ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
    • وقف کے احکام
    • متولی وقف کے شرائط
      پرنٹ  ;  PDF
       
      متولی وقف کے شرائط
       
      س 2001: جو متولی وقف ، واقف یا حاکم کی طرف سے منصوب ہوا ہے کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ جو کام وقف کے امور کو چلانے کیلئے انجام دیتاہے انکی اجرت لے یا کسی دوسرے کو کام کرنے کی اجرت دے تا کہ وہ اسکی نیابت میں اس کام کو انجام دے؟
      ج: متولی چاہے واقف کی طرف سے منصوب ہوا ہو یا حاکم کی طرف سے اگر وقف کے امور کو چلانے کے بدلے میں واقف کی طرف سے اسکی کوئی خاص اجرت معین نہیں کی گئی تو وہ وقف کی آمدنی سے اجرة المثل (مناسب اجرت )لے سکتاہے۔
       
      س 2002:سیشن کورٹ نے ایک شخص کو متولی کے ہمراہ وقف کے امور پر نظارت اور دیکھ بھال کی غرض سے امین کے طور پر منصوب کیا ہے اس قسم کے موارد میں اگر متولی اپنے بعد والے متولی کو معین کرنے کا حق رکھتاہو تو کیا وہ اس شخص کے مشورے کے بغیر متولی معین کرسکتاہے جسے عدالت نے منصوب کیا ہے ؟
      ج: اگر عدالت کی طرف سے شرعی متولی کے ہمراہ امین کے رکھنے کا حکم عام ہو اور اسکے تمام کاموں پر نظارت کی غرض سے ہو کہ جو وقف سے متعلق تمام امور حتی کہ اپنے بعد متولی معین کرنے کو بھی شامل ہے تو اسے حق نہیں ہے کہ وہ ناظر کے مشورے کے بغیر اپنے طور پر کسی کو متولی مقرر کرے۔
       
      س 2003: مسجد کے پڑوس میں رہنے والے لوگوں نے مفت میں اپنی زمینیں اورگھر مسجد کی توسیع کی غرض سے دے دیئے ہیں تا کہ اسکے ساتھ ملحق ہوجائیں اور علماء کے ساتھ مشورے کے بعد امام جمعہ انکے وقف کیلئے علیحدہ طور پر دستاویز تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان تمام لوگوں نے اس امر پر موافقت کی جنہوں نے مسجد کو وہ زمینیں بخشی ہیں لیکن مسجد کا پرانا بانی اس امر کی مخالفت کرتاہے اور اس کا یہ مطالبہ ہے کہ نئی زمین کاوقف ،وقف کی پہلی دستاویز میں ہی درج ہو اور وہ خود اس پورے وقف کا متولی ہو کیا اسے ایسا کرنے کا حق ہے ؟ اور کیا اسکے مطالبہ کا مثبت جواب دینا ہم پر واجب ہے ؟
      ج: نئی زمینیں جو مسجد کے نام وقف ہوئی ہیں انکے وقف اور وقف نامہ کے مرتب کرنے اور خاص متولی کو مقرر کرنے کا اختیار ان زمینوں کے وقف کرنے والوں کے ہاتھ میں ہے اورسابقہ مسجد کے بانی کو ان کی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے۔
       
      س 200٤: اگر امام بارگاہ کے متولی وقف نامہ مکمل ہونے کے بعد اسکے لیئے ایک اندرونی نظام اور لائحہ عمل مرتب کریں لیکن اسکے بعض ضوابط وقف کی غرض و غایت کے ساتھ ٹکرارہے ہوں تو کیا شرعی طور پر ان ضوابط پر عمل جائز ہے؟
      ج: موقوفہ امامبارگاہ کے متولی کو حق نہیں ہے کہ وہ ایسے ضوابط بنائے جن کا وقف کی غرض و غایت کے ساتھ ٹکراؤ ہو اور شرعاً ان پر عمل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
       
      س 200٥: اگر چند افراد وقف کے متولی کے طور پر منصوب ہوئے ہوں تو کیا شرعی طور پر صحیح ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کی رائے لیئے بغیر انفرادی طور پر وقف کے امور کے ذمہ داربن جائیں اور اگر انکے درمیان وقف کے امور میں اختلاف ہوجائے تو کیا ان میں سے ہر ایک کے لیئے جائز ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرے یا یہ کہ واجب ہے کہ وہ اس سلسلے کوروک کرحاکم کی طرف رجوع کریں؟
      ج: اگر واقف نے انکی تولیت کو مطلق طور پر بیان کیا ہے اور کوئی ایسا قرینہ بھی موجود نہیں ہے جو ان میں سے بعض یا حتی اکثریت کے استقلال پر دلالت کرے تو ان میں سے کسی کو بھی وقف کے امور میں مستقل طور پر عمل کرنے کاحق حاصل نہیں ہے بلکہ انکے لیئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مشورے کے ساتھ مل کر وقف کے امور کو چلائیں اور اگر انکے درمیان اختلاف پید ا ہوجائے تو واجب ہے کہ وہ حاکم شرع کے پاس رجوع کریں تا کہ وہ انہیں مل کر کام کرنے کا پابند بنائے۔
       
      س200٦: کیا وقف کے بعض متولیوں کا دوسرے بعض کو معزول کرنا شرعی طور پر صحیح ہے؟
      ج: صحیح نہیں ہے مگر یہ کہ واقف کی طرف سے اسے یہ حق دیا گیا ہو ۔
       
      س 200٧: اگر بعض متولی دعویٰ کریں کہ دوسرے متولی خائن ہیں اور وہ انکے معزول کرنے پر اصرار کریں تو اس سلسلے میں حکم شرعی کیا ہے؟
      ج: وہ لوگ جن پر خیانت کا الزام ہے انکے الزام کی تحقیق کیلئے حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔
       
      س200٨: اگر ایک شخص اپنی زمین کو وقف عام کرے اور جب تک زندہ ہے اسکی تولیت اپنے پاس رکھے اور اپنے مرنے کے بعد بڑے بیٹے کو اس کا متولی بنائے اور اس کے امور کو چلانے کیلئے اسے مخصوص اختیارات بھی دے تو کیا محکمہ اوقاف کے افسران کو یہ حق ہے کہ اس سے ان میں سے بعض اختیارات چھیں لیں؟
      ج: جب تک واقف کی طرف سے منصوب متولی ،وقف کی تولیت کے اختیارات سے خارج ہوکر عمل نہ کرے وقف کے امور کی دیکھ بھال اسی کے اختیار میں رہے گی جیسا کہ واقف نے اسکے لیئے انشاء وقف میں مقرر کیا ہے اور شرعی لحاظ سے اسکے اختیارات جو واقف کی طرف سے صیغہ وقف کے ضمن میں قرار دیئے گئے ہیں میں تبدیلی کرنا صحیح نہیں ہے۔
       
      س 200٩: کسی شخص نے زمین کا ایک حصہ مسجد کیلئے وقف کیا ہے اور اسکی تولیت اپنی اولاد کیلئے نسل در نسل قرار دی ہے اور انکے ختم ہوجانے کے بعد اسکی تولیت اس پیش نماز کے ہاتھ میں قرار دی ہے جو اس مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھاتا ہو اور اسی بنیاد پر متولی کی نسل کے ختم ہوجانے کے بعد اس مسجد کی تولیت اس پیش نماز کے ہاتھ میں آگئی جو اس میں کچھ عرصہ پانچ وقت کی نماز پڑھاتاتھا لیکن اسے بھی اٹیک ہوگیا ہے اور وہ نماز باجماعت پڑھانے کی قدرت نہیں رکھتااور پیشنمازوں کی شوریٰ نے اس پیش نماز کی جگہ ایک دوسرے عالم دین کو اس مسجد میں امام جماعت مقرر کیا ہے کیا اس کام کے ذریعے پہلا عالم تولیت سے معزول ہوجائے گا یا اسے حق ہے کہ وہ کسی کو نماز جماعت پڑھانے کیلئے اپنا وکیل یا نائب مقرر کردے اور خود متولی کے عنوان سے باقی رہے؟
      ج: اگر فرض یہ ہو کہ اس عالم کی تولیت اس عنوان سے ہے کہ وہ پنجگانہ نمازوں میں مسجد کا امام جماعت ہے تو اگر بیماری یا کسی اور وجہ سے وہ مسجد میں امام جماعت ہونے اور نماز پڑھانے سے معذور ہوجائے تو اسکی تولیت ساقط ہوجائے گی۔
       
      س ٢٠10: ایک شخص نے اپنی املاک کو وقف کیا ہے تا کہ انکی آمدنی کچھ خاص نیک کاموں میں خرچ کی جائے جیسے سادات کی مدد کرنا اور عزاداری قائم کرنااور اسوقت اسکے کرائے میں کہ جو وقف کے منافع کا حصہ ہے اضافہ ہوگیا ہے اور بعض افراد یا ادارے اس وجہ سے کہ انکے پاس وسائل نہیں ہیں یا ثقافتی ، سیاسی، اجتماعی اور دینی وجوہات کی بناپر اس موقوفہ ملک کو بہت ہی کم کرائے پر لینا چاہتے ہیں کیا اوقاف کے ٹرسٹ کے لیئے جائز ہے کہ اسے موجودہ قیمت سے کم کے ساتھ کرائے پر دے؟
      ج: وقف کے امور کے نگران اور شرعی متولی پر واجب ہے کہ وہ وقف کو کرایہ پر دینے اور اسکے کرایہ کو معین کرنے میں اسکی منفعت اور مصلحت کو مدنظر رکھے لہٰذا کرایہ دار کے مخصوص حالات کی وجہ سے یا اس امر کی اہمیت کی وجہ سے کہ جسکے لیئے وقف کوکرایہ پر دیا جارہاہے کرایہ کی قیمت میں کمی کرنے میں اگر وقف کی مصلحت اورفائدہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے اوراگر ایسا نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔
       
      س ٢٠1١: امام راحل (قدس سرہ) کے نظریے کے مطابق مسجد کا متولی نہیں ہوتا کیا یہ حکم ان املاک کو بھی شامل ہے جنہیں مسجد کیلئے وقف کیا گیا ہے مثلا وہ املاک جو مسجد میں وعظ و نصیحت اور احکام اسلام کی تبلیغ کیلئے وقف ہوئی ہیں ؟ بالفرض اگر شامل ہے تو اس وقت بہت سی مسجدوں کی ایسی موقوفہ املاک ہیں کہ جنکے قانونی اور شرعی طور پر دائمی متولی بھی ہیں اور محکمہ اوقاف بھی انکے ساتھ متولی جیسا سلوک کرتاہے تو کیا ان متولیوں کیلئے جائز ہے کہ وہ ان املاک سے دست بردار ہوجائیں اور ان سے متعلق اپنی ذمہ داریاں انجام دینے سے اجتناب کریں جبکہ امام راحل (قدس سرہ) کے استفتاء ات میں یہ نقل ہوا ہے کہ متولی کو وقف کی تولیت سے اعراض کرنے اور دست بردار ہونے کا حق نہیں ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ واقف کی وصیت کے مطابق عمل کرے اور اس سلسلے میں کوتاہی نہ کرے؟
      ج: یہ حکم مسجد سے مخصوص ہے کہ مسجد کا کوئی متولی نہیں ہوسکتا اور ان موقوفات کو شامل نہیں ہے جو مسجد کیلئے وقف کی گئی ہیں لہذا بہ طریق اولیٰ یہ حکم ان موقوفات کو بھی شامل نہیں ہے جو مسجد میں اسلام کی تبلیغ اور وعظ و نصیحت کی خاطر وقف کی گئی ہیں لہذاوقف خاص یا عام میں متولی کا مقرر کرنا ،حتی اس ملک میں بھی کہ جو مسجد کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وقف کی گئی ہے جیسے مسجدکے اندر روشنی ، پانی ، صفائی اور دوسرے لوازمات، کوئی اشکال نہیں رکھتا اور وہ متولی جو ان اوقاف کی نگرانی کیلئے منصوب ہے اسے تولیت سے اعراض کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ وقف کے امور کو اسی طرح چلائے جس طرح واقف نے وقف کے صیغہ میں بیان کیا ہے اگرچہ ان امور کو انجام دینے کیلئے نائب مقرر کرکے اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسکے لیئے وقف کے امور کو چلانے میں رکاوٹ یا مشکلات پیدا کرے۔
       
      س ٢٠1٢: کیا وقف کے شرعی متولی کے علاوہ کسی اور شخص کیلئے وقف کے امور میں مداخلت ، اس میں تصرف اور اسکے ان شرائط میں کہ جو وقف کے صیغہ میں ذکر ہوئے ہیں تبدیلی کرکے شرعی متولی کیلئے رکاوٹ پیدا کرنا جائز ہے اور کیا اسکے لیئے جائز ہے کہ متولی سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ موقوفہ زمین ایسے شخص کی تحویل میں دے جسے متولی اس کام کے لائق نہیں سمجھتا؟
      ج: واقف کی ان شرائط کے مطابق جو وقف کے صیغہ میں ذکر ہوئی ہیں وقف کے امور کو چلانا فقط شرعی متولی کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر واقف کی طرف سے وقف کیلئے کوئی خاص متولی منصوب نہ ہوا ہو تو وقف کے امور کوچلانے کی ذمہ داری مسلمانوں کے حاکم کی ہے اور کسی کو اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے اور اسی طرح وقف کی جہت اور اسکی ان شرائط میں تبدیلی کرنے کا بھی کسی کو حق نہیں ہے جو وقف کے صیغہ میں ذکر ہوئے ہیں حتی خود متولی شرعی کو بھی یہ حق نہیں ہے۔
       
      س ٢٠1٣: اگر واقف کسی شخص کو وقف کے نگران اور ناظر کے عنوان سے مقر رکرے اس شرط کے ساتھ کہ اسے فقط ولی فقیہ وقف کی نگرانی اور نظارت سے معزول کرسکتاہے کیا اس شخص کیلئے جائز ہے کہ وہ خود کو اس کام سے معزول کردے؟
      ج: بنابر احتیاط واجب وقف کی نظارت قبول کرنے کے بعد ناظر کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو وقف کی نظارت سے معزول کردے جیسا کہ وقف کے متولی کیلئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو تولیت سے معزول کردے۔
       
      س ٢٠1٤: ایک ایسا وقف ہے کہ جسکا ایک حصہ خاص اور دوسرا عام ہے اور واقف نے اسکی تولیت کیلئے اسطرح کہا ہے " ہر ایک کی وفات کے بعد وقف کی تولیت سب سے بڑے اور لائق ترین بیٹے کے ذمہ نسل در نسل ہے اسطرح کہ پہلی نسل دوسری نسل پر مقدم ہے" اس صورت میں اگر ایک نسل کے افراد کے درمیان ایسا شخص موجود ہو جو جامع الشرائط ہے لیکن وہ وقف کی تولیت قبول کرنے سے انکار کرے اوراس چھوٹے بیٹے کی تولیت پر اتفاق کرے جو اسکی نظر میں اس کام کیلئے سزاوار اورلائق ترین ہے توکیا چھوٹے بیٹے کیلئے جائز ہے کہ تمام شرائط موجود ہونے کی صورت میں وہ اس وقف کی تولیت کو قبول کرے؟
      ج: وہ شخص جس کے اندر تولیت کے شرائط پائے جاتے ہیں وہ تولیت قبول کرنے سے انکار کرسکتاہے لیکن اگر وہ تولیت کو قبول کرلے تو بنابر احتیاط اسکے لیئے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو تولیت سے معزول کرے لیکن اگر خود بلا واسطہ طور پر وقف کے امور کو چلانے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو اس امر میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے دوسرے شخص کو وقف کے امور کو چلانے کیلئے وکیل بنا دے جو امین اور لائق ہو اور اسی طرح اگر پہلی نسل میں ایسا فرد موجود ہو جس میں تولیت قبول کرنے کی شرائط ہوں اور اس نے تولیت کو قبول کرلیا ہوتو بعد والی نسل کے فرد کیلئے تولیت کو قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
       
      س٢٠1٥:جن لوگوں پر وقف کیا گیا ہے اگر ان میں سے وہ افراد کہ جو شرائط کے حامل ہونے کی صورت میں تولیت کا حق رکھتے ہیں حاکم شرع کے پاس رجوع کریں اور اس سے مطالبہ کریں کہ وہ انہیں متولی کے عنوان سے منصوب کرے اور حاکم شرع ان کی درخواست کو اس بناپر مسترد کردے کہ ان میں شرائط موجود نہیں ہیں تو کیا انکے لیئے جائز ہے کہ وہ اس شخص کے مقرر کرنے کی مخالفت کریں جس میں شرائط پائے جاتے ہیں صرف اس بنا پر کہ اسکی عمر کم ہے؟
      ج: جس شخص میں شرائط موجود نہیں ہیں اسے وقف کی تولیت لینے اور جس شخص میں شرائط پائے جاتے ہیں اسکی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے۔
       
      س ٢٠1٦: جو متولی وقف کے امور کو چلانے کیلئے منصوب ہوا ہے اگر وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں میں کوتاہی یا غفلت سے کام لے تو کیا اسے تولیت سے برطرف کرنا اور اسکی جگہ کسی دوسرے فرد کو وقف کی تولیت کیلئے منصوب کرنا جائز ہے؟
      ج: وقف کے امور کو چلانے میں محض غفلت یا کوتاہی کرنا نصب شدہ متولی کو معزول اور برطرف کرنے اور اسکی جگہ کسی دوسرے کو منصوب کرنے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کے بارے میں حاکم شرع کے پاس رجوع کرنا ضروری ہے تا کہ وہ اسے وقف کے امور انجام دینے کا پابند بنائے اور اگر اس کیلئے اسے پابند کرنا ممکن نہ ہو تو اس سے مطالبہ کرے کہ وہ اپنی طرف سے وقف کے امور کو انجام دینے کیلئے کسی لائق شخص کو منتخب کرے یا خود حاکم شرع کسی امین شخص کو اسکے ہمراہ کردے۔
       
      س ٢٠1٧: ائمہ معصومین (ع) کے فرزندوں (امامزادوں) کے ایران کے شہروں اور دیہاتوں میں جو مزارات ہیں کہ جن کو سالہا سال گزر گذر گئے ہیں اور یہ نہ وقف خاص ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی مخصوص متولّی ہے ، توان کی نذورات و خیرات کی جمع آوری اور انکی تعمیر اور حفاظت کے لئے ان میں تصرف کرنے کی ولایت کس کے پاس ہے ؟کیا کسی کو یہ حق ہے کہ وہ امامزادوں کے حرم کی اس زمین کی ملکیت کا دعویٰ کرے جو قدیم زمانے سے جنازوں کے دفن کرنے کی جگہ ہے؟
      ج: امامزادوں کے مزارات مبارکہ اور وقف عام جن کا کوئی خاص متولی نہیں ہے کی تولیت ولی فقیہ کے ہاتھ میں ہے اور موجودہ دور میں یہ تولیت محکمہ اوقاف میں ولی فقیہ کے نمائندے کو سپرد کی گئی ہے اور امامزادوں کے حرم اور صحن کی وہ زمین کہ جسے قدیم زمانے سے مسلمانوں کے جنازے دفن کرنے کیلئے قرار دیا گیا ہے وقف عام کے حکم میں ہے مگر یہ کہ حاکم کے پاس شرعی طریقے سے اسکے برخلاف کوئی چیزثابت ہوجائے۔
       
      س٢٠1٨:جو لوگ وقف سے استفادہ کرتے ہیں اور سب مسلمان ہیں کیا ان کیلئے جائز ہے کہ ہ ایک غیر مسلم کو محکمہ اوقاف کے یہاں متعارف کرائیں تا کہ وہ اسکے متولی ہونے کا حکم صادر کرے؟
      ج: مسلمانوں کے وقف کی تولیت غیر مسلم کے ذریعہ جائز نہیں ہے۔
       
      س ٢٠1٩: واقف کی طرف سے منصوب متولی اور غیر منصوب متولی کون ہوتاہے ؟ اور اگر واقف کسی خاص شخص کو وقف کے متولی کے عنوان سے معین کرے اور بعد والے متولی کی تعیین کا حق اس متولی کو سونپ دے تو کیا وہ دوسرا شخص بھی منصوب متولی شمار ہوگا جسے پہلے متولی نے معین کیا ہے؟
      ج: منصوب متولی وہ شخص ہے کہ جسے واقف ،وقف کا صیغہ انشاء کرتے وقت متولی کے طور پر معین کرے اور اگر وقف کا صیغہ انشاء کرتے وقت بعد والے متولی کی تعیین کا حق اس متولی کو سونپ دے کہ جسے اس نے منصوب کیا ہے اور وہ کسی کو متولی بنادے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور جس شخص کو وہ وقف کی تولیت کیلئے معین کرتاہے وہ بھی واقف کی طرف سے منصوب متولی کے حکم میں ہے۔
       
      س ٢٠2٠: کیا اسلامی جمہوریہ (ایران)کا محکمہ اوقاف وقف کے متولی کو برطرف کرسکتا ہے؟ اور اگر یہ جائز ہو تو اس کے شرائط کیا ہیں ؟
      ج: محکمہ اوقاف اتنی مقدار کہ جتنی قانونی ضوابط اسے اجازت دیتے ہیں ان اوقاف میں مداخلت کرسکتاہے جنکے متولی خاص ہیں ۔
       
      س ٢٠2١: کیا جائز ہے کہ وقف کا متولی اپنی تولیت محکمہ اوقاف کے حوالے کردے؟
      ج: وقف کے متولی کو ایسا کرنے کا حق نہیں ہے لیکن اگر وہ محکمہ اوقاف یا کسی دوسرے شخص کو وقف کے امور انجام دینے کیلئے وکیل بنائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س ٢٠2٢: عدالت نے ایک شخص کو وقف کے اس متولی کے کاموں پر نظارت کے لیئے نگران کے طور پر معین کیا جس پر الزام ہے کہ اس نے وقف کے امور کو چلانے میں کوتاہی کی ہے اور پھر متولی ان الزامات سے بری ہونے کے بعد انتقال کرگیا۔ کیا مذکورہ نگران کو حق حاصل ہے کہ وہ اس متولی کے ان فیصلوں میں ۔ کہ جو اسکے نگران منتخب ہونے سے پہلے انجام پائے ہیں انہیں بر قرار رکھنے اور نافذ کرنے یا انہیں فسخ اور ختم کرنے کے ذریعہ۔مداخلت کرے اور اظہار رائے کرے یا یہ کہ اسکی نظارت اور ذمہ داری صرف اسکے نگران کے طور پر معین ہونے کے وقت سے متولی کی وفات کی تاریخ تک ہے ؟اوراس چیز کے پیش نظر کہ متولی کے الزامات سے بری ہونے کی تاریخ سے لے کر اب تک ناظر کو برطرف نہیں کیا گیا کیا ناظر کے اختیارات اوراسکی ذمہ داری متولی کے الزامات سے بری ہوجانے کے فیصلے کے بعد ختم ہوجاتی ہے یا یہ کہ اسکے اختیارات کا ختم ہونا عدالت کی طرف سے اسے برطرف کرنے پرموقوف ہے؟
      ج: اگر ناظر کا شرعی متولی کے ہمراہ تعین ،وقف کے امور کوچلانے کے سلسلے میں اس پر الزامات کی بناپر ہو تو وہ صرف انہیں امور میں اظہار رائے اور مداخلت کرنے کا حق رکھتاہے جن پر اسے تعینات کیا گیا ہے اورجس متولی پر الزام ہے اس کے امور پر اسکی نظارت کی صلاحیت اسکے الزامات سے بری ہوجانے کے بعد ختم ہوجاتی ہے اور اسی طرح پہلے متولی کی وفات کے بعد جب تولیت دوسرے شخص کو منتقل ہوجائے تو مذکورہ ناظر کو نئے متولی کے کاموں اور وقف کے امور میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔
    • عین موقوفہ کے شرائط
    • موقوف علیہ کے شرائط
    • وقف کی عبارات
    • احکام وقف
    • حبس کے احکام
    • وقف کا بیچنا اور اسے تبدیل کرنا
  • قبرستان کے احکام
700 /