ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
      پرنٹ  ;  PDF
       
      خرید و فروخت کے متفرقہ احکام
       
      س١٥٣9:بعض لوگ اپنی بعض املاک فروخت کرتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ انہیں زیادہ قیمت پر اسی خریدار سے دوبارہ خرید لیں گے کیا یہ خرید و فروخت صحیح ہے؟
      ج: اس جیسا بناوٹی معاملہ چونکہ سود کے حصول کے لئے حیلہ کے طور پر انجام دیا جاتاہے لہذا حرام اور باطل ہے ہاں اگراپنی ملک کو واقعا صحیح اور شرعی طور پر فروخت کرے اور پھراسی قیمت پر یا اس سے زیادہ قیمت کے ساتھ دوبارہ اسے نقد یا ادھار خریدلے تو بلا اشکال ہے۔
       
      س١٥40:بعض تاجردوسرے بعض تاجروں کی نیابت میں بینک کی معتبر چٹھی ( LC) کے ذریعے مال درآمد کرتے ہیں اور پھر انکی نیابت میں اسکی چٹھی لے کر بینک کو اسکی قیمت ادا کرتے ہیں اور اس کام کے مقابلے میں چند معین فیصد جو پہلے سے انکے درمیان طے ہوچکا ہوتا ہے ان سے لیتے ہیں کیا یہ معاملہ صحیح ہے؟
      ج: اگر تاجر نے مال اپنے لئے درآمد کیا ہو اور پھرمال کی قیمت کے معین فیصد نفع کے ساتھ جسے چاہتا ہے بیچ دے تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اسی طرح اگر مال کو اس شخص کیلئے کہ جس نے اس سے درخواست کی ہے جعالہ کے عنوان کے تحت عوض اور کام کی معین فیصد اجرت کے ساتھ در آمد کرے تو بھی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اس مال کو درخواست کرنے والے کا وکیل بن کر اور وکالت کی اجرت لینے کیلئے درآمد کرے تو وکالت کی صحت کیلئے اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے۔
       
      س١٥41:پہلی زوجہ کی وفات کے بعد میں نے گھر کا کچھ سامان فروخت کر دیا اور کچھ پیسے ملا کر دوسرا سامان خرید لیا آیا میرے لئے دوسری بیوی کے گھر میں اس سامان سے استفادہ کرناجائز ہے؟
      ج: اگربیچا گیا سامان آپ کی ملکیت تھا تو اس کی قیمت سے خریدا ہوا سامان بھی آپ کی ملکیت شمار ہوگا ورنہ اس کا بیچنا ورثا کی اجازت پر موقوف ہے۔
       
      س١٥42:ایک شخص نے ایک ایسا تجارتی مرکز کرائے پر لیا جسے اس کے مالک نے بلدیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا تھا اب بلدیہ تعمیراتی قوانین کی مخالفت کرنے پر جرمانہ اداکرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ آیا یہ جرمانہ ضروری ہے کہ کرایہ دار ادا کرے یا وہ مالک کہ جس نے بلا اجازت عمارت تعمیر کی ہے ؟
      ج: اس جرمانے کا ادا کرنا اس مالک کے ذمہ ہے کہ جس نے تعمیر کے سلسلے میں تعمیراتی قوانین کی مخالفت کی ہے۔
       
      س١٥43:میں نے ایسے شخص سے زمین خریدی جو اس میں زراعت کرتا ہے اور اس نے اسے سابق نظام کے اصلاحات اراضی والے قوانین کے تحت حاصل کیا تھا لیکن میں نہیں جانتا کہ زمین فروخت کرنے والا وہی زمین کا شرعی مالک تھا یا نہیں؟ اور وہ کافی عرصہ پہلے فوت ہو چکا ہے۔اور اب اس کے وارث مجھ سے زمین کی قیمت کامطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مسئلہ کا حکم کیاہے؟
      ج: اصلاحات اراضی والی زمینوں کا معاملہ مجلس شورائے اسلامی اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کے قانون کے تابع ہے۔
       
      س١٥44:میں نے کسی شخص سے ایک ملک خریدی اور ایک دوسرے شخص کوفروخت کر د ی لیکن فروخت کرنے والے نے مجھ سے تحریری وثیقہ لینے کے بعد وہ ملک کسی دوسرے شخص کو فروخت کردی اور چونکہ میں یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ اس نے مجھ سے تحریری وثیقہ لے لیا تھا تو کیا وہ معاملہ صحیح ہے جو میں نے انجام دیا ہے یا وہ جو اس نے انجام دیاہے؟
      ج: مالک سے صحیح اور شرعی طور پر خریدنے کے بعد اس شے کا اختیار خریدار کے ہاتھ میں ہے اور وہ جسے چاہے اسے فروخت کر سکتا ہے اور پہلے فروخت کرنے والے کو اس شے میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر وہ یہ چیز کسی دوسرے کو فروخت کرے تو یہ معاملہ فضولی اور پہلے خریدار کی اجازت پر موقوف ہے۔
       
      س١٥45:میں نے اپنے بھتیجے سے وعدہ کیاتھا کہ جب وہ میری زمین کے ایک حصے کی پوری قیمت مجھے ادا کر دے گا تو میں وہ حصہ اسے فروخت کر دوں گا لیکن بعض قانونی مشکلات کی وجہ سے میں نے فروخت سے پہلے ہی زمین اس کے نام کرا دی اور اس نے خود اقرار کیا تھا کہ وہ زمین کامالک نہیں ہے لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس نے زمین اپنے نام ہونے کا سہارا لیتے ہوئے زمین کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔کیا میرے لئے اسکے مطالبے کا مثبت جواب دینا ضروری ہے؟
      ج: خرید کا مدعی جب تک صحیح شرعی طریقے سے خریدکو ثابت نہ کردے اس زمین میں کوئی حق نہیں رکھتا اور زمین اس کے نام کرتے وقت اگر اس نے صراحت کے ساتھ اپنی عدم ملکیت کا اقرار کیا تھا تو وہ زمین کے اس وثیقے کا سہارا نہیں لے سکتا۔
       
      س١٥46 : ایک شخص زمین کے ایک قطعے کا مالک تھا کہ جس پر ہمارے دفتر کی کوآپریٹوسوسائٹی نے قبضہ کرکے اسے دفتر کے ملازمین میں تقسیم کر دیا اور اس کے بدلے ملا زمین سے کچھ رقم بھی لے لی اور وہ سوسائٹی دعوی کرتی ہے کہ اس نے وہ رقم زمین کے مالک کو دے دی ہے اور زمین کے مالک کو راضی کر لیا ہے لیکن ان میں سے بعض دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خود مالک سے سنا ہے کہ وہ اس پر راضی نہیں ہے جبکہ مذکورہ زمین پر مسجد اور مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔بنا برایں مندرجہ ذیل سوالات پیش آتے ہیں۔
      (i) آیا مسجد کی زمین اور اس کی تعمیرات کے جاری رکھنے کے لئے زمین کے مالک سے اجازت لینا ضروری ہے؟
      (ii) جن زمینوں پر ملازمین نے مکانات تعمیر کر لئے ہیں ان زمینوں کی نسبت ملازمین کی کیا ذمہ داری ہے ؟
      ج: اگر ثابت ہو جائے کہ کوآپر یٹو سوسائٹی کے نمائندوں نے (جو کہ مالک سے زمین خریدنے کے ذمہ دار تھے) صحیح طریقے سے معاملہ انجام دیا ہے اور مالک کی رضامندی حاصل کی ہے تو ان کا مالک سے زمین خریدنا صحیح ہے۔اور اسی طرح اگر وہ زمین تقسیم کرتے وقت اس بات کا دعویٰ کریں کہ انہوں نے زمین کے مالک سے شرعی طریقے سے زمین حاصل کی ہے تو جب تک ان کی بات کا جھوٹ ہونا ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک انکی بات اور زمین کی تقسیم کو صحیح سمجھا جائیگا اور اس پر اثرات کو مترتب کرنا صحیح ہے اور جنہوں نے یہ زمین اس سوسائٹی سے لی ہے انکا اس میں تصرف کرنا اشکال نہیں رکھتا اوران خریداروں کی اجازت سے کہ جنہوں نے اسے خریدا ہے اس زمین کے ایک حصے میں مسجد تعمیر کرنے میں بھی اشکال نہیں ہے۔
       
      س١٥٤7: ایک شخص نے شہید کی زوجہ سے کہا کہ وہ شہداء کی اولاد کو دیئے جانے والے اس ٹوکن کی درخواست کرے کہ جسکے ذریعے گاڑی حاصل کی جاتی ہے تاکہ وہ شخص اپنے لئے گاڑی خریدنے میں اس ٹوکن سے استفادہ کرے۔ شہید کی زوجہ نے بچوں کی سرپرست ہونے کے اعتبار سے اسے قبول کر لیا اب گاڑی خریدنے کے بعد شہید کی اولاد دعویٰ کرتی ہے کہ یہ گاڑی ہماری ہے کیونکہ یہ ان کے ٹوکن کے ذریعے خریدی گئی ہے۔ کیایہ دعویٰ صحیح ہے یا نہیں ؟
      ج: اگر گاڑی فروخت کرنے والے نے خود خریدار کو گاڑی فروخت کی ہے اگر چہ وہ ٹوکن دیکھ کر ہی سہی اور خریدار نے بھی گاڑی اپنے مال سے اپنے لئے خریدی ہے تو گاڑی اسی کی ملکیت ہے لیکن خریدارشہید کی اولاد کے ٹوکن کی قیمت کا ضامن ہے ۔
       
      س١٥٤8: میں نے ایک شخص کے وکیل کی حیثیت سے اسکی زمین ایک سادہ وثیقہ کے ساتھ ایک شخص کو فروخت کی اور اس سے قیمت کا ایک حصہ لے لیا اور یہ طے پایا کہ خریدار جب پوری قیمت ادا کر دے گا تو میں زمین اس کے نام کر دوں گا لیکن اس نے باقیماندہ قیمت ادا نہیں کی جس کی وجہ سے زمین کی رجسٹری ابھی تک میرے موکل کے نام ہے اور خریدار کے نام نہیں ہوئی ہے اس عرصے میں خریدار نے تجارت کی غرض سے قانونی اجازت کے بغیر اس میں چند دوکانیں تعمیرکردیں کہ جنکی وجہ سے اس پر کرایہ و غیرہ کے ناقابل توقع ٹیکس عائد ہوگئے جبکہ یہ زمین جس وقت بارہ سال قبل سادہ وثیقہ کے ذریعے فروخت کی گئی تھی تو یہ خالی زمین تھی اورعلاوہ از این اس وثیقہ میں مکتوب ہے کہ جب زمین خریدار کے نام کی جائے گی تو تمام اخراجات خریدارہی ادا کر ے گا ۔ آیا مذکورہ ٹیکس فروخت کرنے والے کے ذمہ ہیں یا خریدار کے؟
      ج: ٹیکس اور وہ اخراجات جو خود زمین یا زمین فروخت کرنے پر عائد ہوئے ہیں ان کا ادا کرنا فروخت کرنے والے کی ذمہ داری ہے اور جوتعمیرات پر یا زمین پر لیکن تعمیرات کی وجہ سے لگا ئے گئے ہیں وہ خریدار کو ادا کرناہوں گے جس نے اس زمین پر تجارتی دوکانین تعمیر کی ہیں اور اگرعقد کے ضمن میں یہ شرط لگائی گئی ہو اور اس پر توافق ہوا ہو کہ اخراجات ایک طرف کے ذمہ ہوں گے تو ضروری ہے کہ اس شرط پر عمل کریں۔
       
      س١٥٤9: ایک شخص نے ایک رہائشی فلیٹ قیمت او رمعاملہ کی شرائط اور اقساط کے طے ہو جانے کے بعد نقد اور قسطوں پر خرید لیا اور پھرانہیں شرائط کے ساتھ ایک دوسرے شخص کو فروخت کر دیا اس شرط پر کہ باقی قسطیں دوسرا خریدار ادا کرے گا۔ آیا پہلے فروخت کرنے والے کیلئے سابقہ معاملے کی شروط اور معاہدہ سے پلٹ جانا جائز ہے؟
      ج: معاملہ انجام پانے کے بعد فروخت کرنے والے کو معاملے اور اس کی شرائط سے روگردانی کا حق نہیں ہے اور اسی طرح خریدار کا تمام اقساط ادا کرنے سے پہلے وہ گھر کسی اور کو فروخت کرنا اشکال نہیں رکھتا لیکن دوسرے خریدار کے توسط سے اقساط ادا کرنے کی شرط صحیح نہیں ہے مگر یہ کہ فروخت کرنے والا اسے قبول کر لے ۔
       
      س١٥50:ایک دوکان میں ایک ٹیلیویژن اس شخص کو فروخت کے لئے پیش کیا گیا ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے ـمیرے سمیت130 افراد نے اس قرعہ میں شرکت کی۔ قرعہ میرے نام نکل آیا اور میں نے ٹیلی ویژن خرید لیا۔کیا یہ معاملہ صحیح ہے؟ اور کیا میرے لئے اس سے استفادہ کرناجائز ہے؟
      ج: اگر قرعہ نکلنے کے بعد خرید و فروخت انجام پائے تو یہ معاملہ اور ٹیلویژن سے استفادہ کرنا صحیح ہے۔
       
      س١٥51: ایک شخص نے کسی کو اپنا پلاٹ فروخت کیا اور خریدارنے مذکورہ پلاٹ کسی اور شخص کو فروخت کر دیا اب اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ رائج قوانین کے مطابق ہر معاملے پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ آیا پہلے بیچنے والے پر واجب ہے کہ زمین پہلے خریدار کے نام کرائے اور پھر پہلا خریدار دوسرے خریدار کے نام کرائے یا اس کے لئے جائز ہے کہ دوسرے خریدار کے نام کرائے تاکہ پہلا خریدار ٹیکس دینے سے معاف ہو جائے؟اور اگر پہلے خریدار کے نام کرا دے تو پہلے خریدار کو جو ٹیکس دینا پڑے گا آیا وہ (پہلا فروخت کرنے والا) اس کا ضامن ہے؟ اور آیا اس پر پہلے خریدار کے اس مطالبہ پر عمل کرنا واجب ہے کہ زمین بغیر واسطے کے دوسرے خریدار کے نام کرا دی جائے؟
      ج: اگر قانون کی خلاف ورزی نہ ہو تو پہلے فروخت کرنے والے کو اختیار ہے کہ وہ زمین پہلے خریدار کے نام کرائے یا دوسرے خریدار کے اور وہ خریدار سے اس بات کا مطالبہ کرسکتا ہے کہ رائج قانون کے مطابق عمل کرنے میں وہ اس کا ساتھ دے اور اگر زمین پہلے خریدار کے نام کرائے تو یہ پہلے خریدار سے لئے جانے والے ٹیکس کا ضامن نہیں ہے اوراسی طرح یہ زمین کو بلا واسطہ طور پر دوسرے خریدار کے نام کرانے کے مطالبے کو قبول کرنے کا بھی پابند نہیں ہے۔
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /