ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
      پرنٹ  ;  PDF
       
      خمس کے مصارف، اجازہ، ہدیہ اور حوزۂ علمیہ کا وظیفہ
       
      س١٠۱۳: بعض اشخاص خود اپنی طرف سے سادات کے بجلی اور پانی کے بل ادا کردیتے ہیں، کیا وہ ان بلوں کو خمس میں سے حساب کر سکتے ہیں؟
      ج: ابھی تک جو کچھ انہوں نے سہم سادات کے عنوان سے ادا کیا ہے وہ قبول ہے لیکن مستقبل میں ادا کرنے سے پہلے ان پر اجازت لینا واجب ہے۔
       
      س١٠۱۴: کیا سہم امام میں سے ایک ثلث(تہائی) کے ساتھ دینی کتابیں خریدنے اور تقسیم کرنے کی اجازت عنایت فرمائیں گے؟
      ج: اگر ہمارے مجاز وکلاء مفید دینی کتابوں کی تقسیم اور فراہمی کو ضروری سمجھیں تو وہ اس سلسلے میں اس ایک تہائی مال کو صرف کر سکتے ہیں جس کو وہ مخصوص شرعی موارد میں صرف کرنے کے مجاز ہیں۔
       
      س١٠۱۵: کیا ایسی علوی سیدانی کو سہم سادات دیا جا سکتا ہے جو شادی شدہ، ناداراور اولاد والی ہو، لیکن اس کا شوہر سید نہ ہو البتہ وہ بھی نادار اور فقیر ہو؟ اورکیا وہ اس سہم سادات کو اپنی اولاد اور اپنے شوہر پر خرچ کرسکتی ہے؟
      ج: اگر شوہر نادار ہونے کی بنا پر اپنی زوجہ کو نفقہ نہ دے سکتا ہو اور زوجہ بھی شرعی اعتبار سے فقیر ہو تو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے وہ سہم سادات لے کر اسے اپنے آپ پراپنی اولاد پر یہاں تک کہ اپنے شوہر پر بھی خرچ کر سکتی ہے۔
       
      س١٠١۶: ان لوگوں کے سہم امام اور سہم سادات لینے کا کیا حکم ہے کہ جنکی حوزوی وظیفہ کے علاوہ بھی اتنی آمدنی ہے جو ان کی زندگی کی ضروریات کے لئے کافی ہے؟
      ج: جو شخص شرعی نقطۂ نظر سے مستحق نہ ہو اور نہ حوزۂ علمیہ کے وظیفہ کے قواعد و ضوابط اس کو شامل ہوتے ہوں وہ سہم امام اور سہم سادات نہیں لے سکتا۔
       
      س١٠١۷: ایک سیدانی کہتی ہے اس کا باپ اپنے اہل و عیال کے اخراجات پورے نہیں کرتا اوران کی حالت یہ ہے کہ وہ مساجد کے سامنے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور اس سے وہ اپنی زندگی کا خرچ نکالتے ہیں، اور اس علاقہ کے رہنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ یہ سید پیسے والا ہے، اور بخل کی وجہ سے اپنے اہل و عیال پر خرچ نہیں کرتا تو کیا انہیں مخارج زندگی کیلئے سہم سادات دینا جائز ہے؟ اور بر فرض کہ بچوں کا والد یہ کہے کہ مجھ پر فقط طعام اور لباس واجب ہے اور دوسرے لوازمات جیسے عورتوں کی خاص چیزیں اور چھوٹے بچوں کا جیب خرچ مجھ پر واجب نہیں ہے تو کیا اُن کو ان ضروریات کے لئے سہم سادات میں سے دینا جائز ہے؟
      ج: پہلی صورت میں اگر وہ اپنے باپ سے نفقہ نہ لے سکتے ہوں تو انہیں نفقہ کے لئے ضرورت کے مطابق سہم سادات میں سے دے سکتے ہیں، اسی طرح دوسری صورت میں اگر انہیں خوراک اور لباس کے علاوہ کسی ایسی چیز کی ضرورت ہو جو ان کی حیثیت کے مطابق ہو تو انہیں سہم سادات میں سے اتنا دیا جاسکتا ہے جس سے ان کی یہ ضرورت پوری ہو جائے۔
       
      س١٠١۸: کیا آپ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ لوگ خود سہم سادات، غریب سادات کو دے دیں؟
      ج: جس شخص کے ذمہ سہم سادات ہے اس پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کو دینے کیلئے اجازت حاصل کرے۔
       
      س١٠١۹: کیا آپ کے مقلدین سہم سادات غریب سید کو دے سکتے ہیں یا ان پر واجب ہے کہ پورا خمس یعنی سہم امام اور سہم سادات آپ کے وکیل کو دیں تاکہ وہ اسے شرعی امور میں صرف کرے؟
      ج: اس سلسلہ میں سہم سادات اور سہم امام (علیہ السلام) میں کوئی فرق نہیں ہے۔
       
      س١٠۲۰: کیا شرعی حقوق(خمس، رد مظالم اور زکوٰة) حکومتی امور میں سے ہیں؟ اور جس شخص پر خمس واجب ہو کیا وہ خود مستحقین کو سہم سادات، رد مظالم اور زکوٰة دے سکتا ہے ؟
      ج: زکات اور رد مظالم دیندار اور پاکدامن فقراء کو دے سکتا ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ حاکم شرع سے اجازت لے، لیکن پورے خمس کو خود ہمارے دفتر میں یا ہمارے مجاز وکیلوں میں سے کسی ایک کے پاس پہنچانا واجب ہے، تاکہ اسے مقررہ شرعی موارد میں صرف کیا جاسکے اور یا مستحقین کو خود دینے کیلئے اجازت حاصل کرے۔
       
      س١٠۲۱: کیا وہ سادات جن کے پا س کام اور کاروبار کا ذریعہ ہے، خمس کے مستحق ہیں یا نہیں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
      ج: اگر ان کی آمدنی عرف عام کے لحاظ سے انکی حیثیت کو دیکھتے ہوئے ان کی زندگی کیلئے کافی ہو تو وہ خمس کے مستحق نہیں ہیں۔
       
      س ١٠۲۲: میں ایک پچیس سالہ جوان ہوں، ملازمت کرتا ہوں، اور ابھی تک کنوارا ہوں۔ میں والد اور والدہ کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہوں، والد ضعیف العمر ہیں اور چار سال سے میں ہی اخراجات ِ زندگی پورے کر رہا ہوں۔ میرے والد کام کرنے کے لائق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی آمدنی ہے۔ واضح رہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ میں ایک طرف تو سال بھر کے منافع کا خمس ادا کروں اور دوسری طرف زندگی کے تمام اخراجات پورے کروں یہاں تک کہ میں گزشتہ برسوں کے منافع کے خمس میں سے ١٩ ہزار تومان کا مقروض ہوں، میں نے اس کو لکھ رکھا ہے تا کہ بعد میں ادا کروں تو کیا میں سال بھر کے منافع کا خمس اپنے اقربا، جیسے ماں باپ ،کو دے سکتاہوں؟
      ج: اگر ماں باپ کے پاس اتنی مالی استطاعت نہ ہو کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی چلا سکیں اور آپ ان کا خرچ برداشت کر سکتے ہوں تو ان کی کمک کرناآپ پر واجب ہے اور جو کچھ آپ ان کے نفقہ پر خرچ کریں گے وہ آپ کے مخارج میں سے شمار ہوگا اور اس کو آپ اس خمس میں حساب نہیں کر سکتے جس کا ادا کرنا آپ پر واجب ہے۔
       
      س ١٠۲۳: میرے ذمہ سہم امام علیہ السلام کی کچھ رقم ہے کہ جسے آپ کی خدمت میں ارسال کرنا ہے، دوسری طرف یہاں ایک مسجد ہے جس کو تعاون کی ضرورت ہے، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ یہ رقم اس مسجد کے امام جماعت کو دے دوں تا کہ وہ اسے مسجد کی تعمیر و تکمیل میں خرچ کردیں؟
      ج: دور حاضر میں حوزہ ہائے علمیہ (دینی مدارس) کو چلانے کیلئے سہم امام اور سہم سادات کی ضرورت ہے اور مسجد کی تکمیل کیلئے مؤمنین کی امداد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
       
      س١٠۲۴: اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے ہمارے والد نے اپنی زندگی میں اپنے مال کا مکمل خمس ادا نہ کیا ہو اور ہم نے ہسپتال بنانے کے لئے ان کی زمین سے ایک ٹکڑا ہبہ کیا ہے تو کیا اس زمین کو مرحوم کے اموال کے خمس کے طور پر شمارکیا جا سکتا ہے؟
      ج: اس زمین کو خمس کے طور پر حساب نہیں کیا جا سکتا۔
       
      س ١٠۲۵: کن حالات میں خمس دینے والے کو اس کا خمس بخشاجا سکتا ہے؟
      ج: سہم امام اور سہم سادات کو بخشا نہیں جا سکتا۔
       
      س ١٠٢۶: اگر مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے پر اس کے اخراجات سے ایک لاکھ روپیہ زیادہ ہو اور اس نے اس کا خمس ادا کر دیا ہو اور آنے والے سال میں نفع کی یہ رقم ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ ہوجائے تو کیا پچاس ہزار روپے کا خمس ادا کرے گا یا دوبارہ تمام ایک لاکھ پچاس ہزار کا خمس دے گا؟
      ج: جس مال کا خمس دیا جا چکا ہو اگر وہ نئے سال میں خرچ نہ ہو اور باقی رہے تو دوبارہ اس کا خمس نہیں نکالا جائے گا اور اگر سال کے اخراجات کو سالانہ منافع اور اس مخمس مال سے مشترکہ طور پر پورا کیا گیا ہو تو سال کے آخر میں غیر مخمس سے مخمس مال کی نسبت جو باقی بچ جائے اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س١٠٢۷: جن دینی طلباء نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ہے تو کیا ان کی اس آمدنی میں خمس ہے جو انہیں تبلیغ، کسی کام یا سہم امام سے دستیاب ہوتی ہے، یا وہ اسکے وجوب خمس سے مستثنیٰ ہونے کی وجہ سے خمس کی ادائیگی کے بغیر ہی اسے شادی کے لئے جمع کر سکتے ہیں ؟
      ج: حوزہ ہائے علوم دینی میں درس پڑھنے والے محترم طلباء کو مراجع عظام کی طرف سے جو کچھ شرعی رقوم سے (وظیفہ) دیا جاتا ہے اس پر خمس نہیں ہے، لیکن تبلیغ اور ملازمت کی طرح کے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر خمس کی سالانہ تاریخ تک باقی ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔
       
      س ١٠٢۸: اگر کسی شخص کے پاس ایسی جمع پونجی ہو جو مخمس اور غیر مخمس مال سے مخلوط ہو چنانچہ کبھی وہ اس مخلوط مال سے خرچ کرتا ہو اور کبھی اس میں کچھ اضافہ کردیتاہو تو اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخمس مال کی مقدار معلوم ہے کیا اس پر پورے مال کا خمس دینا واجب ہے یا صرف غیر مخمس مال کا خمس دینا واجب ہے ؟
      ج: اس پر صرف اس رقم کا خمس واجب ہے جو مخمس کی نسبت غیر مخمس سے بچ گئی ہے۔
       
      س ١٠٢۹: وہ کفن جو خریدنے کے بعد چند برسوں تک اسی طرح پڑا رہا ہو کیا اس کا خمس دینا واجب ہے، یا صرف اسکی قیمت خرید کا؟
      ج: اگر کفن اس مال سے خریدا گیا ہو کہ جس کا خمس دیا جا چکا تھا تو اس کے بعد اس پر خمس نہیں ہو گا ورنہ کفن کی قیمت خرید کا خمس دینا ہوگا اور پیسے کی قیمت میں جو کمی آئی ہے اس کے سلسلے میں احتیاط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع کے ساتھ مصالحت کرے۔
       
      س ١٠۳۰: میں ایک دینی طالب علم ہوں اور میرے پاس کچھ مال تھا، اور بعض اشخاص کی مدد، سہم سادات سے استفادہ اور قرض لے کر ایک چھوٹا سا گھر خرید ا اب وہ گھر میں نے فروخت کر دیا ہے، لہذا اگر اس کی قیمت پر ایک سال گزرجائے اور گھر نہ خرید سکوں تو کیا اس مال میں جو گھر خریدنے کے لئے رکھا گیا تھا ، خمس ہوگا؟
      ج: اگر آپ نے حوزۂ علمیہ کے وظیفہ، مخیر افراد کی مدد ، قرض اور شرعی رقوم سے گھر خریدا تھا تو اس گھر کی قیمت میں خمس نہیں ہے۔
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /