ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
    • پانی کے احکام
    • بیت الخلاء کے احکام
    • وضو کے احکام
    • اسمائے باری تعالیٰ اور آیات الہی کو مس کرنا
    • غسل جنابت کے احکام
    • باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
    • تیمّم کے احکام
    • عورتوں کے احکام
    • میت کے احکام
    • نجاسات کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF

       

      نجاسات کے احکام
       
      س ٢٦۶: کیا خون پاک ہے؟
      ج: جن جانداروں کا خون اچھل کر نکلتا ہو انکا خون نجس ہے۔
       
      س ٢٦۷: وہ خون جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں انسان کے اپنا سر دیوار سے ٹکرانے سے جاری ہوتا ہے اور اس بہنے والے خون کی چھینٹیں عزاداری میں شرکت کرنے والوں کے سروں اور چہروں پر پڑتی ہیں تو کیا وہ خون پاک ہے یا نہیں؟
      ج: انسان کا خون ہر حال میں نجس ہے۔
       
      س ٢٦۸: کیا دھلنے کے بعد کپڑے پر موجود خون کا ہلکے رنگ کا دھبہ نجس ہے؟
      ج: اگر خود خون نہ ہو اور فقط رنگ باقی رہ جائے تو وہ پاک ہے۔
       
      س٢٦۹: اگر انڈے میں خون کا ایک نقطہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
      ج: پاک ہے، لیکن اس کا کھانا حرام ہے۔
       
      س ٢۷۰: فعل حرام کے ذریعہ مجنب ہونے والے شخص اور نجاست خور حیوان کے پسینے کا کیا حکم ہے؟
      ج: نجاست خور اونٹ کا پسینہ نجس ہے، لیکن اس کے علاوہ دوسرے نجاست خور حیوانات اور اسی طرح فعل حرام سے مجنب ہونے والے شخص کے پسینہ کے بارے میں اقوی یہ ہے کہ وہ پاک ہے، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ فعل حرام سے مجنب ہونے پر جو پسینہ آئے اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔
       
      س٢٧۱: میت کو آب سدر اور آب کافور سے غسل دینے کے بعد اور خالص پانی سے غسل دینے سے پہلے جو قطرے میت کے بدن سے ٹپکتے ہیں کیا وہ پاک ہیں یا نجس؟
      ج: میت کا بدن اسوقت تک نجس ہے جب تک تیسرا غسل کامل نہ ہو جائے۔
       
      س ٢٧۲: ہاتھوں ، ہونٹوں یا پیروں سے بعض اوقات جو کھال جد اہوتی ہے، کیا وہ پاک ہے یا نجس؟
      ج: ہاتھوں ، ہونٹوں یا بدن کے دیگر اعضاء سے کھال کے جو باریک چھلکے خود بخود جدا ہو جاتے ہیں، وہ پاک ہیں۔
       
      س ٢٧۳: جنگی محاذ پر ایک شخص کو ایسی حالت پیش آئی کہ وہ سور کو مارنے اور اسے کھانے پر مجبور ہوا، کیا اس کے بدن کی رطوبت اور لعاب دہن نجس ہیں؟
      ج: حرام و نجس گوشت کھانے والے انسان کے بدن کی رطوبت اور لعاب دہن نجس نہیں ہیں لیکن رطوبت والی جو چیز بھی سور کے گوشت سے مس ہو گی وہ نجس ہو جائے گی۔
       
      س ٢٧۴: پینٹنگ اور تصویریں بنانے میں بالوں والے برش سے استفادہ کیا جاتاہے۔ انکی بہترین قسم عام طور پر سور کے بالوں سے بنی ہوئی ہوتی ہے اور غیر اسلامی ملکوں سے منگوائی جاتی ہے ایسے برش ہر جگہ خاص طور سے ایڈورٹائزنگ کے اور ثقافتی مراکز میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس قسم کے برش کے استعمال کے سلسلے میں شرعی حکم کیا ہے؟
      ج: سور کے بال نجس ہیں اور ان سے ایسے امور میں استفادہ کرنا جائز نہیں ہے جن میں شرعاً طہارت شرط ہے، لیکن ایسے امور میں ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جن میں طہارت شرط نہیں ہے۔ اور اگر ان کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ سور کے بالوں سے بنے ہوئے ہیں یا نہیں تو ان کا استعمال ان امور میں بھی بلا اشکال ہے جن میں طہارت شرط ہے۔
       
      س ٢٧۵: کیا غیر اسلامی ممالک سے لایا جانے والا گوشت حلال ہے ؟ نیز طہارت و نجاست کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے ؟
      ج: جب تک اس کا ذبح شرعی ثابت نہ ہوجائے وہ حرام ہے لیکن جب تک اس کے ذبح شرعی نہ ہونے کا یقین نہ ہو وہ پاک ہے۔
       
      س ٢٧۶: چمڑے اور دیگر حیوانی اجزاء جو غیر اسلامی ممالک سے آتے ہیں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
      ج: اگر جانور کے ذبح شرعی ہونے کا احتمال ہو تو پاک ہیں لیکن اگر یقین ہو کہ شرعی طریقے سے ذبح نہیں ہوا تو نجس ہیں۔
       
      س ٢٧۷: اگر مجنب کا لباس منی سے نجس ہو جائے تو اول: یہ کہ اگر ہاتھ یا اس کپڑے میں سے کوئی ایک گیلا ہو تو ہاتھ سے اس لباس کو چھونے کا کیا حکم ہے؟ اور دوسرے: کیا مجنب کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی اور شخص کو وہ لباس پاک کرنے کے لئے دے؟ نیز کیا مجنب کے لئے ضروری ہے کہ وہ دھونے والے شخص کو بتائے کہ یہ نجس ہے؟
      ج: منی نجس ہے اور جب سرایت کرنے والی رطوبت کے ساتھ اسے کوئی چیز لگے تو وہ بھی نجس ہو جائے گی، اور لباس دھونے والے کو یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ نجس ہے لیکن صاحب لباس کو جب تک اسکی طہارت کا یقین نہ ہو اس پر طہارت کے اثرات جاری نہیں کرسکتا۔
       
      س ٢٧۸: پیشاب کرنے کے بعد استبراء کرتا ہوں، لیکن اس کے ہمراہ ایک بہنے والی رطوبت نکلتی ہے جس سے منی کی بو آتی ہے کیا وہ نجس ہے ؟ نیز اس سلسلے میں نماز کے لئے میرا حکم بیان فرمائیں؟
      ج: اگر اس کے منی ہونے کا یقین نہ ہو اور اس میں منی نکلنے کے سلسلے میں جو شرعی علامتیں بیان ہوئی ہیں وہ بھی نہ پائی جائیں تو وہ پاک ہے اور اس پر منی کا حکم نہیں لگے گا۔
       
      س ٢٧۹: کیا حرام گوشت پرندوں جیسے عقاب، طوطا، کوا اور جنگلی کوا ۔ کا پاخانہ نجس ہے ؟
      ج: حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ نجس نہیں ہے ۔
       
      س ٢۸۰: توضیح المسائل میں لکھا ہے کہ ان حیوانات اور پرندوں کا پاخانہ نجس ہے جن کا گوشت حرام ہے تو جن حیوانات کا گوشت حلال ہے جیسے گائے، بکری یا مرغی کیا ان کا پاخانہ نجس ہے یا نہیں؟
      ج: حلال گوشت جانوروں خواہ وہ پرندے ہوں یا دوسرے جانور انکا پاخانہ پاک ہے اور حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ بھی پاک ہے۔
       
      س ٢۸۱: اگر بیت الخلاء کی سیٹ کے اطراف یا اس کے اندر نجاست لگی ہو اور اس کو کر بھر پانی یا قلیل پانی سے دھویا جائے لیکن عین نجاست باقی رہ جائے تو کیا وہ جگہ جہاں عین نجاست نہ لگی ہو بلکہ صرف دھونے والا پانی اس تک پہنچا ہو، نجس ہے یا پاک ؟
      ج: جس جگہ تک نجس پانی نہیں پہنچا، وہ پاک ہے۔
       
      س ٢٨۲: اگر مہمان، میزبان کے گھر کی کسی چیز کو نجس کر دے تو کیا اس پر اس کے بارے میں میزبان کو مطلع کرنا واجب ہے؟
      ج: کھانے پینے والی چیزوں اور کھانے کے برتنوں کے علاوہ دوسری چیزوں کے سلسلے میں مطلع کرنا ضروری نہیں ہے۔
       
      س ٢٨۳: کیا کسی نجاست سے لگ کر نجس ہونے والی (متنجس) چیز سے لگنے والی چیز بھی نجس ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر نجس ہو جاتی ہے تو یہ حکم کتنے واسطوں تک جاری ہو گا؟
      ج: عین نجاست سے لگنے والی چیز نجس ہو جاتی ہے اور اسی طرح اس سے لگنے والی دوسری چیز بھی اگر ان میں سے ایک تر ہو تونجس ہو جاتی ہے اور بنا بر احتیاط واجب اس سے لگنے والی تیسری چیزبھی نجس ہو جاتی ہے، لیکن یہ تیسری لگنے والی چیز کسی چیز کو نجس نہیں کرے گی۔
       
      س ٢٨۴: کیا جس جانور کو شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا اس کی کھال کے جوتے استعمال کرنے کی صورت میں وضو سے قبل ہمیشہ پیروں کا دھونا واجب ہے؟ بعض کہتے ہیں اگر جوتے کے اندر پیروں کو پسینہ آجائے تو واجب ہے، اور میں نے دیکھا ہے کہ ہر قسم کے جوتوں میں پیروں سے تھوڑا بہت پسینہ ضرور نکلتا ہے، اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟
      ج: اگر یقین ہو کہ جوتا ایسے جانور کی کھال کا بنا ہوا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیاگیا تھا اور یقین ہو کہ مذکورہ جوتے میں پیر سے پسینہ نکلا ہے تو نماز کے لئے پیروں کا دھونا واجب ہے لیکن اگر شک ہوکہ پسینہ نکلاہے یا نہیں یا شک ہو کہ جس جانور کی کھال سے اسے بنایا گیا ہے اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیاتھا یا نہیں تو اس پر پاک ہونے کا حکم لگایا جائیگا؟
       
      س٢٨۵: اس بچے کے گیلے ہاتھ، اس کے منہ کے پانی اور اس کی جوٹھی غذا کا کیا حکم ہے، جو ہمیشہ خود کو نجس کرتا رہتا ہے اور ان بچوں کا کیا حکم ہے جو اپنے گیلے ہاتھوں سے اپنے پیر چھوتے ہیں؟
      ج: جب تک ان کے نجس ہونے کا یقین حاصل نہ ہو اس وقت تک یہ پاک ہیں۔
       
      س ٢٨۶: میں مسوڑھوں کے مرض میں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق انکی مالش کرناضروری ہے، اس عمل سے مسوڑھوں کے بعض حصے سیاہ ہو جاتے ہیں گویا ان کے اندر خون جمع ہو اور جب ان پر ٹشو پیپر رکھتا ہوں تو اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے، اس لئے میں اپنا منہ آب کر سے پاک کرتا ہوں، اس کے با وجود وہ جما ہوا خون کافی دیر تک باقی رہتا ہے اور دھونے سے ختم نہیں ہوتا پس آب کر سے ہٹنے کے بعد جو پانی میرے منہ کے اندر داخل ہواہے اور ان حصوں پر لگا ہے اور پھر منہ سے خارج ہوتاہے کیا وہ نجس ہے یا اسے لعاب دہن کا جزء شمار کیا جائے گا اور وہ پاک ہو گا؟
      ج: پاک ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔
       
      س ٢٨۷:یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں جو کھانا کھاتا ہوں اور وہ مسوڑھوں میں جمع شدہ خون کے اجزاء سے مس ہوتا ہے کیا وہ نجس ہے یا پاک؟ اور اگر نجس ہے تو کیا اس کھانے کو نگلنے کے بعد منہ کا اندرونی حصہ نجس رہتا ہے؟
      ج: مذکورہ فرض میں کھانا نجس نہیں ہے اور اس کے نگلنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور منہ کے اندر کی فضا بھی پاک ہے۔
       
      س ٢٨۸: مدت سے مشہور ہے کہ میک اپ کا سامان بچے کی اس ناف سے تیار کیا جاتا ہے جسے اسکی پیدائش کے بعد اس سے جدا کرتے ہیں یا خود جنین کی میت سے تیار کیا جاتا ہے ہم کبھی کبھی میک اپ کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، بلکہ بعض اوقات تو لپ اسٹک حلق سے نیچے بھی اتر جاتی ہے تو کیا یہ نجس ہے؟
      ج: میک اپ کی چیزوں کے نجس ہونے کی افواہیں کوئی شرعی دلیل نہیں ہیں اور جب تک شریعت کے معتبر طریقوں سے ان کی نجاست ثابت نہیں ہوتی اس وقت تک ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٢٨۹: ہر لباس یا کپڑے کو دھوتے وقت اس سے بہت ہی باریک روئیں گرتی رہتی ہیں اور جب ہم کپڑے دھونے والے ٹب کے پانی کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ باریک روئیں نظر آتی ہیں، پس اگرٹب پانی سے بھرا ہوا ہو اور اس کا اتصال نل کے پانی سے ہو تو جب میں ٹب میں لباس کو غوطہ دیتا ہوں اورٹب سے پانی باہر گرنے لگتا ہے تو ٹب سے گرنے والے پانی میں ان روؤں کی موجودگی کی وجہ سے میں احتیاطاً ہر جگہ کو پاک کرتا ہوں یا جب میں بچوں کے نجس کپڑے باہر نکالتا ہوں تو اس جگہ کو بھی پاک کرتا ہوں جہاں لباس باہر نکالا گیا تھا، خواہ وہ جگہ خشک ہی ہو اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں وہ روئیں اس جگہ گری ہیں کیا یہ احتیاط ضروری ہے؟
      ج: جو لباس دھونے کیلئے ٹب میں رکھا جاتا ہے اور پھر اس پر نل سے پانی ڈالا جاتا ہے جو اسے پوری طرح گھیرلیتا ہے اور اس سے جدا ہوتا ہے یا پانی کے اندر لباس کو اِدھر اُدھر کیا جاتا ہے تو یہ لباس ، ٹب ،پانی اور وہ روئیں جو لباس سے جدا ہوتی ہیں اور پانی پرنظر آتی ہیں اور پانی کے ہمراہ ٹب سے باہر گرتی ہیں سب پاک ہیں اور وہ روئیں یا غبار جو نجس لباس سے جدا ہوتی ہیں وہ بھی پاک ہیں مگر جب یقین ہو کہ یہ نجس حصے سے جدا ہوئے ہیں اور جب شک ہو کہ یہ نجس لباس سے جدا ہوئے ہیں یا نہیں یا شک ہو کہ لباس کی نجس جگہ سے جدا ہوئے ہیں یا نہیں تو احتیاط کرنا ضروری نہیں ہے ۔
       
      س ٢۹۰: اس رطوبت کی مقدار کیا ہے جو ایک چیز سے دوسری چیز میں سرایت کرتی ہے؟
      ج: سرایت کرنے والی رطوبت کا معیار یہ ہے کہ کوئی گیلی چیز جب دوسری چیز کو لگے تو اس کی رطوبت اس دوسری چیز کی طرف سرایت کرجائے ۔
       
      س ٢۹۱: ان کپڑوں کے پاک ہونے کا کیا حکم ہے جو ڈرائی کلیننگ پر دیے جاتے ہیں؟ اس بات کی وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ دینی اقلیتیں (مثلاً یہودی اور عیسائی و غیرہ) بھی اپنے کپڑے دھونے اور استری کرنے کے لئے انہیں جگہوں پر دیتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ ڈرائی کلین کرنے والے، کپڑے دھونے میں کیمیکل مواد استعمال کرتے ہیں۔
      ج: جو کپڑے ڈرائی کلیننگ میں دیے جاتے ہیں، اگر وہ پہلے سے نجس نہ ہوں تو پاک ہیں اور (اہل کتاب) دینی اقلیتوں کے کپڑوں کے ساتھ لگنا ان کے نجس ہونے کا باعث نہیں بنتا۔
       
      س ٢٩۲: جو کپڑے گھر کی آٹومیٹک کپڑے دھونے والی مشین سے دھوئے جاتے ہیں، کیا وہ پاک ہوجاتے ہیں یا نہیں؟ مذکورہ مشین اس طرح کام کرتی ہے کہ پہلے مرحلے میں مشین کپڑوں کو کپڑے دھونے والے پاؤڈر سے دھوتی ہے جس کی وجہ سے کچھ پانی اور کپڑوں کا جھاگ مشین کے دروازے کے شیشے اور اسکے اطراف میں لگے ہوئے ربڑ کے خول پر پھیل جاتا ہے دوسرے مرحلے میں دھوون (غسالہ ) کو نکال دیا جاتا ہے لیکن جھاگ اس کے دروازے اور ربڑ کے خول کو پوری طرح گھیر لیتا ہے اور اگلے مراحل میں مشین کپڑوں کو تین مرتبہ آب قلیل سے دھوتی ہے پھر اس کے بعد دھوون کو باہر نکالتی ہے، تو کیا اس طرح دھوئے جانے والے کپڑے پاک ہوتے ہیں یا نہیں؟
      ج: عین نجاست زائل ہو جانے کے بعد جب پائپ کے ساتھ متصل پانی مشین میں داخل ہو کر کپڑوں اور مشین کے اندراسکے تمام اطراف تک پہنچ جائے اور پھر اس سے جدا ہو کر نکل جائے تو ان کپڑوں پر طہارت کا حکم جاری ہوگا۔
       
      س٢٩۳: اگر ایسی زمین پر یا حوض یا حمام میںکہ جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں، پانی بہایا جائے اور اس پانی کے چھینٹے لباس پر پڑ جائیں تو کیا وہ نجس ہوجائے گا یا نہیں؟
      ج: اگر پانی پاک جگہ یا پاک زمین پر بہایا جائے تو اس سے پڑنے والے چھینٹے بھی پاک ہیں اورگر شک ہوکہ وہ جگہ پاک ہے یا نجس تو بھی اس سے پڑنے والے چھینٹے پاک ہیں۔
       
      س ٢٩۴: بلدیہ کی کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں سے جو پانی سڑکوں پر ٹپکتاجاتا ہے اور بعض اوقات تند ہوا کی وجہ سے لوگوں کے کپڑوں پر بھی پڑ جاتا ہے، کیا وہ پانی پاک ہے یا نجس؟
      ج: پاک ہے مگر یہ کہ نجاست سے لگنے کی وجہ سے اس پانی کے نجس ہونے کا کسی شخص کو یقین ہو جائے۔
       
      س ٢٩۵: سڑکوں پر موجود گڑھوں میں جمع ہوجانے والا پانی، پاک ہے یا نجس؟
      ج: پاک ہے۔
       
      س٢٩۶: ان لوگوں کے ساتھ گھریلو رفت و آمد رکھنے کا کیا حکم ہے جو کھانے پینے وغیرہ میں طہارت و نجاست کے مسائل کا خیال نہیں کرتے؟
      ج: طہارت و نجاست کے بارے میں کلی طور پر شریعت اسلامی کا حکم یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو پاک ہے۔
       
      س ٢٩۷: براہ مہربانی درج ذیل صورتوں میں قے کی طہارت اور نجاست کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں۔
      الف۔ شیر خوار بچے کی قے۔
      ب۔ اس بچے کی قے جو دودھ پیتا ہے اور کھانا بھی کھاتا ہے۔
      ج۔ بالغ انسان کی قے۔
      ج: تمام صورتوں میں پاک ہے۔
       
      س ٢٩۸: (اطراف )شبہہ محصورہ ( چند ایسی چیزیں جن میں سے ایک نجس ہے) سے لگنے والی چیز کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر ان میں سے بعض چیزوں سے لگے تو نجس نہیں ہے۔
       
      س٢٩۹: ایک شخص کھا نا بیچتا ہے اور سرایت کرنے والی تری کے ساتھ کھا نے کو اپنے جسم سے چھوتا ہے، لیکن اس کے دین کا پتہ نہیں ہے اور وہ کسی دوسرے ملک سے اسلامی ملک میں کام کرنے کیلئے آیا ہے کیا اس سے اس کے دین کے بارے میں سوال کرنا واجب ہے؟ یا اس پر اصالت طہارت کا حکم جاری ہوگا؟
      ج: اس سے اس کا دین پوچھنا واجب نہیں ہے اور اس شخص کے بارے میں اور رطوبت کے ساتھ اس کے جسم سے لگنے والی چیز کے بارے میں اصالت طہارت جاری کریں گے۔
       
      س ۳۰۰: اگر گھر کا کوئی فرد یا جس کی گھر میں رفت و آمد ہے طہارت و نجاست کا خیال نہ رکھتا ہو جس سے گھر اور اس میں موجود چیزیں وسیع پیمانہ پر نجس ہو جائیں کہ جن کا دھونا اور پاک کرنا ممکن نہ ہوتواس صورت میں گھر والوں کا فریضہ کیا ہے؟ ایسی صورت میں انسان کیسے پاک رہ سکتا ہے خصوصاً نماز میں کہ جس کے صحیح ہونے میں طہارت شرط ہے؟ اور اس سلسلہ میں حکم کیا ہے؟
      ج: تمام گھر کو پاک کرنا ضروری نہیں ہے اور نماز صحیح ہونے کے لئے نماز گزار کا لباس اور سجدہ گاہ کا پاک ہونا کافی ہے۔ گھر اور اس کے سامان کی نجاست کی وجہ سے، نماز اور کھانے پینے میں طہارت کا لحاظ رکھنے کے علاوہ انسان پر کوئی مزید ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
    • نشہ آور چیزیں
    • وسوسہ اور اس کا علاج
    • کافر کے احکام
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /