ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
      پرنٹ  ;  PDF
       
      انفال
       
      س ۱۰۳۹: یہ سوال چونکہ ایران کے ساتھ مختص تھا اس لیے اردو ترجمہ میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔
       
      س ۱۰۴۰: یہ سوال چونکہ ایران کے ساتھ مختص تھا اس لیے اردو ترجمہ میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔
       
      س ١٠۴۱: کیا بلدیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شہر کو آباد کرنے یا نیا شہر بسانے و غیرہ کے سلسلے میں ندی نہروں کی ریت اور سنگریزوں سے صرف خود استفادہ کرے اور جائز ہونے کی صورت میں اگر بلدیہ کے علاوہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری ملکیت ہے تو کیا اس کا دعوا قابل قبول ہے یا نہیں؟
      ج: بلدیہ کے لئے یہ کام جائز ہے اور بڑی اور عمومی نہروں اور دریاؤں کی سطح کی ملکیت کے سلسلے میں کسی شخص کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔
       
      س ١٠۴۲: خانہ بدوشوں کو چراگاہوں کے تصرف کے سلسلے میں ہر قبیلے کو اپنی چراگاہ کی نسبت سے جو اولویت کا حق حاصل ہے، اگر وہ اس قصد سے کوچ کریں کہ دوبارہ اسی جگہ واپس لوٹ آئیں گے تو کیا وہ حق ختم ہوجاتا ہے؟ واضح رہے کہ یہ کوچ کرنا قدیم الایام سے رہا ہے اور دسیوں سال سے جاری ہے۔
      ج: انہیں اپنے چوپایوں کے لئے چراگاہ سے استفادہ کرنے کے سلسلے میں شرعی طور پر جو حق اولویت حاصل ہے وہاں سے کوچ کرنے کے بعد اس کا ثابت ہونا محل اشکال ہے اور اس سلسلہ میں احتیاط اچھا ہے۔
       
      س ١٠۴۳: ایک گاؤں میں چرا گاہ اور زرعی زمینوں کی سخت قلت ہے اس گاؤں کے عمومی اخراجات، چراگاہوں کے گھاس پھوس کو فروخت کر کے پورے کئے جاتے تھے اور یہ سلسلہ اسلامی انقلاب کے بعد آج تک جاری رہا ہے، لیکن اب ذمہ دار حضرات نے اس کام سے منع کر دیا ہے، گاؤں والوں کے مادی لحاظ سے فقیر اور نادار ہونے نیز چراگاہوں کے غیر آباد ہونے کے پیش نظر، کیا اس گاؤں کی انتظامی کمیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ گاؤں والوں کو چراگاہ کی گھاس بیچنے سے منع کر دے اور اس کو گاؤں کے عمومی اخراجات پورے کرنے کے لئے مختص کر دے؟
      ج: ان عمومی اور قدرتی چراگاہوں کے گھاس پھوس کو جو شرعی طور پر کسی کی ملکیت میں نہیں ہیں، فروخت کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے، لیکن جو شخص حکومت کی طرف سے گاؤں کے امور کا انچارج ہے وہ گاؤں کی فلاح و بہبود کے لئے ان لوگوں سے کچھ رقم وصول کرسکتاہے کہ جنہیں اس چراگاہ میں مویشی چَرانے کی اجازت ہے۔
       
      س ١٠۴۴: کیا خانہ بدوش سردیوں اور گرمیوں کی ان چراگاہوں کو، کہ جہاں وہ دسیوں سال سے آتے جاتے رہے ہیں، اپنی ملکیت بنا سکتے ہیں؟
      ج: ایسی قدرتی چراگاہیں جو کسی کی ذاتی ملکیت نہیں تھیں انفال اور عمومی اموال میں شامل ہیں اور ان کا اختیار ولی فقیہ کو حاصل ہے اور خانہ بدوشوں کے وہاں آنے جانے سے وہ ان کی ملکیت نہیں بن سکتیں۔
       
      س١٠۴۵: خانہ بدوشوں کی چراگاہوں کی خرید و فروخت کب صحیح ہے اور کب صحیح نہیں ہے؟
      ج: کسی صورت میں بھی ان غیر مملوکہ چراگاہوں کی خرید و فروخت صحیح نہیں ہے کہ جو انفال اور عمومی اموال کا جز ہیں۔
       
      س١٠۴۶: ہمارا کام مویشی پالنا ہے اور ہم اپنے مویشیوں کو ایک جنگل میں چراتے ہیں پچاس سال سے بھی زائد عرصہ سے ہمارا یہی پیشہ ہے اور ہمارے پاس ایک دستاویز(وثیقہ یا رجسٹری) موجود ہے جو بتاتی ہے کہ از راہ وراثت ہم اس جنگل کے شرعی مالک ہیں یہ دستاویزقانونی ہے اس کے علاوہ یہ جنگل حضرت امیر المومنین (ع)، حضرت سید الشہدا(ع) اور حضرت ابوالفضل العباس(ع) کے نام پر وقف ہے اور مویشیوں کے مالک سالہا سال سے اس جنگل میں زندگی بسر کررہے ہیں اور اس میں ان کے رہائشی گھر، زرعی زمینیں اور باغات ہیں، لیکن حال ہی میں محکمہ جنگلات والے ہمیں وہاں سے نکال کر اس پر خود قابض ہونا چاہتے ہیں تو کیا وہ ہمیں اس جنگل سے باہر نکالنے کا حق رکھتے ہیں؟
      ج: وقف کا صحیح ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ پہلے اس کی شرعی ملکیت ثابت ہو، جیسا کہ ارث کے ذریعہ سے اس جنگل کاآپ کو ملنا بھی اس بات پر موقوف ہے کہ وہ اس سے پہلے مُورِّث کی شرعی ملکیت میں ہو، لہذا وہ جنگل اور قدرتی چراگاہیں جو کسی کی ملکیت میں نہیں ہیں اور اس سے پہلے انہیں کسی نے آباد نہیں کیا ہے وہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں تا کہ ان کا وقف صحیح ہو یاوہ میراث قرار پائیں۔ بہر حال جنگل کا وہ حصہ جو کھیت یا رہائشی گھر و غیرہ کی صورت میں آباد ہے اور شرعی لحاظ سے ملکیت بن گیا ہے اگر وہ وقف ہو تو شرعی متولی کو اس میں تصرف کا حق ہے اور اگر وقف نہ ہو تو اس کے مالک کو اس میں تصرف کا حق ہے، لیکن جنگل و چراگاہ کا وہ حصہ جو قدرتی جنگل یا قدرتی چراگاہ کی صورت میں موجود ہے وہ انفال اورعمومی اموال میں سے ہے اور اس کا اختیار قانون کے مطابق، اسلامی حکومت کے پاس ہے۔
       
      س١٠۴۷: جن مویشی پیشہ لوگوں کو اپنے جانور چرانے کی اجازت ہے کیا وہ چراگاہ سے ملحق لوگوں کے ذاتی کھیتوں میں داخل ہو کر ان کے مالکوں کی اجازت کے بغیر خود اور اپنے مویشیوں کو وہاں سے سیراب کرسکتے ہیں؟
      ج: صرف چراگاہوں میں چرانے کی اجازت رکھنا، دوسرے اشخاص کی ملکیت والی چراگاہوں میں داخل ہونے اور ان کی ملکیت والے پانی سے استفادہ کے جواز کیلئے کافی نہیں ہے، لہذا مالک کی اجازت کے بغیر ان کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /