ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
      پرنٹ  ;  PDF
       
      عقد کے ضمن میں شرط
       
      س١٥32: ایک شخص نے اپنا باغ دوسرے شخص کو اس شرط پر فروخت کیا کہ جب تک وہ زندہ ہے باغ کے فوائد اسی کی ملکیت میں رہیں گے کیا مذکورہ شرط کے ساتھ یہ معاملہ صحیح ہے؟
      ج: کسی چیز کو اس طرح بیچنا کہ ایک مدت تک اسکی منفعت (مشتری کو) نہ ہو اشکال نہیں رکھتا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ شے شرعی اور عرفی مالیت رکھتی ہو اور قابل انتفاع ہو اگر چہ اس مدت کے ختم ہونے کے بعد کہ جسکی منفعت مستثنےٰ کی گئی ہے لیکن اگر فوائد کو غیر معینہ مدت کیلئے استثنا کرنے سے خود شے یا قیمت مجہول ہوجائے تو غرر کی وجہ سے یہ معاملہ اورخرید و فروخت باطل ہے۔
       
      س١٥33: اگر عقد کے ضمن میں خریدار بیچنے والے سے اس شرط پر کوئی شئے خریدے کہ اگر اس نے فروخت کی ہوئی شے معینہ مدت تک نہ دی تو اسے ایک معیّن رقم خریدار کو دینا ہوگی ۔ کیا فروخت کرنے والا شرعاً مذکورہ شرط کا پابند ہے یا نہیں؟
      ج: مذکورہ شرط اشکال نہیں رکھتی لہذا اگر فروخت کرنے والا فروخت کی ہوئی چیز معینہ مدت تک تحویل دینے میں تاخیر کرے تو اس کیلئے مذکورہ شرط پر عمل کرنا واجب ہے اور خریدار بھی شرط پر عمل کرنے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
       
      س١٥34 : اگر کوئی شخص اس شرط پر اپنی تجارتی دوکان فروخت کرے کہ اس کی چھت فروخت کرنے والے کی ملکیت میں باقی رہے گی اور اس پر اسے عمارت بنانے کا حق ہو گا کیا اس شرط کے ساتھ اور اس چیز کا علم ہوتے ہوئے کہ اگر مذکورہ شرط نہ ہوتی تواسے فروخت ہی نہ کرتا خریدار اسکی چھت کی نسبت کوئی حق رکھتا ہے؟
      ج: معاملے میں چھت کو استثنا کرنے کے بعد خریدار کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
       
      س١٥35:ایک شخص نے نامکمل گھر اس شرط پر خریدا کہ فروخت کرنے والا وہ گھر خریدار کے نام کرنے کے مقابلے میں اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا لیکن اب وہ خریدار کے نام گھر کی رجسٹری کرانے کے عوض کچھ رقم مانگ رہا ہے کیاوہ اس مطالبہ کا حقدار ہے؟ اور کیا خریدار پر رقم دینا واجب ہے؟
      ج: فروخت کرنے والے پر واجب ہے کہ خرید و فروخت کے وقت اس نے جو عہد کیا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے گھر خریدار کے حوالے کردے اور اسکی رجسٹری بھی اسکے نام کرائے اور اسے حق نہیں ہے کہ جس پربنا رکھتے ہوئے عقد منعقد کیا گیا تھا اس سے زیادہ کسی چیز کا مطالبہ کرے مگر یہ کہ اس نے خریدار کے کہنے پر کوئی کام انجام دیا ہو جس کی عرفاً قیمت ہے اور یہ ان کاموں کے علاوہ ہو کہ جنکی عقد کے ضمن میں شرط لگائی گئی تھی۔
       
      س١٢36:ایک زمین معین قیمت پر فروخت ہوئی اور اس کی تمام قیمت دے دی گئی اور عقد کے ضمن میںیہ طے پایا کہ خریدار فروخت کرنے و الے کو اس کے نام رجسٹری کراتے وقت ایک معین رقم دے گا اور یہ سب امور ایک سادہ دستاویز پر تحریر کئے گئے لیکن فروخت کرنے والا اب مذکورہ رقم سے زیادہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہے کیا اسے ایسا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟
      ج: شرعاَ صحیح طریقے سے خرید و فروخت انجام پانے کے بعد فروخت کرنے والے پر واجب ہے کہ خرید و فروخت والے معاملے اور ان تمام امور پر عمل کرے کہ جن کا عقد کے ضمن میں وہ خریدار کیلئے پابند ہوا تھا اور اسے مقررہ رقم سے زیادہ کے مطالبے کاحق نہیں ہے۔
       
      س١٥٣7:اگر خریدار اور فروخت کرنے والا معاملے کے وثیقہ کو مرتب کرتے وقت اس بات پر اتفاق کریں کہ انہیں مذکورہ معاملے سے روگردانی کرنے کا حق نہیں ہوگااور اگر خریدار نے وثیقہ پر دستخط کرنے کے بعدمعاملہ کو انجام دینے سے روگردانی کی تو اسے اس بیعانے کے مطالبہ کا حق نہیں ہوگا جو وہ فروخت کرنے والے کو دے چکا ہے۔ اور اگر فروخت کرنے والے نے دستخط کرنے کے بعد روگردانی کی تو بیعانہ واپس کرنے کے ساتھ ساتھ رقم کی ایک معین مقدار بھی خریدار کو خسارے کے عنوان سے دے گا۔ آیا مذکورہ طریقے سے خیار یا اقالہ کی شر ط لگانا صحیح ہے؟ اور کیا اس طریقے سے حاصل شدہ مال دونوں کے لئے حلال ہے؟
      ج: مذکور ہ شرط اقالہ یا خیار فسخ کی شرط نہیں ہے بلکہ معاملہ کی انجام دہی سے روگردانی کی صورت میں رقم ادا کرنے کی شرط ہے اور ایسی شرط کا جب تک عقد کے ضمن میں ذکر نہ ہوصرف اسکے معاملے کے وثیقہ میں ذکر یا تحریر کرنے کاکوئی اثر نہیں ہے۔ہاں اگر مذکورہ شرط کو عقد کے ضمن میں ذکر کیا جائے یا مذکورہ شرط کی بنا پر معاملہ انجام پائے تو یہ شرط صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ اوراس طریقے سے حاصل ہونے والی رقم لینابھی اشکال نہیں رکھتا۔
       
      س١٥٣8:بعض اوقات خرید و فروخت کے کاغذات میں یہ عبارت تحریر کی جاتی ہے۔ "اگر دونوں میں سے ایک نے معاملے کو فسخ کیا تو مثلاً اتنی رقم بعنوان جرمانہ دوسرے کو دینا ہوگی " اب سوال یہ ہے۔
      (i) آیا مذکورہ عبارت خیار کی شرط شمار ہوگی؟
      (ii) کیا اس جیسی شرط صحیح ہے ؟
      (iii) اگریہ شرط باطل ہو توکیا عقد بھی باطل ہے ؟
      ج: یہ شرط خیار کی شرط شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ معاملہ کی تکمیل سے روگردانی کی صورت میں رقم ادا کرنے کی شرط ہے۔ اگر یہ شرط عقد لازم کے ضمن میں ہو یا اس کی بنا پر عقد انجام دیا جائے تواشکال نہیں رکھتی لیکن ایسی شرائط کہ جو بیچی گئی چیز کی قیمت میں موثر ہیں کیلئے ضروری ہے کہ معین مدت ذکر کی جائے ورنہ باطل ہیں۔
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /