ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
      پرنٹ  ;  PDF

       

      مالی سال کا تعیّن
       
      س٩۹۴: جو شخص مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کے پاس سال بھر کی آمدنی میں سے کچھ نہیں بچے گا، اور اسکی ساری کمائی دوران سال کے مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے گی تو کیا اس کے باوجود بھی اس پر خمس کی تاریخ معین کرنا واجب ہے؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اس اطمینان کی بنا پر کہ اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا اپنے خمس کے سال کا تعیّن نہ کرے؟
      ج: خمس کے سال کی ابتداء مکلف کی تعیین وحد بندی سے نہیں ہوتی ، بلکہ یہ ایک امر واقعی ہے اور کھیتی باڑی کرنے والے کیلئے کھیتی کاٹنے کے وقت سے ، مزدور اور ملازمت پیشہ لوگوں کے لئے پہلی اجرت یا تنخواہ وصول کرنے کے وقت سے اور کارو بار کرنے والے کیلئے کار وبار شروع کرنے کے وقت سے خمس کے سال کا آغاز ہوجاتاہے اور سال بہ سال منفعت اور خمس والے سال کا حساب کرنا کوئی الگ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف خمس کی مقدار معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور حساب کرنا اس وقت ضروری ہوتاہے جب وجوب خمس کا علم ہو لیکن اسکی مقدار معلوم نہ ہو لہذا اگر کمائی میں سے کچھ باقی نہ بچے اور سب کچھ مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے تو خمس نہیں ہے۔
       
      س٩۹۵: کیا مالی سال کی ابتدا کام کا پہلا مہینہ ہے یا وہ پہلا مہینہ جس میں تنخواہ وصول کرے؟
      ج: مزدوروں اور ملازمت کرنے والوں کے خمس کا سال اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن ان کو مزدوری یا تنخواہ ملتی ہے یا جس روز وہ اس کو وصول کر سکتے ہیں۔
       
      س٩۹۶: خمس ادا کرنے کیلئے سال کی ابتداء کا کیسے تعیّن ہوتا ہے؟
      ج: خمس کے سال کی ابتدا کیلئے اسے معین کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ آمدنی کے حصول کی کیفیت کی بنیاد پر خود بخود معین ہوجاتی ہے لذا مزدور اور ملازمت پیشہ افراد کے خمس کے سال کی ابتداء اس تاریخ سے ہوتی ہے جس دن ان کے لئے اپنے کام اور ملازمت کی پہلی آمدنی کا حاصل کرنا ممکن ہو اور دوکانداروں اور تاجروں کے سال کا آغاز ان کے خرید و فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ہوتا ہے اور کھیتی باڑی و غیرہ کرنے والے لوگوں کے سال کا آغاز پہلی فصل اٹھانے سے ہوتاہے۔
       
      س٩٩۷: غیر شادی شدہ جوانوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، کیا خمس کی تاریخ کا معین کرنا واجب ہے؟ اور ان کے سال کی ابتداء کب سے ہوگی؟ اور اس کا کیسے حساب کریں؟
      ج: اگر غیر شادی شدہ جوان کی اپنی ذاتی کمائی ہو، خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ خمس کی سالانہ تاریخ کو معین کرے اور سال بھر کی آمدنی کا حساب کرے تاکہ اگر سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی چیز بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرسکے اور خمس کے سال کا آغاز پہلی آمدنی کے حصول کے وقت سے ہوتا ہے۔
       
      س٩٩۸: جو میاں بیوی اپنی آمدنی کو مشترکہ طورپر گھر کی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں کیا ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طورپر اپنے خمس کی تاریخ کا تعین کریں؟
      ج: ان میں سے ہر ایک کے لئے مستقل طور پر خمس کا سال ہے، لہذا سال کے آخر میں ان میں سے ہر ایک کے پاس تنخواہ اور سال بھر کی آمدنی سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہوگا۔
       
      س٩٩۹: میں ایک خانہ دار عورت ہوں اور امام خمینی کی مقلد ہوں میرے شوہر نے خمس کا سال قرار دے رکھاہے اور وقت پر وہ اپنے اموال کا خمس نکالتا ہے مجھے بھی بسااوقات آمدنی ہوتی ہے تو کیا خمس ادا کرنے کے لئے میں بھی اپنی تاریخ معین کرسکتی ہوں اور اپنے خمس کے سال کی ابتداء اس حاصل ہونے والی پہلی آمدنی سے کروں کہ جس کا میں نے خمس نہیں دیا ہے اور سال کے آخر میں گھر کے اخراجات منہا کرکے باقی کا خمس ادا کروں، اور دوران سال جو پیسہ میں زیارت کیلئے یا تحفے وغیرہ خریدنے پر خرچ کرتی ہوں کیا اس میں بھی خمس ہے؟
      ج: آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کی ابتداء اس دن سے کریں جس دن آپ کو سال کی پہلی آمدنی پر دسترس حاصل ہوئی ہے اور سال کے دوران کی کمائی میں سے جو کچھ آپ کے ذاتی مخارج ،جیسے وہی مخارج جنکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، سے بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔
       
      س۱۰۰۰: کیا خمس کاسال شمسی ہونا ضروری ہے یا قمری ؟
      ج: اس سلسلہ میں انسان کو اختیار ہے۔
       
      س۱۰۰۱: ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز، گیارہویں مہینہ سے ہوتا ہے لیکن وہ اسے بھول گیا اور خمس نکالنے سے قبل بارہویں مہینے میں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے قالین، گھڑی اور کارپٹ خرید لیا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز ماہ رمضان کو قرار دیناچاہتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے کہ یہ شخص گزشتہ اور موجودہ سال کے سہم امام و سہم سادات کے ٨٣ ہزار تومان کا مقروض ہے اور انہیں قسط وار ادا کر رہا ہے، لہذا مذکورہ چیزوں کے سہم امام اور سہم سادات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
      ج: خمس کے سال میں تاخیر صحیح نہیں ہے مگر گزشتہ مدت کے حساب کے بعد اور ولی امر خمس کی اجازت کے ساتھ، بشرطیکہ اس سے ارباب خمس کو ضرر نہ پہنچے اور جن چیزوں کو اس نے گذشتہ سال کی جمع شدہ رقم سے خریدا ہے اس رقم کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔
       
      س۱۰۰۲: کیا انسان اپنے مال کے خمس کا خود حساب کرسکتا ہے پھر جو کچھ اس کے اوپر واجب ہو، اسے آپ کے وکلاء کی خدمت میں پیش کردے؟
      ج: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /