ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
    • اہمیت اور شرائط نماز
    • اوقات نماز
    • قبلہ کے احکام
    • نماز کی جگہ کے احکام
    • مسجد کے احکام
    • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
    • نماز گزار کالباس
    • سونے چاندی کا استعمال
    • اذان و اقامت
    • قرأت اور اس کے احکام
    • ذکرنماز
    • سجدہ اور اس کے احکام
    • مبطلات نماز
    • جواب سلام کے احکام
    • شکیات نماز
    • قضا نماز
      پرنٹ  ;  PDF
       
      قضا نماز
       
      س ٥۲۴: میں سترہ سال کی عمر تک احتلام اور غسل و غیرہ کے بارے میں نہیں جانتا تھا اور ان امور کے متعلق کسی سے بھی کوئی بات نہیں سنی تھی، خود بھی جنابت اور غسل واجب ہونے کے معنی نہیں سمجھتا تھا، لہذا کیا اس عمر تک میرے روزے اور نمازوں میں اشکال ہے، آپ مجھے اس فریضہ سے مطلع فرمائیں جس کا انجام دینا میرے اوپر واجب ہے؟
      ج: ان تمام نمازوں کی قضا واجب ہے جو آپ نے جنابت کی حالت میں پڑھی ہیں، لیکن اصل جنابت کا علم نہ ہونے کی صورت میں آپ نے جو روزے جنابت کی حالت میں رکھے ہیں وہ صحیح اور کافی ہیں اور ان کی قضا واجب نہیں ہے۔
       
      س ٥٢۵: افسوس کہ میں جہالت اور ضعیف الارادہ ہونے کی وجہ سے استمناء کیا کرتا تھا جس کے باعث بعض اوقات نماز نہیں پڑھتا تھا، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ میں نے کتنی مدت تک نماز ترک کی ہے،میرا نماز نہ پڑھنا مسلسل نہیں تھا بلکہ صرف ان اوقات میں نماز نہیں پڑھتا تھا جن میں مجنب ہوتا تھا اور غسل نہیں کر پاتا تھا میرے خیال میں تقریبا چھ ماہ کی نماز چھوٹی ہوگی اور میں نے اس مدت کی قضا نمازوں کو بجا لانے کا ارادہ کر لیا ہے، کیا ان نمازوں کی قضا واجب ہے یا نہیں؟
      ج: جتنی پنجگانہ نمازوں کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ ادا نہیں کی ہیں یا حالت جنابت میں پڑھی ہیں، ان کی قضا واجب ہے۔
       
      س ٥٢۶: جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے ذمہ قضا نمازیں ہیں یا نہیں اگر بالفرض اس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں تو کیا اس کی مستحب اور نافلہ کے طور پر پڑھی ہوئی نمازیں، قضا نمازیں شمار ہو جائیں گی؟
      ج: نوافل اور مستحب نمازیں، قضا نمازیں شمار نہیں ہوں گے، اگر اس کے ذمہ قضا نمازیں ہیں تو ان کو قضا کی نیت سے پڑھنا واجب ہے۔
       
      س٥٢۷: میں تقریباً چھ ماہ قبل بالغ ہوا ہوں اور بالغ ہونے سے چند ہفتے پہلے تک میں یہ سمجھتا تھا کہ بلوغ کی علامت، صرف قمری حساب سے پندرہ سال کا مکمل ہونا ہے۔ مگر میں نے اب ایک کتاب کا مطالعہ کیا ہے جس میں لڑکوں کے بلوغ کی دیگر علامات بیان ہوئی ہیں،جو مجھ میں پائی جاتی تھیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ یہ علامتیں کب سے شروع ہوئی ہیں، کیا اب میرے ذمہ نماز و روزہ کی قضا ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ میں کبھی کبھی نماز پڑھتا تھا اور گزشتہ سال ماہ رمضان کے مکمل روزے میں نے رکھے ہیں لہذا میری ذمہ داری کیا ہے؟
      ج: ان تمام روزوں اور نمازوں کی قضا واجب ہے جن کے شرعی طور پر بالغ ہونے کے بعد، چھوٹ جانے کا یقین ہو۔
       
      س٥٢۸: اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں تین غسل جنابت انجام دے، مثلاً ایک غسل بیس تاریخ کو، دوسرا پچیس تاریخ کو اور تیسرا ستائیس تاریخ کو انجام دے، اور اسے یہ یقین ہو جائے کہ ان میں سے ایک غسل باطل تھا، تو اس شخص کے نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے؟
      ج: روزے صحیح ہیں، لیکن احتیاط کی بنا پر نماز کی قضا اس طرح واجب ہے کہ اسے بری الذمہ ہونے کا یقین حاصل ہو جائے۔
       
      س ٥٢۹: ایک شخص نے ایک عرصہ تک حکم شرعی سے لاعلمی کی بنا پر غسل جنابت میں ترتیب کی رعایت نہیں کی تو اس کی نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر غسل اس طرح انجام دیا ہو جو شرعاً باطل ہو تو جو نمازیں اس نے حدث اکبر کی حالت میں پڑھی ہیں ان کی قضا واجب ہے، لیکن اس کے روزوں کی صحت کا حکم لگایا جائیگا اگر وہ اس وقت اپنے غسل کو صحیح سمجھتا تھا ۔
       
      س ٥۳۰: جو شخص ایک سال کی قضا نماز یں پڑھنا چاہتا ہے اسے کس طرح قضا کرنی چاہیے؟
      ج: وہ کسی ایک نماز کو شروع کرے اور پھر انہیں نماز پنجگانہ کی ترتیب سے پڑھتا رہے؟
       
      س٥۳۱: اگر کسی شخص پر کافی عرصے کی قضا نمازیں واجب ہوں توکیا وہ درج ذیل ترتیب کے مطابق ان کی قضا کر سکتا ہے؟
      ١) صبح کی مثلا بیس نمازیں پڑھے۔
      ٢) ظہر و عصر میں سے ہر ایک کی بیس بیس نمازیں پڑھے۔
      ٣) مغرب و عشاء میں سے ہر ایک کی بیس بیس نمازیں پڑھے اور سال بھر اسی طریقہ پر عمل پیرا رہے۔
      ج: مذکورہ طریقہ سے قضا نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س٥۳۲: ایک شخص کا سر زخمی ہو گیا ہے اور یہ زخم اس کے دماغ تک جا پہنچا ہے اس کے نتیجہ میں اس کا ہاتھ، بایاں پیر اور زبان شل ہو گئی ہے چنانچہ وہ نماز کا طریقہ بھول گیا ہے اور وہ اسے دوبارہ سیکھ بھی نہیں سکتا ہے، لیکن کتاب سے پڑھ کر یا کیسٹ سے سن کر نماز کے مختلف اجزاء کو سمجھ سکتا ہے، اس وقت نماز کے سلسلہ میں اس کے سامنے دومشکلیں ہیں:
      ١) وہ پیشاب کے بعد طہارت نہیں کرسکتا اور نہ ہی وضو کر سکتا ہے۔
      ٢) نماز میں قرأت اس کے لئے مشکل ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور اسی طرح تقریبا چھ ماہ سے اس کی جو نماز یں چھوٹ گئی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر وضو یا تیمم کر سکتا ہوخواہ دوسروں کی مدد سے ہی تو واجب ہے کہ وہ جس طرح نماز پڑھ سکے، نماز پڑھے، چاہے کیسٹ سن کر یا کتاب میں دیکھ کر یاکسی اور طریقہ سے۔ اور اگر بدن کا پاک کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے حتی کہ کسی دوسرے کی مدد سے بھی تو اسی نجس بدن کے ساتھ نماز پڑھے اور اسکی نماز صحیح ہے اور گزشتہ فوت ہو جانے والی نمازوں کی قضا واجب ہے، مگر جس نماز کے پورے وقت میں وہ بے ہوش رہا ہو تو اس کی قضا واجب نہیں ہے۔
       
      س٥۳۳: جوانی کے زمانہ میں مغرب و عشاء اور صبح کی نماز سے زیادہ میں نے ظہر و عصر کی نمازیں قضا کی ہیں، لیکن نہ میں ان کے تسلسل کو جانتا ہوں نہ ترتیب کو اور نہ ان کی تعداد کو، کیا اس موقع پر اسے نماز "دور" پڑھنا ہوگی؟ اور نماز "دور" کیا ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
      ج: قضا نمازوں میں ترتیب کی رعایت کرنا واجب نہیں ہے سوائے ایک دن کی ظہر و عصر اور مغرب و عشا کے اور جتنی نمازوں کے فوت ہونے کا آپ کو یقین ہو انہی کی قضا بجا لانا کافی ہے اور ترتیب کے حصول کے لئے آپ پر دوریعنی اس طرح نمازوں کا تکرار کرنا کہ انکے در میا ن ترتیب کا علم ہوجائے واجب نہیں ہے۔
       
      س ٥۳۴: شادی کے بعد کبھی کبھی مجھ سے ایک قسم کا بہنے والا مادہ نکلتا تھا، جسے میں نجس سمجھتا تھا۔ اس لئے غسل جنابت کی نیت سے غسل کرتا اور پھر وضو کے بغیر نماز پڑھتا تھا، توضیح المسائل میں اس بہنے والے مادہ کو "مذی" کا نام دیا گیا ہے، اب یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ جو نمازیں میں نے مجنب ہوئے بغیر غسل جنابت کر کے بغیر وضو کے پڑھی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
      ج: وہ تمام نمازیں جو آپ نے بہنے والے مادہ کے نکلنے کے بعد غسل جنابت کر کے وضو کئے بغیر ادا کی ہیں، ان کی قضا واجب ہے۔
       
      س ٥٣۵: کافر اگر بالغ ہونے کے کچھ عرصہ بعد اسلام لائے تو کیا اس پر ان نمازوں اور روزوں کی قضا واجب ہے؟ جو اس نے ادا نہیں کیے ہیں؟
      ج: واجب نہیں ہے۔
       
      س ٥٣۶: بعض اشخاص نے کمیونسٹوں کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کے زیر اثر کئی سال تک اپنی نماز اور دیگر واجبات ترک کر دئیے تھے، لیکن امام خمینی کی طرف سے سابق سوویت یونین کے حکمرانوں کے نام تاریخی پیغام کے آنے کے بعد انہوں نے خدا سے توبہ کر لی ہے اور انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور اب وہ چھوٹ جانے والے تمام واجبات کی قضا نہیں کر سکتے، ان کا کیا فریضہ ہے؟
      ج: جتنی مقدار میں بھی ممکن ہو ان پر چھوٹ جانے والی نماز اور روزوں کی قضا کرنا واجب ہے اور جس مقدار پر قادر نہیں ہیں اسکی وصیت کرنا ضروری ہے۔
       
      س٥٣۷: ایک شخص فوت ہو گیا ہے اور اس کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے اور قضا نمازیں ہیں اور اس کا کوئی بیٹا بھی نہیں ہے لیکن اس نے کچھ مال چھوڑا ہے کہ جو نماز اور روزوں میں سے صرف ایک کی قضا کیلئے کافی ہے تو اس صورت میں کس کو مقدم کیا جائے؟
      ج: نماز اور روزہ میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں ہے،اور وارثوں پر واجب نہیں ہے کہ اسکے ترکہ کو اسکی نماز اور روزوں کی قضا کے لئے خرچ کریں مگر یہ کہ اس نے اسکی وصیت کی ہو تو اسکے ایک تہائی تر کہ سے اسکی جتنی نمازوں اور روزوں کی قضا کیلئے کسی کو اجیر بنانا ممکن ہے اجیر بنائیں۔
       
      س ٥٣۸: میں زیادہ تر نمازیں پڑھتا رہا ہوں اورچھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا کرتا رہا ہوں۔ یہ چھوٹ جانے والی نمازیں وہ ہیں جن کے اوقات میں، میں سو رہا تھا یا اسوقت میرا بدن و لباس نجس تھا کہ جن کا پاک کرنا دشوار تھا، لہذا نماز پنجگانہ، نماز قصر اور نماز آیات میں سے اپنے ذمے میں موجود نمازوں کا حساب کیسے لگاؤں؟
      ج: جتنی نمازوں کے چھوٹ جانے کا یقین ہو انہی کی قضا بجالاناکافی ہے اور ان میں سے جتنی مقدار کے بارے میں آپ کو یہ یقین ہو کہ وہ قصر ہیں یا نماز آیات، تو انہیں اپنے یقین کے مطابق بجا لائیے اور باقی کو نماز پنجگانہ کے طور پر پڑھیے اس سے زیادہ آپ کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے۔
    • ماں باپ کی قضا نمازیں
    • نماز جماعت
    • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
    • معذور کی امامت
    • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
    • اہل سنت کی اقتداء
    • نماز جمعہ
    • نماز عیدین
    • نماز مسافر
    • جس شخص کا پيشہ يا پينشے کا مقدمہ سفر ہو
    • طلبہ کا حکم
    • قصد مسافرت اور دس دن کی نیت
    • حد ترخص
    • سفر معصیت
    • احکام وطن
    • بیوی بچوں کی تابعیت
    • بڑے شہروں کے احکام
    • نماز اجارہ
    • نماز آیات
    • نوافل
    • نماز کے متفرقہ احکام
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /