ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
      پرنٹ  ;  PDF
       
      سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
       
      س١601: اگر سونا آج کے ریٹ کے مطابق بطور نقد ایک معین قیمت پر فروخت ہوتا ہو تو کیا اسے طرفین کی موافقت سے آج کی قیمت سے زیادہ قیمت پر بطور ادھار فروخت کرنا جائز ہے؟ اورآیا اس معاملے سے حاصل شدہ منافع حلال ہے یا نہیں؟
      ج: خرید و فروخت کے معاملے میں قیمت کا تعین طرفین کی صوابدید پر ہے چاہے معاملہ نقد ہو یا ادھار۔بنا برایں مذکورہ معاملہ اور اس سے حاصل ہونے والا منافع اشکال نہیں رکھتا۔ہاں سونے کو سونے کے عوض فروخت کرنے میں زیادہ لینا یا بطورادھار فروخت کرنا جائزنہیں ہے۔
       
      س١602:سونے کو ڈھالنے کے عمل کا کیا حکم ہے؟ اور سونے کے معاملے میں کونسی چیزیں شرط ہیں؟
      ج: سونا ڈھالنے کاعمل اور سونا فروخت کرنا اشکال نہیں رکھتا لیکن اگر سونے کا سونے کے مقابلے میں معاملہ کیا جائے تو شرط ہے کہ معاملہ نقد ہو اور مبیع (بیچا گیا سونا) اور اسکی قیمت مساوی ہوں اور جہاں پر معاملہ ہوا ہے وہیں پر قبض کرنے کا عمل انجام پاجائے۔
       
      س١603 : کاغذی نوٹوں کو انکی قیمت سے زیادہ رقم کے بدلے میں بطور ادھار فروخت کرنے کا کیا حکم ہے ؟
      ج: اگر معاملہ قصدِ واقعی اور عقلائی غرض کے ساتھ انجام پائے مثلاً نوٹ نئے اور پرانے ہونے کے لحاظ سے آپس میں فرق رکھتے ہوں یا مخصوص علامتوں کے حامل ہوں یا انکی قیمت ایک دوسرے سے مختلف ہو تو اشکال نہیں ہے لیکن اگر معاملہ بناوٹی اور سود سے فرار کے لیے ہو اور حقیقت میں پیسے کے سود تک رسائی کیلئے ہو تو شرعاً حرام اور باطل ہے۔
       
      س١604:بعض افراد عمومی ٹیلیفون کے لیے استعمال ہونیوالے سکے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں، مثلاً پچاس تومان کا نوٹ لے کر 35 تومان کے سکے دیتے ہیں۔مذکورہ طریقے سے پیسے کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
      ج: ٹیلیفون و غیرہ میں استعمال کیلئے دھات کے بنے ہوئے نقدی سکے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا اشکال نہیں رکھتا۔
       
      س١605:اگر کوئی شخص پرانی کرنسی کو مروجہ نئی کرنسی کی قیمت کے عوض خرید یا فروخت کرے اور نہ جانتا ہو کہ اسکی قیمت نئی کرنسی سے آدھی ہے پھر خریدار اسے نئی کرنسی کی قیمت پر کسی اور شحص کو فروخت کر دے تو کیا ضروری ہے کہ غابن مغبون کو اپنے غبن کی اطلاع دے اور کیا مذکورہ غبن والے یہ معاملات صحیح ہیں اور کیا اس طریقے سے حاصل شدہ مال میں تصرف کرنا جائز ہے؟ یا یہ مجہول المالک مال کے حکم میں ہے یا اس حلال مال کے حکم میں ہے جو حرام مال سے مخلوط ہوجائے؟
      ج: پرانی کرنسی کو اس قیمت پر فروخت کرنا کہ جس پر خریدار اور فروخت کرنے والے کا اتفاق ہوجائے اشکال نہیں رکھتا اگر چہ انکی قیمت رائج اور جدید کرنسی سے بہت کم ہو اور اگر اس کرنسی کی مالیت ہو اور بازار میں اسکی قیمت ہو اگر چہ رائج کرنسی سے کمتر ہو تو معاملہ صحیح ہے اگر چہ غبن پر مبنی ہو اور غابن پر واجب نہیں ہے کہ مغبون کو اپنے غبن کی اطلاع دے اور غابن کیلئے غبنی معاملے سے حاصل شدہ مال بھی اسکے دیگر اموال کے حکم میں ہے اور جب تک مغبون معاملے کو فسخ نہیں کرتا اس کا اس مال میں تصرف کرنا جائز ہے۔
       
      س١606: بعض کاغذی نوٹوںکو زیادہ قیمت پر خریدنا یا بیچنا ،نہ اس عنوان سے کہ وہ مال ہیں یا مالیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس عنوان سے کہ وہ خاص قسم کے کاغذی نوٹ ہیں ۔مثلاً سبز رنگ کے ایک ہزار تومان کے نوٹ کو کہ جس پر امام خمینی قدس سرہ کی تصویر ہے کو زیادہ قیمت پر بیچنا یا خریدنا کیا حکم رکھتا ہے؟
      ج: اگر مذکورہ نوٹوں کی خرید و فروخت حقیقی قصد اور عقلائی غرض کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر یہ خرید و فروخت بناوٹی اور قرض والے سود سے فرار کیلئے ہو تو باطل اور حرام ہے۔
       
      س١٦٠7: کرنسی تبدیل کرنے کا کاروبار اور رائج کرنسیوں کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
      ج: بذات خود اس میں اشکال نہیں ہے۔
       
      س١٦٠8: حکومت کی طرف سے جاری کردہ قرض کے ٹکٹ خریدنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا شرعا ان ٹکٹوں کی خرید و فروخت جائز ہے؟
      ج: اگراس سے مراد قومی قرضہ مہم کے ٹکٹ چھاپ کر اور فروخت کرنے کے ذریعے حکومت کا عوام سے قرض لینا ہو تو عوام کا ٹکٹ خرید کر حکومت کو قرض دینا صحیح ہے اور یہ ٹکٹیں کسی دوسرے کو بیچنا اگر قوانین کے خلاف نہ ہو تو بلا اشکال ہے۔
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /