ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طهارت کے احکام
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • خمس کے احکام
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • ہبہ
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب کے احکام
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ کے احکام
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
    • وقف کے احکام
    • وقف کے شرائط
    • متولی وقف کے شرائط
    • عین موقوفہ کے شرائط
    • موقوف علیہ کے شرائط
    • وقف کی عبارات
      پرنٹ  ;  PDF
       
      وقف کی عبارات
       
      س 2030: کیا مجالس عزاداری میں شرکت کرنے والوں اور علاقے کے ان افراد کو کہ جن کیلئے امام بارگاہ تعمیر گئی ہے اس کے وقفنامہ کے جملوں کی تشریح کرنے میں مداخلت کا حق ہے ؟
      ج: اگر وقف نامہ کے متن میں کوئی ابہام یا اجمال ہو تو اسے سمجھنے کیلئے قرائن و شواہد حالیہ و مقالیہ اور یا پھر عرف کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے اور کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کے مطابق اسکی تشریح کرے۔
       
      س 2031: اگر کوئی جگہ علوم دینی کی تعلیم و تعلّم کیلئے وقف ہوئی ہو تو کیا اس میں مشغول دینی طلاب کے موجود ہوتے ہوئے دوسرے عام لوگوں اور مسافروں کیلئے جائز ہے کہ وہ اس کے وسائل اور سہولیات سے استفادہ کریں؟
      ج: اگر وہ جگہ صرف دینی طلاب کیلئے یا فقط تدریس اور تحصیل علوم دینی کیلئے وقف ہو تو دوسروں کیلئے اس سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے۔
       
      س 2032: ایک وقفنامہ میں مندرجہ ذیل عبارت آئی ہے " صیغہ وقف میں شرط طے پائی ہے کہ وہاں کے عام باشندوں کا ایک گروہ ٹرسٹ کے ممبران کے عنوان سے منتخب کیا جائے" کیا یہ عبارت انتخاب کرنے والوں کو معین کرنے پر دلالت کرتی ہے ؟ اور بالفرض اگر انتخاب کرنے والوں کو معین کرنے پر دلالت نہ کرتی ہو تو ٹرسٹیز کے انتخاب کا حق کن لوگوں کے پاس ہے؟
      ج: مذکورہ عبارت سے ظاہر یہ ہوتاہے کہ ٹرسٹ کے ممبران کے انتخاب میں وہاں کے تمام باشندوں کی شرکت ضروری ہے۔ بہرحال اگر واقف نے ٹرسٹیز کو انتخاب کرنے والے یا کرنے والوں کو معین نہ کیا ہو تو اگر وقف کا خاص متولی ہو تو ٹرسٹیز کے انتخاب کا حق اسے او اگر اس کے متعدد خاص متولی ہوں اور ان کا آپس میں اختلاف ہو یا واقف کی طرف سے متولی معین ہی نہ کیا گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس مسئلہ میں حاکم شرع کی طرف رجوع کریں۔
       
      س 2033: جن پر وقف کیا گیا ہے اگر ان میں سے سب سے بڑے بیٹے کی تولیت کیلئے اس کا " ارشد و اصلح" ہونا شرط ہو تو کیا اس کے رشید اور با صلاحیت ہونے کا اثبات بھی واجب ہے یا یہ کہ محض اس کا عمر کے لحاظ سے بڑا ہونا اس کے اصلح اور ارشد ہونے پر بنا رکھنے کا باعث ہوگا؟
      ج: تولیت کے سنبھالنے کے تمام شرائط کا اثبات ضروری ہے۔
       
      س 2034: ایک شخص نے اپنی ذاتی املاک محرم اور غیر محرم میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاداری قائم کرنے کیلئے وقف کی ہیں اور اپنے بعد اپنی اولاد کو ہمیشہ کیلئے اس کا متولی قرار دیا ہے اور املاک کے منافع کا ایک تہائی حصہ متولی کیلئے قرار دیاہے۔ اگر کسی زمانے میں واقف کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے طبقے کے لڑکے اور لڑکیاں موجود ہوں تو کیا وقف کی تولیت ان سب کیلئے مشترکہ طور پر ہے اور تولیت کا حق ان کے درمیان تقسیم ہوجائے گا؟ اوراگر ان سب کے درمیان تقسیم ہوگا تو کیا لڑکے اور لڑکی کے درمیان برابر تقسیم ہوگا یا فرق کے ساتھ تقسیم ہوگا ؟
      ج: اگر کوئی ایسا قرینہ موجود نہ ہو جو میراث کے طبقات کے مطابق ترتیب اور سابقہ نسل کے بعد والی نسل پر مقدم کرنے پر دلالت کرے تو ہر زمانے میں موجود تمام طبقات وقف کے مساوی اور مشترک طور پر متولی ہیں اور حق تولیت لڑکے اور لڑکی کے درمیان بغیر کسی فرق کے بطور مساوی تقسیم ہوگا۔
       
      س 2035: اگر واقف اپنے بعد وقف کی تولیت کو مطلق طور پر علماء و مجتہدین کے لئے قرار دے تو کیا وہ عالم جو مجتہد نہیں ہے اسے حق ہے کہ وہ تولیت کے امور کو اپنے اختیار میں لے لے؟
      ج: جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ واقف کی علماء سے مراد فقط مجتہدین ہیں تو عالم دین کے لئے وقف کی تولیت سبنھالنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ وہ اجتہاد کے درجے تک نہ پہنچا ہو۔

       

    • احکام وقف
    • حبس کے احکام
    • وقف کا بیچنا اور اسے تبدیل کرنا
  • قبرستان کے احکام
700 /