ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
      پرنٹ  ;  PDF
       
      بیعِ فضولی
       
      س١٤٧8:میں نے اپنے بھائی سے زرعی زمین کا ایک قطعہ بیع الشرط کے طور پر خریداہے لیکن بھائی صاحب نے مذکورہ زمین دوبارہ کسی اور شخص کو فروخت کر دی یہ دوسرا معاملہ صحیح ہے؟
      ج: اگر پہلا معاملہ شرعاً صحیح طریقے سے انجام پایا ہو تو بیچنے والے کو اسے دوسرے شخص کو فروخت کرنے کا حق نہیں ہے جب تک کہ وہ پہلے معاملے کو فسخ نہ کرے اور اگریہ کام کرے تو یہ دوسرا معاملہ فضولی اور پہلے خریدار کی اجازت پرموقوف ہوگا ۔
       
      س١٤٧9:ایک کو آپریٹو کمپنی کے ممبران نے رہائش کیلئے زمین کا ایک قطعہ خریدا اور اسکی قیمت انہوں نے خود ادا کی لیکن اسکی رجسٹری کمپنی کے نام کی گئی چند روز قبل کمپنی کی نئی بننے والی مینیجنگ کمیٹی کے ممبران نے کہ جن کا زمین کے خریدنے اور پیسے ادا کرنے میں کوئی دخل نہیں تھا مذکورہ زمین کو ممبران کی اجازت کے بغیر اصلی قیمت سے کم قیمت پر فروخت کردیا ہے آیا یہ خرید و فروش جائزہے ؟
      ج: اگر زمین بعض معین افراد نے اپنے مال سے اپنے لئے خریدی تھی تو یہ ان کی ملکیت ہے اور کسی کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور کمپنی کی مینیجنگ کمیٹی کا زمین کواسکے مالکوں کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا فضولی ہے۔ ہاں اگر زمین کمپنی کے سرمایہ سے خریدی گئی تھی جو کہ ایک حقوقی شخصیت ہے اور کمپنی کے لئے خریدی گئی تھی تو مذکورہ زمین کمپنی کی ملکیت ہے اور اس صورت میں کمیٹی کمپنی کے قوانین کے مطابق اس میں تصرف کرسکتی ہے۔
       
      س١٤80:ایک شخص نے سفر پر جاتے ہوئے اپنے بھائی کو قانونی طور پر وکیل بنایا کہ وہ اس کا گھرجسے چاہے بیچ دے حتی کہ اپنے آپ کو بھی لیکن سفر سے واپسی پر اس نے گھر فروخت کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اس کی اطلاع زبانی طور پر اپنے بھائی کو دے دی۔ لیکن اس کے بھائی نے اس سابقہ قانونی وکالت کی بنا پر گھر کو اپنی طرف منتقل کرلیا اور اسکی رجسٹری اپنے نام کروالی بغیر اسکے کہ موکل کو قیمت دے یا گھر کو اس سے اپنی تحویل میں لے۔ آیایہ معاملہ صحیح ہے؟
      ج: اگرثابت ہو جائے کہ وکیل نے معزول ہونے کی اطلاع کے بعد اگرچہ یہ اطلاع زبانی ہو گھر اپنے آپ کو فروخت کیا ہے تو مذکورہ معاملہ فضولی ہے اور موکل کی اجازت پر موقوف ہے۔
       
      س١٤81:اگر مالک نے اپنا مال کسی کو فروخت کر دیا اور پھر وہی چیز ایک دوسرے شخص کو فروخت کر دی بغیر اسکے کہ اسے پہلا معاملہ فسخ کرنے کا حق ہو آیا اس کا یہ معاملہ صحیح ہے؟ اور اگر وہ مال مالک کے پاس موجود ہو تو کیادوسرے خریدار کو دوسرے معاملے کی بناپر مالک سے اس مال کے مطالبے کا حق ہے؟
      ج: پہلی دفعہ جب اس نے مال کو فروخت کردیا تو پہلے خریدار کی اجازت کے بغیر وہی مال دوسرے کو فروخت کرنا فضولی اور پہلے خریدار کی اجازت پر موقوف ہے اور جب تک وہ دوسرے معاملے کی اجازت نہ دے اسے حق ہے کہ اسے جہاں بھی وہ مال ملے لے لے اور دوسرے خریدار کو مالک سے اس مال کے مطالبے کا حق نہیں ہے۔
       
      س١٤82: ایک شخص نے دوسرے کے مال سے کچھ زمین خریدی ہے آیا یہ زمین صاحب مال کی ملکیت شمارہوگی یا خریدار کی؟
      ج: اگر جائیداد دوسرے شخص کے عین مال سے خریدی گئی ہے اور صاحب مال معاملہ کی اجاز ت دے دے تو یہ معاملہ خود اسی کی جانب سے انجام پائے گا اورخریدار کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور اگر صاحب مال اجازت نہ دے تو مذکورہ معاملہ باطل ہے۔ ہاں اگر خریدار نے زمین اپنے لئے اور اپنے ذمہ میں خریدی ہو اور پھر دوسرے شخص کے مال سے قیمت ادا کی ہو تو اس صورت میں زمین خریدار کی ہوگی۔ لیکن خریدار فروخت کرنے والے کا مقروض ہے اور اس شخص کے مال کا ضامن ہے کہ جس کا مال اس نے فروخت کرنے والے کو دیا ہے اور فروخت کرنے والے پر واجب ہے کہ اس نے جو کچھ شروع میں اپنی زمین کی قیمت کے طور پر وصول کیا ہے وہ اسکے مالک کو واپس کردے۔
       
      س١٤83:اگر کوئی شخص دوسرے کامال بطور فضولی فروخت کر دے اور حاصل شدہ قیمت کو اپنی ضروریات میں استعمال کر لے پھر ایک طویل مدت کے بعد صاحب مال کو اسکے بدلے میں مال دینا چاہے تو کیا اسے وہی رقم دے جو اس نے مال فروخت کرکے حاصل کی تھی؟ یا فروخت کے وقت کی قیمت ادا کرے؟ اور یا معاوضہ دینے کے وقت کی قیمت ادا کرنا ہوگی؟
      ج: اگر مالک معاملہ کی اجازت کے بعد قیمت اپنے قبضے میں لینے کی اجازت بھی دے دے تو ضروری ہے کہ فضولی مالک کو وہی رقم ادا کرے جو اس نے قیمت کے طور پر خریدار سے لی تھی اور اگر مالک معاملہ کو رد کردے تو اگر ممکن ہے فضولی مالک کا عین مال اسے واپس کرے اور اگر عین مال واپس کرنا ممکن نہ ہو تو عوض کے طور پراسکی مثل یا قیمت ادا کرے اور احوط یہ ہے کہ فروخت والے دن کی قیمت اور ادا والے دن کی قیمت کے درمیان تفاوت کی صورت میں مالک سے مصالحت کرے۔
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /