ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • طهارت کے احکام
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • خمس کے احکام
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • ہبہ
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب کے احکام
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ کے احکام
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
      • سرکاری اداروں میں ملازمت
      • سرکاری قوانین
      • چیمبر آف کامرس
        پرنٹ  ;  PDF
         
        چیمبر آف کامرس
         
        س 1978: چیمبر آف کامرس جو وزارت تجارت کے تابع ہے نے گھر یلو ضروریات کا کچھ سامان جیسے فریزر، قالین اور کچھ دوسری چیزیں ایک دوکان کے حوالے کی ہیں تا کہ وہ انہیں سرکاری نرخ پر فروخت کرے لیکن چونکہ خریدار زیادہ ہیں اور چیزیں کم لہذا دوکاندار نے قرعہ اندازی کیلئے کارڈ شائع کردیئے تا کہ اس طرح وہ ان چیزوں کو فروخت کرسکے اور قرعہ اندازی کا ہر کارڈ ایک معین قیمت کے ساتھ فروخت کیا گیا ہے تا کہ اس سے حاصل شدہ آمدنی بھلائی کے کاموں میں خرچ کی جائے۔ کیا ان چیزوں کا قرعہ کے ذریعہ فروخت کرنا شرعی طور پر اشکال رکھتاہے؟ نیز کیا مذکورہ چیزوں سے متعلق قرعہ اندازی کے کارڈفروخت کرناشرعی طور پر اشکال رکھتا ہے؟
        ج: دوکان کے مالکین پر واجب ہے کہ وہ مذکورہ چیزیں انہی شرائط کے تحت خریداروں کو فروخت کریں کہ جن کی بناپر وہ انہیں دی گئی ہیں اور انہیں حق نہیں ہے کہ وہ فروخت کرنے کے شرائط کو بدل کر اپنی طرف سے نئی شرائط وضع کریں اور قرعہ اندازی کے کارڈ کی آمدنی کو نیک امور میں خرچ کرنے کی نیت انہیں سامان کی فروخت کے لئے مزید شرائط رکھنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔
         
        س1979: کیا نان بائیوں کے لئے اس آٹے کا فروخت کرنا جائز ہے جو انہیں حکومت کی جانب سے سستے داموں اور سبسڈی کے ساتھ دیا جاتاہے؟
        ج: اگر نان بائی کو حکومت کی طرف سے آٹا بیچنے کی اجازت نہ ہو تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسے فروخت کرے اور لوگوں کا اسے خریدنا بھی جائز نہیں ہے۔
         
        س 1980: اگر دوکان میں موجود چیزوں کی قیمت طبیعی طور پر یا اچانک بڑھ جائے تو کیا انہیں موجودہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے؟
        ج: اگر حکومت کی طرف سے ان کی کوئی قیمت معین نہ کی گئی ہو تو انہیں موجودہ منصفانہ قیمت کے ساتھ بیچنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
         
        س 1981: اگر شریعت کا حکم قانون کے ساتھ ٹکرارہا ہو جیسا کہ حکومت کی طرف سے آباد زمینوں پر ان کے مالکین کی رضامندی کے بغیر اپنی ملکیت میں لینے میں یہ ٹکراؤ موجود ہے تو اس قسم کی خرید اور اسے اپنی ملکیت بنا لینے کا کیا حکم ہے؟
        ج: خاص قوانین و ضوابط کی رو سے اور مفاد عامہ کے منصوبوں اور سکیموں کو عملی کرنے کیلئے حکومت یا بلدیہ کو جن زمینوں کی ضرورت ہے انہیں خریدنے اور اپنی ملکیت میں لینے کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے حکومت کا دوسروں کی املاک کو اپنی ملکیت میں لینے کا جواز ، ذاتی ملکیت یا مالک کے شرعی اور قانونی حقوق کے منافی نہیں ہے۔
         
        س 1982: ایک شخص نے آثار قدیمہ کی ایک قیمتی چیز کسی دوسرے شخص کو اسکے کام اورکوشش کے عوض میں دی اور اسکی وفات کے بعد وہ قیمتی چیز میراث میں اس کے وارثوں کو منتقل ہوئی کیا وہ چیز ان کی شرعی ملکیت شمار ہوگی؟ اور اس بات کے پیش نظر کہ اگر یہ قیمتی چیز حکومت کے اختیار میں ہو تو بہتر ہے کیا اسکے ورثاء کو یہ حق ہے کہ وہ یہ چیز حکومت کو دینے کے عوض میں کسی چیز کا مطالبہ کریں؟
        ج: کسی چیز کا آثار قدیمہ یا نوادرات میں سے ہونا اس بات کا سبب نہیں بنتا کہ وہ اس کی شرعی ملکیت سے نکل جائے اور اس چیز کے منافی نہیں ہے کہ وہ کسی خاص فرد کی ملکیت ہو بشرطیکہ اسے شرعی طریقہ سے حاصل کیا ہو لہذا وہ اس کی ملکیت میں باقی رہے گی اور اس پر ذاتی ملکیت کے شرعی اثرات مترتب ہونگے لیکن اگر حکومت کی طرف سے نفیس یا تاریخی نوادرات کی حفاظت کیلئے خاص قوانین موجود ہوں تو ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں واجب ہے کہ مالک کے شرعی حقوق کی بھی رعایت کی جائے لیکن اگر اس شخص نے اس چیز کو غیر شرعی طریقے اور حکومت اسلامی کے ان قوانین کی رعایت کئے بغیر کہ جن کی رعایت کرنا واجب ہے حاصل کیا ہو تو اس صورت میں وہ اس کا مالک نہیں ہے۔
         
        س 1983: کیا عام استعمال کی چیزوں جیسے کپڑے ، چاول و غیرہ کو غیر قانونی طریقے سے اور سمگلنگ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ (ایران) سے عرب ممالک میں لے جاکر ان کے باشندوں کو فروخت کرنا جائز ہے؟
        ج: اسلامی جمہوریہ (ایران) کے قوانین کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے۔
         
        س 1984: یہ سوال چونکہ ایران کے ساتھ مختص تھا اس لیے اردو ترجمہ میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔
         
        س 1985: ایسے امور کو انجام دینا جو کسی ملازم کی نظر میں قانون کے  برخلاف ہیں لیکن اس کا افسر دعویٰ کرتاہے کہ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اسے انجام دینے کا مطالبہ کرتاہے کیا حکم رکھتاہے؟
        ج: کسی کو بھی ان قوانین و ضوابط کے خلاف عمل کرنے کا حق نہیں ہے جو سرکاری اداروں کیلئے وضع کئے گئے ہیں اور کسی افسر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے ملازم سے ایسے کام انجام دینے کا مطالبہ کرے جو قانون کے خلاف ہوں اوراس سلسلے میں ادارے کے افسر کی رائے کا کوئی اثر نہیں ہے۔
         
        س 1986: کیا سرکاری اداروں کے ملازمین کیلئے کام کی خاطر رجوع کرنے والوں کے بارے میں کسی شخص کی سفارش کو قبول کرنا جائز ہے؟
        ج: سرکاری ملازمین پر واجب ہے کہ وہ قوانین و ضوابط کے مطابق ،رجوع کرنے والوں کے کام انجام دیں اور ان کی درخواستوں کا جواب دیں اور اگر کسی کی سفارش قانون کے خلاف ہو یا اس سے کسی دوسرے کا حق ضائع ہوتا ہو تو اس کا قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
         
        س1987: ٹریفک کے قوانین و ضوابط اور کلی طور پر سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور کیا قوانین پر عمل کو ترک کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے موارد میں سے شمار کیا جائے گا؟
        ج: اسلامی حکومت کے ان قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی جو مجلس شورائے اسلامی کی طرف سے بلا واسطہ طور پر بنائے گئے ہیں اور گارڈین کونسل نے ان کی تائید کی ہے یا متعلقہ اداروں کی قانونی اجازت سے بنائے گئے ہیں کسی کے لئے جائز نہیں ہے اور اس سلسلے میں اگر کسی شخص کی طرف سے خلاف ورزی ثابت ہوجائے تو دوسروں پر واجب ہے کہ اس کی راہنمائی کریں اور اسے نصیحت کریں اور (نہی از منکر کے شرائط کے ہوتے ہوئے) اسے نہی از منکر کریں۔
         
        س 1988: بعض بیرونی ممالک میں اگر باہر سے آئے ہوئے یونیورسٹی کے طالب علم اپنے ملک کی شہریت کو اس ملک کی شہریت میں تبدیل کرنے کی درخواست دیں اور اس ملک کی شہریت حاصل کرلیں تو وہ تمام سہولیات جو تعلیم حاصل کرنے کے دوران اس ملک کے طالب علموں کو دی جاتی ہیں انہیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں اور اس ملک کے قوانین کی بنیاد پر انسان وہاں کی شہریت ختم کرکے دوبارہ اپنی اصلی شہریت حاصل کرسکتاہے ۔اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
        ج: اسلامی حکومت کے باشندوں کیلئے شہریت تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس سے کسی واجب الاتباع قانون کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو اور نہ ہی اس پر کوئی مفسدہ مترتب ہوتا ہو اور یہ اسلامی حکومت کے ضعف کا بھی سبب نہ ہو۔
         
        س 1989: کیا جو شخص بیرونی ممالک کی کمپنیوں میں کام کرتا ہے یا ان کے ساتھ معاملات انجام دیتا ہے اس کے لئے ان کے قوانین کی رعایت نہ کرنا جائز ہے؟ بالخصوص اگر ایسا کرنا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سوء ظن کا باعث ہو؟
        ج: ہر شخص پر دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا واجب ہے اگر چہ وہ غیر مسلموں سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں۔
         
      • مالیات اور ٹیکس
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /