ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
    • ہبہ ، ہديہ ، بينک سے ملنے والا انعام ، مہر اور وراثت
    • قرض، تنخواہ، انشورنس اور پنشن
    • گھر، گاڑیوں وغیرہ اور اراضی کی فروخت
    • دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
      پرنٹ  ;  PDF
       
      دفینہ ، معدنیات اور وہ حلال مال جو حرام سے مخلوط ہوجائے
       
      س٨۹۱:جو لوگ اپنی ذاتی زمین میں کوئی خزانہ پاتے ہیں اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
      ج: ایسی چیزوں میں معیار جمہوری اسلامی ایران کے قوانین ہیں۔
       
      س ٨۹۲ : اگر انسان کو ذاتی گھر کی زمین کے نیچے سے چاندی کے ایسے سکے ملیں جنکی تاریخ تقریباً سو سال پہلے کی ہے تو کیا یہ سکے عمارت کے موجودہ مالک، جیسے قانونی وارث یا خریدار ،کی ملکیت ہوں گے یا نہیں؟
      ج: اس کا حکم دفینہ والا ہے کہ جس کا بیان گزر چکا ہے۔
       
      س٨۹۳: ہم ایک شبہ میں مبتلا ہیں اور وہ یہ کہ موجودہ دور میں بھی کانوں سے نکالی گئی معدنیات کا خمس نکالنا واجب ہے کیونکہ فقہاء عظام کے نزدیک یہ مسئلہ مسلم احکام میں سے ہے اب جو معدنیات حکومت نکالتی ہے ۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حکومت کی جانب سے صرف اسے اسلامی ممالک کے مسلمانوں پر خرچ کرنا وجوب خمس سے مانع نہیں بن سکتا۔ انکا حکم کیا ہے کیونکہ ان معدنیات کو یا تو خود حکومت مستقل طور پر نکالتی ہے اور پھر اسے لوگوں پر خرچ کرتی ہے تو اس صورت میں حکومت اس شخص کی مانند ہے جو معدنیات کو نکالنے کے بعد ان کو تحفہ، ہبہ یا صدقہ کے طور پر کسی دوسرے شخص کو دیدے بہرحال ادلہ خمس کا اطلاق اس صورت کو بھی شامل ہے کیونکہ تقیید کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یا پھر حکومت ملت کی وکیل کے طور پر معادن کو نکالتی ہے، کہ اس صورت میں در حقیقت نکالنے والے خود عوام ہیں اور اس صورت میں خود مؤکل پر خمس نکالنا واجب ہے یا حکومت عوام کے سرپرست اور ولی ہونے کی حیثیت سے معادن نکالتی ہے کہ اس صورت میں معادن نکالنے والا یا تو خود ولی و سرپرست ہے، یا وہ نائب کی طرح ہو گا اور اصل نکالنے والا وہ ہو گا جس پر اس کو ولایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ بہر صورت معدنیات کے عموماتِ خمس سے خارج ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ جیسا کہ معدنیات اگر نصاب تک پہنچ جائیں تو ان پر خمس واجب ہوتا ہے اور یہ دیگرمنافع کے مانند نہیں ہیں کہ اگر ان کو خرچ کردیاجائے یا ہبہ کے طور پر دے دیا جائے تو وہ سال کے اخراجات میں شمار ہوں گے اور خمس سے مستثنیٰ ہوجائیں گے۔ لہذا اس اہم مسئلہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
      ج: معادن میں خمس کے واجب ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ اس کو کوئی شخص یا کئی لوگ مل کر نکالیں، بشرطیکہ ان میں سے ہر ایک کا حصہ حد نصاب تک پہنچ جائے، وہ بھی اس طرح کہ جو کچھ وہ نکالیں وہ انکی ملکیت ہو اور وہ معدنیات جن کو حکومت نکالتی ہے چونکہ وہ کسی خاص شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک اتھارٹی اور جہت کی ملکیت ہیں اس لئے ان میں وجوب خمس کی شرط ہی نہیں پائی جاتی، لہذا حکومت پر خمس کے واجب ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے، اور یہ معدن میں خمس کے واجب ہونے سے استثناء نہیں ہے۔ ہاں وہ معدنیات جن کو ایک شخص یا چند اشخاص مل کر نکالتے ہیں ان پر اس میں سے خمس نکالنا واجب ہے۔ بشرطیکہ جوکچھ ایک شخص نے نکالا ہے وہ یا چند اشخاص میں سے ہر ایک کا حصہ، معدنیات نکلوانے اور اسے صاف کروانے کے اخراجات کو جدا کرنے کے بعد حد نصاب تک پہنچ جائے اور وہ نصاب ٢٠ دینا ر سونا یا دو سو درہم چاندی ہے یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر ہو۔
       
      س ٨۹۴: اگر حرام مال کسی شخص کے مال سے مخلوط ہو جائے تو اس مال کا کیا حکم ہے اور اس کے حلال کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ اور حرمت کے علم یا عدم علم کی صورت میں اس کو کیا کرنا چاہیے؟
      ج: جب یہ یقین ہو کہ اس کے مال میں حرام مال ملا ہوا ہے، لیکن اس کی دقیق مقدار معلوم نہ ہو اور صاحب مال کو بھی نہ جانتا ہو تو اس کے حلال بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا خمس نکال دے، لیکن اگر اسے اپنے اموال میں حرام مال کے مل جانے کا شک ہو تو اس کے ذمہ کوئی چیزنہیں ہے۔
       
      س ٨٩۵: میں نے خمس کی سالانہ تاریخ کے آنے سے قبل ایک شخص کو کچھ رقم بطور قرض دی اور وہ شخص اس مال سے تجارت کی نیت رکھتا ہے اور اسکی منفعت ہمارے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگی۔ واضح رہے کہ وہ مال فی الحال میرے پاس نہیں ہے اور میں نے اس کا خمس بھی ادا نہیں کیا اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
      ج: اگر آپ نے مال قرض کے عنوان سے دیا ہے اور خمس کی سالانہ تاریخ آنے پر اس کا وصول کرنا ممکن نہ ہو تو ابھی آپ پر اس کا خمس واجب نہیں ہے بلکہ جب آپ کو یہ مال واپس ملے گا تب آپ پر اس کا خمس واجب ہوگا، لیکن اس صورت میں مقروض کے کام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع میں آپ کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر آپ اس کا مطالبہ کریں گے تو وہ سود اور حرام ہوگا اور اگر آپ نے اس رقم کو مضاربہ کے عنوان سے دیا ہے تو معاہدہ کے مطابق منافع میں آپ دونوں شریک ہوں گے اور آپ پراصل سرمایہ کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا۔
       
      س ٨٩۶: میں بینک میں ملازم ہوں اور اس ملازمت کیلئے مجھے جبری طور پر پانچ لاکھ تومان بینک میں جمع کرانے پڑے یہ رقم میرے ہی نام سے ایک طویل مدت اکاونٹ میں رکھی گئی ہے اورمجھے ہرماہ اس کا نفع دیا جارہا ہے تو کیا اس رقم میں میرے اوپر خمس ہے؟واضح رہے کہ بینک میں رکھی ہوئی اس رقم کو چار سال ہورہے ہیں؟
      ج: اگر فی الحال اس رقم کا واپس لینا آپ کیلئے ممکن نہیں ہے تو جب تک آپ نے اسے وصول نہیں کیا اس کا خمس واجب نہیں ہے لیکن اسکی سالانہ منفعت اگر سال کے اخراجات سے بچ جائے تو اس میں خمس ہے۔
       
      س٨٩۷: یہاں بینکوں میں رقوم رکھنے کا ایک خاص طریقہ ہے کہ جس کی وجہ سے استفادہ کرنے والوں کی کبھی بھی ان پیسوں تک دسترسی نہیں ہوتی لیکن انہیں ایک خاص نمبر کے مطابق اس کے اکاونٹ میں رکھ دیا جاتا ہے تو کیا ان اموال میں خمس واجب ہے؟
      ج: اگر بینک میں رکھا ہوامال منافع میں سے ہو اور خمس کی سالانہ تاریخ آنے پر آپ کیلئے اس کا بینک سے واپس لینا ممکن ہوتو خمس کی تاریخ آنے پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
       
      س٨٩۸: کرایہ دار جو مال رہن(ایڈوانس) کے طور پر مالک کے پاس رکھتا ہے کیا اس کا خمس مالک پر واجب ہے یا کرایہ دار پر؟
      ج: اگر وہ رقم کرایہ دار کے کاروباری منافع میں سے ہو تو واپس ملنے کے بعد کرایہ دار پرواجب ہے اس کا خمس ادا کرے اور مالک مکان جس نے قرض کے طور پر یہ رقم لی ہے اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
       
      س٨٩۹: ملازمت پیشہ افراد کی وہ تنخواہیں جو چند سال سے حکومت نے نہیں دی ہیں کیا ملنے کی صورت میں انہیں اسی ملنے کے سال کے منافع میں سے شمار کیا جائے گااور خمس کی تاریخ آنے پر اس کا حساب کرنا واجب ہے یا یہ کہ ایسے مال پر بالکل خمس نہیں ہے؟
      ج: اس تنخواہ کو وصول ہونے والے سال کے منافع میں سے شمار کیا جائے گا اور اس سال کے اخراجات سے زائد رقم میں خمس واجب ہے۔
    • اخراجات(موؤنہ)
    • دست گردانی اور خمس کا غیر خمس کے ساتھ مخلوط ہونا
    • سرمایہ
    • خمس کے حساب کا طريقہ
    • مالى سال کا تعين
    • ولی امر خمس
    • سادات اور ان کی طرف انتساب
    • خمس کے مصارف، اجازہ، ہديہ اور حوزہ علميہ کا وظيفہ
    • خمس کے متفرق مسائل
    • انفال
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /