ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
    • اجارہ کے مسائل
      پرنٹ  ;  PDF
       
      اجارہ کے مسائل
       
      س ١٦٣8 : انسان جو کام دوسروں کیلئے انجام دیتاہے اگر وہ ایسے کاموں میں سے ہو جن میں زیادہ جسمانی اور ذہنی زحمت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر مالی اخراجات ہوں، اگر متعلقہ اداروں کی طرف سے اس کام کیلئے کوئی معین اجرت نہ ہو اور کام انجام دینے کیلئے جو وقت اوسطاً صرف ہوتا ہے وہ وقت بھی عرف عام میں قیمت گذاری کیلئے عمومی معیار نہ ہو تواس صورت میں مذکورہ کام کی اجرت معین کرنے کا معیار کیا ہے کہ جس سے دوسری طرف کا حق ضائع نہ ہو؟
      ج: ایسے کاموں کی اجرت کا معیار عرف ہے اور دونوں فریق اگر کسی معین مقدار پر متفق ہوجائیں تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س ١٦٣9:میں نے ایک مکان کرائے پر لیالیکن اسکے بعد مجھے معلوم ہوا کہ جس رقم سے وہ مکان خریدا گیا ہے اس میں سود کی رقم بھی شامل تھی اب شرعاً میرے لئے کیا حکم ہے؟
      ج: جب تک آپ یہ نہیں جانتے کہ مالک ( موجر) نے مکان کو عین سود(خود سود) کی رقم سے خریدا ہے اس میں تصرف کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س ١٦40: میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتاہوں مجھے دو مہینے کی ڈیوٹی پر بیرون ملک بھیجا گیا اور اس کام کی اجرت کے طور پر مجھے غیر ملکی کرنسی دی گئی جسے میں نے سٹیٹ بینک سے بہت سستے داموں خریدا لیکن بعض اسباب کی بناپر میری ڈیوٹی ایک مہینے میں تمام ہوگئی واپس آنے کے بعد میں نے باقی ماندہ آدھی غیر ملکی کرنسی کو قیمت خرید سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کردیا اب میں چاہتاہوں کہ حکومت کے خزانے میں وہ رقم واپس کرکے بری الذمہ ہوجاؤں کیا جس قیمت پر میں نے اس کرنسی کو خریدا تھا وہ ادا کروں یا وہ قیمت ادا کروں جسے میں نے اس کرنسی کو فروخت کرکے حاصل کیا ہے؟
      ج: وہ اجرت اگر آپ کو ڈیوٹی کے دنوں کیلئے دی گئی ہے تو آپ باقی ماندہ دنوں کی اضافی کرنسی کے ضامن ہیں پس یا تو آپ خود وہی کرنسی واپس کریں یا موجودہ نرخ کے مطابق اس کے مساوی رقم حکومت کو لوٹائیں۔
       
      س ١٦41: ایک شخص مالک اور مزدوروں کے درمیان واسطہ ہے مالک اسے مزدوری کی اجرت کے طور پر جو رقم ادا کرتاہے وہ اس میں سے کچھ کم کرکے مزدوروں کو دیتاہے اسکے اس عمل کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: واسطہ بننے والا شخص اگر مالک کی طرف سے وکیل ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ بچ جانے والی رقم مالک کو واپس کردے اور اسکے لیئے اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اسے مالک کی رضامندی کا علم ہو۔
       
      س ١٦42: ایک شخص نے موقوفہ زمین کا ایک قطعہ اسکے شرعی اور قانونی متولی سے دس سال کی مدت کیلئے کرایہ پر لیا ۔ اسکا قانونی کرایہ نامہ بھی لکھا گیا ہے لیکن کرائے پر دینے والے متولی کی وفات کے بعد اسکے جانشین کا یہ دعویٰ ہے کہ کرائے پر دینے والا متولی سفیہ و نادان تھا اور اسکا اجارہ باطل ہے اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟
      ج: موقوفہ زمین میں جب تک کرائے پر دینے والے متولی(موجر) کے تصرفات کا باطل ہونا ثابت نہ ہوجائے اسکی طرف سے زمین کو کرائے پر دینا صحیح ہے۔
       
      س ١٦43 : ایک شخص نے جامع مسجد کیلئے موقوفہ دوکان کو معینہ مدت کیلئے کرایہ پر لیا لیکن کرائے کی مدت تمام ہونے کے بعد کئی سال گذر گئے ہیں نہ اس نے دوکان کا کرایہ ادا کیاہے اور نہ ہی دوکان خالی کرنے کیلئے تیار ہے بلکہ وہ دوکان خالی کرنے کے عوض کئی لاکھ کا مطالبہ کررہاہے کیا اسے مسجد کے موقوفہ اموال سے یہ رقم ادا کرنا جائز ہے؟
      ج: کرایہ کی مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ دار کا دوکان پر کوئی حق نہیں ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ دوکان خالی کر کے مسجد کے متولی کے حوالے کردے لیکن اگر قانونی اعتبار سے اس کے لیئے کوئی حق بن رہا ہے تو وہ اسکا مطالبہ کرسکتاہے اوراسے مسجد کے موقوفات سے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ١٦44: کسی شخص نے ایک گھر معین رقم کے ساتھ مقررہ مدت کیلئے کرایہ پر لیاپھر اس نے اس گھر کے کرایہ کے عنوان سے کچھ رقم مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد ایک دوسری مقررہ مدت کیلئے موجر (مالک ) کو پیشگی ادا کردی جو پہلے والے کرایہ سے کچھ زیادہ تھی اس شرط کے ساتھ کہ مالک ایک معین مدت تک مکان خالی کرنے کا مطالبہ نہیں کریگا اوراگر ایسا کریگا تو وہ دوسری مدت کا کرایہ بھی پہلی مدت کے کرائے کے برابر حساب کریگا اور اضافی رقم مستاجر ( کرایہ دار) کو واپس کر دیگا لیکن مالک نے مذکورہ مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی مکان خالی کرنے کا مطالبہ کردیا اور اضافی رقم دینے سے بھی انکار کردیا۔ اس مسئلہ کا کیا حکم ہے اور کیا جائز ہے کہ مالک کرایہ دار سے گھر کورنگ کرانے وغیرہ کے اخراجات کا مطالبہ کرے جبکہ ان کے مابین اس سلسلے میں کوئی بات طے نہیں پائی تھی؟
      ج: اگر اجارے والے معاملہ کے ضمن میں یہ شرط طے ہوئی تھی کہ اگر مالک مقررہ وقت سے پہلے مکان خالی کرنے کا مطالبہ کریگا تو کرائے دار مدت اجارہ تمام ہونے کے بعد صرف اس بات کا پابند ہے کہ دوسری مدت کا کرایہ بھی اتنا ہی ادا کرے جو پہلی مدت میں کرتارہاہے تومالک کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اپنی شرط کے برخلاف زیادہ رقم کا مطالبہ کرے اور اگر اس نے اضافی رقم دریافت کی ہے تو وہ کرایہ دار کو واپس کردے اور مکان کے رنگ اور تعمیر کے دیگر اخراجات بھی کرایہ دار کے ذمہ نہیں ہیں۔
       
      س ١٦45: ایک شخص نے مالک سے دو کمرے کرائے پر لئے اسطرح کہ ہر مہینے اسے معین رقم کرایہ کے طور پر دیگا مالک نے بھی چابی اسکی تحویل میں دے دی کرایہ دار نے اپنا گھریلوسامان ان کمروں میں منتقل کردیا۔ اسکے بعد وہ اپنے بال بچوں کو لانے کیلئے گیا لیکن واپس نہیں آیا مالک کو اسکے بارے میں کوئی اطلاع بھی نہیں ہے کیا مالک ان کمروں میں تصرف کا حق رکھتاہے نیز کرایہ دار کے سامان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: اگر اجارہ شرعی طورپر صحیح واقع نہ ہوا ہو مثلاً اجارے کی مدت کو معین نہ کیا گیاہو تو اس صورت میں کرایہ دار کا ان دو کمروں میں کوئی حق نہیں ہے اور ان کا اختیار مالک کے ہاتھ میں ہے وہ ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرسکتاہے لیکن کرایہ دار کا سامان اسکے پاس بطور امانت ہے اور وہ اسکی حفاظت کرے اور جتنی مدت سامان اسکے کمروں میں رہاہے کرایہ دار کے لوٹنے کے بعد وہ کمروں کے رائج کرائے (اجرة المثل)کا مطالبہ کرسکتاہے لیکن اگر اجارہ شرعی طور پر صحیح واقع ہوا ہو تو مالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اجارے کی مدت ختم ہونے کا انتظار کرے اور اسے کرایہ دارسے اس تمام مدت کے کرائے کے مطالبہ کا حق ہے اور مدت ختم ہونے کے بعدکرایہ دار کا وہاں کوئی حق نہیں ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اجارہ شروع سے باطل ہو۔
       
      س ١٦46: ہم چند افرادایک کمپنی میں ملازم ہیں اور اس عمارت میں رہتے ہیں جسے کمپنی نے کرایہ پر لے رکھاہے اس وقت عمارت کے مالک کا وکیل یہ دعویٰ کرتاہے کہ کمپنی اور عمارت کے مالک کے مابین کرایہ کی رقم کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتاہے اورعدالت کا فیصلہ آنے تک مالک وہاں پر نماز پڑھنے اور دوسرے تصرفات انجام دینے پر راضی نہیں ہے اس صورت میں کیا گذشتہ نمازوں کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے یا اس بات سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے شرعی ذمہ داری ساقط ہے ؟
      ج: اگر اجارہ صحیح طورپر ہوا ہو تو جب تک اسکی مدت ختم نہ ہوجائے تب تک تصرفات کیلئے مالک کی نئی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور وہاں نماز پڑھنا صحیح ہے ۔اسی طرح اگر اجارہ کی مدت ختم ہوجائے یا اجارہ باطل ہوجائے تو اگر عدم اطلاع کی وجہ سے وہاں نمازیں پڑھی ہوں تو وہ صحیح ہیں اور انکا دوبارہ پڑھنا واجب نہیں ہے۔
       
      س ١٦٤7: ایک شخص جس جگہ پر ملازم ہے وہاں اس کا اپنا ذاتی مکان ہے جو اس نے کرایہ پر دے رکھا ہے اور وہ خود اس ادارے کے مکان میں رہتاہے جس میں وہ ملازم ہے اور اسکا یہ عمل ادارے کے اس قانون کے خلاف ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا ذاتی مکان رکھتاہوتو اسے ادارے کے مکان سے استفادہ کرنے کا حق نہیں ہے اگر کرایہ دار کو معلوم ہوجائے کہ اس شخص نے ادارے کے قانون کے خلاف عمل کیا ہے تو کرایہ دارکیلئے کیا حکم ہے؟
      ج: وہ لوگ جو ادارے کی شرائط پر پورا نہیں اترتے انکے لئے ادارے کے مکانات سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ملکیت کرایہ پر دے یا کوئی دوسرا اس سے کرایہ پر لے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اس ملک میں کرایہ دار کا تصرف بھی جائز ہے۔
       
      س ١٦٤8: مالک نے کرایہ دار کے ساتھ یہ شرط طے کی ہے کہ اجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اگر مکان خالی نہیں کریگا تو کرایہ دار ہر دن کے بدلے اجرة المثل سے زیادہ کرایہ ادا کرنے کا پابند ہوگا کرایہ دار بھی معاملے کے ضمن میں اس رقم کو ادا کرنے کا عہد کرچکا ہے تو کیا اسے یہ رقم ادا کرنا ہوگی؟
      ج: ایسی شرط پر عمل کرنا واجب ہے جسکا ذکر عقد لازم کے ضمن میں ہو۔
       
      س١٦٤9: ایک شخص نے اپنا مکان دو آدمیوں کو مشترکہ طور(بطور مشاع) پر اس شرط کے ساتھ کرایہ پر دے رکھا ہے کہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر یہ مکان کسی دوسرے کو کرایہ پر نہیں دیںگے لیکن ان دومیں سے ایک نے اپنا حصہ مالک کی اجازت کے بغیر اپنے شریک کوکرایہ پر دے دیا توکیا مالک کی یہ شرط کہ بغیر اجازت کے کسی دوسرے کوکرایہ پر نہیں دیں گے اس پر بھی صادق آتی ہے ؟
      ج: مالک کی شرط شریک کی طرف منتقل کرنے پر بھی صادق آتی ہے مگر یہ کہ وہاں کوئی قرینہ ہو جو اس بات پر دلالت کرے کہ شریک کی طرف منتقل کرنا اس شرط سے خارج ہے ۔
       
      س ١٦50: میں نے پانی اور زمین کا کچھ حصہ چار سال کیلئے ٹھیکے پر لے رکھا ہے اور اس میں یہ شرط تھی کہ مالک کو دوسرے سال کے آغاز میں معاملہ ختم کرنے کا حق ہے لیکن مالک نے دوسرے سال کے اختتام تک معاملہ ختم نہیں کیا بلکہ تیسرے سال کی اجرت بھی وصول کرکے رسید دے دی۔ کیا مالک یا اس شخص کو جو اس ملک کے خریدنے کا مدعی ہے ٹھیکے کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس میں تصرف اورمداخلت کا حق ہے ؟
      ج: اگرمالک اس معاملے کو اس مدت میں ختم نہ کرے کہ جس میں اسے اس کا حق ہے تو اسکے بعد معاملے کو (فسخ) ختم کرناجائز نہیں ہے اور اگر وہ اس ملک کو اپنے اس اختیار کی مہلت ختم ہونے کے بعد فروخت کرے تو اس سے ٹھیکہ باطل نہیں ہوگا بلکہ دوسرا مالک انتظار کرے یہاں تک کہ ٹھیکے کی مدت تمام ہوجائے۔
       
      س ١٦51: ایک شخص نے دو دوکانوں کو اس شرط کے ساتھ کرایہ پر لیاکہ ان میں صرف کھانے پینے کی اشیاء فروخت کریگا اور یہ شرط معاملہ کی دستاویز میں بھی موجود ہے لیکن کرایہ دار نے اس شرط پر عمل نہیں کیا۔ کیا ان دوکانوں میں اسکا یہ کام جائز ہے اور کیا شرط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں مالک اجارہ ختم (فسخ) کرنے کا حق رکھتاہے؟
      ج: کرایہ دار پر واجب ہے کہ وہ مالک کی شرط کے مطابق عمل کرے اگر وہ شرط کے مطابق عمل نہیں کرتا تو مالک کو اجارہ ختم (فسخ)کرنے کا حق حاصل ہے ۔
       
      س ١٦52: میں ایک ادارے میں کام کرتاہوں ادارے کے مینجر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ معمول کے مطابق دیگر سہولیات جیسے چھٹیاں، بیمہ اور مکان بھی فراہم کریگا مگر کئی سال گذرچکے ہیں اس نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا اور چونکہ اس سلسلے میں میرے پاس کو ئی تحریری ثبوت نہیں ہے لہذا میں اس سے اپنا حق لینے پر قادر نہیں ہوں کیا شرعاً مجھے حق ہے کہ میں قانونی چارہ جوئی کرکے اپنا حق وصول کروں؟
      ج: قانونی طریقے سے اپنا حق لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ١٦53: ایک شخص نے معین رقم کے ساتھ بارش کے پانی سے سیراب ہونے والی موقوفہ زمین ٹھیکے پر لی ہے لیکن چونکہ صرف بارش کے پانی پر انحصار کی وجہ سے محصول بہت کم تھا لہذا اس نے اس زمین کو دیگر ذرائع سے سیراب کرنے کا انتظام کیا اور اس پر کافی سرمایہ خرچ کیا۔ کیا اب اسے بارانی زمین کے ٹھیکے کے مطابق رقم ادا کرنا ہوگی یا دیگر زرائع سے سیراب ہونے والی زمین کے ٹھیکے کے مطابق؟ اور اگر اس نے یہ کام سرکاری تعاون سے کیا ہو تو اسکا کیا حکم ہے ؟ اگر وقف کرنے والے نے اس کے مصرف کو کسی خاص مقصد کیلئے معین کیا ہومثلا یہ کہ اسکی سالانہ آمدنی دس دن حضرت سید الشہداء کی مجالس عزاداری قائم کرنے میں خرچ کی جائے تو کیا ٹھیکے کی آمدنی صرف اسی کام میں خرچ کی جائے جسے وقف کرنے والے نے معین کیا ہے ؟ اگر وقف کا متولی زمین کا ٹھیکہ لینے سے انکار کرے تو کیا جائز ہے کہ وہ رقم محکمہ اوقاف کو دیدی جائے؟
      ج: اگر صحیح طور پر ٹھیکہ ہوجانے کے بعد بارش کے پانی کی بجائے دیگر ذرائع سے زمین کوسیراب کرنے کیلئے کنواں یا چھوٹی نہر و غیرہ کھودے تو اس سے ٹھیکے کی معین کردہ رقم میں کمی بیشی نہیں ہوگی چاہے یہ کام متولی کے خرچے سے انجام پائے ہوں یا حکومت کے خرچے سے یا خود ٹھیکے پر لینے والے کے خرچے سے لیکن اگر یہ کام صحیح طور پر ٹھیکہ ہونے سے پہلے یا پہلے ٹھیکے کی مدت ختم ہونے کے بعد اور نیا ٹھیکہ ہونے سے پہلے انجام پائے ہوں تو اس صورت میں موقوفہ زمین کے متولی پر واجب ہے کہ وہ ان تمام وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس نے زمین کیلئے فراہم کئے ہیں موجودہ وقت کے مطابق ٹھیکے کی منصفانہ قیمت مقرر کرے۔ اور ٹھیکے کے پیسے کو اسی جگہ صرف کرنا ضروری ہے جو وقف کرنے والے نے معین کی ہے اور موقوفہ زمین کے ٹھیکے کی قیمت معین کرنا اسکے شرعی متولی کے اختیار میں ہے اورشرعی متولی وقف کی مصلحت اور فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے معین کریگا اور شرعی متولی سے صحیح طریقے سے ٹھیکے پر لئے بغیر یا اس کی اجازت کے بغیر موقوفہ زمین میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں ہے اور اسکی اجازت کے بغیر اگر تصرف کریگا تو وہ غصب شمار ہوگا ۔ صرف محکمہ اوقاف یا کسی دوسرے ادارے کو وقف کے ٹھیکے کی رقم ادا کرنے سے انسان موقوفہ زمین میں تصرف کرنے کا مجاز نہیں ہو سکتا لیکن اگر متولی اس پوری مدت میں ٹھیکے کی رقم نہ لے توٹھیکے پر لینے والے کیلئے اس سے استفادہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اس صورت میں حاکم شرع سے ہم آہنگی کرکے اس رقم کو جس مقصد کیلئے وقف کیا گیا ہے اس میں خرچ کیا جائے۔
       
      س ١٦54: اگر کرایہ دار ، مالک سے تقاضا کرے کہ وہ کرائے پر دی ہوئی چیز میں کچھ تبدیلیاں اور اصلاحات کرے تو ان کے اخراجات کس کے ذمہ ہیں؟
      ج: اگرکرائے پر دی ہوئی چیز اسی پہلی حالت پر باقی ہو کہ جس پر وہ کرائے کا معاملہ کرتے وقت تھی تومالک پر کرایہ دار کی طرف سے اصلاحات اور تبدیلیوں کی درخواست کو قبول کرنا واجب نہیں ہے لیکن اگر مالک اس کا مطالبہ مان لے تو تمام اخراجات مالک کے ذمہ ہوں گے۔ کیونکہ کرایہ دار کا مالک سے ان امور کی درخواست کرنا اس بات کا سبب نہیں بنتا کہ کرایہ دار ان اخراجات کا ضامن ہو۔
       
      س ١٦55: ایک شخص نے کسی سے مجلس عزاداری میں قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کی درخواست کی اوراسکی اجرت کے طور پر اسے کچھ رقم بھی دے دی لیکن یہ شخص تلاوت کرتے وقت رقم دینے والے کیلئے نیت کرنا بھول گیا لہذا فارغ ہونے کے بعد وہ چاہتاہے کہ جس شخص نے تلاوت قرآن کیلئے کہا تھااسکی نیت کرے کیا اس کا یہ عمل صحیح ہے اور کیا وہ اسکی اجرت کا مستحق ہے یا نہیں؟
      ج: اگر تلاوت کے دوران اس شخص کیلئے نیت نہ کی ہو تو تلاوت کے بعد اسے اس کیلئے شمار کرنا صحیح نہیں ہے اوروہ اجرت کا مستحق بھی نہیں ہے۔
       
      س ١٦56: ایک دلّال کے ہمراہ ہم ایک مکان دیکھنے کیلئے گئے اور دیکھنے کے بعد ہم نے اسکے خریدنے کا ارادہ ترک کردیا پھر ایک دوسرے شخص کے ساتھ اسی مکان کو دیکھنے کیلئے گئے چنانچہ ہم نے اور بیچنے والے نے دلّال کو اطلاع دیئے بغیر مکان کا معاملہ کرلیا کیا دلّال کا اس سلسلے میں کوئی حق ہے یا نہیں ؟
      ج: دلّال نے خریدار کو مکان دکھانے کے سلسلے میں جو راہنمائی کی ہے اور اس کے ساتھ گیا ہے تو اسے اسکی اجرت کے مطالبے کا حق ہے لیکن اگر معاملہ کرانے میں اس نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تو معاملہ کرانے کی اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور اگر اس سلسلے میں کوئی خاص قوانین ہوں تو ان کی رعایت کرنا ضروری ہے۔
       
      س ١٦٥7: ایک شخص اپنا مکان بیچنے کیلئے پر اپرٹی ڈیلر کے پاس گیااور اس کی مدد سے خریدارکو ڈھونڈ لیا اور مکان کی قیمت بھی طے ہوگئی لیکن خریدار نے پراپرٹی ڈیلرکا حق دینے سے بچنے کیلئے خود بیچنے والے کے ساتھ معاملہ انجام دے دیا کیا بیچنے والے اور خریدار کے ذمے پراپرٹی ڈیلرکی اجرت ہے؟
      ج: فقط پراپرٹی ڈیلرکی طرف رجوع کرنے سے وہ معاملہ کی اجرت کا مستحق نہیں بن سکتا لیکن اگر اس نے ان کیلئے کوئی عملی قدم اٹھایا ہو تو جس کیلئے اس نے یہ کام انجام دیا ہے اس سے اس کام کی رائج اجرت ( اجرة المثل ) لینے کا حق رکھتا ہے۔
       
      س ١٦٥8: کسی شخص نے ایک دوکان معینہ مدت کیلئے اور مخصوص رقم کے بدلے کرایہ پر لی لیکن کچھ عرصہ گذرنے کے بعد اس نے اس معاملے کو ختم کردیا۔ کیا یوں معاملہ ختم کرنا صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو کیا مالک کو معاملہ ختم ہونے سے پہلے والے دنوں کا کرایہ لینے کا حق ہے یا نہیں ؟
      ج: جب تک کرایہ دار شرعی طور پرمعاملہ کو ختم کرنے کا حق نہ رکھتا ہو تب تک اسکی طرف سے معاملہ کو ختم کرنا صحیح نہیں ہے اور اگراسے یہ حق ہو اور وہ معاملہ ختم کردے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے والے دنوں کا کرایہ ادا کرے ۔
       
      س ١٦٥9: ایک شخص نے کاشتکاری کیلئے اس شرط کے ساتھ زمین ٹھیکے پر لی کہ گہراکنواں کھودنے اور زمین کی آبیاری کیلئے پانی نکالنے کے اخراجات اور دیگر تمام کام اسکے ذمہ ہونگے ۔چنانچہ ٹھیکے پر لینے والے نے قانونی مراحل طے کرنے اوراپنے نام پر کنواں کھودنے کی اجازت لینے کے بعد کنواں کھودکر اس سے استفادہ کرنا شروع کردیا ۔ لیکن ایک سال گزرنے کے بعد مالک نے معاملہ کو یک طرفہ طور پر ختم کردیا ۔ اب اس کنویں اوراسکے آلات و اخراجات کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا وہ ٹھیکے پر لینے والے کی ملکیت پر باقی ہیں یازمین کے مالک کی ملکیت ہیں ؟
      ج: جب تک ٹھیکے کی مدت تمام نہ ہوجائے کسی کو بھی معاملہ ختم کرنے کا حق نہیں ہے اور بہرصورت کنواں زمین کے تابع ہے اور اسکے مالک کی ملکیت ہے مگر یہ کہ اسکے خلاف کوئی شرط طے پائی ہو۔ لیکن وہ آلات جو کنویں پر نصب کئے گئے ہیں اور اسی طرح وہ چیزیں جو ٹھیکے پر لینے والے نے اپنے مال سے خریدی ہیں وہ اسکی ملکیت ہیں اوراگر معاملہ میں اس بات پر اتفاق ہواہو کہ ٹھیکے پر لینے والے کو کنویں سے استفادہ کرنے کا حق ہوگا تو اسکا یہ حق ثابت ہے۔
       
      س ۱۶۶۰: یہ سوال چونکہ ایران کے ساتھ مختص تھا اس لیے اردو ترجمہ میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔
       
      س ١٦61: اگر دو سرکاری ادارے باہمی طور پر طے کریں کہ ایک ادارہ اپنی عمارت کا کچھ حصہ معین مدت تک دوسرے ادارے کی تحویل میں دے اس شرط کے ساتھ کہ دوسرا ادارہ اجارے کی مہلت ختم ہونے کے بعد عمارت خالی کرنے تک اپنے بجٹ کا کچھ حصہ پہلے ادارے کے اکاونٹ میں جمع کرائے ،کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
      ج: اگر یہ کام عقد اجارہ کے صحیح طور پر انجام پانے اور عمارت کے قانونی طور پر ذمہ دار شخص کی موافقت سے ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اورعقد اجارہ کے ضمن میں طے کی گئی شرط اگر خلاف شرع نہ ہو تو نافذالعمل ہے۔
       
      س ١٦62: آج کل لوگوں کے درمیان عام طور پر رائج ہے کہ وہ مکان کرایہ پر دیتے وقت کچھ رقم پہلے لے لیتے ہیں شرعی طور پر اسکا کیا حکم ہے ؟
      ج: اگر مالک اپنا مکان معینہ مدت کیلئے اور معین کرائے کے ساتھ کرائے پر دے اس شرط پر کہ کرایہ دار کچھ رقم قرض کے عنوان سے اسے دے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اگرچہ مالک اس رقم کے پیش نظر اپنے مکان کا کرایہ اسکے رائج کرائے سے کچھ کم کردے لیکن اگر وہ کرایہ دار سے اس شرط پر قرض لے کہ وہ اپنا مکان مفت اسکے اختیار میں دے گا یا اسے اپنا مکان رائج کرائے پر یا اس سے کچھ کم یا زیادہ پردے اسطرح کے پہلے جو معاملہ انجام پایا ہے وہ قرض لینا اور قرض دینا ہے اور کرایہ دار کو مکان کرائے پر دینا یا مکان اسکی تحویل میں دینا قرض کے ضمن میں شرط ہوتو یہ تمام موارد باطل اور حرام ہیں۔
       
      س ١٦63 : ادارہ حمل و نقل معین اجرت لے کر لوگوں کا سامان ادھر ادھر منتقل کرتاہے اگر وہ سامان چوری ہونے یا آگ لگ جانے سے راستے میں تلف ہوجائے یا اسے نقصان پہنچے تو کیا وہ ادارہ اسکا ضامن ہے ؟
      ج: وہ ادارہ جو سامان کسی جگہ تک پہنچانے کیلئے اجیر ہوا ہے اگر وہ عرف اور معمول کے مطابق سامان کی حفاظت کرے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے تو جب تک ضمانت کی شرط نہ رکھی گئی ہو وہ ضامن نہیں ہے ورنہ ضامن ہے ۔
       
      س ١٦64: چروا ہے نے بھیڑوں کو انکے باڑے میں جمع کیا اور دروازہ بند کرکے اپنے گھر چلاگیا جو تین فرسخ کے فاصلے پر تھا ۔ رات کووہاں بھیڑیا داخل ہوا اور اس نے بھیڑوں کوچیر پھاڑ دیا تو کیا چرواہا بھیڑوں کا ضامن ہے ؟ طے شدہ معاملے کے مطابق انہیں بھیڑوں میں سے سات بھیڑیں چروا ہے کو اجرت کے عنوان سے دی جانی تھیں۔ کیا اس صورت میں وہ شخص جس نے بھیڑیں چرانے کیلئے چرواہے کو اجیر بنایاہے اس کیلئے اجرت کا ادا کرنا ضروری ہے؟
      ج: اگرچرواہا رات کے وقت اس جگہ کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں تھا اور اس نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی تو وہ ضامن نہیں ہے اور بھیڑ بکریاں چرانے کے سلسلے میں اپنی پوری اجرت کے مطالبے کا حق رکھتا ہے ۔
       
      س ١٦65 : ایک شخص کے مکان میں اسکا پڑوسی کافی عرصہ سے بغیر خریدے اور بغیر کرایہ اور ایڈوانس کے مفت میں رہائش پذیر ہے مالک کی وفات کے بعد اسکے وارثوں نے اس سے گھر خالی کرنے کا مطالبہ کیا لیکن وہ شخص مکان کا قبضہ دینے سے انکار کررہاہے اور یہ دعویٰ کررہاہے کہ مکان خود اسکا ہے لیکن اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کیلئے اسکے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اس مسئلہ کا کیا حکم ہے ؟
      ج: اگر متوفیٰ کے ورثاء شرعی طریقے سے ثابت کردیں کہ مکان مرنے والے کی ملکیت تھا یا وہ شخص اس بات کا اعتراف کرے کہ جسکے تصرف میں اسوقت مکان ہے لیکن یہ دعویٰ کرے کہ کسی سبب کی بنا پرمکان مالک کی ملکیت سے میری ملکیت میں منتقل ہوگیا ہے توجب تک وہ اپنے دعوے کو شرعی طریقے سے ثابت نہ کرے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ مکان مالک کے ورثاء کے حوالے کردے۔
       
      س ١٦66: ایک شخص نے اپنی گھڑی ٹھیک کرنے کیلئے گھڑی ساز کو دی کچھ مدت کے بعد وہ گھڑی اسکی دوکان سے چوری ہوگئی کیا دوکان دار اسکا ضامن ہے؟
      ج: اگر دوکان دار نے گھڑی کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی تو وہ ضامن نہیں ہے۔
       
      س١٦67:ایک نجی کمپنی غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کا سامان فروخت کرتی ہے اور اسکے بدلے میں سامان کی قیمت کاکچھ فیصداپنے لئے رکھ لیتی ہے کیا اس کیلئے یہ چند فیصد رقم لینا شرعاً جائز ہے؟ اور اگر کوئی سر کاری ملازم اس کمپنی کے ساتھ تعاون کرتاہو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس چند فیصد میں سے کچھ حصہ وہ لے لے؟
      ج: اگر یہ رقم معاہدے کے مطابق سامان فروخت کرنے کی وکالت کی اجرت کے عنوان سے ملکی یاغیر ملکی اور سرکاری یا غیر سرکاری کمپنیوں سے لی جائے تو اس کے لینے میں بذات خود کوئی اشکال نہیں ہے لیکن سرکاری ملازم اپنی سرکاری ڈیوٹی کہ جسکی اسے تنخواہ ملتی ہے کے بدلے کسی اجرت یا ہدیہ لینے کا حق نہیں رکھتا۔
    • پگڑی کے احکام
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /