ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • احکام طهارت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • خمس کے احکام
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات (موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
      پرنٹ  ;  PDF
       
      خمس کے حساب کا طریقہ
       
      س976: خمس ادا کرنے میں آئندہ سال تک تاخیرکرنے کا کیا حکم ہے؟
      ج: خمس والا سال تمام ہونے کے بعد اسکے خمس کی ادائیگی کو آئندہ سال تک موخر کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ جب بھی اسے دے دے اس کا قرض ادا ہوجائیگا۔
       
      س977: میں ایسے مال کا مالک ہوں جس کا کچھ حصہ میرے پاس ہے اور کچھ قرض الحسنہ کی شکل میں دیگر اشخاص کے پاس ہے، دوسری جانب، میں رہائشی زمین خریدنے کی وجہ سے مقروض ہوں اور اس کی قیمت سے متعلق ایک چیک مجھے چند ماہ تک ادا کرنا ہے تو کیا میں موجودہ رقم(نقد اور قرض الحسنہ) میں سے زمین کا قرض نکال کر باقی رقم کا خمس دے سکتا ہوں؟ اور کیا اس زمین پر بھی خمس ہے جس کو میں نے رہائش کیلئے خریدا ہے؟
      ج: جو مال آپ نے اپنی سالانہ آمدنی سے بعض افراد کو قرض دے رکھا ہے اگر خمس کا سال ختم ہونے پر اسے وصول کرنا ممکن نہ ہو تو جب تک وہ وصول نہیں ہوا اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے اور سالانہ آمدنی سے جو کچھ آپ کے پاس ہے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے اس میں سے اپنے اس قرض کو ادا کرسکتے ہیں کہ جس کی ادائیگی کا وقت چند ماہ بعد پہنچے گا، لیکن اگر آپ نے اس کو سال کے دوران قرض ادا کرنے کے لئے خرچ نہیں کیا یہاں تک کہ خمس کا سال پورا ہوگیا تو پھر قرض کو اس سے استثناء کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ کمائی سے بچنے والی رقم پر خمس دینا آپ پر واجب ہے،لیکن اگر اس کمائی کے حاصل ہونے کے بعد  کہ جو آپ کے پاس موجود ہے، قرض میں حاصل کئے ہوئے مال کو اپنے اخراجات میں خرچ کریں تو سال کے آخر میں اسی مقدار کے برابر کمائی سے منہا ہوگا لیکن آپ نے جو زمین دوران سال کی آمدنی سے رہائش کے لئے خریدی ہے اور آپ کو اس کی ضرورت ہے اس پر خمس نہیں ہے۔
       
      س978: میں نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے تو کیا میں مستقبل میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے موجودہ مال سے کچھ ذخیرہ کر سکتا ہوں؟
      ج: سالانہ بچت اگر آئندہ چند دنوں کے اندر شادی کے ضروری اخراجات میں خرچ کرنے کیلئے ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
       
      س979: میں نے سال کے دسویں مہینے کی آخری تاریخ کو خمس نکالنے کے لئے مقرر کر رکھا ہے تو دسویں مہینے کی تنخواہ جو مجھے ماہ کے آخر میں ملتی ہے، کیا اس پر بھی خمس ہے؟ اور تنخواہ لینے کے بعد اگر اس کا بقایا پیسہ(جو اپنے معمول کے مطابق ہر ماہ بچت کرتا ہوں) اپنی زوجہ کو ہدیہ کے طورپر دے دوں تو کیا اس میں بھی خمس ہوگا؟
      ج: جوتنخواہ آپ نے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے لی ہے یا خمس کا سال ختم ہونے سے پہلے لینا ممکن ہو، اس میں سے جو کچھ  اس سال کے اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے، تاہم  جو پیسہ آ پ نے زوجہ یا کسی دوسرے شخص کو ہدیہ کے طور پر دیا ہے اگر وہ صرف ظاہری اور مصنوعی نہ ہو اور  آپ کی عرفی حیثیت کے مطابق  مقدار میں ہوتو اس پر خمس نہیں ہے۔
       
      س980: میرے پاس کچھ مال یا پونجی ایسی ہے جس کا خمس میں دے چکا ہوں اسے میں نے خرچ کر دیا ہے اب کیا سال کے آخر میں سال کی منفعت میں سے کچھ مقدار مال کو اس خرچ شدہ مخمس مال کے بدلے خمس سے مستثنےٰ کرسکتا ہوں؟
      ج: اگر خرچ کرنے کے دوران سال کی کمائی بھی موجود ہو تو سال کے اختتام پر اتنی مقدار میں استثناء کرسکتے ہیں۔
       
      س981: ایسا مال جس پر خمس نہیں ہے جیسے انعام وغیرہ، اگر سرمایہ کے ساتھ مخلوط ہوجائے تو کیا خمس کا سال ختم ہونے پرایسا کیا جاسکتا ہے کہ اسے سرمایہ سے مستثنیٰ کر کے باقی مال کا خمس نکال دیا جائے؟
      ج: اس کے مستثنیٰ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
       
      س982: تین سال قبل میں نے ایسی رقم سے دکان کھولی جس کا خمس دیا جا چکا تھا اور میرے خمس کی تاریخ شمسی سال کی آخری تاریخ یعنی عید نوروزکی شب ہے اور آج تک جب بھی میرے خمس کی تاریخ آتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ میرا تمام سرمایہ قرض کی صورت میں لوگوں کے پاس ہے اور میں خود بھی بھاری رقم کا مقروض ہوں میری ذمہ داری بیان فرمائیں؟
      ج: اگر خمس کی تاریخ آنے پر آپ کے پاس نہ اصل سرمایہ میں سے کچھ ہو اور نہ ہی منافع میں سے یا آپ کے سرمائے میں کچھ اضافہ نہ ہوا ہو تو آپ پر خمس واجب نہیں ہے،اور آپ کا وہ ادھار جو لوگوں کو ادھار پر اشیاء فروخت کرنے کی منافع کی بابت موجود ہے چنانچہ خمس کے سال کے اختتام پر ان سے وصول  کرسکتے ہیں تو سرمایہ اور افراط زر کو منہا کرنے کے بعد اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے اس صورت کے علاوہ وہ اس سال کی کمائی کا حصہ شمار ہوگا جس سال ان قرضوں کو آپ وصول کریں گے۔ اگر مذکورہ ادھار کی رقم میں سے ایک حصہ دورانِ سال کے منافع کی بابت ہو  کہ جو جنس میں تبدیل ہوا ہو اور اس کے بعد ادھار فروخت کیا گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس کی وصولی کے بعد فوری طور پر اس مقدار کا خمس ادا کیا جائے۔
       
      س983: جب خمس کی سالانہ تاریخ آتی ہے تو ہمارے لئے دکان میں موجود مال کی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے،تو اس کا حساب کیسے کریں؟
      ج: جس طرح بھی ہوسکے خواہ اندازہ لگانے کے ذریعہ ہی سہی بہرحال دکان میں موجودہ مال کی قیمت کی تعیین ضروری ہے، تاکہ سال بھر کے منافع کاخمس نکالا جاسکے۔
       
      س984: اگر میں چند سال تک خمس کا حساب نہ کروں یہاں تک کہ میرا مال نقد بن جائے اور میرا سرمایہ بڑھ جائے اس کے بعد میں اپنے سابقہ سرمایہ کے علاوہ باقی مال کا خمس نکال دوں تو کیا اس میں کوئی اشکال ہے؟
      ج: اگر خمس کی تاریخ آنے پر آپ کے اموال میں کچھ خمس تھا، اگرچہ کم ہی سہی تو اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
       
      س985: دکان دار کیلئے اپنے مال کا خمس نکالنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ بیان فرمائیں۔
      ج: خمس کا سال ختم ہونے پر موجودہ مال اور نقد رقم کا حساب کرکے اس کی قیمت لگالے پھر اس مجموعی قیمت کا اپنے اصلی سرمایہ سے (افراط زر کو حساب کرکے) موازنہ کرے، جو کچھ اصل سرمایہ سے زیادہ ہوگا اسے منافع  شمار کیا جائے گا اور اس میں خمس ہوگا۔
       
      س986: میں نے گذشتہ سال کے تیسرے مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنے خمس والے سال کی ابتدا کے طور پر مقرر کیا تھا چنانچہ میں نے اسی تاریخ کو بینک کی طرف رجوع کیا تا کہ اپنے بینک اکاؤنٹ کی منفعت کے خمس کا حساب کرسکوں تو کیا سال بھر کے مال کے حساب کایہ طریقہ صحیح ہے؟
      ج: آپ کے خمس کے سال کی ابتدا وہ دن ہے جس میں آپ کو پہلی مرتبہ ایسی آمدنی ہوئی جس کا وصول کرنا آپ کے لئے ممکن تھا اور آغاز سال کو اس سے موخر کرنا جائز نہیں ہے۔
       
      س987: اگر انسان گاڑی ، موٹر سائیکل اور فرش جیسی ضرورت کی اشیاء کو بیچے کہ جن کا خمس ادا نہیں کیا گیا تو کیا بیچنے کے بعد فوراً ان کا خمس ادا کرنا واجب ہے؟
      ج: مذکورہ چیزیں اگر ضروریات زندگی میں سے ہوں جبکہ انہیں دورانِ سال کی آمدنی سے مہیا کیا ہو اور اگلے سال فروخت کردی گئی ہوں تو ان کی قیمت فروخت میں خمس نہیں ہے لیکن اگر انہیں اس پیسے سے مہیا کیا گیا ہو  کہ جس پر سال گزر چکا تھا اور اس کا خمس ادا نہیں کیا گیا تھا تو ان کی قیمت خرید کا (پیسے کی قدر میں آنے والی کمی کو حساب کرکے) خمس ادا کرنا واجب ہے اگر چہ ان چیزوں کو فروخت نہ بھی کرے اور اگر خمس کے حساب کے لئے سال مقرر نہیں کیا تھا اور نہ جانتا ہو کہ جس وقت ضرورت کی چیزیں خریدنے میں پیسے خرچ کر رہا تھا، اس  وقت خمس کا سال گزرچکا تھا  یا نہیں تو ان کی قیمت خرید کے سلسلے میں احتیاط واجب کی بناپر ہمارے کسی وکیل کے ساتھ مصالحت کرے۔
       
      س988: جس شخص کو گھر یلو استعمال کی کسی چیز جیسے ریفریجریٹرکی ضرورت ہے اور وہ اسے یک مشت نہیں خرید سکتا اسلئے ہر ماہ کچھ بچت کرتا ہے تا کہ جب ضروری رقم جمع ہوجائے تو اس سے وہ چیز خرید سکے اب جب اسکی خمس کی تاریخ آن پہنچی ہے تو کیا اس رقم میں بھی خمس ہوگا؟
      ج: اس رقم کو اگر اسلئے جمع کیا ہو تا کہ مستقبل قریب ( خمس کا سال ختم ہونے سے چند روز بعد) میں اپنی ضرورت کی چیز مہیا کر سکے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
       
      س989: اگر کوئی شخص اپنے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے اپنی کچھ آمدنی قرض کے طور پر کسی کو دے دے اور پھر خمس کی تاریخ کے چند ماہ بعد اسے وصول کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
      ج: سوال میں مذکور صورت میں مقروض سے قرض وصول کرلینے کے بعد فوری طور پر  اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س990: انسان جن چیزوں کو خمس کے سال کے دوران خرید تا ہے اور پھر خمس کا سال مکمل ہونے کے بعد انہیں بیچ دیتا ہے انکا کیا حکم ہے؟
      ج: مذکورہ چیزیں اگر ضروریات زندگی کا حصہ ہوں اور انہیں ذاتی استعمال کے لئے خریدا ہو تو ان میں خمس نہیں ہے لیکن اگر انہیں فروخت کرنے کی نیت سے سال  کے دوران کی کمائی سے خریدا تھا اور خمس کی تاریخ آنے سے پہلے ان کا فروخت کرنا بھی  ممکن تھا تو ان کے اصل مال اور منافع کا خمس ادا کرنا واجب ہے، بصورت دیگر جب تک انہیں فروخت نہ کردے ان کا خمس واجب نہیں ہے اور جب انہیں فروخت کردے  تو ان کے بیچنے سے جو منافع حاصل ہوگا اسے اسی فروخت والے سال کی کمائی شمار کیا جائے گا۔
       
      س991: اگر ملازم خمس والے سال کی تنخواہ خمس کی تاریخ کے بعد وصول کرے تو کیا اس پر خمس دینا واجب ہے؟
      ج: اگر وہ خمس کی تاریخ آنے تک تنخواہ لے سکتا تھا تو اس کا خمس دینا واجب ہے اگرچہ اس نے نہ بھی لی ہو، ورنہ جس سال وصول کرے گا انہیں اسی سال کے منافع میں سے شمار کیا جائیگا۔
       
      س992: سونے کے سکے کہ جن کی قیمت ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے کا خمس کیسے نکالا جائیگا؟
      ج: اگر ان کی قیمت سے خمس نکالنا چاہتا ہے تو خمس کے سال کے اختتام پر لگنے والی قیمت معیار ہے۔
       
      س993: اگر کوئی شخص اپنے مال کا سالانہ حساب سونے کی قیمت کے لحاظ سے کرے، مثال کے طور پر جب اس کی کل پونجی بہار آزادی والے سونے کے سو سکوں کے برابر ہواور وہ اس سے بیس سکے نکال دے تو اس کے پاس بہ عنوان مال مخمس ٨٠ سکے بچ جائیں گے اور آئندہ سال اگر سونے کے سکوں کی قیمت بڑھ جائے، لیکن اس شخص کا سرمایہ انہی ٨٠ سکوں کے برابر ہو تو کیا اس میں خمس ہے یا نہیں؟ اور کیا اس اضافی قیمت کا خمس دینا واجب ہے؟
      ج: اگر اس کی قیمت بڑھ جائے اور خمس کی تاریخ آنے پر اسے بیچنا ممکن ہو تو کرنسی کی قیمت گرنے کی مقدار کو کم کرنے کے بعد اس میں خمس ہے۔

       

    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • ہبہ
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب کے احکام
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ کے احکام
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /