ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
      پرنٹ  ;  PDF
       
      مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا

       

      س١٥86:میرے ایک عزیز کا ایک گردہ فیل ہو گیا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ معین رقم کے بدلے اپنا گردہ اسے دینے کیلئے تیار ہے لیکن میڈیکل ٹیسٹ کرانے کے بعد ظاہر ہوا کہ اس کا گردہ مریض کو پیوند لگانے کے قابل نہیں ہے ۔ آیا مذکورہ شخص اس بناپر کہ وہ چند دن بیکار رہا مریض سے طے شدہ رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
      ج: اگر طے شدہ رقم گردے کے عوض ہو اور گردے کا مریض کو پیوند لگانے کے قابل نہ ہونا گردے کے کاٹنے اورگردہ دینے والے کے بدن سے نکال لینے کے بعد ہو تو اسے مذکورہ تمام قیمت کے مطالبے کا حق ہے۔اگرچہ بیمار اس گردے سے استفادہ نہ کرے۔ اور اگر گردہ اسکے بدن سے کاٹنے اور الگ کرنے سے پہلے یہ معلوم ہو جائے اور مریض اسے اسکی اطلاع بھی دے دے تواسے مریض سے کسی چیز کے مطالبہ کا حق نہیں ہے۔
       
      س١٥٨7: میں نے اپنا رہائشی گھر ایک سادہ وثیقہ کے ساتھ فروخت کر دیا اور قیمت کا کچھ حصہ خریدار سے لے لیا اور طے پایا کہ باقیماندہ رقم خریدار کے نام رجسٹری کراتے وقت اس سے لوں گا لیکن میں اب اپنا گھر فروخت کرنے پر نادم ہوں جبکہ خریدار گھر خالی کرنے کے لئے اصرا رکر رہا ہے۔ حکم بیان فرمائیں؟
      ج: اگر شرعاً صحیح طور پر معاملہ انجام پا گیا تھا تو جب تک فروخت کرنے والا حق فسخ نہ رکھتا ہو تو صرف اس سے نادم ہونے اور گھر کا نیازمند ہونے کی وجہ سے گھر خریدار کے حوالے کرنے سے انکار نہیں کرسکتا۔
       
      س١٥٨8:میں نے معدنی پتھر نکالنے کیلئے محکمہ معدنیات سے اجازت حاصل کی لیکن پتھرنکالنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ محکمہ معدنیات نے پتھروں کی قیمت معین نہیں کی۔ میں نے قیمت کی تعیین کیلئے ان کے مرکز کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے مجھے کہا جلد ہی انکی قطعی قیمت کا تھوڑے سے فرق کے ساتھ متعلقہ ادارے کی جانب سے اعلان کر دیا جائیگا۔ لیکن جب انہوں نے قیمت کا اعلان کیا تو اعلان شدہ قیمت گذشتہ قیمت سے بہت کئی گنا زیادہ تھی اور میں نے اسے قبول نہیں کیا اس چیز کے پیش نظر کہ اس وقت میں پتھر کاٹ کر فروخت کر چکا ہوں اس مسئلے کا حکم کیا ہے؟
      ج: معاملہ کی صحت کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مبیع اور قیمت اس طرح معین ہو جس سے غرر اورجہالت رفع ہو جائے لہٰذا اگر پتھر تحویل میں لینے کے دن صحیح شرعی طور پر معاملہ انجام نہ پایا ہو تو خریدار مذکورہ پتھروں کی اس دن کی قیمت کا ضامن ہے جس دن اس نے انہیں کاٹا اور فروخت کیا ہے۔
       
      س١٥٨9:ایک شخص نے اپنی بیٹی سے ایک عمارت خریدی جو اسکے شوہر کے تصرف میں ہے۔باپ نے بیٹی کو قیمت ادا کر دی لیکن شوہر نے بیٹی کو جان بوجھ کر تنگ کرنے کیلئے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے معاملے کا انکار نہ کیا تو اسے طلاق دے دے گا جسکی وجہ سے عمارت کا تحویل میں دینا مشکل ہوگیا۔آیا اس کا تحویل میں دینا یا قیمت کا خریدار کو واپس کرنا فروخت کرنے والی عورت کی ذمہ داری ہے یا اسکے شوہر کی ؟
      ج: عمارت تحویل میں دینا یا اسکی رقم واپس کرنا خود فروخت کرنے والی پر واجب ہے ۔
       
      س١٥90:میں نے ایک سادہ تحریر کے ساتھ اس شرط پرگھر خریدا کہ فروخت کرنے والا سرکاری دفتر میں آ کر گھر کو قانونی طور پر میرے نام کر ے گا۔ لیکن فروخت کرنے والے نے اپنے عہد پر عمل نہیں کیا اور گھر میری تحویل میں نہیں دیا اورمیرے نام نہیں کیا۔ آیامجھے اسکے مطالبے کا حق ہے؟
      ج: آپ حضرات کے مابین جو چیز انجام پائی ہے اور جسکے سلسلے میں ایک سادہ وثیقہ تیار کیا گیا ہے اگر وہ صحیح اور شرعی طور پر گھر کی خرید و فروخت تھی تو فروخت کرنے والے کو معاملے سے عدول کرنے اور اس پر عمل نہ کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر وہ اس بات کا پابند ہے کہ گھر آپکی تحویل میں دے اور رجسٹری آپ کے نام منتقل کرنے کیلئے تمام لازمی اقدامات انجام دے اور آپ کو اس سے معاملہ کے مطابق عمل کے مطالبے کا حق ہے۔
       
      س١٥91:بیچنے والے اور خریدار کے مابین ہونے والے تجارتی معاملے کی بنیاد پرخریدار اس بات کا پابند ہوا کہ اس نے جو چیز خریدی اور تحویل میں لے لی ہے ہر ہفتے اسکی رقم کا کچھ حصہ اسے ادا کریگا چنانچہ جو کچھ بیچنے والے کو ادا کرتا اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیتا اور بیچنے والا بھی جو رقم اس سے لیتا اسے اپنے رجسٹر میں درج کرلیتا اور اسکی ڈائری میں ہر ادا کردہ رقم کے نیچے دستخط کرتا۔چار ماہ کے بعد جب خریدار کی اداکردہ رقم کا حساب کیا گیاتو معلوم ہوا کہ جتنی رقم خریدار کے ذمے ہے اس میں اختلاف ہے۔ خریدار دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے وہ مقدار اداکر دی ہے لیکن مالک انکار کر رہا ہے اور مورد اختلاف رقم دونوں کی ڈائریوں میں درج نہیں ہے اس مسئلے کا حکم کیا ہے؟
      ج: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خریدار جس چیز کے بارے میں دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے وہ فروخت کرنے والے کو دے دی ہے تو اسکے ذمے کوئی شے نہیں ہے ورنہ فروخت کرنے والے کا قول مقدم ہے کہ جو اس رقم کے وصول کرنے کا منکر ہے۔
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /