ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
    • اہمیت اور شرائط نماز
    • اوقات نماز
    • قبلہ کے احکام
    • نماز کی جگہ کے احکام
    • مسجد کے احکام
    • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
    • نماز گزار کالباس
    • سونے چاندی کا استعمال
    • اذان و اقامت
    • قرأت اور اس کے احکام
    • ذکرنماز
    • سجدہ اور اس کے احکام
    • مبطلات نماز
    • جواب سلام کے احکام
    • شکیات نماز
    • قضا نماز
    • ماں باپ کی قضا نمازیں
    • نماز جماعت
    • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
    • معذور کی امامت
    • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
    • اہل سنت کی اقتداء
    • نماز جمعہ
      پرنٹ  ;  PDF
       
      نماز جمعہ
       
      س ٦٠۶: نماز جمعہ میں شریک ہونے کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ جبکہ ہم حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں زندگی گزار رہے ہیں، اور اگر بعض اشخاص امام جمعہ کو عادل نہ مانتے ہوں تو کیا نماز جمعہ میں شریک ہونے کی ذمہ داری ان سے ساقط ہے یا نہیں؟
      ج: نماز جمعہ اگرچہ دور حاضر میں واجب تخییری ہے اور اس میں حاضر ہونا واجب نہیں ہے، لیکن نماز جمعہ میں شرکت کے فوائد و اہمیت کے پیش نظر، صرف امام جمعہ کی عدالت میں شک یا دیگر کمزوربہانوں کی بنا پر مؤمنین خود کو ایسی نماز کی برکتوں سے محروم نہ کریں۔
       
      س ٦٠۷: نماز جمعہ میں واجب تخییری کے کیا معنی ہیں؟
      ج: اس کے معنی یہ ہیں کہ جمعہ کے دن مکلف کو اختیار ہے کہ وہ نماز جمعہ پڑھے یا نماز ظہر۔
       
      س ٦٠۸: نماز جمعہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے نماز جمعہ میں شرکت نہ کرنے کے سلسلہ میں آپ کی رائے کیاہے؟
      ج: عبادی و سیاسی پہلو رکھنے والی نماز جمعہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اس میں شرکت نہ کرنا شرعی لحاظ سے مذموم ہے۔
       
      س ٦٠۹: کچھ لوگ کمزوراور عبث بہانوں کی بنا پر نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے اور بعض اوقات نظریاتی اختلاف کے باعث شرکت نہیں کرتے، اس سلسلہ میں آپ کی رائے کیاہے؟
      ج: نماز جمعہ اگرچہ واجب تخییری ہے، لیکن اس میں مستقل طور پر شرکت نہ کرنا شرعی طریقہ نہیں ہے۔
       
      س ٦۱۰: نماز ظہر کا عین اس وقت جماعت سے منعقد کرنا، جب نماز جمعہ تھوڑے سے فاصلہ پر ایک اور مقام پر برپا ہو رہی ہو، جائز ہے یا نہیں؟
      ج: بذات خود اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور اس سے مکلف جمعہ کے دن کے فریضہ سے بری الذمہ ہو جائے گا، کیونکہ دور حاضر میں نماز جمعہ واجب تخییری ہے، لیکن چونکہ جمعہ کے دن، نماز جمعہ کے مقام سے قریب با جماعت نماز ظہر قائم کرنے کا لازمی نتیجہ مؤمنین کی تفریق و تقسیم ہے اور شاید اسے عوام کی نظر میں امام جمعہ کی توہین اور بے حرمتی شمار کیا جائے اور اس سے نماز جمعہ سے لاپروائی کا اظہار ہو تو اس لئے با جماعت نماز ظہر قائم کرنا مؤمنین کے لئے مناسب نہیں ہے، بلکہ اگر اس سے مفاسد اور حرام نتائج بر آمد ہوتے ہوں تو اس سے اجتناب واجب ہے۔
       
      س ٦۱۱: کیا نماز جمعہ و عصر کے درمیانی وقفہ میں نماز ظہر پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر امام جمعہ کے علاوہ کوئی اور شخص نماز عصر پڑھائے تو کیا عصر کی نماز میں اس کی اقتداء کرنا جائز ہے؟
      ج: نماز جمعہ، نماز ظہر سے بے نیاز کر دیتی ہے، لیکن نماز جمعہ کے بعد احتیاطاً نماز ظہر پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد نماز ظہر پڑھ کر نماز عصر کو جماعت سے پڑھنا مقصود ہو تو کامل احتیاط یہ ہے کہ نماز عصر اس شخص کی اقتداء میں ادا کرے جس نے نماز جمعہ کے بعد احتیاطاً نماز ظہر بھی پڑھی ہو۔
       
      س ٦۱۲: اگر نماز جمعہ کے بعد امام جماعت نماز ظہر نہ پڑھے تو کیا ماموم احتیاطاً نماز ظہر پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
      ج: اس کے لئے نماز ظہر پڑھنا جائز ہے۔
       
      س ٦۱۳: کیا امام جمعہ کیلئے واجب ہے کہ وہ حاکم شرع سے اجازت حاصل کرے؟ اور حاکم شرع سے کیا مراد ہے؟ اور کیا یہی حکم دور دراز کے شہروں کے لئے بھی ہے؟
      ج: نماز جمعہ کی امامت کا اصل جواز اجازت پر موقوف نہیں ہے، لیکن امامت جمعہ کے لئے امام کے نصب کے احکام کا مترتب ہونا ولی فقیہ کی طرف سے منصوب ہونے پر موقوف ہے۔ اور یہ حکم ہر اس سرزمین اور شہر کے لئے عمومیت رکھتا ہے کہ جس میں ولی فقیہ کی اطاعت کی جاتی ہو اور وہ اس میں حاکم ہو۔
       
      س ٦۱۴: کیا منصوب شدہ امام جمعہ کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ بغیر کسی مانع اور معارض کے اس جگہ نماز جمعہ قائم کرے جہاں اسے منصوب نہ کیا گیا ہو؟
      ج: بذات خود نماز جمعہ قائم کرنا اس کے لئے جائز ہے، لیکن اس پر جمعہ کی امامت کے لئے نصب ہونے کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔
       
      س ٦١۵:کیا موقت اور عارضی ائمہ جمعہ کے انتخاب کے لئے واجب ہے کہ انہیں ولی فقیہ منتخب کرے یا خود ائمہ جمعہ کو اتنا اختیار ہے کہ وہ امام موقت کے عنوان سے افراد کو منتخب کریں؟
      ج: منصوب شدہ امام جمعہ کسی کو اپنا وقتی اور عارضی نائب بنا سکتا ہے۔ لیکن نائب کی امامت پر ولی فقیہ کی طرف سے منصوب ہونے کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔
       
      س ٦١۶: اگر انسان منصوب شدہ امام جمعہ کو عادل نہ سمجھتا ہو یا اس کی عدالت میں شک کرتا ہو تو کیا مسلمین کی وحدت کے تحفظ کی خاطر اس کی اقتدا جائز ہے؟ اور جو شخص خود نماز جمعہ میں نہیں آتا، کیا اس کے لئے جائز ہے کہ و ہ دوسروں کو نماز جمعہ میں شرکت نہ کرنے کی ترغیب دے؟
      ج: اس کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ہے جس کو وہ عادل نہ سمجھتا ہو یا جس کی عدالت میں شک کرتا ہو اور نہ ہی اس کی نمازجماعت صحیح ہے، لیکن وحدت کے تحفظ کی خاطر جماعت میں شریک ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ بہر حال اسے دوسروں کو نماز جمعہ میں شرکت سے روکنے اور دوسروں کو اس کے خلاف بھڑکانے کا حق نہیں ہے۔
       
      س ٦١۷: اس نماز جمعہ میں شریک نہ ہونے کا کیا حکم ہے کہ جس کے امام جمعہ کا جھوٹ مکلف پر ثابت ہو گیا ہو؟
      ج: جو بات امام جمعہ نے کہی ہے اس کے بر خلاف انکشاف ہونا اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس نے غلطی یا توریہ کے طور پر یہ بات کہی ہو، لہذا صرف اس خیال اور توہم سے کہ امام جمعہ کی عدالت ساقط ہو گئی ہے خود کو نماز جمعہ کی برکتوں سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔
       
      س ٦١۸: جو امام جمعہ، امام خمینی یا عادل ولی فقیہ کی طرف سے منصوب ہو، کیا ماموم کیلئے اس کی عدالت کا اثبات و تحقیق ضروری ہے، یا امامت جمعہ کیلئے اس کا منصوب ہونا ہی اس کی عدالت کے ثبوت کے لئے کافی ہے؟
      ج: امام جمعہ کے عنوان سے اس کے منصوب ہونے سے اگر ماموم کواس کی عدالت کاوثوق و اطمینان حاصل ہوجائے تو اقتداء کے صحیح ہونے کے لئے کافی ہے۔
       
      س ٦١۹: کیا مساجد کے ائمہ جماعت کا ثقہ علماء کی طرف سے معین کیا جانا یا ولی فقیہ کی جانب سے ائمہ جمعہ کا معین کیا جانا اس بات کی گواہی ہے کہ وہ عادل ہیں یا ان کی عدالت کے بارے میں تحقیق واجب ہے؟
      ج: اگر امام جمعہ یا جماعت کے طور پر منصوب کئے جانے سے ماموم کو ان کی عدالت کا اطمینان و وثوق حاصل ہو جاتا ہو تو ان کی اقتداء کرنا جائز ہے۔
       
      س٦۲۰: اگر امام جمعہ کی عدالت میں شک ہو یا خدا نخواستہ اس کے عادل نہ ہونے کا یقین ہو تو کیا اس کی اقتداء میںپڑھی جانے والی نمازوں کا اعادہ واجب ہے ؟
      ج: اگر اس کی عدالت میں شک یاعدم عدالت کا یقین نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہو تو جو نمازیں آپ نے پڑھ لی ہیں وہ صحیح ہیں اور ان کا اعادہ واجب نہیں ہے۔
       
      س ٦۲۱: اس نماز جمعہ میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے جو یورپی ممالک و غیرہ میں وہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے اسلامی ممالک کے طلباء قائم کرتے ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے اکثر افراد اور امام جمعہ بھی اہل سنت ہوتے ہیں؟ کیا اس صورت میں نماز جمعہ کے بعد نماز ظہر پڑھنا ضروری ہے؟
      ج: مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کی خاطر اس میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نماز ظہر پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔
       
      س ٦۲۲: پاکستان کے ایک شہر میں چالیس سال سے ایک جگہ نماز جمعہ ادا کی جا رہی ہے اور اب ایک شخص نے دو جمعوں کے درمیان شرعی مسافت کی رعایت کئے بغیر دوسری نماز جمعہ قائم کر دی ہے جس سے نماز گزاروں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ شرعاً اس عمل کا کیا حکم ہے؟
      ج: کسی ایسے عمل کے اسباب فراہم کرنا جائز نہیں ہے جس سے مؤمنین کے درمیان اختلاف اور ان کی صفوں میں تفرقہ پیدا ہو جائے، بالخصوص نماز جمعہ کہ جو شعائر اسلامی اور مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے۔
       
      س ٦۲۳: راولپنڈی کی جامع مسجد جعفریہ کے خطیب نے اعلان کیا کہ تعمیری کام کی بنا پر مذکورہ مسجد میں نماز جمعہ نہیں ہوگی، جب مسجد کی تعمیر کا کام ختم ہوا تو ہمارے سامنے یہ مشکل کھڑی ہو گئی کہ یہاں سے چار کلو میٹر کے فاصلہ پر دوسری مسجد میں نماز جمعہ قائم ہونے لگی، مذکورہ مسافت کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیا مذکورہ مسجد میں نماز جمعہ قائم کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
      ج: دو نماز جمعہ کے درمیان اگر ایک شرعی فرسخ کا فاصلہ نہ ہو تو بعد میں قائم ہونے والی نماز جمعہ باطل ہے اور اگر ایک ہی وقت میں دونوں کو اکٹھا قائم کیا جائے تو دونوں باطل ہیں
       
      س ٦۲۴: کیا نماز جمعہ، جو جماعت کے ساتھ قائم کی جاتی ہے، کو فرادیٰ پڑھنا صحیح ہے؟ اس طرح کہ کوئی شخص نماز جمعہ کو ان لوگوں کے ساتھ فرادیٰ پڑھے جو اسے جماعت سے پڑھ رہے ہوں؟
      ج: نماز جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اسے جماعت سے پڑھا جائے، لہذا فرادیٰ صورت میں جمعہ صحیح نہیں ہے۔
       
      س ٦٢۵: جس شخص کی نماز قصر ہے کیا وہ امام جمعہ کے پیچھے نماز جمعہ پڑھ سکتا ہے ؟
      ج: مسافرماموم کی نماز جمعہ صحیح ہے اور اسے ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
       
      س ٦٢۶: کیا دوسرے خطبہ میں حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کا اسم گرامی مسلمانوں کے ایک امام کے عنوان سے لینا واجب ہے یاآپ کا نام لینے میں استحباب کی نیت ضروری ہے؟
      ج: ائمہ مسلمین کا عنوان حضرت زہراء مرضیہ سلام اللہ علیھا کو شامل نہیں ہے اور خطبۂ جمعہ میں آپکا اسم گرامی لینا واجب نہیں ہے، لیکن برکت کے طور پر آپ کے نام مبارک کو ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ پسندیدہ امر ہے اور موجب ثواب ہے
       
      س ٦٢۷: کیا ماموم، امام جمعہ کی اقتداء کرتے ہوئے جبکہ وہ نماز جمعہ پڑھ رہا ہو کوئی دوسری واجب نماز پڑھ سکتا ہے؟
      ج: اس کا صحیح ہونا محل اشکال ہے۔
       
      س ٦٢۸: کیا ظہر کے شرعی وقت سے پہلے نماز جمعہ کے خطبے دینا صحیح ہے؟
      ج: زوال سے پہلے جائز ہے لیکناحتیاط یہ ہے کہ ان کا کچھ حصہ وقت ظہر میں واقع ہو۔
       
      س ٦٢۹: اگر ماموم دونوں خطبوں میں سے کچھ بھی نہ سنے بلکہ اثنائے نماز جمعہ میں پہنچے اور امام کی اقتداء کرے تو کیا اس کی نماز صحیح اور کافی ہے؟
      ج: اس کی نماز صحیح اور کافی ہے، خواہ اس نے نماز جمعہ کی دوسری رکعت کے رکوع میں ہی شرکت کر لی ہو۔
       
      س ٦۳۰: ہمارے شہر میں اذان ظہر کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد نماز جمعہ قائم ہوتی ہے تو کیا یہ نماز، نماز ظہر سے کافی ہے یا نماز ظہر کا اعادہ ضروری ہے؟
      ج: زوال آفتاب کے ساتھ ہی نماز جمعہ کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور احتیاط یہ ہے کہ زوال عرفی سے تقریباً ایک ، دو گھنٹہ سے زیادہ تاخیر نہ کرے۔
       
      س ٦۳۱: ایک شخص نماز جمعہ میں جانے کی طاقت نہیں رکھتا تو کیا وہ اوائل وقت میں نماز ظہر و عصر پڑھ سکتا ہے؟ یا نماز جمعہ ختم ہونے کا انتظار کرے اور اس کے بعد نماز ظہر و عصر پڑھے؟
      ج: اس پر انتظار واجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اول وقت میں نماز ظہرین پڑھنا جائز ہے۔
       
      س ٦۳۲: اگر منصوب امام جمعہ صحیح و سالم ہو اور وہاں پر حاضر بھی ہو تو کیا وہ عارضی امام جمعہ کو نماز جمعہ پڑھانے کے لئے کہہ سکتا ہے؟ اور کیا وہ عارضی امام جمعہ کی اقتداء کر سکتا ہے؟
      ج: منصوب امام جمعہ کے نائب کی امامت میں نماز جمعہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی منصوب امام کے لئے اپنے نائب کی اقتداء کرنے میں کوئی اشکال ہے۔
    • نماز عیدین
    • نماز مسافر
    • جس شخص کا پيشہ يا پينشے کا مقدمہ سفر ہو
    • طلبہ کا حکم
    • قصد مسافرت اور دس دن کی نیت
    • حد ترخص
    • سفر معصیت
    • احکام وطن
    • بیوی بچوں کی تابعیت
    • بڑے شہروں کے احکام
    • نماز اجارہ
    • نماز آیات
    • نوافل
    • نماز کے متفرقہ احکام
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /