ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
    • شرائطِ عقد
    • خرید ار اور فروخت کرنے والے کے شرائط
    • بیع فضولی
    • اولياء تصرّف
    • خرید و فروخت میں شے اور اسکے عوض کے شرائط
    • عقد کے ضمن میں شرط
    • خريد و فروخت کے متفرقہ احکام
    • احکام خيارات
      • ١۔ خیار مجلس
      • 2- خیار عیب
      • 3۔ خیار تاخیر
      • 4- خیارِ شرط
      • 5۔ خیارِ رؤیت
      • 6۔ خیارِ غبن
      • 7۔ بیع خیاری ( بیع شرط)
      • ٨ ۔ شرط کی مخالفت کرنے کا خیار
      • خيارات کے متفرق احکام
        پرنٹ  ;  PDF
         
        خیارات کے متفرق احکام
         
        س١٥72: آیا کسی حق کا مطالبہ نہ کرنا یا مطالبہ کرنے میں مثلاً دو سال تک تاخیر کرنا شرعی طور پر حق کو ساقط کر دیتاہے؟
        ج: صرف حق کامطالبہ نہ کرنا یا مطالبہ کرنے میں کچھ مدت تاخیر کرناحق کو ساقط نہیں کرتامگر یہ کہ حق بذات خود ایک معین مدت تک ہو ۔
         
        س١٥73: ایک شخص نے ایک ملک فروخت کی جس کی کچھ قیمت ادھار تھی اور جب اس نے نقد مقدار وصول کرلی اور ملک خریدارکے حوالے کر دی تو ایک اور شخص اسی ملک کو مذکورہ قیمت سے زیادہ پر خریدنے کے لئے تیار ہوگیاآیا فروخت کرنے والے کے لئے جائز ہے کہ سابقہ معاملے کو فسخ کر دے تا کہ یہ ملک زیادہ قیمت پر ایک دوسرے خریدار کو فروخت کر سکے؟
        ج: خرید و فروخت کا معاملہ صحیح طور پر انجام پانے کے بعد فروخت کرنے والے پر معاملے کے مطابق عمل کرناواجب ہے اور جب تک کسی خیار کی وجہ سے اسے فسخ کا حق نہ ہو اس کیلئے معاملے کو فسخ کرنا اور دوسرے شخص کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
         
        س١٥74: میں نے ایک شخص کو اس شرط پر زمین فروخت کی کہ وہ چار سال کے دوران اس کی قیمت ادا کر دے گا لیکن میں معاملے کے وقت سے ہی معاملے سے پشیمان ہو گیا تھا۔ ایک سال گزرنے کے بعد میں نے خریدار سے زمین واپس کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے زمین واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ آیا مذکورہ معاملے سے پلٹنے کا کوئی طریقہ ہے؟
        ج: معاملہ کے بعد خرید و فروخت سے صرف پشیمان ہونے کا شرعی لحاظ سے کوئی اثر نہیں ہے ۔ لہذاصحیح طور پرمعاملہ انجام پانے کے بعد معاملہ شرعی طور پر نافذ ہے اور بیچی گئی شے خریدار کی طرف منتقل ہو جائیگی اور فروخت کرنے والے کو زمین واپس لینے کا حق نہیں ہے مگریہ کہ اسے اسباب خیار میں سے کسی کے موجود ہونے کی وجہ سے فسخ کا خیار حاصل ہو تو معاملہ کو فسخ سکتا ہے۔
         
        س ١٥75:ایک شخص نے اپنی زمین کہ جس کی رجسٹری بھی موجود تھی سادہ وثیقہ کے ذریعے تمام خیارات کو ساقط کرکے فروخت کی لیکن اس نے سرکاری رجسٹری اپنے نام ہونے سے سوء استفادہ کرتے ہوئے اسے دوبارہ کسی اور شخص کو فروخت کر دیاکیا اس کا دوبارہ فروخت کرنا صحیح ہے؟
        ج: معاملے کے صحیح طور پر انجام پانے کے بعد جبکہ تمام خیارات بھی ساقط کئے جا چکے ہیں فروخت کرنے والے کو دوبارہ کسی دوسرے شخص کو زمین فروخت کرنے کا حق نہیں ہے۔ بلکہ وہ معاملہ فضولی ہے اور پہلے خریدار کی اجازت پر موقوف ہے۔
         
        س١٥76:ایک شخص نے کارخانے سے کچھ مقدار سیمنٹ خریدا اس شرط کے ساتھ کہ تدریجاً اور چند مرتبہ میں اسے اپنی تحویل میں لے لے گا جبکہ اس نے سیمنٹ کی تمام قیمت ادا کردی۔ خریدار کے کچھ مقدار سیمنٹ اپنی تحویل میں لینے کے بعد بازار میں سیمنٹ کی قیمت میں بہت اضافہ ہو گیا۔ آیا کارخانے کو یہ حق ہے کہ معاملہ فسخ کر دے اور سیمنٹ کی باقی مقدار تحویل میں دینے سے انکار کر دے؟
        ج: خرید و فروخت کے صحیح شرعی طریقے سے انجام پانے کے بعد، چاہے معاملہ نقد ہو یا ادھار یا سلف جب تک فروخت کرنے والے کو کوئی شرعی خیار حاصل نہ ہو اس کے لئے یک طرفہ طور پر معاملہ فسخ کرنے کا حق نہیں ہے۔
         
        س١٥٧7: میں نے سادہ وثیقہ کے ساتھ اس شرط پر ایک گھر خریداکہ قیمت کا کچھ حصہ نقد اورباقی مقدار معین مدت میں ادا کردوں گا اور اسکی رجسٹری تین ماہ کے دوران میرے نام کر دی جائیگی۔ لیکن میں مذکورہ مدت میں باقی قیمت ادا نہ کرسکا اور فروخت کرنے والے نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہاں تک کہ چارماہ بعد میں نے اس کی طرف رجوع کیاتاکہ بقیہ قیمت ادا کرکے گھر قبضہ میں لے لوں لیکن فروخت کرنے والے نے گھر کاقبضہ دینے سے انکار کر دیا اور اس بات کا دعویٰ کیا کہ پیسے ادا کرنے کی معینہ مدت ختم ہونے کے بعد اس نے معاملہ فسخ کر دیا تھا۔آیا صرف باقی قیمت مقررہ مدت میں ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسے فسخ کرنے کا حق ہے؟ جبکہ اس نے وصول شدہ رقم واپس نہیں کی اوراس نے اس مدت میں گھر کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ بھی وصول کیا۔
        ج: فقط باقیماندہ قیمت کے کچھ حصے کا مقررہ وقت پر ادا نہ کرنا فروخت کرنے والے کے لئے حق فسخ کے ثابت ہونے کا سبب نہیں بنتا۔ لہذا اگر معاملہ صحیح شرعی طورپر انجام پا گیاتھا لیکن گھر مالک کے قبضے میں رہا اور اس نے گھر کرایہ پر دے دیا جبکہ اسے فسخ کاحق بھی نہیں تھا تو اس کاکرایہ پر دینا فضولی ہے اور خریدار کی اجازت پر موقوف ہے اور اس پر واجب ہے کہ گھر خریدار کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے جو رقم کرایہ دار سے وصول کی ہے وہ بھی خریدار کے حوالے کرے لیکن اگر خریدار کرائے والے عقد کی اجازت نہ دے تو اسے اس گھر میں تصرف کی مدت کی اجرت مثل کے مطالبے کاحق ہے۔
         
        س١٥٧8:آیا فروخت کرنے والا حق خیار ثابت نہ ہونے کے باوجود معاملے کو فسخ کر سکتا ہے؟ اور کیا خرید و فروخت انجام پانے کے بعد شے کی قیمت میں اضافہ کرسکتا ہے؟
        ج: مذکورہ امورمیں سے اسے کسی چیز کا حق نہیں ہے۔
         
        س١٥٧9:ایک شخص نے کسی سے وہ گھر خریدا جو اس نے ہاؤسنگ سوسائٹی(ادارۂ مسکن) سے خریدا تھا۔ جب معاملہ انجام پا گیا اور فروخت کرنے والے نے قیمت وصول کر لی تو سوسائٹی نے اعلان کیا کہ بیچنے والے نے اس سوسائٹی کو جو رقم ادا کی ہے اس کے علاوہ مزید رقم ادا کی جائے لہذا خریدار نے فروخت کرنے والے کو اطلاع دی کہ وہ اضافی رقم ادا کرے ورنہ وہ معاملہ فسخ کر دے گا اور اپنی رقم واپس لے لے گا۔ لیکن فروخت کرنے والے نے اضافی رقم ادا نہیں کی جس کی وجہ سے سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مذکورہ گھر ایک اور شخص کو دے دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ خریدار نے جو رقم ادا کی ہے اسکی وصولی کیلئے کس کے پاس رجوع کرے سوسائٹی کے پاس ،یا فروخت کرنے والے کے پاس ؟ یا اس شخص کے پاس جسے اس وقت سوسائٹی نے گھر دینے کافیصلہ کیا ہے؟
        ج: اگر شرط یا دیگر کسی وجہ سے معاملہ فسخ ہوجائے تو خریدارفروخت کرنے والے سے پیسوں کا مطالبہ کرے۔
         
        س١٥80:ایک شخص نے حیوان خریدا اور اسے اس نیت سے بازار لے گیا کہ اگر کوئی خریدار مل گیا تو اسے فروخت کر دے گا ورنہ معاملہ فسخ کر دے گا۔ آیا اس قصد کے ساتھ اسکے لئے حق فسخ ثابت ہوجاتاہے؟
        ج: سوال کی مفروضہ صورت میں کہ جہاں حیوان کو بیچا گیا ہے معاملہ کے وقت سے تین دن تک خیار رکھتا ہے۔
         
        س١٥81: چند افراد نے مل کر ایک شخص سے ایک ملک خریدی اور چند قسطوں میں اسے کچھ مقدار رقم ادا کرچکے ہیں اور باقی قیمت کی ادائیگی مذکورہ زمین کے قانونی طور پر ان کے نام کرنے سے مشروط تھی۔لیکن فروخت کرنے والا ٹال مٹول سے کام لینے لگا۔اور اس نے ملک ان کے نام کرنے سے انکار کر دیا اور معاملہ کے فسخ کرنے کادعویٰ کرنے لگا۔ آیاوہ معاملہ پر عمل کرنے کا پابند ہے یا اس کی طرف سے معاملہ فسخ کرنا صحیح ہے؟
        ج: جب تک خیار کے اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہو جیسے شرط یا غبن و غیرہ اس وقت تک اس کا معاملہ کو فسخ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ضروری ہے کہ اس معاملے کے مطابق عمل کرے اور اس پر شرعا واجب ہے کہ اس ملک کو قانونی طور پر خریداروں کے نام کرے۔
         
        س١٥82:ایک شخص نے کسی سے کچھ سامان خریدا اور قیمت کا ایک حصہ ادا کرنے کے بعد اسے کچھ منافع کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دیا۔لیکن دوسرے خریدار کو اس میں تصرف کرنے کے بعد جب بیچنے والے کے نفع کا علم ہوا تو اس نے اعلان کردیا کہ وہ اسے خرید نے سے پشیمان ہوگیا ہے۔ کیا اس وجہ سے اس کے لئے معاملہ کو فسخ کرنا جائز ہے؟
        ج: اگر دوسرے خریدار کیلئے خیار کا کوئی سبب ہو تو اس کیلئے معاملہ کو فسخ کرنا جائز ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔
    • مبیع ( بیچی گئی چیز) کے توابع
    • مبیع کو سپرد کرنا اور قیمت ادا کرنا
    • نقد اورادھار خرید و فروخت
    • بیع سَلَفْ
    • سونے چاندی اور کرنسی کی خرید و فروخت
    • تجارت کے متفرقہ مسائل
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /