ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • طہا رت
      • پانی کے احکام
      • بیت الخلاء کے احکام
      • وضو کے احکام
      • اسمائے باری تعالیٰ اور آیات الہی کو مس کرنا
      • غسل جنابت کے احکام
      • باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
      • تیمّم کے احکام
      • عورتوں کے احکام
      • میت کے احکام
        پرنٹ  ;  PDF
         
        میت کے احکام
         
        س ٢٢۶: کیا میت کے غسل ، کفن اور دفن میں مماثلت اور ہم جنس ہونا شرط ہے یا نہیں بلکہ زن و مرد میں سے ہر ایک دوسرے کی میت کے یہ کام انجام دے سکتاہے؟
        ج: میت کے غسل دینے میں مماثلت شرط ہے اور اگر میت کو اس کا ہم جنس( عورت کو عورت اور مرد کو مرد) غسل دے سکتا ہو تو غیر مماثل کا غسل دینا صحیح نہیں ہے اور میت کا یہ غسل باطل ہے، لیکن تکفین و تدفین میں مماثلت شرط نہیں ہے۔
         
        س ٢٢۷: آج کل دیہاتوں میں رواج ہے کہ میت کو رہائشی مکانوں میں غسل دیا جاتا ہے اور بعض موقعوں پر میت کا کوئی وصی نہیں ہوتا اور اس کے بچے چھوٹے ہوتے ہیں، ایسی صورت میں آپ کی کیا رائے ہے؟
        ج: میت کی تجہیز کے سلسلے میں متعارف حد تک جن تصرفات کی ضرورت ہے جیسے غسل، کفن اور دفن وہ کمسن ولی کی اجازت پر موقوف نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ورثاء کے درمیان چھوٹے بچوں کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
         
        س ٢٢۸: ایک شخص حادثہ میں یا کسی بلندی سے گر کر مر گیا اگر مرنے والے کے بدن سے خون بہہ رہا ہو تو کیا خون کا اپنے آپ یا طبی وسائل کے ذریعہ بند ہونے تک انتظار کرنا واجب ہے یا خون بہنے کے با وجود اسے اسی حالت میں دفن کر دیں؟
        ج: اگر ممکن ہو تو غسل سے پہلے میت کے بدن کو پاک کرنا واجب ہے اور اگر خون بند ہونے تک یا اسے روکنے کیلئے انتظار کرنا ممکن ہو تو ایسا کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢٢۹: وہ میت جو ٤٠ یا ٥٠ سال قبل دفن کی گئی تھی اور اس وقت اس کی قبر کا نشان مٹ چکا ہے اور وہ عام زمین بن چکی ہے اب اس جگہ نہر کھودی گئی تو اس میں سے اس مردے کی ہڈیاں نکل آئیں، کیا انہیں دیکھنے کے لئے ان ہڈیوں کو چھونے میں کوئی اشکال ہے؟ اور کیا وہ ہڈیاں نجس ہیں یا نہیں؟
        ج: مسلمان کی اس میت کی ہڈی جس کو غسل دیا جا چکا ہو نجس نہیں ہے، لیکن اسے دوبارہ مٹی میں دفن کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢۳۰: کیا انسان اپنے والد، والدہ یا اپنے کسی عزیز کو ایسا کفن دے سکتا ہے جو اس نے اپنے لئے خریدا تھا؟
        ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س ٢٣۱: ڈاکٹروں کی ٹیم کو طبی تحقیقات اور معائنے کے لئے میت کے دل اور اس کے جسم کے بعض حصوں کو اسکے جسم سے جدا کرنے کی ضرورت ہے اور تجربہ و معائنہ کرنے کے ایک دن بعد انہیں دفن کر دیتے ہیں، اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں۔
        ١۔ کیا ہمارے لئے ایسا کام انجام دینا جائز ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ لاشیں، جن پر یہ کام انجام دیئے جارہے ہیں مسلمانوں کی ہیں۔
        ٢۔ کیا دل اور میت کے بعض حصوں کو اس کے بدن سے جدا دفن کرنا جائز ہے؟
        ٣۔ کیا ان اعضاء کو کسی دوسری میت کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے؟ جبکہ قلب اور ان حصوں کو علیحدہ دفن کرنے میں ہمارے لئے بہت مشکلات ہیں؟
        ج: اگر کسی (نفس محترمہ) کی جان بچانا یا پھر ان طبی علوم کا انکشاف کرنا جن کی معاشرے کو احیتاج ہے یا اس مرض کا سراغ لگانا جس سے لوگوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اس پر موقوف ہو تو میت کے بدن کو چیرکر کھولناجائزہے، لیکن لازم ہے کہ جب تک اس کام کیلئے غیر مسلم کی میت مل سکتی ہو تو مسلمان کی میت سے استفادہ نہ کیا جائے اور جو اعضاء مسلمان کے بدن سے جدا کئے گئے ہو ں ان کا شرعی حکم یہ ہے کہ انہیں بدن کے ساتھ دفن کیا جائے اور اگر بدن کے ساتھ دفن کرنا ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س ٢٣۲: اگر انسان اپنے لئے کفن خریدے اور واجب یا مستحب نمازوں یا تلاوت قرآن مجید کے وقت ہمیشہ اس سے فرش و مصلیٰ کا کام لے اور موت کے بعد اسی کو اپنا کفن قرار دے تو کیا یہ جائز ہے؟ اوراسلامی نقطۂ نظر سے کیا یہ جائز ہے کہ انسان اپنے لئے کفن خرید کر اس پر قرآن کی آیتیں لکھے اور اسے صرف کفن کے کام میں لائے؟
        ج: مذکورہ کاموںمیں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        233: ایک پرانی قبر ے ایک عورت کا جنازہ ملا ہے جس کی تاریخ تقریباً سات سو سال پرانی ہے۔ یہ ایک عظیم الجثہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے جو صحیح و الم ہے اور اس کی کھوپڑی پر کچھ بال بھی موجود ہیں، آثار قدیمہ کے ماہرین۔جنہوں نے اس کا انکشاف کیا ہے ۔ کہتے ہیں یہ ایک ملمان عورت کا جسد ہے، کیا جائز ہے کہ میوزیم آف نیچرل سائنسز( ایسی چیزوں کا عجائب گھر)کی طرف سے اس واضح و مشخص عظیم الجثہ ڈھانچے کو (قبر کی تعمیر نو اور پھر اس میں رکھ کر) میوزیم کا مشاہدہ کرنے والوں کی عبرت کے لئے رکھ دیا جائے یا دیکھنے والوں کی نصیحت اور موعظہ کے لئے مناب آیات و احادیث لکھ کر وہاں لگا دی جائیں۔
        ج: اگر اس عظیم الجثہ ڈھانچے کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ یہ مسلمان کی میت ہے تو اس کا فوراً دفن کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢٣۴: کسی دیہات میں ایک قبرستان ہے جو نہ کسی خاص شخص کی ملکیت ہے اور نہ وقف ہے تو کیا اس گاؤں کے رہنے والوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ دوسرے شہروں یا گاؤں کی میتوں کو یا اس شخص کی میت کو جس نے اس قبرستان میں دفن ہونے کی وصیت کی ہے، اس میں دفن نہ ہونے دیں؟
        ج: اگر مذکورہ عمومی قبرستان کسی خاص شخص کی ملکیت نہ ہو اور نہ ہی خاص طور پر اس دیہات والوں کیلئے وقف ہو تو اہل قریہ دوسروں کی میتوں کو اس میں دفن ہونے سے منع نہیں کر سکتے اور اگر کوئی شخص خود کو اس قبرستان میں دفن کرنے کی وصیت کرے تو اس کی وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢٣۵: کچھ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبروں پر پانی چھڑکنا مستحب ہے، جیسا کہ کتاب " لئالی الاخبار "میں ہے۔ کیا یہ استحباب صرف دفن کے دن کے ساتھ مختص ہے یا نہیں بلکہ مطلق ہے جیسا کہ صاحب لئالی کا یہی نظریہ ہے؟ آپ کی رائے کیاہے؟
        ج: دفن کے دن پانی چھڑکنا مستحب ہے اور اسکے بعد بھی رجاء مطلوبیت کی نیت سے چھڑکنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
         
        س ٢٣۶: میت، رات کو کیوں دفن نہیں کی جاتی؟ کیا شب میں میت دفن کرنا حرام ہے؟
        ج: میت کو رات میں دفن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
         
        س ٢٣۷: ایک شخص کار کے حادثہ میں فوت ہو گیا، لوگوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور قبرستان میں لے آئے، جب اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ تابوت اور کفن دونوں اس سے نکلنے والے خون سے آلودہ ہیں تو کیا ایسی حالت میں کفن بدلنا واجب ہے؟
        ج: اگر کفن کے اس حصے کو جس پر خون لگا ہوا ہے، دھونا یا کاٹنا یا کفن کو تبدیل کرنا ممکن ہو تو ایسا کرنا واجب ہے، ورنہ اسی حالت میں دفن کر دینا جائز ہے۔
         
        س ٢٣۸: اگر اس میت کے دفن کو ۔جسے خون آلود کفن میں دفن کر دیا گیا ہے ـ تین ماہ گزر چکے ہوں تو کیا اس صورت میں قبر کو کھودا جا سکتا ہے؟
        ج: مفروضہ صورت میں قبر کھودنا جائز نہیں ہے۔
         
        س ٢٣۹: براہ کرم درج ذیل تین سوالات کے جواب مرحمت فرمائیں۔
        ١ ۔ اگر حاملہ عورت وضع حمل کے دوران (بچہ پیدا ہوتے وقت) مر جائے تو اس کے شکم میں موجود بچے کا مندرجہ ذیل تین صورتوں میں کیا حکم ہے؟
        الف) اگر اس میں تازہ روح داخل ہوئی ہو ( تین ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو) جبکہ یہ احتمال قوی ہوتاہے کہ اگر اسے ماں کے پیٹ سے نکالا جائے گا تو مرجائے گا۔
        ب) جب بچہ سات ماہ یا اس سے زائدکا ہو۔
        ج) بچہ ماں کے پیٹ میں مر چکا ہو۔
        ٢ ۔ اگر وضع حمل کے دوران حاملہ کا انتقال ہو جائے تو کیا دوسروں پر بچے کی موت یا اسکی حیات کی مکمل تحقیق کرنا واجب ہے؟
        ٣۔ اگر ولادت کے وقت ماں کا انتقال ہو جائے اور شکم میں بچہ زندہ ہو اور ایک شخص ـ متعارف طریقے کے خلاف۔ ماں کو زندہ بچے کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دے تو اس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
        ج: اگر حاملہ کے مرنے سے بچہ بھی مر جائے یا جب حاملہ فوت ہوئی ہے اس وقت بچے میں روح داخل نہ ہوئی ہو تو اس کا نکالنا واجب نہیں ہے، بلکہ جائز ہی نہیں ہے، لیکن اگر اس میں روح داخل ہو چکی ہو اور وہ شکم مادر میں زندہ ہو اور نکالنے تک اس کے زندہ رہنے کا احتمال بھی ہو تو اسے فوری طور پر نکال لینا واجب ہے، اور جب تک مردہ ماں کے شکم میں موجود بچے کی موت ثابت نہ ہو جائے ماں کو بچے سمیت دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اگر زندہ بچہ ماں کے ساتھ دفن کر دیا گیا ہو اور دفن کے بعد بھی بچے کے زندہ ہونے کا احتمال ہو تب بھی قبر کھودنے اور ماں کے شکم سے بچے کو نکالنا واجب ہے، اسی طرح اگر مردہ ماں کے پیٹ میں بچے کی زندگی کی حفاظت ماں کو دفن نہ کرنے پر موقوف ہو تو بظاہر بچے کی زندگی کی حفاظت کے لئے ماں کے دفن میں تاخیر واجب ہے۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حاملہ عورت کو اس کے زندہ بچے کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے اور دوسرے لوگ یہ گمان کرتے ہوئے کہ کہنے والے کی بات صحیح ہے، حاملہ عورت کو دفن کر دیں، جس سے قبر میں بچے کی موت واقع ہو جائے، تو دفن کرنے والے شخص پر بچے کی دیت واجب ہے، مگر یہ کہ موت کا باعث اس کہنے والے کی بات ہو تو اس صورت میں اس قائل پر دیت واجب ہو گی۔
         
        س ٢۴۰: بلدیہ نے زمین سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی غرض سے قبروں کو دو منزلہ بنانا مقرر کیا ہے، براہ مہربانی آپ اس سلسلے میں شرعی حکم بیان فرمائیں؟
        ج: مسلمانوں کی کئی منزلوں والی قبریں بنانا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ عمل قبر کھودنے اور مسلمان میت کی بے حرمتی کا باعث نہ ہو۔
         
        س ٢٤۱: ایک بچہ کنویں میں گر کر مر گیا ہے اور کنویں میں اتنا پانی ہے کہ اس میں سے اس کی میت کو نکالا نہیں جا سکتا، اس کا کیا حکم ہے؟
        ج: میت کو اسی میں رہنے دیں اور وہ کنواں ہی اس کی قبر ہو گا اور اگر کنواں کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو یا اس کا مالک بند کرنے پر راضی ہو جائے تو کنویں کو بند کر دینا واجب ہے۔
         
        س٢٤۲: ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ صرف ائمہ اطہار(علیہم السلام)، شہداء اور اہم دینی شخصیتوں کے غم میں روایتی انداز میں سینہ زنی ہوتی ہے۔ کیا یہی سینہ زنی بعض فوجی مجاہدین کیلئے اوران لوگوں کی وفات پر کرنا جائز ہے جنہوں نے اس اسلامی حکومت اور اس اسلامی معاشرے کی کسی نہ کسی طریقہ سے خدمت کی ہے۔
        ج: اس کام میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
         
        س ٢٤۳: رات میں قبرستان جانا مکروہ ہے لیکن اس شخص کا کیا حکم ہے جو شب میں قبرستان جانے کو اپنی اسلامی تربیت کے لئے مؤثر عامل سمجھتا ہے ۔
        ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س٢٤۴: کیا عورتوں کیلئے جنازے کے ساتھ چلنا اور اسے اٹھانا جائز ہے؟
        ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س ٢٤۵: بعض قبائلیوں کے یہاں مرسوم ہے کہ جب ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو مرنے والے کے سوگ میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کو کھاناکھلانے کے لئے قرض لے کر بہت سی بھیڑ بکریاں خریدتے ہیں جو ان کے لئے بڑے نقصان کا باعث ہوتا ہے، کیا اس قسم کے رسم و رواج کو باقی رکھنے کے لئے اتنے بڑے خسارے اور نقصان کا برداشت کرنا جائز ہے؟
        ج: اگر بالغ وارثوں کے اموال سے اور ان کی مرضی سے کھانا کھلایا جائے تو جائز ہے، لیکن اگر یہ کام مشکلات اور مالی نقصان کا باعث بنے تو اس سے اجتناب کیا جائے اور اگر میت کے اموال سے خرچ کیا جائے تو اس کا تعلق مرنے والے کی وصیت کی نوعیت سے ہے اور کلی طور پر ایسے امور میں اس اسراف اور افراط سے پرہیز کرنا ضروری ہے کہ جو نعمات الہی کے ضائع ہونے کا موجب بنے۔
         
        س ٢٤۶: آج کل اگر کوئی شخص بارودی سرنگ کے پھٹنے سے مر جائے تو کیا اس پر شہید کے احکام مترتب ہوں گے؟
        ج: غسل و کفن نہ دینے کا حکم صرف اس شہید سے مخصوص ہے جو معرکۂ جنگ میں مارا جائے۔
         
        س٢٤۷: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بعض سرحدی شہروں کے مراکز میں گشت کرتے ہیں اور دشمنان انقلاب اسلامی کبھی کبھار ان پر کمین گاہوں سے حملہ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں کبھی کبھی یہ شہید ہو جاتے ہیں، کیا ایسے شہیدوں کو غسل دینا یا تیمم کرانا واجب ہے یا پھر اس علاقہ کو میدان جنگ سمجھا جائے گا؟
        ج: یہ علاقہ اور مراکز اگر فرقۂ حقہ اور باطل پرست باغی گروہ کے درمیان میدان جنگ ہو تو فرقہ حقہ میں سے قتل ہونے والا شہید کے حکم میں ہے۔
         
        س ٢٤۸: جوشخص امامتِ جماعت کی شرائط نہیں رکھتا کیا مؤمن کی نماز جنازہ کی امامت کراسکتاہے؟
        ج: بعید نہیں ہے کہ جو شرائط بقیہ نمازوںکی جماعت اور امام جماعت میں ضروری ہیں وہ نماز میت میں معتبر نہ ہوں، اگر چہ احوط یہ ہے کہ نماز میت میں بھی ان کی رعایت کی جائے۔
         
        س ٢٤۹: اگر دنیا کے کسی گوشے میں کوئی مؤمن احکام اسلام کے نفاذ ،فقہ جعفری کے اجرا یا مظاہروں میں قتل کر دیا جائے تو کیا وہ شہید سمجھا جائے گا؟
        ج: اسے شہید کا اجر و ثواب ملے گا، لیکن شہید کی میت کی تجہیز کے احکام اس شخص سے مخصوص ہیں جو میدان جنگ میں جنگ کرتے ہوئے شہادت پائے۔
         
        س ٢۵۰: اگر عدالت کی طرف سے کسی مسلمان شخص کے خلاف منشیات کا کاروبار کرنے کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا جائے اور اسے موت کی سزا دی جائے تو:۔
        ١۔ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟
        ٢۔ اس کے مراسم عزائ، قرآن خوانی اور اس کے لئے منعقد ہونے والی مجالس اہل بیت میں شرکت کا کیا حکم ہے؟
        ج: جس مسلمان کو سزائے موت دی گئی ہو، اس کا حکم وہی ہے جو دیگر مسلمانوں کا ہے اور اس کے لئے وہ تمام اسلامی آداب اور احکام بجا لائے جائیں گے جو عام مرنے والوں کے لئے بجا لائے جاتے ہیں۔
         
        س ٢٥۱: کیا اس گوشت والی ہڈی کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہو جائے گا جو زندہ شخص کے بدن سے جدا ہوئی ہو؟
        ج: زندہ شخص کے بدن سے جدا ہونے والے حصے کو چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہوتا۔
         
        س ٢٥۲: کیا مردہ انسان کے بدن سے جدا ہونے والے عضو کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے؟
        ج: مردہ انسان کے بدن سے جدا ہونے والے حصے کو اسکے ٹھنڈا ہونے کے بعد اور غسل دیئے جانے سے پہلے چھونا خود میت کے بدن کو چھونے والا حکم رکھتاہے۔
         
        س ٢٥۳: کیا مسلمان شخص کو اسکی جان کنی کی حالت میں قبلہ رخ لٹانا ضروری ہے؟
        ج: بہتر ہے کہ مسلمان شخص کو جان کنی کے وقت اس طرح قبلہ رخ اور چت لٹا یا جائے کہ اسکے پیروں کے تلوے قبلہ کی جانب ہوں بہت سارے فقہا نے اس کام کو خود اس مسلمان پر اگر اسکی قدرت رکھتاہو اور دوسروں پر واجب قرار دیا ہے اور اس کی انجام دہی میں احتیاط کو ترک نہ کیا جائے۔
         
        س ٢٥۴: دانت نکلواتے وقت اس کے ساتھ مسوڑھے کے کچھ ریشے نکل آتے ہیں، کیا انہیں مس کرنے سے غسل مس میت واجب ہو جاتا ہے؟
        ج: اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
         
        س ٢٥۵: جس مسلمان شہید کو اس کے لباس میں دفن کیا گیا ہو، کیا اس کو چھونے سے مس میت کے احکام جاری ہوں گے؟
        ج: جس شہید کو غسل و کفن نہیں دیا جاتا اسے چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہوگا۔
         
        س ٢٥۶: میں میڈیکل کا طالب علم ہوں بعض اوقات میت کے بدن کو چیر کر کھولنے کے دوران مجبوراً مردوں کو چھونا پڑتا ہے اور معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لاشیں مسلمانوں کی ہیں یا نہیں نیز ان کو غسل دیا جاچکاہے یا نہیں لیکن ان امور کے ذمہ دار حضرات کہتے ہیں ان لاشوں کو غسل دیا جا چکا ہے، مذکورہ باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے براہ مہربانی ان مردہ جسموں کے مس کرنے کے بعد ہماری نماز و غیرہ کا حکم بیان فرمائیے۔ اور کیا مذکورہ صورت میں ہم پر غسل واجب ہے؟
        ج: اگر میت کو غسل دیا جانا ثابت نہ ہو اور آپ کو اس سلسلہ میں شک ہو تو جسد یا اس کے اجزاء کو چھونے سے غسل مس میت واجب ہو جائے گا۔ اور غسل مس میت کے بغیر نماز صحیح نہ ہو گی، لیکن اگر اس کا غسل ثابت ہو جائے تو اس کے بدن یا بعض اجزاء کو چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہو گا اگرچہ اس کے غسل کے صحیح ہونے میں شک ہی ہو۔
         
        س ٢٥۷: ایک گمنام شہید چند بچوں کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن ہے اور ایک ماہ کے بعد قرائن سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ شہید اس شہر کا نہیں تھا جس میں دفن کیا گیا ہے کیا اسے اپنے شہر منتقل کرنے کیلئے قبر کھودنا جائز ہے۔
        ج: اگر اسے شرعی احکام اورقوانین کے مطابق دفن کیا گیا ہو تو اسکی قبر کھودنا جائز نہیں ہے۔
         
        س ٢٥۸: اگر قبر کھودے یا مٹی ہٹائے بغیر قبر کے اندر کے حالات معلوم کرنا اور اندر کی ویڈیو بنانا ممکن ہو تو اس عمل پر قبر کھودنے (نبش قبر)کا اطلاق ہو گا یا نہیں؟
        ج: قبر کھودنے اور جنازہ کو آشکار کئے بغیر مدفون میت کے بدن کی تصویر لینے پرقبر کھودنے (نبش قبر) کا عنوان صادق نہیں آتا۔
         
        س ٢٥۹: بلدیہ، سڑکوں کی توسیع کے لئے قبرستان کے اطراف میں بنے ہوئے مقبروں کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔ کیا یہ عمل جائز ہے ؟ نیز کیا ان مردوں کی ہڈیوں کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے؟
        ج: مؤمنین کی قبروں کو کھودنا اور انہیں منہدم کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ یہ سڑکوں کی توسیع کیلئے ہی ہو اور اگر قبروں کو کھودنے کے نتیجے میں مسلمان میت کا بدن ظاہر ہو جائے یا مسلمان میت کی غیر بوسیدہ ہڈیاں مل جائیں تو انہیں نئے سرے سے دفن کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢۶۰: اگر ایک شخص شرعی قوانین کی رعایت کئے بغیر مسلمانوں کے قبرستان کو منہدم کرے تو اس شخص کے مقابلے میں باقی مسلمانوں کا فریضہ کیا ہے؟
        ج: باقی مسلمانوں پر واجب ہے کہ شرائط و مراتب کی رعایت کے ساتھ اسے نہی عن المنکر کریں اور اگر انہدام کے نتیجے میں مسلمان میت کی ہڈی ظاہر ہوجائے تو اسے دوبارہ دفن کرنا واجب ہے۔
         
        س ٢٦۱: میرے والد ٣٦ سال قبل ایک قبرستان میں دفن کئے گئے تھے اور اب میں سوچ رہا ہو ں کہ وقف بورڈ سے اجازت لے کر اس قبر سے اپنے لئے استفادہ کروں، لیکن چونکہ یہ قبرستان وقف ہے اس لئے کیا میرے لئے اپنے بھائیوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے؟
        ج: جس قبر کی زمین کو مردوں کی تدفین کے لئے وقف عام کیا گیاہے اسکی نسبت میت کے دیگر ورثاء سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے لیکن جب تک میت کی ہڈیاں مٹی نہ بن جائیں اس قبر کو دوسری میت کے دفن کرنے کے لئے کھودنا جائز نہیں ہے۔
         
        س٢٦۲: مسلمانوں کے قبرستان کو منہدم کرنے اوراسے کسی اور مرکز میں تبدیل کرنے کی کوئی راہ ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں۔
        ج: جو قبرستان مسلمان میتوں کو دفن کرنے کے لئے وقف ہے اسے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔
         
        س ٢٦۳: کیا دینی مرجع سے اجازت لینے کے بعد قبروں کا کھودنا اور اس قبرستان کو جو اموات کے دفن کے لئے وقف ہے، تبدیل کر کے کسی دوسرے کام میں لانا جائز ہے؟
        ج: جن حالات میں قبر کھودنا اور میتوں کے دفن کیلئے وقف شدہ قبرستاں کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے، ان میں مرجع کی اجازت کا کوئی اثر نہیں ہے اور اگر کوئی استثنائی مورد ہو تو اشکال نہیں ہے۔
         
        س ٢٦۴: تقریباً بیس سال قبل ایک شخص کا انتقال ہوا تھا اور ابھی چند روز پہلے ہی اسی گاؤں میں ایک عورت کا انتقال ہوا ہے، لوگوں نے غلطی سے اس شخص کی قبر کھود کر عورت کو بھی اسی میں دفن کر دیا ہے، اس چیز کے پیش نظر کہ قبر میں اس مرد کے بدن کے کوئی آثار نہیں ہیں اس وقت ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
        ج: مفروضہ سؤال کی روشنی میں اب دوسروں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اورصرف ایک میت کا دوسری میت کی قبر میں دفن کرنا اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتاکہ قبر کھود کر جسد کو دوسری قبر میں منتقل کیا جائے۔
         
        س٢٦۵: کسی راستے کے درمیان میں چار قبریں بنی ہوئی ہیں جو سڑک بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور دوسری طرف، قبروں کو کھودنے میں بھی شرعی اشکال ہے، گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں تا کہ بلدیہ شرع کے مخالف کام نہ کرے؟
        ج: اگر سڑک بنانا قبور کے کھودنے پر موقوف نہ ہو، اور قبروں کے اوپر سے سڑک بنانا ممکن ہو یا قبروں کے کھودنے پر موقوف ہو لیکن سڑک بنانا ضروری ہوتو سڑک بنانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
      • نجاسات کے احکام
      • نشہ آور چیزیں
      • وسوسہ اور اس کا علاج
      • کافر کے احکام
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • کتاب خمس
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /