ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
      پرنٹ  ;  PDF
       
      ہبہ ، ہدیہ ، بینک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
       
      س٨۵۱:کیا ہبہ اور عید کے تحفے (عیدی) پر خمس واجب ہے؟
      ج: ہبہ اور ہدیہ پر خمس نہیں ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ ان میں سے جو کچھ سالانہ اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس نکالا جائے۔
       
      س٨۵۲: کیا بینکوں اور قرض الحسنہ دینے والے اداروں سے ملنے والے انعامات پر خمس واجب ہے یا نہیں؟
      ج: انعامات اور ہدایا پر خمس واجب نہیں ہے۔
       
      س ٨۵۳: شہداء کے گھرانوں کو جو رقم شہید فاونڈیشن سے ملتی ہے، اگر وہ ان کے سالانہ اخراجات سے زائد ہو تو اس میں خمس ہے یا نہیں؟
      ج: شہداء کے پسماندگان کو شہید فاونڈیشن کی طرف سے جو ہدیہ ملتا ہے اس میں خمس نہیں ہے۔
       
      س٨۵۴: وہ نان و نفقہ جو باپ یا بھائی یا قریبی رشتہ داروں کی جانب سے کسی کو دیا جاتا ہے کیا وہ ہدیہ شمار ہوگا یا نہیں؟ اور جب دینے والا اپنے اموال کا خمس نہ دیتا ہو تو کیا نفقہ لینے والے پر اس سے خمس نکالنا واجب ہے؟
      ج: ہبہ اور ہدیہ کا عنوان اس کے دینے والے کے ارادے کے تابع ہے اور مفروضہ صورت میں نفقہ لینے والے پر اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
       
      س٨٥۵: میں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں ، ایک رہائشی گھر دیا ہے، کیا اس پر خمس ہے یا نہیں؟
      ج: آپ نے اپنی بیٹی کو جو مکان دیا ہے اگر وہ عرف عام میں آپ کی حیثیت کے مطابق ہو اور سال خمسی کے دوران دیا ہو توآپ پر خمس واجب نہیں ہے۔
       
      س٨٥۶: کیا انسان کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے کسی مال پر سال گزرنے سے پہلے اسے اپنی بیوی کو ہدیہ کے طور پر دے دے جبکہ اسے علم ہے کہ اس کی زوجہ اس مال کو مستقبل میں گھر خریدنے یا ضروری اخراجات کے لئے رکھ دے گی؟
      ج: ہاں ایسا کرنا جائزہے اور جو کچھ اس نے اپنی زوجہ کو دیا ہے اگر وہ عرف عام میں اس جیسے شخص کی شان کے مطابق ہو اور یہ محض ظاہری بخشش اورخمس سے فرار کے لئے نہ ہو تو اس پر خمس نہیں ہے۔
       
      س٨٥۷: میاں بیوی خمس سے بچنے کیلئے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے ہی اپنے اموال کی سالانہ بچت کو ہدیہ کے طور پر ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ مہربانی کرکے ان کے خمس کا حکم بیان فرمائیں؟
      ج: ایسی بخشش سے کہ جوصرف ظاہری اور خمس سے فرار کیلئے ہے واجب خمس ساقط نہیں ہوگا۔
       
      س٨٥۸: ایک شخص نے مستحب حج بجا لانے کیلئے حج کے محمکے کے کھاتے میں اپنا پیسہ جمع کرایا، مگر خانہ خدا کی زیارت کے لئے جانے سے پہلے ہی وہ فوت ہوگیا تو اس جمع شدہ رقم کا کیا حکم ہے؟ کیا اس رقم کو مرنے والے کی نیابت میں حج کروانے پر صرف کرنا واجب ہے؟ نیز کیا اس رقم سے خمس نکالنا واجب ہے؟
      ج: جو رسید اس کو حج کے محکمے کے کھاتے میں جمع کی گئی رقم کے عوض ملی ہے اسے موجودہ قیمت کے ساتھ مرنے والے کے ترکے میں شمار کیا جائے گا اور اگر مرنے والے کے ذمہ حج واجب نہیں ہے اور نہ ہی ا س نے حج کی وصیت کی ہے تو اسے اس کی نیابت میں حج کرانے پر صرف کرنا واجب نہیں ہے اور اگر اس کا خمس ادا نہیں کیا گیا تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س٨٥۹: باپ کا باغ بیٹے کو ہبہ یا میراث میں ملا اور جس وقت وہ بیٹے کو ملا تھا اس وقت اس کی قیمت بہت زیادہ نہ تھی لیکن اب بیچتے وقت اس باغ کی قیمت سابقہ قیمت سے زیادہ ہے تو کیا قیمت کے بڑھ جانے کی وجہ سے جو زائد مال حاصل ہوا ہے اس میں خمس ہے؟
      ج: میراث و ہبہ اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت میں خمس واجب نہیں ہے اگرچہ ان کی قیمت بڑھ گئی ہو مگر جب اسے تجارت اور قیمت زیادہ ہونے کے قصد سے اپنے پاس رکھے تو اس صورت میں بیچنے کے بعد بنابر احتیاط واجب اس کی اضافی قیمت کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔
       
      س ٨۶۰: انشورنس کمپنی علاج معالجہ کے اخراجات کے سلسلے میں میری مقروض ہے اور طے ہوا ہے کہ آج کل میں وہ میرا قرض ادا کرے گی تو کیا انشورنس سے ملنے والی رقم میں خمس واجب ہے؟
      ج: اگر آپ نے آمدنی سے خرچ کیا ہو اور بعد میں بیمہ اسے واپس کر رہا ہو تو خمس واجب ہے۔
       
      س٨۶۱: کیا اس رقم پر خمس ہے جسے میں اپنی ماہانہ تنخواہ سے اس لئے بچا کر رکھتا ہوں کہ بعد میں اس سے شادی کے لوازمات مہیا کر سکوں؟
      ج: اگر خود وہی پیسہ آپ نے بچا رکھا ہے جو آپ کو تنخواہ کے طور پر ملتاہے تو آپ پر واجب ہے کہ سال پورا ہوتے ہی اس کا خمس ادا کریں، مگر یہ کہ آپ آنے والے چند دنوں میں اس رقم کو شادی کے لوازمات میں خرچ کرنا چاہیں۔
       
      س٨۶۲: کتاب"تحریرالوسیلہ" میں بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو دیئے جانے والے مہر پر خمس نہیں ہے؟ مگر فوری اداکئے جانے والے اور مدت والے مہر کے درمیان فرق نہیں کیا گیا ۔ امید ہے ا س مسئلہ کی وضاحت فرمائیں گے؟
      ج: مہر میں خمس کے واجب نہ ہونے کے سلسلے میں فوری اور مدت والے مہر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے نیز نقد رقم یا سامان میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔
       
      س ٨۶۳: حکومت اپنے ملازموں کو عید کے دنوں میں عیدی کے نام سے کچھ چیزیں دیتی ہے جس میں سے کبھی کبھی سال گزر جانے کے بعد کچھ بچ جاتاہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ملازمین کی عیدی پر خمس نہیں ہے لیکن چونکہ ہم لوگ ان چیزوں کے مقابلے میں کچھ رقم ادا کرتے ہیں، اسلئے اسے کامل طور پر ہدیہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ کم قیمت پر دیا جاتاہے تو کیا جس مال کے مقابلے میں رقم ادا کی گئی ہے اس کا خمس دینا واجب ہے یا اس چیز کی عام مارکیٹ میں جو قیمت ہے اس کا خمس دینا واجب ہے یا یہ کہ چونکہ یہ عیدی ہے لہذا اس میں خمس ہے ہی نہیں؟
      ج: چونکہ مذکورہ فرض میں در حقیقت کچھ مال حکومت کی طرف سے مفت دیا جاتاہے اور کچھ کے مقابلے میں رقم ادا کی جاتی ہے لہذا باقی بچ جانے والی چیزوں میں جس مقدار کے بدلے میں قیمت ادا کی ہے اسکی نسبت خمس واجب ہے ۔یا خود اس چیز میں سے خمس ادا کرے یا اسکی موجودہ قیمت کا خمس ادا کرے۔
       
      س٨۶۴: ایک شخص فوت ہوگیا ہے ا س نے اپنی زندگی میں اپنے ذمہ خمس کو اپنی ڈائری میں لکھ رکھا تھا اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر اس کی وفات کے بعد اس کی ایک بیٹی کے سوا تمام ورثاء خمس کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں ہیں اور میت کے ترکہ کو اپنے لئے، میت کے لئے اور اس کے علاوہ دیگر امور میں صرف کر رہے ہیں، لہذا درج ذیل مسائل میں آپ اپنی رائے بیان فرمائیں:
      ١۔ میت کے منقولہ یا غیر منقولہ اموال میں اس کے داماد یا کسی دوسرے وارث کے لئے تصرف کرنے کا کیا حکم ہے؟
      ٢۔ مرحوم کے گھر میں اس کے داماد یا کسی دوسرے وارث کے کھانا کھانے کاکیاحکم ہے؟
      ٣۔ مذکورہ افراد کی طرف سے میت کے اموال میں کیے گئے سابقہ تصرفات اور مرحوم کے گھر ان کے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟
      ج: اگر مرنے والے نے وصیت کی تھی کہ اس کے ترکہ سے کچھ مال بطور خمس ادا کیا جائے یا خود ورثاء کو یقیں ہو کہ مرنے والا کچھ مقدار خمس کا مقروض ہے تو اس وقت تک ان کو ترکہ میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے جب تک میت کی وصیت کے مطابق یا جو مقدار اس کے ذمہ خمس بنتا ہے، اس کو ترکہ سے ادا نہ کر دیں اور وصیت یا قرض کی مقدار میں ان (ورثائ) کے تمام وہ تصرفات جو اس کی وصیت پر عمل کرنے یا قرض کی ادائیگی سے پہلے ہوئے ہیں غصب کے حکم میں ہیں اور وہ (ورثائ)، اپنے سابقہ تصرفات کے سلسلے میں بھی ضامن ہیں۔
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /