ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
      پرنٹ  ;  PDF
       
      قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
       
      س ٨٦۵: وہ ملازمین جن کے پاس کبھی سالانہ اخراجات سے کچھ بچ جاتا ہے، کیا ان پر خمس واجب ہے جبکہ وہ لوگ یکمشت یا قسطوں کے ساتھ ادائیگی کی شرط پر مقروض بھی ہیں؟
      ج: اگر وہ قرض سال کے دوران خود اسی سال کے اخراجات کے لئے لیا گیا ہو یا اس سال کی بعض ضروری اشیاء کے ادھار پر خریدنے کی وجہ سے ہو اور یہ اسے اسی سال کی بچت سے ادا کرنا چاہتاہو توقرض کی مقدار سالانہ بچت سے نکال لی جائے گی ورنہ جتنی بچت ہوئی ہے سب کا خمس دیا جائے گا۔
       
      س ٨٦۶: کیا حج تمتع کی غرض سے لئے گئے قرض میں خمس واجب ہے اس طرح کہ خمس نکالنے کے بعد جو رقم بچ جائے اسے حج پر خرچ کیا جائے؟
      ج: جو مال قرض کے طور پر لیا گیا ہو اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨٦۷: میں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی کو اس امید پر کچھ رقم دی ہے کہ وہ زمین کا ٹکڑا لے کر میرے رہنے کے لئے مکان مہیا کرے گی، لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں مجھے زمین دیئے جانے کا حکم جاری نہیں ہوا ہے۔ لہذا اب میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اپنی دی ہوئی رقم واپس لے لوں۔ واضح رہے کہ کل رقم کا کچھ حصہ تو میں نے قرض لے کر دیا تھا اور کچھ حصہ گھر کے قالین بیچ کر دیا تھا اور باقی میں نے اپنی بیوی کی تنخواہ سے جمع کیا تھا کہ جو ٹیچر ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل دو سوالوں کا جواب عنایت فرمائیں :
      ١۔ اگر میں اپنی رقم واپس لے کر اسے صرف مکان یا زمین خریدنے میں صرف کروں تو کیا اس میں خمس واجب ہے؟
      ٢۔ اس رقم میں جو خمس واجب ہے اس کی مقدار کیا ہوگی؟
      ج: مذکورہ فرض میں چونکہ رقم ہدیے یا قرض اور یا ضروریات زندگی بیچ کر مہیا کی گئی ہے اسلئے اس میں خمس نہیں ہے۔
       
      س٨٦۸: چند سال قبل میں نے بینک سے قرض لیا اور اس کو اپنے اکاؤنٹ میں ایک سال کے لئے رکھ دیا، لیکن اس سے کوئی استفادہ کئے بغیرہر مہینہ اس کی قسط ادا کر رہا ہوں تو کیا اس قرض میں خمس ہے؟
      ج: قرض لئے ہوئے مال کی اسی مقدار میں سے خمس نکالنا واجب ہے کہ جس کی قسطیں آپ نے خمس کی سالانہ تاریخ تک اپنی کمائی کے منافع سے ادا کی ہیں۔
       
      س ٨٦۹: میں گھر کی تعمیر کی خاطر کچھ مقروض ہو گیا ہوں اور یہ قرض بارہ سال تک چلے گا براہ مہربانی خمس کے سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں کیا یہ قرض سال کی بچت سے مستثنیٰ ہوگا؟
      ج: گھر کی تعمیر و غیرہ کیلئے لئے گئے قرض کی اقساط کہ جن کا تعلق گذشتہ سال سے ہے اگرچہ دوران سال کی بچت سے ادا کی جاسکتی ہیں لیکن اگر ادا نہ کرے تو سال کی بچت سے مستثنی نہیں ہوں گی بلکہ خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے پر باقی ماندہ بچت میں خمس ہوگا۔
       
      س ٨۷۰: طالب علم نے جو کتابیں والد کے پیسوں یا کالج کی طرف سے ملنے والے قرض سے خریدی ہیں اور طالب علم کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہیں ہے تو کیا ان میں خمس واجب ہے؟ اور اگر یہ معلوم ہو کہ باپ نے کتابوں کے پیسوں کا خمس ادا نہیں کیا ، تو کیا اس کا خمس دینا واجب ہو گا؟
      ج: قرض یا باپ کی طرف سے ہدیہ کے طور پر دی گئی رقم سے خریدی گئی کتابوں میں خمس نہیں ہے۔
       
      س٨۷۱: جب کوئی شخص کچھ مال قرض کے طور پر لے اور سال سے پہلے اسے ادا نہ کر سکے تو کیا اس قرض کا خمس، لینے والے پر ہے یا دینے والے پر؟
      ج: مقروض پر قرض کا خمس نہیں ہے، لیکن قرض دینے والے نے اگر اسے اپنی سالانہ بچت سے اور اس کا خمس ادا کرنے سے پہلے بطور قرض دیا ہو تو اگر وہ سال کے تمام ہونے تک قرض واپس لے سکے توخمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس بھی واجب ہے ، لیکن اگر وہ سال کے آخر تک وصول نہ کر سکے تو فی الحال اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے لیکن جب بھی اسے واپس لے اس کا خمس واجب ہے۔
       
      س ٨۷۲: ریٹائرڈ افراد کو ماہ بہ ماہ جو پنشن ملتی ہے کیا اس میں خمس ہے ؟
      ج: سالانہ اخراجات سے بچ جانے کی صورت میں اس کا خمس واجب ہے۔
       
      س ٨۷۳: اسراء کے والدین کو انکی اسارت کے دوران جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے جو ماہانہ وظیفہ ملتاہے اور بینک میں جمع ہوتارہتاہے کیا اس میں خمس ہے؟
      ج: مذکورہ مال میں خمس نہیں ہے۔
       
      س ٨۷۴: مجھ پر کچھ قرض ہے۔ اب جبکہ سال پورا ہو چکا ہے اور قرض خواہ نے مطالبہ نہیں کیا اور سالانہ بچت بھی میرے پاس اتنی ہے کہ قرض واپس کر سکتا ہوں ، تو کیا میں قرض کی رقم کو سالانہ بچت میں سے نکال سکتا ہوں؟
      ج: انسان چاہے رقم قرض لینے کی وجہ سے مقروض ہو یا ضروریات زندگی کو ادھار پر خریدنے کی وجہ سے اگر یہ اسی بچت والے سال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہو اور اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتاہوتو اس کو سالانہ بچت میں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ گزشتہ برسوں کا قرض ہو اور اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اگر چہ سالانہ بچت سے اس کا ادا کرنا جائز ہے، لیکن اگر اس کو سال کے تمام ہونے تک ادا نہ کرے تو سالانہ منفعت سے اس کو استثناء نہیں کیا جاسکتا۔
       
      س ٨٧۵: جس کے سالانہ حساب میں کچھ مال بچ گیا ہو تو کیا اس پر خمس واجب ہے جبکہ اس کے خمس کی سالانہ تاریخ آچکی ہو اور وہ مقروض ہو، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ قرض ادا کرنے کیلئے اس کے پاس چند سال کی مہلت ہے؟
      ج: جو قرض ادا نہیں کیا گیا چاہے وہ مدت والا ہو یا نہ اسے سالانہ بچت سے جدا نہیں کیا جا سکتا، سوائے اس قرض کے جو اسی بچت والے سال کے اخراجات کے لئے لیا گیا ہو، اس قرض کو بچت میں سے نکالا جاسکتاہے اور اس قرض کے برابر سالانہ بچت میں خمس نہیں ہے۔
       
      س ٨٧۶: انشورنس کمپنیاں، انشورنس کرانے والوں کے نقصان کی تلافی کیلئے معاہدے کے مطابق جو رقم دیتی ہیں، کیا اس پر خمس ہے؟
      ج: جو رقم انشورنس کمپنیاں انشورنس کرانے والوں کو دیتی ہیں اس پر خمس نہیں ہے۔
       
      س ٨٧۷: گزشتہ سال میں نے کچھ رقم قرض لے کر اس امید پر زمین خریدی کہ اس کی قیمت بڑھ جانے کے بعد، میں اس زمین اور اپنے موجودہ گھر کو بیچ کر آئندہ کیلئے اپنی رہائش کی مشکل کو حل کر سکوں گا۔ اور اب جبکہ میرے خمس کی سالانہ تاریخ آن پہنچی ہے میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اسے گزشتہ سال کی بچت سے نکال سکتا ہوں یا نہیں ؟
      ج: چونکہ قرض کے مال سے زمین اسلئے خریدی گئی تھی کہ اسے مستقبل میں بیچا جا سکے، لہذا جس سال قرض لیا گیا ہے اس سال کی بچت میں سے اسے جدا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سالانہ بچت کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س ٨٧۸: میں نے بینک سے کچھ قرض لیا تھا جس کے ادا کرنے کا وقت میرے خمس کی سالانہ تاریخ کے بعد آئے گا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اس سال میں نے یہ قرض ادا نہ کیا تو آئندہ سال ادا نہیں کرسکوں گا، لہذا خمس کی تاریخ آنے پراس کی ادائیگی کے بارے میں میری کیا ذمہ داری ہے؟
      ج: اگر سال ختم ہونے سے پہلے اپنی سالانہ بچت کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کر دیا ہو اور وہ قرض بھی اصل سرمایہ کو زیادہ کرنے کے لئے نہ لیا گیا ہوتو اس پر خمس نہیں ہے، لیکن اگر قرض اصل سرمایہ میں اضافہ کرنے کے لئے ہو یاسالانہ بچت کو ذخیرہ کرنے کا ارادہ ہو تو آپ پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س ٨٧۹: گھر کرایہ پر لینے کیلئے عام طور پر کچھ رقم پیشگی (ایڈوانس) دی جاتی ہے اگر یہ رقم کما کر حاصل کی گئی ہو اور کئی سال تک مالک مکان کے پاس رہے توکیا واپس لینے پر فوراً اس کا خمس نکالنا واجب ہے؟ اور اگر اسی رقم سے دوسرا گھر کرایہ پر لینے کا ارادہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟
      ج: اس میں خمس واجب ہے لیکن اگر گھر کرائے پر لینے کیلئے اس رقم کی ضرورت ہو تو مہلت حاصل کرسکتا ہے اور ضرورت پوری ہونے کے بعد اس کا خمس ادا کرے۔
       
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /