ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طهارت کے احکام
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • خمس کے احکام
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • ہبہ
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب کے احکام
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ کے احکام
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
    • وقف کے احکام
    • وقف کے شرائط
    • متولی وقف کے شرائط
    • عین موقوفہ کے شرائط
    • موقوف علیہ کے شرائط
    • وقف کی عبارات
    • احکام وقف
    • حبس کے احکام
    • وقف کا بیچنا اور اسے تبدیل کرنا
      پرنٹ  ;  PDF
       
      وقف کا بیچنا اور اسے تبدیل کرنا
       
      س2088: ایک شخص نے اپنی زمین کا کچھ حصہ امام بارگاہ کی تعمیر کے لئے وقف کیا ہے اور اس میں امام بارگاہ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے لیکن وہاں کے بعض لوگوں نے امام بارگاہ کے ایک حصے کو مسجد میں تبدیل کردیا ہے اور اس وقت اس حصے میں مسجد کے عنوان سے نماز جماعت ادا کرتے ہیں کیا ان کا امام بارگاہ کو مسجد میں تبدیل کرنا صحیح ہے ؟ اور کیا اس پر مسجد کے احکام جاری ہونگے؟
      ج: واقف یا کسی دوسرے شخص کے لئے ایسی امام بارگاہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے جو امام بارگاہ کے عنوان سے وقف کی گئی ہو اور ایسا کرنے سے وہ مسجد میں تبدیل نہیں ہوگی اور اس پر مسجد کے احکام و آثار بھی مرتب نہیں ہوں گے لیکن اس میں نماز جماعت ادا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س 2089: اگر کوئی شخص ایسی زمین کو بیع لازم کے طور پر فروخت کردے جو چند سال پہلے اسے میراث میں ملی ہو اور بعد میں معلوم ہوکہ وہ زمین وقف تھی تو کیا یہ خرید و فروش باطل ہے ؟ اور اگر باطل ہے تو کیا اسے خریدار کو اس کی موجودہ قیمت ادا کرنا ہوگی یا وہی رقم جو بیچنے کے وقت اس سے لی تھی؟
      ج: جب معلوم ہوجائے کہ بیچی گئی زمین در حقیقت وقف تھی اور بیچنے والے کو اسے فروخت کرنے کا حق نہیں تھا تو وہ خرید و فروخت اور معاملہ باطل ہے اور واجب ہے کہ اس زمین کو اسی وقف کی حالت پر پلٹا دیاجائے اور زمین بیچنے والے پر لازم ہے کہ خریدار کو (کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی کا حساب کرتے ہوے) وہ رقم واپس کرے جو اس نے زمین کے عوض حاصل کی تھی۔
       
      س 2090: ایک شخص نے تقریباً سو سال سے اپنی ایک ملک اپنے بیٹوں پر وقف کی ہے اور اس نے وقفنامہ میں ذکر کیا ہے کہ اگر اس کا کوئی بیٹا فقیر ہوجائے تو اسے شرعا حق ہے کہ وہ اپنا حصہ دوسرے وارث کو بیچ دے لہذا اس کے بعض بیٹوں نے کچھ عرصہ پہلے اپنا حصہ ان لوگوں کو فروخت کر دیا ہے کہ جن کے لئے یہ وقف ہوئی ہے اور اب یہ کہا جاتاہے کہ چونکہ عبارت میں کلمہ وقف ہے لہذا وہ شرائط جو واقف نے ذکر کئے ہیں صحیح نہیں ہیں اور اس ملک کی خرید و فروخت باطل ہے چنانچہ اس بات کے پیش نظر کہ وہ زمین وقف خاص ہے نہ عام، کیا واقف کے وقف نامہ کے مطابق اس زمین کی خرید و فروخت جائز ہے؟
      ج: اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ واقف نے عقد وقف کے ضمن میں یہ شرط رکھی ہے کہ اگر اس کے ان بیٹوں میں سے کہ جن کے لئے اس نے زمین وقف کی ہے کوئی فقیر اور محتاج ہوجائے تو وہ اپنا حصہ انہی بیٹوں میں سے کسی دوسرے کو فروخت کرسکتا ہے تواس شخص کا معاملہ اور خرید و فروخت اشکال نہیں رکھتا کہ جس نے اپنا حصہ فقر و نیازمندی کی بناپر فروخت کیا ہے اور اس کا معاملہ صحیح ہے۔
       
      س 2091: میں نے زمین کا ایک ٹکڑا محکمہ تعلیم کو اسکول بنانے کیلئے ہدیہ کے طور پر دیا لیکن مشورے اور یہ اطلاع حاصل کرنے کے بعد کہ اس زمین کی رقم سے شہر کے دوسرے محلوں میں ایسے کئی اسکول بنائے جاسکتے ہیں میں نے اس زمین کو وزارت تعلیم کی نگرانی میں بیچنے اور اس کی رقم سے شہر کے جنوب یا محروم علاقوں میں کئی سکول تعمیر کرنے کیلئے اس وزارت کے دفتر میں رجوع کیا،کیا میرے لئے اس کام کو انجام دینا جائز ہے؟
      ج: اگر سکول کی زمین انشاء وقف کے ساتھ اس عنوان سے وزارت تعلیم کی تحویل میں دی ہو کہ وزارت تعلیم اس کی سرپرست اور متولی ہے تو اس کے بعد آپ کو اس میں دخالت ، تصرف اور رجوع کرنے کا حق نہیں ہے لیکن اگر وقف حتی فارسی زبان میں بھی انشا نہ ہوا ہو یا زمین وقف کے قبضے کے عنوان سے وزارت تعلیم کی تحویل میں نہ دی گئی ہو تو اس صورت میں زمین پر آپ کی ملکیت باقی ہے اور اس کا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔
       
      س2092: ایک امامزادے کی زیارت گاہ کے گنبد مبارک پر تین متصل قبوّں کی شکل میں تین کلوگرام سونا موجود ہے اس سے پہلے یہ سونا دو مرتبہ چوری ہوا لیکن واپس آگیا اور پھر اسے اسی جگہ پر لگادیا گیا اس بات کے پیش نظر کہ مذکورہ سونے کے چوری یا تلف ہوجانے کا خطرہ ہے کیا اس کا فروخت کرنا اوراس کے پیسے کو روضے کی تعمیر و توسیع کیلئے خرچ کرنا جائز ہے؟
      ج: صرف چوری ہونے اور اس کے ضائع ہونے کے خطرے کے پیش نظر اسے بیچنا یا تبدیل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر شرعی متولی قرائن و شواہد کے ذریعہ اس بات کا قابل اعتنا احتمال دے کہ وہ سونا روضے کی ضروریات کو پورا کرنے اور اس کی تعمیر میں صرف کرنے کیلئے ذخیرے کے طور پر رکھا گیا ہے یا یہ کہ اس بقعہ مبارکہ کی تعمیر اور اس کی مرمت نہایت ضروری ہے اور اس کی رقم کسی اور طریقے سے فراہم کرنا ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں سونے کو بیچنا اور اس کی رقم کو اس بقعہ مبارکہ کی ضروری تعمیر اور مرمت کیلئے خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور مناسب ہے کہ محکمہ اوقاف اس کام کی نگرانی کرے۔
       
      س 2093: ایک شخص نے اپنی زرعی زمین اور پانی کی کچھ مقدار اپنے بیٹوں پر وقف کی ہے لیکن اولاد کی کثرت ،ذراعت کی دشوار ی اور پیداوار کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی زمین میں زراعت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، لہذا مستقبل قریب میں یہ وقف استعمال کے قابل نہیں رہے گا اور خراب ہوجائے گا کیا اس بناپر جائز ہے کہ مذکورہ زمین اور پانی بیچ دیئے جائیں اور انکی رقم کو نیک کاموں میں خرچ کیا جائے۔
      ج: جب تک وقف سے اس جہت میں استفادہ کرنا ممکن ہے کہ جس کیلئے اسے وقف کیا گیا ہے ۔اگر چہ اس طرح کہ اسے ان افراد میں سے بعض کو کہ جن پر اسے وقف کیا گیا ہے یا کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے دیں اور اس کے کرایہ کو جہت وقف میں خرچ کریں یا اس سے استفادہ کرنے کی نوعیت کو تبدیل کردیں ۔تو اسکا فروخت کرنا اور تبدیل کرنا جائز نہیں ہے اور اگر اس سے کسی بھی صورت میں فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہے تو پھر اسکا بیچنا جائز ہے لیکن اس صورت میں واجب ہے کہ اسکی رقم سے کوئی دوسری ملک خریدی جائے تا کہ اسکے منافع جہت وقف میں خرچ کئے جائیں۔
       
      س 2094: ایک منبر مسجد کےلئے وقف ہوا ہے لیکن بہت زیادہ اونچا ہونے کی وجہ سے  عملاً استعمال کے قابل نہیں ہے کیا اسے دوسرے مناسب منبر میں تبدیل کرنا جائز ہوتا ہے؟
      ج: اگر منبر اپنی اس موجودہ شکل میں اس مسجد یا دوسری مساجد میں استعمال کے قابل نہیں ہے تو اس کی شکل بدلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
       
      س 2095: کیا ان زمینوں کا فروخت کرنا جائز ہے جو وقف خاص ہیں اور واقف نے انہیں اراضی کی اصلاحات کے قانون کے تحت حاصل کیا ہے؟
      ج: اگر واقف وقف کرتے وقت اس چیز کا شرعی مالک ہو جسے اس نے وقف کیا ہے اور اس کی جانب سے وقف بھی شرعی طور پر واقع ہوا ہو تو خود اس کے یا کسی دوسرے کے ذریعے وقف کی خرید و فروخت یا اس میں تبدیلی صحیح نہیں ہے اگرچہ وہ وقف خاص ہو مگر خاص استثنائی موارد میں کہ جن میں اس کا فروخت کرنا یا تبدیل کرنا شرعی طور پر جائز ہوتاہے۔
       
      س2096: میرے والد صاحب نے زمین کا ایک حصہ جس میں کھجور کے درخت ہیں محرم کے پہلے دس دنوں اور قدر کی راتوں میں نیاز دینے کیلئے وقف کیا ہے اور اب ان درختوں کی عمر سو سال سے زیادہ ہوگئی ہے اور استفادہ کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں اس بات کے پیش نظر کہ میں بڑا بیٹا ہوں اور باپ کی طرف سے وکیل و وصی ہوں کیا جائز ہے کہ میں اس زمین کو فروخت کرکے اس کی رقم سے مدرسہ یا امام بارگاہ تعمیر کروں تا کہ وہ میرے باپ کیلئے صدقہ جاریہ ہوں؟
      ج: اگر زمین بھی وقف ہو تو صرف وقف شدہ درختوں کے قابل استعمال نہ رہنے کی بناپر اس کا بیچنا اور تبدیل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ممکنہ صورت میں واجب ہے کہ ان درختوں کی جگہ نئے درخت لگائے جائیں اگرچہ اس کے لئے قابل استعمال نہ رہنے والے درختوں کی رقم خرچ کرنی پڑے تا کہ ان کا منافع وقف کے امور میں صرف کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو زمین سے کسی دوسری شکل میں استفادہ کیا جائے مثلا اسے زراعت یا گھر بنانے و غیرہ کیلئے کرایہ پر دینا اور پھر اس کی آمدنی کو وقف کے امور میں خرچ کرنا ، کلی طور پر جب تک وقف کی زمین سے کسی طرح استفادہ کرنا ممکن ہو اس وقت تک اس کا فروخت یا تبدیل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کھجور کے درخت قابل استعمال نہیں ہیں تو ان کے بیچنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور امکان کی صورت میں ان کی رقم کو نئے درخت لگانے میں خرچ کرنا ضروری ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تواسے وقف کے امور میں خرچ کیا جائے۔
       
      س2097: کسی شخص نے ایک جگہ پر مسجد بنانے کیلئے لو ہے اور ویلڈنگ کا کچھ سامان ہدیہ کیا اور مسجد کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد کچھ سامان بچ گیا ہے اور دیگر اخراجات کی وجہ سے مسجد مقروض ہے کیا اس بچے ہوئے سامان کو فروخت کرکے اس کی رقم سے مسجد کا قرض ادا کرنا اور اس کی دوسری ضروریات کو پورا کرنا جائز ہے؟
      ج: اگر دینے والے شخص نے وہ آلات اور سامان مسجد بنانے کیلئے دیا ہو اور انہیں اسی کام کیلئے اپنی ملکیت سے خارج کیا ہو تو اس صورت میں ان میں سے جو چیز بھی قابل استعمال ہو اگرچہ دوسری مساجد میں، تو اس کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس سے دوسری مسجد کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جائے لیکن اگر دینے والے نے وہ سامان صرف مسجد میں استعمال کیلئے دیا ہو تو اس صورت میں بچا ہوا مال اس کی اپنی ملکیت ہے اور اس کا اختیار بھی خود اس کے ہاتھ میں ہے۔
       
      س2098: ایک شخص نے اپنی لائبریری اپنے بیٹوں کیلئے وقف کی ہے لیکن اس کی اولاد اور پوتوں میں سے کسی نے بھی دینی تعلیم حاصل نہیں کی اور وہ لائبریری سے استفادہ نہیں کرتے اور دیمک نے اس کی بعض کتابوں کو ضائع کردیا ہے اور باقی کتابیں بھی ضائع ہورہی ہیں کیا انہیں بیچنا جائز ہے؟
      ج: اگر اس کی اولاد پر لائبریری کا وقف کرنا اس بات سے مشروط ہو کہ وہ علوم دینی حاصل کریں اور علماء دین بنیں تو تعلیق کی بناپر یہ وقف ابتدا ہی سے باطل ہے اور اگر اس سے استفادہ کرنے کیلئے اولاد پر وقف کیا ہے اور اس وقت ان میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو اس سے استفادہ کرسکے اور آئندہ بھی کوئی امید نہیں ہے تو اس صورت میں مذکورہ وقف صحیح ہے اور ان کے لئے جائز ہے کہ وہ لائبریری ایسے افراد کے اختیار میں دے دیں جو اس سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اسی طرح اگر لائبریری ایسے افراد کے استفادے کیلئے وقف ہوئی ہو جو اس سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وقف کے متولی اس کے بیٹے ہوں تو بیٹوں پر واجب ہے کہ وہ مذکورہ افراد کے استفادہ کیلئے اسے ان کے اختیار میں دے دیں بہر حال انہیں اس کے فروخت کرنے کا حق نہیں ہے اور شرعی متولی پر واجب ہے کہ وہ مناسب طریقے سے ان کتابوں کو ضائع ہونے سے بچائے ۔
       
      س2099: ایک موقوفہ زرعی زمین کی سطح اطراف کی زمینوں سے بلند ہے کہ جس کی وجہ سے اس تک پانی پہنچانا ممکن نہیں ہے اور کچھ عرصہ سے اسے دوسری زمینوں کے ہم سطح بنانے کا کام بھی ختم ہوگیا ہے اور اضافی مٹی اس کے وسط میں پڑی ہے جو اس میں زراعت میں رکاوٹ ہے کیا اضافی مٹی کو فروخت کر کے اس کی رقم اس امامزادے کے حرم میں خرچ کرنا جائز ہے جو مذکورہ زمین کے قریب واقع ہے۔
      ج: اگر اضافی مٹی موقوفہ زمین سے استفادہ کرنے میں مانع ہے تو اسے زمین سے ہٹانے اور فروخت کرکے اس کی رقم کو وقف کے امور میں خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
       
      س 2100: بعض موقوفہ تجارتی دوکانیں جو موقوفہ زمین میں بنائی گئی ہیں اور کرایہ داروں سے پگڑی لئے بغیر کرائے پر دے دی گئی ہیں کیا ان کے کرایہ داروں کیلئے جائز ہے کہ وہ دوکانوں کی پگڑی کسی دوسرے کو بیچ کر اس سے رقم لے لیں ؟ اور اگر جائز ہے تو کیا پگڑی کی رقم کرایہ دار کی ہے یا وہ وقف کی آمدنی شمار ہوگی اور اسے وقف کے امور میں خرچ کیا جائیگا؟
      ج: اگر وقف کا متولی اس کی مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے پگڑی فروخت کرنے کی اجازت دے تو جو مال اس کے بدلے میں حاصل ہوگا وہ وقف کی آمدنی شمار ہوگا اور واجب ہے کہ اسے وقف کے امور میں خرچ کیا جائے لیکن اگر وہ اس معاملہ کی اجازت نہ دے تو معاملہ باطل ہے اور بیچنے والے کیلئے ضروری ہے کہ جو رقم اس نے خریدار سے لی ہے اسے واپس کر دے بہر حال جس کرایہ دار کے پاس پگڑی کا حق نہیں ہے اگر اس نے اسے کسی دوسرے کرایہ دارکو بیچا ہے تو اس کے مال میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

       

  • قبرستان کے احکام
700 /