دریافت:
استفتاآت کے جوابات
- تقلید
- احکام طهارت
- احکام نماز
- احکام روزہ
- خمس کے احکام
- ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
ہبہ ، ہدیہ ، بینک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
س851: کیا ہبہ اور عید کے ہدیے(عیدی) پر خمس لگتا ہے؟
ج: ہدیہ اور ہبہ پر خمس دینا واجب نہیں ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ اگر سال کے اخراجات سے زیادہ بچ جائے تو اس کا خمس ادا کیا جائے۔
س852: کیا بینکوں اور قرض الحسنہ دینے والے اداروں سے ملنے والے انعامات پر خمس واجب ہے یا نہیں؟
ج: انعامات اور ہدایا پر خمس واجب نہیں ہے۔
س 853: شہداء کے گھرانوں کو جو رقم شہید فاونڈیشن سے ملتی ہے، اگر وہ ان کے سالانہ اخراجات سے زائد ہو تو اس میں خمس ہے یا نہیں؟
ج: شہداء کے پسماندگان کو شہید فاونڈیشن کی طرف سے جو ہدیہ ملتا ہے اس میں خمس نہیں ہے۔
س854: وہ نان و نفقہ جو باپ یا بھائی یا قریبی رشتہ داروں کی جانب سے کسی کو دیا جاتا ہے کیا وہ ہدیہ شمار ہوگا یا نہیں؟ اور جب دینے والا اپنے اموال کا خمس نہ دیتا ہو تو کیا نفقہ لینے والے پر اس سے خمس نکالنا واجب ہے؟
ج: ہبہ اور ہدیہ کا عنوان اس کے دینے والے کے ارادے کے تابع ہے اور مفروضہ صورت میں نفقہ لینے والے پر اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
س855: میں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں ، ایک رہائشی گھر دیا ہے، کیا اس پر خمس ہے یا نہیں؟
ج: آپ نے اپنی بیٹی کو جو مکان دیا ہے اگر وہ عرف عام میں آپ کی حیثیت کے مطابق ہو اور سال خمسی کے دوران دیا ہو توآپ پر خمس واجب نہیں ہے۔
856: ہاں ایسا کرنا جائزہے اور جو کچھ اس نے اپنی بیوی کو دیا ہے اگر وہ عرف عام میں اس جیسے شخص کی شان کے مطابق ہو اور یہ محض ظاہری بخشش اورخمس سے فرار کے لئے نہ ہو تو اس پر خمس نہیں ہے۔
ج: ہاں ایسا کرنا جائزہے اور جو کچھ اس نے اپنی زوجہ کو دیا ہے اگر وہ عرف عام میں اس جیسے شخص کی شان کے مطابق ہو اور یہ محض ظاہری بخشش اورخمس سے فرار کے لئے نہ ہو تو اس پر خمس نہیں ہے۔
س857: میاں بیوی خمس سے بچنے کیلئے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے ہی اپنے اموال کی سالانہ بچت کو ہدیہ کے طور پر ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ مہربانی کرکے ان کے خمس کا حکم بیان فرمائیں؟
ج: ایسی بخشش سے کہ جوصرف ظاہری اور خمس سے فرار کیلئے ہے واجب خمس ساقط نہیں ہوگا۔
س858: ایک شخص نے مستحب حج بجا لانے کیلئے حج کے محمکے کے کھاتے میں اپنا پیسہ جمع کرایا، مگر خانہ خدا کی زیارت کے لئے جانے سے پہلے ہی وہ فوت ہوگیا تو اس جمع شدہ رقم کا کیا حکم ہے؟ کیا اس رقم کو مرنے والے کی نیابت میں حج کروانے پر صرف کرنا واجب ہے؟ نیز کیا اس رقم سے خمس نکالنا واجب ہے؟
ج: جو رسید اس کو حج کے محکمے کے کھاتے میں جمع کی گئی رقم کے عوض ملی ہے اسے موجودہ قیمت کے ساتھ مرنے والے کے ترکے میں شمار کیا جائے گا اور اگر مرنے والے کے ذمہ حج واجب نہیں ہے اور نہ ہی ا س نے حج کی وصیت کی ہے تو اسے اس کی نیابت میں حج کرانے پر صرف کرنا واجب نہیں ہے اور اگر اس کا خمس ادا نہیں کیا گیا تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔
س859: باپ کا باغ بیٹے کو ہبہ یا میراث میں ملا اور جس وقت وہ بیٹے کو ملا تھا اس وقت اس کی قیمت بہت زیادہ نہ تھی لیکن اب بیچتے وقت اس باغ کی قیمت سابقہ قیمت سے زیادہ ہے تو کیا قیمت کے بڑھ جانے کی وجہ سے جو زائد مال حاصل ہوا ہے اس میں خمس ہے؟
ج: میراث و ہبہ اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت میں خمس واجب نہیں ہے اگرچہ ان کی قیمت بڑھ گئی ہو مگر جب اسے تجارت اور قیمت زیادہ ہونے کے قصد سے اپنے پاس رکھے تو اس صورت میں بیچنے کے بعد (اور خمسی سال کے آخر میں افراط زر کی رقم کو منہا کرکے) احتیاط واجب کی بنا پر اس کی اضافی قیمت کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔
س 860: انشورنس کمپنی علاج معالجہ کے اخراجات کے سلسلے میں میری مقروض ہے اور طے ہوا ہے کہ آج کل میں وہ میرا قرض ادا کرے گی تو کیا انشورنس سے ملنے والی رقم میں خمس واجب ہے؟
ج: وہ رقم جو علاج وغیرہ کے لئے انسان اپنی کمائی سے ادا کرتا ہے اور بعد میں مثلاً بیمہ کا ادارہ اس رقم کو واپس کرتا ہے، نئی کمائی شمار نہیں ہوگی بلکہ انسان کو اپنے وہی پیسے واپس ملتے ہیں کہ اگر خمس کا سال پورا ہونے تک زندگی کے اخراجات کے ضمن میں خرچ نہ ہوں تو ان پر خمس ہو گا لیکن اگر یہ پیسہ خمس کا سال گزرنے کے بعد واپس ملے تو فوراً اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔
س861: کیا اس رقم پر خمس ہے جسے میں اپنی ماہانہ تنخواہ سے اس لئے بچا کر رکھتا ہوں کہ بعد میں اس سے شادی کے لوازمات مہیا کر سکوں؟
ج: اگر خود وہی پیسہ آپ نے بچا رکھا ہے جو آپ کو تنخواہ کے طور پر ملتاہے تو آپ پر واجب ہے کہ سال پورا ہوتے ہی اس کا خمس ادا کریں، مگر یہ کہ آپ آنے والے چند دنوں میں اس رقم کو شادی کے لوازمات میں خرچ کرنا چاہیں۔
س862: کتاب"تحریرالوسیلہ" میں بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو دیئے جانے والے مہر پر خمس نہیں ہے؟ مگر فوری اداکئے جانے والے اور مدت والے مہر کے درمیان فرق نہیں کیا گیا ۔ امید ہے ا س مسئلہ کی وضاحت فرمائیں گے؟
ج: مہر میں خمس کے واجب نہ ہونے کے سلسلے میں فوری اور مدت والے مہر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے نیز نقد رقم یا سامان میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔
س 863: حکومت اپنے ملازموں کو عید کے دنوں میں عیدی کے نام سے کچھ چیزیں دیتی ہے جس میں سے کبھی کبھی سال گزر جانے کے بعد کچھ بچ جاتاہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ملازمین کی عیدی پر خمس نہیں ہے لیکن چونکہ ہم لوگ ان چیزوں کے مقابلے میں کچھ رقم ادا کرتے ہیں، اسلئے اسے کامل طور پر ہدیہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ کم قیمت پر دیا جاتاہے تو کیا جس مال کے مقابلے میں رقم ادا کی گئی ہے اس کا خمس دینا واجب ہے یا اس چیز کی عام مارکیٹ میں جو قیمت ہے اس کا خمس دینا واجب ہے یا یہ کہ چونکہ یہ عیدی ہے لہذا اس میں خمس ہے ہی نہیں؟
ج: چونکہ مذکورہ فرض میں در حقیقت کچھ مال حکومت کی طرف سے ملازم کو مفت دیا جاتاہے اور کچھ کے مقابلے میں رقم ادا کی جاتی ہے لہذا باقی بچ جانے والی چیزیں حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی کے برابر ہو تو ان پر خمس نہیں ہے لیکن اگر حکومت کی طرف سے مفت ملنے والی چیز سے زیادہ ہوتو اس اضافی مقدار پر موجودہ قیمت کے مطابق خمس ہوگا۔
س864: ایک شخص فوت ہوگیا ہے ا س نے اپنی زندگی میں اپنے ذمہ خمس کو اپنی ڈائری میں لکھ رکھا تھا اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر اس کی وفات کے بعد اس کی ایک بیٹی کے سوا تمام ورثاء خمس کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں ہیں اور میت کے ترکہ کو اپنے لئے، میت کے لئے اور اس کے علاوہ دیگر امور میں صرف کر رہے ہیں، لہذا درج ذیل مسائل میں آپ اپنی رائے بیان فرمائیں:
١۔ میت کے منقولہ یا غیر منقولہ اموال میں اس کے داماد یا کسی دوسرے وارث کے لئے تصرف کرنے کا کیا حکم ہے؟
٢۔ مرحوم کے گھر میں اس کے داماد یا کسی دوسرے وارث کے کھانا کھانے کاکیاحکم ہے؟
٣۔ مذکورہ افراد کی طرف سے میت کے اموال میں کیے گئے سابقہ تصرفات اور مرحوم کے گھر ان کے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ج: اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو کہ اس کے ترکہ سے کچھ مال بطور خمس ادا کیا جائے یا خود ورثاء کو یقین ہو کہ مرنے والا کچھ مقدار خمس کا مقروض ہے تو جب تک میت کی وصیت پر عمل نہ کیا جائے یا میت کے ذمے واجب خمس کو اس کے ترکے سے ادا نہ کریں، اس وقت تک ان کو ترکہ میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ خمس ادا کرنے اور کسی سستی کے بغیر وصیت پر عمل کرنے کا مصمم عزم رکھتے ہوں۔ اور وصیت یا قرض کی مقدار میں ان (ورثاء) کے تمام وہ تصرفات جو اس کی وصیت پر عمل کرنے یا قرض کی ادائیگی سے پہلے ہوئے ہیں غصب کے حکم میں ہیں اور وہ (ورثاء)، اپنے سابقہ تصرفات کے سلسلے میں بھی ضامن ہیں۔
- قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
س 865: وہ ملازمین جن کے پاس کبھی سالانہ اخراجات سے کچھ بچ جاتا ہے، کیا ان پر خمس واجب ہے جبکہ وہ لوگ یکمشت یا قسطوں کے ساتھ ادائیگی کی شرط پر مقروض بھی ہیں؟
ج: اگر وہ قرض سال کے دوران خود اسی سال کے اخراجات کے لئے لیا گیا ہو یا اس سال کی بعض ضروری اشیاء کے ادھار پر خریدنے کے لئے ہو چنانچہ پیسہ خرچ کرنے کے دوران یا ادھار پر خریدنے کے وقت اتنی کمائی تھی توقرض کی مقدار سالانہ بچت سے نکال لی جائے گی اور چنانچہ اس کے بعد کمائی حاصل ہوئی ہو تو احتیاط واجب کی بناپر کٹوتی نہیں ہوگی ۔
س 866: کیا حج تمتع کی غرض سے لئے گئے قرض میں خمس واجب ہے اس طرح کہ خمس نکالنے کے بعد جو رقم بچ جائے اسے حج پر خرچ کیا جائے؟
ج: جو مال قرض کے طور پر لیا گیا ہو اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
س 867: میں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی کو اس امید پر کچھ رقم دی ہے کہ وہ زمین کا ٹکڑا لے کر میرے رہنے کے لئے مکان مہیا کرے گی، لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں مجھے زمین دیئے جانے کا حکم جاری نہیں ہوا ہے۔ لہذا اب میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اپنی دی ہوئی رقم واپس لے لوں۔ واضح رہے کہ کل رقم کا کچھ حصہ تو میں نے قرض لے کر دیا تھا اور کچھ حصہ گھر کے قالین بیچ کر دیا تھا اور باقی میں نے اپنی بیوی کی تنخواہ سے جمع کیا تھا کہ جو ٹیچر ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل دو سوالوں کا جواب عنایت فرمائیں :
١۔ اگر میں اپنی رقم واپس لے کر اسے صرف مکان یا زمین خریدنے میں صرف کروں تو کیا اس میں خمس واجب ہے؟
٢۔ اس رقم میں جو خمس واجب ہے اس کی مقدار کیا ہوگی؟ج: مذکورہ فرض میں چونکہ رقم ہدیے یا قرض اور یا ضروریات زندگی بیچ کر مہیا کی گئی ہے اسلئے اس میں خمس نہیں ہے۔
س868: چند سال قبل میں نے بینک سے قرض لیا اور اس کو اپنے اکاؤنٹ میں ایک سال کے لئے رکھ دیا، لیکن اس سے کوئی استفادہ کئے بغیرہر مہینہ اس کی قسط ادا کر رہا ہوں تو کیا اس قرض میں خمس ہے؟
ج: قرض لئے ہوئے مال کی اسی مقدار میں سے خمس نکالنا واجب ہے کہ جس کی قسطیں آپ نے خمس کی سالانہ تاریخ تک اپنی کمائی کے منافع سے ادا کی ہیں۔
س 869: میں گھر کی تعمیر کی خاطر کچھ مقروض ہو گیا ہوں اور یہ قرض بارہ سال تک چلے گا براہ مہربانی خمس کے سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں کیا یہ قرض سال کی بچت سے مستثنیٰ ہوگا؟
گھر کی تعمیر و غیرہ کیلئے لئے گئے قرض کی اقساط کہ جن کا تعلق گذشتہ سال سے ہے اگرچہ دوران سال کی بچت سے ادا کی جاسکتی ہیں لیکن اگر ادا نہ کرے تو سال کی بچت سے مستثنی نہیں ہو گی بلکہ خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے پر باقی ماندہ بچت میں خمس ہوگا۔
س 870: طالب علم نے جو کتابیں والد کے پیسوں یا کالج کی طرف سے ملنے والے قرض سے خریدی ہیں اور طالب علم کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہیں ہے تو کیا ان میں خمس واجب ہے؟ اور اگر یہ معلوم ہو کہ باپ نے کتابوں کے پیسوں کا خمس ادا نہیں کیا ، تو کیا اس کا خمس دینا واجب ہو گا؟
ج: قرض یا باپ کی طرف سے ہدیہ کے طور پر دی گئی رقم سے خریدی گئی کتابوں میں خمس نہیں ہے۔
س871: جب کوئی شخص کچھ مال قرض کے طور پر لے اور سال سے پہلے اسے ادا نہ کر سکے تو کیا اس قرض کا خمس، لینے والے پر ہے یا دینے والے پر؟
ج: مقروض پر قرض کا خمس نہیں ہے، مگر یہ کہ سال کی کمائی سے کچھ اقساط ادا کی جائیں اور وہ رقم باقی ہو یا سرمایے میں بدل گئی ہو؛ لیکن قرض دینے والے نے اگر اسے اپنی سالانہ آمدنی سے اور اس کا خمس ادا کرنے سے پہلے بطور قرض دیا ہو تو اگر وہ سال کے تمام ہونے تک قرض واپس لے سکے توخمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس بھی واجب ہے ، لیکن اگر وہ سال کے آخر تک وصول نہ کر سکے تو فی الحال اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے لیکن جب بھی اسے واپس لے فورا ً اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س 872: ریٹائرڈ افراد کو ماہ بہ ماہ جو پنشن ملتی ہے کیا اس میں خمس ہے ؟
ج: سالانہ اخراجات سے بچ جانے کی صورت میں خمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس واجب ہے۔
س 873: اسراء کے والدین کو انکی اسارت کے دوران جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے جو ماہانہ وظیفہ ملتاہے اور بینک میں جمع ہوتارہتاہے کیا اس میں خمس ہے؟
ج: مذکورہ مال میں خمس نہیں ہے۔
س 874: مجھ پر کچھ قرض ہے۔ اب جبکہ سال پورا ہو چکا ہے اور قرض خواہ نے مطالبہ نہیں کیا اور سالانہ بچت بھی میرے پاس اتنی ہے کہ قرض واپس کر سکتا ہوں ، تو کیا میں قرض کی رقم کو سالانہ بچت میں سے نکال سکتا ہوں؟
ج: انسان چاہے رقم قرض لینے کی وجہ سے مقروض ہو یا ضروریات زندگی کو ادھار پر خریدنے کی وجہ سے، اسی سال کے لئے ہو یا گذشتہ سالوں کے لئے؛ چنانچہ اگر اس کو سال کے تمام ہونے تک ادا نہ کرے تو سالانہ آمدنی سے اس کو استثناء نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ قرض لئے ہوئے مال کو زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خرچ کرتے وقت اتنی کمائی تھی تو منہا کیا جائے گا۔
س 875: جس کے سالانہ حساب میں کچھ مال بچ گیا ہو تو کیا اس پر خمس واجب ہے جبکہ اس کے خمس کی سالانہ تاریخ آچکی ہو اور وہ مقروض ہو، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ قرض ادا کرنے کیلئے اس کے پاس چند سال کی مہلت ہے؟
ج: جو قرض ادا نہیں کیا گیا چاہے وہ مدت والا ہو یا نہ ہو، اسے سالانہ آمدنی سے نہیں نکالا جا سکتا؛ ہاں اگر قرض کا مال ضروریاتِ زندگی میں خرچ کرتے وقت کمائی بھی موجود ہو تو اس صورت میں اس مقدار کو منہا کیا جائے گا۔
س 876: انشورنس کمپنیاں، انشورنس کرانے والوں کے نقصان کی تلافی کیلئے معاہدے کے مطابق جو رقم دیتی ہیں، کیا اس پر خمس ہے؟
ج: بیمہ کمپنیاں نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے بیمہ کرنے والے کو جو پیسہ دیتی ہیں مثلاً گاڑی ، آتش سوزی،ذرعی محصولات کا بیمہ کمائی کا حصہ شمار ہوگا چنانچہ خمس کی تاریخ تک زندگی کی ضروریات میں خرچ نہ کیا جائے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س 877: گزشتہ سال میں نے کچھ رقم قرض لے کر اس امید پر زمین خریدی کہ اس کی قیمت بڑھ جانے کے بعد، میں اس زمین اور اپنے موجودہ گھر کو بیچ کر آئندہ کیلئے اپنی رہائش کی مشکل کو حل کر سکوں گا۔ اور اب جبکہ میرے خمس کی سالانہ تاریخ آن پہنچی ہے میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اسے گزشتہ سال کی بچت سے نکال سکتا ہوں یا نہیں ؟
ج: چونکہ قرض کے مال سے زمین اسلئے خریدی گئی تھی کہ اسے مستقبل میں بیچا جا سکے، لہذا جس سال قرض لیا گیا ہے اس سال کی بچت میں سے اسے جدا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سالانہ بچت کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س 878: میں نے بینک سے کچھ قرض لیا تھا جس کے ادا کرنے کا وقت میرے خمس کی سالانہ تاریخ کے بعد آئے گا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اس سال میں نے یہ قرض ادا نہ کیا تو آئندہ سال ادا نہیں کرسکوں گا، لہذا خمس کی تاریخ آنے پراس کی ادائیگی کے بارے میں میری کیا ذمہ داری ہے؟
ج: اگر سال ختم ہونے سے پہلے اپنی سالانہ بچت کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کر دیا ہو اور وہ قرض بھی اصل سرمایہ کو زیادہ کرنے کے لئے نہ لیا گیا ہوتو اس پر خمس نہیں ہے، لیکن اگر قرض اصل سرمایہ میں اضافہ کرنے کے لئے ہو یاسالانہ بچت کو ذخیرہ کرنے کا ارادہ ہو تو آپ پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س 879: گھر کرایہ پر لینے کیلئے عام طور پر کچھ رقم پیشگی (ایڈوانس) دی جاتی ہے اگر یہ رقم کما کر حاصل کی گئی ہو اور کئی سال تک مالک مکان کے پاس رہے توکیا واپس لینے پر فوراً اس کا خمس نکالنا واجب ہے؟ اور اگر اسی رقم سے دوسرا گھر کرایہ پر لینے کا ارادہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟
ج: اس میں خمس واجب ہے لیکن اگر گھر کرائے پر لینے کیلئے اس رقم کی ضرورت ہو تو ضرورت پوری ہونے تک خمس کی ادائیگی میں تاخیر کرسکتا ہے۔
- گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
س 880: جو گھر ماضی میں غیر مخمس مال سے تعمیر کیا گیا ہے کیا اس پر خمس ہے؟ اگر خمس واجب ہے تو کیا موجودہ قیمت کو مد نظر رکھ کر خمس نکالا جائے گا یا جس سال اسے تعمیر کیا گیا ہے اس سال کی قیمت کے مطابق؟
ج: اگر گھرکو دوران سال کی کمائی سے اور اپنی رہائش کیلئے تعمیر کیا گیا ہو تو اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر ایسی کمائی سے تعمیر کیا گیا ہو کہ جس پر سال گزر چکا تھا تو خمس کے پہلے سال کی ابتدا میں اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے اور اگر پیسے کی قدر میں کمی آئی ہو تو افراط زر کو بھی ادا کرنا ہوگا؛ اگر افراط زر کی مقدار کے بارے میں معلوم نہ ہوتو حاکم شرع کے ساتھ مصالحت کرنا ہوگی۔
س881: کچھ عرصہ قبل میں نے اپنا رہائشی فلیٹ بیچ دیا ہے اور یہ معاملہ، میری خمس کی سالانہ تاریخ آنے کے ساتھ ہی انجام پایا تھا اور چونکہ میں اپنے آپ کو حقوق شرعیہ کی ادائیگی کا پابند سمجھتا ہوں، اس لئے اپنے خاص حالات کی وجہ سے مشکل سے دوچار ہوں۔ گزارش ہے اس مسئلہ میں میری راہنمائی فرمائیں۔
ج: جس گھر کو آپ نے بیچا ہے، اگر وہ ایسے مال سے خریدا گیا ہو جس میں خمس واجب نہیں تھا یا اسے دوران سال کی منفعت سے خریدا گیا تھا تو بیچنے پر کسی صورت میں اس میں خمس نہیں ہے۔
س 882: ایک شہر میں میرانصف تعمیر شدہ مکان ہے اور چونکہ میرے پاس رہائش کیلئے سرکاری مکان ہے اسلئے مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لہذا میں اس کو بیچ کر اس سے اپنی ضرورت کے لئے ایک گاڑی خریدنا چاہتا ہوں، کیا اس کی قیمت میں سے خمس نکالنا ہو گا؟
ج: اگر آپ نے وہ گھر سالانہ منفعت سے اور دوران سال میں اپنی رہائش کیلئے تعمیر کیا ہو یا خریدا ہو اور اسی سال میں اسے بیچ دیا ہو تو بیچنے کی صورت میں اگر اس کی قیمت اسی فروخت والے سال کے اخراجات میں خرچ ہو جائے تو اس میں خمس نہیں ہے اسی طرح اگر اگلے سال اسے بیچ دیا ہو تو اس کی قیمت فروخت میں خمس نہیں ہے۔
س 883: میں نے اپنے گھر کے لئے پروفائل (دھات)کے چند دروازے خریدے تھے، لیکن عدم تمایل کی بنا پر دو سال کے بعد انہیں بیچ دیا اور اس کی قیمت کو ایلومینیم (Aluminium) کی کمپنی کے کھاتے میں جمع کرادیا تھا تاکہ اسی قیمت کے بدلے وہ میرے لئے ایلومینیم کے دروازے تیار کردیں کیا اس قیمت میں خمس ہے؟
ج: مذکورہ فرض میں چونکہ ان سے استفادہ نہیں کیا گیا اس لئے ان کی قیمت میں خمس واجب ہے۔
س 884: میں نے ایک ادارے کو ایک لاکھ تومان رہائشی پلاٹ کے لئے دیئے تھے اور اب اس رقم پر سال تمام ہو چکا ہے، صورت حال یہ ہے کہ اس رقم کا کچھ حصہ میرا اپنا ہے اور کچھ حصہ میں نے قرض پر لیا تھا کہ جس میں سے کچھ ادا کر چکا ہوں تو کیا اس میں خمس ہے اور اگر ہے تو کتنا ہے؟
ج: اگر ضرورت کی بنا پر گھر بنانے کے لئے پلاٹ کی خریداری اس بات پر موقوف ہے کہ کچھ رقم پہلے ادا کی جائے تو اس مقصد کے لئے دی ہوئی قیمت میں آپ پر خمس نہیں ہے، چاہے آپ نے اس کو اپنے سالانہ منافع سے ہی ادا کیا ہو۔
س 885: اگر کوئی شخص اپنا گھر بیچ کر اس کی منفعت سے فائدہ اٹھانے کیلئے اسے بینک میں جمع کر ا دے، پھر خمس کی تاریخ آ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس مال کو اس نے گھر خریدنے کے لئے جمع کرادیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر گھر کو سال کے دوران اسی سال کے منافع سے اور اخراجات کے طور پر اپنی رہائش کے لئے بنوایا یا خریدا ہو اور خمس کی تاریخ کے بعد اسے بیچ دیا ہو تو اس کی قیمت میں خمس نہیں ہے۔
س 886: جو اموال انسان ، گھر یا دیگر ضروریات زندگی خریدنے کیلئے تدریجا جمع کرتا ہے کیا ان میں خمس ہے؟
ج: انسان کی مالی حیثیت کے مطابق اگر ضروریات زندگی کی خریداری سالانہ بچت کے ذخیرہ کرنے پر موقوف ہو اور پروگرام یہ ہو کہ مستقبل قریب مثلا دو تین ماہ میں اس جمع شدہ رقم کو ضروریات زندگی کے خریدنے پر خرچ کردے گا تو خمس نہیں ہے۔
س887: میں نے چند سال پہلے ایک گاڑی خریدی تھی جسے اب کئی گنا قیمت پر بیچا جا سکتا ہے جبکہ جس رقم سے اس کو خریدا تھا وہ غیر مخمس تھی اور اب جو قیمت مل رہی ہے اس سے میں رہائش کے لئے گھر خریدنا چاہتا ہوں، تو کیا قیمت وصول ہوتے ہی اس تمام رقم پر خمس واجب ہو گا؟ یا جتنی رقم سے گاڑی خریدی تھی صرف اسی میں خمس ہے؟ اور بقایا رقم جو گاڑی کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملی ہے، اس کو گاڑی بیچنے والے سال کے منافع میں سے حساب کیا جائے گا کہ اگر اسے سال تمام ہونے تک خرچ نہ کیا تو اس کا خمس نکالنا ہوگا؟
ج: اگر گاڑی آپ کی ضروریات زندگی میں سے ہو اور اسے دوران سال کی آمدنی سے اپنے ذاتی استعمال کیلئے خریدا ہو تو اس کی قیمت فروخت میں خمس نہیں ہے لیکن اگر گاڑی کمائی کے لئے خریدی ہو تو خمس کے پہلے سال کی ابتدا میں اس کی قیمت پر خمس آپ کے ذمے ہوگا اور پیسے کی قیمت میں آنے والی گراوٹ کو حساب کرنا ضروری ہے لیکن بعد والے سالوں میں قیمت میں ہونے والا اضافہ افراط زر کی مقدار کٹوتی کرنے کے بعد فروخت کرنے والے سال کی کمائی شمار کیا جائے گا۔
س 888: میں ایک بہت ہی معمولی سے مکان کا مالک تھا۔ چند وجوہات کی بناء پر دوسرا گھر خریدنے کا ارادہ کر لیا، لیکن مقروض ہونے کی وجہ سے اپنے استعمال کی گاڑی کو بیچنے اور صوبائی بینک اور اپنے شہر کی قرض الحسنہ سوسائٹی سے قرض لینے پر مجبور ہو گیا تا کہ گھر کی قیمت ادا کرسکوں۔ واضح رہے کہ گاڑی خمس کی تاریخ آنے سے قبل بیچ دی گئی تھی اور جو قیمت ملی اسے میں نے اپنے قرض کی کچھ مقدار کی ادائیگی میں خرچ کردیاتو کیا گاڑی کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت میں خمس ہے یا نہیں؟
ج: اگر سال کے دوران ہونے والی کمائی سے گاڑی خریدے اور خمسی سال کے بعد بیچ دیا گیا ہوتو گاڑی کی قیمت فروخت پر خمس نہیں ہے۔
س 889: گھر، گاڑی یا دوسری وہ چیزیں جن کی انسان کو یا اس کے گھر والوں کو ضرورت پڑتی ہے اور انہیں وہ سالانہ منافع سے خریدتاہے اب اگر ان کو کسی ضرورت کی بناء پر یا اس سے بہتر خریدنے کے لئے بیچا جائے تو ان کے بارے میں خمس کا کیا حکم ہے؟
ج: ضروریات زندگی کی کوئی چیز بیچنے کی صورت میں اسکی قیمت میں خمس نہیں ہے۔
س 890: گھر، گاڑی یا ان جیسی دیگر ضرورت کی چیزیں اگر خمس نکالے ہوئے مال سے خریدی جائیں، لیکن فروخت یا تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی استعمال کی نیت سے اور بعد میں کسی وجہ سے ان کو بیچ دیا جائے تو کیا بازار میں قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے جو اضافی قیمت وصول ہوتی ہے اس میں خمس ہے؟
ج: مفروضہ صورت میں قیمت بڑھنے سے جو منفت حاصل ہوئی ہے، اس میں خمس نہیں ہے۔
- دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
س891: جو لوگ اپنی ذاتی زمین میں کوئی خزانہ پاتے ہیں اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: ایسی چیزوں میں معیار جمہوری اسلامی ایران کے قوانین ہیں۔
س 892: اگر انسان کو ذاتی گھر کی زمین کے نیچے سے چاندی کے ایسے سکے ملیں جنکی تاریخ تقریباً سو سال پہلے کی ہے تو کیا یہ سکے عمارت کے موجودہ مالک، جیسے قانونی وارث یا خریدار ،کی ملکیت ہوں گے یا نہیں؟
ج: اس کا حکم دفینہ والا ہے کہ جس کا بیان گزر چکا ہے۔
س893: ہم ایک شبہ میں مبتلا ہیں اور وہ یہ کہ موجودہ دور میں بھی کانوں سے نکالی گئی معدنیات کا خمس نکالنا واجب ہے کیونکہ فقہاء عظام کے نزدیک یہ مسئلہ مسلم احکام میں سے ہے اب جو معدنیات حکومت نکالتی ہے ۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حکومت کی جانب سے صرف اسے اسلامی ممالک کے مسلمانوں پر خرچ کرنا وجوب خمس سے مانع نہیں بن سکتا۔ انکا حکم کیا ہے کیونکہ ان معدنیات کو یا تو خود حکومت مستقل طور پر نکالتی ہے اور پھر اسے لوگوں پر خرچ کرتی ہے تو اس صورت میں حکومت اس شخص کی مانند ہے جو معدنیات کو نکالنے کے بعد ان کو تحفہ، ہبہ یا صدقہ کے طور پر کسی دوسرے شخص کو دیدے بہرحال ادلہ خمس کا اطلاق اس صورت کو بھی شامل ہے کیونکہ تقیید کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یا پھر حکومت ملت کی وکیل کے طور پر معادن کو نکالتی ہے، کہ اس صورت میں در حقیقت نکالنے والے خود عوام ہیں اور اس صورت میں خود مؤکل پر خمس نکالنا واجب ہے یا حکومت عوام کے سرپرست اور ولی ہونے کی حیثیت سے معادن نکالتی ہے کہ اس صورت میں معادن نکالنے والا یا تو خود ولی و سرپرست ہے، یا وہ نائب کی طرح ہو گا اور اصل نکالنے والا وہ ہو گا جس پر اس کو ولایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ بہر صورت معدنیات کے عموماتِ خمس سے خارج ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ جیسا کہ معدنیات اگر نصاب تک پہنچ جائیں تو ان پر خمس واجب ہوتا ہے اور یہ دیگرمنافع کے مانند نہیں ہیں کہ اگر ان کو خرچ کردیاجائے یا ہبہ کے طور پر دے دیا جائے تو وہ سال کے اخراجات میں شمار ہوں گے اور خمس سے مستثنیٰ ہوجائیں گے۔ لہذا اس اہم مسئلہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: معادن میں خمس کے واجب ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ اس کو کوئی شخص یا کئی لوگ مل کر نکالیں، بشرطیکہ ان میں سے ہر ایک کا حصہ حد نصاب تک پہنچ جائے، وہ بھی اس طرح کہ جو کچھ وہ نکالیں وہ ان کی ملکیت ہو اور وہ معدنیات جن کو حکومت نکالتی ہے چونکہ وہ کسی خاص شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک اتھارٹی اور جہت کی ملکیت ہیں اس لئے ان میں وجوب خمس کی شرط ہی نہیں پائی جاتی، لہذا حکومت پر خمس کے واجب ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے، اور یہ معدن میں خمس کے واجب ہونے سے استثناء نہیں ہے۔ ہاں وہ معدنیات جن کو ایک شخص یا چند اشخاص مل کر نکالتے ہیں ان پر اس میں سے خمس نکالنا واجب ہے، بشرطیکہ جوکچھ اس شخص نے نکالا ہے وہ یا چند اشخاص میں سے ہر ایک کا حصہ، معدنیات نکلوانے اور اسے صاف کروانے کے اخراجات کو جدا کرنے کے بعد ٢٠ دینا ر سونے کی قیمت کے برابر ہو۔
س 894: اگر حرام مال کسی شخص کے مال سے مخلوط ہو جائے تو اس مال کا کیا حکم ہے اور اس کے حلال کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ اور حرمت کے علم یا عدم علم کی صورت میں اس کو کیا کرنا چاہیے؟
ج: جب یہ یقین ہو کہ اس کے مال میں حرام مال ملا ہوا ہے، لیکن اس کی دقیق مقدار معلوم نہ ہو اور صاحب مال کو بھی نہ جانتا ہو تو اس کے حلال بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا خمس نکال دے، لیکن اگر اسے اپنے اموال میں حرام مال کے مل جانے کا شک ہو تو اس کے ذمہ کوئی چیزنہیں ہے۔
س 895: میں نے خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے سے قبل ایک شخص کو کچھ رقم بطور قرض دی اور وہ شخص اس مال سے تجارت کی نیت رکھتا ہے اور اسکی منافع ہمارے درمیان نصف نصف[1] تقسیم ہوگی۔ واضح رہے کہ وہ مال فی الحال میرے پاس نہیں ہے اور میں نے اس کا خمس بھی ادا نہیں کیا اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: اگر آپ نے مال قرض کے عنوان سے دیا ہے اور خمس کی سالانہ تاریخ آنے پر اس کا وصول کرنا ممکن نہ ہو تو ابھی آپ پر اس کا خمس واجب نہیں ہے بلکہ جب آپ کو یہ مال واپس ملے گا تب آپ پر اس کا خمس واجب ہوگا، لیکن اس صورت میں مقروض کے کام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع میں آپ کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر آپ اس کا مطالبہ کریں گے تو وہ سود اور حرام ہوگا اور اگر آپ نے اس رقم کو مضاربہ کے عنوان سے دیا ہے تو معاہدہ کے مطابق منافع میں آپ دونوں شریک ہوں گے اور چونکہ سرمایہ شمار ہوگا لہذا پورے پیسے کا خمس ادا کریں مگر اس صورت میں کہ خمس ادا کرنے کی صورت میں باقی بچنے والے پیسوں سے اپنے عرفی مقام اور سماجی حیثیت کے مطابق زندگی کے اخراجات پورے نہ کرسکیں۔
س 896: میں بینک میں ملازم ہوں اور اس ملازمت کیلئے مجھے جبری طور پر پانچ لاکھ تومان بینک میں جمع کرانے پڑے یہ رقم میرے ہی نام سے ایک طویل مدت اکاونٹ میں رکھی گئی ہے اورمجھے ہرماہ اس کا نفع دیا جارہا ہے تو کیا اس رقم میں میرے اوپر خمس ہے؟واضح رہے کہ بینک میں رکھی ہوئی اس رقم کو چار سال ہورہے ہیں؟
ج: اگر فی الحال اس رقم کا واپس لینا آپ کیلئے ممکن نہیں ہے تو جب تک آپ نے اسے وصول نہیں کیا اس کا خمس واجب نہیں ہے لیکن اسکی سالانہ منفعت اگر سال کے اخراجات سے بچ جائے تو اس میں خمس ہے۔
س897: یہاں بینکوں میں رقوم رکھنے کا ایک خاص طریقہ ہے کہ جس کی وجہ سے استفادہ کرنے والوں کی کبھی بھی ان پیسوں تک دسترسی نہیں ہوتی لیکن انہیں ایک خاص نمبر کے مطابق اس کے اکاونٹ میں رکھ دیا جاتا ہے تو کیا ان اموال میں خمس واجب ہے؟
ج: اگر بینک میں رکھا ہوامال منافع میں سے ہو اور خمس کی سالانہ تاریخ آنے پر آپ کیلئے اس کا بینک سے واپس لینا ممکن ہوتو خمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س898: کرایہ دار جو مال رہن(ایڈوانس) کے طور پر مالک کے پاس رکھتا ہے کیا اس کا خمس مالک پر واجب ہے یا کرایہ دار پر؟
ج: اگر وہ رقم کرایہ دار کے کاروباری منافع میں سے ہو تو واپس ملنے کے بعد کرایہ دار پرواجب ہے اس کا خمس ادا کرے اور مالک مکان جس نے قرض کے طور پر یہ رقم لی ہے اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
س899: ملازمت پیشہ افراد کی وہ تنخواہیں جو چند سال سے حکومت نے نہیں دی ہیں کیا ملنے کی صورت میں انہیں اسی ملنے کے سال کے منافع میں سے شمار کیا جائے گااور خمس کی تاریخ آنے پر اس کا حساب کرنا واجب ہے یا یہ کہ ایسے مال پر بالکل خمس نہیں ہے؟
ج: اس تنخواہ کو وصول ہونے والے سال کے منافع میں سے شمار کیا جائے گا اور اس سال کے اخراجات سے زائد رقم میں خمس واجب ہے۔
[1] برابر برابر
- اخراجات (موؤنہ)
اخراجات(مؤونہ)
س900: اگر ایک شخص کے پاس ذاتی کتب خانہ ہو اور اس نے کچھ عرصہ ان کتابوں سے استفادہ کیا لیکن اب کئی سالوں سے ان سے استفادہ نہیں کر رہا لیکن یہ احتمال ہے کہ آئندہ وہ اس کتب خانہ سے فائدہ اٹھائے گا تو کیا جس مدت میں اس نے کتابوں سے استفادہ نہیں کیا اس پر ان کا خمس واجب ہے؟ اور کیا خمس واجب ہونے کی صورت میں اس میں کوئی فرق ہے کہ یہ کتابیں اس نے خود خریدی ہوں یا اس کے والد نے خریدی ہوں؟
ج: جب وہ کتابیں خریدی گئی تھیں اگر اس وقت اسے مطالعہ اور استفادہ کیلئے انکی ضرورت تھی اور انکی مقدار عرف کی نظر میں اس شخص کی شان کے مناسب ہو تو ان میں خمس نہیں ہے حتی اگر پہلے سال کے بعد ان سے استفادہ نہ بھی کرے نیز اگر کتابیں اسے میراث میں ملی ہوں یا والدین اور دوسرے افراد نے اسے تحفہ کے طور پر دی ہوں تو بھی ان پر خمس نہیں ہے۔
س901: وہ سونا جو شوہر اپنی بیوی کے لئے خریدتا ہے کیا اس پر خمس ہے؟
ج: اگر وہ سونا عرف عام کی نظر میں معمول کے مطابق اور اس کی شان کے مناسب مقدار میں ہو تو اس میں خمس نہیں ہے اور وہ سال کے اخراجات میں سے شمار ہوگا۔
س902: تہران میں لگنے والی کتابوں کی بین الاقوامی نمائش سے کتابیں خریدنے کیلئے جو رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے جبکہ ابھی تک کتابیں نہیں بھیجی گئیں کیا اس میں خمس ہے؟
ج: اگر ان کتابوں کی ضرورت ہو اور انکی مقدار اس شخص کی معاشرتی حیثیت کے مناسب ہو تو اس صورت میں اس پر خمس نہیں ہے۔
س903: اگر کسی شخص کے پاس اس کی حیثیت کے مناسب دوسری زمین ہو اور یہ اس کی ضرورت کے مطابق ہو کیونکہ وہ صاحبِ عیال ہے لیکن خمس کے سال کے آخر تک اس پر مکان نہ بنوا سکے یا ایک سال میں عمارت کی تعمیر مکمل نہ کرسکے تو کیا اس پر خمس واجب ہے؟
ج: وہ زمین، جس کی مکان بنانے کیلئے انسان کو ضرورت ہے، اس پر خمس کے واجب نہ ہونے کے لحاظ سے فرق نہیں ہے کہ زمین کا ایک ٹکڑا ہو یا زیادہ یا ایک مکان ہو یا ایک سے زیادہ، بلکہ معیار عرف میں اس کی حیثیت کے مطابق ضرورت کا صادق آنا اوراسکی تدریجی تعمیرکیلئے شخص کی مالی حیثیت ہے۔
س904: ایک شخص کے پاس گھر کے برتنوں کا سیٹ موجود ہے تو کیا ان میں سے بعض کا استعمال خمس کے واجب نہ ہونے کیلئے کافی ہے؟
ج: گھر کے لوازمات میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ عرفی طور پر اس شخص کی شان اور حیثیت کے مطابق اس پر ضرورت کا عنوان صدق کرے اگرچہ پورا سال ان سے استفادہ نہ کرے۔
س905: اگر اتفاقاً پورا سال فرش اور برتنوں سے استفادہ نہ کیا جائے لیکن مہمانوں کی ضیافت کیلئے ان کی ضرورت ہو تو کیا ان میں خمس واجب ہے؟
ج: مفروضہ صورت میں ان میں خمس واجب نہیں ہے۔
س906: دلہن جو جہیز شوہر کے گھر لے کرجاتی ہے اس کے بارے میں امام خمینی کے فتویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں: اگر کسی علاقے میں رواج یہ ہو کہ لڑکے والے سامان زندگی اور گھر کی ضروری چیزیں مہیا کرتے ہوں اور وہ ان چیزوں کو رفتہ رفتہ خریدیں، اگر ان پر ایک سال گزرجائے توکیا حکم ہے؟
ج: اگر مستقبل کے لئے اسباب اور ضروریات زندگی کا مہیاکرنا عرف میں اخراجات میں سے شمار ہوتا ہو تو ان میں خمس نہیں ہے۔
س907: جن کتابوں کا سیٹ کئی جلدوں پر مشتمل ہو (مثلا وسائل الشیعہ)تو کیا ایک جلد سے استفادہ کرنے سے پورے سیٹ سے خمس ساقط ہوجائے گایا مثال کے طور پر اس کی ہر جلد کے ایک صفحہ کا پڑھنا واجب ہے؟
ج: اگر پورا سیٹ آپ کی ضرورت ہو یا جس جلد کی ضرورت ہے وہ مکمل سیٹ کے خریدنے پر موقوف ہوتو اس صورت میں اس میں خمس نہیں ہے۔ ورنہ جن جلدوں کی ضرورت نہیں ہے ان کا خمس نکالنا واجب ہے اور صرف ہر جلد کا ایک صفحہ پڑھ لینا خمس کے ساقط ہونے کیلئے کافی نہیں ہے۔
س908: وہ دوائیں جن کو دوران سال کے منافع سے خریدا جائے اور ان کی قیمت انشورنس کمپنی ادا کرے اب اگر وہ دوائیں خمس کی تاریخ آنے تک خراب ہوئے بغیر باقی رہیں تو ان پر خمس واجب ہے یا نہیں؟
ج: اگر دواؤں کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کیلئے خریدا گیا ہو اور انکی ضرورت بھی پڑسکتی ہو تو ان میں خمس نہیں ہے ۔
س 909: اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہ ہو اور وہ اسے خریدنے یا دیگر ضروریات زندگی کو مہیا کرنے کے لئے کچھ مال جمع کرے تو کیا بچت saving)) پر خمس واجب ہے؟
ج: کمائی کے منافع سے جمع کئے ہوے مال پر خمس کی تاریخ آنے پر خمس واجب ہے مگر یہ کہ یہ مال لازمی ضروریات زندگی یا ضروری مخارج کیلئے جمع کیا ہو تو اس صورت میں اگرمستقبل قریب ( مثلا چند دنوں) میں انہیں مذکورہ مصارف میں خرچ کردے تو اس میں خمس نہیں ہے۔ اسی طرح وہ رقم جو احتمالی حوادث کے لئے بچت کیا ہو، اس میں خمس ادا کرنے کی صورت میں باقی رقم کفایت نہیں کرتا ہے اور اس شخص کی پریشانی باقی ماندہ رقم سے حل نہیں ہوتا ہے تو اس بچت پر خمس واجب نہیں یے۔
س 910: میری زوجہ ایک قالین بن رہی ہے جس کاسرمایہ ہمارا ذاتی ہے کیونکہ ہم نے اس کیلئے کچھ رقم قرض پر لی تھی اب تک اس کا کچھ حصہ تیار ہوا ہے۔ اور میری خمس کی تاریخ بھی آچکی ہے تو کیا، بُنائی مکمل ہونے اور اس کو بیچنے کے بعداسکے بنے ہوئے حصے کا خمس دینا ہوگا یا نہیں؟ جبکہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو گھریلو ضروریات میں خرچ کرنا چاہتا ہوں، نیز اصل سرمایہ کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟
ج: قالین کی قیمت فروخت سے اصل سرمایہ کو جسے قرض لیا گیا ہے، جدا کرنے کے بعد بقیہ رقم کو سال کے منافع میں شمار کیا جائے گا۔ لہذا بنائی مکمل ہونے اور بیچنے کے بعد اگر رقم اسی سال کے زندگی کے اخراجات میں خرچ ہو جائے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س 911: میری پوری جائداد تین منزلہ عمارت ہے، ہر منزل پر دو کمرے ہیں۔ ان میں سے ایک میں خود رہتا ہوں اور دیگر دومنزلوں میں میرے بچے رہتے ہیں، کیا میری حیات میں اس میں خمس واجب ہے یا میری وفات کے بعد اس میں خمس ہوگا تاکہ میں ورثاء کواپنے مرنے کے بعد اسے ادا کرنے کی وصیت کروں؟
ج: اس عمارت میں خمس واجب نہیں ہے لیکن اگر خمس کا سال بہ سال حساب نہیں کرتا تھا تو ضروری ہے کہ کسی طریقے سے مصالحت کرے۔
س912: گھر یلواشیاء کے خمس کا حساب کیسے کیا جائے گا؟
ج: جو چیزیں ان سے استفادہ کرنے کے باوجود باقی رہتی ہیں جیسے فرش وغیرہ، تو ان میں خمس نہیں ہے، لیکن روز مرہ استعمال کی چیزیں جیسے چاول ، گھی و غیرہ اگر بچ جائیں اور خمس کی تاریخ آنے تک باقی رہیں تو ان میں خمس واجب ہے۔
س913: ایک شخص کے پاس رہنے کے لئے اپنا کوئی مکان نہیں ہے، لہذا اس نے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا ہے تاکہ اپنے لئے مکان بناسکے لیکن تعمیر کیلئے کافی پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک سال گزر گیا اور اس نے اس کو بیچا بھی نہیں۔ تو کیا اس زمین میں خمس واجب ہے؟ اور اگر واجب ہے تو کیا اس کی خریدی ہوئی قیمت میں واجب ہے یا زمین کی موجودہ قیمت میں سے خمس کا نکالنا واجب ہے؟
ج: اگر اس نے یہ زمین اپنی سال کی منفعت سے اپنی ضرورت کا گھر بنوانے کے لئے خریدی ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س914: سابقہ سوال کی مفروضہ صورت میں اگر اس نے مکان بنوانا شروع کردیا ہولیکن مکمل ہونے سے پہلے اس کی خمس کی تاریخ آجائے تو کیا تعمیر کے سلسلے میں جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس میں سے خمس نکالنا واجب ہے؟
ج: مفروضہ صورت میں خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
س915: جو شخص اپنے گھر کی پہلی منزل میں رہتا ہے اور کئی سال تک اسے دوسری منزل کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے دوسری منزل تعمیر کرتا ہے تو کیا دوسری منزل پر جو کچھ خرچ ہوا ہے اس میں خمس واجب ہے ؟
ج: اگر اس کا بچوں کے مستقبل کے لئے دوسری منزل بنواناعرف کے نزدیک حال حاضر میں اس کی حیثیت کے مطابق ہے اور اس کے اخراجات زندگی میں سے شمار ہوتا ہے تو اس کے بنوانے میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے ۔
س916: آپ فرماتے ہیں مخارج سال میں خمس واجب نہیں ہے تو وہ شخص جس کے پاس اپنا رہائشی مکان نہیں ہے لیکن اس کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا ہے جس کو ایک سال یا اس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور وہ اس پر عمارت نہیں بنوا سکا تو اس کومخارج میں کیوں شمار نہیں کیا جاتا؟ امید ہے اس کی وضاحت فرمائیں گے۔
ج: اگر زمین،اپنی ضرورت کا مکان بنانے کیلئے ہو اور دوران سال کی منفعت سے خریدی ہو تو اسے اسکے موجودہ اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور اس پر خمس نہیں ہے ۔
س917: میرے خمس کے سال کی ابتداء شمسی سال کے چھٹے مہینے کی پہلی تاریخ سے ہوتی ہے۔ اور عموماً سال کے دوسرے یا تیسرے مہینے میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے امتحانات شروع ہو جاتے ہیں ہمیں امتحانات کے ایام میں اضافی کام(Over Time)کی اجرت چھ ماہ بعد ملتی ہے، براہ مہربانی وضاحت فرمائیں کہ جو اضافی کام ہم نے خمس کی تاریخ سے پہلے کیا ہے اور اس کی اجرت خمس کی تاریخ آنے کے بعد ملی ہے، کیا اس میں سے خمس ادا کرنا ہے یا نہیں؟
ج: لیٹ ملنے والی اجرت کا حساب اس سال کے منافع سے کیا جائے گا جس سال وہ ملے گی نہ کام کے سال کے منافع میں سے اور جس سال وہ ملی ہے اگر اسی سال کے اخراجات میں خرچ ہوجائے تو اس میں خمس واجب نہیں ہے۔
س918: کبھی کبھی ہم لوگوں کو گھریلو سامان جیسے ریفریجریٹر وغیرہ بازار کی قیمت سے کم قیمت پر مل جاتا ہے اور اس سامان کی مستقبل میں یعنی شادی کے بعد ہمیں ضرورت ہے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ شادی کے بعد اسی سامان کو موجودہ قیمت سے کئی گنا زائد قیمت کے ساتھ خریدنا ہوگا، تو کیا ایسا سامان جو اس وقت استعمال میں نہیں ہے اور گھر میں پڑا ہوا ہے اس میں سے خمس نکالنا ہوگا؟
ج: اگر آپ نے ان چیزوں کو سالانہ کاروباری منافع کے ساتھ اس لئے خریدا ہو کہ مستقبل میں ان سے استفادہ کریں گے اور جس سال آپ نے ان کو خریدا تھا اس سال آپ کو ان کی ضرورت نہیں تھی تو سال پوراہونے پر ان کی مناسب قیمت سے خمس ادا کرنا واجب ہے، مگر یہ کہ ضرورت کے وقت انہیں یکبارگی خریدنا ممکن نہ ہو لذا مجبوراً انہیں رفتہ رفتہ خرید کر ضرورت کے وقت کیلئے محفوظ کرنا پڑے اور وہ چیزیں عرف میں آپ کی حیثیت کے مطابق بھی ہوں تو اس صورت میں ان کو اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور ان کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
س 919: وہ رقوم جن کو انسان کا رہائے خیر میں صرف کرتاہے، جیسے مدارس ، سیلاب زدگان، فلسطینی اور بوسنیائی لوگوں کی امداد وغیرہ تو کیا ان کو سال کے اخراجات میں سے شمار کیا جائے گا اور ان میں خمس نہیں ہے ؟
ج: ایسے انفاقات مخارج سال میں سے شمار ہوتے ہیں اور ان میں خمس نہیں ہے۔
س920: گزشتہ سال ہم نے ایک قالین خریدنے کے لئے کچھ رقم جمع کی اور سال کے آخر میں ہم نے قالین بیچنے والے چند مقامات کا چکر لگایا۔ آخر طے پایا کہ ان میں سے ایک میری پسند کے مطابق ایک مناسب قالین میرے لئے فراہم کرے گا اور اس کام پر نئے سال کے دوسرے مہینہ تک وقت لگا اور چونکہ میرے خمس کی تاریخ، ہجری شمسی سال کی ابتدا ہے تو کیا اس مذکورہ رقم میں خمس ہوگا؟
ج: مفروضہ صورت میں رقم اور فراہم کئے گئے قالین میں خمس نہیں ہے۔
س921: چند لوگ ایک پرائیویٹ اسکول بنانے کے لئے تیار ہوئے اور ممبران کے قلیل سرمایہ سے استفادہ کرنے کے بعد اسکول بنانے والی کمیٹی نے طے کیا کہ دیگر اخراجات پورے کرنے کیلئے بینک سے قرضہ لیا جائے، نیز کمیٹی نے یہ بھی طے کیا کہ سرمایہ کو مکمل کرنے اور بینک کی قسطیں ادا کرنے کیلئے اسکول کے ممبران ہر ماہ کچھ معین رقم ادا کریں ۔ یہ اسکول ابھی تک منافع حاصل کرنے کی حد تک نہیں پہنچا ہے تو ممبران جو ماہانہ رقم ادا کرتے ہیں کیا اس میں خمس ہے اور کیا وہ اصل سرمایہ جو اسکول کی قیمت ہے اس میں خمس ہے ؟
ج: ہر ممبرپر واجب ہے کہ جو کچھ وہ ہر ماہ اسکول کے سرمائے میں حصہ ڈالتا ہے اس میں اور جو کچھ اس نے پہلی بار شراکت کے طور پر اسکول کی تاسیس کے لئے دیا تھا، اس میں سے خمس نکالے اور جب ہر ممبر اپنے حصہ کا خمس ادا کردے گا تو مجموعی سرمایہ میں دوبارہ خمس نہیں ہوگا۔
س922: وہ ادارہ جہاں میں ملازمت کرتا ہوں چند سال سے میری کچھ رقم کا مقروض ہے اور ابھی تک اس نے ادا نہیں کی تو کیا رقم کے ملتے ہی مجھے اس سے خمس نکالنا ہوگا یا ضروری ہے کہ ایک سال اس پر گزر جائے؟
ج: یہ رقم اگر آپ کے کام کی اجرت ہو اور خمس کی تاریخ کے آنے پر اس کا حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو پھر وہ جس سال ملے گی اسی سال کے منافع میں سے شمار ہوگی اور اگر اسی سال کے مخارج میں خرچ ہو جائے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س923: کیا اخراجات زندگی میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کو سال کے اندر استعمال میں لایا جائے یا اس سال میں ان کی ضرورت ہونا ہی کافی ہے خواہ ان کو استعمال کرنے کا کوئی موقع نہ بھی ملے؟
ج: کپڑے، فرش وغیرہ جیسی اشیاء کہ جن سے استفادہ کرنے کے باوجود وہ باقی رہتی ہیں ان میں خمس کے واجب نہ ہونے کا معیار صرف ان کی ضرورت ہونا ہے۔ لیکن روزمرہ کی ضروریات زندگی جیسے چاول، گھی وغیرہ تو ان کا معیار سال کے اندر ان کا خرچ ہونا ہے، لہذا ان میں سے سال کے خرچ سے جو کچھ بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔
س924: اپنے بال بچوں کی سہولت اوران کی ضرورت کے لئے ایک شخص غیر مخمس مال اورسال کے دوران حاصل ہونے والے منافع سے گاڑی خریدتا ہے تو کیا اسے اس کا خمس دینا ہوگا یا نہیں؟ اور اگر اس نے اپنے کام سے متعلقہ امور کے لئے یا دونوں مقاصد(اپنے کام نیز بچوں کی سہولت) کے لئے گاڑی خریدی ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر اس نے گاڑی اپنے کسب و کار سے متعلقہ امورکے لئے خریدی ہو تو وجوب خمس میں اس کا حکم دیگر آلات کار والا ہے لیکن اگر اس نے گاڑی اپنی ضروریات زندگی کے لئے خریدی ہے اور عرف عام میں اس شخص کی حیثیت کے مناسب ضروریات میں سے ہو تو اس میں خمس نہیں ہے البتہ اگر اسکی قیمت خرید میں خمس واجب ہوچکا تھا تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ اور اگر دونوں مقاصد کیلئے خریدا ہو تو تناسب کے ساتھ حساب کرے۔
- دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
س925: یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جن پر خمس ہے مگر انہوں نے ابھی تک اسے ادا نہیں کیا ہے اور فی الوقت یا تو وہ خمس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا ان کے لئے خمس کا ادا کرنا بہت دشوار ہے تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
ج: صرف خمس کی ادائیگی پر قادر نہ ہونے یا اس کے دشوار ہونے کی وجہ سے ان سے واجب خمس ساقط نہیں ہوگا اور وہ بری الذمہ نہیں ہوں گے بلکہ تا حد امکان اس کا ادا کرنا واجب ہے، ایسے لوگ خمس کے ولی امر یا اس کے وکیل سے مہلت حاصل کرے اور وقت اور مقدار کے اعتبار سے اپنی استطاعت کے مطابق مرحلہ وار اپنا قرض ادا کریں۔
س 926: ایک مکان میری ملکیت میں ہے کہ جسکا میں قسط وار مقروض ہوں نیز میری ایک دکان ہے جس میں کاروبار کرتا ہوں اورشرعی فریضہ کے مطابق میں نے اپنے خمس کا سال بھی معین کررکھا ہے۔ آپ سے التجا ہے کہ مجھے اس گھر کا خمس معاف فرمادیں رہا دکان کا خمس تو اس کو قسط وار ادا کرنا میرے امکان میں ہے۔
ج: جس مکان میں آپ رہتے ہیں اس کی مفروضہ صورت کے مطابق چونکہ آپ نے اسے ادھار پر خریدا ہے اسلئے اس میں خمس واجب نہیں ہے۔ رہی دکان تو اس کا خمس دینا آپ پر واجب ہے مگر یہ کہ اس کا خمس ادا کرنے کے بعد باقی سرمائے کے ساتھ کاروبار کرنا آپ کی زندگی کے اخراجات کیلئے کافی نہ ہو اور یا یہ کہ باقی کے ساتھ کاروبار عرف میں آپ کی حیثیت کے مناسب نہ ہو۔
س 927: ایک شخص ملک سے باہر رہتا تھا اور خمس نہیں نکالتا تھا اس نے غیر مخمس مال سے ایک گھر خریدا ہے لیکن اس وقت اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ جس سے اس گھر کا خمس ادا کرسکے البتہ اس پر جو خمس قرض ہے اس کے عوض میں وہ ہر سال خمس کی رقم سے بھی زائد ادا کرتا رہتا ہے کیا اس کا یہ عمل صحیح ہے یا نہیں؟
ج: مفروضہ صورت میں جو خمس اس کے ذمے ہے اس کو حساب کرنااور مہلت حاصل کرنا ضروری ہے تا کہ بعد میں اسے رفتہ رفتہ ادا کردے اور اب تک جتنا اس نے ادا کر دیا ہے اس کے سلسلے میں ہمارے کسی وکیل کی طرف رجوع کرے۔
س928: ایک شخص جس کے ذمہ چند سال کے منافع کا خمس ادا کرنا باقی ہے، لیکن اب اسے علم نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے میں کس قدر مقروض ہے تو اب وہ کیسے خمس سے سبکدوش ہو سکتا ہے؟
ج: وہ اپنے ان تمام اموال کا حساب کرے جن میں خمس واجب ہے اور ان کا خمس اد ا کرے اور مشکوک موارد میں ولی امر خمس یا اسکے وکیل سے مصالحت کرے ۔
س929: میں ایک نوجوان ہوں، اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہوں اور میرے والداپنا خمس ادا نہیں کرتے اور نہ ہی زکوٰة ادا کرتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے مکان بھی سود کے پیسے سے بنا رکھا ہے۔ چنانچہ اس گھر میں جو کچھ میں کھاتا پیتا ہوں اس کا حرام ہونا واضح ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میں اپنے گھر والوں سے الگ رہنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لہذا اس سلسلہ میں میری ذمہ داری بیان فرمائیں؟
ج: اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ کے باپ کے مال میں سودکا مال ملا ہوا ہے یا آپ کو علم ہو کہ آپ کے والد زکات و خمس ادا نہیں کرتے تو اس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ آپ کو یقین ہوجائے کہ جو کچھ آپ کے باپ خرچ کرتے ہیں یا ان کے وہ اموال جن میں آپ تصرف کرتے ہیں وہ حرام ہیں اور جس وقت تک حرام ہونے کا یقین نہ ہو آپ کیلئے ان سے استفادہ کرنا اشکال نہیں رکھتا۔ ہاں اگر باپ کے ان اموال جن کو آپ خرچ کرتے ہیں کے حرام ہونے کا یقین حاصل ہو جائے تو پھر آپ کے لئے ان سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہوگا، لیکن اگر آپ کا گھر والوں سے جدا ہونا اور ان کے ساتھ قطع تعلقی کرنا حرج کا باعث ہو تو اس صورت میں آپ کیلئے ان کے ان اموال سے جو حرام کے ساتھ مخلوط ہیں استفادہ کرنا جائز ہے، البتہ آپ کے استعمال کردہ اموال میں جس مقدار دوسروں کے اموال موجود ہیں اسکے آپ ضامن ہیں۔
س 930: مجھے اطمینان ہے کہ میرے والد خمس و زکوٰة ادا نہیں کرتے اور جب انہیں کہتا ہوں تو جواب دیتے ہیں ہم خود مستحق ہیں، لہذا ہم پر خمس و زکوٰة واجب نہیں ہے اس سلسلہ میں حکم کیا ہے؟
ج: اگر ان کے پاس ایسا مال نہیں ہے کہ جس میں خمس و زکوٰة واجب ہوتا ہے تو ان پر نہ خمس واجب ہے اور نہ ہی زکوٰة، اور اس مسئلہ میں آپ کیلئے تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے۔
س 931: ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں جو خمس ادا نہیں کرتے اور نہ ان کے پا س اس کا سالانہ حساب ہے۔ ہم ان کے ساتھ خرید و فروخت کرتے ہیں انکے پاس آتے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اس سلسلہ میں کیا حکم ہے؟
ج: آپ کیلئے ان کے اموال میں تصرف بلا اشکال ہے۔
س 932: جب کوئی شخص مسجد کو ایسا مال دے جس کا خمس نہیں نکالا گیا تو کیا اس سے یہ مال لینا جائز ہے؟
ج: اس کا لینا بلا اشکال ہے۔
س 933: ایسے لوگوں کے ساتھ معاشرت کا کیا حکم ہے جو مسلمان تو ہیں مگر دینی امور خاص طور سے نماز اور خمس کے پابند نہیں ہیں؟ اور کیا ان کے گھروں میں کھانا کھانے میں کوئی اشکال ہے؟ اور اگر اشکال ہے تو جو شخص چند مرتبہ ایساکام انجام دے چکا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
ج: ان کے ساتھ رفت و آمد رکھنا اگر ان کے دینی امورسے لاپروائی برتنے کی تائید نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر آپ کا ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ان کو دین کا پابند بنانے میں مؤثر ہو تو ایسی صورت میں نہی عن المنکر کے عنوان سے وقتی طور پر ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا واجب ہے۔ البتہ ان کے اموال سے استفادہ کرنا جیسے کھانا پینا و غیرہ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 934: میری سہیلی اکثر مجھے کھانے کی دعوت کرتی ہے، لیکن حال ہی میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر خمس ادا نہیں کرتا۔ تو کیا میرے لئے ایسے شخص کے ہاں کھانا پینا جائز ہے جو خمس نہیں دیتا؟
ج: اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 935: ایک شخص پہلی مرتبہ اپنے اموال کے خمس کا حساب کرنا چاہتاہے چنانچہ جس گھر میں وہ رہتا ہے اگر اسے علم نہ ہو کہ اسے کس مال سے خریدا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر جانتا ہو کہ اسے چند سال کی جمع پونجی سے خریدا تھا تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: اپنی رہائش کے گھر یا دیگر ضروریات زندگی کو اگر ایسے مال سے خریدنے کا احتمال ہو جس میں خمس نہیں ہوتا ( مثلاً وراثت یا ہبہ) تو ان میں خمس واجب نہیں ہے لیکن اگر اسے یقین ہے کہ انہیں اپنی کمائی سے خریدا تھا لیکن نہیں جانتا کہ اس کمائی کو سال کے دوران ہی میں ان چیزوں کے خریدنے پر خرچ کردیا تھا یا سال کے مکمل ہونے کے بعد اور خمس ادا کرنے سے پہلے خرچ کیا تھا تو احتیاط کی بناپر ہمارے کسی وکیل کے ساتھ مصالحت کرے اور اگر یقین ہے کہ اس گھر کو کئی سال کی بچت سے اور اس کا خمس ادا کرنے سے پہلے خریدا ہے تو اس بچت کا خمس ادا کرنا واجب ہے اور پیسے کی قیمت میں آنے والی گرواٹ کو بھی حساب کیا جائے۔
س 936: ایک عالم دین کسی شہر میں وہاں کے لوگوں سے خمس کے عنوان سے کچھ رقم وصول کرتا ہے، لیکن اس کے لئے خود اصل مال کو آپ کی جانب یا آپ کے دفتر میں پہنچانادشوار ہے تو کیا وہ یہ رقم بینک کے ذریعہ ارسال کر سکتا ہے؟ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بینک سے جو مال وصول کیا جائے گاوہ بالکل وہی مال نہ ہو گا جو اس نے اپنے شہر میں بینک کے حوالے کیا تھا۔
ج: خمس یا دیگر رقوم شرعیہ کو بینک کے ذریعہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
س 937: اگر میں نے غیر مخمس مال سے زمین خریدی ہو تو کیا اس میں نماز صحیح ہے؟
ج: اس میں نماز پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س 938: جب خریدنے والے کو معلوم ہو کہ خود اسی خریدے ہوئے مال میں خمس ہے اور فروخت کرنے والے نے خمس ادا نہیں کیا ہے تو کیا اس میں خریدنے والے کیلئے تصرف کرناجائز ہے؟
ج: اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س939: اگر دوکان دارکو معلوم نہ ہو کہ جس خریدار کے ساتھ و ہ معاملہ کررہاہے اس نے اپنے مال کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں تو کیا اس کے لئے اس مال کا خمس ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟
ج: اس کے ذمے کچھ واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لئے تحقیق کرنا ضروری ہے۔
س940: اگر چارآدمی مل کر شراکت کے عنوان سے کسی کام کیلئے ایک لاکھ روپے سرمایہ لگائیں، لیکن ان میں سے ایک شخص نے خمس نہ دیا ہو تو کیا اس کے ساتھ شراکت رکھنا صحیح ہے یا نہیں؟ اورکیا دیگر شرکاء کیلئے قرض حسنہ کے عنوان سے اس سے مال لے کر اسے کام میں لگانا جائز ہے اور بطور کلی اگر چند افراد شریک ہوں تو کیا ہر ایک پر اپنے حصہ کے منافع سے علیحدہ طور پر خمس دینا واجب ہے یا اس کو مشترکہ کھاتے سے ادا کرنا واجب ہے؟
ج: جس شخص کے سرمائے میں خمس واجب ہے لیکن اس نے اسے ادا نہیں کیا اس کے ساتھ شراکت کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س941: اگر میرے شرکاء اپنے خمس کے حساب کیلئے سال نہ رکھتے ہوں تو میری ذمہ داری کیا ہے؟
ج: شرکاء میں سے ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اپنے حصہ کے مطابق حقوق شرعی کو ادا کرے اور اگر باقی شرکاء اپنے ذمہ کے حقوق شرعی ادا نہ کرتے ہوں تو آپ کو شراکت کے جاری رکھنے کی اجازت ہے۔
- سرمایہ
سرمایہ
س942: کئی سالوں سے ثقافتی شخصیات کے توسط سے ایک "کلچرل کو آپریٹو کمپنی"کام کر رہی ہے اس کا ابتدائی سرمایہ بعض ثقافتی شخصیات کے حصوں سے تشکیل پایا تھا اس وقت ہر ایک نے ایک سو تومان دیئے تھے۔ ابتدا میں کمپنی کا اصل سرمایہ بہت کم تھا، لیکن اس وقت ممبران کی کثرت کی وجہ سے گاڑیوں کے علاوہ، کمپنی کا اصل سرمایہ ایک کروڑ اسی لاکھ تومان ہے، اور اس سرمایہ سے جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ ممبران کے درمیان ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے اور ان میں سے ہر شخص جب بھی چاہے آسانی سے اپنا حصہ واپس لے کر کمپنی سے اپنا حساب ختم کر سکتا ہے۔ ابھی تک نہ تو اصل سرمایہ سے خمس دیا گیا ہے اور نہ ہی نفع سے۔ کیا میں کمپنی کا مینیجنگ ڈائریکٹر ہونے کی حیثیت سے کمپنی کے اموال میں واجب ہونے والا خمس ادا کرسکتا ہوں؟ اور کیا حصہ داروں کی رضا مندی شرط ہے یا نہیں؟
ج: ہر ممبر کمپنی کے سرمایہ اور اس سے حاصل ہونے والے نفع سے اپنے حصے کا خمس ادا کرنے کا خود ذمہ دارہے اور آپ کا خمس نکالنا حصہ داروں کی اجازت اور وکالت پر موقوف ہے۔
س943: چند افرادنے بوقت ضرورت ایک دوسرے کو قرضہ دینے کے لئے ایک قرض حسنہ بینک قائم کیا ہے اس طرح کہ ہر ممبر نے پہلی مرتبہ اسکی تشکیل کیلئے جو رقم دی ہے اس کے علاوہ اس کیلئے، قرض حسنہ کے اصل سرمایہ میں اضافے کے لئے ہرماہ کچھ رقم دینا ضروری ہے، لہذا وضاحت فرمائیں کہ ہر ممبر کس طرح خمس ادا کرے گا؟ اور جب قرض الحسنہ کا اصل سرمایہ ہمیشہ اس کے ممبروں کے پاس قرض کے طور پر ہو تو اس صورت میں خمس کی کیا شکل ہو گی؟
ج: اگر ہر حصہ دار نے اپنا حصہ اس کمائی سے ادا کیا ہوجس کے خمس کی تاریخ گزرگئی ہو تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے لیکن اگر اس نے اپنے حصہ کی رقم اثنائے سال میں دی ہواورخمس کی تاریخ آنے پر اس کا واپس لینا ممکن ہو تو خمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے بصورت دیگر جب تک اس رقم کاواپس لینا ممکن نہ ہو اس وقت تک اس پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے تاہم واپس لینا ممکن ہونے کے بعد ضروری ہے کہ فورا ًاس کا خمس ادا کرے۔
س 944: کیا قرض الحسنہ بینک مستقل حقوقی شخصیت رکھتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا حاصل ہونے والے منافع میں خمس ہے یا نہیں؟ اور اگر مستقل حقوقی شخصیت نہیں رکھتا تو اس کے خمس نکالنے کا کیاطریقہ ہے؟
ج: اگر قرض الحسنہ بینک کا اصل سرمایہ مشترکہ طور پر چند افرادکی ذاتی ملکیت ہو تو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ بھی ہر شخص کے حصہ کے لحاظ سے اس کی ملکیت ہو گا اور اگر اس کا حصہ اسکے سالانہ مخارج سے بچ جائے تو اس میں خمس واجب ہوگا، لیکن اگرقرض الحسنہ کا سرمایہ کسی ایک یا چند اشخاص کی ملکیت نہ ہو جیسا کہ وہ وقف عام وغیرہ کے مال سے ہو تو اس سے حاصل ہونے والے منافع میں خمس نہیں ہے۔
س 945: بارہ مومنین نے یہ طے کیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہر ماہ ایک فنڈ میں مثال کے طور پر بیس دینار جمع کرائے گا تاکہ ہر مہینے ان میں سے ایک شخص، اس رقم کو لے کر اپنی خاص ضروریات پر صرف کرلے چنانچہ آخری شخص بارہ مہینے کے بعد یہ رقم لے گا یعنی اس مدت میں جو کچھ اس نے دیا تھا (٢٤٠ دینار) وہ لے لے گا کیا اس پرخمس واجب ہے یا نہیں بلکہ یہ اسکے مخارج میں سے شمار ہوگا اور اگر یہ شخص خمس کی سالانہ تاریخ رکھتا ہو اور جو رقم اسے ملی ہے اس کا کچھ حصہ خمس کی تاریخ آنے کے بعد بھی اس کے پاس ہو تو کیا اس حصے کیلئے خمس کا الگ سال قرار دے سکتاہے تا کہ اس کا خمس ادا کرنا اس کیلئے ضروری نہ رہے۔
ج: جو پیسہ انسان فنڈ سے حاصل کرتا ہے، تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛ الف۔ وہ حصہ جو گذشتہ سال کی کمائی سے ادا ہونے والی رقم کے بدلے میں ہو، ب۔ وہ حصہ جو موجودہ سال کی کمائی سے ادا ہونے والی رقم کے بدلے میں ہو اور تیسرا حصہ جو آئندہ سال اس کے بدلے میں رقم ادا کی جائے گی۔
پہلے حصے پر رقم وصول ہوتے ہی خمس لگے گا۔ دوسرا حصہ اگر خمس کی تاریخ آنے سے پہلے اخراجات میں خرچ ہوجائے تو اس پر خمس نہیں لگے گا لیکن اگر خمس کی تاریخ آنے تک بچا رہے تو اس کے لئے الگ سے خمس کا سال قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ خمس دینا ضروری ہے۔ تیسرا حصہ قرض شمار ہوگا اور فی الحال اس پر خمس نہیں لگے گا۔س946: میں نے مکان کرایہ پر لیا ہے اورکچھ رقم بطور رہن (ایڈوانس)مالک مکان کو دی ہے، کیا ایک سال گزر جانے کے بعد اس رقم میں خمس ہوگا؟
ج: جو رقم مالک مکان (موجر) کو بطور قرض دی ہے اگر وہ کمائی کے منافع میں سے ہو تو اس میں خمس واجب ہے۔
س947: ہمیں تعمیراتی کاموں کے لئے ایک خطیر بجٹ کی ضرورت ہے اور اس کو یک مشت مہیا کرنا ہمارے لئے مشکل ہے، لہذا ہم نے ایک تعمیراتی فنڈ قائم کیا ہے اور اس میں ہر مہینے کچھ رقم جمع کراتے ہیں اورکسی حد تک سرمایہ جمع ہونے کے بعد اسے تعمیراتی کاموں میں صرف کرتے ہیں، کیا اس جمع شدہ مال میں خمس ہے؟
ج: ہر شخص جو رقم جمع کراتا ہے اگر وہ اسکی سالانہ آمدنی سے ہو اور تعمیراتی کاموں میں خرچ کیے جانے تک اس کی ملکیت میں باقی رہے تو اس پر خمس واجب ہے۔
س948: چند سال پہلے میں نے اپنے مال کا حساب کیا اور اپنے خمس کی تاریخ مقرر کی، اس وقت میرے پاس ٩٨ بھیڑ بکریاں تھیں جن کا میں خمس نکال چکا تھا اور اسی طرح کچھ نقد رقم اور ایک موٹر سائیکل تھی لیکن چند سال سے میری بھیڑ بکریاں رفتہ رفتہ بیچنے کی وجہ سے کم ہوگئی ہیں البتہ نقد رقم میں اضافہ ہوگیا ہے اس وقت میرے پاس ٦٠ بھیڑ بکریاں اور کچھ نقد رقم ہے، توکیا اس رقم کا خمس نکالنا مجھ پر واجب ہے یاصرف اضافی مال کا خمس واجب ہے؟
ج: اگر موجودہ بھیڑ بکریوں اور نقد رقم کی مجموعی قیمت ٩٨ بھیڑ بکریوں اور نقد رقم کی اس مجموعی قیمت سے زیادہ ہے (البتہ افراط زر کو حساب کرکے) کہ جس کا خمس آپ ادا کر چکے ہیں تو زائد مقدار میں خمس ہے۔
س949: ایک شخص کسی چیز(گھر یا زمین)کا مالک ہے کہ جس میں خمس ہے، تو کیا وہ اس کا خمس اپنے سال کی منفعت سے ادا کر سکتا ہے یا واجب ہے کہ پہلے وہ منافع کا خمس نکالے اور پھر اس خمس نکالی ہوئی رقم سے اس چیز (گھر یا زمین)کا خمس ادا کرے؟
ج: اگر اس کا خمس سال کی درآمدسے نکالنا چاہتا ہو تو واجب ہے کہ خمس کی بابت ادا ہونے والی رقم کا بھی خمس ادا کیا جائے۔
س950: ہم نے شہداء کے بچوں کے لئے انہیں شہید فاؤنڈیشن سے ملنے والے ما ہا نہ وظیفہ اور بعض شہدا کی زرعی زمینوں اور کارخانوں کہ جو انکی اپنی معاشی ضروریات کیلئے تھے، کی منفعت سے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس سے بعض اوقات ان کی ضرورتوں کو پورا کیا جاتا ہے۔ براہ کرم فرمائیے :کیا اس منفعت اور فنڈ میں جمع شدہ رقم پر خمس واجب ہے یا جب تک وہ بڑے نہیں ہو جاتے خمس واجب نہیں ہے؟
ج: شہداء کی اولاد کو جو کچھ ان کے باپ کی طرف سے وراثت میں ملتا ہے یا جو شہید فاونڈیشن کی طرف سے انہیں دیا جاتا ہے اس میں خمس نہیں ہے، لیکن ان سے حاصل ہونے والے منافع میں سے جو کچھ ان کے شرعی معیار کے مطابق بالغ ہونے تک ان کی ملکیت میں باقی رہے تو احتیاط کی بنا پر واجب ہے کہ بالغ ہونے کے بعد اس کا خمس نکالیں۔
س951: کیا نفع کمانے اور کاروبار کرنے کیلئے انسان جو مال خرچ کرتا ہے، اس میں خمس ہے؟
ج: تجارت و غیرہ کے ذریعے نفع کمانے کیلئے انسان اپنی سال کی منفعت سے جو کچھ خرچ کرتا ہے جیسے گودام میں رکھنے، حمل و نقل کی اجرت دینے، وزن کرانے اور دلالی وغیرہ کے اخراجات یہ سب اسی سال کی بچت سے منہا کیا جائے گا اور ان میں خمس نہیں ہے۔
س952: کیا اصل سرمایہ اور اس کے منافع میں خمس ہے یا نہیں؟
ج: اگر وہ اتنا ہو کہ اس کا خمس ادا کرنے کے بعد باقی سرمائے کے ساتھ کاروبار اس کی زندگی کے اخراجات کیلئے کافی نہ ہو یا یہ کہ باقی کے ساتھ کاروبار عرف میں اس کی حیثیت کے مطابق نہ ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س953: اگر کسی کے پاس سونے کے سکے ہوں اور وہ نصاب تک پہنچ جائیں توکیا اس میں زکوٰة ادا کرنے کے علاوہ خمس بھی ہوگا؟
ج: اگر اسے کمائی کی منفعت شمار کیا جائے تو وجوب خمس کے سلسلے میں اس کا وہی حکم ہے جو دوسرے منافع کا ہے۔
س954: میں اورمیری زوجہ وزارت تعلیم کےملازم ہیں۔ میری زوجہ اپنی تنخواہ ہمیشہ مجھے ہدیہ کردیتی ہے اور میں نے وزارت تعلیم کے ملازمین کی زرعی کمپنی میں کچھ رقم لگا رکھی ہے اور میں خود بھی اس کا ممبر ہوں، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ کیا وہ رقم میری تنخواہ سے تھی یا میری اہلیہ کی تنخواہ سے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میرے خمس کے سال کے آخر تک میری اہلیہ کی تنخواہ سے جمع شدہ رقم اس مقدارسے کم ہوتی ہے جتنی وہ سال بھر میں مجھ سے لیتی ہے، تو کیا اس مذکورہ رقم پر خمس ہے یا نہیں؟
ج: وہ پیسے جو آپ کی بچت ہیں اور وہ رقم جو حصص خریدنے کے لئے ادا کی ہے اور وہ رقم جو آپ کی اپنی تنخواہ میں سے ہے ، اس میں خمس ہے اور جو کچھ آپ کی اہلیہ نے ہدیہ کیا ہے چنانچہ ظاہری اور مصنوعی ہدیہ نہ ہواور شان کے مطابق ہو تو اس میں خمس نہیں ہے، اور جس کے بارے میں آپ کو شک ہے کہ وہ آپ کا اپنا مال ہے یا آپ کی اہلیہ کی طرف سے ہدیہ کیا ہوا تو اس میں بھی خمس نہیں ہے ، اگر چہ احوط یہ ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے یا اس کے خمس کے بارے میں مصالحت کی جائے۔
س955: جو رقم دو سال تک بینک میں بطور قرض رہی ہے، کیا اس میں خمس ہے ؟
ج: کمائی کے منافع میں سے جومقداربچتی ہے اس میں ایک مرتبہ خمس واجب ہوتا ہے اور بینک میں قرض کے طور پر جمع کرانے سے اس کا خمس ساقط نہیں ہوتا، ہاں جس قرض کی وصولی خمس کی تاریخ تک ممکن نہ ہو جب تک اسے وصول نہ کرلے اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے۔
س956: جو شخص اپنے یا اپنے زیر کفالت عیال کے خرچ میں تنگی کرتا ہے تاکہ کچھ مال جمع کرسکے یا کچھ رقم قرض لیتا ہے تاکہ اپنی زندگی کی پریشانیوں کو دور کر سکے، اگر یہ خمس کے سال کے آخر تک باقی رہے تو کیا اس میں خمس واجب ہے؟
ج: سالانہ کمائی کو آئندہ سال کی ضروریات زندگی میں خرچ کرنے کے لئے بچت کرنا اگر اخراجات (خمس والے سال کے مکمل ہونے کے بعد) آئندہ چند دنوں میں ہونے ہوں تو اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے اور قرض والی رقم کا خمس قرض لینے والے پر واجب نہیں ہوتا ، تاہم اگر سال کے دوران کی آمدنی میں سے اس کی قسطیں ادا کرے اور قرض لیا جانے والا مال، خمس کا سال تمام ہونے تک اس کے پاس موجود ہو تو جتنی مقدار قسطوں میں ادا کر چکا ہے اس کا خمس دینا واجب ہے۔
س957: میں فی الحال کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں۔ دوسال پہلے مکان بنانے کیلئے میں نے تھوڑی سی زمین خریدی تھی، اگر میں مکان کی تعمیر کیلئے روز مرہ اخراجات سے کچھ مال جمع کروں، تو کیا سال کے آخر میں اس رقم میں خمس واجب ہوجائیگا؟
ج: اگر اپنی سالانہ آمدنی کو خمس کا سال ختم ہونے سے پہلے ضرورت کے تعمیراتی مٹیریل میں تبدیل کردیں یا اسے اپنے رہائشی مکان کی تعمیر میں خرچ کرنے والے ہی ہیں تو اس پر خمس نہیں ہے ۔
س958: میں شادی کرنا چاہتا ہوں، اورنفع کمانے کیلئے میں نے اپنا کچھ سرمایہ یو نیورسٹی کے سپرد کیا ہے کیا اسکے خمس کے سلسلے میں مصالحت کا امکان ہے؟
ج: اگر مذکورہ مال آپ کی کمائی کے منافع میں سے ہو تو خمس کا سال پورا ہونے پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے، اور جس مال میں یقینی طور پر خمس واجب ہو چکا ہو اس میں مصالحت نہیں ہوسکتی۔
س959: گزشتہ سال حج کی کمیٹی نے میرا وہ تمام سامان و اسباب خرید لیا جسکی حاجیوں کے قافلوں کو ضرورت ہوتی ہے اور میں نے اس سال گرمیوں میں اپنے سامان کی قیمت(٢لاکھ ١٤ہزار تومان) وصول کی ہے اس کے علاوہ میں نے گزشتہ سال ٨٠ ہزار تومان وصول کئے تھے۔ اس بات کے پیش نظر کہ میں نے اپنے لئے خمس کی تاریخ معین کی ہوئی ہے اور ہر سال خرچ سے زائد مال میں سے خمس دیتا ہوں، نیز جس وقت میں حج کا قافلہ سالار تھا اس وقت مجھے حجاج کی خاطر ان چیزوں کی ضرورت تھی اور جب میں نے یہ چیزیں بیچی ہیں اس وقت انکی قیمت ، قیمت خرید سے بڑھ چکی تھی ۔ کیا اس وقت انکی قیمت فروخت یا جو مقدار انکی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے؟
ج: مذکورہ سامان کو اگرآپ نے مخمس مال سے خریدا ہو تو بیچنے کے بعد ان کی قیمت میں خمس نہیں ہے، ورنہ اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔ اور دونوں صورتوں میں خرید و فروخت کی قیمتوں میں جو فرق ہے کرنسی کی قیمت گرنے کی مقدار نکالنے بعد اسے فروخت والے سال کی آمدنی شمار کیا جائے گا۔
س960: میں ایک دکاندار ہوں اور ہر سال اپنے نقد مال اور سامان کا حساب کرتا ہوں، چونکہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو سال کے آخر تک فروخت نہیں ہوپاتیں تو کیا سال کے آخر میں ان کو بیچنے سے پہلے ان کا خمس نکالنا واجب ہے یا یہ کہ ان کو بیچنے کے بعد ان کا خمس نکالنا واجب ہے؟ اور اگر ان چیزوں کا خمس دے دیا ہو اور پھر انہیں فروخت کیا ہوتو آئندہ سال ان کا حساب کس طرح کرنا ہوگا؟ اور اگر انہیں نہ بیچا ہو اور ان کی قیمت میں فرق آگیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: جن چیزوں کو نہیں بیچا ہے اوراس سال انہیں خریدنے والا کوئی گاہک نہیں آیا توفی الحال انکی قیمتوں کی اضافی مقدار سے خمس نکالنا واجب نہیں ہے بلکہ ان کو آئندہ بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی منفعت اسی فروخت والے سال کی منفعت شمار ہوگی، لیکن جن چیزوں کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور سال کے دوران ان کو خریدنے والا بھی تھا، لیکن آپ نے زیادہ نفع کمانے کیلئے انہیں سال کے آخر تک نہ بیچا ہو تو سال کے پورا ہونے پر ان کی قیمتوں میں جس مقدار کا اضافہ ہوا ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے اور اس صورت میں یہ چیزیں اپنی اس قیمت کی حد تک کہ جو خمس کے سال کے تمام ہونے پر انکی تھی اور اضافی قیمت کہ جس کا خمس نکالا جاچکا تھا آئندہ سال سے مستثنےٰ ہوں گی۔
س961: تین بھائیوں نے تین منزلہ مکان خریدا ہے جسکی ایک منزل میں وہ خود رہتے ہیں اور دو منزلیں کرایہ پر دے رکھی ہیں کیا ان دو منزلوں میں خمس ہوگا ؟ یا انکے مخارج میں سے شمار ہوں گی؟
ج: اگر انہوں نے یہ گھر اپنی سالانہ آمدنی سے اپنی رہائش کیلئے خریدا ہے اور فی الحال زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے کرایہ پر دیا ہے تو اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر اس کی بعض منزلوں کو سالانہ آمدنی میں سے کرایہ پر دینے کے لئے بنایا ہے تاکہ ان سے حاصل شدہ کرائے کو اخراجاتِ زندگی میں خرچ کرسکیں تو پھر ان منزلوں کا حکم سرمایہ والا ہے اور ان پر خمس ہوگا۔
س962: ایک شخص کے پاس کچھ گندم تھی جس کا وہ خمس نکال چکا تھا چنانچہ نئی فصل آنے تک وہ اسی کو استعمال کرتا رہتا اور پھر نئی فصل کو اسکی جگہ رکھ لیتا اسی طرح کئی سال گزر گئے تو کیا جس گندم کو اس استعمال شدہ گندم کی جگہ پر قرار دیتا رہا ہے اس میں خمس ہے اور اگر ہے تو کیا اس سب گندم میں ہے؟
ج: سوال میں مذکور فرض یعنی نئی گندم کی کٹائی کے دوران مخمس گندم (جس کا خمس ادا کردیا گیا ہے)بھی موجود ہوتو اس کو اس کی جگہ رکھ سکتا ہے۔
س963: الحمد للہ میں ہر سال اپنے مال کا خمس نکالتا ہوں، لیکن میں نے جتنے سال خمس کا حساب کیا ہے ہمیشہ اپنے حساب کے بارے میں شک کرتارہا ہوں اس شک کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس سال کے سارے نقد مال کا حساب کرنا واجب ہے یا اس شک کی پروا نہ کی جائے؟
ج: اگر آپ کا شک گزشتہ برسوں کے منافع کے خمس کے حساب کے صحیح ہونے کے بارے میں ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور آپ پر دوسری مرتبہ اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر شک یہ ہو کہ یہ منفعت سابقہ سالوں کی منفعت ہے کہ جس کا خمس دیا جا چکا ہے یا اس سال کی منفعت ہے کہ جس کا خمس نہیں دیا ہے تواحتیاطاً آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے، مگر جب ثابت ہوجائے کہ اس کا خمس پہلے نکالا جاچکا ہے۔
س964: میں نے مخمس مال سے 10 ہزار تومان کے ساتھ ایک قالین خریدا اور کچھ دنوں کے بعد اسے 15 ہزار تومان میں بیچ دیا تو کیا ٥ہزار تومان کہ جو مخمس مال سے زیادہ ہیں کاروبار کے منافع میں سے شمار ہونگے اور ان میں خمس ہوگا؟
ج: قیمت خریدسے زائد وصول ہونے والی رقم کو (افراط زر کی مقدار منہا کرنے کے بعد) کاروبار کے منافع کا حصہ شمار کیا جائے گا اور اس میں سے جو کچھ سال کے اخراجات سے زائد ہو اس میں خمس واجب ہے۔
س965: جس شخص نے اپنی ہر آمدنی کیلئے خمس کا الگ سال قرار دے رکھا ہے کیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس آمدنی کا خمس جس کا سال پورا ہو چکا ہے، اس آمدنی سے ادا کرے جس کا سال ابھی مکمل نہیں ہوا؟ اوراگر جانتا ہو کہ ان میں سے ہر آمدنی سال کے آخر تک باقی رہے گی اور اس میں سے کچھ خرچ نہیں ہوگا تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
ج: اگر ایک آمدنی کا خمس دوسری آمدنی سے ادا کرنا چاہے تو اس ادا شدہ رقم کا خمس نکالنا بھی واجب ہے اور جو آمدنی سال کے آخر تک خرچ نہ ہوگی اسکے سلسلے میں اسے اختیار ہے کہ اسکے حاصل ہوتے ہی اس کا خمس دیدے یا خمس کے سال کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔
س966: ایک شخص کے پاس دو منزلہ مکان ہے جس کی اوپروالی منزل میں وہ خود رہتا ہے اور نچلی منزل ایک شخص کو دی ہوئی ہے اور چونکہ یہ خود مقروض ہے لہذا اس نے اس شخص سے کرایہ لینے کے بجائے کچھ مال قرض لے لیا ہے، تو کیا اس رقم میں خمس ہوگا؟
ج: مال قرض لے کر مفت میں مکان دینے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، بہر حال جس مال کو اس نے بطور قرض لیا ہے اس میں خمس نہیں ہے۔
س967: میں نے ادارۂ اوقاف اور وقف کے متولی سے مطب کے لئے ایک مکان ماہانہ کرایہ پر لیا ہے میری درخواست قبول کرنے کے عوض انہوں نے مجھ سے کچھ رقم بھی لی ہے تو کیا اس رقم پرخمس ہے؟ واضح رہے کہ اس وقت مذکورہ رقم میری ملکیت سے خارج ہوچکی ہے اور وہ اب مجھے کبھی نہیں ملے گی؟
ج: اگر یہ رقم پگڑی کے طور پر دی گئی ہواور کاروبار کے منافع میں سے ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔
س968: اگر کوئی شخص اپنا پرانا گھر جو اس کی ضروریات میں سے تھا، کئی منزلہ اپارٹمنٹ بنانے کے لئے کسی بلڈر کو دے اور مذکورہ بلڈر اس کے عوض میں چند سیٹ گھر پہلے مالک کو دے تو اضافی گھروں کے خمس کا کیا حکم ہے؟
ج: اس مسئلے کی کئی صورتیں ہیں؛
1۔ اگر اس کام کو تجارت کے قصد سے یعنی اضافی گھروں کو فروخت کرنے اور فائدہ کمانے کی نیت سے انجام دیا گیا ہو ، چنانچہ خریدار بھی موجود ہو تو افراط زر کی مقدار کو منہا کرنے کے بعد بڑھنے والی قیمت پر خمس لگے گا۔
2۔ اگر مالک کو ملنے والے گھر اس کی ضرورت اور شان کے مطابق ہوں تو ان پر خمس نہیں ہے۔
3۔ تجارت کا قصد نہ رکھتا ہو بلکہ کرائے پر دینے اور اس سے فائدہ لینے کی نیت ہو تو جب تک فروخت نہ کرے ان پر خمس نہیں ہے اور فروخت کرنے کے بعد اصل قیمت اور افراط زر کی مقدار کو منہا کرکے بچنے والی رقم فروخت والے سال کی کمائی ہوگی۔س969: ایک شخص نے خمس کیلئے سال قرار نہیں دیا تھا اور اب وہ خمس نکالنا چاہتا ہے اور شادی سے آج تک وہ مقروض چلا آرہا ہے اب وہ اپنے خمس کا کیسے حساب کرے؟
ج: اگر ماضی سے آج تک اس کی آمدنی اخراجات سے زیادہ نہیں تھی تو اس پر خمس نہیں ہے۔
س970: موقوفہ اشیاء اور اراضی کی آمدنی اور فصلوں میں خمس و زکوٰة کا کیا حکم ہے؟
ج: موقوفہ چیزوں پر مطلقاً (کسی بھی صورت میں) خمس نہیں ہے اگر چہ وہ وقف خاص[1] ہی ہوں اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد اور افزائش (نماء)[2] پربھی خمس نہیں ہے مگر اس صورت میں کہ جب کمائی کے طور پر ہو؛ اور وقف عام سے حاصل ہونے والے فوائد اور افزائش (نماء) میں موقوف علیہ[3] کی جانب سے قبضے میں لینے سے قبل زکوٰة نہیں ہے، لیکن قبضے میں لینے کے بعد وقف کے منافع (نماء) میں زکوٰة واجب ہے، بشرطیکہ اس میں وجوب زکوٰة کے شرائط پائے جاتے ہوں، اور وقف خاص سے حاصل ہونے والے منافع (نماء) میں اگر ہرموقوف علیہ شخص کا حصہ حد نصاب تک پہنچ جائے تو زکوٰة دینا واجب ہے۔
س971: کیا چھوٹے بچوں کی کمائی کی منفعت میں بھی سہم سادات۔ کثرھم اللہ تعالیٰ۔ اور سہم امام ہے؟
ج: بنابر احتیاط ان پر واجب ہے کہ بالغ ہونے کے بعد اپنی کمائی کی اس منفعت کا خمس ادا کریں جو انہوں نے بلوغ سے قبل حاصل کی تھی اور بالغ ہونے تک وہ ان کی ملکیت میں باقی رہی ہے۔
س972: کیا ان آلات پر بھی خمس ہے جو کمانے میں استعمال ہوتے ہیں؟
ج: کاروبار کے وسائل اور آلات کا حکم وہی ہے جو سرمایہ کا ہے کہ اگر وہ کمائی کی منفعت سے مہیا کئے گئے ہوں تو ان میں خمس ہے
س 973: یہ سوال چونکہ ایران کے ساتھ مختص تھا اس لیے اردو ترجمہ میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔
س974: جن ملازمت پیشہ لوگوں کے خمس کی تاریخ، سال کا آخری دن ہو اور وہ اپنی تنخواہ اس سے پانچ روز قبل لے لیں تاکہ اسے آنے والے سال کے پہلے مہینہ میں خرچ کریں تو کیا اس کا خمس دینا ہوگا؟
ج: جو تنخواہ انہوں نے سال ختم ہونے سے قبل لے لی ہواگر اسے خمس والے سال کے آخر تک اپنے مخارج میں خرچ نہ کریں تو اس میں خمس واجب ہے۔ البتہ اگر بچت کی صورت میں کچھ رقم اپنے پاس رکھنا اخراجات میں سے شمار ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س975: یونیورسٹیوں کے بہت سارے طلبہ غیر متوقع مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی زندگی کے اخراجات میں میانہ روی سے کام لیتے ہیں، جسکے نتیجے میں انہیں ملنے والے وظیفے سے انکے پاس کافی مقدار میں پیسہ جمع ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ :
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ مال انہیں وزارت تعلیم کی طرف سے ملنے والے وظیفہ میں بچت کرنے سے جمع ہوتا ہے کیا اس میں خمس ہے؟ج: تعلیم کیلئے ملنے والی امداد میں خمس نہیں ہے۔
[1] اگر کسی جگہ یا چیز سے استفادہ کرنے کا حق مخصوص افراد مثلا اپنی اولاد کے لئے ہو تو اس کو وقف خاص اور اگر عام لوگوں کے لئے ہو تو وقف عام کہتے ہیں۔
[2] رشد اور افزائش کی دو قسمیں ہیں؛ متصل نشو ونما مثلا بھیڑ موٹی ہوجائے اور منفصل نشو ونما مثلا بھیڑوں کے بچے پیدا ہونا۔
[3] وہ لوگ جن کے استفادے کے لئے کوئی چیز وقف کی گئی ہو؛ وقف خاص میں موقوف علیہ مخصوص افراد ہوتے ہیں جبکہ وقف عام میں تمام لوگ ہوتے ہیں۔
- خمس کے حساب کا طريقہ
خمس کے حساب کا طریقہ
س976: خمس ادا کرنے میں آئندہ سال تک تاخیرکرنے کا کیا حکم ہے؟
ج: خمس والا سال تمام ہونے کے بعد اسکے خمس کی ادائیگی کو آئندہ سال تک موخر کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ جب بھی اسے دے دے اس کا قرض ادا ہوجائیگا۔
س977: میں ایسے مال کا مالک ہوں جس کا کچھ حصہ میرے پاس ہے اور کچھ قرض الحسنہ کی شکل میں دیگر اشخاص کے پاس ہے، دوسری جانب، میں رہائشی زمین خریدنے کی وجہ سے مقروض ہوں اور اس کی قیمت سے متعلق ایک چیک مجھے چند ماہ تک ادا کرنا ہے تو کیا میں موجودہ رقم(نقد اور قرض الحسنہ) میں سے زمین کا قرض نکال کر باقی رقم کا خمس دے سکتا ہوں؟ اور کیا اس زمین پر بھی خمس ہے جس کو میں نے رہائش کیلئے خریدا ہے؟
ج: جو مال آپ نے اپنی سالانہ آمدنی سے بعض افراد کو قرض دے رکھا ہے اگر خمس کا سال ختم ہونے پر اسے وصول کرنا ممکن نہ ہو تو جب تک وہ وصول نہیں ہوا اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے اور سالانہ آمدنی سے جو کچھ آپ کے پاس ہے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے اس میں سے اپنے اس قرض کو ادا کرسکتے ہیں کہ جس کی ادائیگی کا وقت چند ماہ بعد پہنچے گا، لیکن اگر آپ نے اس کو سال کے دوران قرض ادا کرنے کے لئے خرچ نہیں کیا یہاں تک کہ خمس کا سال پورا ہوگیا تو پھر قرض کو اس سے استثناء کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ کمائی سے بچنے والی رقم پر خمس دینا آپ پر واجب ہے،لیکن اگر اس کمائی کے حاصل ہونے کے بعد کہ جو آپ کے پاس موجود ہے، قرض میں حاصل کئے ہوئے مال کو اپنے اخراجات میں خرچ کریں تو سال کے آخر میں اسی مقدار کے برابر کمائی سے منہا ہوگا لیکن آپ نے جو زمین دوران سال کی آمدنی سے رہائش کے لئے خریدی ہے اور آپ کو اس کی ضرورت ہے اس پر خمس نہیں ہے۔
س978: میں نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے تو کیا میں مستقبل میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے موجودہ مال سے کچھ ذخیرہ کر سکتا ہوں؟
ج: سالانہ بچت اگر آئندہ چند دنوں کے اندر شادی کے ضروری اخراجات میں خرچ کرنے کیلئے ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س979: میں نے سال کے دسویں مہینے کی آخری تاریخ کو خمس نکالنے کے لئے مقرر کر رکھا ہے تو دسویں مہینے کی تنخواہ جو مجھے ماہ کے آخر میں ملتی ہے، کیا اس پر بھی خمس ہے؟ اور تنخواہ لینے کے بعد اگر اس کا بقایا پیسہ(جو اپنے معمول کے مطابق ہر ماہ بچت کرتا ہوں) اپنی زوجہ کو ہدیہ کے طورپر دے دوں تو کیا اس میں بھی خمس ہوگا؟
ج: جوتنخواہ آپ نے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے لی ہے یا خمس کا سال ختم ہونے سے پہلے لینا ممکن ہو، اس میں سے جو کچھ اس سال کے اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے، تاہم جو پیسہ آ پ نے زوجہ یا کسی دوسرے شخص کو ہدیہ کے طور پر دیا ہے اگر وہ صرف ظاہری اور مصنوعی نہ ہو اور آپ کی عرفی حیثیت کے مطابق مقدار میں ہوتو اس پر خمس نہیں ہے۔
س980: میرے پاس کچھ مال یا پونجی ایسی ہے جس کا خمس میں دے چکا ہوں اسے میں نے خرچ کر دیا ہے اب کیا سال کے آخر میں سال کی منفعت میں سے کچھ مقدار مال کو اس خرچ شدہ مخمس مال کے بدلے خمس سے مستثنےٰ کرسکتا ہوں؟
ج: اگر خرچ کرنے کے دوران سال کی کمائی بھی موجود ہو تو سال کے اختتام پر اتنی مقدار میں استثناء کرسکتے ہیں۔
س981: ایسا مال جس پر خمس نہیں ہے جیسے انعام وغیرہ، اگر سرمایہ کے ساتھ مخلوط ہوجائے تو کیا خمس کا سال ختم ہونے پرایسا کیا جاسکتا ہے کہ اسے سرمایہ سے مستثنیٰ کر کے باقی مال کا خمس نکال دیا جائے؟
ج: اس کے مستثنیٰ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
س982: تین سال قبل میں نے ایسی رقم سے دکان کھولی جس کا خمس دیا جا چکا تھا اور میرے خمس کی تاریخ شمسی سال کی آخری تاریخ یعنی عید نوروزکی شب ہے اور آج تک جب بھی میرے خمس کی تاریخ آتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ میرا تمام سرمایہ قرض کی صورت میں لوگوں کے پاس ہے اور میں خود بھی بھاری رقم کا مقروض ہوں میری ذمہ داری بیان فرمائیں؟
ج: اگر خمس کی تاریخ آنے پر آپ کے پاس نہ اصل سرمایہ میں سے کچھ ہو اور نہ ہی منافع میں سے یا آپ کے سرمائے میں کچھ اضافہ نہ ہوا ہو تو آپ پر خمس واجب نہیں ہے،اور آپ کا وہ ادھار جو لوگوں کو ادھار پر اشیاء فروخت کرنے کی منافع کی بابت موجود ہے چنانچہ خمس کے سال کے اختتام پر ان سے وصول کرسکتے ہیں تو سرمایہ اور افراط زر کو منہا کرنے کے بعد اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے اس صورت کے علاوہ وہ اس سال کی کمائی کا حصہ شمار ہوگا جس سال ان قرضوں کو آپ وصول کریں گے۔ اگر مذکورہ ادھار کی رقم میں سے ایک حصہ دورانِ سال کے منافع کی بابت ہو کہ جو جنس میں تبدیل ہوا ہو اور اس کے بعد ادھار فروخت کیا گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس کی وصولی کے بعد فوری طور پر اس مقدار کا خمس ادا کیا جائے۔
س983: جب خمس کی سالانہ تاریخ آتی ہے تو ہمارے لئے دکان میں موجود مال کی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے،تو اس کا حساب کیسے کریں؟
ج: جس طرح بھی ہوسکے خواہ اندازہ لگانے کے ذریعہ ہی سہی بہرحال دکان میں موجودہ مال کی قیمت کی تعیین ضروری ہے، تاکہ سال بھر کے منافع کاخمس نکالا جاسکے۔
س984: اگر میں چند سال تک خمس کا حساب نہ کروں یہاں تک کہ میرا مال نقد بن جائے اور میرا سرمایہ بڑھ جائے اس کے بعد میں اپنے سابقہ سرمایہ کے علاوہ باقی مال کا خمس نکال دوں تو کیا اس میں کوئی اشکال ہے؟
ج: اگر خمس کی تاریخ آنے پر آپ کے اموال میں کچھ خمس تھا، اگرچہ کم ہی سہی تو اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
س985: دکان دار کیلئے اپنے مال کا خمس نکالنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ بیان فرمائیں۔
ج: خمس کا سال ختم ہونے پر موجودہ مال اور نقد رقم کا حساب کرکے اس کی قیمت لگالے پھر اس مجموعی قیمت کا اپنے اصلی سرمایہ سے (افراط زر کو حساب کرکے) موازنہ کرے، جو کچھ اصل سرمایہ سے زیادہ ہوگا اسے منافع شمار کیا جائے گا اور اس میں خمس ہوگا۔
س986: میں نے گذشتہ سال کے تیسرے مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنے خمس والے سال کی ابتدا کے طور پر مقرر کیا تھا چنانچہ میں نے اسی تاریخ کو بینک کی طرف رجوع کیا تا کہ اپنے بینک اکاؤنٹ کی منفعت کے خمس کا حساب کرسکوں تو کیا سال بھر کے مال کے حساب کایہ طریقہ صحیح ہے؟
ج: آپ کے خمس کے سال کی ابتدا وہ دن ہے جس میں آپ کو پہلی مرتبہ ایسی آمدنی ہوئی جس کا وصول کرنا آپ کے لئے ممکن تھا اور آغاز سال کو اس سے موخر کرنا جائز نہیں ہے۔
س987: اگر انسان گاڑی ، موٹر سائیکل اور فرش جیسی ضرورت کی اشیاء کو بیچے کہ جن کا خمس ادا نہیں کیا گیا تو کیا بیچنے کے بعد فوراً ان کا خمس ادا کرنا واجب ہے؟
ج: مذکورہ چیزیں اگر ضروریات زندگی میں سے ہوں جبکہ انہیں دورانِ سال کی آمدنی سے مہیا کیا ہو اور اگلے سال فروخت کردی گئی ہوں تو ان کی قیمت فروخت میں خمس نہیں ہے لیکن اگر انہیں اس پیسے سے مہیا کیا گیا ہو کہ جس پر سال گزر چکا تھا اور اس کا خمس ادا نہیں کیا گیا تھا تو ان کی قیمت خرید کا (پیسے کی قدر میں آنے والی کمی کو حساب کرکے) خمس ادا کرنا واجب ہے اگر چہ ان چیزوں کو فروخت نہ بھی کرے اور اگر خمس کے حساب کے لئے سال مقرر نہیں کیا تھا اور نہ جانتا ہو کہ جس وقت ضرورت کی چیزیں خریدنے میں پیسے خرچ کر رہا تھا، اس وقت خمس کا سال گزرچکا تھا یا نہیں تو ان کی قیمت خرید کے سلسلے میں احتیاط واجب کی بناپر ہمارے کسی وکیل کے ساتھ مصالحت کرے۔
س988: جس شخص کو گھر یلو استعمال کی کسی چیز جیسے ریفریجریٹرکی ضرورت ہے اور وہ اسے یک مشت نہیں خرید سکتا اسلئے ہر ماہ کچھ بچت کرتا ہے تا کہ جب ضروری رقم جمع ہوجائے تو اس سے وہ چیز خرید سکے اب جب اسکی خمس کی تاریخ آن پہنچی ہے تو کیا اس رقم میں بھی خمس ہوگا؟
ج: اس رقم کو اگر اسلئے جمع کیا ہو تا کہ مستقبل قریب ( خمس کا سال ختم ہونے سے چند روز بعد) میں اپنی ضرورت کی چیز مہیا کر سکے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
س989: اگر کوئی شخص اپنے خمس کی تاریخ آنے سے پہلے اپنی کچھ آمدنی قرض کے طور پر کسی کو دے دے اور پھر خمس کی تاریخ کے چند ماہ بعد اسے وصول کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج: سوال میں مذکور صورت میں مقروض سے قرض وصول کرلینے کے بعد فوری طور پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س990: انسان جن چیزوں کو خمس کے سال کے دوران خرید تا ہے اور پھر خمس کا سال مکمل ہونے کے بعد انہیں بیچ دیتا ہے انکا کیا حکم ہے؟
ج: مذکورہ چیزیں اگر ضروریات زندگی کا حصہ ہوں اور انہیں ذاتی استعمال کے لئے خریدا ہو تو ان میں خمس نہیں ہے لیکن اگر انہیں فروخت کرنے کی نیت سے سال کے دوران کی کمائی سے خریدا تھا اور خمس کی تاریخ آنے سے پہلے ان کا فروخت کرنا بھی ممکن تھا تو ان کے اصل مال اور منافع کا خمس ادا کرنا واجب ہے، بصورت دیگر جب تک انہیں فروخت نہ کردے ان کا خمس واجب نہیں ہے اور جب انہیں فروخت کردے تو ان کے بیچنے سے جو منافع حاصل ہوگا اسے اسی فروخت والے سال کی کمائی شمار کیا جائے گا۔
س991: اگر ملازم خمس والے سال کی تنخواہ خمس کی تاریخ کے بعد وصول کرے تو کیا اس پر خمس دینا واجب ہے؟
ج: اگر وہ خمس کی تاریخ آنے تک تنخواہ لے سکتا تھا تو اس کا خمس دینا واجب ہے اگرچہ اس نے نہ بھی لی ہو، ورنہ جس سال وصول کرے گا انہیں اسی سال کے منافع میں سے شمار کیا جائیگا۔
س992: سونے کے سکے کہ جن کی قیمت ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے کا خمس کیسے نکالا جائیگا؟
ج: اگر ان کی قیمت سے خمس نکالنا چاہتا ہے تو خمس کے سال کے اختتام پر لگنے والی قیمت معیار ہے۔
س993: اگر کوئی شخص اپنے مال کا سالانہ حساب سونے کی قیمت کے لحاظ سے کرے، مثال کے طور پر جب اس کی کل پونجی بہار آزادی والے سونے کے سو سکوں کے برابر ہواور وہ اس سے بیس سکے نکال دے تو اس کے پاس بہ عنوان مال مخمس ٨٠ سکے بچ جائیں گے اور آئندہ سال اگر سونے کے سکوں کی قیمت بڑھ جائے، لیکن اس شخص کا سرمایہ انہی ٨٠ سکوں کے برابر ہو تو کیا اس میں خمس ہے یا نہیں؟ اور کیا اس اضافی قیمت کا خمس دینا واجب ہے؟
ج: اگر اس کی قیمت بڑھ جائے اور خمس کی تاریخ آنے پر اسے بیچنا ممکن ہو تو کرنسی کی قیمت گرنے کی مقدار کو کم کرنے کے بعد اس میں خمس ہے۔
- مالى سال کا تعين
مالی سال کا تعیّن
س994: جو شخص مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کے پاس سال بھر کی آمدنی میں سے کچھ نہیں بچے گا، اور اسکی ساری کمائی دوران سال کے مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے گی تو کیا اس کے باوجود بھی اس پر خمس کی تاریخ معین کرنا واجب ہے؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اس اطمینان کی بنا پر کہ اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا اپنے خمس کے سال کا تعیّن نہ کرے؟
ج: خمس کے سال کی ابتداء مکلف کی تعیین وحد بندی سے نہیں ہوتی ، بلکہ یہ ایک امر واقعی ہے اور کھیتی باڑی کرنے والے کیلئے کھیتی کاٹنے کے وقت سے ، مزدور اور ملازمت پیشہ لوگوں کے لئے پہلی اجرت یا تنخواہ وصول کرنے کے وقت سے اور کارو بار کرنے والے کیلئے کار وبار شروع کرنے کے وقت سے خمس کے سال کا آغاز ہوجاتاہے اور سال بہ سال منفعت اور خمس والے سال کا حساب کرنا کوئی الگ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف خمس کی مقدار معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور حساب کرنا اس وقت ضروری ہوتاہے جب وجوب خمس کا علم ہو لیکن اسکی مقدار معلوم نہ ہو لہذا اگر کمائی میں سے کچھ باقی نہ بچے اور سب کچھ مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے تو خمس نہیں ہے۔
س995: کیا مالی سال کی ابتدا کام کا پہلا مہینہ ہے یا وہ پہلا مہینہ جس میں تنخواہ وصول کرے؟
ج: مزدوروں اور ملازمت کرنے والوں کے خمس کا سال اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن ان کو مزدوری یا تنخواہ ملتی ہے یا جس روز وہ اس کو وصول کر سکتے ہیں۔
س996: خمس ادا کرنے کیلئے سال کی ابتداء کا کیسے تعیّن ہوتا ہے؟
ج: خمس کے سال کی ابتدا کیلئے اسے معین کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ آمدنی کے حصول کی کیفیت کی بنیاد پر خود بخود معین ہوجاتی ہے لذا مزدور اور ملازمت پیشہ افراد کے خمس کے سال کی ابتداء اس تاریخ سے ہوتی ہے جس دن ان کے لئے اپنے کام اور ملازمت کی پہلی آمدنی کا حاصل کرنا ممکن ہو اور دوکانداروں اور تاجروں کے سال کا آغاز ان کے خرید و فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ہوتا ہے اور کھیتی باڑی و غیرہ کرنے والے لوگوں کے سال کا آغاز پہلی فصل اٹھانے سے ہوتاہے۔
س997: غیر شادی شدہ جوانوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، کیا خمس کی تاریخ کا معین کرنا واجب ہے؟ اور ان کے سال کی ابتداء کب سے ہوگی؟ اور اس کا کیسے حساب کریں؟
ج: اگر غیر شادی شدہ جوان کی اپنی ذاتی کمائی ہو، خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ خمس کی سالانہ تاریخ کو معین کرے اور سال بھر کی آمدنی کا حساب کرے تاکہ اگر سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی چیز بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرسکے اور خمس کے سال کا آغاز پہلی آمدنی کے حصول کے وقت سے ہوتا ہے۔
س998: جو میاں بیوی اپنی آمدنی کو مشترکہ طورپر گھر کی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں کیا ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طورپر اپنے خمس کی تاریخ کا تعین کریں؟
ج: ان میں سے ہر ایک کے لئے ان کی آمدنی کے حساب سے مستقل طور پر خمس کا سال ہے، لہذا سال کے آخر میں ان میں سے ہر ایک کے پاس تنخواہ اور سال بھر کی آمدنی سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہوگا اور یہ جائز ہے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی اجازت سے اس کا خمس حساب کرکے ادا کرے۔
س999: میں ایک خانہ دار عورت ہوں اور میرے شوہر نے خمس کا سال قرار دے رکھاہے اور وقت پر وہ اپنے اموال کا خمس نکالتا ہے مجھے بھی بسااوقات آمدنی ہوتی ہے تو کیا خمس ادا کرنے کے لئے میں بھی اپنی تاریخ معین کرسکتی ہوں اور اپنے خمس کے سال کی ابتداء اس حاصل ہونے والی پہلی آمدنی سے کروں کہ جس کا میں نے خمس نہیں دیا ہے اور سال کے آخر میں گھر کے اخراجات منہا کرکے باقی کا خمس ادا کروں، اور دوران سال جو پیسہ میں زیارت کیلئے یا تحفے وغیرہ خریدنے پر خرچ کرتی ہوں کیا اس میں بھی خمس ہے؟
ج: آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کی ابتداء اس دن سے کریں جس دن آپ کو سال کی پہلی آمدنی پر دسترس حاصل ہوئی ہے اور سال کے دوران کی کمائی میں سے جو کچھ آپ کے ذاتی مخارج ،جیسے وہی مخارج جنکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، سے بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔
س1000: کیا خمس کاسال شمسی ہونا ضروری ہے یا قمری ؟
ج: اس سلسلہ میں انسان کو اختیار ہے۔
س1001: ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز، گیارہویں مہینہ سے ہوتا ہے لیکن وہ اسے بھول گیا اور خمس نکالنے سے قبل بارہویں مہینے میں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے قالین، گھڑی اور کارپٹ خرید لیا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز ماہ رمضان کو قرار دیناچاہتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے کہ یہ شخص گزشتہ اور موجودہ سال کے سہم امام و سہم سادات کے ٨٣ ہزار تومان کا مقروض ہے اور انہیں قسط وار ادا کر رہا ہے، لہذا مذکورہ چیزوں کے سہم امام اور سہم سادات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
ج: خمس کا سال پہلے لانا جائز ہے، اس طرح کہ اس وقت تک کی کمائی کے خمس کا حساب کرکے ادا کرے اور اس کے بعد اسی وقت سے خمس کا سال شمار ہوگا ، تاہم خمس کے سال کو پیچھے لے جاتے ہوئے اس کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں ہے ۔ جو شخص سال پوراہونے پر اپنی کمائی کا خمس ادا نہ کرے اور خمس کا سال گزرنے کے بعد زندگی کی ضروریات میں استعمال کرلے، یہ خمس اس کے ذمے باقی رہے گا چنانچہ پیسے کی قدر گرجائے تو اس گراوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر قیمت میں ہونے والی گراوٹ کی مقدار معلوم نہ ہو تو حاکم شرع سے مصالحت کرنا ضروری ہے۔
س1002: کیا انسان اپنے مال کے خمس کا خود حساب کرسکتا ہے پھر جو کچھ اس کے اوپر واجب ہو، اسے آپ کے وکلاء کی خدمت میں پیش کردے؟
ج: خمس کے مسائل سے آشنا ہونے کی صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
- ولی امر خمس
ولی امر خمس
س1003: امام خمینی ، آپ اور بعض دیگر فقہا کی رائے کے مطابق کہ خمس کا معاملہ ولی فقیہ کے اختیار میں ہے غیر ولی فقیہ کو خمس دینے کا کیا حکم ہے ؟
ج: سہم امام و سہم سادات کے ادا کرنے میں اگر مقلد اپنے مرجع محترم (دامت برکاتہ) کے فتویٰ کے مطابق عمل کرے تو اس کا ذمہ بری ہوجائے گا۔
س1004: کیا امور خیریہ ۔جیسے سادات کی شادی وغیرہ۔ میں سہم سادات کا صرف کرنا جائز ہے؟
ج: سہم امام(علیه السلام) کی طرح سہم سادات کا معاملہ بھی ولی فقیہ کے اختیار میں ہے اور اگر خصوصی اجازت ہو تو مذکورہ مواردمیں سہم سادات خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
س1005: کیا خیراتی امور جیسے یتیم خانہ یا دینی مدارس کے لئے سہم امام (علیه السلام) خرچ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مقلد اپنے مرجع تقلید سے اجازت لے؟ یا کسی بھی مجتہد کی اجازت کافی ہے اور بنیادی طور پر کیا مجتہد کی اجازت ضروری ہے؟
ج: مجموعی طور پر سہم امام اور سہم سادات دونوں کا اختیار ولی فقیہ کو ہے لہذا جس کے ذمہ یا جس کے مال میں سہم امام یا سہم سادات ہو اس پر واجب ہے کہ ان دونوں کو ولی امر خمس یا اس کے مجاز وکیل کے حوالے کرے اوراگر ان کو ان کے مذکورہ موارد میں صرف کرنا چاہے تو اس سلسلہ میں پہلے اس کے لئے اجازت لینا واجب ہے بہرحال انسان کیلئے اس سلسلے میں اپنے مرجع تقلید کے فتویٰ کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔
س1006: کیا آپ کے وکلاء یا ان افراد پر کہ جو شرعی رقوم کے وصول کرنے میں آپ کے وکیل نہیں ہیں، لازم ہے کہ سہم امام اور سہم سادات دینے والوں کو ان کی رسید دیں یا نہیں؟
ج: جو لوگ ہمارے محترم وکلاء یا ہمارے دفتر تک پہنچانے کی غرض سے دوسرے افراد کو شرعی رقوم دیتے ہیں وہ ان سے ہماری مہر لگی ہوئی رسید کا مطالبہ کریں۔
س1007: ہمارے علاقے میں موجود آپ کے وکلاء کو جب خمس دیا جاتا ہے تو بعض اوقات وہ سہم امام(علیه السلام) واپس کردیتے ہیں اور کہتے ہیں ان کو آپ کی طرف سے اس کام کی اجازت ہے تو کیا اس لوٹائی ہوئی رقم کو ہم گھریلو امور میں صرف کر سکتے ہیں؟
ج: جو شخص اجازت کا دعوی کرتا ہے اگر آپ کو اس کے پاس اجازہ ہونے کا شبہ ہو تو اس سے احترام کے ساتھ اجازہ دکھانے کا مطالبہ کریں یا اس سے ہماری مہر لگی رسید طلب کریں اور اگر وہ اجازہ کے مطابق عمل کرے تو اس کا عمل قابل قبول ہے۔
س1008: ایک شخص نے غیر مخمس مال سے ایک قیمتی جائداد خریدی اور اس کی تعمیر و مرمت پر بھی ایک خطیر رقم لگائی اور اس کے بعد اسے اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کردیا اور قانونی طورپر اس جائداد کو اس کے نام کر دیا اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ہبہ کرنے والا ابھی تک زندہ ہے تو مذکورہ شخص کے خمس کا کیا حکم ہے؟
ج: جائداد کے خریدنے اور اس کی مرمت وتعمیر میں اس نے جو کچھ خرچ کیا ہے اگر وہ سال کے منافع میں سے ہو اوراسی سال اس نے اسے اپنے بیٹے کو ہبہ کردیا ہو، نیز عرف عام میں یہ اسکی حیثیت کے مطابق ہو تو اس پر خمس نہیں ہے، ورنہ اس جائداد میں خمس واجب ہوگا ۔
- سادات اور ان کی طرف انتساب
سادات اور ان کی طرف انتساب
س1009: میری والدہ سیدہ ہیں، لہذا مندرجہ ذیل سوالات کے جواب بیان فرمائیں؟
١۔ کیا میں سید ہوں؟
٢۔ کیا میری اولاد اور میرے پوتے پر پوتے وغیرہ سید ہوں گے؟
٣۔ وہ شخص جو باپ کی طرف سے سید ہے اور جو ماں کی طرف سے سید ہے ان میں کیا فرق ہے؟ج: اگر چہ ماں کی طرف سے رسول اکرمۖ سے منسوب ہونے والے بھی اولاد رسول اکرم ۖ میں سے ہیں۔ لیکن سیادت کے شرعی آثار اور احکام شرعیہ کے مترتب ہونے کا معیار یہ ہے کہ سید کی نسبت باپ کی طرف سے ہو.
س1010: کیا جناب عباس ابن علی(علیه السلام) کی اولاد کے احکام بھی وہی ہیں جو باقی سادات کے ہیں، مثلا جو طالب علم اس سلسلے سے منسوب ہیں کیا وہ سادات کا لباس پہن سکتے ہیں؟ اور کیا اولاد عقیل ابن ابی طالب کا بھی یہی حکم ہے؟
ج: جو شخص باپ کی طرف سے جناب عباس ابن علی ابن ابی طالب(علیه السلام) سے نسبت رکھتا ہو وہ علوی سید ہے اور سارے علوی اور عقیلی سادات ہاشمی سادات میں سے ہیں، لہذا ہاشمی سادات کی خاص مراعات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
س1011: پچھلے دنوں میں نے اپنے والد کے ایک چچا زاد بھائی کا ذاتی وثیقہ دیکھا ہے کہ جس میں ان کے نام کے ساتھ سید لکھا ہے، لہذا اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اپنے رشتہ داروں میں ہم سید مشہور ہیں اور جو وثیقہ مجھے ملا ہے وہ بھی اس بات کا قرینہ ہے، میرے سید ہونے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: آپ کے کسی نسبی رشتہ دار کا اس قسم کا وثیقہ، آپ کے سید ہونے کے لئے شرعی دلیل نہیں بن سکتا، لہذا جب تک آپ کو سید ہونے کا اطمینان یا اس کے بارے میں آپ کے پاس کوئی شرعی دلیل نہ ہو آپ پر سیادت کے شرعی احکام اور آثار مترتب نہیں ہوں گے۔
س1012: میں نے ایک بچے کو اپنا بیٹا بنایاہے اور اس کا نام علی رکھاہے۔ جب اس کا شناختی کارڈ لینے کیلئے رجسٹریشن آفس گیا تو ان لوگوں نے میرے اس گود لئے بیٹے کو"سید"کا لقب دے دیا، لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا، کیونکہ اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ڈرتا ہوں۔ اب میں مردد ہوں یا تو اسے متبنٰی نہ کروں اور یا اس گناہ کا مرتکب ہو جاؤ ں اورجو سید نہیں ہے اس کے سید ہونے کو قبول کرلوں۔ اب میں کونسا راستہ اختیار کروں؟ براہ مہربانی میری راہنمائی فرمائیں؟
ج: گود لئے بیٹے پر بیٹے کے شرعی آثار مترتب نہیں ہوتے اور جو حقیقی باپ کی طرف سے سید نہ ہو اس پر سید کے احکام و آثار جاری نہیں ہوتے، بہرحال بے سرپرست بچے کی کفالت کرنا نہایت مستحسن اور شرعاً پسندیدہ عمل ہے۔
- خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
خمس کے مصارف، اجازہ، ہدیہ اور حوزۂ علمیہ کا وظیفہ
س1013: بعض اشخاص خود اپنی طرف سے سادات کے بجلی اور پانی کے بل ادا کردیتے ہیں، کیا وہ ان بلوں کو خمس میں سے حساب کر سکتے ہیں؟
ج: ابھی تک جو کچھ انہوں نے سہم سادات کے عنوان سے ادا کیا ہے وہ قبول ہے لیکن مستقبل میں ادا کرنے سے پہلے ان پر اجازت لینا واجب ہے۔
س1014: کیا سہم امام(علیه السلام) میں سے ایک ثلث(تہائی) کے ساتھ دینی کتابیں خریدنے اور تقسیم کرنے کی اجازت عنایت فرمائیں گے؟
ج: اگر ہمارے مجاز وکلاء مفید دینی کتابوں کی تقسیم اور فراہمی کو ضروری سمجھیں تو وہ اس سلسلے میں اس ایک تہائی مال کو صرف کر سکتے ہیں جس کو وہ مخصوص شرعی موارد میں صرف کرنے کے مجاز ہیں۔
س1015: کیا ایسی علوی سیدانی کو سہم سادات دیا جا سکتا ہے جو شادی شدہ، ناداراور اولاد والی ہو، لیکن اس کا شوہر سید نہ ہو البتہ وہ بھی نادار اور فقیر ہو؟ اورکیا وہ اس سہم سادات کو اپنی اولاد اور اپنے شوہر پر خرچ کرسکتی ہے؟
ج: اگر شوہر نادار ہونے کی بنا پر اپنی زوجہ کو نفقہ نہ دے سکتا ہو اور زوجہ بھی شرعی اعتبار سے فقیر ہو تو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے وہ سہم سادات لے کر اسے اپنے آپ پراپنی اولاد پر یہاں تک کہ اپنے شوہر پر بھی خرچ کر سکتی ہے۔
س1016: ان لوگوں کے سہم امام (علیه السلام) اور سہم سادات لینے کا کیا حکم ہے کہ جنکی حوزوی وظیفہ کے علاوہ بھی اتنی آمدنی ہے جو ان کی زندگی کی ضروریات کے لئے کافی ہے؟
ج: جو شخص شرعی نقطۂ نظر سے مستحق نہ ہو اور نہ حوزۂ علمیہ کے وظیفہ کے قواعد و ضوابط اس کو شامل ہوتے ہوں وہ سہم امام اور سہم سادات نہیں لے سکتا۔
س1017: ایک سیدانی کہتی ہے اس کا باپ اپنے اہل و عیال کے اخراجات پورے نہیں کرتا اوران کی حالت یہ ہے کہ وہ مساجد کے سامنے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور اس سے وہ اپنی زندگی کا خرچ نکالتے ہیں، اور اس علاقہ کے رہنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ یہ سید پیسے والا ہے، اور بخل کی وجہ سے اپنے اہل و عیال پر خرچ نہیں کرتا تو کیا انہیں مخارج زندگی کیلئے سہم سادات دینا جائز ہے؟ اور بر فرض کہ بچوں کا والد یہ کہے کہ مجھ پر فقط طعام اور لباس واجب ہے اور دوسرے لوازمات جیسے عورتوں کی خاص چیزیں اور چھوٹے بچوں کا جیب خرچ مجھ پر واجب نہیں ہے تو کیا اُن کو ان ضروریات کے لئے سہم سادات میں سے دینا جائز ہے؟
ج: پہلی صورت میں اگر وہ اپنے باپ سے نفقہ نہ لے سکتے ہوں تو انہیں نفقہ کے لئے ضرورت کے مطابق سہم سادات میں سے دے سکتے ہیں، اسی طرح دوسری صورت میں اگر انہیں خوراک اور لباس کے علاوہ کسی ایسی چیز کی ضرورت ہو جو ان کی حیثیت کے مطابق ہو تو انہیں سہم سادات میں سے اتنا دیا جاسکتا ہے جس سے ان کی یہ ضرورت پوری ہو جائے۔
س1018: کیا آپ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ لوگ خود سہم سادات، غریب سادات کو دے دیں؟
ج: جس شخص کے ذمہ سہم سادات ہے اس پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کو دینے کیلئے اجازت حاصل کرے۔
س1019: کیا آپ کے مقلدین سہم سادات غریب سید کو دے سکتے ہیں یا ان پر واجب ہے کہ پورا خمس یعنی سہم امام اور سہم سادات آپ کے وکیل کو دیں تاکہ وہ اسے شرعی امور میں صرف کرے؟
ج: اس سلسلہ میں سہم سادات اور سہم امام (علیہ السلام) میں کوئی فرق نہیں ہے۔
س1020: کیا شرعی حقوق(خمس، رد مظالم اور زکوٰة) حکومتی امور میں سے ہیں؟ اور جس شخص پر خمس واجب ہو کیا وہ خود مستحقین کو سہم سادات، رد مظالم اور زکوٰة دے سکتا ہے ؟
ج: زکات اور رد مظالم دیندار اور پاکدامن فقراء کو دے سکتا ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ حاکم شرع سے اجازت لے، لیکن پورے خمس کو خود ہمارے دفتر میں یا ہمارے مجاز وکیلوں میں سے کسی ایک کے پاس پہنچانا واجب ہے، تاکہ اسے مقررہ شرعی موارد میں صرف کیا جاسکے اور یا مستحقین کو خود دینے کیلئے اجازت حاصل کرے۔
س1021: کیا وہ سادات جن کے پا س کام اور کاروبار کا ذریعہ ہے، خمس کے مستحق ہیں یا نہیں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
ج: اگر ان کی آمدنی معمول کے مطابق اور عرف عام کے لحاظ سے ان کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے ان کی زندگی کے لئے کافی ہو تو فقیر شمار نہیں ہوں گے اور خمس کے مستحق نہیں ہیں۔
س 1022: میں ایک پچیس سالہ جوان ہوں، ملازمت کرتا ہوں، اور ابھی تک کنوارا ہوں۔ میں والد اور والدہ کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہوں، والد ضعیف العمر ہیں اور چار سال سے میں ہی اخراجات ِ زندگی پورے کر رہا ہوں۔ میرے والد کام کرنے کے لائق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی آمدنی ہے۔ واضح رہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ میں ایک طرف تو سال بھر کے منافع کا خمس ادا کروں اور دوسری طرف زندگی کے تمام اخراجات پورے کروں یہاں تک کہ میں گزشتہ برسوں کے منافع کے خمس میں سے ١٩ ہزار تومان کا مقروض ہوں، میں نے اس کو لکھ رکھا ہے تا کہ بعد میں ادا کروں تو کیا میں سال بھر کے منافع کا خمس اپنے اقربا، جیسے ماں باپ ،کو دے سکتاہوں؟
ج: اگر ماں باپ کے پاس اتنی مالی استطاعت نہ ہو کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی چلا سکیں اور آپ ان کا خرچ برداشت کر سکتے ہوں تو ان کی کمک کرناآپ پر واجب ہے اور جو کچھ آپ ان کے نفقہ پر خرچ کریں گے وہ آپ کے مخارج میں سے شمار ہوگا اور اس کو آپ اس خمس میں حساب نہیں کر سکتے جس کا ادا کرنا آپ پر واجب ہے۔
س 1023: میرے ذمہ سہم امام علیہ السلام کی کچھ رقم ہے کہ جسے آپ کی خدمت میں ارسال کرنا ہے، دوسری طرف یہاں ایک مسجد ہے جس کو تعاون کی ضرورت ہے، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ یہ رقم اس مسجد کے امام جماعت کو دے دوں تا کہ وہ اسے مسجد کی تعمیر و تکمیل میں خرچ کردیں؟
ج: موجودہ دور میں دینی مدارس چلانے کے لئے سہم امام اور سہم سادات (خمس) کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے امور کے لئے مومنین کی امداد سے استفادہ کیا جائے۔
س1024: اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے ہمارے والد نے اپنی زندگی میں اپنے مال کا مکمل خمس ادا نہ کیا ہو اور ہم نے ہسپتال بنانے کے لئے ان کی زمین سے ایک ٹکڑا ہبہ کیا ہے تو کیا اس زمین کو مرحوم کے اموال کے خمس کے طور پر شمارکیا جا سکتا ہے؟
ج: اس زمین کو خمس کے طور پر حساب نہیں کیا جا سکتا۔
س 1025: کن حالات میں خمس دینے والے کو اس کا خمس بخشاجا سکتا ہے؟
ج: سہم امام(علیه السلام) اور سہم سادات کو بخشا نہیں جا سکتا۔
س 1026: اگر مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے پر اس کے اخراجات سے ایک لاکھ تومان زیادہ ہو اور اس نے اس کا خمس ادا کر دیا ہو اور آنے والے سال میں نفع کی یہ رقم ایک لاکھ پچاس ہزار تومان ہوجائے تو کیا پچاس ہزار تومان کا خمس ادا کرے گا یا دوبارہ تمام ایک لاکھ پچاس ہزار کا خمس دے گا؟
ج: اگر مخمس مال (جس کا خمس ادا کردیا گیا ہے) غیر مخمس مال (جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو) سے مخلوط ہوجائے یا ایک اکاونٹ میں ہوں اور انسان کسی نیت کے بغیر اس اکاونٹ سے پیسے نکالے یا حتی کہ خمس نکالے ہوئے (مخمس) مال کی نیت سے پیسے نکالے اور ضروریاتِ زندگی میں خرچ کرے چنانچہ اکاونٹ میں بچ جانے والی رقم خمس نکالے ہوئے (مخمس) مال کے برابر یا اس سے کم ہو تو بچ جانے والی رقم پر خمس نہیں ہے۔
س1027: جن دینی طلباء نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ہے تو کیا ان کی اس آمدنی میں خمس ہے جو انہیں تبلیغ، کسی کام یا سہم امام (علیه السلام) سے دستیاب ہوتی ہے خمس هوگا؟ یا وہ اس کے وجوب خمس سے مستثنیٰ ہونے کی وجہ سے خمس کی ادائیگی کے بغیر ہی اسے شادی کے لئے جمع کر سکتے ہیں ؟
ج: حوزہ ہائے علوم دینی میں درس پڑھنے والے محترم طلباء کو مراجع عظام کی طرف سے جو کچھ شرعی رقوم سے (وظیفہ) دیا جاتا ہے اس پر خمس نہیں ہے، لیکن تبلیغ اور ملازمت کی طرح کے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر خمس کی سالانہ تاریخ تک باقی ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔
س 1028: اگر کسی شخص کے پاس ایسی جمع پونجی ہو جو مخمس اور غیر مخمس مال سے مخلوط ہو چنانچہ کبھی وہ اس مخلوط مال سے خرچ کرتا ہو اور کبھی اس میں کچھ اضافہ کردیتاہو تو اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخمس مال کی مقدار معلوم ہے کیا اس پر پورے مال کا خمس دینا واجب ہے یا صرف غیر مخمس مال کا خمس دینا واجب ہے ؟
ج: اگر مخمس مال غیر مخمس مال سے مخلوط هو جائے اور دونوں ایک هی اکاؤنٹ میں هو اور اسے نکالا جائےیا مخمس مال کی نیت سے نکالا جائے اور اخراجات میں خرچ کرے ار کچه مقدار مخمس مال کے برابر یا اس سے کم باقی ره جائے تو اس باقی مانده مال پر خمس واجب نهیں هے.
س 1029: وہ کفن جو خریدنے کے بعد چند برسوں تک اسی طرح پڑا رہا ہو کیا اس کا خمس دینا واجب ہے، یا صرف اسکی قیمت خرید کا؟
ج: اگر کفن اس مال (مخمس)سے خریدا گیا ہو کہ جس کا خمس دیا جا چکا تھا تو اس کے بعد اس پر خمس نہیں ہو گا ورنہ پہلے خمسی سال کی تاریخ میں کفن کی جو قیمت بنتی ہے ( پیسے کی قیمت میں آنے والی کمی کو حساب کرتے ہوئے) خمس ادا کرنا ضروری ہے۔
س 1030: میں ایک دینی طالب علم ہوں اور میرے پاس کچھ مال تھا، اور بعض اشخاص کی مدد، سہم سادات سے استفادہ اور قرض لے کر ایک چھوٹا سا گھر خرید ا اب وہ گھر میں نے فروخت کر دیا ہے، لہذا اگر اس کی قیمت پر ایک سال گزرجائے اور گھر نہ خرید سکوں تو کیا اس مال میں جو گھر خریدنے کے لئے رکھا گیا تھا ، خمس ہوگا؟
ج: اگر آپ نے حوزۂ علمیہ کے وظیفہ، مخیر افراد کی مدد ، قرض اور شرعی رقوم سے گھر خریدا تھا تو اس گھر کی قیمت میں خمس نہیں ہے۔
- خمس کے متفرق مسائل
خمس کے متفرق مسائل
س 1031: میں نے ١٩٦٢ میں امام خمینی کی تقلید کی تھی اور ان کے فتاویٰ کے مطابق حقوق شرعیہ انہیں کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔ ١٩٦٧ میں امام خمینی نے حقوق شرعیہ اور ٹیکس کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا : "خمس و زکوٰة، حقوق شرعیہ ہیں، لیکن ٹیکس حقوق شرعیہ میں شامل نہیں ہے"۔ اور آج جبکہ ہم اسلامی جمہوریہ کی حکومت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، حقوق شرعیہ اور ٹیکس ادا کرنے سے متعلق میرا فریضہ بیان فرمائیں؟
ج: اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی طرف سے قوانین اور ضابطوں کے مطابق جو ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں، اگر چہ ان کا ادا کرنا ان لوگوں پر واجب ہے جو قانون کے زمرے میں آتے ہیں،اور ہر سال کا ٹیکس اسی سال کے مخارج میں سے شمار ہوگا لیکن اس ٹیکس کوسہم امام اور سہم سادات میں شمار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان پر سال کے مخارج سے جو چیز بچ جائے اس کا خمس ادا کرنا بھی واجب ہے ۔
س1032: کیا حقوق شرعیہ کو ڈالر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جسکی قیمت ہمیشہ ثابت رہتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور کیایہ کام شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
ج: جس کے اوپر حقوق شرعیہ ہیں اس کے لئے یہ کام جائز ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ادا کرتے وقت حقوق شرعیہ کو ادئیگی والے دن کی قیمت کے حساب سے ادا کرے، لیکن جو شخص ولی امر کی طرف سے حقوق شرعیہ وصول کرنے کے سلسلے میں وکیل اور معتمد ہے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ ایک کرنسی کو دوسری کرنسی میں تبدیل کرے، مگر یہ کہ اس کو اس سلسلے میں اجازت ہو، لیکن قیمت کا بدلتے رہنا اس کے تبدیل کرنے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتا۔
س1033: ایک ثقافتی مرکز میں تجارت کا شعبہ کھولا گیا ہے کہ جس کا اصلی سرمایہ رقوم شرعیہ ہیں۔ مذکورہ تجارت کے شعبے کا مقصد، ثقافتی مرکز کے مستقبل کے اخراجات کو پورا کرنا ہے تو کیا اس تجارت سے حاصل ہونے والے نفع کا خمس نکالنا واجب ہے اور کیا اس خمس کو ثقافتی مرکز کے امور میں صرف کیا جا سکتا ہے؟
ج: جن حقوق شرعیہ کو مقررہ موارد میں خرچ کرنا واجب ہے انکے ساتھ تجارت کرنا اور انہیں ان مصارف میں خرچ نہ کرنا ولی امر خمس کی اجازت کے بغیر اشکال رکھتا ہے چاہے اس تجارت کے منافع سے ثقافتی ادارے کو فائدہ پہنچانا ہی مقصود کیوں نہ ہو بالفرض اگر ان سے تجارت کی جائے تو ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی اص
-
