ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
    • اوّل: احرام
      • عمرۂ تمتع کے احرام کے میقات
      • واجبات احرام
        • اوّل: احرام کے دو جامے پہننا
        • دوم ۔  نیت
        • سوم ۔  لبّیک کہنا
          پرنٹ  ;  PDF
           
          سوم ۔  لبّیک کہنا

           

          مسئلہ 187ـ  احرام میں تلبیہ نماز میں تکبیرة الاحرام کی مانند ہے،  جب انسان مکمل تلبیہ کہہ دے تو مُحرِم ہوجاتا ہےاور عمرہ تمتع کے اعمال شروع کرتا ہے۔تلبیہ حقیقت میں اللہ تعالی  کی دعوت قبول کرنے کے مترادف ہے  جس نے مکلفین کو حج کی دعوت دی ہے اسی لئے مناسب ہے کہ تلبیہ کو  پورے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
          مسئلہ 188ـ تلبیہ کی واجب مقدار یہ جملے ہیں: «لَبّیکَ اللّهُمَّ لَبّیک، لَبّیکَ لا شریکَ لکَ لَبّیک»
          اوراحتیاط مستحب ہے اس کے بعد کہے: «إنّ الحمدَ و النِّعمَةَ لَکَ و المُلک لا شریکَ لَکَ لَبَّیک»
          اور مستحب ہے کہ معتبر روایات میں آنے والے ان جملوں  کو حضور قلب اور خشوع کے ساتھ اضافہ کرے:  «لَبَّیکَ ذَا الْمَعارِجِ لَبَّیکَ، لَبَّیْکَ داعِیاً إِلی دارالسَّلامِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ غَفّارَ الذُّنُوبِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ أَهْلَ التَّلْبِیَةِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ ذَا الْجَلالِ وَالاِکْرامِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ تُبْدِئُ وَ الْمَعادُ إِلَیْکَ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ تَسْتَغْنِی و یُفْتَقَرُ إِلَیْکَ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ مَرْهُوباً وَ مَرْغُوباً إلَیْکَ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ إِلهَ الْحَقِّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ ذَا النَّعْماءِ وَالفَضْلِ الْحَسَنِ الْجَمِیلِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ کَشّافَ الْکُرَبِ الْعِظامِ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ عبدُکَ وَابْنُ عَبْدَیْکَ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ یا کَرِیمُ لَبَّیْکَ»
          مسئلہ  189 ـ احرام کے آغاز سے مکہ پہنچنے تک بار بار لبیک کہنا مستحب ہے۔
          مسئلہ  190ـ لبیک کی واجب مقدار کو صحیح تلفظ کرنا لازم ہے؛ اگر نہیں آتا تو سیکھے یا کوئی ہر کلمے کو ادا کرے اور وہ اس کو صحیح طریقے سے دہرائے۔ اگر ان میں سے کچھ بھی ممکن نہ ہو تو ہر ممکن طریقے سے تلفظ کرے اور احتیاط واجب کی بناپر  کسی کو نائب بھی بنائے جو اس کے بدلے صحیح طرح سے ادا کرے۔
          مسئلہ  191ـ اگر کوئی جان بوجھ کر لبیک نہ کہے تو گویا اس نے میقات پر احرام ترک کر دیا ہے۔[1]
          مسئلہ  192۔ اگرکوئی  بغیر عذر کے صحیح لبیک نہ کہے تو اس کا حکم اس شخص جیسا ہے جس نے جان بوجھ کر تلبیہ  ترک کردیا۔
          مسئلہ  193ـ جو شخص عمرہ تمتع کے لئے محرم ہوا ہے اس کو چاہئے کہ مکہ مکرمہ کے گھروں کو دیکھتے ہی  لبیک نہیں کہنا چاہئے اور واجب ہے کہ لبیک کہنا بند کرے۔ مکہ کے گھروں سے مراد احتیاط واجب کی بناپر وہ مکانات ہیں جو آج مکہ کا حصہ ہیں اگرچہ تازہ اور حال ہی میں تعمیر کیے گئے ہوں۔
          مسئلہ  194 ـ  حج تمتع ،  عمرہ تمتع ،  حج اِفراد اور عمرہ مفردہ کا احرام صرف تلبیہ سے  ہوتا ہے لیکن حج قِران کا احرام تلبیہ کے ساتھ بھی محقق ہو سکتا ہے اور اِشعار اور تقلید[2] کے ساتھ بھی،   اِشعار اونٹ کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ تقلید،  قربانی کے سارے جانوروں پر صدق آتی ہے۔
           

          [1]  جس کا حکم مسئلہ 148 اور 152 میں بیان کیا گیا ہے۔
          [2]  اشعار کا مطلب یہ ہے کہ  اونٹ کی کوہان کو زخمی یا خون آلود کرے تاکہ قربانی کا جانور ہونا معلوم ہوجائے۔ اور تقلیدکا مطلب یہ ہے کہ جوتے یا کسی دھاگے کو جانور کی گردن میں لٹکا دے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔
        • احرام کے استفتائات
      • مستحبّات احرام
      • مکروهات احرام
      • محرّمات احرام
      • مکّۂ مکرمہ کے آداب اور مستحبات
    • دوم طواف
    • سوّم: نمازِ طواف
    • چوتھا: سعی
    • پنجم: تقصیر
    • عمرۂ تمتّع اور حجّ تمتّع کے مشترکہ احکام
    • آٹھواں: منی میں رات گزارنا
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /