ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
    • پانی کے احکام
    • بیت الخلاء کے احکام
    • وضو کے احکام
    • اسمائے باری تعالیٰ اور آیات الہی کو مس کرنا
    • غسل جنابت کے احکام
    • باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
    • تیمّم کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF
       
      تیمّم کے احکام
       
      س ۲۰۰: وہ چیزیں جن پر تیمم صحیح ہے، جیسے مٹی، چونا اور پتھر و غیرہ، اگر یہ دیوار پر چپکی ہوں تو کیا ان پر تیمم صحیح ہے؟ یا ان کا سطح زمین پر ہونا ضروری ہے؟
      ج: تیمم کے صحیح ہونے میں ان کا سطح زمین پر ہونا شرط نہیں ہے۔
       
      س ٢٠۱: اگر میں مجنب ہوجاؤں اور میرے لئے حمام جانا ممکن نہ ہو اور جنابت کی یہ حالت چند روز تک باقی رہے، اور میں غسل کے بدلے میں تیمم کرکے نماز پڑھ لوں اسکے بعد مجھ سے حدث اصغر سرزد ہوجائے تو کیا بعد والی نماز کیلئے دوبارہ غسل کے بدلے تیمم کروں یا نہیں بلکہ جنابت کی جہت سے وہی پہلا تیمم کافی ہے اور بعد والی نمازوں کیلئے حدث اصغر کی خاطر وضو یا تیمم واجب ہے ؟
      ج: جب مجنب شخص غسل جنابت کے بدلے صحیح تیمم کر لے اور اس تیمم کے بعد اگر اس سے حدث اصغر سرزد ہو جائے تو جب تک تیمم کو جائز قرا ردینے والا شرعی عذر باقی ہے بنابر احتیاط واجب جن اعمال میں طہارت شرط ہے ان کیلئے غسل کے بدلے تیمم کرے اور پھر وضو بھی کرے اور اگر وضو بھی نہ کرسکتاہو تو ایک دوسرا تیمم وضو کے بدلے کرے۔
       
      س ٢٠۲: غسل کے بدلے کئے جانے والے تیمم کے بعد کیا وہ سب امور انجام پا سکتے ہیں جو غسل کے بعد انجام دیے جا سکتے ہیں یعنی کیا تیمم کر کے مسجد میں داخل ہونا جائز ہے؟
      ج:غسل کے بعد جتنے شرعی امور انجام دئے جا سکتے ہیں وہ اس کے عوض کئے جانے والے تیمم کے بعد بھی جائز ہیں، مگر یہ کہ غسل کے بدلے میں تیمم تنگی وقت کی وجہ سے کیا جائے۔
       
      س ٢٠۳: وہ جنگی مجروح جس کا کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہوچکاہے اوراسکی وجہ سے پیشاب کو روکنے کی قدرت نہیں رکھتا کیا وہ مستحب اعمال مثلاً غسل جمعہ و غسل زیارت و غیرہ کے بجا لانے کے عوض تیمم کر سکتا ہے؟ کیونکہ اس کے لئے حمام جانے میں کچھ مشقت ہے۔
      ج: زیارت جیسے اعمال میں طہارت شرط نہیں ہے ان کیلئے غسل کے بدلے تیمم کرنا محل اشکال ہے، لیکن عسر و حرج کے موقع پر مستحب غسلوں کے بدلے رجاء مطلوبیت کی نیت سے تیمم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س٢٠۴: جس شخص کے پاس پانی نہ ہو یا اس کے لئے پانی کا استعمال مضر ہو اور وہ غسل جنابت کے بدلے تیمم کر لے تو کیا وہ مسجد میں داخل ہوکر نماز جماعت میں شریک ہو سکتاہے؟ اور اس کے قرآن کریم پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
      ج: جب تک تیمم کو جائز کرنے والا عذر باقی ہے اور اس کا تیمم باطل نہیں ہوا اس وقت تک وہ ان تمام اعمال کو انجام دے سکتا ہے جن میں طہارت شرط ہے۔
       
      س٢٠۵: نیند کی حالت میں انسان سے رطوبت خارج ہوتی ہے اور بیدار ہونے کے بعد اسے کچھ یاد نہیں آتا، لیکن اسکیلباس پر رطوبت ہے اور اس کے پاس سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے، کیونکہ اس کی صبح کی نماز قضا ہو رہی ہے، اس حالت میں وہ کیا کرے؟ اور وہ کیسے غسل کے بدلے تیمم کی نیت کرے؟ اس کیلئے اصلی حکم کیا ہے؟
      ج: اگر اسے احتلام کا علم ہے تو وہ مجنب ہے او اس پر غسل واجب ہے اور وقت تنگ ہونے کی صورت میں اپنے بدن کو پاک کرنے کے بعد تیمم کرکے نماز پڑھے اور پھر وسیع وقت میں غسل کرے، لیکن اگر احتلام اور جنابت میں شک ہو تو اس پر جنابت کا حکم جاری نہیں ہو گا۔
       
      س٢٠۶: ایک شخص پے در پے کئی راتوں تک مجنب ہوتا رہا، اس کا فریضہ کیا ہے؟ جبکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ہر روز پے در پے حمام جانے سے انسان ضعیف و کمزور ہو جاتا ہے؟
      ج: اس پر غسل واجب ہے مگر یہ کہ پانی کا استعمال اس کے لئے مضر ہو تو ایسی صورت میں اس کا فریضہ تیمم ہے۔
       
      س٢٠۷:میں غیر معمولی صورتحال سے دوچارہوں اور بلا ارادہ کئی کئی مرتبہ مجھ سے منی خارج ہو جاتی ہے اور اس کے نکلنے سے کوئی لذت بھی محسوس نہیں ہوتی، پس نماز کے سلسلے میں میرا فریضہ کیا ہے؟
      ج: اگر ہر نماز کے لئے غسل کرنے میں آپ کیلئے ضرر یا شدید تکلیف ہو تو اپنا بدن نجاست سے پاک کرنے کے بعد تیمم کے ساتھ نماز پڑھیں۔
       
      س٢٠۸: اس شخص کا کیا حکم ہے جو نماز صبح کے لئے یہ سوچ کر غسل جنابت ترک کر کے تیمم کرتا ہے کہ اگر غسل کرے گا تو بیمارہو جائے گا؟
      ج: اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے لئے غسل مضر ہے تو تیمم میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس تیمم کے ساتھ نماز صحیح ہے۔
       
      س٢٠۹: تیمم کا طریقہ کیا ہے ؟ آیا غسل اور وضو کے بدلے تیمم میں کوئی فرق ہے ؟
      ج: تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کرکے دونوں ہاتھوں کو اس چیز پر مارے جس پر تیمم صحیح ہے پھر دونوں ہاتھوں کو پوری پیشانی پر بالوں کے اگنے کی جگہ سے ابرو اور ناک کے اوپر والے حصے تک اور پیشانی کی دو اطراف پر پھیرے پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پوری پشت پر اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ دوبارہ ہاتھوں کو زمین پر مارے اور پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر پھیرے خواہ تیمم وضو کے بدلے ہو یا غسل کے بدلے۔
       
      س٢۱۰: پکے ہوئے چونے ،پکی ہوئی آہک، انکے پتھروں اور اینٹ پر تیمم کرنے کا کیا حکم ہے ؟
      ج: ہر وہ چیز جسے زمین سے شمار کیا جائے جیسے چونے اور آہک کے پتھر ان پر تیمم کرنا صحیح ہے اور بعید نہیں ہے کہ پکے ہوئے چونے، پکی ہوئی آہک اور اینٹ وغیرہ پر بھی تیمم صحیح ہو۔
       
      س٢١۱: آپ نے فرمایا ہے جس چیز پر تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضروری ہے کیا اعضاء تیمم (پیشانی اور ہاتھوں کی پشت) کا پاک ہونا بھی ضروری ہے ؟
      ج: احتیاط یہ ہے کہ ممکنہ صورت میں پیشانی اور ہاتھوں کی پشت پاک ہو اور اگر انہیں پاک کرنا ممکن نہ ہو تو اسکے بغیر ہی تیمم کرلے اگر چہ بعید نہیں ہے کہ ہر صورت میں طہارت شرط نہ ہو۔
       
      س٢١۲: اگر انسان کیلئے نہ وضو ممکن ہو اور نہ تیمم تو اسکی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
      ج: بنابر احتیاط وقت کے اندر بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے اور پھر بعد میں وضو یا تیمم کے ساتھ اسکی قضا کرے۔
       
      س٢١۳: میں جلد کی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں کہ جب بھی نہاتا ہوں تو میری کھال خشک ہونے لگتی ہے بلکہ اگر صرف چہرے اور ہاتھوں کو دھوتا ہوں تو بھی ایسا ہوتا ہے، اس لئے اپنی جلد پر تیل ملنے پر مجبورہوں، لہذا مجھے وضو کرنے میں بہت زحمت ہوتی ہے اور صبح کی نماز کے لئے وضو کرنا میرے لئے بہت دشوار ہے تو کیا میں صبح کی نماز کے لئے وضو کے بدلے تیمم کر سکتا ہوں؟
      ج: اگر آپ کے لئے پانی کا استعمال مضر ہے تو وضو صحیح نہیں ہے اور اس کے بدلے تیمم کریں اور اگر مضر نہیں ہے اور یہ تیل پانی کے اعضاء وضو تک پہنچنے سے مانع نہ ہو تو وضو ضروری ہے اور اگر مانع ہو لیکن یہ ممکن ہو کہ تیل صاف کرکے وضو کرلیا جائے اور پھر تیل مل لیا جائے تو بھی تیمم کی نوبت نہیں آئیگی۔
       
      س٢١۴: ایک شخص وقت کم ہونے کی بنا پر تیمم سے نماز پڑھ لیتا ہے اور فارغ ہونے کے بعد اس پر یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ وضو کرنے کا وقت تھا، اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
      ج: اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔
       
      س٢١۵: ہم ایسے سرد علاقے میں رہتے ہیں جہاں حمام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں غسل کر سکیں اور رمضان کے مہینے میں اذان سے پہلے حالت جنابت میں بیدار ہوں تو چونکہ جوانوں کا نصف شب میں لوگوں کے سامنے مشک یا ٹینکی کے پانی سے غسل کرنا معیوب ہے، اس کے علاوہ اس وقت پانی بھی ٹھنڈا ہوتا ہے، اس حالت میں اگلے دن کے روزہ کا کیا حکم ہے؟ کیا تیمم جائز ہے اور غسل نہ کرنے کی صورت میں روزہ نہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: صرف مشقت یا لوگوں کی نظروں میں کسی کام کا معیوب ہونا شرعی طور پر عذر نہیں بن سکتا، بلکہ جب تک انسان کے لئے ضرر یا حرج نہ ہو اس وقت تک جس طرح بھی ممکن ہو اس پر غسل کرنا واجب ہے اور حرج یا ضرر کی صورت میں تیمم کرنا واجب ہے، پس اگر وہ فجر سے پہلے تیمم کر لیتا ہے تواس کا روزہ صحیح ہے اور اگر تیمم ترک کر دے تو اس کا روزہ باطل ہے، لیکن اس پر واجب ہے کہ تمام دن روزے کو باطل کرنے والے کاموں سے اجتنا ب کرے۔
    • عورتوں کے احکام
    • میت کے احکام
    • نجاسات کے احکام
    • نشہ آور چیزیں
    • وسوسہ اور اس کا علاج
    • کافر کے احکام
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /