ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
    • حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے احکام
    • بیماری اور ڈاکٹر کی طرف سے ممانعت
    • مبطلات روزہ
    • حالت جنابت پر باقی ر ھنا
    • استمناء
    • روزے کو باطل کرنے والی چیزوں کے احکام
    • روزہ کا کفارہ اور اس کی مقدار
      پرنٹ  ;  PDF
       
      روزے کا کفارہ اور اس کی مقدار
       
      س ۸۰۱: کیا فقیر کو ایک مُد طعام کی قیمت دے دینا کافی ہے کہ جس سے وہ اپنے لئے غذا خریدے؟
      ج: اگر اسے اطمینان ہو کہ فقیر اس کی طرف سے وکیل بن کر اس مال سے کھانا خریدے گا اور پھر خود اس کو کفارہ کے عنوان سے قبول کرے گا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
       
      س۸۰۲: اگر کوئی شخص چند مسکینوں کو کھانا کھلانے کیلئے وکیل ہو تو کیا وہ مال کفارہ میں سے پکانے کی مزدوری اور کام کرنے کی اجرت لے سکتاہے؟
      ج: کام کرنے اورپکانے کی اجرت کا مطالبہ کرنا اس کے لئے جائز ہے، لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ ا سے مال کفارہ کی بابت حساب کرے یا اس مال سے لے جو کفارہ کے طور پر فقرا کو دینا ہے۔
       
      س۸۰۳: ایک خاتون حاملہ ہونے اور زمانہ ولادت کے قریب ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہیں تھی اور وہ یہ مسئلہ جانتی تھی کہ ولادت کے بعد آنے والے ماہ رمضان سے پہلے قضا کرنا واجب ہے، لیکن اگر وہ چند برسوں تک جان بوجھ کر یا عمد کے بغیر قضا بجا نہ لائی ہو تو کیا اس پر صرف اسی سال کاکفارہ واجب ہے یا جتنے سال اس نے روزے رکھنے میں تاخیرکی ہے، ان سب کا کفارہ دینا واجب ہے؟
      ج: ماہ رمضان کے قضا روزوں کی تاخیر چاہے جتنے سال کی ہو اس کا فدیہ صرف ایک مرتبہ واجب ہے اور فدیہ سے مراد ہر روزے کے بدلے ایک مُد طعام دینا ہے۔ اور یہ بھی اس وقت ہے جب آنے والے ماہ رمضان تک قضا نہ کرنا سستی کی وجہ سے اور عذر شرعی کے بغیر ہو، لیکن اگر تاخیر ایسے شرعی عذر کی وجہ سے ہو جو روزہ کے صحیح ہونے سے مانع ہے تو فدیہ نہیں ہے۔
       
      س۸۰۴: ایک خاتون بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکی اور آنے والے ماہ رمضان تک قضا بھی نہیں کر سکتی تو ایسی حالت میں کیا خود مریضہ پر کفارہ واجب ہے یا اس کے شوہر پر؟
      ج: اگر ماہ رمضان میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکی اور قضا میں تاخیر بھی اسی بیماری کے تسلسل کی وجہ سے ہوئی تو ہر دن کے بدلے ایک مُد طعام خود مریضہ پر واجب ہے۔ اس کے شوہر پر کچھ واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨٠۵: ایک شخص کے دس روزے رہتے ہیں اس نے شعبان کی بیسویں سے روزے رکھنا شروع کیے، کیا یہ شخص زوال سے قبل یا زوال کے بعدجان بوجھ کر افطار کر سکتا ہے؟ اور اگر وہ زوال سے پہلے یا اس کے بعد افطار کر لے تو مقدار کفارہ کیا ہوگی؟
      ج: مذکورہ صورت میں اس کے لئے جان بوجھ کرافطار کرنا جائز نہیں ہے اور اگر زوال سے پہلے عمداً افطار کرے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ لیکن زوال کے بعد افطار کرنے پر کفارہ میں دس فقیروں کو کھانا کھلانا ہو گا اور اگر اس پر قادر نہ ہو تو اس پر تین روزے واجب ہوں گے۔
       
      س ٨٠۶: ایک عورت دو سال پے در پے ماہ رمضان میں حاملہ تھی جس کی وجہ سے وہ دونوں سال روزے نہیں رکھ سکی، لیکن اب وہ روزہ رکھنے پر قادر ہے، اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ نیزکیا اس پر دوہرا کفارہ واجب ہے یا صرف قضا واجب ہے اور روزے رکھنے میں اس نے جو تاخیر کی ہے اس کا حکم کیا ہے؟
      ج: جس حاملہ عورت کا وضع حمل نزدیک ہو چنانچہ روزہ رکھنے سے بچے یا ماں کے لئے ضرر کا خوف ہوتو اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور پہلی صورت (بچے کے لئے مضر ہونے کی صورت) میں ہر دن کے لئے ایک مد کھانا یعنی گندم یا جو وغیرہ فدیہ کے طور پر فقیر کو دینا ضروری ہے اور ماہ رمضان کے بعد اس کی قضا بھی بجالائے اور دوسری صورت میں یعنی اگر روزہ ماں کے لئے مضر ہو تو قضا ہونے والے روزوں کی قضا کرے اور احتیاط کی بناپر فدیہ بھی دے۔ جس عورت کا وضع حمل نزدیک نہ ہو اس کے بارے میں فدیہ ادا کرنے کا حکم احتیاط واجب پر مبنی ہے۔
      اور اگر  دودھ پلانے والی عورت  (ماں ہو یا دایہ، اجرت کے ساتھ پلائے یا بغیر اجرت کے)    کو دودھ کم ہونے یا خشک ہونے   کا خوف ہو اور  ڈرتی ہو کہ روزہ  رکھنا بچے کے لئے مضر ہوگا تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ ہر دن کے لئے فدیہ ادا کرے اور بعد میں روزے کی قضا بھی بجالائے لیکن اگر روزہ رکھنا خود عورت کے لئے مضر ہو تو احتیاط کی بناپر فدیہ واجب ہے۔
      مذکورہ دونوں مسائل میں اگر آئندہ سال تک روزہ نہ رکھے چنانچہ کوتاہی کی ہو تو قضا کے علاوہ تاخیر کا کفارہ بھی واجب ہے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے قضا بجا نہ لائے  تو تاخیر کا کفارہ نہیں ہوگا، چنانچہ مذکورہ عذر بچے کے لئے ضرر کے خوف کی  صورت میں ہوتو جب بھی ممکن ہو روزوں کی قضا رکھنا ضروری ہے اور اگر عذر ماں کے لئے ضرر  کے خوف کی صورت میں ہو تو قضا ساقط ہے اور ہر دن کے لئے ایک مد کھانا دینا ضروری ہے۔
       
      س ٨٠۷: کیا روزوں کے کفارے میں قضا اور کفارہ کے درمیان ترتیب واجب ہے؟
      ج: واجب نہیں ہے۔
    • روزوں کی قضا
    • روزہ کے متفرق احکام
    • رؤیت ہلال
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /