ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
    • اہمیت اور شرائط نماز
    • اوقات نماز
    • قبلہ کے احکام
    • نماز کی جگہ کے احکام
    • مسجد کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF
       
      مسجد کے احکام
       
      س ٣٨۹: اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا مستحب ہے، کیا اپنے محلہ کی مسجد چھوڑ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے شہر کی جامع مسجد جانے میں کوئی اشکال ہے؟
      ج: اگر اپنے محلہ کی مسجد چھوڑنا دوسری مسجد میں نماز جماعت میں شرکت کے لئے ہو خصوصاً شہر کی جامع مسجد میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٣۹۰: اس مسجدمیں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جس کے بانی یہ کہتے ہیں کہ یہ مسجد ہم نے اپنے لئے اور اپنے قبیلہ والوں کے لئے بنائی ہے؟
      ج: مسجد جب مسجد کے عنوان سے تعمیر کی جائے تو قوم ، قبیلہ اور اشخاص سے مخصوص نہیں رہتی بلکہ اس سے تمام مسلمان استفادہ کر سکتے ہیں۔
       
      س٣۹۱: عورتوں کے لئے مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟
      ج: مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت مردوں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
       
      س ٣۹۲: دور حاضر میں مسجد الحرام اور صفا و مروہ کی سعی والی جگہ کے درمیان تقریباً آدھا میٹر اونچی اور ایک میٹر چوڑی دیوار ہے یہ مسجد اور سعی والی جگہ کے درمیان مشترک دیوار ہے ، کیا وہ عورتیں اس دیوار پر بیٹھ سکتی ہیں جن کے لئے ایام حیض کے دوران مسجد الحرام میں داخل ہونا جائز نہیں ہے؟
      ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر جب یقین ہوجائے کہ وہ مسجد کا جز ہے ۔
       
      س ٣۹۳: کیا محلہ کی مسجد میں ورزش کرنا اور سونا جائز ہے ؟ اور اس سلسلہ میں دوسری مساجد کا کیا حکم ہے؟
      ج: مسجد ورزش گاہ نہیں ہے اور جو کام مسجد کے شایان شان نہیں ہیں انہیں مسجد میں انجام دینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور مسجد میں سونا مکروہ ہے ۔
       
      س ٣۹۴: کیا مسجد کے ہال سے جوانوں کی فکری ، ثقافتی اور عسکری ( عسکری تعلیم کے ذریعے ) ارتقاء کیلئے استفادہ کیا جاسکتا ہے ؟ اور اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان کاموں کے مراکز کم ہیں انہیں مسجد کے ایوان میں انجام دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟
      ج: یہ چیزیں مسجد کے صحن اور بر آمدے کے وقف کی کیفیت سے مربوط ہیں ۔ اور اس سلسلہ میں مسجد کے امام جماعت اور انتظامیہ کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے البتہ امام جماعت اور انتظامیہ کے تحت نظر جوانوں کا مساجد میں جمع ہونا اور دینی کلاسیں لگانا مستحسن اور مطلوب فعل ہے ۔
       
      س ٣٩۵: بعض علاقوں ، خصوصاً دیہاتوں میں لوگ مساجد میں شادی کا جشن منعقد کرتے ہیں یعنی وہ رقص اور گانا تو گھروں میں کرتے ہیں لیکن دوپہر یا شام کا کھانا مسجد میں کھلاتے ہیں ۔ شریعت کے لحاظ یہ جائز ہے یا نہیں ؟
      ج: مہانوں کو مسجد میں کھانا کھلانے میں فی نفسہ کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س٣٩۶: پرائیوٹ کوآپریٹیو کمپنیاں رہائش کے لئے فلیٹ اور کالونیاں بناتی ہیں ۔ شروع میں اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ ان فلیٹوں میں عمومی مقامات جیسے مسجد و غیرہ ہوں گے لیکن اب جب گھر اس کمپنی کے حصص کے مالکان کو دے دیئے گئے ہیں کیا ان میں سے بعض کے لئے جائز ہے کہ وہ اس معاہدہ کو توڑدیں اور یہ کہہ دیں کہ ہم مسجد کی تعمیر کے لئے راضی نہیں ہیں ؟
      ج: اگر کمپنی اپنے تمام ممبران کی موافقت سے مسجد کی تعمیر کا اقدام کرے اور مسجد تیار ہوجانے کے بعد وقف ہوجائے تو اپنی پہلی رائے سے بعض ممبران کے پھرجانے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ لیکن اگر مسجد کے شرعی طور پر وقف ہونے سے قبل بعض ممبران اپنی سابقہ موافقت سے پھر جائیں تو ان کے اموال کے ساتھ تمام ممبران کی مشترکہ زمین میں ان کی رضامندی کے بغیر مسجد تعمیر کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کمپنی کے تمام ممبران سے عقد لازم کے ضمن میں یہ شرط کرلی گئی ہو کہ مشترکہ زمین کا ایک حصہ مسجد کی تعمیر کے لئے مخصوص کیا جائے گا اور تمام ممبران نے اس شرط کو قبول کیا ہو اس صورت میں انہیں اپنی رائے سے پھر نے کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ان کے پھرنے سے کوئی اثر پڑسکتا ہے ۔
       
      س ٣٩۷: غیر اسلامی تہذیبی اور ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے مسجد میں ابتدائی اور مڈل کلاسوں کے تیس لڑکوں کو گروہ ترنم کی شکل میں جمع کیا ہے اس گروہ کے افراد کو عمرو فکری استعداد کے مطابق قرآن کریم ،احکام اور اسلامی اخلاق کا درس دیا جاتا ہے ۔ اس کام کاکیا حکم ہے ؟ اور اگر یہ لوگ آلہ موسیقی جسے "ارگن" کہا جاتا ہے ، استعمال کریں تو اس کا کیاحکم ہے ؟ اور شرعی قوانین کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں اس کی مشق کرنے کا کیا حکم ہے ؟
      ج: مسجد میں قرآن کریم ، احکام اور اسلامی اخلاق کی تعلیم دینے اورمذہبی و انقلابی ترانوں کی تمرین کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن بہر حال مسجد کے شان و مقام اور تقدس کی رعایت کرنا واجب ہے اور نمازیوں کیلئے مزاحمت پیدا کرنا جائزنہیں ہے ۔
       
      س٣٩۸: کیا مسجد میں ان لوگوں کو جو قرآن کی تعلیم کے لئے شرکت کرتے ہیں ، ایسی فلمیں دکھانے میں کوئی حرج ہے جن کو ایران کی وزارت ثقافت نے جاری کیا ہو؟
      ج: مسجد کو فلم دکھانے کی جگہ میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔ لیکن ضرورت کے وقت اور مسجد کے پیش نماز کی نگرانی میں مفید اور سبق آموزمذہبی اور انقلابی فلمیں دکھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٣٩۹: کیا ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولادت کے موقع پر مسجد سے فرح بخش موسیقی کے نشر کرنے میں کوئی شرعی اشکال ہے؟
      ج: واضح رہے کہ مسجد ایک خاص شرعی مقام رکھتی ہے ، پس اس میں موسیقی نشر کرنا اگر اس کی حرمت کے منافی ہو تو حرام ہے ، اگر چہ موسیقی غیر لہوی ہو۔
       
      س ۴۰۰: مساجد کے لاؤڈاسپیکر ، جس کی آواز مسجد کے باہر سنی جاتی ہے، کا استعمال کب جائز ہے؟ اور اذان سے قبل اس پر تلاوت اور انقلابی ترانے نشر کرنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: جن اوقات میں محلہ والوں اور ہمسایوں کے لئے تکلیف و اذیت کا سبب نہ ہو ان میں اذان سے قبل چند منٹ تلاوت قرآن نشر کرنے میں اشکال نہیں ہے۔
       
      س ۴۰۱: جامع مسجد کی تعریف کیا ہے؟
      ج: وہ مسجد جو شہر میں تمام اہل شہر کے اجتماع کے لئے بنائی جاتی ہے اور کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہوتی ۔
       
      س ۴۰۲: تیس سال سے ایک مسجد کا چھت والا حصہ ویران پڑا تھا اس میں نماز نہیں ہوتی تھی اور وہ کھنڈر بن چکا تھا ، اس کا ایک حصہ سٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے رضا کاروں نے کہ جو تقریبا پندرہ سال سے اس چھت والے حصے میں مستقر ہیں اس میں کچھ تعمیراتی کام کیا ہے کیونکہ اسکی حالت بہت ہی غیر مناسب تھی اور اسکی چھت گرنے کے قریب تھی اور چونکہ یہ لوگ مسجد کے شرعی احکام سے ناواقف تھے اور جو لوگ جانتے تھے انہوں نے بھی ان کی راہنمائی نہیں کی ۔ لہٰذا انہوں نے چھت والے حصے میں چند کمرے تعمیر کرائے کہ جن پر خطیر رقم خرچ ہوئی اب تعمیر کا کام اختتام پر ہے۔ براہ مہربانی درج ذیل موارد میں حکم شرعی سے مطلع فرمائیں:
      ١۔ فرض کیجئے اس کام کے بانی اور اس پر نگران کمیٹی کے اراکین مسئلہ سے ناواقف تھے تو کیا یہ لوگ بیت المال سے خرچ کئے جانے والی رقم کے ضامن ہیں ؟ اور وہ گناہگار ہیں؟
      ٢۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ رقم بیت المال سے خرچ ہوئی ہے ۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ جب تک مسجد کو اس حصہ کی ضرورت نہیں ہے اور اس میں نماز قائم نہیں ہوتی ان کمروں سے مسجد کے شرعی احکام و حدود کی رعایت کرتے ہوئے قرآن و احکام شریعت کی تعلیم اور مسجد کے دیگر امور کے لئے استفادہ کیا جائے یا ان کمروں کو فوراً گرادینا واجب ہے؟
      ج: مسجد کے چھت والے حصے میں بنے ہوئے کمروں کو منہدم کر کے اس کو سابقہ حالت پر لوٹا نا واجب ہے اور خرچ شدہ رقم کے بارے میں اگر افراط و تفریط نہ ہوئی ہو اور جان بوجھ کر اور کوتا ہی کرتے ہوئے ایسا نہ کیا گیا ہو تو معلوم نہیں ہے کہ اس کا کوئی ضامن ہو اور مسجد کے چھت والے حصے میں قرائت قرآن ، احکام شرعی ، اسلامی معارف کی تعلیم اور دوسرے دینی و مذہبی پروگرام منعقد کرنے میں اگر نماز گزاروں کے لئے مزاحمت نہ ہو اورامام جماعت کی نگرانی میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور امام جماعت ، رضاکاروں اور مسجد کے دوسرے ذمہ دار حضرات کیلئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تا کہ مسجد میں رضا کاروں کا وجود بھی مستمر رہے اور مسجد کے عبادی فرائض جیسے نماز و غیرہ میں بھی خلل واقع نہ ہو۔
       
      س ۴۰۳: ایک سڑک کی توسیع کے منصوبے میں متعدد مساجد آتی ہیں۔ منصوبے کے اعتبار سے بعض مسجدیں پوری منہدم ہوتی ہیں اور بعض کا کچھ حصہ گرایا جائے گا تا کہ ٹریفک کی آمد و رفت میں آسانی ہو براہ مہربانی اس سلسلے میں اپنی رأے بیان فرمائیں؟
      ج: مسجد یا اس کے کسی حصہ کو منہدم کرنا جائز نہیں ہے مگر ایسی مصلحت کی بناء پر کہ جس سے چشم پوشی ممکن نہ ہو ۔
       
      س ۴۰۴: کیا مساجد کے وضو کے لئے مخصوص پانی کو مختصر مقدار میں اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے مثلا دوکاندار پینے، چائے بنانے یا موٹر گاڑی میں ڈالنے کے لئے اس سے استفادہ کریں واضح رہے کہ اس مسجد کا واقف کوئی ایک شخص نہیں ہے جو اس سے منع کرے؟
      ج: اگر معلوم نہ ہو کہ یہ پانی صرف نماز گزاروں کے وضو کے لئے وقف ہے اور اس محلہ کے عرف میں یہ رائج ہو کہ اس کے ہمسائے اور راہ گیر اس کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اگرچہ اس سلسلے میں احتیاط بہتر ہے۔
       
      س ٤٠۵: قبرستان کے پاس ایک مسجد ہے اور جب بعض مومنین قبور کی زیارت کے لئے آتے ہیں تو وہ اپنے کسی عزیز کی قبر پر پانی چھڑکنے کے لئے اس مسجد سے پانی لیتے ہیں اور ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ پانی مسجد کے لئے وقف ہے یا عمومی استفادہ کیلئے ہے اور بالفرض اگر یہ مسجد کے لئے وقف نہ ہو تو معلوم نہیں ہے کہ یہ وضو اور طہارت کے ساتھ مخصوص ہے یا نہیں ۔ تو کیا اسے قبر پر چھڑکنا جائز ہے؟
      ج: ان قبور پر پانی چھڑکنے کیلئے مسجد کے پانی سے استفادہ کرنا کہ جو اس سے باہر ہیں اگر لوگوں میں رائج ہو اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرے اور اس بات پر کوئی دلیل نہ ہو کہ پانی صرف وضو اور طہارت کے لئے وقف ہے تو اس استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤٠۶: اگر مسجد میں تعمیراتی کام کی ضرورت ہو تو کیا حاکم شرع یا اس کے وکیل کی اجازت ضروری ہے؟
      ج: اگر مسجد کی تعمیر اہل خیر افراد کے مال سے کرنا ہو تو اس میں حاکم شرع کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
       
      س ٤٠۷: کیا میں یہ وصیت کر سکتا ہوں کہ مرنے کے بعد مجھے محلہ کی اس مسجد میں دفن کیا جائے :جس کے لئے میں نے بہت کوششیں کی تھیں کیونکہ میں چاہتا ہوں مجھے اس مسجد کے اندر یا اس کے صحن میں دفن کیا جائے؟
      ج: اگر صیغۂ وقف جاری کرتے وقت مسجد میں میت دفن کرنے کو مستثنیٰ نہ کیا گیا ہو تو اس میں دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اس سلسلہ میں آپ کی وصیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
       
      س ٤٠۸: ایک مسجد تقریباً بیس سال پہلے بنائی گئی ہے اور اسے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نام مبارک سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ مسجد کا نام صیغہ ٔ وقف میں ذکر کیا گیا ہے یا نہیں تو مسجد کا نام مسجد صاحب زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بجائے بدل کر جامع مسجد رکھنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: صرف مسجد کا نام بدلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤٠۹: جن مساجد میں مومنین کے عطیوں اور مساجد کی خاص نذور سے بجلی اور ائرکنڈیشننگ کے سسٹم کا انتظام کیا جا تا ہے جب محلہ والوں میں سے کوئی مرجاتا ہے تو ان میں اس کے فاتحہ کی مجلس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مجلس میں مسجد کی بجلی اور ائرکنڈیشنر و غیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن مجلس کرنے والے اس کا پیسہ ادا نہیں کرتے شرعی نقطہ نظر سے یہ جائز ہے یا نہیں؟
      ج: مسجد کے وسائل سے فاتحہ کی مجلس و غیرہ میں استفادہ کرنا وقف و نذر کی کیفیت پر موقوف ہے۔
       
      س ٤۱۰: گاؤں میں ایک نئی مسجد ہے جو پرانی مسجد کی جگہ بنائی گئی ہے موجودہ مسجد کے ایک کنارے پرکہ جس کی زمین پرانی مسجد کا جزہے ، مسئلہ سے نا واقفیت کی بنا پر چائے و غیرہ بنانے کے لئے ایک کمرہ تعمیر کیا گیا ہے اور اسی طرح مسجد کے نیم چھت جو کہ مسجد کے ہال کے اندر ہے پر ایک لائبریری بنائی گئی ہے، براہ مہربانی اس سلسلہ میں اپنی رأے بیان فرمائیں؟
      ج: سابق مسجد کی جگہ پر چائے خانہ بنانا صحیح نہیں ہے اور اس جگہ کو دوبارہ مسجد کی حالت میں بدلنا واجب ہے اور مسجد کے ہال کے اندر کی نیم چھت بھی مسجد کے حکم میں ہے اور اس پر مسجد کے تمام شرعی احکام و اثرات مترتّب ہوں گے لیکن اس میں کتابوں کی الماریاں نصب کرنا اور مطالعہ کے لئے وہاں جمع ہونے میں ، اگر نمازگزاروں کے لئے مزاحمت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤۱۱: اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد گرنے والی ہے لیکن فی الحال اسے منہدم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ راستہ میں رکاوٹ نہیں ہے کیا مکمل طور پر اس مسجد کو منہدم کرنا جائز ہے؟ اس مسجد کا کچھ اثاثہ اور پیسہ بھی ہے یہ چیزیں کس کو دی جائیں ؟
      ج: مسجد کو منہدم کرنا جائز نہیں ہے اور کلی طور پر مسجدکو گرانے سے وہ مسجد کے حکم کے خارج نہیں ہوگی ، اور مسجد کے اثاثہ و مال کو اگر اسکی خود اس مسجد کو ضرورت نہیں ہے تو استفادہ کے لئے دوسری مسجدوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔
       
      س ٤۱۲: کیا مسجد کے صحن کے ایک گوشہ میں مسجد کی عمارت میں کسی تصرف کے بغیر ، میوزیم بنانے میں کوئی شرعی حرج ہے جیسا کہ آج کل مسجد کے اندر لائبریری بنادی جاتی ہے؟
      ج: اگر صحنِ مسجد کے گوشہ میں لائبریری یا میوزیم بنانا مسجد کے ہال اور صحن کے وقف کی کیفیت کے منافی یا مسجد کی عمارت میں تغیر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے ۔ مذکورہ غرض کے لئے بہتر ہے کہ مسجد سے متصل کسی جگہ کا انتظام کیا جائے۔
       
      س ٤۱۳: ایک موقوفہ جگہ میں مسجد ، دینی مدرسہ اور پبلک لائبریری بنائی گئی ہے اور یہ سب اس وقت کام کر رہے ہیں لیکن اس وقت یہ سب بلدیہ کے توسیع والے نقشہ میں آرہے ہیں کہ جن کا انہدام بلدیہ کے لئے ضروری ہے ، ان کے انہدام کے لئے بلدیہ سے کیسے تعاون کیا جائے اور کیسے ان کا معاوضہ لیا جائے تا کہ اس کے عوض نئی اور اچھی عمارت بنائی جاسکے؟
      ج: اگر بلدیہ اس کو منہدم کرنے اور معاوضہ دینے کے لئے اقدام کرے اور معاوضہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی ایسی اہم مصلحت کے بغیر کہ جس سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے موقوفہ مسجد و مدرسہ کو منہدم کرنا جائز نہیں ہے۔
       
      س ٤۱۴: مسجد کی توسیع کے لئے اس کے صحن سے چند درختوں کو اکھاڑنا ضروری ہے ۔ کیا ان کو اکھاڑنا جائز ہے ، جبکہ مسجد کا صحن کا فی بڑا ہے اور اس میں اور بھی بہت سے درخت ہیں؟
      ج: اگر درخت کاٹنے کو وقف میں تغیر و تبدیلی شمار نہ کیا جاتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤١۵: اس زمین کا کیا حکم ہے جو مسجد کے چھت والے حصے کا جز تھی ، بعد میں بلدیہ کے توسیعی دائرے میں آنے کی وجہ سے مسجد کے اس حصہ کو مجبوراً منہدم کرکے سڑک میں تبدیل کردیا گیا؟
      ج: اگر اس کے پہلی حالت کی طرف پلٹنے کا احتمال بعید ہو تو معلوم نہیں ہے اس پر مسجد کے شرعی اثرات مرتّب ہوں۔
       
      س ٤١۶: ایک مسجد منہدم ہوچکی ہے اور اسکے مسجد والے آثار محو ہوچکے ہیں یا اسکی جگہ کوئی اور عمارت بنادی گئی ہے اور اسکی تعمیر نو کی کوئی امید نہیں ہے مثلاً وہاں کی آبادی ویران ہوگئی ہے اور اس نے وہاں سے نقل مکانی کر لی ہے کیا اس ( مسجد والی) جگہ کو نجس کرنا حرام ہے؟اور اسے پاک کرنا واجب ہے؟
      ج: مفروضہ صورت میں معلوم نہیں ہے کہ اس کا نجس کرنا حرام ہو اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ اسے نجس نہ کیا جائے۔
       
      س ٤١۷: میں عرصہ سے ایک مسجد میں نماز جماعت پڑھاتا ہوں ، اور مسجد کے وقف کی کیفیت کی مجھے اطلاع نہیں ہے، دوسری طرف مسجد کے اخراجات کے سلسلے میں بھی مشکلات در پیش ہیں کیا مسجد کے سرداب کو مسجد کے شایان شان کسی کام کے لئے کرایہ پر دیا جاسکتا ہے؟
      ج: اگر سرداب پر مسجد کا عنوان صادق نہیں آتا ہے اور وہ اس کا ایسا جز بھی نہیں ہے جس کی مسجد کو ضرورت ہو اور اس کا وقف بھی وقف انتفاع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤١۸: مسجد کے پاس کوئی املاک نہیں ہیں کے جن سے اس کے اخراجات پورے کئے جاسکیں اور مسجد کے ٹرسٹ نے اسکے چھت والے حصے کے نیچے مسجد کے اخراجات پورا کرنے کے لئے ایک تہ خانہ کھود کراس میں ایک چھوٹی سی فیکٹری یا دوسرے عمومی مراکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟
      ج: فیکٹری وغیرہ کی تسیس کے لئے مسجد کی زمین کو کھودنا جائز نہیں ہے۔
       
      س ٤١۹: کیا مسلمانوں کی مساجد میں کفّار کا داخل ہونا مطلقاً جائز ہے خواہ وہ تاریخی آثار کو دیکھنے کیلئے ہی ہو؟
      ج: مسجد حرام میں داخل ہو نا شرعاً ممنوع ہے اور دیگر مساجد میں داخل ہونا اگر مسجد کی ہتک اور بے حرمتی شمار کی جائے تو جائز نہیں ہے بلکہ دیگر مساجد میں بھی وہ کسی صورت میں داخل نہ ہوں۔
       
      س ٤۲۰: کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے جو کفّار کے توسط سے بنائی گئی ہو؟
      ج: کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤۲۱: اگر ایک کافر اپنی خوشی سے مسجد کی تعمیر کے لئے پیسہ دے یا کسی اور طریقہ سے مدد کرے تو کیا اسے قبول کرنا جائز ہے۔
      ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٤۲۲: اگر ایک شخص رات میں مسجد میں آکر سوجائے اور اسے احتلام ہوجائے لیکن جب بیدارہو تو اس کیلئے مسجد سے نکلنا ممکن نہ ہو تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: اگر وہ مسجد سے نکلنے اور دوسری جگہ جانے پر قادر نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ فوراً تیمّم کرے تا کہ اس کے لئے مسجد میں ٹھہرنے کا جواز پیدا ہوجائے۔
    • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
    • نماز گزار کالباس
    • سونے چاندی کا استعمال
    • اذان و اقامت
    • قرأت اور اس کے احکام
    • ذکرنماز
    • سجدہ اور اس کے احکام
    • مبطلات نماز
    • جواب سلام کے احکام
    • شکیات نماز
    • قضا نماز
    • ماں باپ کی قضا نمازیں
    • نماز جماعت
    • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
    • معذور کی امامت
    • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
    • اہل سنت کی اقتداء
    • نماز جمعہ
    • نماز عیدین
    • نماز مسافر
    • جس شخص کا پيشہ يا پينشے کا مقدمہ سفر ہو
    • طلبہ کا حکم
    • قصد مسافرت اور دس دن کی نیت
    • حد ترخص
    • سفر معصیت
    • احکام وطن
    • بیوی بچوں کی تابعیت
    • بڑے شہروں کے احکام
    • نماز اجارہ
    • نماز آیات
    • نوافل
    • نماز کے متفرقہ احکام
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /