ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
      پرنٹ  ;  PDF
       
      خمس کے متفرق مسائل
       
      س ١٠۳۱: میں نے ١٩٦٢ میں امام خمینی کی تقلید کی تھی اور ان کے فتاویٰ کے مطابق حقوق شرعیہ انہیں کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔ ١٩٦٧ میں امام خمینی نے حقوق شرعیہ اور ٹیکس کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا : "خمس و زکوٰة، حقوق شرعیہ ہیں، لیکن ٹیکس حقوق شرعیہ میں شامل نہیں ہے"۔ اور آج جبکہ ہم اسلامی جمہوریہ کی حکومت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، حقوق شرعیہ اور ٹیکس ادا کرنے سے متعلق میرا فریضہ بیان فرمائیں؟
      ج: اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی طرف سے قوانین اور ضابطوں کے مطابق جو ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں، اگر چہ ان کا ادا کرنا ان لوگوں پر واجب ہے جو قانون کے زمرے میں آتے ہیں،اور ہر سال کا ٹیکس اسی سال کے مخارج میں سے شمار ہوگا لیکن اس ٹیکس کوسہم امام اور سہم سادات میں شمار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان پر سال کے مخارج سے جو چیز بچ جائے اس کا خمس ادا کرنا بھی واجب ہے ۔
       
      س١٠۳۲: کیا حقوق شرعیہ کو ڈالر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جسکی قیمت ہمیشہ ثابت رہتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور کیایہ کام شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
      ج: جس کے اوپر حقوق شرعیہ ہیں اس کے لئے یہ کام جائز ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ادا کرتے وقت حقوق شرعیہ کو ادئیگی والے دن کی قیمت کے حساب سے ادا کرے، لیکن جو شخص ولی امر کی طرف سے حقوق شرعیہ وصول کرنے کے سلسلے میں وکیل اور معتمد ہے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ ایک کرنسی کو دوسری کرنسی میں تبدیل کرے، مگر یہ کہ اس کو اس سلسلے میں اجازت ہو، لیکن قیمت کا بدلتے رہنا اس کے تبدیل کرنے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتا۔
       
      س١٠۳۳: ایک ثقافتی مرکز میں تجارت کا شعبہ کھولا گیا ہے کہ جس کا اصلی سرمایہ رقوم شرعیہ ہیں۔ مذکورہ تجارت کے شعبے کا مقصد، ثقافتی مرکز کے مستقبل کے اخراجات کو پورا کرنا ہے تو کیا اس تجارت سے حاصل ہونے والے نفع کا خمس نکالنا واجب ہے اور کیا اس خمس کو ثقافتی مرکز کے امور میں صرف کیا جا سکتا ہے؟
      ج: جن حقوق شرعیہ کو مقررہ موارد میں خرچ کرنا واجب ہے انکے ساتھ تجارت کرنا اور انہیں ان مصارف میں خرچ نہ کرنا ولی امر خمس کی اجازت کے بغیر اشکال رکھتا ہے چاہے اس تجارت کے منافع سے ثقافتی ادارے کو فائدہ پہنچانا ہی مقصود کیوں نہ ہو بالفرض اگر ان سے تجارت کی جائے تو ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی اصلی سرمایہ کے تابع ہیں یعنی انہیں بھی اصلی سرمایہ کے مصارف میں خرچ کرنا واجب ہے اور ان میں خمس نہیں ہے البتہ اس ادارہ کو حاصل ہونے والے ہدایا سے تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر اس کا سرمایہ ادارے کی ملکیت ہو تو اس سے حاصل شدہ فوائد اور منافع میں خمس نہیں ہے۔
       
      س ١٠۳۴: اگر ہمیں کسی چیز کے بارے میں شک ہو کہ اس کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں، جبکہ ظن غالب یہ ہے کہ اس کا خمس ادا کر دیا ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟
      ج: اگر اس میں خمس کے واجب ہونے کا یقین ہو تو اس کے خمس کی ادائیگی کے بارے میں یقین حاصل کرنا واجب ہے۔
       
      س ١٠۳۵: تقریباً سات سال قبل میرے ذمہ کچھ خمس تھا، ایک مجتہد کے ساتھ دست گردانی کرنے کے بعد اس کا کچھ حصہ ادا کر دیا ہے مگر اس کا باقی حصہ میرے ذمے ہے اور اس وقت سے لے کر اب تک میں اس کو ادا نہیں کر سکا ہوں، تو میرا فریضہ کیا ہے؟
      ج: صرف ادا نہ کر سکنا، بریٔ الذمہ ہونے کا سبب نہیں ہے، بلکہ جب بھی ادا کرنے کی قدرت ہو آپ پر اس قرض کا ادا کرنا واجب ہے، اگرچہ آہستہ آہستہ ہی سہی۔
       
      س ١٠٣۶: کیا میں اس رقم کوجو میں نے اس مال کے خمس کے عنوان سے نکالی تھی جس میں خمس نہیں تھا، موجودہ مال کے اس خمس کا جز قرار دے سکتا ہوں کہ جس کا میں مقروض ہوں؟
      ج: اگر اسے اسکے مصارف میں خرچ کیا جا چکا ہو تو خمس کے حالیہ قرض کے طور پر شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ہاں اگر خود وہ مال موجود ہو تو آپ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
       
      س١٠٣۷: کیا نابالغ بچوں پر بھی خمس و زکوٰة واجب ہے یا نہیں؟
      ج: مال کی زکوٰة نابالغ پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس کے مال میں خمس واجب ہو جائے( جیسے اس کا مال معدن ہو یا وہ حلال جو حرام سے مخلوط ہے) تو اس کے ولی و سرپرست پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے، البتہ نابالغ کے مال کے ساتھ تجارت کرنے کے نتیجے میں حاصل شدہ منافع یا اسکی کمائی کے نفع کا خمس ادا کرنا، ولی پر واجب نہیں ہے، بلکہ احتیاط یہ ہے کہ اگر وہ منافع باقی ہے تو بالغ ہونے کے بعد خود اس بچے پر واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کرے۔
       
      س ١٠٣۸: اگر کوئی شخص حقوق شرعیہ، سہم امام علیہ السلام اور ان اموال کو کہ جنہیں انکے شرعی مصارف میں خرچ کرنے کیلئے کسی مرجع کی اجازت ضروری ہوتی ہے کسی دینی ادارے پر خرچ کرے یا مسجد، دینی مدرسے یا امام بارگاہ کی عمارت پر خرچ کرے تو کیا اس شخص کو شرعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ اس مال کو جو اس نے اپنے ذمہ واجب حقوق شرعیہ کی ادائیگی کے طور پر خرچ کیا ہے اس کو واپس لے یا اس ادارہ کی زمین واپس لے لے یا اس ادارہ کی عمارت کو فروخت کر دے؟
      ج: اگر اس نے اس مرجع تقلید کی اجازت سے کہ جس تک یہ حقوق شرعیہ پہنچانا واجب تھا مدرسہ و غیرہ کی تأسیس میں اپنے ان اموال کو اپنے ذمہ واجب حقوق کی ادائیگی کی نیت سے خرچ کیا ہو تو اس کو واپس لینے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی اسے اس میں مالکانہ تصرف کرنے کا حق ہے۔
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /