ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
    • احتیاط، اجتہاد اور تقلید
    • تقلید کے شرائط
    • اجتھاد و اعلمیت کااثبات اور فتویٰ حاصل کرنے کے طریقے
      پرنٹ  ;  PDF
       
      اجتہاد اور اعلمیت کے اثبات نیز فتاویٰ حاصل کرنے کے طریقے
       
      س٢٤: دو عادل افراد کی گواہی کے ذریعے کسی مجتہد کی صلاحیتِ مرجعیت ثابت ہوجانے کے بعد آیا اس سلسلے میں دیگر افراد سے تحقیق کرنا بھی ضروری ہے ؟
      ج: تقلید کے جواز کیلئے ایسے دو افراد کی گواہی کافی ہے جو عادل اور صلاحیتِ مرجعیت کے سلسلے میں باخبر ہوں اور کسی دوسرے سے مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہے ۔
       
      س٢٥: مرجع کے انتخاب اورا سکے فتاویٰ حاصل کرنے کے طریقے کیا ہیں ؟
      ج: مرجع تقلید کے اجتہاد اور اسکی اعلمیت کو مندرجہ ذیل طریقوں سے معلوم کیا جاسکتاہے۔
      خود اسکی آزمائش کے ذریعے
      یا انکا یقین حاصل کرلینے کے ساتھ اگر چہ یہ یقین ایسی شہرت سے حاصل ہوجو مفید یقین ہے
      یا انکا اطمینان حاصل کرلینے کے ذریعے
      یا دو باخبر اور عادل افراد کی گواہی کے ذریعے
      اور فتاویٰ کو مندرجہ ذیل طریقوں سے حاصل کیا جاسکتاہے۔
      1) خود مجتہد سے سنے
      ٢) دو یا ایک عادل شخص سے سنے
      ٣) ایک قابل اطمینان شخص سے سنے
      ٤) مجتہدکی مسائل والی کتاب میں دیکھ لے بشرطیکہ اغلاط سے محفوظ ہو
       
      س٢٦:کیا مرجع کے انتخاب کیلئے کسی کو وکیل بنایا جاسکتاہے جیسے بیٹا باپ کو یا شاگرد استاد کو وکیل بنادے ؟
      ج: اگر وکالت سے مراد جامع الشرائط مجتہد کے بارے میں تحقیق اور جستجو کو باپ، استاد یا مربی و غیرہ کے سپرد کرنا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انکے قول سے یقین یا اطمینان حاصل ہوجائے یا اس میں گواہی دینے کے شرائط موجود ہوں تو شرعی لحاظ سے انکا قول قابل اعتبار ہے ۔
       
      س٢٧: میں نے کئی مجتہدین سے اعلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا فلاں شخص کی طرف رجوع کرنے سے انسان بری الذمہ ہے تو کیا میں ان کی بات پر اعتماد کرسکتا ہوں جبکہ خود مجھے اس شخص کی اعلمیت کے بارے میں معلوم نہیں ہے یا مجھے اس بارے میں شک ہے یا اسکے اعلم نہ ہونے کا اطمینان ہے کیونکہ ایسے دیگر افراد بھی موجود ہیں جنکی اعلمیت کے بارے میں ایسی ہی شہادت موجود ہے۔
      ج: اگر کسی جامع الشرائط مجتہد کی اعلمیت پر شرعی شہادت قائم ہوجائے تو وہ اس وقت تک قابل اعتبار ہے جب تک اسکے مخالف کوئی دوسری شرعی شہادت نہ آجائے اگر چہ اس سے یقین یا اطمینان حاصل نہ بھی ہو اور اس شرعی شہادت کے مخالف کسی اور شرعی شہادت کے بارے میں جستجو اور اسکے عدم وجود کا علم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔
       
      س٢٨: جس شخص کے پاس فتاویٰ بیان کرنے کیلئے مجتہد کی اجازت نہیں ہے اور بعض مقامات پر احکام کے بیان کرنے اور فتاویٰ کے نقل کرنے میں غلطی کا بھی مرتکب ہوا ہو کیا ایسا شخص فتاویٰ اور احکام شرعی کے بیان کرنے کی ذمہ داری اٹھا سکتاہے ؟ نیز اگر یہ شخص توضیح المسائل سے احکام کو بیان کرے تو ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟
      ج: مجتہد کا فتویٰ نقل کرنے اور شرعی احکام بیان کرنے کے لئے اجازت شرط نہیں ہے لیکن جو شخص خطا کا مرتکب ہوتاہے اس کے لئے مسائل کو بیان کرنے کی ذمہ داری اٹھانا جائز نہیں ہے اور اگر کسی مسئلہ کے بیان کرنے میں اس سے غلطی ہوجائے اور بعد میں اسے پتا چل جائے تو اس پر واجب ہے کہ سننے والے کو اس غلطی سے آگاہ کرے بہر حال سننے والے کے لیے ، مسئلہ بیان کرنے والے کی بات پر اس وقت تک عمل کرنا جائز نہیں ہے جب تک اسے اس کے قول کی صحت کا اطمینان حاصل نہ ہوجائے۔
    • تقلید بدلنا
    • میت کی تقلیدپر باقی رھنا
    • تقلید کے متفرقہ مسائل
    • مرجعیت و راہبری
    • ولایت فقیہ اور حکم حاکم
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /