ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • احکام طهارت
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • خمس کے احکام
      • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
      • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
      • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
      • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
      • اخراجات (موؤنہ)
        پرنٹ  ;  PDF
         
        اخراجات(مؤونہ)
         
        س900: اگر ایک شخص کے پاس ذاتی کتب خانہ ہو اور اس نے کچھ عرصہ ان کتابوں سے استفادہ کیا لیکن اب کئی سالوں سے ان سے استفادہ نہیں کر رہا لیکن یہ احتمال ہے کہ آئندہ وہ اس کتب خانہ سے فائدہ اٹھائے گا تو کیا جس مدت میں اس نے کتابوں سے استفادہ نہیں کیا اس پر ان کا خمس واجب ہے؟ اور کیا خمس واجب ہونے کی صورت میں اس میں کوئی فرق ہے کہ یہ کتابیں اس نے خود خریدی ہوں یا اس کے والد نے خریدی ہوں؟
        ج: جب وہ کتابیں خریدی گئی تھیں اگر اس وقت اسے مطالعہ اور استفادہ کیلئے انکی ضرورت تھی اور انکی مقدار عرف کی نظر میں اس شخص کی شان کے مناسب ہو تو ان میں خمس نہیں ہے حتی اگر پہلے سال کے بعد ان سے استفادہ نہ بھی کرے نیز اگر کتابیں اسے میراث میں ملی ہوں یا والدین اور دوسرے افراد نے اسے تحفہ کے طور پر دی ہوں تو بھی ان پر خمس نہیں ہے۔
         
        س901: وہ سونا جو شوہر اپنی بیوی کے لئے خریدتا ہے کیا اس پر خمس ہے؟
        ج: اگر وہ سونا عرف عام کی نظر میں معمول کے مطابق اور اس کی شان کے مناسب مقدار میں ہو تو اس میں خمس نہیں ہے اور وہ سال کے اخراجات میں سے شمار ہوگا۔
         
        س902: تہران میں لگنے والی کتابوں کی بین الاقوامی نمائش سے کتابیں خریدنے کیلئے جو رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے جبکہ ابھی تک کتابیں نہیں بھیجی گئیں کیا اس میں خمس ہے؟
        ج: اگر ان کتابوں کی ضرورت ہو اور انکی مقدار اس شخص کی معاشرتی حیثیت کے مناسب ہو تو اس صورت میں اس پر خمس نہیں ہے۔
         
        س903: اگر کسی شخص کے پاس اس کی حیثیت کے مناسب دوسری زمین ہو اور یہ اس کی ضرورت کے مطابق ہو کیونکہ وہ صاحبِ عیال ہے لیکن خمس کے سال کے آخر تک اس پر مکان نہ بنوا سکے یا ایک سال میں عمارت کی تعمیر مکمل نہ کرسکے تو کیا اس پر خمس واجب ہے؟
        ج: وہ زمین، جس کی مکان بنانے کیلئے انسان کو ضرورت ہے، اس پر خمس کے واجب نہ ہونے کے لحاظ سے فرق نہیں ہے کہ زمین کا ایک ٹکڑا ہو یا زیادہ یا ایک مکان ہو یا ایک سے زیادہ، بلکہ معیار عرف میں اس کی حیثیت کے مطابق ضرورت کا صادق آنا اوراسکی تدریجی تعمیرکیلئے شخص کی مالی حیثیت ہے۔
         
        س904: ایک شخص کے پاس گھر کے برتنوں کا سیٹ موجود ہے تو کیا ان میں سے بعض کا استعمال خمس کے واجب نہ ہونے کیلئے کافی ہے؟
        ج: گھر کے لوازمات میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ عرفی طور پر اس شخص کی شان اور حیثیت کے مطابق اس پر ضرورت کا عنوان صدق کرے اگرچہ پورا سال ان سے استفادہ نہ کرے۔
         
        س905: اگر اتفاقاً پورا سال فرش اور برتنوں سے استفادہ نہ کیا جائے لیکن مہمانوں کی ضیافت کیلئے ان کی ضرورت ہو تو کیا ان میں خمس واجب ہے؟
        ج: مفروضہ صورت میں ان میں خمس واجب نہیں ہے۔
         
        س906: دلہن جو جہیز شوہر کے گھر لے کرجاتی ہے اس کے بارے میں امام خمینی کے فتویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں: اگر کسی علاقے میں رواج یہ ہو کہ لڑکے والے سامان زندگی اور گھر کی ضروری چیزیں مہیا کرتے ہوں اور وہ ان چیزوں کو رفتہ رفتہ خریدیں، اگر ان پر ایک سال گزرجائے توکیا حکم ہے؟
        ج: اگر مستقبل کے لئے اسباب اور ضروریات زندگی کا مہیاکرنا عرف میں اخراجات میں سے شمار ہوتا ہو تو ان میں خمس نہیں ہے۔
         
        س907: جن کتابوں کا سیٹ کئی جلدوں پر مشتمل ہو (مثلا وسائل الشیعہ)تو کیا ایک جلد سے استفادہ کرنے سے پورے سیٹ سے خمس ساقط ہوجائے گایا مثال کے طور پر اس کی ہر جلد کے ایک صفحہ کا پڑھنا واجب ہے؟
        ج: اگر پورا سیٹ آپ کی ضرورت ہو یا جس جلد کی ضرورت ہے وہ مکمل سیٹ کے خریدنے پر موقوف ہوتو اس صورت میں اس میں خمس نہیں ہے۔ ورنہ جن جلدوں کی ضرورت نہیں ہے ان کا خمس نکالنا واجب ہے اور صرف ہر جلد کا ایک صفحہ پڑھ لینا خمس کے ساقط ہونے کیلئے کافی نہیں ہے۔
         
        س908: وہ دوائیں جن کو دوران سال کے منافع سے خریدا جائے اور ان کی قیمت انشورنس کمپنی ادا کرے اب اگر وہ دوائیں خمس کی تاریخ آنے تک خراب ہوئے بغیر باقی رہیں تو ان پر خمس واجب ہے یا نہیں؟
        ج: اگر دواؤں کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کیلئے خریدا گیا ہو اور انکی ضرورت بھی پڑسکتی ہو تو ان میں خمس نہیں ہے ۔
         
        س 909: اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہ ہو اور وہ اسے خریدنے یا دیگر ضروریات زندگی کو مہیا کرنے کے لئے کچھ مال جمع کرے تو کیا بچت saving)) پر خمس واجب ہے؟
        ج: کمائی کے منافع سے جمع کئے ہوے مال پر خمس کی تاریخ  آنے پر خمس واجب ہے مگر یہ کہ یہ مال لازمی ضروریات زندگی یا ضروری مخارج کیلئے جمع کیا ہو تو اس صورت میں اگرمستقبل قریب ( مثلا چند دنوں) میں انہیں مذکورہ مصارف میں خرچ کردے تو اس میں خمس نہیں ہے۔ اسی طرح وہ رقم جو احتمالی حوادث کے لئے بچت کیا ہو، اس میں خمس ادا کرنے کی صورت میں باقی رقم کفایت نہیں کرتا ہے اور اس شخص کی پریشانی باقی ماندہ رقم سے حل نہیں ہوتا ہے تو اس بچت پر خمس واجب نہیں یے۔
         
        س 910: میری زوجہ ایک قالین بن رہی ہے جس کاسرمایہ ہمارا ذاتی ہے کیونکہ ہم نے اس کیلئے کچھ رقم قرض پر لی تھی اب تک اس کا کچھ حصہ تیار ہوا ہے۔ اور میری خمس کی تاریخ بھی آچکی ہے تو کیا، بُنائی مکمل ہونے اور اس کو بیچنے کے بعداسکے بنے ہوئے حصے کا خمس دینا ہوگا یا نہیں؟ جبکہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو گھریلو ضروریات میں خرچ کرنا چاہتا ہوں، نیز اصل سرمایہ کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟
        ج: قالین کی قیمت فروخت سے اصل سرمایہ کو جسے قرض لیا گیا ہے، جدا کرنے کے بعد بقیہ رقم کو سال کے منافع میں شمار کیا جائے گا۔ لہذا بنائی مکمل ہونے اور بیچنے کے بعد اگر رقم اسی سال کے زندگی کے اخراجات میں خرچ ہو جائے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
         
        س 911: میری پوری جائداد تین منزلہ عمارت ہے، ہر منزل پر دو کمرے ہیں۔ ان میں سے ایک میں خود رہتا ہوں اور دیگر دومنزلوں میں میرے بچے رہتے ہیں، کیا میری حیات میں اس میں خمس واجب ہے یا میری وفات کے بعد اس میں خمس ہوگا تاکہ میں ورثاء کواپنے مرنے کے بعد اسے ادا کرنے کی وصیت کروں؟
        ج: اس عمارت میں خمس واجب نہیں ہے لیکن اگر خمس کا سال بہ سال حساب نہیں کرتا تھا تو ضروری ہے کہ کسی طریقے سے مصالحت کرے۔
         
        س912: گھر یلواشیاء کے خمس کا حساب کیسے کیا جائے گا؟
        ج: جو چیزیں ان سے استفادہ کرنے کے باوجود باقی رہتی ہیں جیسے فرش وغیرہ، تو ان میں خمس نہیں ہے، لیکن روز مرہ استعمال کی چیزیں جیسے چاول ، گھی و غیرہ اگر بچ جائیں اور خمس کی تاریخ آنے تک باقی رہیں تو ان میں خمس واجب ہے۔
         
        س913: ایک شخص کے پاس رہنے کے لئے اپنا کوئی مکان نہیں ہے، لہذا اس نے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا ہے تاکہ اپنے لئے مکان بناسکے لیکن تعمیر کیلئے کافی پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک سال گزر گیا اور اس نے اس کو بیچا بھی نہیں۔ تو کیا اس زمین میں خمس واجب ہے؟ اور اگر واجب ہے تو کیا اس کی خریدی ہوئی قیمت میں واجب ہے یا زمین کی موجودہ قیمت میں سے خمس کا نکالنا واجب ہے؟
        ج: اگر اس نے یہ زمین اپنی سال کی منفعت سے اپنی ضرورت کا گھر بنوانے کے لئے خریدی ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
         
        س914: سابقہ سوال کی مفروضہ صورت میں اگر اس نے مکان بنوانا شروع کردیا ہولیکن مکمل ہونے سے پہلے اس کی خمس کی تاریخ آجائے تو کیا تعمیر کے سلسلے میں جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس میں سے خمس نکالنا واجب ہے؟
        ج: مفروضہ صورت میں خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
         
        س915: جو شخص اپنے گھر کی پہلی منزل میں رہتا ہے اور کئی سال تک اسے دوسری منزل کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے دوسری منزل تعمیر کرتا ہے تو کیا دوسری منزل پر جو کچھ خرچ ہوا ہے اس میں خمس واجب ہے ؟
        ج: اگر اس کا بچوں کے مستقبل کے لئے دوسری منزل بنواناعرف کے نزدیک حال حاضر میں اس کی حیثیت کے مطابق ہے اور اس کے اخراجات زندگی میں سے شمار ہوتا ہے تو اس کے بنوانے میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے ۔
         
        س916: آپ فرماتے ہیں مخارج سال میں خمس واجب نہیں ہے تو وہ شخص جس کے پاس اپنا رہائشی مکان نہیں ہے لیکن اس کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا ہے جس کو ایک سال یا اس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور وہ اس پر عمارت نہیں بنوا سکا تو اس کومخارج میں کیوں شمار نہیں کیا جاتا؟ امید ہے اس کی وضاحت فرمائیں گے۔
        ج: اگر زمین،اپنی ضرورت کا مکان بنانے کیلئے ہو اور دوران سال کی منفعت سے خریدی ہو تو اسے اسکے موجودہ اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور اس پر خمس نہیں ہے ۔
         
        س917: میرے خمس کے سال کی ابتداء شمسی سال کے چھٹے مہینے کی پہلی تاریخ سے ہوتی ہے۔ اور عموماً سال کے دوسرے یا تیسرے مہینے میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے امتحانات شروع ہو جاتے ہیں ہمیں امتحانات کے ایام میں اضافی کام(Over Time)کی اجرت چھ ماہ بعد ملتی ہے، براہ مہربانی وضاحت فرمائیں کہ جو اضافی کام ہم نے خمس کی تاریخ سے پہلے کیا ہے اور اس کی اجرت خمس کی تاریخ آنے کے بعد ملی ہے، کیا اس میں سے خمس ادا کرنا ہے یا نہیں؟
        ج: لیٹ ملنے والی اجرت کا حساب اس سال کے منافع سے کیا جائے گا جس سال وہ ملے گی نہ کام کے سال کے منافع میں سے اور جس سال وہ ملی ہے اگر اسی سال کے اخراجات میں خرچ ہوجائے تو اس میں خمس واجب نہیں ہے۔
         
        س918: کبھی کبھی ہم لوگوں کو گھریلو سامان جیسے ریفریجریٹر وغیرہ بازار کی قیمت سے کم قیمت پر مل جاتا ہے اور اس سامان کی مستقبل میں یعنی شادی کے بعد ہمیں ضرورت ہے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ شادی کے بعد اسی سامان کو موجودہ قیمت سے کئی گنا زائد قیمت کے ساتھ خریدنا ہوگا، تو کیا ایسا سامان جو اس وقت استعمال میں نہیں ہے اور گھر میں پڑا ہوا ہے اس میں سے خمس نکالنا ہوگا؟
        ج: اگر آپ نے ان چیزوں کو سالانہ کاروباری منافع کے ساتھ اس لئے خریدا ہو کہ مستقبل میں ان سے استفادہ کریں گے اور جس سال آپ نے ان کو خریدا تھا اس سال آپ کو ان کی ضرورت نہیں تھی تو سال پوراہونے پر ان کی مناسب قیمت سے خمس ادا کرنا واجب ہے، مگر یہ کہ ضرورت کے وقت انہیں یکبارگی خریدنا ممکن نہ ہو لذا مجبوراً انہیں رفتہ رفتہ خرید کر ضرورت کے وقت کیلئے محفوظ کرنا پڑے اور وہ چیزیں عرف میں آپ کی حیثیت کے مطابق بھی ہوں تو اس صورت میں ان کو اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور ان کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
         
        س 919: وہ رقوم جن کو انسان کا رہائے خیر میں صرف کرتاہے، جیسے مدارس ، سیلاب زدگان، فلسطینی اور بوسنیائی لوگوں کی امداد وغیرہ تو کیا ان کو سال کے اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور ان میں خمس نہیں ہے ؟
        ج: ایسے انفاقات مخارج سال میں سے شمار ہوتے ہیں اور ان میں خمس نہیں ہے۔
         
        س920: گزشتہ سال ہم نے ایک قالین خریدنے کے لئے کچھ رقم جمع کی اور سال کے آخر میں ہم نے قالین بیچنے والے چند مقامات کا چکر لگایا۔ آخر طے پایا کہ ان میں سے ایک میری پسند کے مطابق ایک مناسب قالین میرے لئے فراہم کرے گا اور اس کام پر نئے سال کے دوسرے مہینہ تک وقت لگا اور چونکہ میرے خمس کی تاریخ، ہجری شمسی سال کی ابتدا ہے تو کیا اس مذکورہ رقم میں خمس ہوگا؟
        ج: مفروضہ صورت میں رقم اور فراہم کئے گئے قالین میں خمس نہیں ہے۔
         
        س921: چند لوگ ایک پرائیویٹ اسکول بنانے کے لئے تیار ہوئے اور ممبران کے قلیل سرمایہ سے استفادہ کرنے کے بعد اسکول بنانے والی کمیٹی نے طے کیا کہ دیگر اخراجات پورے کرنے کیلئے بینک سے قرضہ لیا جائے، نیز کمیٹی نے یہ بھی طے کیا کہ سرمایہ کو مکمل کرنے اور بینک کی قسطیں ادا کرنے کیلئے اسکول کے ممبران ہر ماہ کچھ معین رقم ادا کریں ۔ یہ اسکول ابھی تک منافع حاصل کرنے کی حد تک نہیں پہنچا ہے تو ممبران جو ماہانہ رقم ادا کرتے ہیں کیا اس میں خمس ہے اور کیا وہ اصل سرمایہ جو اسکول کی قیمت ہے اس میں خمس ہے ؟
        ج: ہر ممبرپر واجب ہے کہ جو کچھ وہ ہر ماہ اسکول کے سرمائے میں حصہ ڈالتا ہے اس میں اور جو کچھ اس نے پہلی بار شراکت کے طور پر اسکول کی تاسیس کے لئے دیا تھا، اس میں سے خمس نکالے اور جب ہر ممبر اپنے حصہ کا خمس ادا کردے گا تو مجموعی سرمایہ میں دوبارہ خمس نہیں ہوگا۔
         
        س922: وہ ادارہ جہاں میں ملازمت کرتا ہوں چند سال سے میری کچھ رقم کا مقروض ہے اور ابھی تک اس نے ادا نہیں کی تو کیا رقم کے ملتے ہی مجھے اس سے خمس نکالنا ہوگا یا ضروری ہے کہ ایک سال اس پر گزر جائے؟
        ج: یہ رقم اگر آپ کے کام کی اجرت ہو اور خمس کی تاریخ کے آنے پر اس کا حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو پھر وہ جس سال ملے گی اسی سال کے منافع میں سے شمار ہوگی اور اگر اسی سال کے مخارج میں خرچ ہو جائے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
         
        س923: کیا اخراجات زندگی میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کو سال کے اندر استعمال میں لایا جائے یا اس سال میں ان کی ضرورت ہونا ہی کافی ہے خواہ ان کو استعمال کرنے کا کوئی موقع نہ بھی ملے؟
        ج: کپڑے، فرش وغیرہ جیسی اشیاء کہ جن سے استفادہ کرنے کے باوجود وہ باقی رہتی ہیں ان میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار صرف ان کی ضرورت ہونا ہے۔ لیکن روزمرہ کی ضروریات زندگی جیسے چاول، گھی وغیرہ تو ان کا معیار سال کے اندر ان کا خرچ ہونا ہے، لہذا ان میں سے سال کے خرچ سے جو کچھ بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔
         
        س924: اپنے بال بچوں کی سہولت اوران کی ضرورت کے لئے ایک شخص غیر مخمس مال اورسال کے دوران حاصل ہونے والے منافع سے گاڑی خریدتا ہے تو کیا اسے اس کا خمس دینا ہوگا یا نہیں؟ اور اگر اس نے اپنے کام سے متعلقہ امور کے لئے یا دونوں مقاصد(اپنے کام نیز بچوں کی سہولت) کے لئے گاڑی خریدی ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟
        ج: اگر اس نے گاڑی اپنے کسب و کار سے متعلقہ امورکے لئے خریدی ہو تو وجوب خمس میں اس کا حکم دیگر آلات کار والا ہے لیکن اگر اس نے گاڑی اپنی ضروریات زندگی کے لئے خریدی ہے اور عرف عام میں اس شخص کی حیثیت کے مناسب ضروریات میں سے ہو تو اس میں خمس نہیں ہے البتہ اگر اسکی قیمت خرید میں خمس واجب ہوچکا تھا تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ اور اگر دونوں مقاصد کیلئے خریدا ہو تو تناسب کے ساتھ حساب کرے۔
      • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
      • سرمایہ
      • خمس کے حساب کا طريقہ
      • مالى سال کا تعين
      • ولی امر خمس
      • سادات اور ان کی طرف انتساب
      • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
      • خمس کے متفرق مسائل
      • انفال
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • ہبہ
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب کے احکام
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ کے احکام
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /