میں ہے کہ جن کی معاشرے کے مختلف طبقات کو ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن اسلامی حکومت مفاد عامہ کے تحت لوگوں کی تمام ضروریات زندگی کی ذخیرہ اندوزی کو ممنوع قرار دے سکتی ہے، اور اگر حاکم شرع مناسب سمجھے تو ذخیرہ اندوزوں پر مالی تعزیرات لگانے میں اشکال نہیں ہے ۔
س1469: کہا جاتاہے کہ ضرورت سے زیادہ روشنی کی خاطر بجلی استعمال کرنا اسراف کے زمرے میں شمار نہیں ہوتا کیا یہ بات درست ہے؟
ج: بلا شک ہر چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور خرچ کرنا حتی بجلی اور بلب کی روشنی اسراف شمار هوتا ہے، جو بات صحیح ہے وہ رسول اللہؐ(صلی الله علیه و آله و سلم) سے منقول یہ کلام ہے کہ آپ فرماتے هیں«لاسَرَف فی خیر» کار خیر میں اسراف نہیں ہے۔
- تجارت و معاملات
- سود کے احکام
سود کے احکام
س1619: ایک ڈرائیور نے ٹرک خریدنے کے ارادے سے ا یک دوسرے شخص سے پیسے لئے تا کہ اس کے وکیل کی حیثیت سے اس کے لئے ٹرک خریدے اور پھر پیسے دینے والا شخص وہی ٹرک ڈرائیور کو قسطوں پر فروخت کردے اس معاملہ کا کیا حکم ہے؟
ج: اگرڈرائیور صاحب مال کے وکیل کی حیثیت سے اس معاملے کو انجام دے اور پھر وہ خود اسے ڈرائیور کو قسطوں پر بیچ دے تو اگر اس کام سے ان کا قصد سود سے بچنے کے لئے حیلہ کرنا نہ ہو اور دونوں معاملوں میں خرید و فروخت کا حقیقی قصد و ارادہ رکھتے ہوں تو اشکال نہیں ہے۔
س1620: قرض والاسود کیا ہے اور آیا وہ چند فیصد مقدار جو بینک سے اپنی رقم کے منافع کے عنوان سے لی جاتی ہے سود شمار کی جائے گی؟
ج: قرض والا سود قرض کی رقم پر وہ اضافی مقدار ہے جو قرض لینے والا قرض دینے والے کو دیتا ہے لیکن جو رقم بینک میں اس غرض سے رکھی جاتی ہے کہ صاحب مال کے وکیل کی حیثیت سے اسے کسی صحیح شرعی معاملے میں استعمال کیا جائے تو اس کے استعمال سے حاصل ہونے والا نفع سود نہیں ہے اور اس میں اشکال نہیں ہے۔
س1621: سودی معاملے﴿لین دین﴾ کا معیار کیاہے؟ اورکیا یہ صحیح ہے کہ سود فقط قرض میں ہوتا ہےجبکہ کسی دوسرے معاملے میں نہیں ہوتا؟
ج: سود جیسے قرض میں ہوسکتا ہے اسی طرح معاملے ﴿لین دین﴾ میں بھی ہوسکتا ہے اور معاملے میں سود سے مراد ہے وزن یا پیمانے والی شے کو اس کی ہم جنس شے کے بدلے میں زیادہ مقدار کے ساتھ بیچنا۔
س1622: اگر بھوک کی وجہ سے انسان کی جان خطرے میں ہو اور اس کے پاس مردار کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو کہ جسے کھا کر وہ جان بچا سکے تو جس طرح اس کے لئے ایسی مجبوری کے وقت مردار کھانا جائز ہوتا ہے ،اسی طرح کیا مجبوری کی حالت میں ایسے شخص کیلئے سود کھانا جائز ہے کہ جو کام نہیں کرسکتا لیکن اس کے پاس تھوڑا سا سرمایہ ہے اور ناچار ہے کہ اسے سودی معاملات میں استعمال کرے تا کہ اس کے منافع سے اپنی گزر بسر کرے۔
ج: سود حرام ہے اوراسے اضطرار کی حالت میں مردار کھانے کے ساتھ قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ مردار کھانے پر مجبور شخص کے پاس مردار کے علاوہ کوئی شے نہیں ہوتی کہ جس سے وہ اپنی جان بچا سکے لیکن جو شخص کام نہیں کرسکتا وہ اپنے سرمایہ کو مضاربہ جیسے کسی اسلامی معاملہ کے ضمن میں کام میں لاسکتا ہے۔
س1623: بعض اوقات تجارتی معاملات میں ڈاک کے ٹکٹ معین شدہ قیمت سے زیادہ قیمت میں فروخت کئے جاتے ہیں،مثلاً ایک ٹکٹ جس کی قیمت بیس ریال ہے اسے پچیس ریال میں فروخت کیا جاتا ہے کیا یہ معاملہ صحیح ہے؟
ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ایسے اضافے کوسود شمارنہیں کیا جاتا۔ کیونکہ سودی معاملہ وہ ہوتا ہے کہ جس میں پیمانے یا وزن کے ساتھ بکنے والی دو ہم جنس چیزوں کا آپس میں معاملہ کیا جائے اور ایک دوسری سے زیادہ ہو اور ایسا معاملہ باطل ہوتا ہے ۔
س1624: کیا سود کا حرام ہونا تمام حقیقی ﴿ذاتی حیثیت رکھنے والے﴾ اور حقوقی ﴿بحیثیت منصب یا عہدہ﴾ افراد کے لئے ایک جیسا ہے یا بعض خاص موارد میں استثنا بھی پایا جاتا ہے؟
ج: سود کلی طور پر حرام ہے سوائے اس سود کے کہ جو باپ اور اولاد اورمیاں بیوی کے درمیان اور اسی طرح سوائے اس سود کے جو مسلمان کافر غیر ذمی سے لیتا ہے۔
س1625: اگرکسی معاملے میں خرید و فروخت معین قیمت پر انجام پا جائے لیکن طرفین اس پر اتفاق کریں کہ اگر خریدار نے قیمت کے طور پر مدت والاچیک دیا تو خریدار معین قیمت کے علاوہ کچھ مزید رقم فروخت کرنے والے کو ادا کرے گا۔ آیا ان کے لئے ایسا کرناجائز ہے؟
ج: اگرمعاملہ معین قیمت پرانجام پایاہو اور اضافی قیمت اصلی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ہو تو یہ وہی سود ہے جو شرعاً حرام ہے اور دونوں کے اضافی مقدار کے ادا کرنے پر اتفاق کر لینے سے وہ پیسہ حلال نہیں ہوگا۔
س1626: اگر کسی شخص کوکچھ رقم کی ضرورت ہو اور کوئی اسے قرض حسنہ دینے والا نہ ہو تو کیا وہ مندرجہ ذیل طریقے سے اس رقم کو حاصل کر سکتا ہے کہ کسی چیز کوادھار پر اس کی واقعی قیمت سے زیادہ قیمت پر خریدے اور پھر اسی جگہ پر وہی چیزفروخت کرنے والے کو کم قیمت پر فروخت کر دے مثلاً ایک کلو زعفران ایک سال کے ادھار پر ایک معین قیمت کے ساتھ خریدے اور اسی وقت اسی فروخت کرنے والے کو کم قیمت پر مثلا قیمت خرید کے ۶۶ فیصد کے ساتھ بطور نقد فروخت کر دے؟
ج: ایسا معاملہ کہ جو در حقیقت قرض والے سود سے فرار کے لئے ایک حیلہ ہے شرعاً حرام اور باطل ہے۔
س1627: میں نے منافع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل معاملہ انجام دیا:
میں نے ایک گھر پانچ لاکھ تومان کا خریدا جبکہ اس کی قیمت اس سے زیادہ تھی اور معاملے کے دوران ہم نے یہ شرط لگائی کہ فروخت کرنے والے کو پانچ مہینے تک معاملہ فسخ کرنے کاحق ہوگا لیکن اس شرط پر کہ فسخ کرنے کی صورت میں وہ لی ہوئی قیمت واپس کردے گا ۔ معاملے کے انجام پانے کے بعد میں نے وہی گھر فروخت کرنیوالے کو پندرہ ہزار تومان ماہانہ کرایہ پر دے دیا۔ اب معاملہ کرنے سے چار مہینے گذرنے کے بعد مجھے حضرت امام خمینی کا یہ فتویٰ معلوم ہوا کہ سود سے فرار کرنے کے لئے حیلہ کرنا جائز نہیں ہے۔آپ کی نظر میں مسئلہ کا حکم کیا ہے؟ج: اگر یہ معاملہ حقیقی قصد کے ساتھ انجام نہیں پایا بلکہ صرف ظاہری اور بناوٹی تھا اور مقصد یہ تھا کہ فروخت کرنے والے کو قرض مل جائے اور خریدار کو نفع تو ایسا معاملہ سود والے قرض سے بچنے کا ایک حیلہ ہے کہ جو حرام اور باطل ہے۔ایسے معاملات میں خریدار کو صرف وہ رقم واپس لینے کا حق ہے جو اس نے فروخت کرنے والے کو گھر کی قیمت کے طور پر دی تھی۔
س1628:سود سے بچنے کے لئے کسی شے کا مال کے ساتھ ضمیمہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: اس کا م کا سودی قرض کے جائز ہونے میں کوئی اثر نہیں ہے اور کسی شے کے ضم کرنے سے مال حلال نہیں ہوتا۔
س1629: ملازم اپنی نوکری کے دوران ہر ماہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ پنشن فنڈ یا جی پی فنڈ میں ڈالتا ہے تاکہ بڑھاپے میں اس کے کام آئے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت کی طرف سے اس میں کچھ اضافی رقم ڈال دی جاتی ہے کیا اس کا لینا جائز ہے ؟
ج: اصل رقم لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ اضافی رقم جو اس کی ہر ماہ کاٹی گئی رقم کے علاوہ حکومت اسے دیتی ہے وہ اس کی رقم کا منافع نہیں ہوتا اور سود شمار نہیں ہوگا۔
س1630: بعض بینک رجسٹری والے گھر کی تعمیر کے لئے جُعالہ کے عنوان سے قرض دیتے ہیں لیکن شرط یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا اپنے قرض کو چند فیصد اضافے کے ساتھ معین مدت میں قسطوں کی صورت میں ادا کرے گا کیا اس صورت میں قرض لینا جائزہے؟ اوراس میں جعالہ کیسے متصور ہوگا؟
ج: اگر یہ رقم گھر کے مالک کو گھر کی تعمیر کے لئے قرض کے عنوان سے دی گئی ہے تو اس کا جعالہ ہونا بے معنی ہے اور قرض میں زائد رقم کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔ اگرچہ اصل قرض بہرحال صحیح ہے لیکن کوئی مانع نہیں ہے کہ گھر کا مالک گھر کی تعمیر میں بینک کیلئے انعام یا جُعل (عوض) قرار دے اور اس صورت میں انعام یا جُعل(عوض) صرف وہ نہیں ہوگا جو بینک نے گھر کی تعمیر میں خرچ کیا ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے کہ جس کا بینک گھر کی تعمیر کے مقابلے میں مطالبہ کرر ہا ہے۔
س1631: آیا کوئی شے نقد قیمت سے زیادہ قیمت پر بطور ادھار خریدنا جائز ہے ؟ اور آیا یہ سود کہلائے گا ؟
ج: کسی شے کا بطورادھارنقد قیمت سے زیادہ قیمت پر خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور نقد و ادھار کے درمیان اختلاف سود شمار نہیں ہوگا۔
س1632: ایک شخص نے اپنا گھر خیار والے معاملے کے تحت فروخت کیا لیکن وہ مقررہ وقت پر خریدار کو قیمت واپس نہ کرسکا لہذا ایک تیسرے شخص نے خریدار کو معاملے والی قیمت ادا کردی تاکہ فروخت کرنے والا معاملہ فسخ کر سکے البتہ اس شرط پر کہ اپنی رقم لینے کے علاوہ کچھ رقم اپنے کام کی مزدوری کے طور پر لے گا اس مسئلہ کا شرعاً کیا حکم ہے؟
ج: اگر وہ تیسرا شخص بیچنے والے کی طرف سے قیمت واپس کرنے اور فسخ کرنے کے لئے وکیل ہو اس طرح کہ پہلے فروخت کرنے والے کووہ رقم قرض دے اور پھر اس کی وکالت کے طور پر وہ رقم خریدار کو ادا کرے اور اس کے بعد معاملے کو فسخ کردے تو اس کا یہ کام اور وکالت کی اجرت لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اس نے خریدارکو جو قیمت ادا کی ہے وہ فروخت کرنے والے کیلئے بعنوان قرض ہو تو اس صورت میں اسے فروخت کرنے والے سے فقط اس رقم کے مطالبے کا حق ہے جو اس نے اس کی طرف سے قیمت کے طور پر ادا کی ہے ۔
- حقِ شفعہ
حقِ شفعہ
س1633: اگر ایک چیز دو اشخاص کے نام پر وقف ہو جبکہ ان میں سے ایک شخص اپنے حصے کو بیچنے کا حق بھی رکھتا ہو اور کسی تیسرے شخص کو اپنا حصہ بیچنا چاہے تو کیا پہلا شخص شفعہ کا حق رکھتا ہے؟ اسی طرح اگر دو اشخاص مل کر کسی جائیداد یا وقف شدہ جگہ کو کرائے پر لیں پھر ان میں سے ایک شخص صلح یا کرائے کے ذریعے اپنا حق کسی تیسرے شخص کو دے دے تو کیا کرائے پر لی گئی جائیداد پر شفعہ کا حق بنتا ہے؟
ج: حق شفعہ وہاں ہوتا ہے جہاں عین(خارجی اشیاء) کی ملکیت میں شراکت ہو اور دو میں سے ایک شریک اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کر دے۔ لہذا اگر دو اشخاص کے لئے کوئی شئے وقف ہو اور ایک شخص اپنا حصہ تیسرے شخص کو فروخت کر دے جبکہ اس کا فروخت کرنا جائز بھی ہو تو اس صورت میں حق شفعہ نہیں ہے اوراسی طرح کرایہ پر لی ہوئی شئے میں اگر ایک شخص اپنا حق کسی تیسرے شخص کو منتقل کر دے تو بھی شفعہ کا حق نہیں ہے۔
س1634: شفعہ کے باب میں فقہی متون کی عبارتوں اور شہری قوانین سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دو میں سے ایک شریک اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کر دے تو دوسرے شریک کو شفعہ کا حق ہے بنابرایں اگر ایک شریک کسی خریدار کو اس بات پر ابھارے کہ وہ دوسرے شریک کا حصہ خرید لے یا واضح طور پر کہے کہ اگر وہ خریدار اسکے شریک کا حصہ خریدے تو وہ اپنا حق شفعہ استعمال نہیں کر ے گا تو کیا یہ عمل حق شفعہ کا ساقط ہونا شمار ہوگا؟
ج: محض ایک شریک کا کسی تیسرے شخص کو اپنے شریک کا حصہ خریدنے پر ابھارنا اس کیلئے حق شفعہ کے ثابت ہونے سے ٹکراؤ نہیں رکھتا۔بلکہ اگروہ وعدہ کرے کہ اسکے شریک اور اس شخص کے درمیان معاملہ ہوجانے کی صورت میں وہ حق شفعہ استعمال نہیں کریگا تو اس سے بھی معاملہ انجام پانے کے بعد حق شفعہ ساقط نہیں ہوگا۔
س1635:کیا شریک کے اپنا حصہ فروخت کرنے سے پہلے حق شفعہ کو ساقط کرنا صحیح ہے کیونکہ یہ ایسی چیز کا اسقاط ہے جو ابھی واقع نہیں ہوئی (اسقاط ما لم یجب)ہے۔
ج: جب تک حق شفعہ واقع نہ ہوجائے اور دو میں سے ایک شریک کے اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کرنے کے ساتھ یہ مرحلہ عملی نہ ہو جائے اسے ساقط کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر ایک شریک عقد لازم کے تحت اپنے آپ کو اس بات کا پابند بنائے کہ اگر اسکے شریک نے اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کیا تو وہ شفعہ نہیں کریگا تو اشکال نہیں ہے۔
س1636: ایک شخص نے ایک ایسے دو منزلہ گھر کی ایک منزل کرایہ پرلی کہ جس کے مالک دو بھائی ہیں اور وہ کرایہ دار کے مقروض ہیں اور دو سال سے مسلسل اصرار کے باوجود اس کا قرض ادا نہیں کر رہے اس طرح کہ کرایہ دار کے لئے حق تقاص(ادھار کے بدلے کوئی چیز قبضے میں لینا) ثابت ہوجاتا ہے۔ گھر کی قیمت قرض کی رقم سے زیادہ ہے۔ اب اگر وہ اپنے قرض کی مقدار کے برابر اس گھرکا کچھ حصہ اپنی ملکیت میں لے لے اور ان کے ساتھ گھر میں شریک ہوجائے تو کیا باقی ماندہ مقدار کی نسبت اسے حق شفعہ حاصل ہوگا ؟
ج: سوال کی مفروضہ صورت میں حق شفعہ کا موضوع نہیں ہے اس لئے کہ حق شفعہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں کسی شریک نے اپنا حصہ ایک تیسرے شخص کو فروخت کیا ہو اورخرید و فروخت سے پہلے شراکت ہو، تاہم اس شخص کو حق شفعہ حاصل نہیں جو دو میں سے ایک کا حصہ خرید کر یا تقاص کی وجہ سے اس کا مالک بن کر دوسرے کے ساتھ شریک ہو جائے۔ علاوہ از ایں اگر ایک شریک اپنا حصہ بیچ دے تو اس صورت میں حق شفعہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اس ملک میں زیادہ افراد شریک نہ ہوں بلکہ صرف دو شخص شریک ہوں۔
س1637: ایک جائیدا د دو افراد کے درمیان مشترکہ ہے اور ہر ایک آدھے حصے کا مالک ہے اور اسکی رجسٹری بھی دونوں کے نام ہے۔ تقسیم کے ایک ،سادہ اشٹام کی بنیاد پر کہ جو انکے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے مذکورہ جائیداد معین حدود کے ساتھ ان کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اگر ایک شریک تقسیم کے بعد اپنا حصہ تیسرے شحص کو فروخت کر دے تو کیادوسرے شریک کوصرف اس بنیاد پر کہ اس جائیداد کی رجسٹری ان کے درمیان مشترکہ ہے حق شفعہ حاصل ہے؟
ج: فروخت شدہ حصہ اگر معاملے کے وقت دوسرے شریک کے حصے سے علیحدہ اور معین حدود کے ساتھ جدا کردیا گیا ہو تو صرف دو زمینوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا یا سابقہ شراکت یا رجسٹری کا مشترکہ ہونا حق شفعہ کے ثبوت کا باعث نہیں ہوگا۔
- اجارہ
- ضمانت
ضمانت
س 1682: جس شخص کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی رقم موجود نہ ہو۔ کیا وہ کسی دوسرے شخص کی ضمانت کے طور پر اپنا چیک دے سکتاہے؟
ج: اس قسم کے امور کا معیار اسلامی جمہوریہ ایران کا قانون ہے۔
س 1683: ایک شخص میرا مقروض تھا جو قرضہ ادا کرنے میں پس و پیش کررہا تھا، چنانچہ اس کے ایک رشتہ دار نے میرے قرض کی رقم کے برابر معینہ مدت والاایک چیک مجھے دیا ،اس شرط پر کہ میں مقروض کوکچھ مہلت دوں۔ اس طرح وہ ضامن بن گیا کہ اگر مقروض شخص نے چیک کی مقررہ مدت تک قرض ادا نہ کیا تو وہ ادا کرے گا۔ اسی دوران مقروض کہیں روپوش ہوگیا اور اس وقت مجھے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔کیا شرعا جائز ہے کہ میں اپناپورا قرض ضامن سے وصول کروں؟
ج: اگر وہ صحیح اور شرعی طریقے سے ضامن ہوا ہے تو جائز ہے کہ آپ اس سے مقررہ مدت تمام ہونے پر اپنے قرض کا مطالبہ کریں ا ور اپنا تمام قرض اس سے وصول کریں۔
- رہن
رہن
س 1684: ایک شخص نے اپنا گھر بینک سے قرض لے کر اس کے پاس گروی رکھا پھر وہ اپنا قرض ادا کرنے سے پہلے انتقال کرگیا اور اس کے نابالغ ورثاء پورا قرض ادا نہ کرسکے۔ نتیجتاً بینک نے مذکورہ گھر اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ اس گھر کی قیمت قرض والی رقم سے کئی گنا زیادہ ہے ۔گھر کی اضافی رقم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور نابالغ ورثاء اور ان کے حق کے متعلق کیا حکم ہے ؟
ج: جن مقامات میں مرتہن (جس کے پاس وہ چیز گروی رکھی گئی ہے ) کے لئے گروی رکھی ہوئی چیز کو اپنا قرض وصول کرنے کے لئے فروخت کرنا جائز ہے، وہاں اس پر واجب ہے کہ وہ اس چیز کو جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کرے۔ اگر وہ اس شے کو اپنے قرض کی مقدار سے زیادہ پر فروخت کرے تو ضروری ہے کہ اپنا حق وصول کرنے کے بعد باقیماندہ رقم اس کے شرعی مالک کو لوٹا دے لہذا مذکورہ سوال کی روشنی میں اضافی رقم ورثاء کو ملے گی۔
س1685: کیا جائز ہے کہ بالغ و عاقل شخص کسی دوسرے سے معین مدت کے لئے کچھ رقم قرض پر لے اور اپنا گھر قرض کے بدلے اس کے پاس گروی رکھ دے اور پھر اسی گھر کومرتہن سے معین رقم کے ساتھ معینہ مدت کے لئے کرایہ پر لے لے؟
ج: اس میں ایک اشکال تو یہ ہے کہ مالک اپنی ہی ملک کو کیسے کرائے پر لے سکتا ہے، اس کے علاوہ اس قسم کے معاملات، سودی قرض حاصل کرنے کے لئے ایک حیلے کے طور پر کئے جاتے ہیں جو شرعی طور پر حرام اور باطل ہے۔
س 1686: ایک شخص نے قرض کے بدلے میں اپنی ایک زمین دوسرے شخص کے پاس گروی رکھی۔ اس بات کو چالیس سال سے زیادہ ہوچکے ہیں یہاں تک کہ راہن(گروی رکھوانے والا) اور مرتہن(گروی لینے والا) دونوں انتقال کرگئے ہیں اور راہن کے وارثوں نے کئی مرتبہ مرتہن کے وارثوں سے زمین واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انہوں نے ان کے مطالبے کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ زمین انہیں ان کے باپ سے وراثت میں ملی ہے ۔کیا راہن کے ورثاء یہ زمین ان سے واپس لے سکتے ہیں؟
ج: اگر ثابت ہوجائے کہ مرتہن اس بات کا مجاز تھا کہ وہ اپنا حق وصول کرنے کیلئے زمین کو اپنی ملکیت میں لے لے اور اسکی قیمت بھی قرض کے برابر یا اس سے کمتر ہو اور اس کے مرنے تک زمین اسکے قبضہ میں رہی ہو تو بظاہر اسکی ملکیت ہے اور اسکے انتقال کے بعد اسکا ترکہ شمار ہوگی اور اسکے ورثاء اسکے وارث ہونگے . ورنہ زمین راہن کے ورثا کی میراث ہوگی اور وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں اورراہن کے ورثاء کیلئے ضروری ہے کہ اسکے ترکہ سے مرتہن کے ورثاء کو اس کا قرض ادا کریں۔
س 1687: کیا جائز ہے کہ جس شخص نے مکان کرایہ پر لیا ہے وہ اپنے قرض کے مقابلے میں یہ مکان کسی دوسرے شخص کے پاس گروی رکھ دے یا یہ کہ رہن کے صحیح ہونے میں شرط ہے کہ رہن پر رکھی جانے والی شے راہن کی ملکیت ہو؟
ج: اگر گھر کے مالک کی اجازت ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
س1688: میں نے ایک شخص سے قرض لے کر ایک سال کےلئے اپنا مکان اس کے پاس گروی رکھ دیااور ہم نے اس سلسلے میں دستاویز بھی لکھ لی لیکن معاملے سے علیحدہ طور پر میں نے اسے وعدہ دیا کہ یہ مکان اس کے پاس تین سال تک رہے گا۔ کیا اب رہن کی وہ مدت معیار ہے جو دستاویز میں لکھی گئی ہے یا وہ مدت کہ جس کا میں نے باتوں میں اسے وعدہ دیا ہے اور رہن کے باطل ہونے کی صورت میں راہن اور مرتہن کے لئے کیا حکم ہے ؟
ج: رہن کی مدت کے سلسلے میں تحریر ی دستاویزیا وعدہ یا اس جیسی کوئی اور چیز معیار نہیں ہے بلکہ اصلی معیار قرض والا معاملہ ہے پس اگر یہ معاملہ معینہ مدت کے ساتھ مشروط ہو تو اس مدت کے ختم ہونے پر یہ بھی ختم ہوجائے گا ورنہ رہن کی صورت میں باقی رہے گایہاں تک کہ قرض ادا کردینے یاقرض خواہ کے اپنے قرض سے چشم پوشی کر لینے کی وجہ سے یہ گھر گروی ہونے سے نکل جائے اور اگر وہ مکان رہن سے آزاد ہوجائے یا یہ پتہ چل جائے کہ رہن ابتدا ہی سے باطل تھا تو راہن اپنے اس مال کا مرتہن سے مطالبہ کرسکتاہے اورمرتہن کو حق نہیں ہے کہ وہ اس کے لوٹانے سے انکار کرے اوراس پر صحیح رہن کے آثار مترتب کرے۔
س1689: میرے والد نے تقریباً دوسال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے، سونے کے کچھ سکے اپنے قرض کے مقابلے میں گروی رکھے تھے اور پھر اپنی وفات سے کچھ دن پہلے مرتہن کو اجازت دے دی کہ وہ انہیں بیچ دے لیکن انہوں نے اس بات سے مرتہن کو آگاہ نہیں کیا ۔پھر میں نے اپنے والد کی رحلت کے بعد اس قرض کے برابر رقم کسی سے قرض لے کر مرتہن کو دے دی لیکن میرا ارادہ والد کے قرض کو ادا کرنا یا انہیں برئ الذمہ کرنا نہیں تھا بلکہ میں چاہتا تھا کہ گر
