ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
    • وقف کے احکام
    • متولی وقف کے شرائط
    • عین موقوفہ کے شرائط
    • موقوف علیہ کے شرائط
    • وقف کی عبارات
    • احکام وقف
      پرنٹ  ;  PDF
       
      احکام وقف
       
      س ٢٠3٦: کچھ افراد نے متولی خاص کی اجازت کے بغیر جامع مسجد کے مدرسے کے کمرے اور مسجد کے ساتھ متصل امامبارگاہ کے باورچی خانہ کے درمیان واقع لائبریری کو گرا کر اسے مسجد میں شامل کردیا ہے کیا انکا یہ کام صحیح ہے؟ اور کیا اس جگہ نماز پڑھنا جائز ہے؟
      ج: اگر یہ ثابت ہوجائے کہ لائبریری کی زمین صرف لائبریری کیلئے وقف کی گئی ہے تو اسے مسجد میں تبدیل کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے اور اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور جس شخص نے اس عمارت کو گرایا ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اسے پہلی حالت پر لائے۔ لیکن اگر صرف لائبریری کیلئے اس کا وقف ہونا ثابت نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س ٢٠3٧: کیا جائز ہے کسی جگہ کو کچھ مدت مثلا دس سال کیلئے مسجد کے عنوان سے وقف کریں اور اس مدت کے تمام ہونے کے بعد وہ دوبارہ واقف یا اسکے ورثاء کی ملکیت میں لوٹ آئے؟
      ج: یہ کام وقف موقت کے طور پر صحیح نہیں ہے اور اس سے مسجد کا عنوان بھی محقق نہیں ہوتا لیکن اس جگہ کو معینہ مدت تک نماز گزاروں کیلئے مخصوص کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
       
      س ٢٠3٨: ایک موقوفہ زمین ایسے قبرستان کے پاس موجود ہے جو وہاں کے مردوں کے دفن کرنے کیلئے کافی نہیں ہے اور اسے قبرستان میں تبدیل کرنا مناسب ہے کیا اس کا قبرستان میں تبدیل کرنا جائز ہے؟
      ج: جوزمین مردوں کو دفن کرنے کے علاوہ کسی اور کام کیلئے وقف کی گئی ہو اسے بغیر کسی قیمت ادا کئے قبرستان میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر اس کا وقف ، وقف منفعت ہو تو اس کا شرعی متولی وقف کی مصلحت اور فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قبرستان کیلئے کرایہ پر دے سکتاہے۔
       
      س ٢٠3٩: بعض موقوفہ زمینیں :سرکاری عمارتیں ، عمومی پار ک اور سڑکیں بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی حدود میں واقع ہوتی ہیں اور بعض سرکاری ادارے شرعی متولی کی اجازت کے بغیر اور ان کا کرایہ اورقیمت ادا کئے بغیر انہیں اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں کیا انکے لیئے ایسا کرنا جائز ہے؟ کیا وہ شخص جو ان موقوفہ زمینوں میں تصرف کرتاہے اس کیلئے انکی قیمت یا ان کا عوض ادا کرنا ضروری ہے اور کیا اس کیلئے ضروری ہے کہ جس وقت سے اس نے ان میں تصرف کیا ہے اپنے تصرف کی اجرة المثل ادا کرے؟ اور کیا ادارے کے ذریعہ موقوفہ زمین کی قیمت ادا کرنے یا اسکے عوض دوسری زمین دینے میں حاکم شرع سے اجازت لینا واجب ہے یا جائز ہے کہ محکمہ اوقاف یا وقف کا متولی وقف کے فائدے اور مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے انکے ساتھ عوض یا قیمت کے سلسلے میں توافق کرلے؟
      ج: متولی شرعی کی اجازت اور اذن کے بغیر جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص وقف میں تصرف کرے جیسا کہ اگر وقف، وقف منفعت ہو تو اس میں بھی صرف متولی سے کرایہ پر لینے کے بعد تصرف جائز ہے اور اسی طرح اس وقف کا فروخت یا تبدیل کرنا ۔ کہ جس سے وہ انتفاع اور فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ جس کیلئے اسے وقف کیا گیا ہے۔ جائز نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اسے تلف کرے تو وہ اس کا ضامن ہے اور اگر اسکے شرعی متولی کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرے تو وہ اسکی اجرة المثل کا ضامن ہے اور ضروری ہے کہ وہ اجرة المثل وقف کے شرعی متولی کو ادا کرے تا کہ وہ اسے وقف کی جہت میں خرچ کرے اور اس مسئلہ میں اشخاص اورنجی و سرکاری اداروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور وقف کے متولی کے لیئے جائز ہے کہ وہ حاکم شرع کی طرف رجوع کئے بغیر تصرف کرنے والے یا تلف کرنے والے کے ساتھ وقف کی مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے اسکی اجرت یا عوض پر توافق کرلے۔
       
      س ٢٠4٠: ایک موقوفہ زمین میں ایسا راستہ ہے کہ جو فقط مویشیوں کے گزرنے کیلئے مناسب ہے اور اس وقت اسکے پاس گھروں کی تعمیر کی وجہ سے مذکورہ راستے کو چوڑا اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے کیا دونوں طرف سے موقوفہ اور ذاتی زمینوں کو بطور مساوی شامل کرکے اسے وسیع اور چوڑا کرنا جائز ہے اور جائز نہ ہونے کی صورت میں کیا اسکے شرعی متولی سے موقوفہ زمین کی اس مقدار کو کرایہ پر لینا جائز ہے؟
      ج: وقف کی زمین کو گزرنے کے راستے اور سڑک میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ ایسا کرنا ضروری ہوجائے یاخود موقوفہ زمین سے استفادہ کرنے کیلئے اس راستہ کی ضرورت ہو لیکن وقف کی مصلحت کومدنظر رکھتے ہوئے ایسی زمین کو کرایہ پر دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ جس کا وقف، وقف منفعت ہے۔
       
      س ٢٠4١: ایک علاقے کے باشندوں کیلئے بیس سال پہلے ایک زمین وقف ہوئی تا کہ وہ اپنے جنازوں کو وہاں دفن کریں۔ واقف نے اسکی تولیت اپنے پاس رکھی اور اپنے بعد شہر کے ایک عالم دین جس کا نام وقف نامہ میں ہے کوسونپ دی اور مذکورہ عالم دین کے بعد متولی کے انتخاب کا طریقہ کار بھی معین کردیا۔کیا وقف کے موجودہ متولی کو وقف یا اسکے بعض شرائط کو تبدیل کرنے یابعض شرائط کے اضافہ کرنے کا حق ہے ؟ اور اگر یہ تبدیلی اس امر پر اثر انداز ہوجسکے لیئے زمین وقف کی گئی ہے مثلا اسے گاڑیوں کا سٹینڈ بنا دے توکیا اس صورت میں وقف کا موضوع اپنی حالت پر باقی رہے گا؟
      ج: اس فرض کے ساتھ وقف ،قبضہ ہونے کے ساتھ شرعی لحاظ سے نافذ اور واقع ہوگیا ہے لہذا واقف یا متولی کی طرف سے خود اسے یا اسکے بعض شرائط کو تبدیل کرنا یا بعض نئی شرائط کا اضافہ کرنا جائز نہیں ہے اور وقف کو پہلی حالت سے تبدیل کرنے سے اس کا وقف ہونا زائل نہیں ہوتا۔
       
      س ٢٠4٢: ایک شخص نے اپنی دوکان ،مسجد سے وابستہ قرض الحسنہ کا ایک ادارہ قائم کرنے کیلئے وقف کی ہے وہ شخص دنیا سے رحلت کرگیا ہے۔ کئی سال ہوگئے ہیں کہ وہ جگہ بند پڑی ہے اور اب وہ خراب ہونے لگی ہے کیا اس سے دوسرے کاموں میں استفادہ کرنا جائز ہے؟
      ج: اگر دوکان کا وقف قرض الحسنہ کا ادارہ قائم کرنے کیلئے ہو اور اس وقت اس مسجد میں قرض الحسنہ کا ادارہ قائم کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اس جگہ سے دوسری مساجد سے وابستہ قرض الحسنہ کے اداروں کیلئے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو اس سے کسی بھی نیک کام میں استفادہ کرنا جائز ہے۔
       
      س ٢٠4٣: ایک شخص نے زمین کا ایک قطعہ اسکے پانی کے حصے سمیت امام حسین کی اس عزاداری کیلئے وقف کیا ہے جو محرم یا صفر کی کسی ایک رات اور امیر المؤمنین کی شہادت کی شب مسجد "الحی" میں منعقد ہوتی ہے اور بعد میں اپنے ایک وارث کو وصیت کی کہ اس زمین کو وزارت صحت کے اختیار میں دے دے تا کہ اس میں ہسپتال بنایا جائے تو اس کام کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
      ج: وقف کو وقف منفعت سے وقف انتفاع میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے لیکن ہسپتال بنانے کیلئے اسے کرایہ پر دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے بشرطیکہ اس میں وقف کی مصلحت ہو۔
       
      س ٢٠4٤: کیا موقوفہ زمینوں میں امامبارگاہ یا نماز پڑھنے کی جگہ بنا سکتے ہیں؟
      ج: موقوفہ زمینیں مسجد یا امامبارگاہ و غیرہ کے عنوان سے دوبارہ وقف نہیں ہوسکتیں اور کسی کیلئے انہیں مسجد بنانے یا کوئی اور ایسا عمومی ادارہ قائم کرنے کیلئے مفت میں دینا جائز نہیں ہے کہ جسکی لوگوں کو ضرورت ہو۔ لیکن انکا شرعی متولی انہیں مدرسہ ،نماز کی جگہ یا امام بارگاہ بنانے کیلئے کرایہ پر دے سکتاہے اور مذکورہ زمینوں کے کرایہ کی رقم ان امور میں خرچ کی جائیگی جو وقف کیلئے معین ہوئے ہیں ۔
       
      س ٢٠4٥: وقف خاص اور وقف عام سے کیا مراد ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں : وقف خاص کو واقف کی نیت کے برخلاف تبدیل کرنا اور اسے خاص ملکیت میں بدلنا جائز ہے کیا یہ بات صحیح ہے ؟
      ج: وقف کا خاص اور عام ہونا موقوف علیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے لہذا وقف خاص وہ وقف ہے جو کسی معین شخص یا اشخاص کیلئے وقف ہو جیسے اولاد پر وقف کرنا یا زید اور اسکی اولاد پر وقف کرنا۔ وقف عام وہ وقف ہے جو عمومی مصالح اور عمومی جہات کیلئے وقف ہو جیسے مساجد، مدارس اور آرام کرنے کی جگہیں اور انکے مانند دیگر امور،یا کلی عناوین پر وقف ہو جیسے فقراء ، یتیم ، بیمار اور وہ لوگ جن کا زاد راہ ختم ہوگیا ہو ۔ان تین قسموں میں اصل وقف کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ ان میں احکام اور آثار کے لحاظ سے فرق ہے مثلا عمومی مصالح اورجہات کیلئے یا کلی عناوین کیلئے وقف میں صیغہ وقف جاری کرنے کے وقت موقوف علیہم کسے کسی مصداق کا خارج میں موجود ہونا شرط نہیں ہے جبکہ وقف خاص میں یہ امر شرط ہے اسی طرح عمومی مصالح اور جہات کیلئے وقف کہ جو وقفِ انتفاع کی صورت میں ہے جیسے مساجد، مدارس، قبرستان اورپل و غیرہ انہیں کسی بھی صورت میں فروخت کرنا جائز نہیں ہے حتی اگر وہ خراب بھی ہوجائیں لیکن وقف خاص اور کلی عناوین پر وقف جو وقف منفعت کی شکل میں ہے انہیں بعض خاص حالات میں فروخت یا تبدیل کرنا جائز ہے ۔
       
      س ٢٠4٦: قرآن مجید کا ایک خطی نسخہ جو سن ١٢٦٣ ھ ش سے متعلق ہے ایک مسجد کیلئے وقف ہوا ہے اور اس وقت وہ ضائع ہورہاہے کیا اس گرانقدر اور مقدس و نفیس نسخہ کی حفاظت اور جلد کرانے کیلئے شرعی اجازت کی ضرورت ہے؟
      ج: قرآن مجید کی جلد کرانے اور اسکے اوراق اور جلد کو ٹھیک کرانے اور مسجد میں اسکی حفاظت کیلئے حاکم شرع سے کسی خاص اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
       
      س ٢٠4٧: کیا وقف کو غصب کرنا اوراس میں وقف کے امور کے علاوہ تصرف کرنا اجرة المثل کے ضامن ہونے کا سبب بنتاہے؟ اور کیا وقف کو تلف کرنا جیسے اس کی عمارت کوگرا دینا یا موقوفہ زمین کو سڑک میں تبدیل کردینا،اسکی قیمت یا مثل کے ضامن ہونے کا سبب بنتاہے؟
      ج: وقف خاص جیسے اولاد پر وقف اور اسی طرح وہ وقف عام جو وقف منفعت کی صورت میں ہے کو غصب کرنا یا اس میں وقف کے امور کے علاوہ تصرف کرنا یا وقف خاص میں موقوف علیہ کی اجازت کے بغیر اور وقف عام میں شرعی متولی کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا عین اور منفعت کے ضامن ہونے کا سبب بنتاہے اور ان منافع کا عوض دینا بھی ضروری ہے کہ جن کا اس نے اس سے استفادہ کیا ہے یا جن کا استفادہ نہیں کیا۔ اسی طرح اگرخو د وہی مال موجود ہو تو اسکا واپس کرنا اور اگر وہ اسکے ہاتھ میں یا اسکے کسی فعل کے نتیجے میں تلف ہوگیا ہو تو اسکے عوض کو لوٹانا واجب ہے اور منافع کا عوض وقف کے امور میں خرچ کیا جائیگااور خود موقوفہ شے کا عوض اس وقف کے بدلے میں صرف کیا جائے جو تلف ہوگیا ہے اور وہ وقف عام جو وقف انتفاع کی صورت میں ہے جیسے مساجد، سکول،مسافرخانے ،پل ، قبرستان و غیرہ کہ جو عام عناوین اورجہات پر وقف ہیں تا کہ موقوف علیہ ان سے انتفاع حاصل کریں اگر انہیں کوئی غصب کرلے یا انہیں ان اموراور منافع کے علاہ میں صرف کرے جنکے لیئے وہ وقف کئے گئے ہیں تو ضروری ہے کہ سکول، مسافرخانوں اور حماموں میں تصرف کرنے کی اجرة المثل ادا کرے البتہ مسجدوں، پلوں ، قبرستانوں اور زیارتگاہوں میں تصرف کرنے کی اجرة المثل کا ضامن نہیں ہے اور اگر خود ان موقوفات کو تلف کردے تو انکی قیمت یا مثل ادا کرے تا کہ انہیں تلف شدہ وقف کے بدلے میں خرچ کیا جائے۔
       
      س ٢٠4٨: ایک شخص نے اپنی ملک گاؤں میں سید الشہداء کی عزاداری قائم کرنے کیلئے وقف کی ہے لیکن اس وقت وقف کا متولی مذکورہ گاؤں میں عزاداری قائم کرنے کی توانائی نہیں رکھتاکیا اس کیلئے جائز ہے کہ جس شہر میں وہ رہتاہے وہاں مجالس عزاداری برپا کرے؟
      ج: اگر اسی گاؤں میں عزاداری برپا کرنے کیلئے وقف مخصوص ہو توجب تک وقف کے مطابق عمل کرنا ممکن ہو اگر چہ اس کام کیلئے کسی کو وکیل بناکر ،تو اسے ان مجالس عزاداری کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ کسی شخص کو نائب بنائے تا کہ وہ اس گاؤں میں مجالس عزاداری برپاکرے۔
       
      س٢٠4٩: کیا مسجد کے ہمسایوں کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کے لوہے کو ویلڈ کرنے کیلئے مسجد کی بجلی سے استفادہ کریں اور خرچ شدہ بجلی کی قیمت بلکہ اس سے زیادہ مسجد کی انتظامیہ کو ادا کردیں؟ اور کیا مسجد کی انتظامیہ کیلئے جائز ہے کہ وہ اسکی بجلی سے استفادہ کرنے کی اجازت دے؟
      ج: مسجد کی بجلی سے ذاتی کاموں میں استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور مسجد کی انتظامیہ کیلئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی اجازت دے۔
       
      س ٢٠5٠: پانی کا ایک موقوفہ چشمہ ہے جس سے لوگ کئی سالوں سے استفادہ کررہے ہیں کیا اس سے مختلف جگہوں یا ذاتی گھروں میں پائپ لے جانا جائز ہے؟
      ج: اگر اس میں پائپ لگانے سے وقف میں تبدیلی یا اس سے وقف کے امور کے علاوہ میں انتفاع نہ ہو اور اسکے پانی سے دیگر موقوف علیہ محروم نہ ہوں تو کوئی اشکال نہیں ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔
       
      س ٢٠5١:ایک زمین عزاداری اور دینی طلبا کیلئے وقف ہوئی ہے یہ زمین گاؤں کے اصلی راستے کے کنارے واقع ہے اس وقت گاؤں کے بعض باشندے یہ چاہتے ہیں کہ اس میں دوسرا راستہ بنائیں جو مذکورہ زمین کے دوسری طرف میں واقع ہوگا بالفرض اگر یہ راستہ بنانے سے زمین کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہو تو کیا یہ کام انجام دینا جائز ہے ؟
      ج: موقوفہ زمین میں راستہ بنانے کی وجہ سے اسکی قیمت میں اضافہ ہوجانا اس زمین میں تصرف یا اسے راستہ میں تبدیل کرنے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتا۔
       
      س ٢٠5٢: مسجد کے پاس ایک گھر ہے اور اسکے مالک نے اسے مسجد کے امام جماعت کیلئے وقف کیا ہے لیکن وہ گھر اس وقت فیملی کے بڑا ہونے اوررجوع کرنے والوں کی کثرت اور دیگر وجوہات کی بنا پر امام جماعت کے رہنے کیلئے مناسب نہیں ہے اور امام جماعت کا اپنا مکان بھی ہے جس میں وہ رہتا ہے لیکن اسکی تعمیر کی ضرورت ہے اور اس نے اس کی تعمیر کیلئے کچھ قرضہ لیاہے۔ کیا جائز ہے کہ وہ موقوفہ گھر کو کرایہ پر دے کر اسکے کرایہ کی رقم سے اپنے مکان کی تعمیر اوراسکی خاطر لیئے گئے قرض کو ادا کرے؟
      ج: اگر وہ گھر وقف انتفاع کی صورت میں مسجد کے امام جماعت کے رہنے کیلئے وقف ہوا ہے تو امام جماعت کو وہ گھر کرایہ پر دینے کا حق حاصل نہیں ہے اگر چہ اسکی نیت یہ ہو کہ وہ اسکے کرایہ سے اپنے گھر کی تعمیر اور اسکا قرض ادا کرے اور اگر وہ گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے انکے رہنے کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا تو اس سے شب و روز کے بعض اوقات میں استفادہ کریں مثلا اس سے رجوع کرنے والوں سے ملاقات کیلئے استفادہ کریں یا یہ کہ مذکور ہ گھر کسی دوسرے پیش نماز کو دے دیں تا کہ وہ اس میں رہے۔
       
      س ٢٠5٣: ایک مسافرخانے کی عمارت جو آرام کرنے کیلئے قافلوں کو کرایہ پر دی جاتی ہے وقف ہے اور اسکی تولیت اس مسافرخانے کے سامنے واقع مسجد کے موجودہ امام جماعت کے پاس ہے اورچونکہ مسئلہ صحیح انداز سے مراجع عظام کے سامنے پیش نہیں ہوا اسلئے مسافرخانے کی عمارت خراب ہوگئی اور اسکی جگہ ایک امام بارگاہ تعمیر کی گئی ہے کیا اس جگہ کے منافع،تبدیل کرنے سے پہلے والی صورت پر باقی رہیں گے؟
      ج: وہ مسافرخانہ جو وقف منفعت ہے اسے امام بارگاہ میں تبدیل کرنا جو کہ وقف انتفاع ہے جائز نہیں ہے بلکہ مسافرخانے کی عمارت کو پہلی حالت پر پلٹا دینا ضروری ہے تا کہ وہ مسافروں اور کاروانوں کو کرایہ پر دی جائے اور اسکے کرایہ کی رقم انھیں امور میں خرچ کی جائے جنہیں واقف نے معین کیا ہے لیکن اگر اسکا شرعی متولی تشخیص دے کہ وقف کی مختصر مدت اور طولانی مدت کی مصلحت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس جگہ کو موجودہ صورت میں دینی امور کو بر پا کرنے کیلئے کرایہ پر دیا جائے اور اسکا کرایہ وقف کے امور میں خرچ کیا جائے تو یہ کام جائز ہے۔
       
      س ٢٠5٤: کیا اس دوکان کی پگڑی کو فروخت کرنا جائز ہے جو مسجد کے صحن کی زمین میں بنائی گئی ہے؟
      ج: اگر مسجد کے صحن میں دوکان بنانا شرعی طور پر جائز تھا تو وقف کی مصلحت اور اسکے منافع کے پیش نظر اور وقف کے شرعی متولی کی اجازت سے اس کی پگڑی کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگرایسا نہ ہو تو واجب ہے کہ دوکان کو گرادیا جائے اور اسکی زمین کو پہلے کی طرح مسجد کے صحن میں شامل کر دیا جائے۔
       
      س ٢٠5٥: بعض اوقات سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ڈیم ،پاورسٹیشن اور عمومی پارک و غیرہ بنانے کیلئے منصوبہ بندی اور دیگر فنی امور کے پیش نظر موقوفہ زمینوں میں تصرف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا ان منصوبوں کو عملی کرنے والے پر وقف کی اجرت یا اس کا عوض ادا کرنا شرعاً لازم ہے؟
      ج: وقف خاص میں وقف کو خریدنے یا اسے کرایہ پر لینے کیلئے ان لوگوں کی طرف رجوع کرناضروری ہے جنکے نام وقف کیا گیا ہے اور وہ وقف عام جو عمومی عناوین کیلئے وقف منفعت کی صورت میں وقف ہو تاکہ اسکے منافع وقف کے امور میں خرچ کئے جائیں اس میں تصرف کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے اسکے شرعی متولی سے کرائے پر لیا جائے اور کرایہ کی رقم بھی اسی کو ادا کرنا ضروری ہے تا کہ وہ اسے وقف کے سلسلے میں خرچ کرے اور اگر اس قسم کے وقف میں تصرف خود اس شے کے تلف اور ضائع کرنے کے حکم میں ہو تو یہ ضامن ہونے کا سبب ہے اور تصرف کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ عین موقوفہ کا عوض وقف کے متولی کی تحویل میں دے تا کہ وہ اس سے کوئی دوسری ملک خریدے اور اسے پہلے وقف کے بدلے میں وقف کرے تا کہ اسکی آمدنی وقف کے امور میں خرچ کی جائے۔
       
      س ٢٠5٦: ایک شخص نے چند سال پہلے ایک دوکان کو اسکے مکمل طور پر تعمیر ہونے سے پہلے کرایہ پر لیا اور اسکی پگڑی کی رقم اسی وقت ادا کردی اور پھر مالک کی اجازت سے اس دوکان کی تعمیر کو اسکے کرایہ کی رقم سے مکمل کیا اورپھر کرایہ کی مدت کے دوران اس عمارت کے آدھے حصے کوقانونی دستاویز کے ساتھ مالک سے خرید لیا اور اس وقت وہ دعویٰ کرتاہے کہ مذکورہ عمارت وقف ہے اور تولیت کا قائم مقام بھی یہ دعویٰ کرتاہے کہ اسکی پگڑی دوبارہ ادا کی جائے۔ اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
      ج: اگر اس عمارت کی زمین کا وقف ہونا ثابت ہوجا ئے یا کرایہ دار اسکا اعتراف کرلے تو اس صورت میں وہ تمام خصوصیات اور حقوق جو اس نے موقوفہ عمارت کے سلسلے میں اسکی زمین کی ملکیت کے مدعی سے لئے ہیں فاقد اعتبارہیں بلکہ مذکورہ عمارت میں تصرف جاری رکھنے کیلئے وقف کے شرعی متولی کے ساتھ نیا معاملہ کرنا ضروری ہے اور وہ اپنی رقم کو اس شخص سے واپس لے سکتاہے جو اسکی ملکیت کا دعویدار تھا۔
       
      س ٢٠5٧: اگر زمین کا وقف ہونا ثابت ہوجائے لیکن وقف کی جہت معلوم نہ ہوتو اس زمین میں رہنے والوں اور زراعت کرنے والوں کی ذمہ داری کیاہے؟
      ج: اگر اس موقوفہ زمین کا کوئی خاص متولی ہو تو تصرف کرنے والوں پر واجب ہے کہ وہ اسکی طرف رجوع کریں اور زمین کو اس سے کرایہ پر لیں اور اگر اسکا کوئی خاص متولی نہ ہو تو اسکی ولایت حاکم شرع کے ہاتھ میں ہے اور تصرف کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسکی طرف رجوع کریں لیکن وقف کی آمدنی کو خرچ کرنے میں جو مختلف احتمالات پائے جاتے ہیں اگر وہ متماثل اور غیر متبائن ہوں جیسے سادات ، فقراء ، علماء اور فلاں شہر کے باشندے تو اس صورت میں واجب ہے کہ وقف کی آمدنی ان احتمالات میں سے قدر متیقن میں خرچ کی جائے اور اگر اسکے احتمالات متبائن اور غیر متصادق ہوں تو اس صورت میں اگر احتمالات،چند معین امور میں محصور ہوں تووقف کے مصرف کو قرعہ کے ذریعہ معین کرنا واجب ہے۔ اور اگر احتمال ،غیر محصورہ امور کے درمیان ہوپھر اگر وہ غیر محصور عناوین یا اشخاص کے درمیان ہو جیسے ہم جانتے ہوں کہ موقوفہ زمین اولاد پر وقف ہے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ غیر محصورہ اشخاص میں سے کس شخص کی اولاد مراد ہے تو اس صورت میں وقف کے منافع مجہول المالک کے حکم میں ہیں اور واجب ہے کہ یہ فقراء کو صدقہ کے طور پر دیئے جائیں لیکن اگر یہ احتمال غیر محصورہ جہات میں ہو مثلا مسجد یا زیارتگاہ یا پل یا زائرین و غیرہ کی مدد کیلئے وقف کرنے کے درمیان احتمال ہو تو اس صورت میں واجب ہے کہ ان احتمالات سے خارج نہ ہونے کی شرط کے ساتھ اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرے۔
       
      س٢٠5٨: ایک زمین کہ جس میں عرصہ دراز سے مُردوں کو دفن کیا جاتاہے اور اس میں ایک امامزادہ بھی مدفون ہے اور تیس سال قبل مُردوں کو غسل دینے کیلئے اس میں ایک غسل خانہ بھی بنایا گیاہے لیکن معلوم نہیں ہے کہ یہ زمین مردوں کو دفن کرنے کیلئے وقف کی گئی ہے یا اس امامزادے کیلئے وقف کی گئی ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ مردوں کو غسل دینے کیلئے اس غسل خانہ کا بنانا مشروع ہے یا نہیں ؟ لہذا کیا وہاں کے باشندوں کیلئے اپنے مردوں کو اس غسل خانے میں غسل دینا جائز ہے؟
      ج: اس غسل خانہ میں حسب سابق مردوں کو غسل دینا جائز ہے اور وہ زمین جو امامزادے کے صحن کے ساتھ ہے اس میں مرد وں کو دفن کرنا بھی جائز ہے مگر جب معلوم ہوجائے کہ ایسا کرنا وقف کی جہت کے منافی ہے۔
       
      س ٢٠5٩: ہمارے علاقہ میں ایسی زمینیں موجود ہیں کہ جن میں لوگ زراعت کرتے ہیں اور درخت لگاتے ہیں اور وہاں کے باشندوں کے درمیان مشہور ہے کہ یہ زمینیں اس علاقہ میں مدفون ایک امامزاد ے کے حرم کیلئے وقف ہیں اور اس وقف کے متولی بھی وہاں کے رہنے والے سادات ہیں لیکن ان زمینوں کے وقف ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے البتہ کہا جاتاہے کہ پہلے ایک وقف نامہ موجود تھا جو آگ لگنے کے ایک حادثے میں جل گیا ہے اور سابقہ حکومت میں ان زمینوں کی تقسیم کو روکنے کیلئے لوگوں نے انکے وقف ہونے پر گواہی دی ہے اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس علاقہ کے ایک حاکم نے کہ جو سادات سے محبت رکھتا تھا ٹیکس سے بچنے کیلئے یہ زمینیں انہیں وقف کردیں تھیں اب ان زمینوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
      ج: وقف کو ثابت کرنے کیلئے وقف نامہ کاموجود ہونا شرط نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کہ جنکے تصرف اور ہاتھ میں (ذوالید)یہ ہے یا انکی وفات کے بعد انکے ورثاء کے ہاتھ میں ہے اگر وہ اس امر کا اعتراف کریں تو اس ملک کے وقف ہونے کیلئے کافی ہے اور اسی طرح اس ملک کے ساتھ ماضی میں وقف جیسا سلوک یا وقف ہونے پر دو عادل مردوں کی گواہی یا اسکے وقف ہونے کی ایسی شہرت جو مفید علم یا اطمینان ہو بھی اس کے وقف ہونے کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے لہذا اگر وقف کے ان دلائل میں سے کوئی موجود ہوتو اس سے اسکے وقف ہونے کا حکم ثابت ہوجاتاہے اور اگر ایسا نہ ہو تو جسکے تصرف میں ہے اسی کی ملکیت تصور کی جائیگی ۔
       
      س ٢٠6٠: ایک مِلک کا وقف نامہ ملاہے جو پانچ سو سال پرانا ہے تو کیا اب اس ملک کے وقف ہونے کا حکم لگایا جائے گا؟
      ج: صرف دستاویز کا مل جانا اس وقت تک وقف کی شرعی دلیل اور حجت نہیں ہے جب تک اسکے محتوا کے صحیح ہونے کا اطمینان نہ ہو جائے لیکن اگر اس ملک کا وقف ہونا لوگوں بالخصوص بوڑھوں کے درمیان اس طرح مشہور ہو کہ اس سے اسکے وقف ہونے کا علم یا اطمینان ہوجائے یا وہ شخص کہ جسکے اختیار اور ہاتھ (ذوالید)میں یہ ہے وہ اسکے وقف ہونے کا اقرار کرے یا یہ ثابت ہوجائے کہ ماضی میں اسکے ساتھ وقف جیسا معاملہ کیا جاتا تھا تو مذکورہ ملک وقف کے حکم میں ہے بہر حال زمانہ کتنا ہی گزر جائے موقوفہ ملک وقف ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی۔
       
      س ٢٠6١: میں نے اپنے باپ سے نہر کے پانی کے تین حصے میراث میں پائے ہیں اور اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ تین حصے جو میرے باپ نے خریدے تھے ان سو حصوں میں سے ہیں کہ جن میں سے پندرہ حصے وقف ہیں اور اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ تین حصے آیا وقف کا جزء ہیں یا بیچنے والے کی ملکیت کا ؟اس سلسلے میں میری ذمہ داری کیاہے ؟ کیا ان تین حصوں کا خریدنا باطل تھا۔ اور میں اس پہلے بیچنے والے شخص سے کہ جو ابھی زندہ ہے انکی رقم کے مطالبہ کا حق رکھتا ہوں؟
      ج: اگر بیچنے والا شخص پانی بیچتے وقت مشترکہ پانی کی اس مقدار کا شرعی طور پر مالک تھا کہ جو بیچی گئی ہے اور یہ معلوم نہ ہو کہ آیا اس نے وہ مقدار فروخت کی ہے جس کا وہ مالک تھا یا ملک اور وقف کے درمیان مشترکہ حصہ(مشاع) فروخت کیا ہے تو اس صورت میں معاملہ صحیح ہے اور مشتری اس ملک کا مالک ہے اور اسکے بعد یہ اسکے ورثا کی طرف منتقل ہوگی۔
       
      س ٢٠6٢: ایک عالم نے اپنے مال کا کچھ حصہ ـ جیسے کھیت اور باغ و غیرہ ـ وقف خاص کے طور پر وقف کیا ہے اور اسکے متعلق ایک وقف نامہ بھی لکھ دیا ہے اور اس میں وضاحت کی ہے کہ اس نے وقف کے تمام شرائط پر عمل کیا ہے اور وقف کاشرعی صیغہ بھی جاری کیا ہے ۔دس علماء نے اس پر دستخط بھی کئے ہیں کیا اس وقف نامہ کی بناپر ان اموال کے وقف ہونے کا حکم لگایا جائے گا؟
      ج: اگر ثابت ہوجائے کہ صیغہ وقف جاری کرنے کے علاوہ اس نے موقوفہ شے وقف کے شرعی متولی یا جن لوگوں کے نام اسے وقف کیا ہے کی تحویل میں دے دی ہے تو مذکورہ وقف،وقف لازم اور صحیح ہے۔
       
      س ٢٠6٣: ایک زمین محکمہ صحت کو ہدیہ کی گئی ہے تا کہ وہ اس میں ہسپتال یا مرکزصحت قائم کرے لیکن محکمہ صحت کے افسران نے ابھی تک نہ وہاں ہسپتال بنایا ہے اور نہ ہی مرکز صحت تعمیر کیا ہے کیا جائز ہے کہ واقف اس زمین کو واپس لے لے؟ اور کیا صرف زمین کا محکمہ صحت کے افسران کی تحویل میں دے دینا وقف کے واقع ہونے کیلئے کافی ہے یا یہ کہ اس میں عمارت تعمیر کرنا بھی شرط ہے؟
      ج: اگر مالک نے شرعی طریقے سے انشاء وقف کے بعد وہ زمین محکمہ صحت کے افسران کواس عنوان سے تحویل دی ہو کہ وہ اس زمین کو وقف کے شرعی متولی کی تحویل میں دے رہاہے تو پھر اسے وہ زمین واپس لینے کا حق نہیں ہے لیکن اگر مذکورہ دو باتوں میں سے کوئی ایک نہ ہو تو مالک کو حق ہے کہ وہ اپنی زمین ان سے واپس لے لے؟
       
      س ٢٠6٤: ایک زمین کہ جسے اس کے مالک نے علاقہ کے عالم دین اور دو عادل گواہوں کے سامنے مسجد بنانے کیلئے وقف کیا ہے کچھ عرصہ کے بعد بعض اشخاص نے اس پر قبضہ کرکے اس میں رہائشی مکان تعمیر کرلیئے ہیں اس سلسلے میں ان اشخاص اور متولی کی ذمہ داری کیا ہے؟
      ج: اگرزمین کے وقف کے انشا کے بعدوہ زمین واقف کی اجازت سے قبضے میں لے لی گئی ہے تو اس پر وقف کے تمام احکام جاری ہونگے اور دوسروں کیلئے اس میں مکان تعمیر کرنا غصب شمار ہوگا اور ان پر واجب ہے کہ اپنے گھروں کو گرا کرزمین خالی کردیں اور اسے اسکے شرعی متولی کی تحویل میں دے دیں اور اگر ایسا نہ ہو تو زمین اپنے شرعی مالک کی ملکیت پر باقی رہے گی اور اس میں دوسروں کا تصرف اسکے مالک کی اجازت پر موقوف ہوگا۔
       
      س ٢٠6٥: ایک شخص نے اَسّی سال قبل ایک زمین خریدی اور اسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء نے اس پر کئی معاملات انجام دیئے ہیں وہ خریدار جنہوں نے یہ زمین پہلے خریدار کے ورثاء سے خریدی ہے سب فوت ہوچکے ہیں اوراب وہ زمین انکے ورثاء کے پاس ہے اور آخری گروہ نے تقریبا چالیس سال سے زمین کو سرکاری طور پر اپنے نام کرالیا ہے اور ملکیت کی قانونی رجسٹری لینے کے بعد انہوں نے اس میں رہائشی مکان تعمیر کرلیئے ہیں اور اب ایک شخص مدعی ہے کہ یہ زمین مالک کی اولاد پر وقف تھی اور انھیں اسکے بیچنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اس امر کے پیش نظر کہ اَسّی سال تک کسی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا اور کوئی ایسی تحریری دستاویز بھی موجود نہیں ہے جو اسکے وقف ہونے پر دلالت کرے اور کسی نے اس پر گواہی بھی نہیں دی ہے اسکے موجودہ مالکوں کی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
      ج: جو شخص اسکے وقف ہونے اور اسکی فروخت کے صحیح نہ ہونے کا دعویٰ کرتاہے جب تک وہ اپنے دعویٰ کو معتبر طریقے سے ثابت نہ کرے اس وقت تک جو معاملات اس زمین پر انجام دیئے گئے ہیں انکی صحت کا حکم لگایا جائیگا اور اسی طرح ا س وقت یہ زمین جن افراد کے اختیار اور تصرف میں ہے وہ اسکے مالک شمار ہوں گے۔
       
      س٢٠6٦: ایک موقوفہ زمین ہے کہ جس میں تین چھوٹی نہریں ہیں اور چند سال مسلسل خشک سالی کی وجہ سے بلدیہ نے علاقہ کے لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے ان میں سے دو نہریں کرائے پر لے لی ہیں اور تیسری نہر جو علاقہ کے طلاب اور واقف کی اولادپر وقف تھی اس زمین میں دھنس کر خشک ہوگئی ہے جسکے نتیجہ میں وہ زمین کہ جواسکے پانی سے سیراب ہوتی تھی بنجر ہوگئی ہے اور اسوقت شہری زمین کا ادارہ مدعی ہے کہ یہ زمین موات ہے کیا یہ زمین کئی سال تک زراعت نہ کرنے کی وجہ سے موات زمینوں سے ملحق ہوجائے گی؟
      ج: موقوفہ زمین کئی سال تک زراعت نہ کرنے کی وجہ سے وقف ہونے سے خارج نہیں ہوتی ۔
       
      س ٢٠6٧: ایسی زمینیں جو امام رضا علیہ السلام کے حرم مقدس کیلئے وقف ہیں اور ان میں سے بعض زمینوں کے اطراف میں سبزہ زار اور جنگل بھی ہیں لیکن بعض متعلقہ اداروں نے جنگلات کے قانون کا حوالہ دیکر ان سبزہ زاروں اور جنگلوں پر انفال کا حکم جاری کیا ہے کیا وہ سبزہ زار اور جنگل جو موقوفہ املاک کے حریم میں واقع ہیں انکا حکم بھی دیگر انہیں زمینوں کی طرح وقف والا ہوگا کہ جو موقوفہ زمینوں کے حریم میں واقع ہیں اور واجب ہے کہ ان کے سلسلے میں وقف کے مطابق عمل کیا جائے؟
      ج: وہ سبزہ زار اور جنگل جو موقوفہ اراضی کے جوار میں واقع ہیں اگر وہ انکا اطراف (حریم )شمار ہوں توموقوفہ کے حکم میں اور ان کے تابع ہیں اور انکے لیئے انفال اور املاک عمومی کا حکم جاری نہیں ہوگا اور حریم اور اسکی مقدار کی تشخیص مقامی عرف اور ان افرادکا کام ہے جو اس امر کے ماہر ہیں۔
       
      س ٢٠6٨: چالیس سال قبل کچھ زمینیں یتیموں کے ٹھہرانے اور انکی کفالت و سرپرستی کی خاطر گھر بنانے کیلئے وقف ہوئی ہیں اور اب تک اسی وقف کے مطابق عمل ہوتا رہاہے اور انکا متولی بھی معین اور مشخص ہے کہ جسکی محکمہ اوقاف نے بھی تائید کی ہے لیکن حال ہی میں ایک ایسی معمولی دستاویز سامنے آئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ پرانی دستاویز ہی کا ایک نسخہ ہے اور اس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ زمینیں تین سو سال پہلے سے اب تک وقف تھیں ۔وقف کی اصلی دستاویز کہ جسکے بارے میں دعویٰ کیا جاتاہے کہ وہ اس سے پرانی ہے کے نہ ملنے اور موجودہ دستاویز کے ناقص ہونے کے پیش نظر کہ جسمیں متولی بھی معین نہیں ہے اور ان زمینوں کے سلسلے میں یہ بھی ثابت نہیں ہے کہ ان کے ساتھ پہلے وقف والا معاملہ ہوتا تھا اور بالخصوص وہ لوگ بھی کہ جنکے تصرف اور قبضہ میں یہ زمینیں ہیں اس دعویٰ کا انکار کرتے ہیں اور انکے سابق وقف کی شہرت بھی نہیں ہے ۔کیا یہ دستاویز وقف جدید پر عمل کرنے سے مانع ہوسکتی ہے کہ جس کے مطابق اس وقت ان زمینوں سے یتیموں کے ٹھہرانے اور انکی حفاظت و سرپرستی کے سلسلے میں استفادہ کیا جاتاہے؟
      ج: فقط وقف کی دستاویز کا ہونا چاہے اصلی ہو یا اس کا نسخہ ہو وقف کی شرعی دلیل اور حجت نہیں ہے پس جب تک پہلا وقف معتبر دلیل کے ذریعہ ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک اسی جدید وقف پر عمل کیا جائے گا جس پر اس وقت عمل ہورہاہے اور وقف جدید پر عمل صحیح اور نافذ ہے۔
       
      س ٢٠6٩: ایک شخص نے سید الشہداء ( علیہ السلام) کی امام بارگاہ بنانے کیلئے ایک زمین وقف کی ہے لیکن مذکورہ زمین گاؤں والوں کیلئے عام راستے میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس وقت امام بارگاہ کی کل زمین سے تقریبا ٤٢مربع میٹر زمین باقی ہے اس زمین کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا واقف کیلئے جائز ہے کہ وہ اسے اپنی ملکیت میں واپس پلٹا لے ؟
      ج: اگر یہ کام شرعی طور پر وقف کے انشاء کرنے اور موقوفہ زمین متولی کو یا جہت وقف میں تحویل دینے کے بعد انجام پایا ہو تو وہ باقیماندہ زمین وقف پر باقی رہے گی اور واقف کیلئے جائز نہیں ہے کہ اسے واپس لے اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ زمین اسکی ملکیت میں باقی ہے اور اس کا اختیار اسکے ہاتھ میں ہے۔
       
      س ٢٠7٠: کیا جائز ہے کہ بعض ورثاء جو ترکہ میں حصہ دار ہیں پورے ترکے کو وقف کردیں؟ اور کیا ان کے نام سے وقف کے صیغہ کاجاری کرنا صحیح ہے؟
      ج: ان کا وقف صرف اپنے حصہ میں صحیح ہے لیکن دیگر ورثاء کے حصوں میں وقف فضولی اورانکی اجازت پرموقوف ہوگا۔
       
      س ٢٠7١: ایک شخص نے اپنی زمین اپنے بیٹوں پر وقف کی اور اسکی وفات کے بعد محکمہ اوقاف نے اسکی کیفیت سے آگاہی کے بغیر مذکورہ زمین متوفی کے بیٹے اور بیٹیوں کے نام ثبت کردی ۔کیا یہ چیز اس زمین سے انتفاع میں بیٹے اور بیٹیوں کی شراکت کا موجب بنے گی؟
      ج: فقط محکمہ اوقاف کے ذریعے اس زمین کا بیٹیوں کے نام ثبت ہوجانا وقف میں بیٹوں کے ساتھ انکی شراکت کا موجب نہیں بنے گا پس اگر ثابت ہوجائے کہ وقف کی زمین بیٹوں کیلئے مخصوص ہے تو وہ صرف ان ہی سے مختص رہے گی۔
       
      س ٢٠7٢: ایک ایسی زمین جو نہر کے راستے میں واقع ہے سو سال پہلے وقف عام ہوئی ہے اور موقوفہ زمینوں کی خرید و فروخت کے باطل ہونے والے قانون کی بناپر اسکے لیئے وقف کے عنوان سے قانونی دستاویز بھی صادر ہوچکی ہے لیکن اسوقت اس زمین سے حکومت معدنی پتھر نکال رہی ہے کیا اب وہ انفال کا جز شمار ہوگی یا وقف ہے؟
      ج: اگر شرعی صورت میں اس کا اصل وقف ثابت ہوجائے تو کسی شخص یا حکومت کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسے اپنی ملکیت میں لے لے بلکہ وہ وقف ہونے پر باقی رہے گی اوراس پر وقف کے تمام احکام جاری ہونگے۔
       
      س ٢٠7٣: تعلیمی مرکز کی عمارت میں ایک کمرہ ہے کہ جس سے اس وقت لیبارٹری کے طورپر استفادہ کیا جاتاہے اور اسکی زمین اسکے پڑوس میں واقع قبرستان کا جز ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے اس سے جدا ہوگئی ہے اورچونکہ قبرستان سے اسوقت بھی استفادہ ہورہا ہے لہذا وہ معلم اور طالب علم جو اس لیبارٹری میں نماز پڑھتے ہیں ان کیلئے کیا حکم ہے؟
      ج: جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ لیبارٹری کی زمین مردوں کو دفن کرنے کیلئے وقف ہوئی ہے اس میں نماز پڑھنے اور دوسرے امور انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر معتبر دلیل کے ذریعہ ثابت ہوجائے کہ وہ زمین صرف مردوں کو دفن کرنے کیلئے وقف کی گئی تھی تو اسے اپنی پہلی حالت پر لوٹانا واجب ہے اور اسے مردے دفن کرنے کیلئے خالی کرنا ضروری ہے اور اس میں تعمیر کی گئی تمام چیزیں غصب کے حکم میں ہیں۔
       
      س ٢٠7٤: دو دوکانیں ایک دوسرے کے پڑوس میں واقع ہیں اور ہر ایک کاواقف اور مصرف ، علیحدہ ہے اور ہر ایک دوسری سے الگ ہے کیا ان دونوں دوکانوں کے کرایہ دار کو ایک دوکان سے دوسری دوکان یا اسکے مخصوص راستے کی طرف دروازہ نکالنے کا حق ہے؟
      ج: وقف سے انتفاع اور اس میں تصرف اگر چہ دوسرے وقف کی مصلحت کیلئے ہو ضروری ہے کہ وقف کے شرائط کے مطابق اور متولی کی اجازت سے ہواور ان دونوں دوکانوں کے کرایہ دار کو حق نہیں ہے کہ وہ اس بنا پر کہ دوسری دوکان بھی وقف ہے ایک دوکان سے دوسری میں دروازہ نکال کر یا راستہ بنا کر وقف میں تصرف کرے۔
       
      س ٢٠7٥: اس امر کے پیش نظر کہ بعض مراکز اور گھروں میں موجود نفیس کتابوں کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہے اور وہاں پر انکی حفاظت مشکل ہے بعض لوگوں نے یہ مشورہ دیاہے کہ شہر کی مرکزی لائبریری کا ایک حصہ ان مراکز کے اختیار میں دے دیا جائے تا کہ ان کتابوں کے وقف کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں اسی صورت میں کہ جس میں یہ پہلی جگہ تھیں اس حصہ میں منتقل کیا جائے کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
      ج: اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ان نفیس موقوفہ کتابوں سے استفادہ کرنا کسی خاص جگہ سے مشروط ہے تو جب تک کتابوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ شرط کی رعایت بھی ممکن ہو ان کا اس خاص جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے ورنہ ان کتابوں کی حفاظت کی خاطر انہیں ایسی قابل اطمینان جگہ لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے جہاں انکی صحیح حفاظت ہوسکے۔
       
      س ٢٠7٦: ایک ایسی زمین ہے جس سے صرف چراگاہ کے طور پر استفادہ کیا جاسکتاہے لیکن اسکے مالک نے اسے مقدس مقامات کیلئے وقف کیا ہے اور اسکے متولی نے اس کا ایک حصہ کچھ لوگوں کو کرایہ پردے دیا ہے اور کرایہ داروں نے اسکے اس حصے میں کہ جو چراگاہ ہونے کے قابل نہیں ہے بتدریج اپنی رہائش کیلئے مکان بنانے شروع کردیئے ہیں اور اسی طرح اسکے جو حصے زراعت کیلئے مناسب تھے انہیں زمین اور باغ میں تبدیل کردیاہے۔
      اولاً: چونکہ چراگاہ انفال اور عمومی اموال میں سے ہیں کیا اس کا وقف ہونا صحیح ہے اور اس وقت اس پر وقف ہونے کا حکم جاری ہوگا۔
      ثانیاً: چونکہ کرایہ داروں نے اس میں اصلاحات اور تبدیلیاں کرکے اسے پہلے سے بہتر اور مرغوب بنادیا ہے توانہیں کتنی اجرت دینا ضروری ہے؟
      ثالثاً: اس چیز کے پیش نظر کہ کرایہ داروں کی کوششوں کے نتیجے میں وہ جگہ زرعی زمین اور باغ میں تبدیل ہوگئی ہے ۔اس قسم کی زمینوں کو کیسے کرایہ پر دیا جائے گا؟ کیا ان کا کرایہ چراگاہ کے کرائے کی مقدار کے برابر ادا کیا جائے یا زرعی اور باغ کی زمیں کے کرایہ کی مقدارکے برابر؟
      ج: اصل وقف ثابت ہونے کے بعد جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کے زمینیں وقف کے وقت انفال تھیں اور واقف کی شرعی ملکیت میں نہیں تھیں، شرعی لحاظ سے ان کا وقف صحیح ہے اور کرایہ داروں کی کوششوں کے ذریعے ان کے کھیتی ، باغ یا گھر میں تبدیل ہونے سے یہ وقف ہونے سے خارج نہیں ہونگی بلکہ انہوں نے موقوفہ زمین میں جو تصرفات کئے ہیں اگر وہ انہیں انکے شرعی متولی سے کرایہ پر لینے کے بعد ہوں تو ان پر واجب ہے کہ وہ ان زمینوں کا کرایہ کہ جو عقد اجارہ میں معین کیا گیا ہے انکے شرعی متولی کو اداکریں تا کہ وہ اسے وقف کے امور میں خرچ کرے لیکن اگر انہوں نے ان زمینوں کو انکے شرعی متولی سے کرایہ پر لئے بغیر ان میں تصرف کیا ہو تو ان پر واجب ہے کہ وہ مدت تصرف کی عادلانہ قیمت کے برابر اجرة المثل ادا کریں اور اگر ثابت ہوجائے کہ وہ زمینیں وقف کے وقت در اصل موات اور انفال میں سے تھیں اور واقف کی شرعی ملکیت نہیں تھیں تو اس صورت میں وقف شرعی طور پر باطل ہے اور زمین کے وہ حصے جو تصرف کرنے والوں نے قوانین و ضوابط کے مطابق احیاء کئے ہیں اور انہیں اپنے لئے باغ ،کھیتی اور مکان میں تبدیل کیا ہے خودانہیں کیلئے ہیں اور زمین کے دوسرے حصے جو پہلی حالت پر باقی ہیں اور ہمیشہ موات رہے ہیں قدرتی ثروت اور انفال کا حصہ ہیں اور ان کا اختیار اسلامی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔
       
      س٢٠7٧: ایک عورت نے وہ تمام ملک مشاع وقف کردی جو اسکے اور دیگر مزارعین کے درمیان مشترک ہے اور یہ اسکے صرف چھٹے حصے کی مالک ہے اور یہ چیز محکمہ اوقاف کی مداخلت کی وجہ سے وہاں کے باشندوں کیلئے بہت سی مشکلات کا باعث بن گئی ہے مثلا محکمہ اوقاف وہاں کے باشندوں کے گھروں کیلئے ملکیت کی دستاویز جاری کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہاہے کیا یہ وقف تمام مشترکہ ملک میں نافذ ہے یا صرف اسکے اپنے حصے میں نافذ ہے؟اور اگر وقف صرف اسکے اپنے حصے میں صحیح ہو تو کیا تقسیم کرنے سے پہلے مشاع زمین کو وقف کرنا صحیح ہے ؟ اور اگرمشاع حصے کا وقف اسکے جدا کرنے سے پہلے صحیح ہو تو اس سلسلے میں دیگر شرکا کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
      ج: مشاع ملک کے حصے کوجدا کرنے سے پہلے وقف کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے بشرطیکہ اس سے وقف کی جہت میں استفادہ کرنا ممکن ہو اگر چہ اسے جدا اورتقسیم کرنے کے بعد ہی لیکن جو شخص صرف ایک حصے کا مالک ہے اسکا تمام ملک کو وقف کرنا دیگر شرکاء کے حصوں کی نسبت فضولی اورباطل ہے اور شرکاء کو حق حاصل ہے کہ وہ اس ملک کی تقسیم اور وقف سے اپنے حصوں کے جدا کرنے کا مطالبہ کریں۔
       
      س٢٠7٨: کیا وقف کے شرائط سے عدول کرنا جائز ہے اور جواز کی صورت میں اسکے حدودکیا ہیں اور کیا زمان کا طولانی ہونا وقف کے شرائط پر عمل کرنے میں اثر انداز ہوتاہے؟
      ج: ان صحیح شرائط سے عدول کرنا جائز نہیں ہے جو واقف نے وقف کے عقد میں لگائی ہیں مگر یہ کہ ان پر عمل کرنا نا ممکن ہو یا اس میں کوئی حرج لازم آتاہو البتہ زمانے کے گزرنے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
       
      س ٢٠7٩: بعض موقوفہ زمینوں میں ایسی نہریں اور نالے ہیں کہ جن میں معدنی پتھر اور سنگریزے پائے جاتے ہیں کیا یہ سنگریزے اور معدنی پتھر جو موقوفہ زمین میں پائے جاتے ہیں وقف کے تابع ہیں؟
      ج: بڑی اور عمومی نہریں اور اسی طرح عمومی نالے جو موقوفہ زمین کے قریب سے یا خود موقوفہ زمین سے گزرتے ہیں اس وقف کا حصہ نہیں ہیں مگر وہ مقدار جو عرف عام میں موقوفہ زمین کے اطراف ( حریم) میں سے شمار ہوتی ہو تو اس مقدار کے ساتھ وقف والا معاملہ کیا جائیگا لیکن وہ چھوٹی نہریں جو موقوفہ ہیں ان کے معدنی پتھروں اور سنگریزوں کے ساتھ بھی وقف جیسامعاملہ کیا جائے گا۔
       
      س ٢٠8٠: ایک دینی مدرسے کی عمارت پرانی ہونے اور اس میں رطوبت آجانے کی وجہ سے استفادہ کے قابل نہیں رہی اور اسکی املاک کی آمدنی جمع کرکے امانت کے طور پر بینک میں رکھ دی گئی ہے اور اب ہم اس رقم سے اسے دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں لیکن عمارت بنانے کی اجازت حاصل کرنے اور مذکورہ اموال کو نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں خرچ کرنے پر بہت وقت لگے گا کیا اس مدت کے دوران مذکورہ اموال کو کسی بینک میں سرمایہ کی شکل میں رکھنا اور بینک کے عام اور متعارف معاملات کے مطابق وقف کیلئے کچھ فیصد منافع حاصل کرنا جائز ہے؟
      ج: ان اموال کی نسبت وقف کے شرعی متولی پر جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ وہ انہیں وقف کے امور میں خرچ کرے لیکن اگر وقف کی آمدنی کا وقف کے امور میں خرچ کرنا ممکن نہ ہو مگر اس پر کچھ مدت گزرنے کے بعد ۔اور ان اموال کی ،وقف کے امور میں خرچ کرنے کا وقت آنے تک حفاظت کرنا انکے بینک میں رکھنے سے ممکن ہو اور بینک میں ان اموال کا رکھنا انکے اپنے مصرف میں بر وقت خرچ کرنے میں تاخیر کا باعث نہ ہو توانہیں کسی شرعی عقد کے ضمن میں بینک کے حوالے کردینے اور اسکے منافع سے وقف کی مصلحت میں استفادہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س ٢٠8١:جو زمین ایک مسلمان نے دوسرے مسلمانوں کیلئے وقف کی ہے کیا اسے کسی غیر مسلم کو کرایہ پر دینا جائز ہے؟
      ج: اگر زمین کا وقف وقفِ منفعت کی صورت میں ہو تو اسے غیر مسلم کو کرائے پر دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے بشرطیکہ اس صورت میں منفعت وقف محفوظ رہے۔
       
      س ٢٠8٢:چند مہینے پہلے ایک عالم دین کو موقوفہ زمین میں وقف کرنے والوں کی اجازت سے دفن کیا گیا ہے اور اب ایک گروہ اس کام پر معترض ہے اور دعویٰ کرتاہے کہ موقوفہ زمین میں دفن کرنا جائز نہیں ہے اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور جائز نہ ہونے کی صورت میں اگر اس موقوفہ زمین کہ جس میں عالم دین دفن ہوا ہے کے عوض کچھ رقم دی جائے تو کیا یہ اشکال ختم جائے گا؟
      ج: اگر موقوفہ زمین میں میت کا دفن کرناجہت وقف کے منافی نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اس کا دفن کرنا جہت وقف کے منافی ہو تو وہاں دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اگر کوئی شخص ایسی موقوفہ زمین میں دفن ہوجائے تو احوط یہ ہے کہ جب تک اس کا بدن منتشر نہ ہوا ہو اسے قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کیا جائے مگر یہ کہ قبر کھودنے میں حرج ہو یا اس سے مؤمن کی بے احترامی ہوتی ہوبہر حال اس زمین کے عوض مال یا دوسری زمین دینے سے یہ اشکال ختم نہیں ہوگا۔
       
      س ٢٠8٣: اگر کوئی ملک بیٹوں پر نسل در نسل وقف ہوئی ہو اور بیٹے ( موقوف علیہم) کسی بھی وجہ سے اپنے حقوق سے صرف نظر کرلیں تو کیا وقف زائل ہوجائیگا؟ اور اگر پہلی نسل والے اپنے حقوق سے صرف نظر کرلیں توبعد والی نسل کی کیا ذمہ داری ہے؟ اور اسی طرح موقوفہ املاک کے شرعی متولی کی آنے والی نسلوں کے حقوق کے بارے میں کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: جن کیلئے وقف کیا گیا ہے ان کے اپنے حقوق سے صرف نظر کرنے سے وقف زائل نہیں ہوتا اور پہلی نسل کا موقوفہ میں اپنے حق سے صرف نظر کرلینا بعد والی نسل کے حق کے سلسلے میں کوئی اثر نہیں رکھتا اور انکے صرف نظر کرنے سے وقف ختم نہیں ہوگا بلکہ بعد کی نسل والے ۔جب وقف سے استفادہ کرنے کے سلسلے میں انکی باری آجائے ۔ اپنے پورے حق کا مطالبہ کرسکتے ہیں بلکہ اگر پہلی نسل کے زمانے میں وقف کو فروخت کرنے کا شرعی جوازہو تو بھی واجب ہے کہ وقف کوفروخت کرنے کے بعد اسکی رقم سے موقوفہ شے کی جگہ دوسری ملک خریدی جائے تا کہ اس سے آنے والی نسلیں استفادہ کرسکیں اور وقف کے متولی پر بھی واجب ہے کہ جن کیلئے یہ وقف کی گئی ہے وہ انکی تمام نسلوں کیلئے وقف کی حفاظت کرے۔
       
      س ٢٠8٤: اگر اولاد پر وقف کے سلسلے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وقف کے منافع ان کے درمیان کیسے تقسیم کئے جائیں توکیا اس قسم کے موارد میں واجب ہے کہ تقسیم ،میراث کے قانون کی بنیاد پر ہو یا مساوی طور پر؟
      ج: اگر اولاد پر وقف کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ اسے اولاد پر بطور مساوی تقسیم کرنا ہے یا مذکر و مونث کے درمیان قانونِ ارث کے فرق کی بنیاد پر تو اس وقف کو تمام افراد پر بطور مساوی تقسیم کرنے پر حمل کیا جائے گا پس اسکی آمدنی بھی ہر نسل کے مذکرو مونث کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگی۔
       
      س ٢٠8٥: کئی سالوں سے ایک خاص شہر کے حوزہ علمیہ کے وقف کی آمدنی کا اسکے اس شہر میں بھیجنے کے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے خرچ کرنا ممکن نہیں ہے جسکی وجہ سے اب تک آمدنی کی ایک بڑی مقدار جمع ہوگئی ہے ۔کیا اس کا دوسرے شہروں میں واقع حوزات علمیہ پر خرچ کرنا جائز ہے ؟ یا یہ کہ انہیں محفوظ رکھا جائے یہاں تک کہ انکے اس شہر میں ارسال کرنے کا امکان فراہم ہوجائے؟
      ج: محکمہ اوقاف یا شرعی متولی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وقف کی آمدنی کو جمع کر کے اسے وقف کی جہت میں خرچ کریں اور اگر وقتی طور پر آمدنی کا اس شہر کی طرف ارسال کرنا ممکن نہ ہو کہ جس میں اسے خرچ کرنا ہے تو واجب ہے کہ اس آمدنی کی حفاظت کریں اور منتظر رہیں یہاں تک کہ اس کا اس شہر میں پہچانا ممکن ہوجائے بشرطیکہ یہ وقف کے بے فائدہ ہونے کا سبب نہ بنے اور اگر مستقبل میں بھی اس آمدنی کو اس خاص حوزہ علمیہ تک پہنچا سکنے کی امید نہ ہو تو اسے دیگر علاقوں کے حوزات علمیہ میں خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
    • حبس کے احکام
    • وقف کا بیچنا اور اسے تبدیل کرنا
  • قبرستان کے احکام
700 /