ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • احکام طهارت
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • خمس کے احکام
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
      • حمل روکنا
      • اسقاطِ حمل
      • مصنوعی حمل
      • تبديلى جنس
      • لاش کو چیرنا پھاڑنا اور اعضا کی پیوند کاری
        پرنٹ  ;  PDF
         
        لاش کو چیرنا پھاڑنا اور اعضا کی پیوند کاری
         
        س 1281: دل اور شریانوں کے امراض کی تحقیق اور نئے مسائل کشف کرنے کیلئے اس سے مربوط مختلف موضوعات پرمباحث کے سلسلوں کے انعقاد کیلئے مُردوں کے دل اور شریانوں کو حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کا معائنہ کیا جائے اور ان پر ٹیسٹ انجام دیئے جائیں اس چیز کے پیش نظر کہ تجربات اور تحقیق کے ایک یا چند دن بعد انہیں دفن کردیاجاتاہے سوال یہ ہے کہ :
        ١۔ کیا مسلمان کے جسم پر مذکورہ تحقیقات انجام دینا صحیح ہے؟
        ٢۔ کیا دل اور شریانوں کو جو کہ جسد سے جدا کی گئی ہیں الگ دفن کرنا جائز ہے؟
        ٣۔ چونکہ دل اور شریانوں کو الگ دفن کرنا مشکل ہے لہذا کیا انہیں کسی اور جسد کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے؟
        ج: اگر صاحب حرمت انسان کی جان بچانا یا علم طب کے جدید انکشافات کہ جن کی معاشرے کو ضرورت ہے یا کسی ایسے مرض کا پتہ لگانا کہ جولوگوں کی زندگیوں کے لئے خطرناک ہے اس پر موقوف ہو تومیت کے جسم کو چیرنا پھاڑنا اشکال نہیں رکھتا لیکن حتی الامکان مسلمان میت کے جسد سے استفادہ نہ کرنا واجب ہے۔ اور مسلمان میت کے جدا شدہ اعضاء کو اسی میت کے ساتھ دفن کرنا واجب ہے البتہ اگر اسی میت کے ساتھ دفن کرنے میں کوئی حرج یا مشکل نہ ہو ور نہ انہیں الگ یا کسی دوسری میت کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے۔
         
        س1282: اگرموت کے سبب میں شک ہو تو کیا تحقیق کے لئے جسد کا پوسٹ مارٹم کرنا جائز ہے؟ مثلاً اگر معلوم نہ ہوکہ میت نے زہر سے وفات پائی ہے یا گلا گھٹنے و غیرہ سے؟
        ج: اگر حقیقت کا ظاہر ہونا پوسٹ مارٹم پر موقوف ہو تو جائز ہے۔
         
        س1283: ہسٹا لوجی کی معلومات جمع کرنے کیلئے عمر کے تمام مراحل میں سقط ہونے والے بچے کے جسد کے چیرنے پھاڑنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ میڈیکل کالج میں جسد کے چیرنے (تشریح بدن) کی کلاس ضروری ہوتی ہے۔
        ج:اگر صاحب نفس محترمہ انسان کی جان بچانا یا ایسی جدید طبی معلومات کا حصول کہ جنکی معاشرے کو ضرورت ہے یا کسی ایسے مرض کے بارے میں معلومات حاصل کرنا کہ جو لوگوں کی زندگیوں کے لئے خطرناک ہے سقط شدہ بچے کے جسد کو چیرنے پھاڑنے (تشریح بدن) پر موقوف ہوتو یہ کام جائز ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو مسلمان کے اس سقط شدہ جنین سے استفادہ نہ کیا جائے کہ جس میں روح پھونکی جا چکی ہے۔
         
        س1284: آیا قیمتی اور نادر پلاٹینم کے ٹکڑے کو مسلمان میت کے بدن سے نکالنے کے لئے قبل از دفن بدن کو چیرنا ناجائز ہے؟
        ج: مذکورہ فرض میں پلاٹینم نکالنا جائز ہے بشرطی کہ میت کی بے احترامی شمار نہ ہو۔
         
        س1285: میڈیکل کالج میں تعلیم و تعلم کے لئے قبریں کھود کر ہڈیاں نکالنے کا کیا حکم ہے چاہے یہ قبریں مسلمانوں کے قبرستان میں ہوں یا غیر مسلموں کے قبرستان میں؟
        ج: اس کام کیلئے مسلمانوں کی قبروں کو کھودنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر غیر مسلموں کی ہڈیاں حاصل کرنا ممکن نہ ہو اور فوری طبی ضروریات کے تحت ہڈیوں کو نکالنا ضروری ہو تو جائز ہے۔
         
        س1286: کیا ایسے شخص کے لئے سر پر بال اگانا جائز ہے کہ جس کے بال جل گئے ہوں اور بال نہ ہونے کی وجہ سے اسے عام لوگوں کے سامنے رنج و تکلیف اٹھانا پڑتی ہو؟
        ج: بال اگانے میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ بال حلال گوشت جانور یا انسان کے ہوں۔
         
        س1287: اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے اور ڈاکٹر اس کے علاج سے مایوس ہوجائیں اور یہ کہیں کہ وہ جلد ہی مرجائے گا تو کیاایسی صورت میں اس کے بدن کے حیاتی اعضاء جیسے ، دل، گردہ وغیرہ کو اس کی وفات سے پہلے نکال کر دوسرے انسا ن کے جسم میں لگایا جاسکتا ہے ؟
        ج: اگر اس کے بدن سے اعضاء نکالنے کی وجہ سے اسکی موت واقع ہو جائے تو یہ قتل کے حکم میں ہے اور اگر اعضاء نکالنے سے موت واقع نہ ہو اور اس شخص کی اجازت سے ہو تو جائز ہے۔
         
        س1288: آیا مردے کی شریانوں اور رگوں کو کاٹ کر بیمار شخص کے جسم میں لگانے کے لئے ان سے استفادہ کرنا جائز ہے؟
        ج: اگر میت سے اس کی زندگی میں اجازت لی جائے یا کسی نفسِ محترمہ کی جان بچانا اس پر موقوف ہو تو جائز ہے۔
         
        س1289: کیا مسلمان میت کے بدن سے جدا کئے گئے کارنیا (Carnea) کہ جس کا کسی دوسرے کے بدن سے پیوند لگایا جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ عمل میت کے اولیاء کی اجازت کے بغیر انجام پاتا ہے ، اس کی دیت واجب ہے، اوراگر دیت واجب ہو توہر آنکھ اور کارنیا کی کتنی دیت ہے؟
        ج: مسلمان میت کے بدن سے کارنیا کا نکالنا حرام ہے اور یہ دیت کا سبب ہے اور دیت کی مقدار پچاس دینار ہے لیکن اگر میت سے قبل از موت اجازت لے لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور دیت بھی واجب نہیں ہے۔
         
        س1290:ایک جنگی مجروح کے خصیتَین کو زخمی ہونے کی وجہ سے کاٹ دیا گیا کیا ایسے شخص کے لئے ہارمونک دوائیوں کا کھانا جائز ہے تاکہ وہ اپنی جنسی قدرت اور ظاہری مردانگی کی حفاظت کر سکے؟ اور اگر مذکورہ نتائج اور بچہ پیدا کرنے کی قدرت حاصل کرنے کا واحد راہِ حل یہ ہو کہ دوسرے شخص سے خصیتیں لیکر اسکے ساتھ انکی پیوند کاری کی جائے تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟
        ج: اگر خصیہ کی پیوند کاری ممکن ہو اس طرح سے کہ پیوندکاری کے بعد اس کے بدن کا جز بن جائے تو نجاست و طہارت کے لحاظ سے کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی بچے پیدا کرنے کی قدرت اور بچے کے اسکے ساتھ ملحق کرنے کے اعتبار سے کوئی حرج ہے اور اسی طرح جنسی قدرت اور ظاہری مردانگی کی حفاظت کے لئے ہارمونک دوائیاں استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
         
        س1291:مریض کی زندگی بچانے کے لئے گردوں کی پیوندکاری کی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر گردوں کا بینک بنانے کی فکر میں ہیں بہ این معنی کہ بہت سے لوگ اختیاری طور پر اپنے گردے ہدیہ کرتے ہیں یا فروخت کرتے ہیں آیا اختیاری صورت میں گردوں یا بدن کے کسی بھی عضو کا بخشنا یا فروخت کرنا جائز ہے؟ اور ضرورت کے وقت اسکا کیا حکم ہے؟
        ج: زندگی میں کسی کا اپنے گردے یا کوئی اور عضو فروخت کرنے یا بخشنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ دوسرے مریض اس سے استفادہ کریں بشرطیکہ اس کام سے اسے کوئی قابل توجہ ضرر نہ پہنچ رہا ہو بلکہ اگر ایک نفس محترمہ کو بچانا اس پر موقوف ہو اور خود اس شخص کو بالکل کوئی حرج اور ضرر نہ ہو تو یہ کام واجب ہے۔
         
        س1292: بعض افرادناقابل علاج و شفا بَرین ہمبرج کا شکارہوجاتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ان کی سب دماغی سرگرمیاں ختم ہوجاتی ہیں اور ان پر مکمل بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے، سانس لینے کی قدرت بھی نہیں رکھتے اور شعاعی اور فیزیکل محرکات کا جواب دینے پر بھی قادر نہیں ہوتے اور ایسی صورت میں مذکورہ سرگرمیوں کے طبیعی حالت پر آجانے کا احتمال معدوم ہوجاتا ہے ، دل کی ڈھڑکن باقی رہتی ہے جوکہ وقتی ہوتی ہے اور آلے کی مدد سے مصنوعی طور پر سانس لیتا ہے اور مذکورہ حالت چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند دن باقی رہتی ہے ایسی کیفیت کو علم طب میں دماغی موت کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر قسم کا شعور و احساس اور ارادی حرکت ختم ہوجاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے مریض ہیں جن کی زندگی دماغی موت والے افراد کے اعضاء سے استفادہ کرکے ہی بچائی جاسکتی ہے ،آیا دوسرے بیماروں کی زندگی بچانے کیلئے دماغی موت والے مریضوں کے اعضاء سے استفادہ کرناجائز ہے؟
        ج: مذکورہ حالات رکھنے والے مریض کے اعضاء سے دوسرے بیماروں کے لئے استفادہ کرنا اگر اس طرح ہو کہ مذکورہ اعضاء نکالنے سے ان کی موت جلدی واقع ہوجائے اور زندگی تمام ہوجائے تو جائز نہیں ہے اور اس صورت کے علاوہ اگر مذکورہ عمل اس کی اجازت سے انجام پائے جو پہلے لی جاچکی ہو یا اس عضو پر نفس محترمہ کی زندگی کا دارومدار ہو تو جائز ہے۔
         
        س1293: میں چاہتا ہوں کہ اپنے اعضا کو بخش دوں اور مرنے کے بعد میرے جسم سے استفادہ کیا جائے جس کی اطلاع میں نے متعلقہ ذمہ دار افراد کو دے دی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ میں مذکورہ خواہش کو وصیت میں تحریر کردوں اوراپنے ورثا کو بھی بتادوں، کیامجھے ایسا کرنے کا حق ہے؟
        ج: کسی شخص کی جان بچانے یا اسکی بیماری کا علاج کرنے کی غرض سے میت کے جسم کے بعض اعضا کی اسکے ساتھ پیوندکاری کرنا بلا اشکال ہے اوران چیزوں کی وصیت کرنا بلا مانع ہے سوائے ایسے اعضاء کے کہ جنہیں جدا کرنے سے مُثلہ کرنے کا عنوان صادق آتا ہو یا جسے عرفاً میت کی ہتک حرمت شمار کیا جائے۔
         
        س1294: خوبصورتی کے لئے پلاسٹک سرجری کا کیا حکم ہے؟
        ج: یہ کام بذاتِ خودکوئی اشکال نہیں رکھتا۔

         

      • طباعت کے متفرقہ مسائل
      • ختنہ
      • میڈیکل کی تعلیم
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • ہبہ
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب کے احکام
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ کے احکام
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /