ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • طہا رت
      • پانی کے احکام
      • بیت الخلاء کے احکام
      • وضو کے احکام
      • اسمائے باری تعالیٰ اور آیات الہی کو مس کرنا
      • غسل جنابت کے احکام
      • باطل غسل پر مترتب ہونے والے احکام
      • تیمّم کے احکام
      • عورتوں کے احکام
      • میت کے احکام
      • نجاسات کے احکام
      • نشہ آور چیزیں
        پرنٹ  ;  PDF
         
        نشہ آور چیزوں کے احکام
         
        س ۳۰۱: کیا ایسے مشروبات جن میں الکحل کا استعمال ہوتا ہے نجس ہیں ؟
        ج: مست کردینے والے مشروبات بنابر احتیاط نجس ہیں۔
         
        س ٣٠۲: انگور کے اس پانی کا کیا حکم ہے جس کو آگ پر ابالا گیا ہو اور اس کا دوتہائی حصہ ختم نہ ہوا ہو، لیکن وہ نشہ آور بھی نہ ہو؟
        ج: اس کا پینا حرام ہے، لیکن وہ نجس نہیں ہے۔
         
        س ٣٠۳: کہا جاتا ہے کہ اگر کچے انگور کی کچھ مقدار کو اس کا پانی نکالنے کے لئے ابالا جائے اور اس کے ہمراہ انگور کے کچھ دانے بھی ہوں تو ابال آجانے کے بعدجو باقی رہ جاتا ہے وہ حرام ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟
        ج: اگر انگور کے دانوں کا پانی بہت ہی کم ہو اور وہ کچے انگور کے پانی میں اس طرح مل کر ختم ہو گیا ہو کہ اسے انگور کا پانی نہ کہا جاتا ہو تو وہ حلال ہے، لیکن اگر خود انگور کے دانوں کو آگ پر ابالا جائے تو وہ حرام ہیں۔
         
        س ٣٠۴: دور حاضر میں بہت سی دواؤں میں الکحل ۔جو در حقیقت نشہ آور ہے۔خاص طور سے پینے والی دواؤں اور عطریات بالخصوص ان خوشبوؤں میں کہ جنہیں باہر سے منگوایا جاتا ہے استعمال ہوتاہے تو کیا مسئلہ سے واقف یا نا واقف آدمی کے لئے ان مذکورہ چیزوں کا خریدنا، بیچنا، فراہم کرنا، استعمال کرنا اور دوسرے تمام فوائد حاصل کرنا جائز ہے؟
        ج: جس الکحل کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ بذات خود نشہ آور سیال ہے تو اس پر پاک ہونے کا حکم لگایا جائیگا اور ان چیزوں کی خرید وفروخت اور استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے جن میں یہ الکحل ہو ۔
         
        س ٣٠۵: کیا ہاتھ اور طبی آلات جیسے تھرمامیٹر و غیرہ کو طبی امور میں استعمال کرنے کی غرض سے جراثیم سے پاک کرنے کیلئے نیز ڈاکٹر یا میڈیکل بورڈ کے ذریعہ علاج کی غرض سے سفید الکحل کا استعمال جائز ہے؟ سفید الکحل وہی طبی الکحل ہے جو پینے کے قابل بھی ہے، کیا جس کپڑے پر اس الکحل کا ایک قطرہ یا اس سے زیادہ گرجائے، اس کپڑے میں نماز جائز ہے؟
        ج: وہ الکحل جو بذات خود سیال نہ ہو، پاک ہے، اگر چہ نشہ آور ہی ہو اورجس لباس پر یہ لگا ہو اسکے ساتھ نماز صحیح ہے اور اس لباس کو پا ک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر الکحل ایسا ہے جو بذات خود سیال اور ماہرین کی تشخیص کے مطابق مست کرنے والا ہے تو بنا بر احتیاط وہ نجس ہے اور اگر یہ بدن یا لباس پر لگ جائے تو نماز کیلئے انہیں پاک کرنا ضروری ہے لیکن طبی آلات و غیرہ کو جراثیم سے پاک کرنے کیلئے اسکے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س ٣٠۶: " کفیر" ایک ایسا مادہ ہے جو غذاؤں اور دواؤں کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے، اس کا خمیر بنانے کے دوران اس سے حاصل شدہ مادہ میں %5 یا %8 الکحل وجود میں آجاتا ہے۔ الکحل کی یہ قلیل مقدار اسے استعمال کرنے والے کیلئے کسی قسم کے نشہ کا سبب نہیں بنتی۔ کیا شریعت کی رو سے اس کے استعمال میں کوئی مانع ہے یا نہیں؟
        ج: اس حاصل شدہ مادہ میں موجود الکحل اگر بذات خود نشہ آور ہو توبنابر احتیاط وہ نجس اور حرام ہے، چاہے وہ قلیل مقدار میں ہونے اور حاصل شدہ مادہ کے ساتھ مخلوط ہونے کے سبب اس کے استعمال کرنے والے کیلئے، نشہ آور نہ بھی ہو، لیکن اگر اس میں شک و تردید ہو کہ وہ بذات خود نشہ آور ہے یا شک ہو کہ وہ اصل میں سیال ہے یا نہیں تو حکم مختلف ہو گا۔
         
        س ٣٠۷:
        ١۔ ایٹالک الکحل نجس ہے یا نہیں؟ (بظاہر یہ الکحل منشیات میں موجود ہوتا ہے او رنشہ آور ہوتا ہے)۔
        ٢۔ الکحل کی نجاست کا معیار کیا ہے؟
        ٣۔ وہ کونسا طریقہ ہے جس سے ہم ثابت کرسکیں کہ فلاں مشروب نشہ آور ہے؟
        ج:
        ١) الکحل کی وہ تمام قسمیں جو نشہ آور ہوں اور بذات خود سیال ہوں بنا بر احتیاط وہ نجس ہیں۔
        ٢) نشہ آور ہو اور بذات خود سیال ہو۔
        ٣) اگر خود انسان کو یقین نہ ہو تو اس کے لئے موثق ماہرین کی گواہی کافی ہے۔
         
        س ٣٠۸: بازار میں موجود ان مشروبات۔ کہ جن میں سے بعض جیسے کوکاکولا اور پیپسی کولا و غیرہ ملک کے اندر بنتے ہیں اور کہا جاتا ہے ان کا اصل مواد باہر سے منگوایا جاتا ہے اور احتمال ہے کہ اس میں مادۂ الکحل پایا جاتا ہو۔کے پینے کا کیا حکم ہے ؟
        ج: طاہر و حلال ہیں، مگر یہ کہ خود مکلف کو یقین ہو کہ ان میں ایسا نشہ آور الکحل ملایا گیا ہے جو بذات خود سیال ہے۔
         
        س ٣٠۹: کیا غذائی مواد خریدتے وقت اس بات کی تحقیق ضروری ہے کہ اس کے بیچنے یا بنانے والے غیر مسلم نے اسے ہاتھ سے چھوا ہے یا نہیں یا اس کے بنانے میں الکحل استعمال کیاگیاہے یا نہیں؟
        ج: پوچھنا اور تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے۔
         
        س ٣۱۰: میں " اٹروپین سلفیٹ اسپرے" بناتا ہوں کہ جس کے فارمولے میں الکحل بنیادی حیثیت رکھتا ہے یعنی اگر ہم اس میں الکحل کا اضافہ نہ کریں تو اسپرے نہیں بن سکتا ہے۔ سائنسی لحاظ سے مذکورہ اسپرے ایک ایسا دفاعی اسلحہ ہے جس سے لشکر اسلام جنگ میں اعصاب پر اثر انداز ہونے والی کیمیاوی گیسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ کیا آپ کی رائے میں شرعی طور پر الکحل کا یوں دوا بنانے کے لئے استعمال جائز ہے؟
        ج: اگر الکحل مست کرنے والا اور بذات خود سیال ہو تو حرام اور بنابر احتیاط نجس ہے، لیکن اس کو استعمال کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
      • وسوسہ اور اس کا علاج
      • کافر کے احکام
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • کتاب خمس
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /