ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
    • اوّل: احرام
      • عمرۂ تمتع کے احرام کے میقات
      • واجبات احرام
        • اوّل: احرام کے دو جامے پہننا
          پرنٹ  ;  PDF
           
          اوّل: احرام کے دو جامے پہننا

           

          مسئلہ164۔ مردوں کو چاہیے کہ احرام کے لیے سلے ہوئے تمام کپڑے، بشمول انڈرویئر اتاردے اور  سلے  بغیردو  کپڑے پہنے ایک کو لنگی کی طرح کمر پر باندھے اور دوسرے کو کندھے پر ڈالے۔
          مسئلہ  165۔  احتیاط واجب کی بناپر کہ یہ دو نوں کپڑے احرام کی نیت اور تلبیہ سے پہلے پہننا چاہئے۔
          مسئلہ  166۔  دو جامہ احرام پہننا صرف مردوں کے لیے واجب ہے۔ عورتیں اپنے عام لباس میں ہو سکتی ہیں بشرطیکہ وہ خالص ریشم کا نہ ہو اور نماز کے کپڑوں کے شرائط پر پورا اترتا ہو۔
          مسئلہ  167۔ لازم نہیں کہ لنگی ناف سے گھٹنے تک مکمل طور پر ڈھانپے بلکہ جہاں تک عام طور پر لنگی سمجھی جائےتو کافی ہے۔
          مسئلہ  168۔  لنگی کا گردن سے گِرہ باندھنا جائز نہیں لیکن اسکو   پِن یا کلپ وغیرہ  لگانے یا لنگی کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے گِرہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک لنگی کے عنوان سے خارج نہ ہوجائے۔ اور اسی طرح اگر ردا  کو پن یا کلپ سے گرہ باندھنا یا اس کے دونوں اطراف میں کنکریاں باندھنا یا اسے دھاگے سے متعارف صورت میں باندھنا،  جب تک ردا صدق کرے،  جائز ہے۔
          مسئلہ  169۔  لباس احرام پہننے میں احتیاط واجب کی بناپر قصد قربت ہونا لازم ہے۔
          مسئلہ  170۔  جس لباس میں محرم ہونا چاہے اس میں نماز ی کے لباس کے تمام شرائط ہونے چاہئیں پس نجس نہ ہو (مگر خون کی اتنی مقدار ہو جو نمازی کے لباس میں جائز ہے)، غصبی نہ ہو،حرام گوشت حیوان یا مردار کے اجزاء سے نہ بنا ہواور خالص ریشم نہ ہو۔
          مسئلہ  171۔ لازم ہے کہ  لنگی نازک اور بدن نما نہ ہو، لیکن رداءمیں بدن نظر آئے تو کوئی اشکال نہیں ہے بشرطیکہ اس کو رداء کہا جائے۔
          مسئلہ  172۔ لازم نہیں احرام کا لباس بُنا ہوا یا  کاٹن یا اُون و غیرہ کا ہو بلکہ چمڑے ،  پلاسٹک یا نمدے کا ہو اور اس کو لباس کہا جائے اور اس کا پہننا متعارف ہو تو کافی ہے۔
          مسئلہ  173۔  اگر جانتے ہوئے اور عمدا احرام کے وقت سلے ہوئے کپڑے نہ اتارے، تو احرام کا صحیح ہونا اشکال سے خالی نہیں اور احتیاط واجب یہ ہے کہ کپڑے اتارنے کے بعد میقات میں  نیت اور تلبیہ دوبارہ تکرار کرے۔
          مسئلہ  174۔  اگر سردی یا دیگر وجوہات کی بناپر سلے ہوئے کپڑے پہننا ضروری ہو تو عام لباس مثلا پیراہن استعمال کرسکتے ہیں البتہ  انہیں پہننے کی بجائے اُلٹا کرکے (اوپر سے نیچے یا الٹا کرکے)خود پر  ڈالے۔
          مسئلہ  175۔ احرام باندھنے والا سردی وغیرہ سے بچنے کے لیے دو سے زیادہ کپڑے بھی پہن سکتا ہے، مثلاً ایک سے زائد کپڑے کندھے یا کمر پر ڈال سکتا ہے۔
          مسئلہ  176۔  غسل کرنے، نہانے یا کپڑےوغیرہ  بدلنے کے لیے  احرام کا لباس  اتارسکتے ہیں۔
          مسئلہ  177۔  اگر احرام کا لباس نجس ہو جائے تو احتیاط واجب کی بناپر اسے دھونا یا بدلنا چاہئے۔
          مسئلہ  178۔ حدث اصغر اور اکبر سے پاک ہونا احرام صحیح ہونے کی شرط نہیں ہےبنا براین  جنابت یا حیض کی حالت میں احرام باندھنے میں کوئی اشکال نہیں ۔
        • دوم ۔  نیت
        • سوم ۔  لبّیک کہنا
        • احرام کے استفتائات
      • مستحبّات احرام
      • مکروهات احرام
      • محرّمات احرام
      • مکّۂ مکرمہ کے آداب اور مستحبات
    • دوم طواف
    • سوّم: نمازِ طواف
    • چوتھا: سعی
    • پنجم: تقصیر
    • عمرۂ تمتّع اور حجّ تمتّع کے مشترکہ احکام
    • آٹھواں: منی میں رات گزارنا
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /