ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
    • حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے احکام
    • بیماری اور ڈاکٹر کی طرف سے ممانعت
    • مبطلات روزہ
    • حالت جنابت پر باقی ر ھنا
    • استمناء
    • روزے کو باطل کرنے والی چیزوں کے احکام
    • روزہ کا کفارہ اور اس کی مقدار
    • روزوں کی قضا
      پرنٹ  ;  PDF
       
      روزوں کی قضا
       
      س ٨٠۸: دینی ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے ماہ مبارک رمضان میں سفر کے سبب میرے ذمہ ١٨ دن کے روزے ہیں، تو میری شرعی ذمہ داری کیا ہے کیا مجھ پر قضا واجب ہے؟
      ج: سفر کی وجہ سے ماہ رمضان کے جو روزے چھوٹے ہیں انکی قضا آپ پر واجب ہے۔
       
      س ٨٠۹: اجرت پر ماہ رمضان کے قضا روزے رکھنے والا اگر زوال کے بعد افطار کرے تو کیا اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟
      ج: اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨۱۰: جن افراد نے مذہبی ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے ماہ رمضان میں سفر کیا ہو اور اس وجہ سے روزے نہ رکھے ہوں اور اب کئی برس گزرنے کے بعداگر روزے رکھنا چاہیں تو کیا قضا کے ساتھ ساتھ ان پر کفارہ بھی واجب ہے؟
      ج: اگرروزے سے مانع عذر کے مستمر رہنے کی وجہ سے دوسرے ماہ رمضان تک روزے نہ رکھ سکے ہوں تو ان کے لئے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہی کافی ہے اور ہر روزے کے لئے ایک مُد طعام دینا واجب نہیں ہے، اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ روزے بھی رکھیں اور ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام بھی دیں، لیکن اگر بغیر عذر کے سستی کی وجہ سے تاخیر کی ہو تو ایسی صورت میں ان پر قضا اور فدیہ دونوں واجب ہیں۔
       
      س ٨۱۱: ایک شخص نے جہالت کی وجہ سے دس سال نمازیں نہیں پڑھیں اور روزے نہیں رکھے۔ اب اس نے توبہ کی ہے اور اللہ کی طرف پلٹ آیا ہے اور ان روزوں اور نمازوں کی قضا کا ارادہ کر لیا ہے، لیکن فی الحال وہ تمام روزوں کی قضا پر قدرت نہیں رکھتا اور نہ ہی کفارہ کیلئے اس کے پاس مال موجود ہے تو کیا ایسی صورت میں وہ صرف استغفار پر اکتفاء کر سکتا ہے؟
      ج: چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا بہر حال معاف نہیں ہے، لیکن ماہ رمضان کے روزوں کو جان بوجھ کر چھوڑنے کے کفارے میں اگر وہ ہر دن کے بدلے دو ماہ کے روزے نہ رکھ سکتا ہو اور نہ ہی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر قادر ہو تو اس پر واجب ہے جتنے مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے کھلائے اور احتیاط یہ ہے کہ استغفار بھی کرے اور اگر فقرا کو بالکل کھانا نہیں کھلا سکتا تو استغفار ہی کافی ہے یعنی دل و زبان سے کہے" استفغر اللہ"(خدا سے بخشش چاہتا ہوں)۔
       
      س ٨۱۲: مالی اور جسمانی طور پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو میں اپنے پر واجب کفاروں کی ادائیگی کیلئے روزے رکھ سکا ہوں اور نہ ہی مساکین کو کھانا کھلا سکا ہوں چنانچہ میں نے صرف استغفار کیا ہے لیکن اب میں خدا کے فضل و کرم سے روزہ بھی رکھ سکتا ہوں اور مساکین کو کھانا بھی کھلا سکتا ہوں ۔ اب میرا فریضہ کیا ہے؟
      ج: مفروضہ صورت میں کفارہ دینا ضروری نہیں ہے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دیا جائے۔
       
      س ٨۱۳: اگر کوئی شخص اس بات سے جاہل ہونے کی وجہ سے کہ آنے والے ماہ رمضان تک روزوں کی قضا بجالانا ضروری ہے روزوں کی قضا کو مؤخر کردے تو اس کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
      ج: آنے والے ماہ رمضان سے پہلے وجوبِ قضا کا علم نہ ہونے کی وجہ سے تاخیرِ قضا کا فدیہ معاف نہیں ہو گا۔
       
      س ٨۱۴: ایک شخص نے ١٢٠ دن روزے نہیں رکھے تو اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا اسے ہر روزے کے بدلے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے یا نہیں اور کیا اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟
      ج: ماہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا اس پر واجب ہے اور اگر عذر شرعی کے بغیرجان بوجھ کر چھوڑے ہوں تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے اور ہر روزے کا کفارہ ساٹھ دن روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اور یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک مُد طعام دینا ہے۔
       
      س ٨١۵: میں نے تقریباً ایک ماہ اس نیت سے روزے رکھے کہ اگر میرے ذمہ کچھ روزے ہیں تو یہ ان کی قضا ہے ورنہ صرف خدا کی قربت کیلئے ہیں توکیا یہ ایک مہینہ ان قضا روزوں میں حساب ہوگا جو میرے ذمہ ہیں؟
      ج: اگر آپ کی نیت یہ رہی ہو کہ جو روزے اس وقت میرے ذمہ واجب یا سنت کے عنوان سے ہیں، میں ان کو ادا کر رہا ہوں اور آپ کے ذمہ روزوں کی قضا بھی باقی تھی تو یہ قضا کے روزے شمار ہو جائیں گے۔
       
      س ٨١۶: اگر کسی کو اپنے قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور اس فرض کے ساتھ کہ اس کے ذمے قضا روزے ہیں مستحب روزہ رکھے تو اگر اس نے اس خیال سے مستحب روزہ رکھا ہو کہ اس کے ذمے قضاروزہ نہیں ہے تو کیا یہ روزہ اس کے روزے کی قضا شمار ہو گا؟
      ج: مستحب کی نیت سے رکھا جانے والا روزہ قضا روزہ شمار نہیں ہو گا۔
       
      س ٨١۷: اگر کوئی شخص مسئلہ سے واقف نہ ہونے کی بنا پر جان بوجھ کر روزہ باطل کرنے والا کام انجام دے تو کیا اس پر صرف قضا واجب ہے یاکفارہ بھی واجب ہے؟
      ج: اگر شرعی حکم سے لاعلمی کی وجہ سے ایسا کام انجام دے جو روزے کو باطل کردیتاہے ۔ جیسے اگرنہ جانتا ہو کہ دو ا کھانا کھانے کی دیگر چیزوں کی مانند روزے کو باطل کردیتاہے اور ماہ رمضان کے دن میں دوا کھالے ۔ تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس کی قضا ضروری ہے لیکن کفارہ واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨١۸: اگر کوئی شخص ابتدائے بلوغ میں ضعف و ناتوانی کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو کیا اس پر صرف قضا واجب ہے یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟
      ج: اگر روزہ اس کیلئے حرج کا باعث نہ تھا اور اس کے باوجود اس نے جان بوجھ کر روزہ ترک کیا تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے لیکن اگر اسے خوف تھا کہ روزہ رکھنے سے بیمار ہو جائے گا تو صرف روزوں کی قضا واجب ہے۔
       
      س ٨١۹: جس شخص کو اپنے چھوٹے ہوئے روزوں اور نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ اور جو شخص نہیں چاہتا کہ اس نے شرعی عذر کی وجہ سے روزے چھوڑے تھے یا جان بوجھ کر ترک کئے تھے تو اس شخص کا فریضہ کیا ہے؟
      ج: جتنے روزوں اور نمازوں کے چھوٹنے کا اسے یقین ہے صرف انہیں کی قضا کرنے پر اکتفا کرسکتا ہے اور اگر جان بوجھ کر ترک کرنے کے بارے میں شک ہو تو کفارۂ واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨۲۰: اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں روزے رکھتا ہو، لیکن کسی روز سحر میں کھانے کیلئے نہ اٹھ سکے جس کی وجہ سے وہ مغرب تک روزہ پورا نہ کر سکے اور دن میں اسے کوئی حادثہ پیش آجائے اور وہ افطار کر لے تو کیا اس شخص پر ایک کفارہ واجب ہے یا کفارۂ جمع واجب ہے؟
      ج: اگر روزے کو اس وقت تک جاری رکھے کہ اس کے لئے بھوک پیاس و غیرہ کی وجہ سے حرج اور مشقت کا سبب بن جائے اور وہ افطار کر لے تو اس پر صرف قضا واجب ہے کفارہ نہیں۔
       
      س ٨۲۱: اگر مجھے شک ہو کہ اپنے قضا روزے رکھے ہیں یا نہیں تو میری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
      ج: اگر آپ کو سابق روزوں کی قضا کا یقین ہے تو اتنے روزوں کی قضا واجب ہے جن سے اپنے بری الزمہ ہو جانے کا یقین ہوجائے۔
       
      س ٨۲۲: اگر کسی شخص نے بلوغ کے ابتدائی سال میں گیارہ روزے رکھے ہوں اور ایک روزہ ظہر کے وقت توڑ دیا ہو اور اٹھارہ روزے چھوڑ دیئے ہوں اور ان اٹھارہ روزوں کے بارے میں یہ نہ جانتا ہو کہ جان بوجھ کر روزہ ترک کردینے سے کفارہ واجب ہوجاتا ہے، تو اب اس کا حکم کیا ہے؟
      ج: اگر ماہ رمضان کا روزہ اس نے جان بوجھ کر اور شرعی عذر کے بغیر ترک کیا ہو تو خواہ وہ روزہ ترک کرتے وقت کفارہ کے وجوب سے آگاہ تھا یا نہیں، قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔
       
      س ٨۲۳: اگر ڈاکٹر مریض سے کہے آپ کیلئے روزہ مضر ہے اور مریض روزہ نہ رکھے اور برسوں کے بعد معلوم ہو کہ روزہ اس کے لئے ضرر کا باعث نہ تھا اور ڈاکٹر کی تشخیص غلط تھی تو کیا اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے۔
      ج: اگر ماہر و امین ڈاکٹر کے کہنے یا کسی اور معقول وجہ سے خوف ضرر پیدا ہو گیا تھا اور اسلئے روزہ ترک کیا تھا تو صرف قضا واجب ہے۔
    • روزہ کے متفرق احکام
    • رؤیت ہلال
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /