ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
    • اجارہ کے مسائل
    • پگڑی کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF
       
      پگڑی کے احکام
       
      س١٦٦8 : وہ کرایہ دار جس نے دوکان کو تجارت یا کسی دوسرے کاروبار کیلئے معین مدت تک کرائے پر لیاہے مدت تمام ہونے کے بعد اگر مالک اسکی مدت آگے نہ بڑھائے تو کیا جائز ہے کہ کرایہ دار دوکان خالی نہ کرے اور مالک سے پگڑی کا مطالبہ کرے ؟اور باوجود اسکے کہ وہ دوکان کسی دوسرے کے حوالے کرنے کا حق نہیں رکھتا کیا جائز ہے کہ وہ وہاں پر اپنے کام کاج کے حق کا دعویٰ کرے؟
      ج: کرایہ کی مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ دار کو دوکان اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسے مالک کے حوالے کردے لیکن اگر مالک نے اسے پگڑی کا حق دے رکھا ہویا دوکان ایسی جگہ ہوکہ جہاں قانونی اعتبار سے کرایہ دار کا کوئی حق بنتا ہو تو اس صورت میں وہ اپنے حق کا مالک سے مطالبہ کرسکتاہے۔
       
      س ١٦٦9 : میں نے ایک تجارتی جگہ کرایہ پر لی اور پگڑی کے طور پر کچھ رقم اسکے مالک کو ادا کر دی۔ اورمیں نے اچھی خاصی رقم اسکی بجلی لگوانے پتھر کا فرش بچھانے اور دوسرے امور پر خرچ کی اور کچھ رقم کام کا لائسنس حاصل کرنے پر خرچ کی۔ دس سال گزرنے کے بعد مالک کے ورثاء اس کے واپس لوٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں کیا مجھ پر واجب ہے کہ انکی بات مان کردوکان خالی کردوں؟ اگر خالی کرنا واجب ہے ، تو کیا جائز ہے کہ میں اپنے ان اخراجات کا ان سے مطالبہ کروں؟ اور کیا پگڑی کے مقابلے میں مجھے موجودہ قیمت کے مطالبے کا حق ہے ؟
      ج: مالک پر کرائے کی مدت کی توسیع کا واجب ہونا یا اس کے لئے اس جگہ کو خالی کرنے کے مطالبے کا جائز ہونا اور کرایہ دار پر اسے خالی کرنے کا واجب ہونا اور اسی طرح کرایہ دار نے وہاں پر جو اخراجات کئے ہیں مالک کیلئے ان کا ضامن ہونا یہ سب ملک کے موجودہ قوانین کے تحت یا مالک اور کرایہ دار کے درمیان عقد اجارہ کے ضمن میں طے پانے والی شرائط کے مطابق ہے ۔رہا اس جگہ کی پگڑی کا معاملہ تو اگر یہ حق مالک کی طرف سے کرایہ دار کو شرعی طور پر منتقل ہوا ہو یاقانون کی رو سے اسکے لیئے ثابت ہو تو اسے حق ہے کہ وہ موجودہ نرخ کے مطابق اسکی قیمت طلب کرے۔
       
      س١٦70 : ایک کمپنی کے مالک نے پگڑی لئے بغیراپنی ایک بلڈنگ کسی کو کرایہ پر دیدی۔ کیا ضروری ہے کہ وہ عمارت خالی کرتے وقت پگڑی کے طور پرکچھ رقم کرایہ دار کو اداکرے؟اور اگر مالک وہی بلڈنگ کرایہ دار کو فروخت کردے تو کیا مالک کیلئے ضروری ہے کہ اسکی قیمت سے کچھ رقم پگڑی کے طور پر کم کرے؟
      ج: جب تک پگڑی شرعی اعتبار سے مثلا خریدنے، صلح کرنے یا عقد لازم میں شرط کے طور پر یا ایسے قانون کے مطابق کہ جسمیں اسکی وضاحت موجود ہو،کرایہ دار کی ملکیت قرار نہ پائی ہو تب تک اسے حق نہیں ہے کہ وہ اسکے بدلے میں مالک سے کسی چیز کا مطالبہ کرے اور اسی طرح اس عمارت کو مالک سے خریدنے کی صورت میں اسکی قیمت سے وہ پگڑی کے عنوان سے کچھ رقم کم نہیں کرسکتا۔
       
      س ١٦71:میرے والد نے چند تجارتی دوکانیں اپنے تین بیٹوں کیلئے خریدیں اور اسی وقت انکے نام کردیں نتیجتاً وہ دوکانیں شرعی اور قانونی لحاظ سے اس وقت انکی ہیں وہ دوکانیں میرے والدکی وفات سے پہلے اسی کے قبضہ میں تھیں اور وہی ان میں تجارت اور کار وبار کرتا تھا کیا ان دوکانوں کی پگڑی صرف ان کے مالکوں کیلئے ہے یا یہ کہ انکی پگڑی ملک سے جداہے اور تمام ورثاء سے متعلق ہے؟
      ج: دوکانوں کی پگڑی انکی ملک کے تابع ہے اورجب تک شرعی طور پر وہ کسی دوسرے شخص کو منتقل نہ ہووہ مالک سے مخصوص ہے ۔
       
      س ١٦72: اگر کرایہ دار دوکان کرایہ پر لیتے وقت اسکے مالک کوکچھ رقم پگڑی کے طور پر دے پھر کسی وجہ سے کرایہ دار دوکان خالی کرنا چاہے تو کیا مالک وہی رقم اسے واپس کرے یا اس پر واجب ہے کہ موجودہ ریٹ کے مطابق پگڑی کی قیمت ادا کرے؟
      ج: اگر دوکان کی پگڑی کا حق شرعی طور پر کرایہ دار کیلئے ہو تو وہ موجودہ نرخ کے مطابق اسکی منصفانہ قیمت کا مطالبہ کرسکتاہے اور مالک پر بھی واجب ہے کہ وہ اسکی موجودہ قیمت ادا کرے لیکن اگر کرایہ دار نے کوئی رقم مالک کے پاس امانت کے طور پر رکھی ہو تا کہ وہ جگہ خالی کرنے کے وقت اسے لوٹا دے تو کرایہ دار کو اسی کے برابررقم واپس لینے کا حق ہے جو اس نے معاملہ کے وقت مالک کو ادا کی تھی اور پیسے کی قیمت (value)کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں احتیاط اس میں ہے کہ وہ باہمی طور پر مصالحت کرلیں۔
       
      س ١٦73: میں نے ایک دوکان اسکے مالک سے کرایہ پر لی ہے لیکن میں نے پگڑی کے طور پر اسے کچھ نہیں دیا کیوں کہ اس دور میں ہمارے شہر میں پگڑی رائج نہیں تھی۔ اب جبکہ اسکا مالک فوت ہوگیا ہے اور دوکان اسکے ایک بیٹے کی ملکیت میں آگئی ہے اور اس نے اسے خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ادھر میں نے کرائے کی مدت کے دوران کچھ رقم بجلی اورٹیلیفون لگوانے ، دروازے تبدیل کرانے اور دوکان کی دیکھ بھال پر خرچ کی ہے نیز یہاں کچھ لوگ میرے ساتھ معاملات کرنے کی بنا پر میرے مقروض ہیں کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں موجودہ مالک کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس دوکان کو اپنے کسی حق کا مطالبہ کئے بغیر خالی کرکے اسکی تحویل میں دے دوں ؟ اور اگر میرا وہاں کوئی حق ہے توکتنا؟
      ج: کرایہ کی مدت تمام ہونے کے بعد آپ کو موجودہ مالک کے ساتھ کرائے کا نیا معاملہ کئے بغیر وہاں رہنے کا حق نہیں ہے لیکن اس پر یہ لازم ہونا کہ کرائے کے نئے معاملہ کیلئے آپکی درخواست قبول کرے یا یہ کہ اسکے لئے جگہ کو خالی کرانے کا مطالبہ جائز ہے اور آپکے لئے اسکا ماننا ضروری ہے تو یہ سب موجودہ قوانین یا عقد کے ضمن میں طے شدہ شرائط کے تابع ہے اور یہ کہ آپ خالی کرتے وقت پگڑی کے عوض کسی چیز کا مطالبہ کریں اس فرض کے ساتھ کہ کرائے کا معاملہ کرتے وقت اس علاقہ میں کرایہ دار کیلئے پگڑی کا حق رائج نہیں تھا اور مالک کی طرف سے بھی آپ کو پگڑی کا حق نہیں دیا گیا تو اس جگہ کو خالی کرنے اور موجودہ مالک کے سپردکرتے وقت آپ کوپگڑی کے مقابلے میں کسی چیز کے مطالبے کا حق نہیں ہے۔ مگر یہ کہ قانون آپ کو اسکی اجازت دے البتہ بجلی ، ٹیلیفون اور دوسرے امور جو آپ نے اپنے اخراجات سے انجام دیئے ہیں وہ سب آپکی ملکیت ہیں مگر وہ چیزیں کہ جنہیں موجودہ قانون یا عرف بطور مفت یا مالک کی طرف سے ان کے اخراجات اداکرنے کی صورت میں ملک کے تابع سمجھتے ہوں۔
       
      س1674. نمبر١) ایک جگہ مسلسل بیس سال تک کسی کام کیلئے کرائے پر دی گئی ہے کیا کرایہ دار کو حق ہے کہ اس معاملہ کی مدت کے دوران یا اسکے تمام ہونے کے بعد تمام قانونی امور کی رعایت کرتے ہوئے اور پگڑ ی کے ٹیکس ادا کرکے اس جگہ کی پگڑی کسی دوسرے کرائے دار کے حوالے کردے؟
      نمبر٢)اگر اس جگہ کی پگڑی تمام قوانین کی رعایت کرتے ہوئے اور با ضابطہ طور پر دوسرے کرایہ دار کی طرف منتقل کردے تو کیا مالک کو حق ہے کہ اسے قبول نہ کراتے ہوئے دوسرے کرایہ دار سے اس جگہ کے خالی کرنے کا مطالبہ کرے؟
      ج: اگر اس جگہ کی پگڑی مالک کی جانب سے یا قانون کی روسے پہلے کرایہ دار کی طرف منتقل نہ ہوئی ہو تو پہلے کرائے دار کو اسکے فروخت کرنے یا کسی دوسرے کی طرف منتقل کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر ایسا کرے تو معاملہ فضولی ہے اور اس کا صحیح ہونا مالک کی اجازت پر موقوف ہوگا۔
       
      س ١٦75: میرے مورّث نے ہوٹل میں سے اپنے پورے حصے پر۔بشمول ہوٹل میں موجودمختلف چیزوں اور اس میں اس کے حقوق کے ۔ میرے ساتھ مصالحت کی ہے کیا یہ مصالحت اس ہوٹل کی پگڑی کے حق کوبھی شامل ہے؟
      ج: اگر ہوٹل کی پگڑی کا حق آپکے مورث کا ہو اور مصالحت ہوٹل اور اسکی ان تمام چیزوں اور حقوق پر ہوئی ہو جو اسکی ملکیت تھیں بغیر کسی استثناء کے تو پگڑی کا حق بھی اس مصالحت میں داخل ہے۔
       
      س ١٦76: کسی شخص نے ایک جگہ اس شرط کے ساتھ کرایہ پر لی ہے کہ جب مالک مطالبہ کریگا تواسے خالی کردیگا ۔کرایہ کی مدت تمام ہونے کے بعد جب مالک نے خالی کرنے کا مطالبہ کیا تو کرایہ دار اس سے پگڑی کے حق کا مطالبہ کرتاہے کیا مالک پر واجب ہے اسے پگڑی کا حق ادا کرے؟
      ج: مسئلہ میں مفروض یہ ہے کہ معاملہ میں یہ شرط تھی کہ جب مالک اسکے خالی کرنے کا مطالبہ کریگا تو کرایہ دار اسے خالی کردیگا اور بظاہر پگڑی کا حق مالک سے کرایہ دار کی طرف منتقل نہیں ہوا تھا لہذا کرایہ دار کو کسی چیز کے مطالبہ کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ جمہوری اسلامی کے قانون کے مطابق اسکے لئے کوئی حق ہو۔
       
      س ١٦77:جوجگہ میں نے کرایہ پر دی ہے اسکی پگڑی کا حق میں نے معین قیمت کے ساتھ کرایہ دار کو فروخت کردیا جس کے عوض میں اس نے مجھے ایک چیک دیا۔ لیکن بینک میں اسکے اکاونٹ میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں وہ رقم وصول نہ کرسکا اور مذکورہ جگہ ابھی بھی کرایہ دار کے ہاتھ میں ہے ،اسکے باوجود کہ میں نے ابھی تک پگڑی کی رقم اس سے نہیں لی ہے وہ پگڑی کی ملکیت کا دعویٰ کرتاہے کیا اس جگہ کی پگڑی اس سے متعلق ہے یا یہ کہ اس سے رقم وصول نہ ہونے کی وجہ سے پگڑی پر ہونے والا معاملہ باطل ہے؟
      ج: پگڑی کا معاملہ صحیح صورت میں انجام پانے کے بعد، صرف اکاؤنٹ میں اس رقم کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے جو پگڑی کے عوض میں تھی یہ معاملہ باطل نہیں ہوگا اور پگڑی کاحق خریدار کاہے اور پگڑی کا بیچنے والا کہ جس نے اس جگہ کوبھی کرائے پر دیا ہے حق رکھتا ہے کہ اس سے چیک کی رقم کا مطالبہ کرے۔
       
      س ١٦٧8 : دوکان خالی کرتے وقت اگرکرایہ دار پگڑی کے عوض کے مطالبے کا حق رکھتا ہو لیکن عرفی اور قانونی طور پر جو چیز رائج ہے اسکے برخلاف اگر مالک اسے ادا کرنے سے انکار کرے تو کیا جب تک مالک پگڑی کے پیسے ادا نہ کرے کرایہ دار اسکی مرضی کے بغیر اس ملک میں رہ سکتاہے ؟اور اگر کرایہ دار کا وہاں رہنا جائز نہ ہو اور غصب شمار ہوتا ہوتو کیا وہ آمدنی جو کرایہ دار کووہاں سے حاصل ہورہی ہے شرعی طور پر اس کیلئے حلال ہے؟
      ج: اگر دوکان کا خالی کرنا کرایہ دار کو پگڑی کے پیسے ادا کرنے سے مشروط نہ ہو تو دوکان خالی کرتے وقت محض پگڑی کے پیسوں کے مطالبے کا حق رکھنا معاملہ کی مدت ختم ہونے کے بعد وہاں رہنے کا جواز نہیں بن سکتا البتہ اس دوکان میں کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی شرعی طور پر حلال ہے۔
       
      س ١٦٧9: کسی شخص نے معین رقم کے ساتھ ایک دوکان کرایہ پر لی اورکچھ رقم پگڑی کے عنوان سے بھی ادا کی پھر مالک نے کرایہ بڑھانا شروع کردیا یہاں تک کہ کرایہ کی رقم پہلی رقم کے مقابلے میں دوگنا ہوگئی ہے اور اب کرایہ دار یہ چاہتاہے کہ پگڑی کی قیمت میں کچھ اضافہ کرکے دوکان کسی دوسرے کرایہ دار کے حوالے کردے لیکن مالک پندرہ فیصد پگڑی کا مطالبہ کرتاہے ۔ اور ماہانہ کرایہ بھی دس گنا بڑھانا چاہتاہے جبکہ پڑوس کی دوکانوں کا کرایہ اس سے کم ہے کیا مالک کو قانونی اور شرعی طور پر یہ حق ہے کہ وہ مذکورہ فیصد کا مطالبہ کرے اور کرایہ کی اتنی زیادہ قیمت بڑھادے؟
      ج: اگر دوکان کی پگڑی کرایہ دار کی ہو اور وہ مجاز ہو کہ جسے چاہے پگڑی کا حق منتقل کردے تو مالک کو حق نہیں ہے کہ اس رقم میں سے کہ جسے کرایہ دار نے بطور پگڑی لیا ہے کسی چیز کا مطالبہ کرے لیکن دوکان کے کرایہ کی تعیین معاملہ کرتے وقت مالک اور کرایہ دار کی باہمی رضامندی پر منحصر ہے۔
       
      س ١٦80: اگر کوئی شخص دوکان کرایہ پر لے اور اسکے ماہانہ کرایہ کے علاوہ کچھ رقم پگڑی کے عنوان سے ادا کرے اور یہ شرط لگائے کہ دوکان خالی کرتے وقت مالک پگڑی کی موجودہ قیمت ادا کرے ورنہ کرایہ دار کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اس جگہ کی پگڑی کسی دوسرے شخص کو بیچ دے اور اس جگہ کو اسکے لئے خالی کردے ۔ کیا یہ شرط صحیح ہے ۔ اور کیا مالک پر واجب ہے کہ کرایہ دارکو اسکی موجودہ قیمت ادا کرکے یا وہ جگہ کسی دوسرے کو تحویل دینے پر راضی ہو کراس شرط کو پورا کرے؟
      ج: کرائے کا معاملہ کرتے وقت اسکے ضمن میں اس قسم کی شرط رکھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور مالک پر واجب ہے کہ وہ اس پر عمل کرے اور اگر وہ کرایہ دار سے پگڑی خریدنے پر رضامند نہ ہو تو کسی دوسرے کو فروخت کرنے اور مذکورہ جگہ اسکی تحویل میں دینے پر اسے اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
       
      س ١٦81: میں نے ایک گھر خریدا ہے کہ جسکی تجارتی دوکان کسی دوسرے شخص نے کرایہ پر لے رکھی ہے۔ اور مالک نے اسکی پگڑی کرایہ دار کو فروخت کر رکھی ہے اور مذکورہ کرایہ دار نے بھی اپنا حق کسی دوسرے شخص کو بیچ رکھاہے اب آخری کرایہ دار کے کرائے کی مدت تمام ہونے کی صورت میں اگر میں اس سے دوکان خالی کرنے کا مطالبہ کروں تو کیا پگڑی کی رقم اسے میں ادا کروں یا سابقہ مالک یا سابقہ کرایہ دار کہ جنہوں نے پگڑی کی رقم لے رکھی ہے وہ ادا کریں؟
      ج: آخری کرایہ دار جب دوکان کی پگڑی کا شرعی طور پر مالک ہوجائے تو اسکے بعد جو شخص اس سے پگڑی خریدنا چاہتاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ پگڑی کی قیمت ادا کرے۔
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /