ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
      پرنٹ  ;  PDF
       
      اولیاء تصرّف
       
      س١٤84:اگر والد اپنے چھوٹے بچوں کے لئے کوئی جائیدد خریدے اور بیع کاصیغہِ شرعی بھی جاری ہوجائے اور باپ ان پر اپنی ولایت کی وجہ سے قبض و اقباض کرلے تو کیا یہ معاملہ ہوجائیگا؟
      ج: باپ کی طرف سے اپنے چھوٹے بچے کیلئے صحیح طور پر معاملہ کرلینے کے بعد اس کا چھوٹے بچے پر اپنی ولایت کے عنوان سے جائیداد کو اپنے قبضے میں لے لینامعاملہ کے انجام پانے اور اس پر آثار کے مرتب ہونے کے لئے کافی ہے۔
       
      س١٤85:بچپن میں میرے سرپرست نے میری زمین بیچ کر خریدار سے بیعانہ لے لیا ہے اورمجھے نہیں معلوم کہ ان کے مابین معاملہ مکمل ہو گیا ہے یا نہیں۔ لیکن زمین مسلسل خریدار کے قبضے میں ہے اور وہ اس میں تصرف کرتا ہے۔ آیا مذکورہ معاملہ صحیح ہے اور مجھ پر نافذ ہے یا اصلی مالک ہونے کے عنوان سے میرے لئے زمین واپس لینا جائزہے؟
      ج: اگر ثابت ہو جائے کہ تمہارے شرعی ولی نے تمہاری زمین اس ولایت کی بناپر فروخت کی ہے جو اُس وقت اسے آپ پر حاصل تھی تو معاملہ شرعاً صحیح ہے اور آپ کوحال حاضر میں زمین واپس  لینے کا حق نہیں ہے جب تک اس معاملے کا فسخ ثابت نہ ہو جائے ۔
       
      س١٤86 : اگر میت کی وراثت میں سے کچھ نقد مال بچ جائے اور سرپرست (قیم) وہ مال اپنے پاس رکھ لے اوراسے کسی کام میں نہ لگائے تو کیا اس مال کا تیرہ فیصد منافع جو بینک دیتاہے یا جو مقدار بازار اور عرف میں متعارف ہے اسکے ذمے ہے؟ اور اگر قیم مذکورہ مال سے تجارت کر ے اور منافع بھی حاصل ہو کہ جس کی مقدار معلوم نہیں ہے تو اس کاکیا حکم ہے؟
      ج: قیم چھوٹے بچوں کے اموال کے فرضی منافع کا ضامن نہیں ہے۔ ہاں ا گربچوں کے مال سے تجارت کرے تو تمام منافع بچوں کے لیے ہے اور اگر قیم شرعی طور پربچوں کے مال سے تجارت کرنے کا مجازہو تو صرف اپنے کام کی اجرة المثل کا مستحق ہے۔
       
      س١٤٨7:زندہ شخص جو کہ ممنوع التصرف نہیںہے کیااس کے داماد یا بچوں کیلئے اسکے املاک و اموال کو اسکی وکالت اور اجازت کے بغیر فروخت کرنا جائز ہے؟
      ج: مالِ غیر کواسکی اجازت کے بغیر فروخت کرنا فضولی ہے اور مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔ اگرچہ فروخت کرنے والا اس کا داماد اور اولاد ہی کیوں نہ ہوں۔ لہذا جب تک مالک کی اجازت حاصل نہ ہو اس معاملہ پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوگا۔
       
      س١٤٨8:  ایک شخص برین ہیمبرج کی وجہ سے اپنے حواس کھو بیٹھا۔اس حالت میں اس کی اولاد کس طرح  اس کے مال میں تصرف کرسکتی ہے؟ اور اسی طرح اسکے ایک بچے کا اسکی دیگراولاد اور حاکم شرعی کی اجازت کے بغیر مال میں تصرف کرنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر اختلال حواس اس درجے کا ہو کہ عرف کے نزدیک مجنون کہلائے تو اس صورت میں اس پر اور اس کے اموال پر حاکم شرع کو ولایت حاصل ہے اور کسی کیلئے بھی حتی اس کی اولاد کیلئے حاکم شرعی کے اذن کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرناجائز نہیں ہے اور اگر حاکم شرع کی اجازت کے بغیر اسکے اموال میں تصرف کیا جائے تو یہ غصب اور موجب ضمان ہے اور اس میں معاملے والے تصرفات فضولی ہیں جو حاکم شرعی کی اجازت پرموقوف ہیں۔
       
      س١٤٨9:ایک شخص نے شہید کی بیوہ سے شادی کی ہے اور اس کی سرپرستی کا ذمہ دار بنا ہے آیا اس کے لئے یا اس کی اولاد یا اسکی بیوی ( شہید کے بچوں کی ماں)کے لئے ان اشیاء سے استفادہ کرنا جائز ہے جو شہید فاؤنڈیشن کی طرف سے شہید کی اولاد کو عطا کردہ مال سے خریدی گئی ہیں؟ اور اسی طرح شہید فاؤنڈیشن کی طرف سے مقرر کردہ وظیفہ اور (شہید کی اولاد کے لئے)   دیئے گئے سامان  اورمالی امداد کو کیسے استعمال کیا جائے؟ کیا واجب ہے کہ ان اشیاء کو الگ رکھا جائے اور انہیں دقیق طور پر فقط شہید کی اولاد پر خرچ کیا جائے؟
      ج: شہید کے چھوٹے بچوں کے مخصوص اموال چاہے وہ خود ان کے مخارج کیلئے ہوں یا دوسروں کے استفادے کیلئے ان میں تصرف اگرچہ شہید کے چھوٹے بچوں کے مفاد میں ہو ضروری ہے کہ ان کے شرعی ولی کی اجازت کے ساتھ ہو۔
       
      س١٤90:ان اشیاء کا کیا حکم ہے جنہیں شہید کے دوست شہید کی فیملی سے ملاقات کے وقت انہیں تحفے کے طور پر دیتے ہیں؟ آیایہ شہید کے بچوں کے مال کا حصہ قرار پائیں گی؟
      ج: اگر تحائف شہید کی اولاد کے لئے ہوں تو ان کے شرعی سرپرست کے قبول کرنے کے بعد ان کا مال کہلائیں گے اور ان میں دوسروں کا تصرف ان کے ولی شرعی کی اجازت پر موقوف ہے۔
       
      س١٤91:میرے والد ایک تجارتی مرکز کے مالک تھے ان کی وفات کے بعد ہمارے چچے اسے چلاتے تھے اور ہمیں کرایہ کے عنوان سے ایک معین رقم دیتے تھے۔ کچھ مدت بعد میری والدہ جو ہماری سرپرست (قیم) تھیں نے کچھ رقم ایک چچا سے قرض لی تو انہوں نے کرایہ کی رقم کو اس قرض کے بدلے کاٹ لیا۔اس کے بعد انہوں نے مذکورہ مرکز کو بچوں کے اموال کو ان کے بلوغ تک محفوظ  رکھنے کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میری والدہ سے خرید لیا اور مذکورہ خرید و فروخت گذشتہ حکومت کے دور میں بعض حکومتی افراد کی مدد سے قانونی طور پر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور قطعی ہوگئی حال حاضر میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ آیا گذشتہ تصرفات اور خرید و فروخت صحیح ہیں؟ یا ہمیں شرعاً معاملہ کو فسخ کرنے کا حق ہے اور آیا وقت گذرنے سے حق ِطفل ساقط ہو جاتا ہے؟
      ج: تجارتی مرکز کے اجارے اور کرایہ کی رقم کو قرض کے بدلے میں رکھ لینا صحیح ہے اور اسی طرح اس کی فروخت پر بھی صحت کا حکم لگایا جائیگا مگر یہ کہ شرعی اور قانونی طریقے سے ثابت ہو جائے کہ چھوٹے بچوں کا حصہ فروخت کرنا اس وقت بچوں کے لئے مصلحت نہیں رکھتا تھا یا بچوں کا قیم فروخت کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا اور بچوں نے بلوغ کے بعد اس معاملہ کی اجازت نہ دی ہو اور اگرمعاملے کا باطل ہونا ثابت ہو جائے تو وقت کا گزرنا بچوں کے حق کو ساقط نہیں کرتا۔
       
      س١٤92:میراشوہر ٹریفک کے اس حادثہ میں انتقال کر گیاکہ جس میں گاڑی کا ڈرائیور اس کا دوست تھا۔ اس حادثہ کے بعد میں بچوں کی قانونی اور شرعی قیم بن گئی۔
      (i) کیا ضروری ہے کہ ڈرائیور سے دیت کا مطالبہ کروں یابیمہ سے رقم حاصل کرنے کیلئے کوشش کروں؟
      (ii)  آیا میرے لئے بچوں کے والد کی مجالس عزا میں بچوں کے مخصوص مال کو خرچ کرنا جائز ہے؟
      (iii) آیا میرے لئے بچوں کے دیت والے حق سے دستبردار ہونا جائز ہے؟
      (iv) اور اگر میں بچوں کے حق سے دست بردار ہو جاؤں اور وہ بالغ ہونے کے بعد مجھ سے راضی نہ ہوں تو آیا  میں دیت کی ضامن ہوں؟
      ج:
      (i) اگر ڈرائیور یا کوئی اور شخص شرعاً دیت کا ضامن ہو تو آپ پر بچوں کی  سرپرست (قیم) ہونے کے اعتبار سے بچوں کا شرعی حق محفوظ کرنے کیلئے دیت کا مطالبہ کرنا واجب ہے۔ اور اسی طرح بیمہ والے مسئلے میں بھی اگر قانونی طور پربچوں کیلئے یہ حق ہے تو آپ کا یہی فریضہ ہے۔
      (ii)  چھوٹے بچوں کے والد کی مجالس ترحیم میںبچوں کا مال خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔اگرچہ وہ مال انہیں والد کی طرف سے وراثت میں ملا ہو۔
      (iii) ، (iv)  بچوں کے حق سے آپ کادستبردار ہونا کہ جو ان کی مصلحت کے خلاف ہے جائز نہیں  ہے اور وہ بالغ ہونے کے بعد دیت کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔
       
      س١٤93:میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ان کا دادا ان کاولی اور قیم قرار پایا ہے۔ اب اگر ایک بچہ بالغ ہو جائے تو کیا وہ باقی بھائیوں کا سرپرست بن جائے گا؟ اور اگر ایسا نہ ہو تو کیا میں حق رکھتی ہوں کہ اولاد کی سرپرست بن جائوں؟ نیزان کا دادا عدالت کے فیصلے کے مطابق وراثث کا چھٹا حصہ لینا چاہتا ہے اس مسئلہ کا حکم کیا ہے؟
      ج: یتیم بچوں کے بالغ ہونے تک ان کی ولایت اور سرپرستی کا حق دادا کو ہے اور اس میں عدالت کی طرف سے اسے منصوب کرنا ضروری نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ اس کابچوں کے مال میں تصرف کرنا بچوں کی مصلحت اور مفاد میں ہو۔ لہذا اگر دادا بچوں کی مصلحت کے برخلاف کوئی کام انجام دے تو عدالت کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اورجو بچہ رشید اور بالغ ہو جائے گا وہ دادا کی سرپرستی اور ولایت سے خارج ہو جائے گا اور خود اپنے امور کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ لیکن والدہ اور بالغ ہونے والے بچے کو ددسرے بچوں پر حق ولایت نہیں ہے اور چونکہ میت کے مال میں سے دادا کا چھٹا حصہ ہے لہذا اس کے لئے چھٹا حصہ لے لینا بلا مانع ہے۔
       
      س١٤94: ایک شادی شدہ خاتون قتل ہو گئی ۔اس کے تین چھوٹے بچے، ماں باپ اور شوہر بقید حیات ہیں۔ عدالت نے شوہر کے بھائی کو خاتون کا قاتل قرار دیا اور مقتول کے اولیاء کو دیت دینے کا حکم دیا۔لیکن چھوٹے بچوں کا والد جو کہ ان کا شرعی ولی و سرپرست ہے اپنے بھائی کوقاتل نہیں سمجھتا اسلئے وہ اولاد اور اپنے لئے دیت لینے سے انکار کر رہا ہے آیا اس کا یہ کام جائز ہے؟
      آیا بچوں کے باپ اور دادا کے ہوتے ہوئے کسی اور کوکسی بھی عنوان سے اس مسئلہ میں مداخلت کرنے اور یہ اصرار کرنے کا حق ہے کہ وہ مقتولہ کی اولاد کے لئے ان کے چچا سے دیت وصول کر ے؟  
      ج: اگر چھوٹے بچوں کے والد کو یقین ہے کہ اس کا بھائی جس پر قتل کا الزام ہے اس کی زوجہ کا قاتل نہیں ہے اور وہ دیت کا حقیقی مدیون نہیں ہے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس سے دیت لے اور چھوٹے بچوںکا حق وصول کرنے کے عنوان سے اس سے دیت کا مطالبہ کرے۔
      باپ یا داداکے ہوتے ہوئے جنہیں بچوں پر ولایت حاصل ہے کسی اور کو ان کے امور میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔
       
      س١٤95 : اگر مقتول کے فقط چھوٹے بچے ہوں اور ان پر منصوب کیا گیا سرپرست (قیم)مقتول کے خون کے ورثاء میں سے نہ ہو تو کیا مذکورہ شخص کے لئے قاتل کو معاف کرنا یا قصاص کو دیت میں تبدیل کرنا جائز ہے؟
      ج: اگر شرعی ولی کے اختیارات قیم کے سپرد کئے گئے ہوں تو وہ بچوں کی مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے قاتل کو معاف یا قصاص کو دیت میں تبدیل کرسکتا ہے۔
       
      س١٤96:چھوٹے بچے کی کچھ رقم بینک میں ہے۔بچے کا قیم (سرپرست) اس میں سے کچھ رقم بچے کی خاطرتجارت کرنے کیلئے لینا چاہتاہے تاکہ بچے کے اخراجات مہیا ہو سکیں کیا اس کیلئے ایسا کرنا جائز ہے؟
      ج: بچے کے ولی اور سرپرست کے لئے جائز ہے کہ وہ بچے کی مصلحت اور مفاد کی رعایت کرتے ہوئے اس کیلئے اسکے مال سے مضاربہ کے عنوان سے خود کام کرے یا کسی اورکو دے دے جو اسکے ساتھ کام کرے بشرطیکہ کام کرنے والا قابل اطمینان اور امانتدار ہو ورنہ چھوٹے بچے کے مال کے ضامن ہیں۔
       
      س١٤٩7: اگرمقتول کے خون کے بعض وارث یا تمام ورثاء نابالغ ہوں اور ان کے حق کے مطالبے کے سلسلے میں ان پر ولایت حاکم کو حاصل ہو تو اگر حاکم کومجرم کے تنگدست ہونے کا پتہ چل جائے تو کیا وہ اسکے قصاص کو دیت میں تبدیل کرکے اسے قصاص سے معاف کرسکتا ہے؟
      ج: اگر اس صورت میں حاکم شرع بچوں کی مصلحت اور فائدہ اس میں سمجھے کہ حق قصاص کو دیت میں تبدیل کردے تو یہ اسکے لیے جائز ہے۔
       
      س١٤٩8:آیا حاکم شرع بچے کے قہری شرعی ولی (یعنی جو خود بخود بچے کا ولی ہے کسی نے اسے نصب نہیں کیا)کو اس صورت میں معزول کرسکتاہے جب اس کے لیے ثابت ہوجائے کہ ولی نے بچے کے مال کو نقصان پہنچایاہے؟
      ج: اگر حاکم کے لئے اگرچہ شواہد اور قرائن کے ذریعے ہی آشکار ہو جائے کہ بچے کے قہری شرعی ولی کی ولایت اوراسکے اموال میں اسکے تصرفات کا مستمر رہنا بچے کے لئے نقصان دہ ہے تو حاکم پر ولی کو  عزل کرنا  واجب ہے۔
       
      س١٤٩9: کیا ولی کا بچے کے نفع میں کئے جانے والے بلامعاوضہ ہبہ ، صلح یا اس قسم کے دیگر نفع بخش امور کو قبول نہ کرنا بچے کو نقصان پہنچا یا اسکے فائدہ و مصلحت کی رعایت نہ کرنا شمار ہوگا؟
      ج: صرف ہبہ غیر معوض اور صلح غیر معوض کا قبول نہ کرنا بچے کو نقصان پہنچانا یا اس کی مصلحت کا خیال نہ رکھنا شمار نہیں ہوتا لہذا یہ بذات خوداشکال نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ ولی پر بچے کے لئے مال حاصل کرنا واجب نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے ولی کی نظر میں بعض موارد میں اس کا قبول نہ کرنا بچے کی مصلحت میں ہو۔
       
      س ١500 : اگر حکومت شہداء کی اولاد کے لئے کوئی زمین یا مال مختص کرے اور یہ بھی پاس کردے کہ یہ چیزیں ان کے نام کر دی جائیں لیکن بچوں کا ولی ان کے کاغذات پر دستخط نہ کرے تو کیا حاکم بچوں کا ولی ہونے کے لحاظ سے مذکورہ عمل انجام دے سکتا ہے؟
      ج: اگر بچوں کے لئے اموال حاصل کرنا ولی کے دستخط پر موقوف ہو تو ولی پر دستخط کرنا  واجب نہیں ہے۔ اور ولی شرعی کے ہوتے ہوئے حاکم کوان پر ولایت حاصل نہیں ہے۔ ہاں اگر بچوں کے اموال کی حفاظت کرنا دستخط کرنے پر موقوف ہو تو اسے اس سے انکار کا حق نہیں ہے اور اگر وہ انکار کرے تو حاکم اسے اس کام پر مجبور کرے یا خود حاکم بچوں کا ولی ہونے کے ناطے اس کام کوانجام دے ۔
       
      س١501:آیا بچے کا ولی ہونے کے لئے عدالت شرط ہے؟ اگر بچے کا ولی فاسق ہو اوربچے کے فاسد اور اس کے مال کے  ضائع ہونے کا خوف ہو تو اس صورت میں حاکم کی کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: باپ اور داداکے ولی ہونے میں عدالت شرط نہیں ہے۔ لیکن جب بھی حاکم کیلئے ثابت ہو جائے۔ اگرچہ قرائن و حالات سے کہ وہ دونوں بچے کیلئے مضر ہیں تو ضروری ہے کہ انہیں معزول کر کے بچے کے مال میں تصرف کرنے سے منع کردے۔
       
      س١502:اگر قتل عمد میں مقتول کے سب اولیاء بچے یا مجنون ہوں تو کیا قہری ولی ( باپ یا دادا) یا عدالت کی جانب سے معین کردہ قیم قصاص یا دیت کے مطالبہ کا حق رکھتاہے؟
      ج: بچے یا مجنون کے اولیاء کی ولایت کی مجموعی دلیلوں سے استفادہ ہوتاہے کہ شارع مقدس کی طرف سے ان کے لیے ولایت کا قرار دینا مولی علیہ ( جن کے وہ ولی ہیں ) کی مصلحت کی خاطر ہے لہذا اس مسئلے میں ضروری ہے کہ ان کا شرعی ولی ان کے فائدے اور مصلحت کا لحاظ کرتے ہوئے اقدام کرے اور اس کا قصاص یا دیت یا کسی چیز کے عوض میں عفو یا بغیر عوض کے عفو کا انتخاب کرنا نافذ ہے واضح ہے کہ صغیر اور مجنون کی مصلحت کی تشخیص تمام پہلوؤں من جملہ اسکے سن بلوغ سے نزدیک یا دور ہونے کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔
       
      س١503:اگر ایک کامل شخص پر جنایت کی جائے تو کیا باپ یا دادا کو اسکی اجازت کے بغیر دیت کے مطالبے اور اسکی طرف سے دیت وصول کرنے کا حق ہے؟ کیا جنایت کرنے والے پر واجب ہے کہ جب باپ یا دادا  دیت کا مطالبہ کریں تو جس پر جنایت کی گئی ہے اسے وہ دیت ادا کرے ؟
      ج: بالغ و عاقل شخص پر ان دونوں کو ولایت حاصل نہیں ہے لہذا اس کی اجازت کے بغیر اسکے حق کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔
       
      س١504: آیا بچوں کے ولی کیلئے ان پر ولایت کے عنوان سے بچوں کے مورث کی ثلث سے زیادہ میں وصیت  کی اجازت دینا جائز ہے؟
      ج: شرعی ولی بچوں کے فائدے اور مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اجازت دے سکتاہے۔
       
      س١505:کیا اولاد کے سلسلے میں باپ کو ماں کی نسبت اولویت حاصل ہے اور باپ زیادہ حق رکھتا ہے؟اور اگر باپ یاد ادا کو اولویت حاصل نہ ہو اور والدین مساوی طور پر بچے پر حق رکھتے ہوں تو اختلاف کے وقت  ماں اور باپ میں سے کس کا قول مقدم ہے؟
      ج: مختلف حقوق کے حوالے سے جواب مختلف ہوگا۔ چھوٹے بچے پر ولایت باپ اور دادا کوحاصل ہے اور ماں دو سال تک لڑکے پر اور سات سال تک لڑکی پر حضانت (بچوں کی پرورش) کا حق رکھتی ہے اس کے بعد حق حضانت باپ کیلئے ہے۔ بچے کی طرف سے ماں باپ کی اطاعت اورانہیں اذیت نہ دینا دونوں کیلئے مساوی ہے اور بچے کیلئے ضروری ہے کہ والدہ کا زیادہ خیال رکھے روایات میں وارد ہوا ہے کہ جنت ماں کے پاؤں تلے ہے۔
       
      س١506:میرا شوہر شہید ہو گیا ہے اوراس سے میرے دو بچے ہیں میرے شوہر کے بھائی اور ماں نے دونوں بچوں کو ضروریات زندگی اور انکے تمام اموال سمیت مجھ سے چھین لیا ہے اور انہیں واپس دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس بات کو نظر  میں رکھتے ہوئے کہ میں نے ان بچوں کی خاطر شادی نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کروں گی ۔ ان کی اور ان کے مال کی سرپرستی کرنا کس کا حق ہے؟
      ج: شرعی طور پربالغ ہونے تک یتیم بچوں کی حضانت کرناماں کا حق  ہے۔ اور بچوں کے مال پر حق ولایت، شرعی قیم کا ہے اور اگر قیم نہ ہو تو یہ ولایت حاکم شرع کیلئے ہے اور بچوں کے چچا اور دادی کو نہ حضانت کاحق ہے  نہ ہی ان پر اوران کے مال پر ولایت حاصل ہے۔
       
      س١٥٠7:نابالغ بچوں کے بعض اولیاء میت کی زوجہ کے شادی کر لینے کے بعد اسے اور اس کے بچوں کو جن کی وہ حضانت کر رہی ہے گھر اور دیگر ضروری اشیاء سے کہ جو ان کے والدکی وراثت میں سے ان کا حصہ ہیں سے استفادہ کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ۔آیا کوئی شرعی طریقہ ہے جس کے ذریعے ان پر لازم قرار دیا جائے کہ وہ بچوں کا حصہ ان کی والدہ کی تحویل میں  دے دیں جو ان کی حضانت کررہی ہے یا نہیں؟
      ج: ضروری ہے کہ شرعی ولی کے اقدامات بچوں کی مصلحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ہوں اور مصلحت کی تشخیص بھی اسی کا کام ہے چنانچہ اگر وہ اسکے خلاف عمل کرے اور اختلاف کا سبب بنے تو حاکم شرع کی جانب رجوع کیا جائے۔
       
      س١٥٠8: آیا بچوں کے قیم کا ان کے اموال کے ساتھ اس طرح تجارت کرنا کہ انکے منافع محفوظ رہیں صحیح ہے ؟
      ج: بچوں کی مصلحت و مفاد کی رعایت کرتے ہوئے کوئی اشکال نہیں رکھتا۔
       
      س١٥٠9:دادا، چچا، ماموں اور بیوی کے ہوتے ہوئے ان میں سے کس کو بچوں پر ولایت اور قیمومیت کا حق ہے؟
      ج: چھوٹے یتیم بچے اور اس کے مال پرشرعی ولایت دادا کو حاصل ہے اور حق حضانت صرف ماں کیلئے ہے جبکہ چچا اور ماموں ولایت اور حضانت کا حق نہیں رکھتے۔
       
      س١٥10:کیا اٹارنی جنرل یا وکیل عام کی اجازت سے یتیم کے مال کو ماں کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے عوض ماں نے حضانت کو قبول کیا ہے اس طرح کہ ان کے دادا کو بلاواسطہ طور پر مداخلت کاحق نہ ہو بلکہ وہ فقط نظارت کاحق رکھتا ہو؟
      ج: یہ کام داداکی موافقت کے بغیر جو کہ بچوں کا شرعی ولی ہے جائزنہیں ہے ہاں اگر دادا کے ہاتھ میں مال کا رہنا بچوں کے لئے نقصان کا باعث ہے تو حاکم کیلئے ضروری ہے کہ اسے روکے اور ان پر ولایت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جسے اسکے لائق سمجھتا ہو چاہے وہ ماں ہو یا کوئی اور۔
       
      س١٥11:آیا بچے کے ولی پرواجب ہے کہ بچہ جس دیت کو لینے کا حق رکھتا ہے ولی  اسے اس شخص سے وصول کرے جسکے ذمے دیت ہے اور کیا دیت سے بچے کے حصے کو کام میں لانا واجب ہے اگرچہ یہ اسے بینک میں رکھنے کی صورت میں ہو البتہ اگر یہ بچے کے فائدے میں ہو۔
      ج: ولی پر واجب ہے کہ اگر جنایت دیت کا سبب ہو تو جنایت کرنے والے سے بچے کیلئے اس کا مطالبہ کرے اور اسے حاصل کرے اوربچے کے بالغ و رشید ہونے تک دیت کی حفاظت کرے لیکن بچے کیلئے تجارت کرنا اور نفع حاصل کرنا ضروری نہیں ہے ہاں اگر یہ بچے کے فائدے میں ہو تو اسے انجام دینے میں اشکال نہیں ہے۔
       
      س١٥12: اگر کمپنی کا ایک شریک مر جائے اور اس کے وارث چھوٹے بچے ہوں اور کمپنی کے اموال میں اپنے حصے کی وجہ سے دیگر شرکاء کے ساتھ شریک ہوجائیں توباقی شرکاء  کے لئے کمپنی کے مال میں تصرف کرنے کے اعتبارسے کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: واجب ہے کہ بچوں کے حصے کی بابت شرعی ولی یا حاکم شرع کی طرف رجوع کیا جائے۔
       
      س١٥13: کیا داداکی یتیموں اور انکے اموال پر ولایت کی وجہ سے واجب ہے کہ میت کے ترکہ سے  ان کا حصہ محفوظ رکھنے کیلئے دادا کے حوالے کیا جائے اور اگرایسا کرنا واجب ہو تو بچے اپنی ماں کے ہمراہ کہاں رہیں ؟ اور کہاں سے کھائیں ؟ جبکہ وہ ابھی چھوٹے ہیں یا زیر تعلیم ہیں اور ان کی والدہ بھی ایک گھریلو خاتون  ہے۔
      ج: بچوں پر ولایت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بچوں کے بالغ ہونے تک انہیں اموال سے محروم رکھا جائے اور تمام اموال ولی کی تحویل میں دے دیئے جائیں بلکہ اس کے معنی یہ  ہیں کہ ولی کی ان پر اور ان کے اموال پر نظارت ضروری ہے اور ان کے اموال کی حفاظت کرنا اسکی ذمہ داری ہے اور ان کے مال میں تصرف کرنا ولی کی اجازت پر موقوف ہے اورولی پر واجب ہے کہ وہ ان کی حاجت کے مطابق ان پر خرچ کرے اور اگر ولی کی نظر میں مصلحت یہ ہو کہ مال والدہ اور بچوں کے ہاتھ میں دے دیاجائے تاکہ وہ اس سے استفادہ کر سکیں تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔
       
      س١٥14:باپ کیلئے اپنے اس عاقل وبالغ فرزند کے مال میں کس حد تک تصرف کرنا جائز ہے کہ جو اس سے مستقل ہے اور اگر وہ مال میں ایسا تصرف کرے کہ جس کی اسے اجازت نہیں ہے تو کیا وہ ضامن ہے؟
      ج: باپ کیلئے عاقل و بالغ فرزند کے مال میں اسکی اجازت اور رضامندی کے بغیر تصرف کا حق نہیں ہے اور اگر بغیر اجازت تصرف کرے توحرام اور موجب ضمان ہے سوائے ان موارد کے جنہیں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
       
      س١٥15: ایک مومن جواپنے یتیم بھائیو ں کی کفالت کرتا ہے اس کے پاس یتیموں کا  کچھ مال تھا، اس نے ان کے مال سے ان کے لئے بغیر رجسٹری اور تحریری دستاویز کے ایک زمین خریدی ا س امید کے ساتھ کہ بعد میں رجسٹری حاصل کرلے گا یا اس زمین کو زیادہ قیمت میں فروخت کر دے گا۔ لیکن اب اسے خطرہ محسوس ہو رہاہے کہ کہیں  اس زمین پر کوئی اور دعویٰ نہ کر دے یا کوئی اس پر قبضہ نہ کر لے اور اگر ابھی وہ اس زمین کو بیچتا ہے تو قیمت خرید بھی وصول نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں اگر کم قیمت پر زمین کو فروخت کرے یا کوئی غاصب، زمین کو غصب کو کر لے تو کیا وہ یتیموں کے مال کاضامن ہوگا؟
      ج: اگر وہ یتیموں کا شرعی سرپرست  تھا اور اس نے انکی مصلحت اور منفعت کی رعایت کرتے ہوئے ان کیلئے زمین خریدی تھی تو اس کے ذمہ کچھ نہیں ہے ورنہ یہ معاملہ فضولی ہے اور ولی شرعی یا  یتیموں کے بالغ ہونے کے بعد ان کی اجازت پر موقوف ہے اوروہ شخص یتیموں کے مال کا ضامن ہے۔
       
      س١٥16: آیا والد بچوں کے مال میں سے قرض لے سکتا ہے؟ اور کیا کسی اور کو بھی بچوں کے مال میں سے قرض دے سکتا ہے؟
      ج: بچوں کی مصلحت و مفاد کی رعایت کرتے ہوئے اشکال نہیں رکھتا۔
       
      س١٥١7:اگر بچے کو کپڑے یا کھلونے ہدیہ کے طور پر ملیں بعد میں بچے کے بڑا ہوجانے یا کسی اور وجہ سے یہ چیزیں اس کیلئے قابل استفادہ نہ رہیں تو کیا اس کا شرعی ولی مذکورہ اشیاء کو صدقہ کے طور پر دے سکتاہے؟
      ج: بچے کے ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ بچے کی مصلحت اور مفاد کا خیال کرتے ہوئے جیسے بہتر سمجھے ان میں تصرف کرے۔
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /